لاہور کا یہ مقدمہ، لاہور کے ثقافتی ورثے، آبادی اور شناخت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں کی تحقیق اور محنت کا نتیجہ ہے۔ اورنج لائن میٹرو منصوبے کے تباہ کن اثرات سے لاہور کو محفوظ بنانے کے لیے جدوجہد کرنے والے ان رضاکاروں کی جانب سے اٹھائے گئے ان سوالات کو مفاد عامہ کی غرض سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔ ہم قارئین سے التماس کرتے ہیں کہ ان سوالات کو جواب حکومت سے حاصل کیجیے اور پھر اس منصوبے سے متعلق کوئی رائے قائم کیجیے۔ لاہور کا مستقبل ہمارے ہاتھوں میں ہے۔
[/blockquote]
حکومت پنجاب اب تک ٹھیکیداروں کے ذریعے کام کی رفتار غیر معمولی طور پر تیز رکھ کر موجودہ ڈیزائن کے مطابق اورنج میٹرو ٹرین کی تعمیرات کرانے میں بے حد کامیاب رہی ہے۔ ایک جانب کام کی اس سبک رفتاری کے باعث حکومت اس منصوبے کے لیے نشان زد گھروں، دکانوں اور کاروباروں کے مکینوں اور مالکان کو ناامید کرنے میں کامیاب رہی ہے اور دوسری جانب اس تیزی کی وجہ سے شہر بھر میں بدترین ٹریفک جام دیکھنے میں آ رہے ہیں، علاوہ ازیں اب تک تیس سے زائد افراد ان تعمیرات کے دوران منصوبہ بندی اور حفاظتی اقدامات کے قفدان کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ میں اورنج میٹرو ٹرین کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران ایک غیرجانبدار ماہر کی جانب سے فاضل عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ خلاف قانون اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم ہونے کی صورت میں اس منصوبے کو روکا جا سکتا ہے۔
اوقات کار اور ان قیمتی جانوں کے ضیاع کی زمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ یہ سوال اس لیے بھی پوچھا جانا چاہیئے کیوں کہ یہی حکومت گزشتہ آٹھ برس سے صدیوں پرانے ثقافتی تہوار بسنت پر اسی دلیل کے تحت پابندی عائد کیے ہوئے ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ لاہور ہائی کورٹ میں اورنج میٹرو ٹرین کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران ایک غیرجانبدار ماہر کی جانب سے فاضل عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ خلاف قانون اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم ہونے کی صورت میں اس منصوبے کو روکا جا سکتا ہے۔ اس تحریر کا مقصد اور نج میٹرو ٹرین سے متعلق شہری حقوق کے معاملے پر بحث اور موجود جمہوری نظم میں شہری شرکت کو بڑھانے کے لیے اہم سوالات اٹھانا ہے۔
شہریوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے میٹرو کے خلاف احتجاج کا ایک منظر
منصوبہ بندی برائے ٹرانسپورٹ
1- حکومت 2007 میں لاہور کے لیے بنائے گئے اس مربوط ماس ٹرانزٹ نظام کےمنصوبے کو کیوں استعمال نہیں کر رہی جو دو برس کی تحقیق اور نوے لاکھ ڈالر حکومتی رقم استعمال کر کے تیار کیا گیا تھا۔ 2007 کے اس منصوبے میں لاہور کو تباہی سے بچانے کے لیے چوبرجی تا انار کلی-لکشمی-میکلوڈ روڈ-جی ٹی روڈ (سلطان پورہ) کا حصہ زیر زمین سرنگ کی صورت میں تجویز کیا گیا تھا۔
2- حکومت سرنگ بنانے کی ٹیکنالوجی کیوں استعمال نہیں کر رہی، جو اگرچہ پُل کی تعمیر اور کٹ اینڈ کور ٹیکنالوجی کی نسبت مہنگی ہے مگر لاہور، اس کے قدیمی علاقے اور ثقافتی ورثے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ یہ اس لیے بہتر ہے کیوں کہ ایک تو لکشمی چوک جیسے علاقوں میں اس ٹیکنالوجی سے بنائے گئے راستے پر پل کے ذریعے ٹرین گزرنے کے برعکس زیادہ رفتار سے ٹرین چلائی جا سکتی ہے اور اس طرح زیادہ مسافروں کو سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ دوسرا میکلوڈ روڈ جیسے گنجان علاقوں میں جہاں زمین بے حد مہنگی ہے، کم زمین خریدنا پڑے گی؛ اور تیسرا یہ کہ اس طرح ان علاقوں میں آسان رسائی کے باعث جائیداد کی قمیت بڑھتی جب کہ اس کے برعکس پُل کے ذریعے ٹرین گزارنے کے باعث یہاں زمین کی قیمت گرے گی اور آبادی کا رحجان ان علاقوں کی جانب کم ہوگا۔
حکومت سرنگ بنانے کی ٹیکنالوجی کیوں استعمال نہیں کر رہی، جو اگرچہ پُل کی تعمیر اور کٹ اینڈ کور ٹیکنالوجی کی نسبت مہنگی ہے مگر لاہور، اس کے قدیمی علاقے اور ثقافتی ورثے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
3- اس ماس ٹرانزٹ نظام کی چاروں گزرگاہوں کو اگلے پچاس برس کے لیے کارآمد رکھنے کی غرض سے آپس میں کس طرح جوڑا جائے گا؟ حکومت نے 2007 کی مجوزہ منصوبہ بندی جس میں مختلف گزرگاہوں کے مابین زیرزمین مشترکہ سٹیشن (اورنج اور پرپل کے درمیان-ریلوے سٹیشن اور ائرپورٹ کے بیچ) کا قیام شامل تھا پر عمل کرنا گوار نہیں کیا۔ موجودہ نقشے کے مطابق، اورنج لائن کا سٹیشن ریلوے اسٹیشن سے 500 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس سے ماس ٹرانزٹ نظام کی روح فوت ہو جاتی ہے۔ اس دوری کی وجہ سے مسافروں کو اپنا سامان پیدل اٹھا کر یا رکشے پر لاد کر سٹیشن تک لے جانا پڑے گا۔
زمین کا حصول اور انسانی حقوق
1۔ کیا حکومت ایک ایسے منصوبے جس کا راستہ اور تکنیک 2007 کے مجوزہ منصوبے کے مطابق نہیں ہے، کے لیے شہر کے گنجان علاقوں میں ایک ہزار کنال زمین حاصل کر کے لوگوں کو بے گھر اور ان کے روزگار تباہ کر سکتی ہے؟ وہ بھی اس صورت میں جبکہ اصل تکنیک (زیر زمین سرنگ) کا مقصد اس نقصان سے بچنا ہو؟ بہتر متبادل موجود ہونے کی صورت میں کیا ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے من پسند منصوبے کی بنیاد پر شہریوں کی زندگیاں تباہ کرنے اور انہیں بے گھر کر سکتی ہے، جب کہ عوام اور ماہرین اس منصوبے کے خلاف ہوں؟
2۔ حکومت کس طرح اپنے ہی قوانین توڑ سکتی ہے، شہریوں کو ڈرا دھمکا سکتی ہے، لوگوں کو موزوں معاوضہ اور پیشگی نوٹس دیئے بغیر غیر قانونی طور پر ان کے گھروں سے بے دخل کر سکتی ہے اور کس طرح کہہ سکتی ہے کہ متاثرہ لوگوں کو معاوضہ ڈی سی نرخ (بازاری نرخ سے نہایت کم پر) کے مطابق بعد کی تاریخوں میں دیا جائے گا؟ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے مطابق ریاست ترقیاتی منصوبوں کے لیے املاک خرید سکتی ہے لیکن اس کے لیے شہریوں کوپیشگی تحریری نوٹس دینے، متبادل رہائش کا انتظام کرنے کے لیے مناسب وقت دینے اور بازاری نرخ سے پندرہ فی صد زائد قیمت ادا کرنے کی پابند ہے۔ جی ٹی روڈ پر ڈیرہ گجراں تا سلطان پورہ اور نکلسن روڈ پر ریاست نے لوگوں پر دباو ڈال کر گھر خالی کرنے پر مجبور کیا ہے، پولیس کے ذریعے ڈرایا دھمکایا ہے اور گھر مسمار کر دیئے ہیں۔ ریاست گردی کے اس عمل کے دوران ایک ایسے کلینک کو بھی گرا دیا گیا ہے جس کے لیے حکم امتناعی کی درخواست ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔
حکومت کس طرح اپنے ہی قوانین کو توڑ سکتی ہے، شہریوں کو ڈرا دھمکا سکتی ہے، لوگوں کو موزوں معاوضہ اور پیشگی نوٹس دیئے بغیر غیر قانونی طور پر ان کے گھروں سے بے دخل کر سکتی ہے
3۔ لاہور شہر کے بیچ و بیچ ایک پُل کے ذریعے مسافر ٹرین گزارنے سے آس پاس کی زمین کی قیمت گرجائے گی۔ یہ منصوبہ شہر کو زیرزمین سرنگ کی تعمیر کی صورت میں ملنے والی ممکنہ نئی زندگی بخشنے کی بجائے انحطاط کا شکار کر دے گا۔ کیا حکومت کو لاہور کو انحطاط کا شکار کرنے اور چوبرجی-پرانی انار کلی-لکشمی-میکلوڈ روڈ- ریلوے سٹیشن اورشالامارسے محروم کرنے کا حق حاصل ہے؟ کیا حکومت اس توڑ پھوڑ کی بجائے ان علاقوں کے شہریوں کے لیے شہری سہولیات کی بہتر فراہمی یقینی بنانے کی زمہ دار نہیں؟
ثقافتی ورثہ، شناخت اور مزاج
1۔ کیا کسی حکومت کو یہ حق یہ حاصل ہےکہ وہ لاہور جیسے شہر کا مزاج تبدیل کرنے کے منصوبے بنائے، خاص کر کہ جب اس کے شہریوں کا بھی اعتماد میں نہ لیا گیا ہو؟ کیا ریاست لاہور کے صدیوں پرانے ثقافتی ورثے (آبادیوں اور یادگار تاریخی عمارتوں) کو تباہ کر سکتی ہے؟
2۔ ترک سیاحت کا پہلا پڑاو ہونے کے ناطے استنبول ہر برس بیس سے تیس ارب ڈالر زرمبادلہ کمانے کا باعث بنتا ہے، حکومت کیوں کٹ اینڈ کور ٹیکنالوجی کے استعمال اور پُل کے ذریعے ٹرین گزار کر لاہور کے(چوبرجی، موج دریا سرکار، لکشمی اور شالامار سمیت 25 تاریخی مقامات پر مشتمل) تہذیبی دھارے کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے؟
حکومت کیوں تاریخی مقامات کے حوالےسے اپنے تعمیراتی منصوبے کی تفصیلات لاہور کے شہریوں سے چھپا رہی ہے جو لاہور کے ورثے کے حقیقی نگہبان ہیں؟
3۔ حکومت یہ تاثر دے رہی ہے (کمشنر لاہور کے بیان کے مطابق) کہ وہ تاریخی مقامات پر اورنج میٹرو لائن کی تعمیرات سے ہونے والے اثرات کے سلسلے میں مسلسل یونیسکو کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہوں نے یونیوسکو کے خط کا جواب دے دیا ہے۔ لیکن حکومت نے تاحال عالمی ورثہ قرار دیئے گئے مقامات (جیسے چوبرجی) کے قریب تعمیراتی کام روکا ہے۔ یہ امر National Antiquities Act 1975، اور ورلڈ ہیریٹیج کنونشن 1972 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ حکومت نے اب تک یونیسکو کو لکھے گئے خط کی تفصیلات بھی لاہور بچاو تحریک کو فراہم نہیں کیں۔ حکومت کیوں تاریخی مقامات کے حوالےسے اپنے تعمیراتی منصوبے کی تفصیلات لاہور کے شہریوں سے چھپا رہی ہے جو لاہور کے ورثے کے حقیقی نگہبان ہیں؟ پاکستان نے اقوام متحدہ کے ماہرین کے تحفظات یوں آرام سے نظرانداز کر دئیے ہیں گویا پاکستان دنیا سے کٹا ہوا کوئی جزیرہ ہے۔
شہریوں کے تحفظات کے باوجود میٹرو کے لیے توڑ پھوڑ اور تعمیرات جاری ہیں
ماحول اور صحت
1۔ گزشتہ برس کراچی میں گرمی کی لہر سے ایک ہزار افراد کی ہلاکت اور دلی اور بیجنگ میں شدیدفضائی آلودگی کی مثالیں سامنے ہوتے ہوئے بھی پنجاب حکومت کیوں شہر کے بیچ میں کنکریٹ کے ایسے پُل کھڑے کرنا چاہتی ہے جن سے شہر کا درجہ حرارت اور آلودگی میں اضافے کا امکان ہے؟ ان تعمیرات سے سینکڑوں درخت کٹنے کا بھی اندیشہ ہے۔ کیا حکومت لاہور کو بھی کراچی کی طرح ہر قسم کے سبزے سے محروم کرنا چاہتی ہے؟ کیا حکومت گزشتہ برس تمام دنیا کے پیرس میں اکٹھے ہونے اور ماحولیاتی تغیرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کے فیصلے کا کیا مطلب ہے؟
میٹرو ٹرین کی زد میں درخت بھی آ رہے ہیں
قانونی ضابطہ کار اور جمہوریت
1۔ کیا وجہ ہے کہ شہریوں کو اورنج ٹرین منصوبے سے متعلق تب ہی پتہ چلتا ہے جب ان کے گھر اور دکانیں نشان زد کر دئیے جاتے ہیں اور جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ تین روز بعد ان کے گھر گرا دئیے جائیں گے؟ کیا یہ ریاست کی (قانونی) ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنے شہریوں خاص کر جن کے گھر اس گزرگاہ کے آس پاس قائم ہیں کو اس منصوبے پر پہلے سے مکمل طور پر اعتماد میں لے؟ کیا یہ بھی ریاست کا فریضہ نہیں کہ وہ، جن کے گھر یا دکانیں گرائی جا رہی ہیں انہیں گرائے جانے سے قبل مناسب وقت، خدمات اور معاوضہ ادا کرے؟
کیا وجہ ہے کہ شہریوں کو اورنج ٹرین منصوبے سے متعلق تب ہی پتہ چلتا ہے جب ان کے گھر اور دکانیں نشان زد کر دئیے جاتے ہیں اور جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ تین روز بعد ان کے گھر گرا دئیے جائیں گے؟
2۔ حکومت کس طرح چینی حکومت کی جانب سے قرضہ منظور کرنے سے پہلے ہی کام شروع کر سکتی ہے؟ قرضے کی منظوری دسمبر میں ہوئی جبکہ منصوبے پر کام کئی ماہ قبل ہی شروع کر دیا گیا تھا۔
3۔ پی سی ون کے مطابق منصوبے کی سرکاری طور پر بیان کی گئی قیمت 170.5 ارب روپے یا 1.64ارب ڈالرہے جبکہ درکار فنڈنگ 182 ارب روپے یا 1.78 ارب ڈالر ہے۔ چینی حکومت 1.6 ارب ڈالر قرض فراہم کر رہی ہے جبکہ حکومت پنجاب نے 2015-16 کے ترقیاتی بجٹ میں اس کے لیے دس ارب روپے مختص کیے ہیں۔ تاہم پی سی ون منصوبے میں زمین حاصل کرنے کی قیمت، قرضے پر ادا کیا جانے والا سود، روزگار کے مواقع کے خاتمے سے ہونے والا نقصان، سرکاری عمارات مرمت اور نئے سرے سے تعمیر کی لاگت اور شہری تنصیبات کی منتقلی کا خرچ وغیرہ شامل نہیں۔ اگر حکومت کے بجٹ میں یہ مصارف شامل نہیں تو ان کے لیے رقم کہاں سے آئے گی؟
حکومت میٹرو منصوبے کے حوالے سے مکمل تفصیلات عام نہیں کر رہی۔
4۔ حکومت نے اس منصوبے سے متعلق دستاویزات شہریوں کو معلومات تک رسائی کے حق کے تحت درخواست دے کر طلب کرنے کے باوجود بھی کیوں فراہم نہیں کر رہی؟ حکومت کیا چھپانا چاہتی ہے اور کیوں اپنے ہی قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے؟
5۔ کیا لاہور تمام لاہور واسیوں کا ہے یا محض چند لوگوں کا؟ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں شہریوں کو ان کے شہر کے مستقبل میں شریک نہیں کیا جاتا؟ کیا یہ جمہوریت ہے جہاں ہمارے نام پر 160 ارب روپے قرض لیا جاتا ہے جس کا سود ہمیں اور ہماری نسلوں کو چکانا ہے لیکن ہمارے ہی اعتراضات کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے؟
پس ثابت ہوا کہ اگر درج بالا سوالات کے تشفی آمیز جوابات دئیے بغیر اورنج لائن میٹرو تعمیر کی جاتی ہے تو یہ ریاست کی اندھی اور بے لگام طاقت کے بدعنوانوں سے گٹھ جوڑ کا مظہر سمجھا جائے گا، اورنج میٹرو ٹرین کی شہریوں کے تحفظات کے باوجود بھی اگراسی انداز میں تکمیل کی گئی تو یہ عمل کم زور جمہوری ڈھانچے اور سول سوسائٹی کا مظہر ہوگا۔ پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل اور لاہور شہر کے ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے اورنج لائن میٹرو کی تعمیرات کی فوری بندش اور مکمل عوامی نظرثانی کی جانی چاہیئے۔
یہ چشم کشا دستاویز لاہور کے ثقافتی ورثے، آبادی اور شناخت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں کی تحقیق اور محنت کا نتیجہ ہے۔ اورنج لائن میٹرو منصوبے کے تباہ کن اثرات سے لاہور کو محفوظ بنانے کے لیے جدوجہد کرنے والے ان رضاکاروں کی جانب سے جاری کیے گئے اس وائٹ پیپر کو مفاد عامہ کی غرض سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔ ہم قارئین سے التماس کرتے ہیں کہ ان حقائق کو پڑھیے، سمجھیے اور پھر اورنج لائن میٹرو ٹرین کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیجیے۔ لاہور کا مستقبل ہمارے ہاتھوں میں ہے۔
[/blockquote]
پس منظر:
ایک کروڑ دس لاکھ نفوس پر مشتمل تاریخی شہر لاہور آبادی کے بے پناہ دباوکے باعث بے پناہ مسائل کا شکار ہے۔ اپنے باغات، تاریخی مقامات اور دورویہ سبزہ زارروں کے لیے معروف اس شہر کو اب بڑھتی ہوئی ٹریف اور آبادی کے لیے شہری سہولیات اور آمدورفت کے بہتر نظام کی ضرورت ہے۔ دستیاب سہولیات پر دباو کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2006 میں لاہور میں مختلف ذرائع سے سفر کرنے والوں کی روزانہ تعداد ایک کروڑ پینتیس لاکھ کے لگ بھگ ہو چکی تھی اور اس تعداد میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ لاہور واسیوں کی روزانہ آمدورفت کے لیے ایک جامع اور مربوط نظام کی ضرورت 1990 سے محسوس کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت پنجاب نے 2005 میں لاہور میں ایک تیزرفتار عوامی ٹرانزٹ نظام کی تعمیر کے لیے ایم وی اے ایشیا کے تعاون سے ایک تحقیق کا انعقاد کرایا تھا۔ اس تحقیقی مطالعے میں ایم وی اے نے چار بنیادی اور مربوط راستوں (گرین، اورنج، بلیو، پرپل) کی تعمیر کی تجویز پیش کی۔ ترجیحی بنیادوں پر تعمیر کیے جانے والے دو راستوں کی تعمیر کے لیے درکار لاگت اور آمدن کے بنیادی تخمینے بھی اس تحقیق کا حصہ تھے
اپنے باغات، تاریخی مقامات اور دورویہ سبزہ زارروں کے لیے معروف اس شہر کو اب بڑھتی ہوئی ٹریف اور آبادی کے لیے شہری سہولیات اور آمدورفت کے بہتر نظام کی ضرورت ہے۔
گرین میٹرو لائن منصوبہ، گجومتہ تا شاہدرہ 27 کلو میٹر طویل ریل گزرگاہ پر مشتمل تھا۔ اس راستے کا 15.5 کلومیٹر طویل راستہ پُل کی صورت میں جبکہ 11.5 کلومیٹر ٹکڑا زیرزمین تعمیر کیے جانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ گرین میٹرو لائن منصوبے کے تحت روزانہ 380،00 مسافروں کو سفر کی سہولیات فراہم کی جانی تھیں۔ تاہم (مسلم لیگ نواز کی حکومت نے)اسے زیرزمین ٹرین کی بجائے مکمل طور پر پُل اور سطح زمین پر چلنے والی بسوں کے منصوبے میں بدل دیا۔ اس تبدیلی کی وجہ سے داتا دربار، بادشاہی مسجد، گورنمنٹ کالج اور کربلا گامے شاہ جیسے تاریخی مقامات کابیرونی منظر تعمیرات کی نذر ہو گیا۔ اس منصوبے کی تعمیر سے پیدل سڑک پار کرنے والوں کے لیے راستہ پُرخطر ہوا ہے، ٹریف بد نظمی کا شکار ہوئی ہے اور ٹریفک کے ایک جگہ ارتکاز کی وجہ سے صوتی آلودگی، دھوئیں کی بہتات اور جائیداد کی قیمتوں میں کمی جیسے مسائل بھی سر اٹھانے لگے ہیں۔ ٹرین کی بجائے بسوں کے استعمال کی وجہ سے اس منصوبے کی استعداد 60،000 ہزار مسافی فی گھنٹہ سے کم ہو 25000 ہزار مسافر فی گھنٹہ ہو گئی ہے۔ اس تبدیلی کے باعث پورے شہر کے اہم مقامات کو ملانے والے ایک مربوط اور جامع نظامِ آمدورفت کی تعمیر کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔
اورنج میٹرو لائن کا 27 کلومیٹر طویل راستہ علی ٹاون سے شروع ہو کر ڈیرہ گجراں تک تعمیر کیا جانا ہے۔ 2006 میں کیے جانے والے تحقیقی مطالعے کے تحت اس کا 20 کلومیٹر حصہ پُل کی صورت میں جبکہ تاریخی مقامات اور آبادیوں کے قریب سے گزرنے والا راستہ نقصان کی شدت کم کرنے کے لیے زیرِزمین تعمیر کیا جانا تھا۔ تاہم اب اس منصوبے کا نقشہ بھی تبدیل کر دیاگیا ہے۔
ترمیم شدہ منصوبے کے تحت 7 کلومیٹر طویل سرنگ کی بجائے اس راستے کا محض.7 1 کلومیٹر حصہ جزوی طور پر زیر زمین تعمیر کیا جائے گا)لاگت کم کرنے کے لیے اس مقصد کے لیے انڈرکٹ اینڈکور ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی) جبکہ بقیہ 25.4 کلومیٹر طویل راستہ بذریعہ پُل طے کیا جائے گا۔ منصوبے میں ان غیر دانشمندانہ ترامیم کی وجہ سے چوبرجی جیسی تاریخی عمارات کو شکست و ریخت کے خطرے کا سامنا ہے، گلابی باغ جیسے مقامات کے پس منظر میں چلے جانے کا اندیشہ ہے اور کپورتھلہ اور پیراشوٹ کالونی جیسی قدیم آبادیاں نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گی۔ اس منصوبے کی زد میں آنے والی عمارات میں موج دریا جیسے مزارات اور سینٹ اینڈریوز چرچ نابھا روڈ جیسی اقلیتی عباد گاہیں بھی شامل ہیں۔ منصوبے میں کی گئی ترامیم کی وجہ سے اس کی افادیت بھی کم ہو کر 25000 تا 30000 مسافر فی گھنٹہ رہ جائے گی۔ اس منصوبے کی تکمیل کا عرصہ جولائی 2015 تا ستمبر 2017 متعین کیا گیا ہے۔ درج ذیل سرکاری ادارے بھی اس منصوبے میں شریک ہیں:
اورنج لائن میٹرو کا ترمیم شدہ مسودہ
اس منصوبے کی تعمیر سے پیدل سڑک پار کرنے والوں کے لیے راستہ پُرخطر ہوا ہے، ٹریفک بد نظمی کا شکار ہوئی ہے اور ٹریفک کے ایک جگہ ارتکاز کی وجہ سے صوتی آلودگی، دھوئیں کی بہتات اور جائیداد کی قیمتوں میں کمی جیسے مسائل بھی سر اٹھانے لگے ہیں۔
نیس پاک نے اس راستے کا پی سی ون (پلاننگ کمیشن فارم نمبر 1) تیار کیا۔ اس فارم کی جانچ پڑتال پنجاب میٹروبس اتھارٹی نے کی اور سیکرٹری ایچ یو ڈی اینڈ پی ایچ ای، سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور چیئر مین پی اینڈ ڈی نے اس کی منظوری دی۔ اس منصوبے کی لاگت سرکاری طور پر 170.5 ارب روپے (1.64ارب ڈالر( بتائی گئی ہے جبکہ اس کے لیے درکار فنڈز 182 ارب روپے (1.75ارب ڈالر) ہیں3۔
پرپل لائن: 19 کلومیٹر طویل یہ مجوزہ منصوبہ داتا دربار سے لاہور ائرپورٹ تک تعمیر کیا جانا ہے۔ اس راستے کے ذریعے داتا دربار، ریلوے سٹیشن، گڑھی شاہو، باغبانپورہ اور ائرپورٹ کو آپس میں ملایا جائے گا۔
بلیو لائن: 24 کلومیٹر طویل یہ راستہ جناح ہال سے گرین ٹاون تک تعمیر کرنے کی سفارش کی گئی ہے جس کے ذریعے میانی صاحب، لاہور کالج، کنیرڈ کالج، علامہ اقبال میڈیکل کالج، کلمہ انٹرچینج، برکت مارکیٹ اور ٹاون شپ جیسے علاقے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جائیں گے۔
ترمیم شدہ اورنج لائن منصوبے سے وابستہ مسائل
لاگت کا موازنہ:
لاہور میٹرو منصوبے پر چھ کروڑ پانچ ہزار ایک سو ڈالر(60.51ملین ڈالر) فی کلومیٹر خرچ آئے گا جبکہ جکارتہ میں بننے والے میٹرو ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم پر پچھتر لاکھ ڈالر فی کلومیٹر4 (7.5ملین ڈالر) لاگت صرف کی گئی تھی۔
اعلانیہ لاگت اور اصل لاگت میں فرق
اورنج لائن کی تعمیر کے لیے سرکاری طور پر اعلان کیے جانے والی لاگت میں قرض پر ادا کیا جانے والا سود، زمین خریدنے کی لاگت، منصوبے کی زد میں آنے والی سرکاری عمارات کی تعمیر و مرمت اور عوامی مقامات کے تصرف کی لاگت شامل نہیں ہے۔
اورنج لائن کی تعمیر کے لیے سرکاری طور پر اعلان کیے جانے والی لاگت میں قرض پر ادا کیا جانے والا سود، زمین خریدنے کی لاگت، منصوبے کی زد میں آنے والی سرکاری عمارات کی تعمیر و مرمت اور عوامی مقامات کے تصرف کی لاگت شامل نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے بیان کر دہ لاگت میں شہری سہولیات کی منتقلی جیسے بجلی، پانی، نکاسی آب کی لائنوں کی منتقلی کے اخراجات بھی شامل نہیں کیے گئے۔ اورنج لائن کی تعمیرات کے باعث پس منظر میں چلے جانے والے تاریخی مقامات سے سیاحت کی صنعت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، سیروسیاحت کی صنعت کو ہونے والے یہ نقصانات بھی اس میزانیے کا حصہ نہیں ہیں۔ زیرزمین حصے کے گرد موجود عمارات کو مستحکم کرنے پر اٹھنے والے اخراجات اور آبادیوں کی نقل مکانی سے پہنچنے والے سماجی نقصانات کو بھی اس لاگت میں شامل نہیں کیا گیا۔
بلند اور متغیر شرح سود
اس منصوبے کے لیے چین سے 166.4ارب روپے یعنی 1.6ارب ڈالر قرض 3 فیصد سالانہ شرح سود پر قرض حاصل کیا جائے گا۔ یہ قرض 20 سال کی مدت کے لیے لیا جائے گا۔ چینی کمپنی NORINCO اس منصوبے کے لیے ریل گاڑیاں اور دیگر متعلقہ سازوسامان مہیا کرے گی جس پر 104 ارب روپے یعنی ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ رقم خرچ ہو گی۔ تعمیرات کا کام مقامی ٹھیکیداروں کی مدد سے کیا جائے گا جس پر 62.4اب روپے یعنی 0.6ارب ڈالر خرچ آئے گا۔ منصوبے میں شریک تمام اداروں کی چینی حکومت براہ راست ادائیگیاں کرے گی۔ اس قرض پر سود کی مد میں3 فی صد سالانہ کی شرح سے پہلے برس 5.48ارب روپے (52.76ملین ڈالر) جبکہ بعدازاں2.4 فی صد کی شرح سے 4.38ارب روپے (42.21ملین ڈالر) ادا کیے جائیں گے5۔
ماحول پر منفی اثرات
اس منصوبے کے ماحول پر بے حد شدید اثرات مرتب ہوں گے۔ شہری علاقوں میں شور اور درجہ حرارت میں اضافہ ہوگا۔ ماحولیاتی گرماو اور شہری علاقوں میں حرارت کے محبوس ہونے (urban Heat Island Effect) کی وجہ سے لاہور کے درجہ حرارت میں 6 سے 8 درجے سینٹی گریڈ اضافے کا خدشہ ہے۔ اس منصوبے کی تعمیر کے نتیجے میں درختوں کی کٹائی اور کھلی جگہوں پر کنکریٹ کی تعمیرات سے ان منفی اور مضر ماحولیاتی اثرات کی شدت میں اضافہ ہوگا6۔
صحت عامہ کے مسائل
۔ اس منصوبے کی تعمیر کے نتیجے میں درختوں کی کٹائی اور کھلی جگہوں پر کنکریٹ کی تعمیرات سے ان منفی اور مضر ماحولیاتی اثرات کی شدت میں اضافہ ہوگا
اس منصوبے کے نتیجے میں لاہوریوں کی صحت پر مرتب ہونے والے فوری اور دور رس اثرات کا درست اندازہ تاحال نہیں لگایا گیا۔ گزشتہ برس کراچی میں ہم شہر میں حرارت کے محبوس ہو جانے سے ہونے والی اموات کی ایک بھیانک مثال دیکھ چکے ہیں۔ اگر اس منصوبے کی تعمیر سے پہلے صحت عامہ پر اثرات کا مکمل جائزہ نہ لیا گیا تو لاہور میں بھی ایسی صورت حال پیش آ سکتی ہے۔ اورنج لائن جیسے منصوبوں کی تعمیر کے نتیجے میں پُلوں کے نیچے کاربن مونو آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائڈ اور دھاتی ذرات سے لبریز ہوا ٹھہر کر اکٹھی ہو جاتی ہے ، یہ آلودہ ہوا کینسر کا باعث بنتی ہے۔ ایسی ہوا میں زیادہ دیر سانس لینے سے انسانی ڈی این اے کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آلودگی کی یہ خطرناک ترین صورت انسانی خون میں شامل ہو کر پھیپھڑوں کو متاثر کر تی ہے اور امراض قلب کا باعث بنتی ہے۔ 9 یورپی ممالک کے 312,944 افراد پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق اس آلودگی کی قلیل مقدار بھی خطرناک نتائج مرتب کر سکتی ہے۔ اس قسم کی آلودگی میں معمولی اضافہ بھی کینسر میں مبتلا ہونے کے امکاننات بڑھا دیتا ہے۔ لاہور میں فضائی آلودگی کا تناسب پہلے ہی عالمی معیارات سے بے حد زیادہ ہے، اورنج لائن جیسے منصوبوں کی بے دریغ تعمیر صحت عامہ کی صورت حال کو مزید مخدوش بناسکتی ہے۔
میٹرو منصوبے سے شہر کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو گا
تاریخی مقامات کو لاحق خطرات
شالامار باغ، چوبرجی، لکشمی اور موج دریا جیسے 25 کے قریب تاریخی مقامات اس منصوبے کی زد میں آکر منہدم کیے جانے یا متاثر ہونے کے خدشے سے دوچار ہیں۔ یہ مقامات تاریخی ورثہ قرار دیئے گئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ان کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کنونشن برائے عالمی ورثہ، نیشنل ایکویٹیز ایکٹ اور پنجاب سپیشل پرمیسز آردیننس جیسے عالمی اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی سے بھی گریزاں نہیں۔ زیرزمین راستے کے گرد موجود عمارات کے استحکام اور بنیادوں کو مضبوط کرنے کا معاملہ منصوبے کی تیاری اور لاگت کے تخمینے میں سرے سے شامل ہی نہیں کیا گیا۔ مغل عہد کی بہت سی یادگاریں اس منصوبے کی تعمیرات کے پس منظر میں چھپ جائیں گی اور ان کی خوبصورتی اور شان و شوکت ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہو جائے گا۔
چوبرجی کے قریب کھدائی اور تعمیر کا کام جاری ہے
منصوے سے بے گھر ہونے والے افراد
شالامار باغ، چوبرجی، لکشمی اور موج دریا جیسے 25 کے قریب تاریخی مقامات اس منصوبے کی زد میں آکر منہدم کیے جانے یا متاثر ہونے کے خدشے سے دوچار ہیں۔
سرکاری تخمینے کے مطابق اورنج منصوبے کے لیے 1000-1200 کنال زمین خریدی جائے گی۔ زمین کے حصول، معاوضے کے تعین اور بروقت ادائیگی کے سلسلے میں واضح طریق کار کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے گھر ہو جائیں گے۔ اورنج لائن شہر کے گنجان ترین علاقوں جہاں اعدادوشمار کے مطابق 9000 سے 31000 افراد فی مربع کلومیٹر رہائش پذیر ہیں، سے ہو کر گزرے گی۔ صرف پرانی انار کلی میں واقع کپور تھلہ ہاوس (جہاں اس منصوبے کے 26 میں سے ایک سٹیشن کی تعمیر کی جائے گی) میں ہی 2700 ووٹرز رہائش پذیر ہیں اور ہر خاندان اوسطاً 8 افراد پر مشتمل ہے۔
ذرائع روزگار اور کاروباری مراکز کی تباہی
اس منصوبے کی وجہ سے ہزاروں خوانچہ فروش، ٹھیلے والے، چھوٹے دکاندار اور کاروبار متاثر ہوں گے۔ چوبرجی چوک، جین مندر، لکشمی اور شالامار جیسے مصروف تجارتی علاقوں میں پلازے اور دکانیں بھی اورنج لائن کی زد میں آ جائیں گے۔ ان دکانوں کے ملازمین اور چھوٹے موٹے کاروبار چلانے والے ہزاروں افراد منصوبے کے نتیجے میں پہنچنے والے نقصان کی تلافی کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
ڈیرہ گجراں میں دکانوں کے انہدام کا عمل جاری ہے
شہری اور عوامی مقامات کی تباہی
منصوبے کے راستے میں آنے والی آبادیاں کھیل کے کئی میدانوں، سکولوں، مساجد، ہسپتالوں اور کلینکوں سے محروم ہو جائیں گی۔ شمالی لاہور کے 200 خاندانوں کے معذور بچوں کو تدریس کی سہولیات فراہم کرنے والا خصوصی بچوں کا سکول بھی گرائے جانے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔
ضابطہ کار کی خلاف ورزی اورانتظامیاں بے قاعدگیاں
پی سی ون میں منصوبے کی لاگت کم کرنے کے لیے کی گئی دانستہ بے ضابطگیاں (جن کا بیان اوپر کیا جا چکا ہے) اس منصوبے کی شفافیت پر سوال اٹھاتی ہیں۔ منصوبے کے پی سی ون میں کئی ضروری اخراجات شامل نہیں کیے گئے۔ سرکاری سطح پر 166.4ارب روپے کے قرض اور سالانہ بجٹ میں مختص کیے گئے 10 ارب روپے کے علاوہ بقیہ اخراجات تاحال عوام کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔
منصوبے کے راستے میں آنے والی آبادیاں کھیل کے کئی میدانوں، سکولوں، مساجد، ہسپتالوں اور کلینکوں سے محروم ہو جائیں گی۔ شمالی لاہور کے 200 خاندانوں کے معذور بچوں کو تدریس کی سہولیات فراہم کرنے والا خصوصی بچوں کا سکول بھی گرائے جانے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔
2007 میں سِسٹرا کے ذریعے کرائے گئے ایک تحقیقی مطالعے میں گنجان آباد علاقوں اور تاریخی مقامات کے قریب (گلبرگ تا جی ٹی روڈ) سطح زمین پر آبادیوں اور تاریخی مقامات کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے سات کلومیٹر طویل زیرزمین سرنگ تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اس مطالعے کو بنیاد پر تعمیر شروع کرنے کے باوجود حکومت نے سرنگ کی بجائے نسبتاً سستی ٹیکنالوجی (کٹ اینڈ کور) استعمال کر کے صرف 1.7 کلومیٹر طویل حصہ زیر زمین تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بقیہ راستہ خصوصی طور پر تعمیر کیے گئے پُل کے ذریعے طے کیا جائے گا۔ یہ پُل بعض مقامات پر 26 فٹ(دو منزلہ عمارت) سے لے کر 59 فٹ(چھ منزلہ عمارت) بلندی پر تعمیر کیا جائے گا۔ چلتی ٹرین کے مسافروں کی تاک جھانک کی وجہ سے گردونوح کی شہری آبادیوں کی نجی زندگی میں خلل آنے اور جائیداد کی قیمتیں گرنے کا اندیشہ ہے۔ ماحولیاتی اثرات کے تخمینے میں ان امور کو شامل نہیں کیا گیا جو ایک صریح بے قاعدگی ہے۔ اس پُل کی تعمیر سے اس منصوبے کے عملی پہلووں پر شکوک و شبہات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ قرض کے حصول اور تعمیرات کے آغاز میں بھی بے ضابطگیاں کی گئی ہیں۔ منصوبے کے لیے کام کا آغاز 25 اکتوبر کو کیا گیا تھا لیکن قرض کے حصول کے معاہدے پر 21 دسمبر 2015 کو دستخط کیے گئے۔ اس دوران حکومت پنجاب نے پنجاب بنک کے ذریعے 6 ارب روپے ٹھیکیداروں کو کام کا آغاز کرنے کے لیے فراہم کیے ہیں۔
میٹرو منصوبے سے نجی زندگی میں مداخلت کے اسباب مہیا ہوئے ہیں
منصوبے کی سرکاری تشہیر کے برعکس زمینی صورت حال یہ ہے کہ متاثرہ آبادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور لینڈ ایکیوزیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں ان کے مکانات کے گرائے جانے کے فیصلے سے متعلق کوئی نوٹس جاری نہیں کیے گئے۔ نوٹس جاری نہ کیے جانے کی وجہ سے متوقع متاثرین عدالت سے رجوع کا حق بھی نہیں رکھتے جو ان کے بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ منصوبے کے راستے میں پڑنے والی آبادیوں میں مقیم افراد کو اپنے مکانات کے منصوبے کی زد میں آنے سے متعلق تب پتہ چلتا ہے جب سروے اہلکاران ان کی عمارتوں کو نشان زد کرتے ہیں۔
قانونی مسائل
لینڈ ایکیوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت حکومت شہریوں کی املاک صرف اس صورت میں ان سے خریدنے کی مجاز ہے جب ایسا کیا جانا ناگزیر ہو۔ خریدے جانے کی صورت میں یہ قانون متاثرہ افراد کو قانونی چارہ جوئی کا حق استعمال کرنے کی ضمانت دیتا ہے جو ان کا قانونی اور انسانی حق ہے۔ عدالتی چارہ جوئی میں ناکامی پر ریاست متاثرہ افراد کو ان کے نقصان کا جائز اورمعقول معاوضہ دینے کی پابند ہے۔
حکومت شالامار باغ کے قریب تعمیرات میں حکومت کنونشن برائے عالمی ورثہ کی شق نمبر 11، نیشنل ایکویٹیز ایکٹ 1975اور پنجاب سپیشل پرمیسز آرڈیننس 1975کی خلاف ورزی بھی کر رہی ہے۔ اس تعمیر کے باعث لاہور قلعے اور شالامار باغ دونوں کا تاریخی ورثے کی عالمی فہرست سے اخراج کا امکان ہے۔ حکومت کی جانب سے منصوبے کی تفصیلات عام نہ کیا جانا ایک غیر جمہوری اقدام اور شفافیت اور معلومات تک رسائی کے 2013 کے قانون کی خلاف ورزی بھی ہے۔
معاشی غیر یقینی اور ترقیاتی ترجیحات
منصوبے کی سرکاری تشہیر کے برعکس زمینی صورت حال یہ ہے کہ متاثرہ آبادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور لینڈ ایکیوزیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں ان کے مکانات کے گرائے جانے کے فیصلے سے متعلق کوئی نوٹس جاری نہیں کیے گئے۔
میٹرو اتھارٹی کے مطابق لاہور میٹرو بس کو روزانہ چالیس لاکھ جبکہ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق روزانہ پینسٹھ لاکھ ستر ہزار روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ حکومت اب تک (2013-14) کے دوران 2.4ارب روپے کی سبسڈی دے چکی ہے۔ 2014-15 کے بجٹ میں اس سبسڈی کے لیے 2 ارب روپے جبکہ 2015-16 کے بجٹ میں اس مقصد کے لیے 3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سبسڈی دینے کی یہ شرط اگلے پچاس برس تک کے لیے رکھی گئی ہے۔ حکومت یا ترقیاتی ترجیحات بدلنے کی صورت میں اس منصوبے کا مستقبل غیر یقنی کا شکار ہے۔ اس ضمن میں اس امر کا خیال بھی نہیں رکھا گیا کہ لاہور میں آمدورفت کے برق رفتار منصوبوں کی تعمیر اور دیکھ بھال کے عوض باقی پورے صوبے میں صحت اور تعلیم کی سہولیات کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ سبسڈی کی رقم 2007 میں سِسٹرا سفارشات سے دگنی ہو چکی ہے جو باعث تشویش ہے۔
سفری ذرائع کی ترقی کے لیے بلا خلل آمدورفت کے لیے ایک جانب اشاروں کا خاتمہ کیا جارہا ہے اور دوسری جانب عوامی آمدورفت کے (میٹرو ) جیسے منصوبے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ متضاد نوعیت کے حامل ان منصوبوں کی بیک وقت تعمیر بھی بحث طلب معاملہ ہے۔ ایک جانب حکومت عام آدمی کو سستی سفری سہولیات مہیا کرنے کے بڑے منصوبے تعمیر کر رہی ہے اور دوسری جانب ذاتی گاڑیوں پر انحصار کم کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کر رہی اج کی وجہ سے ٹریف کے مسائل حل ہونے کا امکان مزید کم ہو جاتا ہے۔
پنجاب کے ترقیاتی بجٹ کی شرمناک تقسیم
ترقیاتی ترجیحات
اورنج میٹرو لائن جیسے منصوبوں کی تعمیر کے پیچھے موجودہ اور گزشتہ حکومتوں کی ترقیاتی ترجیحات پر بہت سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ تعلیم، صحت، پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کے مواقع میں اضافے کے ذریعے انسانی وسائل کی ترقی کا خاطر خواہ انتظام کیے بغیر اس قسم کے ترقیاتی منصوبے سودمند ثابت نہیں ہو سکتے۔ ناہمور اور غیر مساوی ترقی کا یہ عمل مزید مسائل کا باعث بن رہاہے۔ پنجاب کے کل ترقیاتی بجٹ کا ایک بڑا حصہ (158 ارب روپے) محض تعمیرات کے لیے مخصوص ہے جبکہ تعلیم کے لیے محض 44 ارب اور صحت کے لیے 20.7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
نتائج، تجاویز اور سفارشات
قوم کو اس منصوبے کی تعمیر کا خمیازہ ایک طویل مدتی قرض کے ساتھ ساتھ بے گھر افراد، کاروبار اور روزگار کے خاتمے، صحت عامہ کے نقائص اور تاریخی ورثے کی تباہی کی صورت میں بھگتنا پڑے گا ۔
لاہور میں سبک رفتار عوامی ٹرانسپورٹ کی ضرورت سے انکار نہیں لیکن اس کے لیے تیار کیے جانے والے منصوبوں پید ل چلنے والوں سے لے کر سائیکل سواروں اور موٹر والوں؛ غرض سب کی سہولت اور ضرورت کو مدنظر رکھا جانا چاہیئے۔ لاہور میں آمدو رفت کے بہتر ذرائع کی فراہمی کے لیے ٹریف کے بہتر انتظام، فٹ پاتھوں کی تعمیر اور بسوں کی فراہمی سمیت تمام پہلووں پر کام کیاجانا چاہیئے۔ دستیاب ذرائع آمدورفت اور سفری سہولیات کے ساتھ مربوط ماس ٹرانزٹ سسٹم کی تعمیر ایک دیرپا اور سودمند حل ہے جس کی تعمیر کے دوران زیر زمین سرنگوں سے نقصان کو کم کرتے ہوئے شہر کے مزاج اور تاریخی شناخت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ حکومت کو لاہور کے لیے ایک جامع ٹرانسپورٹ منصوبے تیار کرنے اور عوام کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
اس منصوبے کی 2006 کی مجوزہ سفارشات کے تحت تعمیر سے مذکورہ بالا مسائل سے بچنا ممکن ہے۔اورنج میٹرو لائن کا مجوزہ نقشہ شہر کی بربادی کا باعث بنے گا۔ قوم کو اس منصوبے کی تعمیر کا خمیازہ ایک طویل مدتی قرض کے ساتھ ساتھ بے گھر افراد، کاروبار اور روزگار کے خاتمے، صحت عامہ کے نقائص اور تاریخی ورثے کی تباہی کی صورت میں بھگتناپڑے گا۔ اس سب سے بڑھ کر یہ کہ اس قسم کے میٹرو منصوبے نہ تو لاہور کے ٹریفک مسائل حل کر پائیں گے اور نہ ہی لاہور کی زیادہ تر آبادی ان سے مستفید ہو سکے گی۔
ہم اس منصوبے پر فی الفور کام روکنے، تفصیلی جائزے کے انعقاد، منصوبے سے متعلق مسائل کے حل اور بہتر منصوبہ بندی کے تحت کام شروع کرنے کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں۔
References:
1 Lahore Metro: Green and Orange Lines, Pakistan. http://www.systra.com/IMG/pdf/metro_lahore_en.pdf
2 Lahore Orange Line Metro Train Project PC-1, April 2015, National Engineering Services Pakistan (Pvt.) Ltd
3 Ibid… with 1$ = 104 PKR
4 Transport Development in Asian Megacities, Shigeru Morichi, Surya Raj Acharya editors, Springer Books, 2013)
5 Lahore Orange Line Metro Train Project PC-1, April 2015, National Engineering Services Pakistan (Pvt.) Ltd
6 Urbanization effects on temperature trends of Lahore during 1950‐2007, International Journal of Climate Change Strategies and Management. http://www.emeraldinsight.com/doi/abs/10.1108/17568690910977483. * M. Ghous, K. Khalida, **A. Basit, ***J. Hassan, Temporal Analysis of Urbanization and Resulting Local Weather Change: A Case Study of Lahore, Punjab, Pakistan, Sci.Int.(Lahore),27(2), 1281-1287,2015.
7 Khalid Husnain, Orange Line project Land acquisition to impact routine life, commercial activities, Nov 1, 2015. http://www.dawn.com/news/1218898
8 Lahore Metro: Green and Orange Lines, Pakistan. http://www.systra.com/IMG/pdf/metro_lahore_en.pdf
9 ESTIMATES OF CHARGED EXPENDITURE AND DEMANDS FOR GRANTS (CURRENT EXPENDITURE) VOL – II (Fund No. PC21016 – PC13050) FOR 2015 – 2016