Categories
شاعری

کابوس اور دوسری نظمیں (محمد رامش)

[divider]کابوس[/divider]

آؤ
ڈھونڈتے ہیں
ہمارا آدھا سایہ
جو چوری ہوگیا
اور
اس ماہر چور کو
جو سائے کترنے کا ہنر جانتا ہے
کیا اسے دھوپ نے چرایا ہے؟
یا پھر
کسی بڑے سائے نے اپنے سائے میں لے لیا ہے
یا اس نے جو ہمیں
زبردستی
دیوار سے لگنے کا مشورہ دیتا ہے
بدن کو سائے سے چپکائے رکھنے
کے لیے
دھرتی پر لیٹ جانے کا مشورہ۔۔۔۔۔
دھرتی ماں کی طرح آغوش میں
لے لیتی ہے
اورمیں گہری نیند سو جاتا ہوں
جب اک نئی روشنی مجھے اذن سفر دیتی ہے
تو میں اٹھ کر اپنے سائے کی طرف دیکھتا ہوں
جو اب بھی آدھا ہے
شاید
میرے سائے کے طرح
وہ مجھے بھی آدھا کاٹ چکا ہے

[divider]جمود کی دلدل[/divider]

اگر
ساری زندگی
انسان کے جسم پر وہ کپکپی طاری رہے
جو ہر محبت کرنے والا
محبوبہ سے اولین اظہار کے وقت
محسوس کرتا ہے
تو خدشہ لاحق رہتا ہے
کہیں یکسوئی جکڑ نہ لے
محبت کے ارتقا کے تسلسل کو
جمود کے مضبوط جبڑوں میں
اور چبا کر پھینک دے
بے دلی کی کچرا کنڈی پر۔۔۔

فرار کے لیے
انسان کی آخری پناہ گاہ ہوتی ہے
پسندیدہ عورت کا پہلو
قبر میری محبوبہ ہے
جو اب تک مجھے الاٹ نہیں ہوئی۔۔۔
میں کانپ اٹھتا ہوں
ہمیشگی کے خوف سے
جب میں تمہارے اندر
ہمیشہ کے لیے دفن ہونے کے بعد
تم سے بھی اکتا چکا ہوں گا۔۔۔۔۔۔

[divider]ناکامی کا تاوان[/divider]

پریشانی
ابھرتی ہے
وقت کے ماتھے پر
لکیر بن کر
کاٹ کر چھوٹا کردیتی ہے
وقت کو
ہماری نظروں میں

بے بسی
پنجے گاڑتی ہے
جسموں پر
جب وہ حسرت کے جالوں میں
باندھ دیے جاتے ہیں
ہوا کی دیوار کے ساتھ

اکتاہٹ
جگہ گھیر لیتی ہے
دل سے اتری چیزوں کی

کرب
گندھ جاتا ہے
اس کے خمیر میں
جسے وراثت میں ملا ہو
اظہار نہ کر سکنا
اس کے سب ناموں کے ساتھ ‘ناکام’ کا سابقہ لازم ٹھہرتا ہے

ممکن ہے
کسی روز اسے پکارا جائے
ناکام محبت کرنے والے کے نام سے۔۔۔
وہ زبان کاٹ کر رکھ دے
مخاطب کی ہتھیلی پر
خون کی قے میں بہا دے سارا غصہ
جو وہ اپنے آپ پر کر سکتا تھا۔۔۔۔

[divider]The Serpent[/divider]

میں محسوس کر سکتا ہوں
ہر سال کی طرح
تم انتخاب کروگی
آخری مہینے کی اک سرد شام کا
میری گردن سے لپٹ کر کینچلی اتارنے کے لیے
اور ہم منائیں گے تمہاری سالگرہ
میں بطور تحفہ کہوں گا
“تم ہر سال پہلے سے زیادہ خاموش اور زہریلی ہوتی جارہی ہو”
جواب میں تمہاری مسکراہٹ
بھینچے گی میری جکڑی ہوئی گردن
پسلیوں کے قریب
تم کھود لو گی
میرے اندر جانے کا راستہ
ڈھونڈ لو گی اپنا مستقل ٹھکانہ
آنسو بہانے کے لیے
جب تک کینچلی اتارنے کا موسم دوبارہ نہیں آجاتا

Categories
شاعری

ہوائیں حاملہ ہیں

کہیں دو حرف ملنے کی صدا
اڑتی فضاؤں نے
چرالی تھی
مگر اب ساتھ اڑتی
تتلیوں سے اور پرندوں سے
نگاہیں چراتی ہیں
بہاروں میں بھی اب وہ
کتنا ہولے ہولے چلتی ہیں
انہیں اب اپنی ہیئت
اپنی حالت پر
بہت تشویش ہے کیونکہ
ہوائیں حاملہ ہیں
مرے کانوں میں
ان کے درد کی آواز گونجے جارہی ہے
وہ میرے درپہ دستک دے رہی ہیں
انہیں میری ضرورت ہے
مگر خاموش ہوں میں
اور میرے شہر کے سارے مسیحاؤں نے بھی
چپ سادھ رکھی ہے
مگر ہم سب اسی کی فکر میں ہیں
اور ہمیں اب خوف ہے کہ
اس نئی دنیا کی زچگی سے
ہمارے شہر کا کیا کچھ لٹے گا؟
ہمارے شہر کو کیا کچھ ملے گا؟
 
Image: Yves Tanguy