اورنج میٹرو ٹرین کی تعمیر کا موجودہ منصوبہ کس طرح لاہور کی آبادی، شناخت اور ورثے کو نقصان پہنچا رہا ہے، اس موضوع پر یہ تحریر “لاہور، میٹرو اور آپ” کے تعاون سے شائع کی جا رہی ہے۔
[/blockquote]
یہ دور لاہور اورلاہوریوں کے لیے دورِ ابتلاء ہے۔ اورنج میٹرو ٹرین منصوبہ اب تک لاہور کے سینکڑوں ہزاروں رہائشیوں کو ان کی رہائش گاہوں اور روزگار سے محروم کر چکا ہے۔ اس منصوبے کی تعمیر کی خاطر اب تک معذور بچوں کے سکول سمیت ہزاروں گھر، دکانیں، یتیم خانے، کلینک اور سکول گرائے جا چکے ہیں اور ملتان روڈ، پرانی انار کلی ، لکشمی چوک، میکلوڈ روڈ، شالامار روڈ، جی ٹی روڈ اور دیگر مقامات پر ہزاروں مزید رہائشی اور تجارتی عمارات اورنج ٹرین کے راستے میں آنے کی وجہ سے گرائے جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
پرانی انار کلی میں گھروں کی مسماری کا دلخراش منظر
بے گھر ہونے والے افراد میں بنگالی بلڈنگ، جین مندراور کپورتھلہ ہاوس میں مقیم مہاجر خاندان بھی شامل ہیں۔ بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ 1947 میں اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے یہ افراد 2016 میں اپنی ہی حکومت کے ہاتھوں بے گھر ہونے کا دکھ سہنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
حکم امتناعی کے باوجود کپور تھلہ میں مسماری کا عمل جاری
اورنج میٹرو ٹرین کے لیے تعمیرات کے باعث شالامار، بدھو دا آوا، گلابی باغ گیٹ وے اور جنرل پوسٹ آفس سمیت کئی تاریخی عبادت گاہیں بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہے، اورنج ٹرین کی تعمیر سے متاثر ہونے والی تاریخی عمارات اور مقامات کی تعداد 16 کے قریب ہے اور ان سب کو ملکی اور عالمی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ ان عبادت گاہوں میں سینٹ اینڈریوز چرچ، دی کیتھیڈرل چرچ آف دی ریزوریکشن اور موج دریا کا مزار(تعمیر شدہ 1591) بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بعض تاریخی مقامات صدیوں قدیم ہیں۔
چوبرجی کو درپیش خطرات اس ضمن میں ایک واضح مثال کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔ چوبرجی کی عمارت 1646 میں تعمیر کی گئی تھی اور اسے National Antiquities Act 1975 کے تحت تحفظ حاصل ہے لیکن اورنج میٹرو گزرگاہ کی تعمیر کی وجہ سے اسے شدید خطرات لاحق ہیں۔ میٹرو گزرگاہ کی بنیادیں کھڑی کرنے کے لیے کی گئی کھدائی کا چوبرجی سے فاصلہ صرف پچاس فٹ ہے۔ میٹرو کے لیے تعمیر کیا جانے والا پُل چوبرجی کی عمارت سے محض تیس فٹ کے فاصلے سے گزرے گا۔ چوبرجی کے قریب اس پُل کی اونچائی 36 فٹ ہو گی۔ تعمیرات کے دوران پیدا ہونے والا ارتعاش محفوظ حد سے دس گنا زیادہ ہے، جبکہ تعمیر کیا جانے والا پُل نہ صرف اس عمارت کے نظارے میں روکاوٹ بنے گا بلکہ اس پر سے گزرتی ریل سے پیدا ہونے والا ارتعاش چوبرجی کی عمارت کو شدیدنقصان پہنچانے کا باعث بنے گا۔
چوبرجی کے قریب تعمیر کا منظر، میٹرو ٹرین سے تاریخی عمارات کو شدید خطرہ ہے
لاہور کی تمدنی شناخت اس کی صدیوں پرانی تاریخی عمارات، باغات تہوار اور یہاں کے لوگوں کی جیتی جاگتی ثقافت ہے۔ لاہور کی یہ زندہ ثقافت یہاں کی آبادیوں، مزارات، مساجد، امام بارگاہوں، چرچوں، سکولوں، دکانوں اور ڈھابوں کے آس پاس سانس لیتی ہے۔ اورنج میٹرو ٹرین منصوبہ اس ثقافت کو لاہور کا ورثہ اور شناخت تسلیم کرنے سے گریزاں ہے، یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے کی خاطر رہائشی آبادیوں کو مسمار کیا جا رہا ہے، اور اس کے بدلے دیے جانے والے معاوضے کو (اگر معاوضہ دیا گیا) ایک آبادی کے اجڑنے کے غم کا متبادل قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک ایسا منصوبہ جو لاہور کی صرف 2.2 فی صد آابدی کو سہولت فراہم کرے گا، کے لیے ہزاروں افراد کو بے گھر کرنے اور انہیں ان کے روزگار سے محروم کرنے کے بہیمانہ عمل کو ترقی نہیں کہا جا سکتا۔
تعمیرات کے اس کنکریٹ جنگل کو ترقی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، ایک ایسا منصوبہ جو لاہور کی صرف 2.2 فی صد آابدی کو سہولت فراہم کرے گا، کے لیے ہزاروں افراد کو بے گھر کرنے اور انہیں ان کے روزگار سے محروم کرنے کے بہیمانہ عمل کو ترقی نہیں کہا جا سکتا۔ پرانی انار کلی میں اس منصوبے سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد دس ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ان نقصانات اور اس بڑے پیمانے پر لوگوں کے متاثر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ اورنج میٹرو ٹرین منصوبہ 2007 میں دو سالہ تحقیق کے بعد تجویز کیے گئے راستے اور ٹیکنالوجی کے مطابق تعمیر نہیں کیا جا رہا۔ اورنج ٹرین کی تعمیر کے لیے 2007 میں تشکیل دیے گئے منصوبے میں چوبرجی سے جی ٹی روڈ تک ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی کا استعمال تجویز کیا گیا تھا۔ اس ٹیکنالوجی کو اختیار کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کا مقصد چوبرجی سے جی ٹی روڈ تک کے راستے میں آنے والی آبادیوں، دکانوں، تاریخی عمارات اورمیکلوڈ روڈ جیسے مصروف تجارتی مرکز کو تباہی سے بچاناتھا۔ ہم موجودہ حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملتان روڈ پر زیب النساء کے مقبرے سے شالیمار تک کی ریل گزرگاہ سرنگ بنا کر تعمیر کرے اور آبادیوں سے باہر راستے پر پُل تعمیر کرے۔ سرنگ بنانے کی ٹیکنالوجی کے لیے درکار اضافی رقم بہت زیادہ نہیں ہو گی، کیوں کہ اس طرح موجودہ منصوبے کے مطابق تعمیرات کے لیے زمین خریدنے کے لیے درکار رقم بچائی جا سکتی ہے۔ سرنگ کی تعمیر کو موجودہ منصوبے کے مطابق پُل کی تعمیر کے مقابلے میں اس لیے بھی زیادہ موزوں قرار دیا جا سکتا ہے کیوں کہ سرنگ کی تعمیر کے باعث لاہور کے ثقافتی ورثے اور انسانی جانوں کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان سے بھی بچاو ممکن ہو گا۔
لیکن ابھی سب تباہ نہیں ہوا ہے، لیکن اگر یہ منصوبہ اسی رفتار اور اسی انداز سے جاری رہا تو ہم سب کچھ گنوا بیٹھیں گے۔ اس لیے پنجاب حکومت کی یہ دلیل کہ اس منصوبے کو اس لیے مکمل ہونے دیا جائے کیوں کہ تعمیراتی کام کا ایک بڑا حصہ مکمل ہو چکا ہے، مکمل طور پر مسترد کر دی جانی چاہیئے۔ اگر اس منصوبے کی تعمری نہ روکی گئی تو درج ذیل نقصانات لاہور اور لاہوریوں کو برداشت کرنا ہوں گے:
• لاہور کے ثقافتی ورثے سے مزین گزرگاہ ہمیشہ کے لیے تباہی کا شکار ہو جائے گی جہاں 11 تاریخی مقامات ایسے موجود ہیں جن کے تحفظ کے لیے عدالت سے حکم امتناعی جاری کیا جا چکا ہے۔ تاریخی مقامات کی اس تباہی سے لاہور ہمیشہ کے لیے اپنی ثقافتی اور تاریخی شناخت اور سیاحوں کی آمد سے ہونے والی اربوں روپے کی آمدنی سے محروم ہو جائے گا۔
• شہری علاقوں میں حرات کے جمع ہو جانے (Urban Heat Island Effect) کے باعث شہر کے درجہ حرارت میں ناقابل برداشت اضافہ ہو سکتا ہے، گنجان آباد علاقوں میں درجہ حرارت میں ہونے والا اضافہ بیماریوں میں اضافے کا باعث بنے گا۔
• منصوبے کی موجودہ شکل میں تعمیر کے باعث ایک مربوط ماس ٹرانزٹ سسٹم کی بجائے ایک ٹکڑوں میں بٹا غیر مربوط نظام آمدورفت وجود میں آئے گا جو مستقبل میں لاہور کی ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔ ایسے منصوبوں کی تعمیر کی وجہ سے لاہور کبھی بھی ایک ایسا شہر نہیں بن سکے گا جہاں ٹرانسپورٹ کی معیاری، موثر اور ضرورت کے مطابق سہولیات دستیاب ہوں۔
• پرانی انارکلی، میکلوڈ روڈ، لکشمی اور نکلسن روڈ پر مشتمل لاہور شہر کا ایک بڑا علاقہ خستہ حالی اور شکست و ریخت کا شکار ہو جائے گا۔ اس علاقے میں اورنج میٹرو ٹرین کی تعمری کے باعث جائیداد کی قیمتوں میں کمی ہو گی اور یوں یہ منصوبہ شہر کی تعمیر نو کی بجائے تخریب نو کاباعث بنے گا۔
• اس منصوبے کی تعمیر جاری رہنے سے ہزاروں مزید افراد اپنے گھروں اور روزگار سے محروم ہو جائیں گے۔
اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ لاہور کے قلب میں سے گزرنے والی اورنج ٹرین کی گزرگاہ کا 9کلومیٹر طویل ٹکڑا ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے تعمیر کیا جائے۔
منصوبے کی اس طرح تعمیر سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کو معقول مشاورت اور رہنمائی مہیا نہیں کی گئی۔ ایل ڈی اے اور دیگر سرکاری ادارے اس منصوبے کے لیے زمین کے حصول اور دیگر معاملات میں منافع خوری کر رہے ہیں جو لاہور کے غرباء اور وزیر اعلیٰ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث ہے۔ اس بناء پر لاہور کے شہری یہ درخواست کررہے ہیں کہ حکومت پنجاب اگر خود کو ایک جمہوری طور پر منتخب حکومت سمجھتی ہے تو لاہور میں بسنے والوں کے مطالبات کو سنے، عام شہریوں اور ماہرین کی پیش کردہ تجاویز پر غور کرے اور اس منصوبے کی مزید تعمیر سے پہلے عوام اور ماہرین سے کھل کر اور لگی لپٹی رکھے بغیر بات چیت کرے۔ جمہوریت کا مفہوم ہی یہ ہے کہ عام شہریوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کیا جائے خصوصاً ایسے منصوبوں سے متعلق فیصلے کرتے ہوئے جن سے عام لوگوں کی زندگیاں متاثر ہو رہی ہوں۔ لاہور کسی ایک حکم ران یا ایک سیاسی جماعت کا شہر نہیں اور نہ ہی اگلے انتخابات جیتنے کی خاطر اس کے مستقبل کو یوں داو پر لگایا جا سکتا ہے۔ ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے تعمیر ہی ان مسائل کا واحد حل ہے اور یہی طریقہ اختیار کرنے کی تجویز حکومت کی جانب سے رقم ادا کر کے کرائے گئے سروے میں بھی دی گئی ہے۔
اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ لاہور کے قلب میں سے گزرنے والی اورنج ٹرین کی گزرگاہ کا 9کلومیٹر طویل ٹکڑا ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے تعمیر کیا جائے۔ اس وقت دلی میں سترہ ٹنل بورنگ مشینیں زیر زمین کام کر رہی ہیں جب کہ حکومتِ پنجاب زمانہ حال کے تقاضوں کے مطابق عوام کی ضروریات اور امنگوں کا ساتھ دینے کے معاملے میں بہت پیچھے ہے۔ ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی کی بجائے کٹ اینڈ کور ٹیکنالوجی کا صرف اس لیے استعمال کہ اس کے ذریعے2018 کے انتخابات سے قبل اورنج ٹرین منصوبہ مکمل کر لیا جائے لاہور کے شہریوں کو منظور نہیں۔
لاہور لاہوریوں کا ہےاور لاہور کے شہری اپنے شہر کے ثقافتی ورثے اور شناخت کو قائم رکھنے کے خواہاں ہیں۔ اورنج میٹرو ٹرین کی تعمیر اور شہر کو ایک مربوط عوامی ٹرانزٹ نظام فراہم کرنے کے لیے لاہور کے تمدنی مزاج اور ثقافتی شناخت کو تسلیم کرنا اور اس کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک مربوط ٹرانزٹ سسٹم کی تعمیر تک موجودہ سڑکوں پر مزید بسیں چلا کر بھی ٹرانسپورٹ کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔
یہ چشم کشا دستاویز لاہور کے ثقافتی ورثے، آبادی اور شناخت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں کی تحقیق اور محنت کا نتیجہ ہے۔ اورنج لائن میٹرو منصوبے کے تباہ کن اثرات سے لاہور کو محفوظ بنانے کے لیے جدوجہد کرنے والے ان رضاکاروں کی جانب سے جاری کیے گئے اس وائٹ پیپر کو مفاد عامہ کی غرض سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔ ہم قارئین سے التماس کرتے ہیں کہ ان حقائق کو پڑھیے، سمجھیے اور پھر اورنج لائن میٹرو ٹرین کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیجیے۔ لاہور کا مستقبل ہمارے ہاتھوں میں ہے۔
[/blockquote]
پس منظر:
ایک کروڑ دس لاکھ نفوس پر مشتمل تاریخی شہر لاہور آبادی کے بے پناہ دباوکے باعث بے پناہ مسائل کا شکار ہے۔ اپنے باغات، تاریخی مقامات اور دورویہ سبزہ زارروں کے لیے معروف اس شہر کو اب بڑھتی ہوئی ٹریف اور آبادی کے لیے شہری سہولیات اور آمدورفت کے بہتر نظام کی ضرورت ہے۔ دستیاب سہولیات پر دباو کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2006 میں لاہور میں مختلف ذرائع سے سفر کرنے والوں کی روزانہ تعداد ایک کروڑ پینتیس لاکھ کے لگ بھگ ہو چکی تھی اور اس تعداد میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ لاہور واسیوں کی روزانہ آمدورفت کے لیے ایک جامع اور مربوط نظام کی ضرورت 1990 سے محسوس کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت پنجاب نے 2005 میں لاہور میں ایک تیزرفتار عوامی ٹرانزٹ نظام کی تعمیر کے لیے ایم وی اے ایشیا کے تعاون سے ایک تحقیق کا انعقاد کرایا تھا۔ اس تحقیقی مطالعے میں ایم وی اے نے چار بنیادی اور مربوط راستوں (گرین، اورنج، بلیو، پرپل) کی تعمیر کی تجویز پیش کی۔ ترجیحی بنیادوں پر تعمیر کیے جانے والے دو راستوں کی تعمیر کے لیے درکار لاگت اور آمدن کے بنیادی تخمینے بھی اس تحقیق کا حصہ تھے
اپنے باغات، تاریخی مقامات اور دورویہ سبزہ زارروں کے لیے معروف اس شہر کو اب بڑھتی ہوئی ٹریف اور آبادی کے لیے شہری سہولیات اور آمدورفت کے بہتر نظام کی ضرورت ہے۔
گرین میٹرو لائن منصوبہ، گجومتہ تا شاہدرہ 27 کلو میٹر طویل ریل گزرگاہ پر مشتمل تھا۔ اس راستے کا 15.5 کلومیٹر طویل راستہ پُل کی صورت میں جبکہ 11.5 کلومیٹر ٹکڑا زیرزمین تعمیر کیے جانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ گرین میٹرو لائن منصوبے کے تحت روزانہ 380،00 مسافروں کو سفر کی سہولیات فراہم کی جانی تھیں۔ تاہم (مسلم لیگ نواز کی حکومت نے)اسے زیرزمین ٹرین کی بجائے مکمل طور پر پُل اور سطح زمین پر چلنے والی بسوں کے منصوبے میں بدل دیا۔ اس تبدیلی کی وجہ سے داتا دربار، بادشاہی مسجد، گورنمنٹ کالج اور کربلا گامے شاہ جیسے تاریخی مقامات کابیرونی منظر تعمیرات کی نذر ہو گیا۔ اس منصوبے کی تعمیر سے پیدل سڑک پار کرنے والوں کے لیے راستہ پُرخطر ہوا ہے، ٹریف بد نظمی کا شکار ہوئی ہے اور ٹریفک کے ایک جگہ ارتکاز کی وجہ سے صوتی آلودگی، دھوئیں کی بہتات اور جائیداد کی قیمتوں میں کمی جیسے مسائل بھی سر اٹھانے لگے ہیں۔ ٹرین کی بجائے بسوں کے استعمال کی وجہ سے اس منصوبے کی استعداد 60،000 ہزار مسافی فی گھنٹہ سے کم ہو 25000 ہزار مسافر فی گھنٹہ ہو گئی ہے۔ اس تبدیلی کے باعث پورے شہر کے اہم مقامات کو ملانے والے ایک مربوط اور جامع نظامِ آمدورفت کی تعمیر کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔
اورنج میٹرو لائن کا 27 کلومیٹر طویل راستہ علی ٹاون سے شروع ہو کر ڈیرہ گجراں تک تعمیر کیا جانا ہے۔ 2006 میں کیے جانے والے تحقیقی مطالعے کے تحت اس کا 20 کلومیٹر حصہ پُل کی صورت میں جبکہ تاریخی مقامات اور آبادیوں کے قریب سے گزرنے والا راستہ نقصان کی شدت کم کرنے کے لیے زیرِزمین تعمیر کیا جانا تھا۔ تاہم اب اس منصوبے کا نقشہ بھی تبدیل کر دیاگیا ہے۔
ترمیم شدہ منصوبے کے تحت 7 کلومیٹر طویل سرنگ کی بجائے اس راستے کا محض.7 1 کلومیٹر حصہ جزوی طور پر زیر زمین تعمیر کیا جائے گا)لاگت کم کرنے کے لیے اس مقصد کے لیے انڈرکٹ اینڈکور ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی) جبکہ بقیہ 25.4 کلومیٹر طویل راستہ بذریعہ پُل طے کیا جائے گا۔ منصوبے میں ان غیر دانشمندانہ ترامیم کی وجہ سے چوبرجی جیسی تاریخی عمارات کو شکست و ریخت کے خطرے کا سامنا ہے، گلابی باغ جیسے مقامات کے پس منظر میں چلے جانے کا اندیشہ ہے اور کپورتھلہ اور پیراشوٹ کالونی جیسی قدیم آبادیاں نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گی۔ اس منصوبے کی زد میں آنے والی عمارات میں موج دریا جیسے مزارات اور سینٹ اینڈریوز چرچ نابھا روڈ جیسی اقلیتی عباد گاہیں بھی شامل ہیں۔ منصوبے میں کی گئی ترامیم کی وجہ سے اس کی افادیت بھی کم ہو کر 25000 تا 30000 مسافر فی گھنٹہ رہ جائے گی۔ اس منصوبے کی تکمیل کا عرصہ جولائی 2015 تا ستمبر 2017 متعین کیا گیا ہے۔ درج ذیل سرکاری ادارے بھی اس منصوبے میں شریک ہیں:
اورنج لائن میٹرو کا ترمیم شدہ مسودہ
اس منصوبے کی تعمیر سے پیدل سڑک پار کرنے والوں کے لیے راستہ پُرخطر ہوا ہے، ٹریفک بد نظمی کا شکار ہوئی ہے اور ٹریفک کے ایک جگہ ارتکاز کی وجہ سے صوتی آلودگی، دھوئیں کی بہتات اور جائیداد کی قیمتوں میں کمی جیسے مسائل بھی سر اٹھانے لگے ہیں۔
نیس پاک نے اس راستے کا پی سی ون (پلاننگ کمیشن فارم نمبر 1) تیار کیا۔ اس فارم کی جانچ پڑتال پنجاب میٹروبس اتھارٹی نے کی اور سیکرٹری ایچ یو ڈی اینڈ پی ایچ ای، سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور چیئر مین پی اینڈ ڈی نے اس کی منظوری دی۔ اس منصوبے کی لاگت سرکاری طور پر 170.5 ارب روپے (1.64ارب ڈالر( بتائی گئی ہے جبکہ اس کے لیے درکار فنڈز 182 ارب روپے (1.75ارب ڈالر) ہیں3۔
پرپل لائن: 19 کلومیٹر طویل یہ مجوزہ منصوبہ داتا دربار سے لاہور ائرپورٹ تک تعمیر کیا جانا ہے۔ اس راستے کے ذریعے داتا دربار، ریلوے سٹیشن، گڑھی شاہو، باغبانپورہ اور ائرپورٹ کو آپس میں ملایا جائے گا۔
بلیو لائن: 24 کلومیٹر طویل یہ راستہ جناح ہال سے گرین ٹاون تک تعمیر کرنے کی سفارش کی گئی ہے جس کے ذریعے میانی صاحب، لاہور کالج، کنیرڈ کالج، علامہ اقبال میڈیکل کالج، کلمہ انٹرچینج، برکت مارکیٹ اور ٹاون شپ جیسے علاقے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جائیں گے۔
ترمیم شدہ اورنج لائن منصوبے سے وابستہ مسائل
لاگت کا موازنہ:
لاہور میٹرو منصوبے پر چھ کروڑ پانچ ہزار ایک سو ڈالر(60.51ملین ڈالر) فی کلومیٹر خرچ آئے گا جبکہ جکارتہ میں بننے والے میٹرو ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم پر پچھتر لاکھ ڈالر فی کلومیٹر4 (7.5ملین ڈالر) لاگت صرف کی گئی تھی۔
اعلانیہ لاگت اور اصل لاگت میں فرق
اورنج لائن کی تعمیر کے لیے سرکاری طور پر اعلان کیے جانے والی لاگت میں قرض پر ادا کیا جانے والا سود، زمین خریدنے کی لاگت، منصوبے کی زد میں آنے والی سرکاری عمارات کی تعمیر و مرمت اور عوامی مقامات کے تصرف کی لاگت شامل نہیں ہے۔
اورنج لائن کی تعمیر کے لیے سرکاری طور پر اعلان کیے جانے والی لاگت میں قرض پر ادا کیا جانے والا سود، زمین خریدنے کی لاگت، منصوبے کی زد میں آنے والی سرکاری عمارات کی تعمیر و مرمت اور عوامی مقامات کے تصرف کی لاگت شامل نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے بیان کر دہ لاگت میں شہری سہولیات کی منتقلی جیسے بجلی، پانی، نکاسی آب کی لائنوں کی منتقلی کے اخراجات بھی شامل نہیں کیے گئے۔ اورنج لائن کی تعمیرات کے باعث پس منظر میں چلے جانے والے تاریخی مقامات سے سیاحت کی صنعت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، سیروسیاحت کی صنعت کو ہونے والے یہ نقصانات بھی اس میزانیے کا حصہ نہیں ہیں۔ زیرزمین حصے کے گرد موجود عمارات کو مستحکم کرنے پر اٹھنے والے اخراجات اور آبادیوں کی نقل مکانی سے پہنچنے والے سماجی نقصانات کو بھی اس لاگت میں شامل نہیں کیا گیا۔
بلند اور متغیر شرح سود
اس منصوبے کے لیے چین سے 166.4ارب روپے یعنی 1.6ارب ڈالر قرض 3 فیصد سالانہ شرح سود پر قرض حاصل کیا جائے گا۔ یہ قرض 20 سال کی مدت کے لیے لیا جائے گا۔ چینی کمپنی NORINCO اس منصوبے کے لیے ریل گاڑیاں اور دیگر متعلقہ سازوسامان مہیا کرے گی جس پر 104 ارب روپے یعنی ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ رقم خرچ ہو گی۔ تعمیرات کا کام مقامی ٹھیکیداروں کی مدد سے کیا جائے گا جس پر 62.4اب روپے یعنی 0.6ارب ڈالر خرچ آئے گا۔ منصوبے میں شریک تمام اداروں کی چینی حکومت براہ راست ادائیگیاں کرے گی۔ اس قرض پر سود کی مد میں3 فی صد سالانہ کی شرح سے پہلے برس 5.48ارب روپے (52.76ملین ڈالر) جبکہ بعدازاں2.4 فی صد کی شرح سے 4.38ارب روپے (42.21ملین ڈالر) ادا کیے جائیں گے5۔
ماحول پر منفی اثرات
اس منصوبے کے ماحول پر بے حد شدید اثرات مرتب ہوں گے۔ شہری علاقوں میں شور اور درجہ حرارت میں اضافہ ہوگا۔ ماحولیاتی گرماو اور شہری علاقوں میں حرارت کے محبوس ہونے (urban Heat Island Effect) کی وجہ سے لاہور کے درجہ حرارت میں 6 سے 8 درجے سینٹی گریڈ اضافے کا خدشہ ہے۔ اس منصوبے کی تعمیر کے نتیجے میں درختوں کی کٹائی اور کھلی جگہوں پر کنکریٹ کی تعمیرات سے ان منفی اور مضر ماحولیاتی اثرات کی شدت میں اضافہ ہوگا6۔
صحت عامہ کے مسائل
۔ اس منصوبے کی تعمیر کے نتیجے میں درختوں کی کٹائی اور کھلی جگہوں پر کنکریٹ کی تعمیرات سے ان منفی اور مضر ماحولیاتی اثرات کی شدت میں اضافہ ہوگا
اس منصوبے کے نتیجے میں لاہوریوں کی صحت پر مرتب ہونے والے فوری اور دور رس اثرات کا درست اندازہ تاحال نہیں لگایا گیا۔ گزشتہ برس کراچی میں ہم شہر میں حرارت کے محبوس ہو جانے سے ہونے والی اموات کی ایک بھیانک مثال دیکھ چکے ہیں۔ اگر اس منصوبے کی تعمیر سے پہلے صحت عامہ پر اثرات کا مکمل جائزہ نہ لیا گیا تو لاہور میں بھی ایسی صورت حال پیش آ سکتی ہے۔ اورنج لائن جیسے منصوبوں کی تعمیر کے نتیجے میں پُلوں کے نیچے کاربن مونو آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائڈ اور دھاتی ذرات سے لبریز ہوا ٹھہر کر اکٹھی ہو جاتی ہے ، یہ آلودہ ہوا کینسر کا باعث بنتی ہے۔ ایسی ہوا میں زیادہ دیر سانس لینے سے انسانی ڈی این اے کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آلودگی کی یہ خطرناک ترین صورت انسانی خون میں شامل ہو کر پھیپھڑوں کو متاثر کر تی ہے اور امراض قلب کا باعث بنتی ہے۔ 9 یورپی ممالک کے 312,944 افراد پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق اس آلودگی کی قلیل مقدار بھی خطرناک نتائج مرتب کر سکتی ہے۔ اس قسم کی آلودگی میں معمولی اضافہ بھی کینسر میں مبتلا ہونے کے امکاننات بڑھا دیتا ہے۔ لاہور میں فضائی آلودگی کا تناسب پہلے ہی عالمی معیارات سے بے حد زیادہ ہے، اورنج لائن جیسے منصوبوں کی بے دریغ تعمیر صحت عامہ کی صورت حال کو مزید مخدوش بناسکتی ہے۔
میٹرو منصوبے سے شہر کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو گا
تاریخی مقامات کو لاحق خطرات
شالامار باغ، چوبرجی، لکشمی اور موج دریا جیسے 25 کے قریب تاریخی مقامات اس منصوبے کی زد میں آکر منہدم کیے جانے یا متاثر ہونے کے خدشے سے دوچار ہیں۔ یہ مقامات تاریخی ورثہ قرار دیئے گئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ان کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کنونشن برائے عالمی ورثہ، نیشنل ایکویٹیز ایکٹ اور پنجاب سپیشل پرمیسز آردیننس جیسے عالمی اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی سے بھی گریزاں نہیں۔ زیرزمین راستے کے گرد موجود عمارات کے استحکام اور بنیادوں کو مضبوط کرنے کا معاملہ منصوبے کی تیاری اور لاگت کے تخمینے میں سرے سے شامل ہی نہیں کیا گیا۔ مغل عہد کی بہت سی یادگاریں اس منصوبے کی تعمیرات کے پس منظر میں چھپ جائیں گی اور ان کی خوبصورتی اور شان و شوکت ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہو جائے گا۔
چوبرجی کے قریب کھدائی اور تعمیر کا کام جاری ہے
منصوے سے بے گھر ہونے والے افراد
شالامار باغ، چوبرجی، لکشمی اور موج دریا جیسے 25 کے قریب تاریخی مقامات اس منصوبے کی زد میں آکر منہدم کیے جانے یا متاثر ہونے کے خدشے سے دوچار ہیں۔
سرکاری تخمینے کے مطابق اورنج منصوبے کے لیے 1000-1200 کنال زمین خریدی جائے گی۔ زمین کے حصول، معاوضے کے تعین اور بروقت ادائیگی کے سلسلے میں واضح طریق کار کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے گھر ہو جائیں گے۔ اورنج لائن شہر کے گنجان ترین علاقوں جہاں اعدادوشمار کے مطابق 9000 سے 31000 افراد فی مربع کلومیٹر رہائش پذیر ہیں، سے ہو کر گزرے گی۔ صرف پرانی انار کلی میں واقع کپور تھلہ ہاوس (جہاں اس منصوبے کے 26 میں سے ایک سٹیشن کی تعمیر کی جائے گی) میں ہی 2700 ووٹرز رہائش پذیر ہیں اور ہر خاندان اوسطاً 8 افراد پر مشتمل ہے۔
ذرائع روزگار اور کاروباری مراکز کی تباہی
اس منصوبے کی وجہ سے ہزاروں خوانچہ فروش، ٹھیلے والے، چھوٹے دکاندار اور کاروبار متاثر ہوں گے۔ چوبرجی چوک، جین مندر، لکشمی اور شالامار جیسے مصروف تجارتی علاقوں میں پلازے اور دکانیں بھی اورنج لائن کی زد میں آ جائیں گے۔ ان دکانوں کے ملازمین اور چھوٹے موٹے کاروبار چلانے والے ہزاروں افراد منصوبے کے نتیجے میں پہنچنے والے نقصان کی تلافی کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
ڈیرہ گجراں میں دکانوں کے انہدام کا عمل جاری ہے
شہری اور عوامی مقامات کی تباہی
منصوبے کے راستے میں آنے والی آبادیاں کھیل کے کئی میدانوں، سکولوں، مساجد، ہسپتالوں اور کلینکوں سے محروم ہو جائیں گی۔ شمالی لاہور کے 200 خاندانوں کے معذور بچوں کو تدریس کی سہولیات فراہم کرنے والا خصوصی بچوں کا سکول بھی گرائے جانے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔
ضابطہ کار کی خلاف ورزی اورانتظامیاں بے قاعدگیاں
پی سی ون میں منصوبے کی لاگت کم کرنے کے لیے کی گئی دانستہ بے ضابطگیاں (جن کا بیان اوپر کیا جا چکا ہے) اس منصوبے کی شفافیت پر سوال اٹھاتی ہیں۔ منصوبے کے پی سی ون میں کئی ضروری اخراجات شامل نہیں کیے گئے۔ سرکاری سطح پر 166.4ارب روپے کے قرض اور سالانہ بجٹ میں مختص کیے گئے 10 ارب روپے کے علاوہ بقیہ اخراجات تاحال عوام کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔
منصوبے کے راستے میں آنے والی آبادیاں کھیل کے کئی میدانوں، سکولوں، مساجد، ہسپتالوں اور کلینکوں سے محروم ہو جائیں گی۔ شمالی لاہور کے 200 خاندانوں کے معذور بچوں کو تدریس کی سہولیات فراہم کرنے والا خصوصی بچوں کا سکول بھی گرائے جانے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔
2007 میں سِسٹرا کے ذریعے کرائے گئے ایک تحقیقی مطالعے میں گنجان آباد علاقوں اور تاریخی مقامات کے قریب (گلبرگ تا جی ٹی روڈ) سطح زمین پر آبادیوں اور تاریخی مقامات کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے سات کلومیٹر طویل زیرزمین سرنگ تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اس مطالعے کو بنیاد پر تعمیر شروع کرنے کے باوجود حکومت نے سرنگ کی بجائے نسبتاً سستی ٹیکنالوجی (کٹ اینڈ کور) استعمال کر کے صرف 1.7 کلومیٹر طویل حصہ زیر زمین تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بقیہ راستہ خصوصی طور پر تعمیر کیے گئے پُل کے ذریعے طے کیا جائے گا۔ یہ پُل بعض مقامات پر 26 فٹ(دو منزلہ عمارت) سے لے کر 59 فٹ(چھ منزلہ عمارت) بلندی پر تعمیر کیا جائے گا۔ چلتی ٹرین کے مسافروں کی تاک جھانک کی وجہ سے گردونوح کی شہری آبادیوں کی نجی زندگی میں خلل آنے اور جائیداد کی قیمتیں گرنے کا اندیشہ ہے۔ ماحولیاتی اثرات کے تخمینے میں ان امور کو شامل نہیں کیا گیا جو ایک صریح بے قاعدگی ہے۔ اس پُل کی تعمیر سے اس منصوبے کے عملی پہلووں پر شکوک و شبہات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ قرض کے حصول اور تعمیرات کے آغاز میں بھی بے ضابطگیاں کی گئی ہیں۔ منصوبے کے لیے کام کا آغاز 25 اکتوبر کو کیا گیا تھا لیکن قرض کے حصول کے معاہدے پر 21 دسمبر 2015 کو دستخط کیے گئے۔ اس دوران حکومت پنجاب نے پنجاب بنک کے ذریعے 6 ارب روپے ٹھیکیداروں کو کام کا آغاز کرنے کے لیے فراہم کیے ہیں۔
میٹرو منصوبے سے نجی زندگی میں مداخلت کے اسباب مہیا ہوئے ہیں
منصوبے کی سرکاری تشہیر کے برعکس زمینی صورت حال یہ ہے کہ متاثرہ آبادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور لینڈ ایکیوزیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں ان کے مکانات کے گرائے جانے کے فیصلے سے متعلق کوئی نوٹس جاری نہیں کیے گئے۔ نوٹس جاری نہ کیے جانے کی وجہ سے متوقع متاثرین عدالت سے رجوع کا حق بھی نہیں رکھتے جو ان کے بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ منصوبے کے راستے میں پڑنے والی آبادیوں میں مقیم افراد کو اپنے مکانات کے منصوبے کی زد میں آنے سے متعلق تب پتہ چلتا ہے جب سروے اہلکاران ان کی عمارتوں کو نشان زد کرتے ہیں۔
قانونی مسائل
لینڈ ایکیوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت حکومت شہریوں کی املاک صرف اس صورت میں ان سے خریدنے کی مجاز ہے جب ایسا کیا جانا ناگزیر ہو۔ خریدے جانے کی صورت میں یہ قانون متاثرہ افراد کو قانونی چارہ جوئی کا حق استعمال کرنے کی ضمانت دیتا ہے جو ان کا قانونی اور انسانی حق ہے۔ عدالتی چارہ جوئی میں ناکامی پر ریاست متاثرہ افراد کو ان کے نقصان کا جائز اورمعقول معاوضہ دینے کی پابند ہے۔
حکومت شالامار باغ کے قریب تعمیرات میں حکومت کنونشن برائے عالمی ورثہ کی شق نمبر 11، نیشنل ایکویٹیز ایکٹ 1975اور پنجاب سپیشل پرمیسز آرڈیننس 1975کی خلاف ورزی بھی کر رہی ہے۔ اس تعمیر کے باعث لاہور قلعے اور شالامار باغ دونوں کا تاریخی ورثے کی عالمی فہرست سے اخراج کا امکان ہے۔ حکومت کی جانب سے منصوبے کی تفصیلات عام نہ کیا جانا ایک غیر جمہوری اقدام اور شفافیت اور معلومات تک رسائی کے 2013 کے قانون کی خلاف ورزی بھی ہے۔
معاشی غیر یقینی اور ترقیاتی ترجیحات
منصوبے کی سرکاری تشہیر کے برعکس زمینی صورت حال یہ ہے کہ متاثرہ آبادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور لینڈ ایکیوزیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں ان کے مکانات کے گرائے جانے کے فیصلے سے متعلق کوئی نوٹس جاری نہیں کیے گئے۔
میٹرو اتھارٹی کے مطابق لاہور میٹرو بس کو روزانہ چالیس لاکھ جبکہ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق روزانہ پینسٹھ لاکھ ستر ہزار روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ حکومت اب تک (2013-14) کے دوران 2.4ارب روپے کی سبسڈی دے چکی ہے۔ 2014-15 کے بجٹ میں اس سبسڈی کے لیے 2 ارب روپے جبکہ 2015-16 کے بجٹ میں اس مقصد کے لیے 3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سبسڈی دینے کی یہ شرط اگلے پچاس برس تک کے لیے رکھی گئی ہے۔ حکومت یا ترقیاتی ترجیحات بدلنے کی صورت میں اس منصوبے کا مستقبل غیر یقنی کا شکار ہے۔ اس ضمن میں اس امر کا خیال بھی نہیں رکھا گیا کہ لاہور میں آمدورفت کے برق رفتار منصوبوں کی تعمیر اور دیکھ بھال کے عوض باقی پورے صوبے میں صحت اور تعلیم کی سہولیات کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ سبسڈی کی رقم 2007 میں سِسٹرا سفارشات سے دگنی ہو چکی ہے جو باعث تشویش ہے۔
سفری ذرائع کی ترقی کے لیے بلا خلل آمدورفت کے لیے ایک جانب اشاروں کا خاتمہ کیا جارہا ہے اور دوسری جانب عوامی آمدورفت کے (میٹرو ) جیسے منصوبے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ متضاد نوعیت کے حامل ان منصوبوں کی بیک وقت تعمیر بھی بحث طلب معاملہ ہے۔ ایک جانب حکومت عام آدمی کو سستی سفری سہولیات مہیا کرنے کے بڑے منصوبے تعمیر کر رہی ہے اور دوسری جانب ذاتی گاڑیوں پر انحصار کم کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کر رہی اج کی وجہ سے ٹریف کے مسائل حل ہونے کا امکان مزید کم ہو جاتا ہے۔
پنجاب کے ترقیاتی بجٹ کی شرمناک تقسیم
ترقیاتی ترجیحات
اورنج میٹرو لائن جیسے منصوبوں کی تعمیر کے پیچھے موجودہ اور گزشتہ حکومتوں کی ترقیاتی ترجیحات پر بہت سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ تعلیم، صحت، پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کے مواقع میں اضافے کے ذریعے انسانی وسائل کی ترقی کا خاطر خواہ انتظام کیے بغیر اس قسم کے ترقیاتی منصوبے سودمند ثابت نہیں ہو سکتے۔ ناہمور اور غیر مساوی ترقی کا یہ عمل مزید مسائل کا باعث بن رہاہے۔ پنجاب کے کل ترقیاتی بجٹ کا ایک بڑا حصہ (158 ارب روپے) محض تعمیرات کے لیے مخصوص ہے جبکہ تعلیم کے لیے محض 44 ارب اور صحت کے لیے 20.7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
نتائج، تجاویز اور سفارشات
قوم کو اس منصوبے کی تعمیر کا خمیازہ ایک طویل مدتی قرض کے ساتھ ساتھ بے گھر افراد، کاروبار اور روزگار کے خاتمے، صحت عامہ کے نقائص اور تاریخی ورثے کی تباہی کی صورت میں بھگتنا پڑے گا ۔
لاہور میں سبک رفتار عوامی ٹرانسپورٹ کی ضرورت سے انکار نہیں لیکن اس کے لیے تیار کیے جانے والے منصوبوں پید ل چلنے والوں سے لے کر سائیکل سواروں اور موٹر والوں؛ غرض سب کی سہولت اور ضرورت کو مدنظر رکھا جانا چاہیئے۔ لاہور میں آمدو رفت کے بہتر ذرائع کی فراہمی کے لیے ٹریف کے بہتر انتظام، فٹ پاتھوں کی تعمیر اور بسوں کی فراہمی سمیت تمام پہلووں پر کام کیاجانا چاہیئے۔ دستیاب ذرائع آمدورفت اور سفری سہولیات کے ساتھ مربوط ماس ٹرانزٹ سسٹم کی تعمیر ایک دیرپا اور سودمند حل ہے جس کی تعمیر کے دوران زیر زمین سرنگوں سے نقصان کو کم کرتے ہوئے شہر کے مزاج اور تاریخی شناخت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ حکومت کو لاہور کے لیے ایک جامع ٹرانسپورٹ منصوبے تیار کرنے اور عوام کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
اس منصوبے کی 2006 کی مجوزہ سفارشات کے تحت تعمیر سے مذکورہ بالا مسائل سے بچنا ممکن ہے۔اورنج میٹرو لائن کا مجوزہ نقشہ شہر کی بربادی کا باعث بنے گا۔ قوم کو اس منصوبے کی تعمیر کا خمیازہ ایک طویل مدتی قرض کے ساتھ ساتھ بے گھر افراد، کاروبار اور روزگار کے خاتمے، صحت عامہ کے نقائص اور تاریخی ورثے کی تباہی کی صورت میں بھگتناپڑے گا۔ اس سب سے بڑھ کر یہ کہ اس قسم کے میٹرو منصوبے نہ تو لاہور کے ٹریفک مسائل حل کر پائیں گے اور نہ ہی لاہور کی زیادہ تر آبادی ان سے مستفید ہو سکے گی۔
ہم اس منصوبے پر فی الفور کام روکنے، تفصیلی جائزے کے انعقاد، منصوبے سے متعلق مسائل کے حل اور بہتر منصوبہ بندی کے تحت کام شروع کرنے کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں۔
References:
1 Lahore Metro: Green and Orange Lines, Pakistan. http://www.systra.com/IMG/pdf/metro_lahore_en.pdf
2 Lahore Orange Line Metro Train Project PC-1, April 2015, National Engineering Services Pakistan (Pvt.) Ltd
3 Ibid… with 1$ = 104 PKR
4 Transport Development in Asian Megacities, Shigeru Morichi, Surya Raj Acharya editors, Springer Books, 2013)
5 Lahore Orange Line Metro Train Project PC-1, April 2015, National Engineering Services Pakistan (Pvt.) Ltd
6 Urbanization effects on temperature trends of Lahore during 1950‐2007, International Journal of Climate Change Strategies and Management. http://www.emeraldinsight.com/doi/abs/10.1108/17568690910977483. * M. Ghous, K. Khalida, **A. Basit, ***J. Hassan, Temporal Analysis of Urbanization and Resulting Local Weather Change: A Case Study of Lahore, Punjab, Pakistan, Sci.Int.(Lahore),27(2), 1281-1287,2015.
7 Khalid Husnain, Orange Line project Land acquisition to impact routine life, commercial activities, Nov 1, 2015. http://www.dawn.com/news/1218898
8 Lahore Metro: Green and Orange Lines, Pakistan. http://www.systra.com/IMG/pdf/metro_lahore_en.pdf
9 ESTIMATES OF CHARGED EXPENDITURE AND DEMANDS FOR GRANTS (CURRENT EXPENDITURE) VOL – II (Fund No. PC21016 – PC13050) FOR 2015 – 2016