Categories
نقطۂ نظر

ہم ملالہ کیوں نہیں ہیں؟

یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان میں تعلیم، خواتین کے حقوق اور انسانی آزادیوں کے لیے جدوجہد کرنے اور تبدیلی لانے کے لیے اپنی زندگی وقف کرنا اور نوبل انعام حاصل کرنا کافی نہیں۔ گزشتہ برس 10 نومبر کو آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے “میں ملالہ نہیں ہوں” دن منایا تھا۔ اس برس ایسوسی ایشن کی جانب سے “میں ملالہ نہیں ہوں” کتاب شائع کی گئی ہے۔ کتاب کی تقریب رونمائی اسلام آباد میں ہوئی جس میں کتاب کے مصنف اور آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے سربراہ کاشف عباسی نے اسے ملالہ یوسف زئی کی کتاب “میں ملالہ ہوں” کا جواب قرار دیا۔ ان کے خیال میں یہ کتاب ملالہ یوسف زئی کے ذریعے ‘مسلط کیے جانے والے مغربی ایجنڈے’ کی نقد ہے۔

 

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن عطیہ رضوی کے مطابق یہ رویہ عورت مخالف بھی ہے اور رجعت پسند بھی۔ “ملالہ کو تسلیم نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا معاشرہ عورت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی اپنے نظریاتی تضاد سے واقف ہے۔” ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملالہ کو رد کرنا ترقی پسند بیانیے کو رد کرنا ہے اور ہماری خود پسندی اور نرگسیت کو تقویت پہنچانے کے مترادف ہے کیوں کہ ہم “کسی ایسی آزاد اور خود مختار عورت کو جو ہمارے قدامت پسند خول میں دراڑ ڈال سکتی ہو کے خلاف ہو تسلیم نہیں کرنا چاہتے”۔

 

ملالہ کو رد کرنا ترقی پسند بیانیے کو رد کرنا ہے اور ہماری خود پسندی اور نرگسیت کو تقویت پہنچانے کے مترادف ہیں کیوں کہ ہم “کسی ایسی آزاد اور خود مختار عورت کو جو ہمارے قدامت پسند خول میں دراڑ ڈال سکتی ہو کے خلاف ہو تسلیم نہیں کرنا چاہتے”۔
آزاد اور خود مختار عورت کو جو ہمارے قدامت پسند خول میں دراڑ ڈال سکتی ہو کے خلاف ہو تسلیم نہیں کرنا چاہتے”۔
ملالہ یوسف زئی کی یادداشتیں اکتوبر 2013 میںشائع کی گئی تھیں۔ کاشف عباسی کے مطابق “میں ملالہ نہیں ہوں” ان ‘بچوں کا بیانیہ ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ ملالہ نہیں ہیں کیوں کہ وہ ایک پاکستانی اور ایک مسلمان ہیں’۔ کاشف عباسی کے مطابق ملالہ کی یادداشتوں میں ایسا مواد موجود ہے جو پاکستان اور پاکستان کی اسلامی پہچان کے خلاف ہے۔ ماہر تعلیم سلیم سرور اس نقطہ نظر سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ “ملالہ ہونا یا ملالہ کے نقطہ نظر سے متفق ہونا کسی بھی طرح پاکستان یا اسلام مخالف ہونا نہیں۔” ان کے نزدیک “پاکستان یا اسلام مخالف” ہونے کا نقطہ نظر غیر منطقی ہے، “اصل بحث یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسی لڑکی ایک ایسی عورت یا ایک ایسے انسان کو قبول کرنے کو تیار ہیں جو ہماری حالت بدلنے کے لیے ہمیں ہماری خامیوں کا احساس دلا رہا ہے۔”

 

تعلیمی اداروں میں تعلیم کے لیے کام کرنے والی ملالہ یوسف زئی کے خلاف جذبات کیوں پائے جاتے ہیں، عطیہ رضوی کے مطابق اس کی وجوہ بے حد پیچیدہ ہیں لیکن یہ امر اسی قدر تشویش ناک ہے جس قدر طالبان فکر،”طالبان کی مذمت کی بجائے طالبان کے ظلم کا شکار ہونے والی ملالہ کی مخالفت یہ بتاتی ہے کہ ہمارا معاشرہ ابھی تک طالبان کو اپنے دشمن کے طور پر دیکھنے کو تیار نہیں، جو بے حد خطرناک ہے۔”بچیوں کی تعلیم کے لئے کام کرنے والی ملالہ یوسف زئی کو پاکستان میں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ملالہ کو گزشہ برس نوبل امن انعام کا حقدار قرار دیا گیا تھا تاہم پاکستان میں سرکاری سطح پر ملالہ کے اعزاز میں کوئی تقریب منعقد نہیں کی گئی۔ اس سے قبل آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے اپنے عہدیداران کو ملالہ کی کتاب خریدنے سے روک دیا تھا۔
Categories
نقطۂ نظر

تعلیم کے لیے آخری جدوجہد

(اوسلو ناروے میں نوبل انعام تقسیم کرنے کی تقریب کے دوران بچوں کی تعلیم کے لیے سرگرم ملالہ یوسف زئی کی تقریر کا اردو ترجمہ لالٹین قارئین کی نذر کیا جارہا ہے۔ ملالہ یوسف زئی کا تعلق سوات پاکستان سے ہے جنہیں 2012میں طالبان نے قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ تعلیم اور خواتین کے حقوق کے لیے کوششوں کے باعث ملالہ یوسف زئی کو انسانی حقوق کے ہندوستانی کارکن کیلاش ستیارتھی کے ساتھ 2014 کے امن نوبل انعام کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شاہی خاندان کے معززاراکین، نارویجین نوبل کمیٹی کے محترم اراکین ،عزیز بہنو اور بھائیو آج کا دن میرے لیے بے حد خوشی کا باعث ہے۔ مجھ عاجز و ناکس کو اس اعزاز کااہل قرار دینے پر میں نوبل کمیٹی کی شکر گزار ہوں۔

آپ سب کی مستقل محبت اورمسلسل تعاون پرمیں آپ سب کابھی شکریہ ادا کرتی ہوں۔دنیا بھر سے موصول ہونے والے تہنیتی پیغامات اور خطوط پر میں آپ سب کی ممنون ہوں۔آپ کے مہربان اور حوصلہ افزا الفاظ میری ہمت بندھاتے ہیں۔

میں اپنے والدین کی غیر مشروط محبت پر ان کی احسان مند ہوں، میں اپنے والد کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میرے پر نہیں کترے اور مجھے اڑنے کی آزادی دی۔میں اپنی والدہ کی ممنون ہوں جن سے مجھے اسلام کے حقیقی پیغام صبر، تحمل اورحق گوئی کا درس ملا۔

مجھے امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی پہلی پشتون، پہلی پاکستانی اور کم عمر ترین فرد ہونے پر فخر ہے۔مجھے یقین ہے کہ میں وہ واحد نوبل انعام یافتہ ہوں جو ابھی بھی اپنے چھوٹے بھائیوں سے لڑتی جھگڑتی ہے۔میں ہر جگہ امن چاہتی ہوں مگر اپنے بھائیوں کے ساتھ نوک جھونک پر قابو نہیں پا سکی۔

میرے لیے بچوں کے حقوق کے لیے جدوجہد میں کئی برس سے مصروف انسانی حقوق کے معروف کارکن کیلاش ستیارتھی کے ساتھ یہ انعام وصول کرنا اعزااز کی بات ہے۔ان کی جدوجہد کا دورانیہ میری عمر سے بھی دوگنا ہے۔میرے لیے یہ نہایت خوشی کا باعث ہے کہ ہم (ہندوستان اور پاکستان ) اکٹھے کھڑے ہو سکتے ہیں اور دنیا کو یہ دکھاسکتے ہیں کہ امن اور بچوں کے حقوق کے لیے ایک ہندوستانی اور پاکستانی مل کر کام کرسکتے ہیں۔

عزیز بہنو اور بھائیومیرا! نام میوند کی عظیم پشتون حریت پسندملالہ کے نام پر رکھا یا ہے جس کا مطلب غمگین اور افسردہ ہے لیکن میری دادی ہمیشہ مجھے “ملالہ – دنیا کی سب سےزیادہ خوش و خرم لڑکی “کہہ کر پکارا کرتی تھیں اور آج میں واقعی بے حد خوش ہوں کہ ہم ایک عظیم مقصد کی خاطر متحد ہیں۔

یہ انعام صرف میرانہیں بلکہ ان تمام فراموش شدہ بچوں کا ہے جو تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔یہ ان تمام خوفزدہ اور سہمے ہوئے بچوں کے لیے بھی ہے جو امن چاہتے ہیں، ان بے زبان بچوں کا بھی جو تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
میں یہاں ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کو کھڑی ہوں، یہ وقت ان پر ترس کھانے کا نہیں بلکہ یہ وقت کسی بھی بچے کو آخری مرتبہ تعلیم سے محروم دیکھنے کے لیے جدوجہد کا وقت ہے۔

مجھے یاد ہے کہ کس طرح میں اور میری سہیلیاں مختلف تقاریب اور تہواروں کے لیے اپنے ہاتھوں پر مہندی سے پھول بوٹے بنانے کی بجائے ریاضی کے کلیہ اور مساوات لکھا کرتی تھیں۔
مجھے علم ہے کہ لوگ میرا تذکرہ کئی طرح سے کرتے ہیں؛
بعض مجھے اس لڑکی کے طور پر یاد رکھتے ہیں جسے طالبان نے گولی کا نشانہ بنایا
اور کچھ کے نزدیک میں وہ لڑکی ہوں جس نے ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی
اور بہت سے مجھے اب نوبل انعام یافتہ کہتے ہیں۔
لیکن جہاں تک میں جانتی ہوں، میں خود کو ہر بچے کی تعلیم، خواتین کے یکساں حقوق اور دنیا کے ہر کونے میں امن کے لیے مستقل مزاجی اورپختہ عزم کے ساتھ ان تھک کام کرنے والا سمجھتی ہوں۔

میں نے اپنی سترہ سالہ زندگی سے سیکھا ہے کہ تعلیم زندگی کی ضرورت بھی ہے اور نعمت بھی۔پاکستان کے شمال میں واقع اپنے آبائی علاقہ سوات میں مجھے ہمیشہ سکول جانا اور نئی چیزیں سیکھنا پسند تھا۔مجھے یاد ہے کہ کس طرح میں اور میری سہیلیاں مختلف تقاریب اور تہواروں کے لیے اپنے ہاتھوں پر مہندی سے پھول بوٹے بنانے کی بجائے ریاضی کے کلیہ اور مساوات لکھا کرتی تھیں۔

ہمیں علم کی جستجو تھی کیوں کہ ہم جانتی تھیں کہ ہمارا مستقبل کمرہ جماعت سے وابستہ ہے۔ہم مل بیٹھ کر پڑھتی اور سیکھتی تھیں۔ہمیں صاف ستھری وردی پہننا پسند تھا، ہم اپنی آنکھوں میں بڑے بڑے خواب سجایا کرتی تھیں ۔ہم چاہتی تھیں ہمارے والدین کو ہم پر فخر ہو ، ہم تعلیم کے ذریعہ وہ کارنامے سرانجام دینا چاہتی تھیں جو دنیا کے نزدیک صرف لڑکوں کے لیے مخصوص ہیں۔

میرے پاس دو ہی راستے تھے، ایک یہ کہ میں چپ رہوں اور مار دیے جانے کا انتظار کروں،اور دوسرا یہ کہ آواز اٹھاوں اور مار دی جاوں، اور میں نے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
مگر جب میں دس برس کی تھی تو حالات بدل گئے اور امن و سیاحت کا گہوارہ سوات دہشت کی سرزمین میں بدل گئی۔چارسو سے زائد سکول تباہ کر دیے گئے، لڑکیوں کو سکول جانے سے روک دیا گیا،عورتوں کو کوڑے مارے گئے،ہم سب نے یہ اذیت برداشت کی اور ہمارے سپنے بھیانک خوابوں میں بدل گئے۔

تعلیم کا حق جرم قرار دے دیا گیا۔

لیکن میری دنیا بدلتے ہی میری ترجیحات بھی بدل گئیں۔

میرے پاس دو ہی راستے تھے، ایک یہ کہ میں چپ رہوں اور مار دیے جانے کا انتظار کروں،اور دوسرا یہ کہ آواز اٹھاوں اور مار دی جاوں، اور میں نے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

دہشت گردوں نے مجھے اور میری سہیلیوں کو 9 اکتوبر 2012 کو گولیوں کا نشانہ بنا کر روکنے کی کوشش کی لیکن ان کی گولیاں شکست کھا گئیں۔

ہم بچ گئے اور اس روز کے بعد سے ہماری آوازیں بلند ہوتی چلی گئیں۔

میں اس لیے اپنی کہانی نہیں سناتی کہ یہ منفردہے بلکہ اس لیے سناتی ہوں کہ یہ غیر معمولی نہیں ہے، یہ بہت سی لڑکیوں کی کہانی ہے۔

میں آج ان تمام لڑکیوں کی کہانی بھی سنا رہی ہوں۔آج میرے ساتھ نائجیریا، شام اور پاکستان کی ایسی بہنیں اور سہیلیاں بھی اوسلو آئی ہیں جن کی کہانی میرے جیسی ہے۔میرے ساتھ شازیہ اور کائنات ریاض ہیں جنہیں میرے ساتھ گولیوں کا نشانہ بننا پڑا۔انہیں بھی وہی صدمہ برداشت کرنا پڑا جو مجھ پر بیتا۔میرے ساتھ پاکستان سے آئی کائنات سومرو ہے جس نے ایک بھائی کھویا،تشدد اورجنسی بدسلوکی کا سامنا کیا مگر سر نہیں جھکایا۔

ملالہ فنڈ کی مہم کے دوران ملنے والی میری شامی بہن میزون بھی یہاں موجود ہے جو اب جارڈن کے ایک پناہ گزین کیمپ میں خیموں میں مقیم بچوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مدد دے رہی ہے۔شمالی نائجیریا کی آمنہ ہیں جن کے وطن میں سکول جانے کی خواہش مند لڑکیوں کو بوکوحرام اغوا کرتی ہے۔

گو بظاہرمیں اپنی اونچی ہیل سمیت پانچ فٹ دو انچ قامت کی ایک فرد دکھائی دیتی ہوں،لیکن میں محض ایک آواز نہیں،میری آواز میں بہت سے آوازیں شامل ہیں؛

میں شازیہ ہوں
میں کائنات ریاض ہوں
میں کائنات سومرو ہوں
میں میزون ہوں
میں آمنہ ہوں
میں سکول جانے سے محروم چھ کروڑ ساٹھ لاکھ لڑکیوں جیسی ہوں۔

لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں تعلیم خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کیوں اہم ہے،میرا جواب ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی سے میں نے اقراء یعنی پڑھنے اور بالقلم یعنی “قلم کے ذریعہ “کا سبق سیکھا ہے۔

اور اسی لیے میں نے گزشتہ برس اقوام متحدہ میں کہاتھا،”ایک بچہ، ایک استاد، ایک کتاب اور ایک قلم دنیا بدل سکتے ہیں۔”

آج نصف دنیا میں ہم تیز رفتار ترقی، جدیدیت اور افزودگی دیکھتے ہیں، جب کہ دنیا کے بہت سے ممالک ابھی تک غربت، بھوک، ناانصافی اور جنگ جیسے قدیم مسائل کے باعث مصائب کا شکار ہیں۔

پہلی جنگ عظیم کے ایک سو برس مکمل ہونےپر 2014 ہمیں یاددہانی کرارہا ہے کہ ہم لاکھوں انسانی جانون کے ضیاع کے باوجود بھی ابھی تک تمام سبق نہیں سیکھ پائے۔

دنیا میں ابھی بھی ایسے تنازعات ہیں جن میں سینکڑوں ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں،شام، غزہ اور عراق کے متعدد خاندان نقل مکانی پر مجبور ہیں،شمالی نائجیریا میں کئی بچیوں کو ابھی تک سکول جانے کی آزادی نہیں،خود کش حملوں اور بم دھماکوں میں پاکستان اور افغانستان کے معصوم لوگوں کا خون بہایا جارہا ہے۔

غربت کی وجہ سے بہت سے بچے سکول جانے سے محروم ہیں۔
سماجی ٹیبوز، بچوں سے مشقت کرانے اور کم سنی کی شادی کے باعث بہت سے بچے ہندوستان اور پاکستان میں تعلیم سے محروم ہیں۔

اس فنڈ کی رقم سب سے پہلے میرے دل کے قریب میرے وطن پاکستان خصوصاًمیرے آبائی علاقہ سوات اور شانگلہ میں سکول تعمیر پر خرچ کی جائے گی۔
میری ایک بہادر اور پراعتماد ہم مکتب جو ڈاکٹر بننا چاہتی تھی، 12 برس کی عمر میں شادی کے باعث اس کا خواب ادھورا رہ گیا۔ چودہ برس کی عمر میں جب وہ خود ابھی کم سن تھی تو اسے ایک بیٹے کو جنم دینا پڑا، میں جانتی ہوں کہ وہ ایک بہت اچھی ڈاکٹر بنتی۔لیکن ایک لڑکی ہونے کے باعث اسے ایسا نہیں کرنے دیا گیا۔

اپنی ہم مکتب کی اس کہانی کے باعث میں نے نوبل انعام کی رقم ملالہ فنڈ میں جمع کرانے کا فیصلہ کیا ہےتاکہ دنیابھر میں لڑکیوں کو یکساں اور معیاری تعلیم دی جاسکے، میں دنیا بھر کے رہنماوں کوآمنہ، میزون اور مجھ ایسی لڑکیوں کی مدد کرنے کی دعوت دیتی میں۔اس فنڈ کی رقم سب سے پہلے میرے دل کے قریب میرے وطن پاکستان خصوصاًمیرے آبائی علاقہ سوات اور شانگلہ میں سکول تعمیر پر خرچ کی جائے گی۔

میں یہاں سے آغاز کر رہی ہوں مگر میری کوششوں کا اختتام نہیں، میری جدوجہد ہر بچے کو تعلیم ملنے تک جاری رہے گی۔حملے کے بعد میں خود کو پہلے سے زیادہ مضبوط سمجھنے لگی ہوں کہ اب کوئی مجھے نہیں روک سکتا، کوئی ہمیں نہیں روک سکتا،کیوں کہ اب ہم لاکھوں کی تعداد میں ہیں اور متحد ہیں۔

عزیز بھائیو اور بہنو !ہاں آج میں کھڑی ہوں یہیں ایک وقت تھا کہ دنیا بدلنے والے مارٹن لوتھر کنگ، نیلسن منڈیلا، مدرٹریسا اور آنگ سان سوچی جیسے عظیم لوگ بھی کھڑے ہوئےتھے ۔میں امید کرتی ہوں کہ میری اور کیلاش ستیارتھی کی گزشتہ کاوشیں اور آئندہ اقدامات بھی دیرپا تبدیلیوں کا باعث بنیں گے۔

میں امید کرتی ہوں کہ ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے آخری بار جدوجہد کرنا پڑے گی۔ہم چاہتے ہیں کہ سب متحد ہوکر ہماری اس مہم کا ساتھ دیں تاکہ ہم اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے حل کر سکیں۔

جیسا کہ میں کہہ چکی ہوں کہ ہم درست سمت میں بہت سے قدم اٹھا چکے ہیں مگر اب ایک جست لگانے کی ضرورت ہے۔

اب دنیا کے رہنماوں کو تعلیم کی اہمیت کا احساس دلانے کی ضرورت نہیں، وہ پہلے سے ہی اس سے واقف ہیں، ان کے اپنے بچے اچھے سکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ اب وقت ہے کہ دنیا کے رہنماوں کواس ضمن میں اقدامات کرنے پر مجبور کیا جائے۔

ہم دنیا بھر کے رہنماوں سے متحد ہونے اور تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح بنانے کی دعوت دیتے ہیں۔

پندرہ برس قبل دنیا کے رہنماوں نے ملینیم ڈویلپمنٹ گولز پر اتفاق کیا تھا۔گزشتہ برسو ں کے دوران تعلیم کی صورت حال میں بہتری آئی ہے اور سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد آدھی رہ گئی ہے۔ تاہم ہماری تمام تر توجہ پرائمری تعلیم پر مرکوز ہے اور اس ترقی کے فوائد سب تک نہیں پہنچ پا رہے۔

اگلے برس 2015 میں دنیا کے مختلف ممالک کے نمائندے مل کر اگلےدیرپا ترقیاتی اہداف(Sustainable Development goals) کا تعین کریں گے جو آنے والی کئی نسلوں کے لیے عالمی خواہشات کی سمت متعین کریں گے۔ہمارے رہنماوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا کے تمام بچوں کے لیے مفت اور معیاری پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے۔

ہوسکتا ہے بعض لوگ کہیں کہ یہ عملی طور پر ممکن نہیں، اس پر بہت خرچ آئے گا یایہ بہت مشکل ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگ اسے ناممکن قرار دیں لیکن یہ وقت بڑے اہداف کے تعین کا ہے۔

کتابیں تقسیم کرنا بندوقیں بانٹنے سے زیادہ مشکل کیوں ہے؟ٹینک بنانا سکول بنانے سے زیادہ آسان کیوں ہے؟
عزیز بہنو اور بھائیو!شاید نام نہاد بڑوں کی دنیا میں یہ بات قابل فہم ہو لیکن ہم بچے یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ طاقتور ملک جو جنگیں لڑ سکتے ہیں اتنے کم زور کیوں ہیں کہ امن قائم نہیں کر سکتے۔ کتابیں تقسیم کرنا بندوقیں بانٹنے سے زیادہ مشکل کیوں ہے؟ٹینک بنانا سکول بنانے سے زیادہ آسان کیوں ہے؟

اس عہد جدید اور اکیسویں صدی میں جس میں ہم سب زندہ ہیں کچھ بھی ناممکن نہیں۔ہم چاند تک پہنچ چکے ہیں اور مریخ بھی جلد ہمارے قدموں تلے مسخر ہو گا۔اسی لیے اس اکیسویں صدی میں ہمیں دنیا کے سب بچوں کے لیے معیاری تعلیم کی فراہمی کے خواب کی تعبیر کے لیے بھی پرعزم ہونا پڑے گا۔

آئیے ہم سب کے لیے برابری، انصاف اور امن کی جستجو کریں۔صرف رہنماوں اور سیاستدانوں کو ہی نہیں بلکہ مجھے ، آپ کو اورہم سب کو کوشش کرنا ہوگی، یہ ہمارا فرض ہے۔

میں دنیا بھر کے بچوں کو(پنے حقوق کے لیے ) اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دیتی ہوں۔

عزیز بھائیو اور بہنو!آئیے ہم مل کر وہ پہلی نسل بنے جو (تعلیم کے لیے کوشش کرنے والی)آخری نسل ثابت ہو۔خالی
کمرہ ہائے جماعت،کھوئے ہوئے بچپن اور صلاحیتوں کے ضیاع جیسی خرابیاں ہمارے ساتھ ہی ختم ہوجائیں۔

آئیے! ہم کوشش کریں کہ یہ آخری بار ہو کہ کوئی بچہ یا بچی اپنا بچپن کارخانوں میں جھونکنے پر مجبور ہو۔
آئیے! ہم کوشش کریں کہ یہ آخری بار ہو کہ کسی بچی کو کم عمری میں شادی پر مجبور کیا جائے۔
آئیے! ہم کوشش کریں کہ یہ آخری بار ہو کہ کوئی معصوم جان جنگ کی نذر ہو۔
آئیے! ہم کوشش کریں کہ یہ آخری بار ہو کہ کوئی کمرہ جماعت طالب علموں سے خالی ہو۔
آئیے! ہم کوشش کریں کہ یہ آخری بار ہو جب کسی بچی کو کہا جائے کہ تعلیم اس کا حق نہیں بلکہ جرم اور گناہ ہے۔
آئیے! ہم کوشش کریں کہ یہ آخری بار ہو جب کوئی بچہ سکول جانے سے محروم رہے۔
آئیے! ہم اس انجام کا آغاز کریں
آئیے! ہم کوشش کریں کہ یہ سب (ظلم )ہمارے ساتھ ختم ہو
آئیے! ہم ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کا آغاز ابھی اور یہیں سے کریں۔

شکریہ۔

Categories
نقطۂ نظر

عدنان رشید تو پکڑا گیا مگر۔۔۔۔

پاکستان کے مغربی محاذ سے ایک اچھی خبر آئی ہے۔ ضربِ عضب کے زمینی آپریشن شروع ہونے کے بعد اب تک آنے والی سب سے بڑی خبر کے مطابق طالبان کے مرکزی رہنما عدنان رشید کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ عدنان کو زخمی حالت میں بھاگتے ہوئے جنوبی وزیرستان کی ایک وادی سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سٹریٹیجک منصوبہ بندی اور پروپیگنڈا میں خاص شہرت رکھنے والے اس کمانڈر کی گرفتاری آپریشن میں سنجیدگی اور پاکستانی فوج کی پیشہ وارانہ قاببلیت کی دلیل بھی ہے۔ ہماری عدلیہ اور جیلیں اسے کب تک قید رکھ پائیں گی، ایک علیحدہ بحث ہے۔
یقیناً پاکستانیوں کی اکثریت نے عدنان کا خط نہیں پڑھا ہو گا مگر دہائیوں سے صیہونی سازشوں کے جواب میں غزوہ ہند کی للکار دینے والے اردو لکھاریوں نے کیا خوب انصاری نبھائی ہے۔
پرویز مشرف کے اقدام قتل میں سزائے موت پانے کے بعد عدنان اپریل 2012 میں بنوں جیل سے فرار ہوا۔ یہاں پر یہ زکر کرنا ضروری ہے کہ دوران جیل اس دہشت گرد رہنما کو موبائل فون جیسی کئی بنیادی سہولتیں فراہم کی گئی تھیں جس سے وہ باقاعدگی سے صحافیوں سے رابطے میں رہتا تھا۔ پچھلے سال اس نے ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر حملہ کر کے اپنے دو سو پچاس ساتھیوں کو بھگانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس کامیاب آپریشن کی پروپیگنڈا ویڈیو انٹرنیٹ پر خاصی مقبول ہوئی۔ تاہم جس کارنامے نے عدنان کو عالمی شہرت سے نوازا، وہ ملالہ یوسف زئی کو لکھا جانے والا ایک کھلا خط ہے جس میں ملالہ پر حملے کی وجوہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ملالہ کے نقطہ نظر کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
یہ خط محض ایک طالب کی طرف سے ملالہ کو دیا جانے والا جواب ہی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں بنیاد پرست بیانیے کی ایک اہم دستاویز بھی ہے۔ خط کو پڑھتے ہوئے اگر ایک لمحے کے لیے یہ نظر انداز کر دیا جائے کہ اسے لکھا کس نے ہے، تو یہی گمان ہو گا کہ یہ پاکستانی میڈیا کے مرکزی دھارے میں ملالہ کے خلاف لکھے جانے والے درجنوں کالموں میں سے ایک ہے۔ عدنان کے اسلوب اور دلائل کی چھاپ بعد میں آنے والے بہت سارے اردو کالموں میں نظر آتی رہی ہے۔ ایک اور زاویے سے دیکھیں تو عدنان وہی کچھ کہہ رہا ہے جو ہمارے کئی معتبر اور باریش کالم نگار کئی سالوں سے کہتے آئے ہیں۔ سمجھے اور سمجھائے بغیر نیو ورلڈ آرڈر اور تہذیبوں کے جنگی تصادم کی تکرار ہم آئے روز کہاں سے سنتے ہیں۔ میکالے اور برٹرینڈ رسل جیسے مغربی مفکرین کے سیاق و سباق سے کٹے ہوئے ہوئے حوالوں کی کترنیں عدنان کے ذہن میں کہاں سے آئیں۔ ‘انگریز کے آنے سے پہلے برصغیر کا ہر باشندہ پڑھا لکھا تھا’، یہ سفید جھوٹ عدنان نے کون سے نصابوں سے پڑھا۔ پورے عالمی نظام کو ظلم پر مبنی قرار دے کر بزور شمشیر اسے نیست و نابود کرنے کے نعرے صرف طالبان کی طرف سے تو نہیں آتے۔ ڈرون حملوں، عافیہ صدیقی اور امریکہ کی غلامی کی دہائی دے کر پاکستانی ریاست کے نظام کو بدلنے کی بات کوئی نئی تو نہیں۔ آخر پاکستان کی ائیر فورس، جس میں عدنان چھ سال تک ملازم رہا، میں طالبان کا وہ زہریلا پروپیگنڈا کہاں سے آ گیا کہ جس سے متاثر ہو کر اس نے پرویز مشرف کے قتل کا منصوبہ سوچا۔ ان سب کا جواب تلاش کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔
عدنان رشید تو پکڑا گیا، مگر ہر دوسرے پاکستانی کے ذہن میں بیٹھے عدنان رشید کو کون پکڑے گا۔
دانشوری کے جس معیار تک پہنچنے میں عدنان نے عمر کا ایک حصہ بِتایا ہو گا، ہمارے ہم وطنوں کی عقل سلیم میں وہی معیار سکہ بند ہے۔ یقیناً پاکستانیوں کی اکثریت نے عدنان کا خط نہیں پڑھا ہو گا مگر دہائیوں سے صیہونی سازشوں کے جواب میں غزوہ ہند کی للکار دینے والے اردو لکھاریوں نے کیا خوب انصاری نبھائی ہے۔ طالبان کو ان بزرگوں گا شکر گزار ہونا چاہیے کہ جن کی بدولت طالبان کے بیانیے کی وکالت ہمیں ناصرف اخبار، ٹی وی بلکہ ہر گلی کوچے میں نظر آتی ہے۔ اور ہاں، طالبان کے خلاف اب تک ہونے والے سب سے اہم آپریشن ضرب عضب کے بعد بھی سب کچھ پہلے جیسا ہی ہے۔
سالوں سے ان ‘اپنے لوگوں’ کے ساتھ مذاکرات کی دہائیاں دینے والے ٹھیک ہی تو کہتے ہیں کہ طالبان کو محض عسکری بنیادوں پر ہرانا ناممکن ہے۔ جواب عدنان نے خود ہی اپنے اس خط میں دیا ہے کہ ‘جنگوں میں ہتھیار سے کہیں زیادہ تباہ کن زبان ہوتی ہے’۔ ہماری تعلیم کے لیے عدنان نے مزید یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ ‘استاد، قلم اور کتاب دنیا میں تبدیلی تو لا سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کس قسم کا استاد، کس قسم کا قلم، اور کس قسم کی کتاب۔’
چاہے مزاکرات ہوں یا جنگ، ہمارے درمیان بیٹھے طالبان کے پانچویں کالم کی شناخت اور تدارک ضروری ہے۔ عدنان رشید تو پکڑا گیا، مگر ہر دوسرے پاکستانی کے ذہن میں بیٹھے عدنان رشید کو کون پکڑے گا۔