Categories
نان فکشن

ہگز بوزان اور عبدالسلام

تحریر: ڈاکٹر عقیل احمد
مترجم: فصی ملک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قدرت کی چار بنیادی قوتیں، برقناطیسی قوت، نحیف نیوکلیائی قوت، قوی نیوکلیائی قوت، اور کششِ ثقل، ہیں۔برقناطیسیت کا مشاہدہ روز مرہ کی زندگی میں کیا جا سکتا ہے،جیسا کہ آسمانی بجلی(Lightening) ایک قدرتی عمل ہے۔نحیف نیوکلیائی قوت کا اظہار تابکاری، جس کو سرطان کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، میں ہوتا ہے۔دوسری جانب قوی نیوکلیائی قوت جوہری مرکزہ(اولیے اور تعدیلیے) کو اکٹھا رکھنے کی موجب ہے۔ جب کہ کششِ ثقل کا مشاہدہ روز مرہ کی زندگی میں کیاجاتا ہے، مثال کے طور پر،نظامِ شمسی کے ستارے کششِ ثقل کی وجہ سے ہی سورج کے گرد گھومتے ہیں۔

اس چیز کا جائزہ لینا نہایت اہم ہے کہ برقناطیسیت اور کششِ ثقل طویل حدودی(long range) قوتیں ہیں، یعنی ان کا اثر طویل فاصلوں پر بھی ہوتا ہے۔جب کہ نحیف اور قوی نیوکلیائی قوتوں کا اظہار بہت کم فاصلوں پر ہوتا ہے، جیسا کہ جوہر کے مرکزہ کے اندر، جس کا سائز 10-15 میٹر ہوتا ہے۔کششِ ثقل باقی تینوں قوتوں کی نسبت کمزور ہے اور اپنا اظہار بھاری اجسام پر کرتی ہے۔چونکہ بنیادی ذرات، جیسا کہ برقیے اور کوارکس( جن سے مل کر اولیے اور تعدیلیے بنے ہوتے ہیں) بہت چھوٹے ہوتے ہیں اس لیے یہ باقی تین قوتوں کی نسبت کششِ ثقل کا اثر کم محسوس کرتے ہیں۔اس لیے طبیعیات دان بنیادی ذرات کی خصوصیات کے مطالعے میں عمومی طور پر کششِ ثقل کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔لہٰذا ہمارے پاس تین قوتیں باقی بچتی ہیں، برقناطیسیت اور قوی اور نحیف نیوکلیائی قوتیں۔

تمام قوتیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں ذرات کے درمیان قوت بردار ذرات (force carrier particles)سے عمل کرتی ہیں، یہ قوت بردار ذرات گیج بوزانزgauge bosons) ) کہلاتے ہیں۔مثال کے طور پر دو برقیوں کے درمیان برقناطیسی قوت ضیائیوں(photons) کے ذریعے عمل کرتی ہے۔اس مظہر کوبیڈمنٹن(badminton)کے کھیل سے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ بیڈ منٹن کے دو کھلاڑیوں کے درمیان قوت چِڑی(shuttlecock) کے ذریعے پہنچتی ہے، بالکل اسی طرح بنیادی قوتیں گیج بوزانز کے ذریعے پہنچتی ہیں۔چناچہ بنیادی قوتیں چار قسم کی ہیں اس لیے گیج بوزانز بھی چار مختلف اقسام کے ہیں اور ہر قوت کی نوعیت پر منحصر کرتے ہوے ان کی خصوصیات بھی مختلف ہیں۔ہمارے مقصد کے لیے، جو کہ ہگزمیدان/بوزان کو سمجھنا ہے، صرف دو قوتیں، برقناطیسیت اور نحیف نیوکلیائی قوت، اہم ہیں۔

جیسا کہ ہم نے واضح کیا ہے کہ برقناطیسیت ایک طویل حدودی قوت ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو دو بار شدہ اجسام(جیسا کے دو برقیے)کے درمیان تب بھی محسوس کیا جا سکتا ہے جب ان کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہو۔اس لیے چِڑی (ضیائیوں) کو بے کمیت ہونا چاہیے۔اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ برقناطیسیت طویل حدودی قوت ہے کیوں کہ اس کے قوت بردار ذرات( ضیایئے) بے کمیت ہیں۔ اب ہم نحیف نیوکلیائی قوت کو فرض کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ یہ بہت کم فاصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے، مثال کے طور پر جوہری مرکزہ کے سائز تک، جو کہ 10-15 میٹر ہے۔چڑی کی تمثیل سے اب آپ اس پہیلی کا جواب دے سکتے ہیں کہ نحیف نیوکلیائی قوت اتنی قریب حدودی کیوں ہے؟جواب بالکل آسان ہے، اگر ہم چِڑ ی (قوت بردار ذرات) کو بہت زیادہ وزنی بنا دیتے ہیں تو وہ بہت کم فاصلہ طے کرے گی۔لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ نحیف نیوکلیائی قوت کے قوت بردار ذرات “گیج بوزانز” وزنی ہیں اس لیے یہ قریب حدودی ہے۔یہ گیج بوزانز W+ اور W- کہلاتے ہیں جب کہ ± ان بوزانز کے اوپر برقی بار کو ظاہر کرتا ہے۔

ذراتی طبیعیات میں ایک بہت ہی اہم اصول ہائے تشاکل (گلوبل/گیج) (global/gauge symmetries)ہے۔ہائے تشاکل (گلوبل) عمومی طور پر بہت گنجلک ہے مگر اس کی توضیح آسان طریقے سے کرنے کے لیے ہم گردشی تشاکل (rotational symmetry) کی مثال لیتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر ہم ایک کُرے (sphere)کو لیتے ہیں(جیسا کہ فٹ بال) اور اسے کسی بھی سمت میں گردش دیتے ہیں تو یہ بالکل ایسے ہی دکھے گا جیسا کہ گردش دینے سے پہلے تھا۔اس لیے ہم کہ سکتے ہیں کہ کُرہ گردش کے تحت تشاکل پذیر یا تشاکلی(symmetric) ہے۔ذراتی طبیعیات کی زبان میں ہم اس کو یوں کہتے ہیں کہ یہ جسم(کُرہ) کچھ تحویلات(گردش) کے تحت غیر متغیر(invariant) ہے۔اگر ایک نظریہ کچھ تحویلات کے تحت غیر متغیر(تشاکل پذیر) ہے تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر اس نظریےکو تحول پذیر(transform) کیا جائے(جیسا کہ گردش دینا) تو یہ ہمیں بالکل وہی نتائج دے گا۔

اگر ہمارے پاس کسی نظریے میں گیج تشاکل موجود ہو تو ہمیں مطلوب یہ ہوتا ہے کہ یہ نظریہ کچھ خاص گیج تحویلات کے تحت گیج متغیر یا گیج تشاکلی(gauge symmetric) ہو۔یہ پتا چلا ہے کہ وہ تمام نظریات جن کے قوت بردار ذرات(gauge bosons) بے کمیت ہیں، کچھ خاص گیج تحویلات کے تحت گیج غیر متغیر(gauge invariant) ہوتے ہیں، جیسا کہ برقنا طیسیت۔جب کہ وہ نظریات جن کے قوت بردار ذرات وزنی ہوتے ہیں وہ گیج غیر متغیر نہیں ہوتے، جیسا کہ نحیف نیوکلیائی قوت۔یہ 1950 اور 1960 کے اوائل میں نظری طبیعیات دانوں کے لیے ایک بہت بڑی پہیلی رہی ہے کہ کیسے نحیف نظریے، جس کے ذرات گیج متغیر ہوتے ہیں، کو گیج غیر متغیر بنایا جائے۔

چونکہ وزنی گیج بوزانز والے نظریات گیج غیر متغیر نہیں ہوتے، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ تشاکل ٹوٹ چکا ہے(symmetry is broken)۔اس وقت کے نظری طبیعیات دانوں خاص کر نامبو اور گولڈ سٹون نے گلوبل تشاکلی نظریات پر ٹوٹے تشاکل(broken symmetry) کا آزادانہ مطالعہ کیا (ایک گلوبل تشاکل کو گیج میدا ن کے تعارف سے گیج تشاکل کے مقام پر ترقی دی جا سکتی ہے)۔گولڈ سٹون نے ایک قضیے(theorem) کی بنیاد رکھی کہ اگر ایک گلوبل تشاکل یک لخت ٹوٹے تو ہمارے پاس بے کمیت عددیے(massless scalars) ہونے چاہیے (جن کی غزل (spin) صفر اور مکان میں کوئی خاص سمت نہیں ہوتی)۔ ایک سال بعد گولڈ سٹون، عبدالسلام اور وائن برگ نے گولڈ سٹون کے قضیے کو ثابت کیا کہ ٹوٹے تشاکل بے کمیت عددی ذرات کو جنم دیتے ہیں جو کہ گولڈ سٹون بوزانز کہلاتے ہیں۔ یہ اس وقت ایک بہت شاندار نتیجہ تھا۔لیکن ابھی بھی یہ اس مسلے کو حل نہیں کرتا کہ بے کمیت گیج بوزانز کو کمیت کیسے دی جائے۔

1964 میں اینگلرٹ اور براوٹ نے اپنا بہت اہم تحقیقی مقالہ لکھا، جس کو کچھ ہی ہفتے بعد ہگز نے بھی آزادانہ طور پر حاصل کیا۔اپنے ان مقالوں میں انہوں نے دکھایا کہ اگر تشاکل یک لخت ٹوٹتا ہے تو بے کمیت گیج بوزانز گولڈ سٹون بوزانز کو تناول فرما کر کمیت حاصل کر لیتے ہیں۔یہ بے کمیت گیج بو زانز کو کمیت دینے والے شاندار مسلے کو حل کرتا ہے۔تشاکل کے یک لخت ٹوٹنے کے تصور کو اب براوٹ-اینگلرٹ- ہگز میکانزم (BEH mechanism) یا پھر صرف ہگز میکانزم کہا جاتا ہے۔اینگلرٹ اور ہگز کو 2012 میں فزکس کے نوبل انعام سے نوازہ گیا (بدقسمتی سے براوٹ 2011 میں وفات پا گیا اور انعام میں اپنا حصہ حاصل نہ کر سکا)۔یہاں اس بات کا ذکر کرنا بہت اہم ہے کہ براوٹ، اینگلرٹ اور ہگز کے پیپر کے کچھ ہی ہفتے بعد امپیریل کالج میں موجود پروفیسرعبدالسلام کے گروپ (گُرالنک، ہیجن، کبل) نے بھی یہی نتائج آزادانہ طور پر حاصل کیے اور ان کا پیپر اپنے مضمرات میں زیادہ تفصیلی تھا۔ان کے اس شاندار کام کے اعتراف میں 2010 میں براوٹ، اینگلرٹ، ہگز، ہیجن، کبل اور گُرالنک کو امیریکن فزیکل سوسائٹی کی طرف سے جے جے سکورائی انعام برائے ذراتی نظری طبیعیات سے نوازا گیا۔

گیج بوزانز کو کمیت دینے والے ہگز میکانزم کا اجراع ہونے کے بعد 1967 میں عبدالسلام اور سٹیون وائن برگ نے آزادانہ طور پر ایک ایسا ماڈل پیش کیا جو نحیف نیوکلیائی قوت اور برقناطیسی قوت کو یکجا کرتا تھا۔سلا م نے اس نظریے کو نحیف برقی نظریے (electroweak theory) کا نام دیا۔جو کہ ا ب قوی نیوکلیائی قوت کی شمولیت کے بعد ذراتی طبیعیات کے میعاری نمونے (standard model)کے طور پر جانا جاتا ہے۔نحیف برقی نظریے میں سلام اور وائن برگ نے واضح طور پر ہگز میکانزم کو استعمال کرتے ہوے نحیف نیوکلیائی قوت کے قوت برداروں کی کمیتوں کا حساب لگایا، چونکہ یہ ایک قریب حدودی قوت ہے جب کہ برقناطیسی قوت کے قوت برداروں کو بے کمیت رکھا گیا کیوں کہ یہ ایک طویل حدودی قوت ہے۔ میعاری نمونے میں نہ صرف گیج بوزانز اپنی کمیت ہگز میکانزم کے ذریعے حاصل کرتے ہیں بلکہ دوسرے تمام وزنی ذرات جیسا کہ برقیے اور کوارکس اپنی کمیت ہگز میدان کے ذریعے حاصل کرتے ہیں جو کہ سپیس میں برابر پھیلا ہوا ہے۔سلام-وائن برگ کا نظریہ( نحیف برقی نظریہ) ذراتی طبیعیات کے کامیاب ترین نظریات میں سے ایک ہے۔ ہگز میدان اور اس کے متعلقہ ہگز ذرے کے علاوہ اس کی بہت ساری اہم پیشین گوئیاں ہیں۔نظریے نے ایک نئی قسم کے قوت برداروں کی پیشین گوئی کی جس کی ضیائیے کی طرح کوئی بار نہیں لیکن W بوزانز کی طرح کمیت تھی۔ یہ Z بوزان کہلاتا ہے۔ 1970 کے اوائل میں ذرہ Z بوزان اور اس کا متعلقہ قوت بردار رو (force carrier current)سرن (CERN) میں دریافت کر لیا گیا۔نتیجتاً 1979 میں پاکستان کے عبدالسلام اور امریکہ کے سٹیون وائن برگ اور شیلڈن گلیشو کو فزکس کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

میعاری نمونے کا آخری گمشدہ ٹکرا،ہگز بوزان،بالاخر اپنی پیشین گوئی کے پچاس سال بعد 4 جولائی 2012 کو عظیم ثقیلہ تصادم گر (Large hadron collider) میں سرن کے مقام پر دریافت کر لیا گیا۔سرن فرانس اور سوٹزرلینڈ کی سرحد پر موجود 27 کلومیٹر لمبی ایک زیرِ زمین مشین ہے۔مشاہد شدہ ذرے کی خصوصیات کا جائزہ دنیا بھر کے سائنسدانوں نے لیا اور یہ دیکھا گیا کہ اس کی خصوصیات بالکل ایسی ہی ہیں جس کی پیشین گوئی سلام۔وائن برگ نظریہ یا میعاری نمونہ کرتا ہے۔ہگز بوزان کی دریافت نظری طبیعیات کے لیے بہت بڑی جیت ہے اور اس کی دریافت کے ساتھ میعاری نمونہ اب مکمل ہو چکا ہے اور موجودہ دن تک سب سے کامیاب نظریہ ہے۔ ذراتی طبیعیات کے میعاری نمونے نے تقریباً طبیعیات میں 15 نوبل انعامات جیتے ہیں اور آخری انعام اس سال (2012 میں) میں اینگلرٹ اور ہگز کو BEH میکانزم (ہگز میکانزم) پر دیا گیا۔

بحث سمیٹتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عبدالسلام نے کائنات کے متعلق ہماری موجودہ فہم کو حاصل کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔عبدالسلام گزشتہ صدی کا ایک عظیم سائنسدان ہی نہیں تھا بلکہ تیسری دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترویج کے لیے ان کی خدمات کا کوئی ثانی نہیں ہے۔وہ سائنسی اکادمی برائے تیسری دینا(TWAS) اور عبدالسلام بین الاقوامی مرکز برائے نظری طبیعیات (ICTP)، جو کہ اٹلی کے شہر ٹریسٹے میں موجود ہے،کے بانی ہیں۔ عبدالسلام بین الاقوامی مرکز برائے نظری طبیعیات دنیا کے صفِ اول کے اداروں میں شامل ہے جہاں تیسری دنیا کے ممالک سے طالب علم اور سائنسدان طبیعیات میں ہونے والی جدید تحقیق سے فیض یاب ہونے آتے ہیں۔ہم اس مضمون کا خاتمہ عبدالسلام کے مندرجہ ذیل قول کیساتھ کرتے ہیں ” سائنسی سوچ تمام انسانیت کا مشترکہ اثاثہ ہے”۔

Categories
نقطۂ نظر

ڈاکٹر عبدالسلام ۔۔۔ سفیرِ علم

پنجاب کے ایک قدیم شہر جھنگ میں صدیوں سے آباد ایک راجپوت گھرانے کے چوھدری محمد حسین کے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی جس کا نام عبدالسلام رکھا گیا۔ چوھدری محمد حسین گورنمنٹ ہائی سکول جھنگ میں معلم کے فرائض سرانجام دیا کرتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد گھر بار کا خرچ اٹھانے کے لیے انہوں نے تعلیمی ڈسٹرکٹ بورڈ کے دفتر میں بطور کلرک کام کرنا شروع کر دیا۔ اسی دوران ان کی دوسری بیوی ہاجرہ بی بی کے ہاں ایک سپوت کی ولادت کا وقت قریب تھا کہ موصوف کو خواب میں بشارت ہوئی کہ ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوگا جو اپنے تعلیمی کارناموں سے خدا کی عظمت کو بلند کرے گا۔ تاریخ نے ان کا خواب سچ کر دکھایا اور 1926ء میں ڈاکٹر عبدالسلام کی پیدائش ہوئی۔ ان کا گھرانہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ ان کے سات بھائی، دو بہنیں اور والدین سمیت گیارہ افراد ایک کمرہ نما چھوٹے سے گھر میں مقیم تھے۔ لیکن اس متوسط اور بے سروسامان گھرانےمیں بھی عبدالسلام اپنی پڑھائی پر مکمل توجہ دیتے تھے۔

 

عبدالسلام بچپن ہی سے نہایت ذہین و فطین ثابت ہوئے۔ سکول میں داخلے کے لیے ان کی عمر بہت چھوٹی تھی جس کی وجہ سے انہیں چھ سال کی عمر میں سکول داخل کروایا گیا۔ ان کے سکول میں داخلے کا قصہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ ان کی والدہ جب انہیں سال اول میں داخلے کے لیے سکول لے گئیں تو سکول کے ہیڈ ماسٹر مرزا غلام عابد نے عبدالسلام کی بے پناہ ذہانت کی وجہ سے انہیں سیدھے سال چہارم میں داخل کر لیا اور نتائج کے وقت عبدالسلام نے اپنے ہیڈماسٹر کے انتخاب کو اس وقت صحیح ثابت کر دکھایا جب وہ چہارم جماعت کے سالانہ امتحان میں پورے جھنگ مرکز میں اول آئے۔ اسی طرح میٹرک کے امتحان میں انہوں نے صوبہ بھر میں اول پوزیشن حاصل کی۔ بارہ سال کی عمر میں انہیں گورنمنٹ انٹر میڈیٹ کالج جھنگ میں داخل کروا دیا گیا۔

 

ان کی والدہ جب انہیں سال اول میں داخلے کے لیے سکول لے گئیں تو سکول کے ہیڈ ماسٹر مرزا غلام عابد نے عبدالسلام کی بے پناہ ذہانت کی وجہ سے انہیں سیدھے سال چہارم میں داخل کر لیا اور شاندار امتحانی نتائج سے عبدالسلام نے اپنے ہیڈماسٹر کے انتخاب کو اس وقت صحیح ثابت کر دکھایا
جھنگ کالج کی زندگی بھی اس وقت بہت سادہ تھی۔ کالج کے اندر بنیادی سہولیات کا شدید فقدان تھا۔ عبدالسلام نے کیمبرج یونیورسٹی میں 1988ء کے ایک لیکچر میں خود اس کالج کا نقشہ کھینچتے ہوئے بتایا کہ ایک دن ان کے استاد انہیں طبعیات(Physics) پڑھا رہے تھے تو فطرت میں پائی جانے والی بنیادی قوتوں کا ذکر ہوا۔ استاد محترم نے کشش ثقل اور مقناطیسیت کے بعد جب برقی قوت کا ذکر کیا تو یوں کہا: ’’بجلی ایک ایسی قوت ہے جو جھنگ میں نہیں رہتی۔ یہ صرف اس صوبے کے دارالخلافہ لاہور میں پائی جاتی ہے جو یہاں سے 100 میل مشرق میں واقع ہے۔‘‘ ایسے ماحول میں عبدالسلام نے انٹرمیڈیٹ کا امتحان نہ صرف پاس کیا بلکہ پنجاب یونیورسٹی سے ملحق تمام کالجز میں اول بھی آئے۔ بعد ازاں انہوں نے مزید تعلیم کے لیے گورنمنٹ کالج لاہور کا رخ کیا۔ ایک سیدھا سادہ دیہاتی نوجوان جب چھوٹے سے شہر کو چھوڑ کر لاہور جیسے بڑے شہرکے مشہور ترین کالج پہنچا تو گویا یہ ایک نئی دنیا تھی۔ جیسا کہ بڑے شہروں کا رواج رہا ہے کہ وہاں کے طالبعلم اپنا زیادہ تر وقت تفریح میں گزارا کرتے ہیں تو اس وقت عبدالسلام کے ساتھ طلبہ کی ایک بڑی تعداد تعلیم سے بیزار اور کھیل کود میں مشغول رہتی تھی۔ ایسے ماحول میں عبدالسلام جیسے ’’پڑھاکو‘‘ کے لیے پوری توجہ سے اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنا نہایت مشکل تھا۔

 

لاہور میں عبدالسلام کو یونیورسٹی سلیبس کے علاوہ دو مزید شعبوں میں دلچسپی پیدا ہوگئی جن میں سے ایک Pure Mathematics اور دوسرا اردو شاعری تھی۔ اردو شاعری سے ان کی دلچسپی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ انہیں درویشوں اور صوفیوں سے الفت پیدا ہوگئی تھی۔ اردو شاعری میں وہ غزل کے شوقین تھے۔ مرزا غالب ان کے محبوب ترین شاعر تھے یہاں تک کہ انہوں نے غالب پر ایک مضمون بھی لکھا جو اردو میگزین ’’ادبی دنیا‘‘ میں شائع ہوا۔ یہ ان کی شخصیت کا ایک نہایت خوبصورت پہلو تھا کہ وہ بیک وقت ریاضی اور ادب دونوں میں مہارت رکھتے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے انہوں نے بی اے اور ایم اے دونوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی جس کی بنا پر پنجاب گورنمنٹ نے انہیں وظیفہ عنایت کیا تاکہ وہ بیرون ملک جا کر اعلٰی تعلیم کا سلسلہ برقرار رکھ سکیں۔

 

اردو شاعری سے ان کی دلچسپی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ انہیں درویشوں اور صوفیوں سے الفت پیدا ہوگئی تھی۔ اردو شاعری میں وہ غزل کے شوقین تھے۔ مرزا غالب ان کے محبوب ترین شاعر تھے یہاں تک کہ انہوں نے غالب پر ایک مضمون بھی لکھا جو اردو میگزین ’’ادبی دنیا‘‘ میں شائع ہوا۔
عبدالسلام کے والد کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا آئی سی ایس (انڈین سِول سروسز) کا امتحان دے کیونکہ اس امتحان کی بدولت حاصل ہونے والی نوکری سے ان کے حالات یکسر بدل سکتے تھے۔ لیکن جس وقت عبدالسلام اپنے ایم اے کے امتحان سے فارغ ہوئے اس وقت جنگِ عظیم دوم کا زمانہ تھا۔ اور برطانیہ کی ہندوستان میں موجودگی کے باعث یہاں کے سیاسی حالات نامساعد تھے اور ایک کشمکش کی سی حالت طاری تھی۔ اسی وجہ سے 1942ء کے آئی سی ایس امتحانات ملتوی کر دیئے گئے۔ اس کے بعد جنگ کے اختتام پر 1946ء میں منعقد ہونے والے امتحان میں بھی عبدالسلام کم عمر ہونے کی وجہ سے شریک نہ ہو سکے صرف بیس سال ہونے کے باعث وہ یہ امتحان بھی نہ دے سکے۔ اسی اثنا میں اس وقت کی حکومت کے وزیر خضر حیات ٹوانہ کے نام پر حکومت پنجاب نے کچھ وظائف کا اعلان کیا جو عبدالسلام نے باآسانی حاصل کر لیے۔ اور خوش قسمتی سے انہیں کیمبرج یونیورسٹی کے سینٹ جان کالج میں داخلہ بھی مل گیا اور اسی سال ستمبر میں وہ برطانیہ چلے گئے۔ کیمبرج یونیورسٹی اس وقت ذراتی طبیعات دانوں کے لیے جنت نظیر بنی ہوئی تھی۔ فزکس کے نامور اور نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں کی ایک بڑی تعداد اس وقت کیمبرج میں موجود تھی۔ لہٰذا عبدالسلام کو اپنے ’’پڑھاکوپن‘‘ کا مظاہرہ کرنے کے بے شمار مواقع دستیاب ہوئے اور انہوں نے جلد ہی بڑے سائنسدانوں کی فہرست میں اپنا بھی نام شامل کرلیا۔1949ء میں عبدالسلام نے ذراتی طبیعات کے ایک پیچیدہ مسئلے Renormalization پر ایک اہم پرچہ لکھا جس نے یک لخت انہیں دنیا بھر کے عظیم سائنسدانوں کی نظر میں معتبر بنادیا۔ لیکن اسی دوران ان کے ساتھ ایک اور مسئلہ یہ پیش آیا کہ یونیورستی قواعد کے مطابق وہ اپنے اس مشہور پرچے کو پی ایچ ڈی کے مقالے کے طور پر پیش نہیں کر سکتے تھے۔ لہٰذا جب ۱۹۵۱ء میں اپنا وظیفہ مکمل ہونے پر انہیں پاکستان واپس آنا پڑا تو وہ اپنی پی ایچ ڈی کیے بغیر ہی واپس وطن لوٹے۔

 

1949 میں عبدالسلام نے ذراتی طبیعات کے ایک پیچیدہ مسئلے Renormalization پر ایک اہم پرچہ لکھا جس نے یک لخت انہیں دنیا بھر کے عظیم سائنسدانوں کی نظر میں معتبر بنادیا۔
کیمبرج سے واپسی پر انہیں گورنمنٹ کالج لاہور میں شعبہ ریاضی کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت عبدالسلام پورے پاکستان میں پہلے شخص تھے جنہوں نے ذراتی طبیعات پر تحقیق کر رکھی تھی لیکن کالج میں ان کی صلاحیتوں کو سراہا نہیں گیا اور انہیں کالج کے ہاسٹل کا وارڈن بننے کی پیشکش ہوئی۔ کالج کی زندگی ان کی تحقیق اور جستجوئے علم کی راہ میں رکاوٹ بن رہی تھی۔ بیرونی دنیا سے رابطہ کٹ چکا تھا۔ ایسے میں نوبل انعام یافتہ مشہور سائنسدان پالی Pauliکا ہندوستان آنا ہوا۔ پالی کے ساتھ عبدالسلام کے کافی علمی روابط قائم تھے۔ پالی نے عبدالسلام کو تار لکھا کہ وہ بھی ہندوستان تشریف لائیں تاکہ نئی تحقیق پر مزید گفتگو ہو سکے۔ عبدالسلام اس پیغام کے ملنے پر اس قدر خوش ہوئے کہ فوری طور پر کراچی سے ممبئی کی طرف روانہ ہوگئے اور کالج سے چھٹی تک نہ لے سکے۔ ممبئی سے واپس آتے ہی کالج کے پرنسپل سراج الدین نے کالج سے بغیر بتائے چھٹی کرنے پر ان کی ’’جواب طلبی‘‘ کا مراسلہ جاری کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ ان کی سالانہ خفیہ رپورٹ (اے سی آر) میں لکھا کہ عبدالسلام بلاشبہ ایک بڑے محقق ہیں مگر وہ اس کالج کی نوکری کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ تین سال تک کالج میں پروفیسر رہنے کے بعد 1954ء میں حالات نے کچھ ایسا رخ بدلا کہ عبدالسلام کا پاکستان میں رہنا محال ہوگیا اور وہ اپنے خاندان سمیت دوبارہ کیمبرج منتقل ہوگئے جہاں ان کے ریسرچ سپروائزر نے ان کے لیے ایک آسامی خالی کر رکھی تھی۔ اپنے ملک سے اس طرح ہجرت کرنا بلاشبہ ان کی حساس طبیعت پر گراں گزرا مگر ساتھ ہی ساتھ علم اور تحقیق کی طرف دوبارہ واپسی کی خوشی نے اس درد کا مداوا کرنے میں بہت معاونت کی۔

 

1957ء میں پروفیسر عبدالسلام امپیریل کالج لندن منتقل ہوگئے اور وہاں طبیعات کے پروفیسر کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے۔ اسی سال حکومت پاکستان نے انہیں دو اعزازات سے نوازا۔ ایک تو پنجاب یونیورسٹی لاہور نے انہیں اعزازی ڈی ایس سی D. Sc. کی ڈگری عطا کی، دوسرے اس وقت کے صدر پاکستان ایوب خان نے انہیں پاکستان کے تعلیمی کمیشن کا مشیر اور سائنس کیمشن آف پاکستان کا رکن منتخب کیا۔

 

پروفیسر عبدالسلام نے ایوب خان کو مشورہ دیا کہ وہ یہاں ایک بین الاقوامی مرکز برائے نظریاتی طبیعات ICTP قائم کرے تاکہ دنیا بھر کے سائنسدان یہاں اپنی تحقیق کو آگے برھائیں جس سے پاکستان کے طلبہ بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے اور ملک کو بھی فائدہ ہوگا۔ مگر ایوب خان کے وزیر مالیات نے ان کا منصوبہ یہ کہہ کر رد کر دیا کہ پسِ پردہ یہ لوگ عیاش سائنسدانوں کی تفریح کے لیے ایک فائیواسٹار ہوٹل بنانا چاہتے تھے۔
ڈاکٹر عبدالسلام نہ صرف ایک بڑے سائنسدان تھے بلکہ وہ سماج اور معاشرے کی ترقی کے لیے بے انتہا فکرمند بھی رہتے تھے۔ ان کے بقول کوئی بھی ملک سائنس کے بغیر کبھی بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہوسکتا۔ اپنے اس قول کے مطابق وہ پاکستان میں بھی سائنس کی ترقی کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ انہوں نے اس وقت کی حکومت پاکستان پر زور دیا کہ وہ اپنی مجموعی قومی آمدنی کا ایک بڑا حصہ تعلیم اور سائنس کی ترقی کے لیے وقف کرے۔ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان میں بڑے بڑے سائنس اور تعلیم کے مراکز جیسے کہ ادارہ برائے نیوکیائی سائنس و ٹیکنالوجی پاکستان PINSTECH اور خلائی تحقیق کے لئے SUPARCO سمیت دیگر بہت سے تحقیقی ادارے قائم ہوئے۔ اسی طرح ملک کی معیشت کو بہتر طور پر استوار کرنے کی خاطر انہوں سے بہت سے مضامین لکھے اور کئی منصوبے بھی متعارف کروائے جن میں بنجر زرعی زمین کو قابل کاشت بنانے کی سعی تک شامل ہے۔ لیکن انہوں نے جلد ہی یہ محسوس کیا کہ پاکستان کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ اس کے ہمسایہ ملک کے ساتھ ناخوشگوار تعلقات کی وجہ سے اسلحہ خریدنے اور بنانے میں صرف ہوجاتا ہے۔ انہوں نے ایوب خان کو قائل کیا کہ وہ جواہر لال نہرو سے مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ ایوب خان راضی ہوگئے مگر نہرو نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ نے حالات مزید خراب کر دیئے۔ پروفیسر عبدالسلام نے ایوب خان کو مشورہ دیا کہ وہ یہاں ایک بین الاقوامی مرکز برائے نظریاتی طبیعات ICTP قائم کرے تاکہ دنیا بھر کے سائنسدان یہاں اپنی تحقیق کو آگے برھائیں جس سے پاکستان کے طلبہ بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے اور ملک کو بھی فائدہ ہوگا۔ مگر ایوب خان کے وزیر مالیات نے ان کا منصوبہ یہ کہہ کر رد کر دیا کہ پسِ پردہ یہ لوگ عیاش سائنسدانوں کی تفریح کے لیے ایک فائیواسٹار ہوٹل بنانا چاہتے تھے۔

 

یہ واقعہ اور اس طرح کے دیگر واقعات نے پروفیسر عبدالسلام کو پاکستان میں سائنسی ترقی کے حوالے سے مایوس کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے اس مشن کی خاطر اقوامِ متحدہ کی طرف رجوع کیا۔ انٹرنیشنل ایجنسی برائے اٹامک انرجی IAEA کی ستمبر 1960ء کی عالمی کانفرنس میں انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ کسی ملک میں ایک ایسا مرکز قائم ہو جہاں نظریاتی طبیعات پر تحقیق ہو اور مزید یہ کہ ترقی پذیر ممالک سے طلبہ اور سائنسدانوں کو مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگرچہ اس کانفرنس میں اکثریت نے اس تجویز کے حق میں ووٹ دیئے مگر کسی بھی طرف سے بعد میں کوئی مثبت جواب نہ آیا۔ سب سے بڑا مسئلہ فنڈنگ کا تھا جس کے بغیر ایسے مرکز کا قیام ناممکن تھا۔ لہٰذا عبدالسلام کو بہت عرصہ محنت کرنا پڑی اور مختلف ذرائع آزمائے گئے۔ بالآخر ۱کتوبر 1964ء میں بین الاقوامی مرکز برائے نظریاتی طبیعات ICTP کا قیام عمل میں آیا۔ آج بھی اٹلی کے شہر ٹریسٹے میں یہ مرکز علم و تحقیق قائم و دائم ہے اور اب اس کانام عبدالسلام کے نام پر رکھ دیا گیا ہے۔

 

اس کے بعد پروفیسر عبدالسلام نے اپنی تحقیق کی طرف مزید رجوع کیا اور نئے نئے انکشافات اور سائنسی حقائق کی تلاش کا سفر جاری رکھا۔ جس کے نتیجے میں وہ فطرت کی دو بنیادی قوتوں یعنی برقی مقناطیسیت اور کمزور نیوکلیائی قوت کو یکجا کرنے میں کامیاب ہوئے۔4262205670_fb32d8fd54
ان فطری قوتوں کی یکجائیت کو ’’الیکٹروویک یکجائیت‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس نظریے کی بنیاد پر جو سائنسی پیشین گوئیاں کی گئیں ان کی تصدیق 1973ء میں یورپی مرکز برائے نیوکلیائی تحقیق CERN جیسی تجربہ گاہوں اور اس کے بعد ہونے والے دیگرتجربات سے ہوگئی اور یوں 1979ء میں دیگر دو سائنسدانوں سٹیون وائنبرگ اور شیلڈن گلیشو سمیت انہیں سائنس کے سب سے بڑے انعام نوبل پرائز سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام پہلے پاکستانی سائنسدان ہیں جنہیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق نے انہیں باقاعدہ پاکستان آنے کی دعوت دی جسے ڈاکٹر عبدالسلام نے بخوشی قبول کیا اور ان کا انتہائی شاندار استقبال کیا گیا۔

 

ڈاکٹر عبدالسلام نے اپنی باقی زندگی بھی نہ صرف علم کی جستجو اور تحقیق کی نئی شاہراہوں پر صرف کردی بلکہ سائنس کو ترقی پذیر ممالک تک پہنچانے میں انتھک محنت کی۔ بلاشبہ ان کی عملی زندگی انکے ہی ایک قول کا مصداق قرار دی جاسکتی ہے:

 

“علم تمام انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے”

 

دنیائے علم کا یہ عظیم سفیر کچھ عرصہ علیل رہنے کے بعد 1996ء میں دنیائے فانی سے کوچ کرگیا مگر اپنے پیچھے سائنس اور علم کی جستجو و اشاعت کی ایک تاریخ رقم کر گیا!