Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی- قسط نمبر 7

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

قسط نمبر 7

 

دہلی ایجوکیشن پوائنٹ جانے والے دنوں کی شروعات میں ہم لوگ شاہین باغ میں رہا کرتے تھے، یہ علاقہ اس وقت جوگا بائی سے کچھ چار میل کی دوری پر تھا اس لیے صبح سویرے میں اور میری بہن شائستہ عرف خوشبو ساتھ میں گھر سے نکلا کرتے تھے۔وہ مکان، جس میں ہم اس وقت رہ رہے تھے، ایک منزلہ مکان تھا اور پورے علاقے میں بھوتیا گھر کے نام سے مشہور تھا۔ہمارے خالو نے اپنے ایک بلڈر دوست سے سفارش کرکے ان دنوں ہمیں وہ مکان دلوایا تھا، سردیوں کا موسم تھا اس لیے پنکھے کی اس وقت کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی، ہمارے پاس رضائی نما کچھ گدے تھے اورخالہ نے ہم کو اپنے پاس سے کچھ اوڑھنے بچھانے کا سامان بھی دے دیا تھا، جس کی مدد سے امید تھی کہ سردیاں با آسانی کٹ جائیں گی۔

 

کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ وہ خود کشی نہیں تھی بلکہ راتوں رات اسے قتل کرکے گھر میں ڈال دیا گیا تھا،ہماری اس وقت کی پڑوسن کا کہنا تھا کہ یہ حرکت اس عورت کے بھائی کی ہی تھی جو کہ مکان ہتھیانا چاہتا تھا۔
اس مکان کے بھوتیا مشہور ہونے کے پیچھے اصل قصہ یہ تھا کہ اس میں ایک طلاق شدہ عورت نے خودکشی کی تھی۔ کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ وہ خود کشی نہیں تھی بلکہ راتوں رات اسے قتل کرکے گھر میں ڈال دیا گیا تھا، ہماری اس وقت کی پڑوسن کا کہنا تھا کہ یہ حرکت اس عورت کے بھائی کی ہی تھی جو کہ مکان ہتھیانا چاہتا تھا۔مکان تو عورت کے مرنے پر اسے حاصل ہو سکتا تھا، مگر وہ چونکہ آسیب زدہ مشہور ہوچکا تھا اس لیے کوئی اسے خریدنے پر آمادہ نہ ہوتا تھا، ایسے گھر میں رہنے کے لیے ہم لوگوں کی فیملی بہت مناسب تھی۔وجہ یہ تھی کہ ہمیں بھوتوں، چڑیلوں کا سامنا کرنے کی بڑی مشق تھی۔ہماری والدہ ایک مضبوط دل گردے والی عورت ہیں، جن کے اعصاب پر اس قسم کی چیزوں کا کوئی گہرا اثر نہیں پڑتا۔البتہ ہمارے ددھیال میں ایک خاص قسم کا وظیفہ بند ماحول جن، بھوت پریتوں، اثرات، نظر بد اور طرح طرح کی چیزوں سے انسان کے اعتماد کو کمزور کرنے کے لیے کافی تھا۔مجھے یاد ہے کہ میں اور میری بہن خوشبو صبح صبح کڑکتی سردی میں ،کہرا کھاتے ہوئے اپنی اپنی منزلوں کو جانے کے لیے نکلا کرتے تھے،اور ایک لمبی سڑک پر نالے کے برابر چلتے چلے جاتے (آج کل اس روڈ کو شبلی نعمانی روڈ کے نام سے پہچانا جاتا ہے)جب تک کہ پلیا نہ آجاتی۔پلیا اور اس پر بنی ہوئی اچھی خاصی پولیس چوکی ، وہ جگہ تھی، جہاں سےسائیکل رکشے مل جایا کرتے۔میں اور میری بہن دونوں بہت دھان پان سے تھے، ہم رکشے میں ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر بیٹھا کرتے اور وہاں سے بٹلہ ہاوس بس سٹینڈ تک آجاتے۔واپسی میں ہم سائیکل رکشے کو گھر تک لے جایا کرتے، شام کے اندھیرے میں چمگادڑوں کا شور، کہرے کی پرت اور سڑکوں کے اوبڑ کھابڑ پڑاو اس چھوٹے سے سفر کواچھا خاصا ایڈونچرز بنادیتے تھے۔ہمیں ڈر یہ ہوتا تھا کہ کہیں رکشہ کسی پتھر سے ٹکرا کر نالی میں نہ گرپڑے، کیونکہ ایسا بہت سے لوگوں کے ساتھ ہوبھی چکا تھا، مگر ہم گنگا کے گنہگاروں کی اس بدبو دار سازش میں ہرگز شریک نہیں ہونا چاہتے تھے، اس لیے نام خدا لب پر اور ذکر خدا دل میں دھر کر گھر تک پہنچتے اور چین کی سانس لیتے۔

 

اس مرد اساس معاشرے کی بنیاد کو پانی دینے والی عورتیں ہی ہیں، جو اپنی جوانی ڈھلتے ہی اور سینہ مرجھاتے ہی دوسری عورتوں کی جوانی سے ایک خاص قسم کا بغض دل میں پال کر بیٹھ جاتی ہیں۔
میری بہن ان دنوں ایک بیوٹی پارلر میں کام کرتی تھی، وہ بطور ہیئر ڈریسر وہاں کام پر لگ گئی تھی، دلی آنے کے بعد ہم سب اولادوں میں سب سے پہلے خودکفیل ہوجانے والی میری بہن ہی تھی، جو اس وقت ہم سب سے زیادہ کماتی تھی ، وہ اپنے سوٹ پر ایک ہلکا اونی جیکٹ ڈال لیا کرتی تھی، بالوں کو بڑے سلیقے سے بناتی، اپنی بھرپور سادگی میں بھی اسے خود کو بنائے رکھنے کا سلیقہ خوب آیا کرتا تھا۔بہت سی عورتیں اس سے اسی بات پر بعد میں چڑنے لگیں کہ اس نے اپنے بل بوتے پر اتنے پیسے کس طور کمالیے کہ وہ جینز بھی پہننے لگی ہے۔ہمارے یہاں جینز پہننے کی لڑکیوں کو اجازت اس لیے نہیں ہے کیونکہ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان کے پاس بھی کولہے ہیں، جو حقیقت ظاہر ہے کہ کسی طور مرداساس معاشرے میں قبول نہیں کی جاسکتی، لیکن اس مرد اساس معاشرے کی بنیاد کو پانی دینے والی عورتیں ہی ہیں، جو اپنی جوانی ڈھلتے ہی اور سینہ مرجھاتے ہی دوسری عورتوں کی جوانی سے ایک خاص قسم کا بغض دل میں پال کر بیٹھ جاتی ہیں۔یہ تو بہت اچھی بات ہوئی کہ قدرت نے کوئی ایسا طریقہ انسان کو عطا نہیں کیا، جس کی بنیاد پر وہ عورت کے سینے کو اندر کی جانب ڈھکیل کر اسے دن میں بالکل اپنے جیسا بنالیتا اور جب یہ کام روایت اور تقدیس کے زمرے میں شامل ہوجاتا تو اس کی ساری ذمہ داری بدصورت، جل ککڑی اور جھری زدہ عورتوں کے ہاتھوں میں چلی جاتی۔بہرحال میں بتا یہ رہا تھا کہ میری بہن بٹلہ ہاوس میں ایک بیوٹی پارلر میں چلی جایا کرتی اور میں وہاں سے پیدل چلتا ہوا جوگا بائی کی طرف آجاتا۔

 

کوچنگ کے اپنے ابتدائی دنوں میں ہی میری دو لڑکیوں سے بہت قربت ہوگئی تھی۔بات یہ تھی کہ وہ مجھ سے اردو پڑھنا چاہتی تھیں مگر ان میں سے ایک کے گھر پر اس کو پڑھنے کے لیے دی جانے والی فیس کی اجازت نہیں تھی۔میں لڑکیوں کے معاملے میں بہت فیاض دل واقع ہوا ہوں اور جب معاملہ کسی خوبصورت لڑکی کا ہو تب تو بات ہی کچھ اور ہوجاتی ہے۔میں نے ان دونوں سے کہا کہ تم اس کی کوئی فکر نہ کرو، میں بغیر فیس کے ہی پڑھا دیا کروں گا۔اتفاق کی بات ہے کہ انہی دنوں شاید دو ہزار چھ میں ایک دن میرے ہونے والے بہنوئی(جو کہ اس وقت صرف ہمارے دور کے بھتیجے ہوا کرتے تھے)میرے پاس ایک کام لے کر آئے۔ وہ بنیادی طور پر میک اپ کی فیلڈ سے وابستہ تھے، اور انہوں نے شاید کچھ ہی روز پہلے ایک بڑے نیوز چینل سے استعفیٰ دیا تھا۔کام یہ تھا کہ ان کے ایک دوست کے زیر ہدایت دوردرشن کا ایک پروگرام اردو میں بنایا جارہا تھا۔لیکن پائلٹ (نمونے کا ایپی سوڈ)جمع ہونے سے پہلے کسی اردو داں کا اسے ہری جھنڈی دکھانا ضروری تھا۔میں نے پائلٹ دیکھ کر بتایا کہ سکرپٹ میں اردو کا استعمال بہت غلط ہوا ہے، اینکر نے بھی تلفظ صحیح ادا نہیں کیاوغیرہ وغیرہ۔کچھ دنوں بعد انہوں نے مجھے ایک ایپی سوڈ لکھنے کے لیے کہا، میں نے اسے لکھ کر دے دیا، اس کو لکھنے کی دیر تھی کہ تیرہ ایپی سوڈ لکھنے کی فرمائش آگئی، میں نے چار پانچ دنوں کی محنت میں وہ ایپی سوڈ بھی لکھ کر دے دیے۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اگلے روز میں اپنے موجودہ بہنوئی دانش مسعود کے ساتھ دہلی کے ایک پاش علاقے ساوتھ ایکسٹنش پارٹ ٹو میں بنے ایک بنگلے میں جارہا تھا۔میں پہلی دفعہ وہاں بس سے ہی گیا تھا، دہلی کی بسوں میں بیٹھنے کا مجھے بہت اتفاق ہوا ہے، یہاں زیادہ تر ہریانوی لہجے میں بات کرنے والے اکھڑ قسم کے کنڈکٹر ہوا کرتے ہیں، جو بات بے بات کبھی کبھار لڑپڑنے میں بھی کوئی پریشانی محسوس نہیں کرتے۔

 

اس زمانے میں دو قسم کی بسیں چلا کرتی تھیں، ایک سرکاری اور دوسری بلیو لائن بسیں، جو کہ ٹھیکیدار چلوایا کرتے تھے، ان بسوں کے ڈرائیور عام طور پر بہت تیز رفتاری سے گاڑی چلایا کرتے تھے، چونکہ کوئی پوچھ تاچھ تو تھی نہیں، اس لیے آئے دن ایک یا دو اموات ان بسوں کے ذریعے اس زمانے میں دہلی کا روز مرہ کا معمول تھا۔ جہاں تک ماحولیات کا تعلق تھا، یہ بسیں اس کے لیے بھی مہلک تھیں، مجھے دانش بھائی نے ہی بتایا تھا کہ ہمارے دلی آنے سے پہلے یہاں سی این جی گیس کا استعمال اتنا عام نہیں تھا اور گاڑیاں ڈیزل ، پٹرول پر زیادہ چلا کرتی تھیں، جس کا انجام یہ ہوتا تھا کہ لوگ ٹریفک میں پھنس کر کئی دفعہ گرمیوں میں بے ہوش ہوجایا کرتے تھے، دھواں اپنی بھرپور کالک اور زہریلے اثرات سمیت ان کے ناک ، کان میں داخل ہوجایا کرتا اور پھیپھڑوں میں غل مچاتا۔اچھی بات یہ تھی کہ دو ہزار پانچ ، یعنی کہ جس سال ہم دلی آئے تھے، اسی سال سرکار نے بیشتر گاڑیوں کو سی این جی استعمال کرنے کے احکامات جاری کردیے اور اس طرح راجدھانی کا ماحول سڑکوں، ہوٹلوں اور چوباروں پر کنٹرول میں آسکا۔جب میں پروڈکشن ہاوس پہنچا تو مجھے ایک کیبن میں بٹھایا گیا، وہاں ایک لڑکا اور لڑکی پہلے سے بیٹھے تھے۔لڑکی کے بال سنہرے رنگ کے تھے، ہونٹ موٹے اور ان پر چمکتی اور دھدھکتی ہوئی لپ سٹک لگی تھی، برابر والی سیٹ پر ایک لڑکا بیٹھا تھا ، جس کے قد و قامت پر مجھ جیسے کمزور جثہ شخص کو صرف رشک ہی آسکتا تھا۔قدوقامت کے لحاظ سے وہ کوئی پہلوان معلوم ہوتا تھا، اس نے جو جینز پہنی تھی، ان میں سے ایک پائنچہ تو غائب ہی تھا، بلکہ جگہ جگہ سے جھالریں بھی لٹک رہی تھی، اوپری حصے پر صرف ایک بنیان موجود تھی۔ میں ابھی ان دونوں کا ٹھیک سے جائزہ ہی لے رہا تھا کہ کیبن کا دروازہ کھلا اور دانش بھائی کے ساتھ ایک شخص اور داخل ہوا، اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔

 

مجھے دانش بھائی نے ہی بتایا تھا کہ ہمارے دلی آنے سے پہلے یہاں سی این جی گیس کا استعمال اتنا عام نہیں تھا اور گاڑیاں ڈیزل ، پٹرول پر زیادہ چلا کرتی تھیں، جس کا انجام یہ ہوتا تھا کہ لوگ ٹریفک میں پھنس کر کئی دفعہ گرمیوں میں بے ہوش ہوجایا کرتے تھے
‘اور تصنیف بیٹے! کیسے ہو؟’پھر ایک جاندار قہقہہ لگایا، ہلکے نکلے ہوئے پیٹ کے ساتھ ، وہ جوان اور پر اعتماد شخص ، اپنی چمکدار آنکھوں کو لیے میری طرف پرتپاک انداز میں گھور رہا تھااور میں اس کی طرف دیکھ کر شرمائے جارہا تھا۔دانش بھائی نے بتایا کہ میں نے وہ سارے ایپی سوڈ انہی صاحب کے لیے لکھے ہیں، جن کا نام دیپک گپتا ہے۔ظاہر ہے میرے ہاتھوں کی لکھی ہوئی ساری سکرپٹس چیل بلیوں کے سے انداز میں تھیں اور دیپک گپتا انہیں ٹائپ کروانا چاہتے تھے۔سو انہوں نےمجھے باہر چشمہ لگائے، ادھ کھلے منہ کے ساتھ کام کرتے ہوئے ایک لڑکے سے ملایا، جس کا نام گورو مشرا تھا۔اب ہم دونوں کی یہ ذمہ داری تھی کہ سکرپٹ ساتھ میں ٹائپ کریں۔سو طے یہ پایا کہ میں سکرپٹ بولتا جاوں گا اور وہ اسے ہندی میں ٹائپ کرتا جائے گا۔اردو زبان ، اور وہ بھی اس زمانے میں لکھی ہوئی ، ظاہر ہے گورو کے ساتھ اینکر کو بھی بہت پریشان کرنے والی تھی، مگر سب کام جیسے تیسے پورے ہوگئے۔دو مہینے کے دورانیے میں میں روز اس جگہ جاتا رہا اور کام کرتا رہا۔تصوف پر لکھا ہوا وہ میرا پہلا پروگرام تھا، لیکن ابھی تو بہت کام اور آنے والا تھا۔اس دوران دانش بھائی خود کسی دوسرے پروجیکٹ میں مصروف ہوچکے تھے اور کوچنگ کی وہ دو لڑکیاں ، شاید انہوں نے بھی یہی سوچ کر صبر کرلیا تھا کہ میں اب دوبارہ کوچنگ نہیں آوں گا۔مگر قسمت بڑی عجیب و غریب چیز ہے۔

 

(جاری ہے)
Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی – قسط نمبر1

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

قسط نمبر 1

 

دہلی اپنی کچھ باتوں کی وجہ سے مجھے پسند ہے، اور کچھ باتوں کی وجہ سے ناپسند۔ مثال کے طور پر یہاں کی لڑکیوں کا فیشن کے بل پر دندناتے پھرنامجھے اچھا لگتا ہے، مگر شام کے بلب جلتے ہی ان کے لیے بھیڑیوں کی ننگی آنکھیں نکال کر باہر رکھ دینا اس شہر کی بری عادتوں میں سے ہے
یہ ان دنوں کی بات ہے، جب میں نے دہلی میں دوردرشن اردو کے کچھ معمولی سے کام کرکے یہ سمجھنا شروع کر دیا تھا کہ اب تو ہم بھی میڈیا کے لیے کام کرتے ہیں، ہماری بھی عزت چوک چوراہوں پر ہے، آٹو رکشہ والے کو آنکھیں دکھائی جاسکتی ہیں، معمول کی ناانصافیوں کو غصے کی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے ان پر اپنے جرنسلٹ ہونے کی دھونس جمائی جاسکتی ہے اور بہت سے ایسے کام کیے جاسکتے ہیں جو کم از کم خودتشفی کے زمرے میں آتے ہوں۔ شاید اب اس بات کو بھی سات آٹھ سال سے زائد کا عرصہ گزرگیا اور میں نے درمیان میں بہت کچھ دیکھا، میں نے سمجھا کہ زندگی اتنی پرکشش نہیں ہوپائی ہے، جتنی ہوسکتی تھی۔ جتنی کہ میں بناسکتا تھا۔ میرے اندر صلاحیتوں، فکر اور مثبت اقدامات کی کمی نہیں تھی۔ میں چاہتا تو ان بے سروپا واقعات پر دھیان نہیں دیتا جو میرے لیے زندگی کا سب سے بڑا درد سر بن کر آئے اور جنہیں میری ایک دوست میرے جی کا جنجال یا بے کار کا روگ کہا کرتی ہے۔ مگر غور کرتا ہوں تو ایک سرمئی رنگ کا دھبہ آنکھوں کے سامنے تیرنے لگتا ہے، جیسے کیچڑ کی پکڑ سے ہاتھ چھڑا کر بھاگے ہوئے مٹ میلے پانی پر کسی نے آواز کی ایک ناؤ رکھ دی اور میں اس میں سفر کرنے لگتا ہوں۔ دہلی اپنی کچھ باتوں کی وجہ سے مجھے پسند ہے، اور کچھ باتوں کی وجہ سے ناپسند۔ مثال کے طور پر یہاں کی لڑکیوں کا فیشن کے بل پر دندناتے پھرنامجھے اچھا لگتا ہے، مگر شام کے بلب جلتے ہی ان کے لیے بھیڑیوں کی ننگی آنکھیں نکال کر باہر رکھ دینا اس شہر کی بری عادتوں میں سے ہے، اب وہ دن دور نہیں، جب یہ حادثات ہماری معمول کی زندگی کا حصہ ہوں گے، اب تو کھلے عام دن میں لڑکیاں چھیڑی اور ستائی جارہی ہیں، کہیں شام کے دھندلکے میں کچی سڑک پر گلی کی رستی ہوئی دیوار کے سائے میں ان پر چاقو کے وار کیے جارہے ہیں، مگر اس سب کے باوجود لڑکیوں کی تھرکتی ہوئی خواہشوں نے ہتھیار نہیں ڈالے ہیں، ان کی آواز دبائی نہیں جاسکی ہے۔ آواز کے ساتھ تو معاملہ یہی ہے کہ اسے جتنا دبائیے وہ اور بارہ گز بڑھ جاتی ہے۔

 

خیر، گزشتہ دنوں کی بات ہے اور ایک شخص کا ذکر ہے، جس کو لکھنے کے لیے ادھر ادھر سے لفظ ادھار لینے پڑرہے ہیں، تمہید تو ہاتھ لگ گئی ہے، مگر اصلی بات ابھی بھی چھپکلی کی لجلجی جلد کی طرح ادھر ادھر سے پھسلی جاتی ہے۔

 

ان دنوں میٹرو میں سفر کرنے سے مجھے ڈر لگتا تھا، ہر وہ چیز جسے میں نے پہلی بار نہیں کیا ہے، میں اسے کرنے سے ڈرتا ہوں، سوائے شاعری کے، تجربے کے ہر نئے رنگ سے مجھے ڈر لگتا ہے۔
میں نے اس لڑکی کوغور سے دیکھا، دو بار، میں بس اسٹینڈ پر تھا،ان دنوں میٹرو میں سفر کرنے سے مجھے ڈر لگتا تھا، ہر وہ چیز جسے میں نے پہلی بار نہیں کیا ہے، میں اسے کرنے سے ڈرتا ہوں، سوائے شاعری کے، تجربے کے ہر نئے رنگ سے مجھے ڈر لگتا ہے۔ کسی ریستوراں میں کھانے کا آرڈر دینا ہو یا کسی سیاسی مسئلے پر سڑک پر اپنے دوستوں کے سامنے اظہار خیال کرنا ہو۔ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میری عزت نفس کا قتل نہ ہوجائے، کہیں کسی بات پر، کسی یونہی سی، بے وجہ سی بات پر میری بے عزتی نہ ہوجائے۔ میں کچھ کہوں، سامنے والا نہ سمجھے۔ کیا پتہ ایسا کیوں ہے کہ کوئی بات دوبارہ کہنے سے مجھے وحشت ہوتی ہے، اسی لیے میں زیادہ تر ایسے موقعوں پر کسی کو ساتھ رکھتا ہوں۔ شاید یہی میری شخصیت کی وہ ننگی سچائی ہے جس کی وجہ سے میں نے اکثر اپنے دوستوں کی لن ترانیاں بھی خاموشی سے سن لی ہیں۔ لیکن ایسا صرف دکانوں، ریستوراں اور بس کنڈکٹر کے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے، کیوں میں کسی انٹرویو میں ہچکچاتا نہیں، کیوں میں کسی بند کمرے میں ہونے والی بحث کا حصہ بننے سے ڈرتا نہیں، کیا ان کتابوں نے مجھے بولنے کے آداب کے ساتھ نہ بولنے کی مشق بھی کرائی ہے؟ کیا میں سمجھتا ہوں کہ بس کہہ دینے سے،کسی کو میری بات سمجھ میں نہ آپانے سے میری بے عزتی ہوجائے گی اور باقی سارے لوگ اپنا کام کاج چھوڑ کر مجھے ایک اچانک رونما ہونے والا لطیفہ سمجھ کر لوٹ پوٹ ہونے لگیں گے؟

 

یہ میری شخصیت کا عجیب ڈر ہے، جس کا ادراک مجھے ہے، میں لکھنے میں جتنا بے باک اور سفاک ہوجاتا ہوں، کیوں جینے میں اتنا نہیں ہوسکا؟ کیوں میں ان لوگوں سے بات کرنے میں ہچکچاتا ہوں جنہوں نے سماج میں عزت اور بے عزتی کے اصول نہیں بنائے ہیں؟ جو دن میں ہزار بار ذلیل ہوتے ہیں، اور ہر دفعہ اس ذلت کی کینچلی کو اتار کر ایک نئی مسکراہٹ کی جلد کے ساتھ پھر زندہ ہوجاتے ہیں؟
یہ میری شخصیت کا عجیب ڈر ہے، جس کا ادراک مجھے ہے، میں لکھنے میں جتنا بے باک اور سفاک ہوجاتا ہوں، کیوں جینے میں اتنا نہیں ہوسکا؟ کیوں میں ان لوگوں سے بات کرنے میں ہچکچاتا ہوں جنہوں نے سماج میں عزت اور بے عزتی کے اصول نہیں بنائے ہیں؟ جو دن میں ہزار بار ذلیل ہوتے ہیں، اور ہر دفعہ اس ذلت کی کینچلی کو اتار کر ایک نئی مسکراہٹ کی جلد کے ساتھ پھر زندہ ہوجاتے ہیں؟ ویسے بھی میٹرو ابھی پوری طرح دہلی میں اپنے پر نہیں پھیلا پائی تھی، میں بھی زیادہ تر ادھر سے ادھر اپنے دوست گورو کے یہاں یا پھر ایک اسٹوڈیو جایا کرتا تھا۔ یہ اسٹوڈیو لکشمی نگر کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں بنایا گیا تھا، یہاں دو تین دوستوں نے مل کر اسے غالباً تیار کیا تھا، صرف آڈیو ریکارڈنگ کی جاتی تھی، سو کبھی بھجن کیرتن، کبھی سائیں بابا کے لیے مختلف لوگوں کی لکھی ہوئی مناجاتیں اور کبھی ٹوٹے پھوٹے حال اردو میں بننے والے پروگراموں کے بد ہنگم وائس اوور یہاں ریکارڈ کیے جاتے تھے۔ وہاں میرا ایک دوست سچن کام کیا کرتا تھا، سچن سے میری ملاقات دوردرشن کے لیے کیے جانے والے پروگرامز کے درمیان ہوئی تھی، اس نے مجھے اس دوران کچھ بھوجپوری گانوں کو ہندی میں لکھنے کا کام دلوایا تھا، میں نے ہزار کوشش کی مگر یہ کام مجھ سے نہیں ہوا، اس نے پھر مجھ سے دوچار پروگرامز کے ٹائٹل سونگ لکھوائے، لیکن وہ بھی کلائنٹس کو پسند نہیں آئے، چنانچہ میں نے تھک ہار کر اس سے کہہ دیا کہ بھئی گانا وانا تو شاید میں لکھ لوں، مگر بغیر کسی میٹر یا تھیم کے میں یہ ٹائٹل ٹریک اور بھجن وغیرہ نہیں لکھ سکتا۔ پھر اسے علم تھا کہ میری ہندی بھی اچھی نہیں ہے، سو اس نے اس کام کو ٹال دیا۔ انہی دنوں وہاں سچن کی ایک دوست، جو اپنے کسی کام سے آیا کرتی تھی، مجھ سے ٹکراگئی۔ ہوا یوں کہ اسے اپنے کسی پروگرام کے لیے اردو میں ٹائٹل لکھوانے تھے، لکھوانے کیا تھے، ٹائپ کروانے تھے۔ میں ٹائپ بھی جانتا تھا، اس لیے اسی اسٹوڈیو کے کمپیوٹر پر میں نے اس کے لیے یہ کام کردیا، اس نے مجھے دو ہزار روپے نقد دیئے اور میرا شکریہ ادا کرکے فائل لے گئی۔ کئی دنوں بعد بس اسٹینڈ پر اسی لڑکی کو میں نے دیکھا، وہی لڑکی تھی۔ لمبا قد، اونچی گردن، گول چہرہ، سینے کا ابھار بہت زیادہ نہ تھا، مگر شکرقندی جیسے پستانوں کو ایک ٹائٹ ٹی شرٹ سے لپٹائے وہ بس کا انتظار کررہی تھی۔ بلیو کلر کے ٹی شرٹ اور اسی رنگ کی جینزمیں اس کی پتلی بانہیں اور گورے پنجے کچھ اکڑے ہوئے سے نظر آرہے تھے، صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ اس وقت بوریت محسوس کررہی ہے۔ میں اسے دیکھتے ہی پہچان گیا تھا، مگر میں نے انجان بننے کی کوشش کی۔ اس لڑکی نے مجھے دیکھا اور پھر کچھ شش و پنج کی کیفیت میں میرے پاس آکر کہنے لگی:

 

“آپ سچن کے اسٹوڈیو میں تھے نا”

 

میں نے اسے بتایا کہ میں وہاں کام کرتا ہوں، باقاعدہ نہیں، مگر کبھی کبھار جو کام بھی آجائے ، مل جائے یا پھر چل جائے، وہ میں کرکے دے دیتا ہوں، میں اپنی ہئیت اور اس کے وجود کی بے وقت کی سانٹھ گانٹھ پر تھوڑا خوش اور تھوڑا بوکھلایا ہوا تھا۔ میرا کالا چہرہ، دھوپ کی حدت میں سیاہ ہورہا تھا، لمبوترے چہرے پر بے ترشے ہوئے بال، گھنگھرے پر سے کچھ کھڑے اور باقی بے دھیانی کے ساتھ لٹکے ہوئے، بڑے بڑے دانت آگے کی جانب ہلہ بولتے ہوئے اور ان پر سیاہ مسوڑھوں کی نمائش، چہرے کو اور بدنما بنارہی تھی۔ شاید اس دن میں نے براؤن کلر کی شرٹ پہنی ہوئی تھی، وزن مجھ میں زیادہ تھا نہیں، اس لیے شرٹ اکثر مجھ پرپھیلی ہوئی، بے ہنگم اور بے ڈول سی معلوم ہوتی اور اس وقت جینز کا باقاعدہ تصور میرے لیے ممکن نہیں تھا، میں ایک کیجول سی پینٹ پہنے ہوئے تھا۔ اب اس بے وقت اور بے قاعدہ ملاقات پر آگے کی کوئی بات مجھے سجھائی نہیں دی، چنانچہ میں خاموش رہا۔ لیکن اس لڑکی کی طراری تھی، خودغرضی یا کوئی اور بات، اس نے مجھ سے کہا:

 

“آپ بہت کام کے بندے ہو، نمبر کیا ہے آپ کا؟”

 

میں نے اسے اپنا نمبر دیا اور اعتماد کی آخری کمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا نمبر مانگے بغیر سامنے آنے والی بس میں چڑھ گیا۔ جب میں بس کی طرف بڑھ رہا تھا تو کنکھیوں سے میں نے ضرور دیکھا تھا کہ اس نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھانے کی کوشش کی تھی، پھر اچانک میری بوکھلاہٹ کو سمجھتے ہوئے ہاتھ پیچھے کرلیا تھا۔
(جاری ہے)