Categories
اداریہ

“حکومت سیاسی مفاد کے تحت سرکاری وسائل استعمال کرتی ہے”

campus-talks

خیبرپختونخواہ کے ضلع کڑک کے علاقہ بندہ داود شاہ میں قائم کالج عملہ اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ کڑک ضلع میں آل پاکستان سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلا س کے دوران طلبہ نے بندہ داود خان کالج فار بوائز میں سائنس کی تدریس کے لیے اساتذہ کی عدم تعیناتی، پینے کے پانی کی عدم فراہمی اور سفری سہولیات میسر نہ ہونے کی نشاندہی کی۔ جنوری کے اواخر میں ہونے والے اس اجلاس میں آل سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مقامی صدررضا خان خٹک، عہدیداران اور طلبا نے شرکت کی۔
طلبا کا کہنا تھا کہ مقامی کالج میں سائنس پڑھانے والے اساتذہ کی نشستیں عرصہ دراز سے خالی ہیں اور انتظامی نااہلی کے باعث ان نشستوں پر نیا عملہ تعینات نہیں کیا گیا۔ طلبہ نے منتخب مقامی اراکین اسمبلی کی عدم دلچسپی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں کالج کی مخدوش صورت حال سے لاتعلق قرار دیا۔
اجلاس میں شریک آل پاکستان سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صدر رضا خان کا کہنا تھا “حکومتی ترجیحات سیاسی مفادات ہیں اس لیے وہ وہاں رقم خرچ کرتے ہیں جہاں انہیں سیاسی فائدہ پہنچنے کی امید ہو۔تعلیم حکم رانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں۔” طلبہ نے حکومت سے بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عملہ کی تعیناتی مطالبہ کیا۔
Categories
اداریہ

پولیس والے واپس جائیں گے تو سکول اور کالج استعمال کے قابل نہیں رہیں گے

“پولیس والے جب سکول اور کالج کی عمارت خالی کر کے واپس جائیں گے تب یہ استعمال کے قابل نہیں رہے گی، جاتے ہوئے پولیس اہلکار دیواروں پر فحش تصاویر اور کلمات لکھ جاتے ہیں، گملے، فرنیچر اور عمارت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔” فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن(ایف ڈی ای) کے ایک اہلکار نے آزاد جموں و کشمیر پولیس کے ایک ہزار کے قریب اہلکاروں گرلز سکول اور کالج کی عمارت میں ٹھہرائے جانے پر ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا۔ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کے جلوس اور احتجاج روکنے کے لئے حکومت کی استدعا پر مظفرآباد، بھمبر، کوٹلی اور میرپور سے پولیس اہلکار وفاقی دارلحکومت بھیجے گئے جنہیں اسلام آباد ماڈل گرلز کالج سیکٹر G6/1-4اور ماڈل گرلز سکول سیکٹر G6/1-3 میں ٹھہرایا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت ضرورت پڑنے پر پنجاب اور آزاد جموں و کشمیر سے پولیس نفری طلب کرتی ہے ۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری کی آمد پر ہنگامہ آرائی کے پیش نظر پولیس اہلکار بلائے گئے تھے جنہیں تعلیمی اداروں میں ٹھہرایا جاتا ہے۔ فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے مطابق عمارات اور فرنیچر کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے لئے فنڈز موجود نہیں جس کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کی واپسی کے بعد تدریس کا عمل شروع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایف ڈی ای اہلکار کے مطابق علاقہ مجسٹریٹ سے سکول اور کالج کی عمارات استعمال نہ کرنے کی استدعا کی گئی تھی تاہم انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا اور اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سکول کی عمارات میں پولیس اہلکاروں کی رہائش کا بندوبست کیا۔علاقہ مجسٹریٹ مرتضی چانڈیو کے مطابق عمارت کار سرکار کے لئے مخصوص کی گئی ہے اور پولیس اہلکاروں کو عمارت کو نقصان نہ پہنچانے کی خصوصی ہدایت کی گئی ہے۔ “موسم گرما کی تعطیلات کی وجہ سے سکول اور کالج بند ہیں ، عمارت ذاتی نہیں سرکاری مقاصد کے لئے استعمال کی جارہی ہے۔ ” مجسٹریٹ نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا۔
اس سے قبل جنوری میں طاہرالقادری کے دھرنے کے موقع پر آنے والے پولیس اہلکاروں نے سردی کی شدت سے بچنے کے لئے سکولوں کی کرسیاں اور میزیں تک جلا ڈالی تھیں۔اسلام آباد پولیس کی کم نفری کے باعث آزاد کشمیر پولیس 1994 سے اسلام آباد میں سیاسی ہنگامہ آرائی اور مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لئے بلائی جا رہی ہے۔