Categories
شاعری

کلموہی

[blockquote style=”3″]

نسرین انجم بھٹی پنجابی اور اردو کی ممتاز شاعرہ ہیں۔ ان کے مطابق ‘میں پیدائیشی طور پر بلوچ، ڈومیسائل کے اعتبار سے سندھی اور شادی کے بعد پنجاب کی ہوئی، میرا تعلق پورے پاکستان سے ہے’۔ آپ کا بچپن کوئٹہ میں گزرا، بعد ازاں وہ پہلے جیکب آباد اور پھر لاہور منتقل ہوئیں۔ آپ کی پنجابی شاعری کی دو کتابیں ‘نیل کرائیاں نیلکاں’ اور ‘اَٹھے پہر تراہ’ شائع ہو چکی ہیں۔ اردو شاعری کی ایک کتاب ‘بن باس’ شائع ہو چکی ہے جبکہ دوسری کتاب ‘تیرا لہجہ بدلنے تک’ اشاعت کے مراحل میں ہے۔ نسرین انجم بھٹی 26 جنوری 2016 کو تہتر برس کی عمر میں وفات پا گئی تھیں۔ یہ نظم ان کی آنے والی کتاب ‘تیرا لہجہ بدلنے تک’ میں شامل ہے اور معروف شاعر زاہد نبی کے تعاون سے لالٹین پر شائع کی جا رہی ہے۔ ہم زاہد نبی کے ممنون ہیں کہ انہوں نے نسرین انجم بھٹی کی یہ نظم لالٹین قارئین کے لیے عنایت کی۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کلموہی

[/vc_column_text][vc_column_text]

بابا! منہ دیکھنے سے پہلے مجھے کلموہی نہ کہہ
ورنہ میں کہاوت بن جاؤں گی
اورتو مجھے کبھی نہیں پاسکے گا
اِس وعدے کے ساتھ
میں تیری پگ دھودھو کر کلف لگاؤں گی
اور ماں سے کہوں گی
میرابابا!میراباباہے
اورماں کہے گی تو نمک کی مٹھی ہے
ہماری آنکھوں میں نہیں رہ سکتی
دل میں سماسکتی ہے
آ تیرا نام رکھیں اور رکھ کر بھول جائیں
بیٹی! تیرانام جدائی ہے
بابا! میں تیری پرچھائیں سے باہر اپنا قد نہیں نکالوں گی پھر بھی
مجھے معلوم ہے میں تیرے سینے میں نہیں سماسکتی
تیری خاموشی گونجتی ہے
تو پرائی ہے
بابا! تو پرائے پانی میں اپنا منہ دیکھ اور بتا
میں کس کی جائی ہوں۔

Image: Prem Deep Mann
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

مسلسل موت

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

مسلسل موت

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں پہلی بار جھولے میں مری تھی
جب میرے بابا نے مجھ کو دکھ سے دیکھا تھا

 

 

میں دو جی بار اپنی ماں کے ہاتھوں سے
گری اور مر گئ تھی
جب میری ماں نے میرے بدلے
میرے بھائی کو ہاتھوں پر اٹھایا تھا

 

میں تیجی بار گاؤں کے جواں لڑکے
کی نظروں سے گری
اور مر گئ تھی
وہ مجھے اچھا لگا تھا
مجھ کو لگتا تھا کہ جیسے وہ
مجھے محفوظ کرلے گا
بچا لے گا زمانے کی ہواوں سے
بلاووں سے
مگر میں خوبصورت بھی نہیں تھی
اور بدن کی دلکشی کو
مفلسی کی آگ نے جھلسادیا تھا
سو میں اس کی نظر سے گر گئی تھی
مر گئی تھی

 

میں چوتھی بار ڈولی میں مری تھی
جب میرے ماں باپ نے مجھ کو
خوشی سے اپنے گھر سے
اور دل سے بھی نکالا تھا

 

پھر اس کے بعد میں
خواہش کے بستر پر مری تھی
جب میری تقدیر کا مالک
دسمبر کی طرح
بے رحم تھا اور سرد تھا
اور میری خواہش کے نو حے صرف
میں نے ہی سنے تھے
پھر اس کے بعد مجھ کو
روز موت آتی رہی
اور میں مرتی رہی
مرتی رہی
مرتی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔

Image: Hayv Kahraman
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ایک دن مجھے مار دیا جائے گا

[blockquote style=”3″]

قرۃالعین فاطمہ کی یہ نظم اس سے قبل ‘ہم سب’ پر بھی شائع ہو چکی ہے۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ایک دن مجھے مار دیا جائے گا

[/vc_column_text][vc_column_text]

ایک دن وہ مجھے مار دیں گے
گولی سے یا تیز دھار آلے سے
گلے میں رسی ڈال کر لٹکائیں گے
یا پھر کسی دیوار میں چنوائیں گے
جلا کر میری خاک اڑائیں گے
یا تیزاب میں ڈبو کر پگھلتا سسکتا مرتا ہوا دیکھیں گے

 

وہ مجھ سے نہیں پوچھیں گے
میں کس طرح مرنا چاہتی ہوں
میں شاندار موت چاہتی ہوں
آرام سے بستر پر
یا چوک میں
گالیوں اور آوازوں کے عذاب سے گزر کر مرنا
میں کیسی موت چاہتی ہوں مجھ سے کوئی نہیں پوچھے گا

 

مجھے کہیں بھی مار دیا جائے گا
عین ممکن ہے مجھے جذباتی طور پر مار دیا جائے
اور دفنایا بھی نہ جائے
یا مجھے میرے ہی جسم کی قبر میں
خاموشی سے اتار دیا جائے
یا زمانے کی خاطر
یا جھوٹی اناؤں اور وفاؤں کی تسکین کے لیے
کچھ لوگ میری بے وجود میت پر دھاڑیں مار مار کر روئیں
یہ بھی ہو سکتا ہے
مجھے کہیں پھینک دیا جائے
ٹکڑے ٹکڑے کر کے بوری بند
جسے ایدھی یا چھیپا والے لاوارث کسی قبرستان میں دفنا آئیں گے

 

مجھے معلوم ہے مجھے مار دیا جائے گا
کسی بھی طرح
گولی سے یا تیز دھار آلے سے
کسی بھی وجہ سے
یا بغیر کسی وجہ کے
ایک دن مجھے مار دیا جائے گا!

Image: Pablo Camps
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]