Categories
نقطۂ نظر

توبہ! تیرے یہ تعلیمی اشاریے

میری آنکھ بھی بہت ساری میری ہی طرح کی آنکھوں کے ساتھ وسطی پنجاب کے ایک گاؤں میں کھلی۔ یہ ایسا گاؤں تھا کہ جہاں کے سکول کی چھت نیلا آسمان تھا، اور اس کی چار دیواری افق کے اس پار تک تھی جہاں مٹیالا ہوتا ہوا آسمان دھرتی سے گلے مِل رہا ہوتا تھا۔ میرے اسکول کے اساتذہ کئی رنگوں اور مختلف ڈھنگوں کے تھے لیکن اس تنوع میں بھی ایک یکتائی نمایاں تھی۔ وہ اصحاب اتنے توانا ضرور تھے کہ ساتھ والے گاؤں سے اپنی سائیکل کے پیڈل مار کر اسکول تک پہنچ جاتے تھے۔ تحقیق بہت ہوئی، لیکن پتا نہ چل سکا کہ یہ اساتذہ گھر سے ناشتہ جلدی میں نہیں کرکے آتے تھے یا پھر “حلقہِ پوری گھر والیاں” میں با امرِ مجبوری نرم تھےاور اسی پیار کے تسلط میں خالی پیٹ گھر سے آجاتے تھے۔
ہم سارے طالبانِ علم کڑکڑاتی سردیوں کی دیروحرم کی پابندیوں سے آزاد ٹھنڈ سے ڈرے منہ پہ صرف گیلا ہاتھ مار کےاور سر سرسوں کے تیل سے “چوپڑ” کے اسکول پہنچتے۔
جیسا کہ میں نےعرض کیا تحقیق بہت ہوئی لیکن کوئی حتمی رائے قائم نہ ہو سکی: گوگل تھا نہیں، فیس بک نے بھی ابھی منہ ہاتھ نہیں دھویا تھا، ٹویٹر بھی نہیں چہکا تھا، نہ ہی کسی موبائل فون سے فلسفیانہ اور ہر گُتھی کھول دینے والے پیغاموں کا سیلِ رواں آنا شروع ہوا تھا، مقدس کتابیں بھی خاموش رہیں اور مجتہد بھی انگشت بدنداں ہی رہا۔ اس “نان-نالج اکانومی” میں یہ راز حالات کی مٹھی میں بند اپنی سانسوں کو تھامے ساون بھادوں بھیگتا رہا۔ چونکہ وقت نے اپنے گلے میں اٹکا راز نہ اُگلا اس لیے میں اور میرے ہم جماعت اس سربستہ راز کے اسباب سے اپنی بانہیں چھڑا کے اس کے نتائج و عواقب کی پینگیں ہی جھولتے رہے۔
ہم سارے طالبانِ علم کڑکڑاتی سردیوں کی دیروحرم کی پابندیوں سے آزاد ٹھنڈ سے ڈرے منہ پہ صرف گیلا ہاتھ مار کےاور سر سرسوں کے تیل سے “چوپڑ” کے اسکول پہنچتے۔ اسکول پہنچتے ہی استاد جی ہماری صبح کی “لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری” کرانے کہ بعد کبھی کسی طالبِ علم کو اور کبھی دوسرے طالبِ علم کو ناشتے کی فرمائش ڈال دیتے۔ اس فرمائش میں ہی ان کے متنوع مزاجوں کی ایکتا کا احساس تھا۔ اس ایکتا کے عملی اظہار کےبعد، طالبانِ علم میں سے جس کسی کے نام ناشتہ فراہم کرنے کا قرعہ نکلتا وہ اسے اپنے بختوں کی بلندی جانتا اور اگلی جماعت میں ترقی کا وظیفہ گردانتا گھر کی راہ لیتا۔ اس خوش بخت کے لیے گھر کے گھی اور مکھن کے پراٹھے، چاٹی کی لسّی اور گھر کی مرغیوں کےاپنی افزائشِ نسل کی نیت سے دئیے گئے دیسی انڈوں کا آملیٹ استاد کی خدمت میں پیش کرنا اگلی جماعت میں ترقی کا آسان ترین راستہ تھا۔
زیادہ تر بچوں کے گھر والے کچھ اپنے دیہاتی و روایتی زمیندارانہ رکھ رکھاؤ اور کچھ عام احساسِ مروت میں استادجی کے “درویشانہ” تقاضے پورے کردیا کرتے
میرے قاری!
جی ہاں آپ ہی سے مخاطب ہوں، میرے محترم قاری! آپ اپنی شہری عقل کے احساس میں کُپا ہو کر اس میزبان طالب علم کو چھوٹا مت جانیے اور منطقی نتیجے کے طور اسے بچہ ہر گز نہ سمجھیے گا۔ درحقیقت وہ اپنے درخشاں مستقبل کو پانے کی بابت بڑا عملیت پسند، منطقی اور اپنے تئیں اہل نظر ہوتا تھا!
بھلا کیسے؟
اس لیے کہ وہی استاد امتحانی پرچہ نویس، وہی نگران، وہی ممتحن جو ہوتا، بالکل اسی طرح جس طرح عدالتِ عظمٰی کا “فُل کورٹ بنچ” اور اس کے ہاتھ میں “آئین کی بنیادی ساخت” کا مور پنکھ سیاست دانوں کے آخری تکیہ گاہ ہے۔
یہ تواضع صرف ناشتے تک ہی محدود نا رہتی بلکہ “آدھی چھٹی” جسے “تفریحی وقفے” کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا، اس دورانیے تک اساتذہ کرام کو چائے کی طلب ہوجاتی تھی۔ اس تفریحی وقفے کے لیے ایک نئے میزبان طالب علم کے نام قرعہِ سعادت نکالا جاتا۔ صبح سے آپس میں باتیں کر کر کےاور مانیٹر سے ڈر ڈر کے بیزار ہوئے بچے بھاگم بھاگ گھر جاتے کہ چلوآخر کچھ تو کرنے کو ملا۔ جس بچے پے یہ میزبانی تھوپی جاتی وہ ایک عجیب سے اندازِ بے زبان سے اپنے آپ کو خطّے کی عالمی طاقت سمجھنا شروع کردیتا اور مانیٹر کی دست اندازی سے کم از کم اس دن محفوظ ہو جاتا۔
زیادہ تر بچوں کے گھر والے کچھ اپنے دیہاتی و روایتی زمیندارانہ رکھ رکھاؤ اور کچھ عام احساسِ مروت میں استادجی کے “درویشانہ” تقاضے پورے کردیا کرتے لیکن بچوں کی مائیں جن کے کندھوں پہ ان ناز برداریوں کا اہتمام کرنے کی ذمے داری ہوتی تھی وہ ضرور ایک آدھ صلوات ان اساتذہ کے شکمِ بے پیندہ کی نظر کرتیں۔ بہر حال اس روز روز اور دن میں کئی بار کی جبری میزبانی سے ڈسے اس کہانی کے سب کردار کہیں نا کہیں ان اساتذہ سے متعلق دل ہی دل میں کوئی نہ کوئی رائے ضرور بنالیتے۔ لیکن اس سب کے باوجود ان اساتذہ کی شکم پروری ہوتی رہی۔ اور جیسا کہ بھرے پیٹوں کے متعلق کہا جاتا ہے اور درحقیقت ایسا ہوا بھی کہ ان کے حاملین میں نازک خیال اور سوچیں کم ہی جنم لے پائیں۔ ڈپٹی نذیر احمد کی سگھڑ استانی اصغری کی خودداری کو ہم محض ایک کتابی اور دنیا سے دور کا خیالی پلاؤ ہی سمجھتے رہے۔
جب میرے ہمجولی شہر میں پانچویں جماعت کا بورڈ کا امتحان دینے گئے تو پتا چلا کہ امتحانوں کے سب دریا دیسی انڈوں کے آملیٹوں اور دودھ پتیوں کی کشتیوں سے پار نہیں ہوتے
پیٹ پوجا کے علاوہ طالبانِ علم سے خدمات بھی مستعار لی جاتیں۔ ان خدمات میں استاد جی کی سائیکل کی چمکانے کی سعادت بھی شامل تھی۔ یہ سعادت ہم طالب علموں کے لیے اس لیے بھی اہم تھی کہ جونہی سائیکل صاف کرنے اور چمکانے کا کام پایہِ تکمیل کو پہنچتا ہماری “پوری چھٹی” کا وقت ہوجاتا، گویا سائیکل پہ پڑی گرد کی صفائی ہی ہمارا بغیر بیٹری اور بغیر چابی کا گھڑیال تھا۔ ایک چیز البتہ اس تقسیمِ کار میں ہمیشہ بڑی واضح رہی کہ سائیکل کی صفائی کا فریضہ ہمیشہ انہی بچوں کو سونپا جاتا جن کا ناشتہ اور گھر سے آئی “آدھی چھٹی” کے وقت کی چائے اس وقت کی پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مسلمہ مگر ان پڑھ معیارات کے مطابق نہ ہوتے تھے۔ یہ ایسے طالبانِ علم تھے جن کی غربت کی وجہ سے ان سے ناشتے اور چائے کی توقع باندھنا ایک غیر منطقی اور غیر حقیقت پسندانہ خیال ہوتا۔ گویا “ایں سعادت بزور بازو است “کا بھی بھرپور اہتمام تھا۔
ان ناشتوں، کھانوں اور چائے کے نصابوں اور عملی امتحانوں والے اسکول میں جتنے درجے موجود تھے وہ تو طالبانِ علم پاس کرتے گئے لیکن بکرے کی ماں ہمیشہ کی طرح زیادہ دیر تک خیر نہ منا سکی۔ جب میرے ہمجولی شہر میں پانچویں جماعت کا بورڈ کا امتحان دینے گئے تو پتا چلا کہ امتحانوں کے سب دریا دیسی انڈوں کے آملیٹوں اور دودھ پتیوں کی کشتیوں سے پار نہیں ہوتے۔ میرے بہت سے ہم جماعت سکول کے حالات کے باعث امتحان کی پہلی سونامی کی نذر ہو گئے۔ اس کے بعد پرائمری پاس کرنے کی ان کی تمام کوششیں پاکستانی ٹیم کی حالیہ کرکٹ ورلڈکپ کرکٹ میں ایک اور نیازی بنانے کی کوشش جیسی ہی ثابت ہوئیں۔ ان میں سے زیادہ تر آج کل اپنے کھیتوں میں ٹریکٹر چلاتے ہیں یا وزارت صحت حکومتِ پاکستان کی خبرداریوں سے بےخبر افغانستان کی پوست کی لہلاتی فصلوں کے “پکے صارف” ہیں۔
میرے والد صاحب پتا نہیں کیسے مناسب حد تک زمین و جائیداد کے مالک ہونے کے باوجود کسی زمانے میں کچھ نہ کچھ پڑھ لکھ گئے تھے، حالانکہ اس زمانے میں جاٹ گھرانوں میں علم دوستی کی توقع اتنی ہی غیر حقیقی تھی جتنی اردو اخبارات کے کالم نویسوں سے نسیم حجازیت اور “اوریاتِ مقبولیہ” کے علاوہ کسی تازہ خیال کی آس۔ اباجی کے توسط سے مجھے بھی گھر پہ کچھ اردو، انگریزی اور حساب کی پڑھائی اور ‘سوجھائی’ میسر رہی۔ مجھے آج بھی حیرانی ہوتی ہے کہ ان کی ذات و شخصیت میں ایسا کیا تھا جو وہ اپنے ارد گرد کے حالات سے اوپر اٹھ آئے تھے۔ بہرحال کچھ سوالوں کو میں “خدا کی مرضی” کہہ کر اپنے ذہن کو سوچ کی اسیری سے بچا لیتا ہوں، ویسے بھی میرے آس پاس کے مسلمانوں میں تو یہی مشہور ہے کہ:
تمہیں تو شہر اس لیے بھیجا تھا کہ کوئی اچھی نوکری کروگے، کوئی وکیل، قانون گو، تھانیدار یا پھر پٹواری ہی لگ جاؤ گے، لیکن تم تو استاد بن گئے، ضائع ہی کیا اپنے آپ کو
“سوچی پیا، تے بندہ گیا”
اسی خیال سے تو لوگ سوچتے ہی نہیں اور اگر کوئی مرتد یا کافر سوچ سے مدد لے کے کسی مسئلے کا حل نکال لے، نئی اختراع کرلے، نئی ٹیکنالوجی کا سامان کرلے تو ہم اسے یہ کہہ کہہ کے اپنے پاؤں کے نیچے رولتے رولتے کچومر نکال دیتے ہیں کہ،”اس کا کلیہ تو تیرہ سو پچانوے سال یا چودہ سو چھتیس سال پہلے ہماری فلانی کتاب میں بہت واضح لفظوں میں موجود تھا، اگر اس موئے نے اسے پڑھ کے یہی چیز بیان کردی تو کون سی نئی حور ڈیزائن کر لی۔”
لیکن دماغ پہ زور نہ دینے کی مسلمہ ثقافتی روایت و عادت کے باوجود کبھی کبھی ایسے ہی خیال آ جاتا ہے کہ ہمارے دانش کدہ ہائے دینیہ کے طُلّاب و شُیوخ کے ہاتھوں حادثاتی طور پہ بھی کبھی ایسی دریافت کیوں نہیں ہو جاتی، لیکن اگلے ہی لمحے تُھو تُھو کر کے اپنے منہ اور خیال کو مکرر پاک صاف کر لیتا ہوں اور اپنی اندرکی سماجی و جذباتی ذہانت اور عملیت پسندی کی داد دیئے بغیر نہیں رہتا۔ اوہ، بات ہو رہی تھی کہ میں کچھ گھر میں ہوئی تعلیم کے ہاتھوں پانچویں کے بورڈ امتحان کی شناوری میں کامیاب ہوگیا۔ اور اس کے بعد بھی “رِڑھتا کِھڑتا” مختلف تعلیمی درجوں کا ایک بعد دوسرا دریا عبور کرتا گیا۔
گرمیوں کے روزوں کی طرح لمبی ہوتی بِپتا کے ذہنی دفتر میں موجود کچھ صفحوں کو چھوڑتا ہوں، کہ وہ کہانی پھر سہی، سال ہا سال کی دُھول چاٹنے کے بعد ایک دن وفاقی سروس کمیشن نے مکتوب بھیجا کہ آپ انگریزی پڑھانے کہ اہل قرار پائے ہیں، مجھے ان کی رائے پہ گو کہ سہو کا گمان تھا اور قائم بھی ہے، لیکن چپکے سے مان لیا۔لیکن میری اس نوکری کی خبر جونہی میرے اسی وسطی پنجاب کے گاؤں میں پہنچی تو میرے والد کے علاوہ باقی سب جیسے شرما رہے تھے کہ میں استاد کیوں لگ گیا ہوں۔ مجھے کچھ دیر تک تو سمجھ نہیں آئی لیکن جونہی کسی رشتے دار نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے کہا کہ “تمہیں تو شہر اس لیے بھیجا تھا کہ کوئی اچھی نوکری کروگے، کوئی وکیل، قانون گو، تھانیدار یا پھر پٹواری ہی لگ جاؤ گے، لیکن تم تو استاد بن گئے، ضائع ہی کیا اپنے آپ کو!” اس وقت مجھے اپنے اسکول کےاساتذہ کے اُن روزانہ کے “درویشانہ تقاضوں” اور ان کی خاموشی وتسلسل کے نتیجے میں گھڑے گئے مسبوکات یاد آئے جس کی ان اساتذہ کو کوئی فکر نہیں تھی۔
پس تحریر: یوں تو کتابوں اور تحریروں کے انتساب پہلے صفحات پر لکھے جاتے ہیں، پر میں وہی کروں گا جس طرح کا ہم جیسوں نے الٹا سیدھا پڑھا کہ ہم انتساب آخر پہ تحریر کریں گے۔ میں اس مضمون کا انتساب ان ہزاروں طالبات کے نام کرتا ہوں جو بمشکل اسکول تک تو گئیں لیکن وہاں اپنی کروشیا کاڑھتی، سویٹر بُنتی استانیوں کے بچے ہی کِھلاتی رہ گئیں، ان کے گھروں کی صفائیاں اور پونچھائیاں ہی کرتی رہیں اور جب کبھی خارجی امتحان ہوئے تو ڈراپ آؤٹ ہو کےانسانی ترقی کے ملکی اشاریوں کو اعداد کی بے رنگی مہندی لگاتی رہیں۔
کاش کہ میں اس جیسی بپتاؤں کے آخر پہ ختم شد لکھنے کی زمینی گواہی آج کل ہی میں پا لیتا۔ لیکن حالات دریائے جہلم کے پُل کی طرح اوپر سے ہی گزرتے جاتے ہیں۔ آج بھی اسکول کی سطح پہ اساتذہ کے پیشے کو کوئی سنجیدہ لینے کوتیار نہیں۔ اسے بس نیم پیشہ ہی سمجھا جاتا ہے اور بہترین دماغ اس طرف رخ کرنا اچھا خیال نہیں کرتے؛ جس کی کئی وجوہ ہیں ان میں سے ایک اس پیشے کا نیم پیشہ ہونا بھی ہے۔ پاکستان میں تعلیم و تعلّم کی تاریخ حرکت ضرور کررہی ہے لیکن انہی منحوس چھوٹے چھوٹے دائروں میں، انہی استادوں کے سائیکلوں کے چکّوں میں!
Categories
اداریہ

“خیبرپختونخواہ میں ایک ہزار مکتب سکول بند کیے جاچکے ہیں”

campus-talks

سوات کے مختلف علاقوں میں 96 مکتب سکولوں کی بندش کے خلاف احتجاج سے متعلق بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے غیرسرکاری تنظیم الف اعلان کے اہلکار ڈاکٹرجواد اقبال کا کہنا ہے کہ اب تک خیبرپختونخواہ میں ایک ہزار مکتب سکول مختلف وجوہ کی بناء پر بند کیے جاچکے ہیں۔ سوات میں مکتب سکولوں کی بندش کے خلاف طلبہ اور والدین کی جانب سے منگل 11 اگست کو مینگلور چوک میں احتجاج بھی کیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق سکولوں کی بندش کے احکامات صوبائی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر دیے گئے تھے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بند کیے جانے والے مکتب سکولوں میں 1700 طلبہ زیر تعلیم تھے۔
سوات کے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر پلاننگ اینڈ ڈویلمپنٹ فضل خالق کے مبطابق سوات میں مکتب سکولوں کی تعداد 123 ہےجن میں سے96 کو بند کردیاگیا ہے۔ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سوات میں مکتب سکولوں کی اکثریت بغیر عمارت کے قائم تھی اور پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان حملے کے بعد یہ سکول غیر محفوظ تصور کیے جارہے تھے جس کی وجہ سے صوبائی حکومت کی طرف سے مکتب سکولوں کو بند کرنے کے حوالے سے سخت ہدایات ملی تھیں۔ فضل خالق کا کہنا تھا کہ متاثرہ طلبہ کو دیگر تعلیمی اداروں میں منتقل کردیا جائے گا تاکہ ان کی تعلیم کا عمل متاثر نہ ہو۔ دوسری جانب مظاہرین کے مطابق مکتب سکول متاثرہ طلبہ کے رہائشی علاقوں سے قریب واقع تھے۔ نئے سکولوں کا فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کو آمدورفت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Categories
اداریہ

لکی مروت؛ ڈیڑھ سو سکول چاردیواری سے محروم

campus-talks

صوبائی حکومت کی جانب سے تمام سکولوں کو سیکیورٹی کی فراہمی کے دعووں کے باوجود لکی مروت کے ڈیڑھ سو سکول تاحال چاردیواری سے محروم ہیں۔ 12 جنوری کو موسم سرما کی تعطیلات کے خاتمے کے بعد سکولوں میں تدریس کے آغاز کے لیے چار دیورای، کلوزسرکٹ کیمروں، مسلح محافظوں اور سکول عملہ کا ریکارڈ رکھنے کی شرط عائد کی گئی تھی تاہم لکی مروت کے بیشتر سکول مناسب سیکیورٹی اقدامات کیے بغیر کھول دیے گئے ہیں جس کے باعث ان سکولوں کے طلبہ اور اساتذہ کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
صوبائی حکومت کی جانب سے تمام سکولوں کو سیکیورٹی کی فراہمی کے دعووں کے باوجود لکی مروت کے ڈیڑھ سو سکول تاحال چاردیواری سے محروم ہیں۔
12 جنوری کو سکول کھلنے کے بعد بعض سکولوں کے سربراہان نے اپنے طور پر دیوروں پر شیشے کے ٹکڑے لگانے، اساتذہ کو سیکیورٹی انچارج بنانے اور درجہ چہارم کے ملازمین کو داخلی دروازوں پر تعینات کرنے جیسے ناکافی اقدامات کیے ہیں تاہم علاقے کے زیادہ تر سکول مناسب سیکیورٹی سے محروم ہیں۔ لکی مروت کے ایک مقامی استاد رحیم گل کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے تاحال فنڈز موصول نہیں ہو سکے جس کے باعث سیکیورٹی کے مناسب انتظامات نہیں کیے جا سکے۔
محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق لکی مروت کے 3 ہائی سکول، 12مڈل سکول جبکہ 136 پرائمری سکول چار دیواری سے محروم ہیں سب کے لیے چھ کروڑ سے زائد رقم کی ضرورت ہے۔ لکی مروت کے چارسو کے قریب سکولوں کی چار دیواری بلند کرنے کے لیے بھی نو کروڑ سے زائد کے فنڈز درکار ہیں۔ ان چار سو سکولوں میں 8ہائیر سیکنڈری، 52 ہائی سکول،39 مڈل سکول اور 298 پرائمری سکول شامل ہیں۔ محکمہ تعلیم کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر ذرائع ابلاغ کو آگاہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے تاحال مطلوبہ رقم فراہم نہ کیے جانے کے باعث سیکیورٹی کے لیے چار دیواری کی تعمیر اور توسیع کا کام نہیں کیا جاسکا۔
Categories
اداریہ

پولیس والے واپس جائیں گے تو سکول اور کالج استعمال کے قابل نہیں رہیں گے

“پولیس والے جب سکول اور کالج کی عمارت خالی کر کے واپس جائیں گے تب یہ استعمال کے قابل نہیں رہے گی، جاتے ہوئے پولیس اہلکار دیواروں پر فحش تصاویر اور کلمات لکھ جاتے ہیں، گملے، فرنیچر اور عمارت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔” فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن(ایف ڈی ای) کے ایک اہلکار نے آزاد جموں و کشمیر پولیس کے ایک ہزار کے قریب اہلکاروں گرلز سکول اور کالج کی عمارت میں ٹھہرائے جانے پر ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا۔ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کے جلوس اور احتجاج روکنے کے لئے حکومت کی استدعا پر مظفرآباد، بھمبر، کوٹلی اور میرپور سے پولیس اہلکار وفاقی دارلحکومت بھیجے گئے جنہیں اسلام آباد ماڈل گرلز کالج سیکٹر G6/1-4اور ماڈل گرلز سکول سیکٹر G6/1-3 میں ٹھہرایا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت ضرورت پڑنے پر پنجاب اور آزاد جموں و کشمیر سے پولیس نفری طلب کرتی ہے ۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری کی آمد پر ہنگامہ آرائی کے پیش نظر پولیس اہلکار بلائے گئے تھے جنہیں تعلیمی اداروں میں ٹھہرایا جاتا ہے۔ فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے مطابق عمارات اور فرنیچر کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے لئے فنڈز موجود نہیں جس کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کی واپسی کے بعد تدریس کا عمل شروع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایف ڈی ای اہلکار کے مطابق علاقہ مجسٹریٹ سے سکول اور کالج کی عمارات استعمال نہ کرنے کی استدعا کی گئی تھی تاہم انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا اور اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سکول کی عمارات میں پولیس اہلکاروں کی رہائش کا بندوبست کیا۔علاقہ مجسٹریٹ مرتضی چانڈیو کے مطابق عمارت کار سرکار کے لئے مخصوص کی گئی ہے اور پولیس اہلکاروں کو عمارت کو نقصان نہ پہنچانے کی خصوصی ہدایت کی گئی ہے۔ “موسم گرما کی تعطیلات کی وجہ سے سکول اور کالج بند ہیں ، عمارت ذاتی نہیں سرکاری مقاصد کے لئے استعمال کی جارہی ہے۔ ” مجسٹریٹ نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا۔
اس سے قبل جنوری میں طاہرالقادری کے دھرنے کے موقع پر آنے والے پولیس اہلکاروں نے سردی کی شدت سے بچنے کے لئے سکولوں کی کرسیاں اور میزیں تک جلا ڈالی تھیں۔اسلام آباد پولیس کی کم نفری کے باعث آزاد کشمیر پولیس 1994 سے اسلام آباد میں سیاسی ہنگامہ آرائی اور مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لئے بلائی جا رہی ہے۔