Laaltain

سر کٹے

انہوں نے ہمیں منڈیروں پر بٹھا دیا ہے
تاکہ
جب ہوا تیزچلے تو ہم دوسری طرف بنی کھائی میں گر پڑیں
کبھی نہ اٹھنے کے لئے

“میں کس ‘سماریہ’ میں ہوں؟”

شاہ اسرائیل پہلی عورت کی فریاد سن کر
حیرانی میں اپنے کپڑے پھاڑتا اور گواہی مانگتا ہے
کہ اس کے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتا

مرے کچی رہ کے مسافرا

مرے کچی رہ کے مسافرا
تری خورجیں میں بھری ہوئی ہیں حیاتِ سُرخ کی نیکیاں
ترے بازوؤں سے بندھی ہوئی ہیں ستونِ عرش کی ڈروریاں
رگِ پا کے زخم سنوارتی ہیں جہانِ قاف کی باندیاں
کسی بے نشان سرائے پر تجھے عیب وقفہ قیام کا
مرے کچی رہ کے مسافرا

دنوں کا دکھ

عجب دن آ پڑے ہیں
بوڑھی صدیاں رات رو کر دیکھتی ہیں

گلشن پارک میں ایسٹر

کتنی آوازیں روزانہ تمہیں بلاتی ہیں
کام میں گم
دفتر کی میزوں میں دھنسے ہوئے
تم ان کو سُن نہیں سکتے

“اس دن۔۔۔۔۔۔۔”

اس دن تو وہ خود بھی شکستہ قابلِ رحم تھا لیکن،
کون تھا جس کے لئے
اس کی ہمدردی نہیں تھی،
جس پر اس کو ترس نہیں آیا تھا،
سو اُ س نے اِس لمحے کے زیر اثر،
سب اشیا ء کو دیکھا

عرفان

اور وہیں کہیں مالک
اس سوال چہرے پر
ان خیال آنکھوں میں
میں نے تجھ کو دیکھا تھا
تو بھی سوچتا ہو گا
کتنا خوبصورت تھا
یہ جو ایک منظر تھا

کچھ لوگ کبھی واپس نہیں آتے

بدن بستروں کو طلاق دے دیتے ہیں
انگلیاں تصویروں کے فریم تھامے لکڑی ہو جاتی ہیں
کلینڈر تاریخوں سے بهرے رہتے ہیں
لیکن دن خالی ہو جاتے ہیں

Theory

سارا دن دھوپ دیوار
دیکھتا رہتا ہوں
ٹرمیں سوچتا رہتا ہوں
نظمیں توڑتا رہتا ہوں
تھیسز جوڑتا رہتا ہوں

اونگھ

عشق وہ سرحدِ افلاکِ تمنا پہ کھڑا
طائرِ کوتاہ
جو پھیلائے اگر پنکھ
زمانوں میں سما جائے
مگر ڈرتا ہے

سُر منڈل کا راجا

پورب پنچھم باجنے والا ایک خدا کا باجا
نام ہمارے بجوائے گا سُرمنڈل کا راجا