Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی۔ قسط نمبر 10

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

طلعت کی شخصیت دو لحاظ سے عجیب تھی، اول تو یہ کہ وہ بہت خوبصورت تھی، کھڑا ناک نقشہ، اونچا قد، پتلی دبلی مگر دلکش جسم کی مالک۔وہ زیادہ تر پاکستانی سوٹ پہنا کرتی تھی،ہلکا چمکتا ہوا لپ گلوز اس کے پتلے ہونٹوں کی رونق بڑھاتا تھا، کمر تک بال، موتی جیسے قطار اندر قطار دانت اور گالوں میں پڑنے والے گڑھے۔اور دوسرے اس کی زندگی اپنی شرطوں پر گزرتی تھی، بتاتی تھی کہ جب وہ بارہ برس کی تھی، تب کسی بات پر ناراض ہوکر اس کے گھروالوں نے اس سے بات کرنی چھوڑ دی تھی، اس کی دو چھوٹی بہنیں فرح اور زرناب ہی اس سے بات کیا کرتی تھیں، کل پانچ ، چھ بہنیں تھیں اور دو بھائی۔ والد کا شاید کوئی پریس تھا، اس کے ایک بھائی سے بعد میں میری دوستی بہت اچھی ہوگئی تھی، ان کو ہم لوگ وسیم بھائی کہا کرتے تھے۔گرافک ڈیزائننگ میں ماہر تھے۔بہرحال طلعت کا قصہ وہاں سے شروع ہواجب اس نے مجھ سے اپنی بہن کی سو غزلوں پر اصلاح کروائی۔میں نے ان غزلوں کی اصللاح کے ہزار روپے لیے اور کام کرکے دے دیا۔طلعت کا پورا نام طلعت انجم تھا اور اس کی سب سے بڑی بہن ، جن کے لیے اس نے یہ کام کروایا تھا، مسرت انجم کہلاتی تھیں۔بعد میں وہ میرے والد سے کسی طور مل گئیں اور ان کی ہی شاگرد بن گئیں۔طلعت پہلے کوچنگ میں پڑھتی رہی، لیکن کچھ وقت بعد اس نے میرے گھر آکر ہی مجھ سے ٹیوشن لینی شروع کردی، فیضان سے بہت کوششوں کے بعد اس کی کوئی بات نہ بن سکی۔میں نے بھی ان سے بات کی تھی، مگر وہ طلعت کے لیے راضی نہ ہوئے، پتہ نہیں کیا وجہ تھی۔۔۔مگر وقت گزرگیا اور طلعت ان کے بہانے سے میرے نزدیک ہوتی گئی۔ہمارے درمیان ایک بہت اچھا تعلق قائم ہوا، وہ دو ڈھائی سال جو اس کے گریجویشن کی تیاری میں گزرے، بہت یادگار رہے۔میں آج ہی کی طرح اس وقت بھی گھر سے کام کرنا زیادہ بہتر سمجھتا تھا، کبھی کبھار کسی پروڈکشن ہاؤس کی سیر کرلی، کچھ کام اٹھالیا، کچھ ٹوٹا پھوٹاترجمہ، کہیں کوئی سی گریڈ فلم یا ٹی وی ڈرامے کی سکرپٹ۔۔یہ سب چلتا رہا، حالانکہ مجھے طلعت اور روشن دونوں کا ذکر ایک ساتھ ہی کر دینا چاہیے، مگر میں الگ الگ ہی ان کو بیان کروں گا۔

 

چھوٹی دنیائیں بہت گہرے تعلقات پر منحصر ہوتی ہیں، ان میں ہر ایک فرد ایک ستون کی طرح ہوتا ہے، یہاں کوئی الگ ہوا، وہاں دھیرے دھیرے تعلقات کی یہ تکون یا چوکور عمارت دھیرے دھیرے ڈہنے لگتی ہے۔
طلعت کی ہستی کسی نابغے سے کم نہ تھی۔اس سے گھر میں کوئی بات نہ کرتا، مگر وہ سب سے بات بھی کرتی، ہنسی مذاق بھی کرتی۔وہ اپنے والد سے بہت پیار کرتی تھی، مگر شاید کوئی ایسی وجہ تھی، جس کی وجہ سے سب اس سے ناراض تھے،میں جاننا چاہتا تھا کہ آخر بارہ برس کی عمر میں کسی لڑکی سے ایسا کون سا گناہ سرزد ہوسکتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس سے اتنے ناراض ہوجائیں، بہرحال بات کبھی سمجھ میں نہ آسکی۔یہ عقدہ اس لیے بھی نہ کھلا کیونکہ وہ بھی اس سوال کو ہنس کر ٹال جاتی تھی۔میں اگر خود اس کے گھر کا ماحول نہ دیکھتا تو مجھے اس کی بات پر یقین نہ آتا۔تین کمروں اور ایک بڑے سے آنگن پر مشتمل بلیوں اور ایک طوطے کی موجودگی سمیت اس کا گھر بہت خوبصورت تھا، وہ بھی ذاکر نگر میں ہی رہا کرتی تھی۔ایک چھوٹا سا بیگ کندھے سے لٹکائے روز شام چار بجے آجایا کرتی تھی۔اس وقت اس کے پاس فون نہیں تھا، میرے پاس موجود تھا مگر اس کے تعلق سے کسی کام کا نہ تھا۔بہرحال ، ہم زیادہ وقت چھت پر بیٹھے رہا کرتے تھے، سردی ہو یا گرمی، شام چار یا پانچ بجے سے سات آٹھ بج جایا کرتے، ہم بیٹھتے ، ٹہلتے، باتیں کرتے، پڑھتے اور ساتھ ہی اس سے میں عجیب و غریب قصے سنا کرتا تھا۔رفتہ رفتہ معاملہ یہاں تک پہنچا کہ اس کے اور میرے گھر کے تکلفات قریب قریب ختم ہونے لگے۔اسے پھلوں ولوں کا شوق نہ تھا، البتہ چقندر بہت شوق سے کھایا کرتی تھی۔ایک دفعہ جب اس کی سالگرہ کا موقع تھا تو ہم نے وہ سالگرہ فیضان کی اس چھوٹی سی کوچنگ میں منائی۔وہاں میں نے طلعت پر لکھی ہوئی ایک تحریر پڑھی، اسے تحفے میں ایک کلو چقندر دیے اور پھر کیک شیک کاٹا گیا۔چھوٹی دنیائیں بہت گہرے تعلقات پر منحصر ہوتی ہیں، ان میں ہر ایک فرد ایک ستون کی طرح ہوتا ہے، یہاں کوئی الگ ہوا، وہاں دھیرے دھیرے تعلقات کی یہ تکون یا چوکور عمارت دھیرے دھیرے ڈہنے لگتی ہے۔ میرا،فیضان کا اور اس کا تعلق کچھ ایسا ہی تھا، فیضان خود کو ذرا محتاط رکھتے تھے، مگر ہم اچھے دوست تھے۔ساتھ ہنستے، ساتھ وقت گزارتے اور ساتھ ہی سیر سپاٹا کیا کرتے۔جن شاموں کو وہ میرے ساتھ چھت پر ہوا کرتی، اکثر اس کے بھائی وسیم بھی آجایا کرتے تھے، وہ جب تک میرے ساتھ چوکی پر بیٹھے بات چیت کرتے، چائے پیتے۔طلعت کتاب کو یوں پلٹ پلٹ کر دیکھنے کی ایکٹنگ کرتی ، جیسے سچ میں کتاب سے اس کا گہرا دلی لگاؤ ہو، جبکہ ایسا تھا نہیں۔ان کے آجانے سے اسے بوریت محسوس ہوتی تھی، بعض اوقات وہ ان کی موجودگی میں ہی مجھ سے رخصت بھی طلب کرلیتی تھی۔اس کے پاس دو بڑی بڑی آنکھوں کی ایسی زبان تھی کہ اکثر شام کو میں اسے کہا کرتا کہ یہ آنکھیں نہ دکھایا کرو، خوف آتا ہے۔وہ چھوٹی سی چھت، ہمارے لیے کسی بہت بڑے سر سبز میدان سے کم نہ تھی، وہاں ہم ٹپکتی اوس، دہکتی گرمی اور برستی بوندوں میں کئی بار گشت لگاتے اور باتیں کرتے۔باتیں کیا تھیں، اس کے روز مرہ کے تجربات تھے، کبھی کسی مہمان کا ذکر، کبھی کسی دوست کا قصہ۔ عام طور پر جس علاقے میں ہم لوگ رہتے ہیں، وہاں کی لڑکیوں کا دلچسپ موضوع بگڑیل لڑکے ہوا کرتے ہیں۔طلعت بھی اس موضوع پر بہت اچھی طرح باتیں کرنا جانتی تھی۔لیکن اس کے سبھاؤ سے مجھے کبھی ایسا نہیں لگا کہ اسے چھیڑے جانے سے کوئی خاص دکھ یا الرجی ہو۔جن دنوں وہ کالج جایا کرتی تھی، اس کو کسی افغان لڑکے سے محبت ہوگئی تھی۔بڑا عجیب سا ہی نام تھا اس کا جو اب یاد نہیں رہا ہے۔طلعت کہتی تھی کہ وہ اس کو بہت پسند کرتی تھی اور اس کے ساتھ افغانستان جانے کا ارادہ باندھ رہی تھی۔میں نے اسے کئی بار سمجھایا کہ ایک لڑکا، جسے ابھی تم ٹھیک سے جانتی بھی نہیں ہو، اس کے ساتھ افغانستان چلی جاؤ گی، یہاں تمہارے گھر والے، رشتہ دار، پاس پڑوس والے، دوست احباب کیا سوچیں گے۔مگر وہ سوچنے وچارنے کے معاملے میں ذرا کنجوس تھی۔اس نے ٹھانا ہوا تھا کہ وہ اس لڑکے کے ساتھ ایک روز چلی جائے گی۔میں نے اسے مشورہ دیا کہ گھر پر بات کرلو، کہنے لگی کہ گھر پر بات نہیں کی جاسکتی، میں نے وجہ پوچھی تو اس نے پورا قصہ بتایا۔یہ افغانی لڑکا پہلے اس کی زندگی میں رہ چکا تھا، اتفاق سے گھروالوں کو اس تعلق کی خبر ہوئی اور ایک دن طلعت کے بھائیوں نے اس پر بڑی سختی کی۔لڑکا خطرہ بھانپ چکا تھا، اس لیے کچھ روز میں غائب ہوگیا۔ اب وہ دو تین سال بعد واپس آیا تھا اور طلعت کے ساتھ شادی کے وعدے کررہا تھا۔ایک روز طلعت میرے پاس آئی، اس نے بتایا کہ وہ اب اس افغانی لڑکے سے کبھی نہیں ملے گی، میں نے پوچھا بات کیا ہے، وہ اس روز فیروزی رنگ کی گھٹنوں تک پھیلی ہوئی قمیص اور چوڑی دار پاجامے میں تھی۔مگر کسی واقعے کے اثر سے اس کی آنکھیں بھی زہریلی دکھائی دیتی تھیں، اس نے بتایا کہ اس لڑکے نے آج اس کے ساتھ بدسلوکی کرنے کی کوشش کی۔طلعت ، ان لڑکیوں میں تھی، جو بغاوت کو اپنا حق سمجھتی ہیں، محبت پر یقین کرتی ہیں اور کسی چھوٹے سے بچے کی طرح پوری دنیا کو ایک گھر اور ایک رشتہ میں بندھا ہوا محسوس کرتی ہیں۔مگر ان لڑکیوں کی نازک خیالیوں کو ٹھیس لگانے کے لیے بہت سے لڑکے کانٹا بچھائے بیٹھے رہتے ہیں،طلعت کی زندگی میں بھی ایسے لڑکے اس کے محلے سے لے کر افغانستان تک موجود تھے۔میں نے اسے کچھ سمجھایا نہیں، اچھا ہوا کہ اسے خود عقل آگئی تھی۔لیکن مجھے طلعت کی یہ بات پسند تھی کہ وہ اپنی پسند اور ناپسند دونوں کو بہت صاف طور پر ظاہر کرتی تھی، اس کے اندر کوئی لاگ لپیٹ نہیں تھی۔فلموں، گانوں، رنگوں اور چڑیوں کی شوقین تھی۔اس کی خود کی بولی بہت میٹھی تھی، جب بات کرتی تو آنکھیں اور ہاتھ بھی ساتھ میں ناچا کرتے۔

 

جن ماں باپوں کی اولادیں زیادہ ہوں، وہ ویسے بھی بچوں کو بس بڑا کرنے ، ان کی شادیاں کرنے کی جلدی میں ہوتے ہیں۔انہیں طلعت جیسے بچوں سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے، جو زندگی کو کسی ریستوراں میں بیٹھے ہوئے کسٹمر کی طرح گزارنا چاہتے ہوں
ایک دفعہ اس نے بتایا کہ وہ اپنی بہن کے ساتھ خریداری کرنے کے لیے جارہی تھی، شام کا وقت تھا، اچانک کوئی لڑکا راستے میں اس کی کمر سے باقاعدہ ہاتھ چھواتا ہوا گزر گیا۔وہ یہ بتاتے ہوئے ہنسنے لگی، اس دن وہ بے تحاشہ ہنسی۔ میں نے کہا کہ تمہیں اس واقعے پر ہنسی آرہی ہے، جبکہ یہ تو غصہ کا مقام ہے۔اس نے کوئی صراحت تو نہیں پیش کی، مگر ہنستی ضرور رہی۔پانی اس کا من پسند مشروب تھا۔ ایک دفعہ بوتل کو منہ لگاتی تو آدھے سے زیادہ پیے بغیر لبوں کے پرندوں کو آزاد نہ کرتی۔طبیعت ایسی آزاد کہ کسی دوست کی کار میں جابیٹھے، کسی کو طمانچہ لگادیا۔کسی سے گلے مل لیے اور کسی کو ایک نظر تک دیکھنا گوارا نہ کیا۔طلعت کے ساتھ گزرے ہوئے وقت میں ذاکر نگر کی بارہ نمبر گلی والی وہ چھت برابر کی حصہ دار رہی، جو ہمارے رشتے کے بننے، ارتقا پانے، روبہ زوال ہونے اور پھر قریب قریب ٹوٹنے کی گواہ تھی۔آج بھی وہ علاقوں کے لحاظ سے بہت دور نہیں، مگر اب میری زندگی کی چھت پر اس کی پرچھائی بھی موجود نہیں۔وہ ہمیشہ مجھ سے کہتی تھی کہ اسے بہت اچھا ڈانس آتا ہے، مگر کبھی اس نے مجھے وہ ڈانس نہیں دکھایا۔جذباتی لڑکی تھی،ہنستی تو ہنستی چلی جاتی، رونے پہ آتی تو پلکوں کے کونوں پر جمے ہوئے قطروں کو گھنٹوں انگلیوں سے چھیڑتی رہتی۔اسے سب سے زیادہ مزہ تب آتا تھا، جب میں اس سے اسلامی تاریخ ، سماجیات یا پھر سیاسیات کے حوالے سے سوالات کرتا۔وہ جواب دیتی، مسکراتی ، اپنی غلطی بھانپتی اور پھر ہاتھ سے اشارہ کرکے، دوبارہ سوچنے لگتی۔پاس تو وہ گریجویشن میں ہوگئی تھی، مگر اس کی پڑھائی ، ایک طور پر صرف آزادی سے اس کا ایک اٹوٹ تعلق بنے رہنے کا بہانہ تھا۔گھر پر بہت سے لوگ تھے، مگر لوگ اسے جاننے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔جن ماں باپوں کی اولادیں زیادہ ہوں، وہ ویسے بھی بچوں کو بس بڑا کرنے ، ان کی شادیاں کرنے کی جلدی میں ہوتے ہیں۔انہیں طلعت جیسے بچوں سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے، جو زندگی کو کسی ریستوراں میں بیٹھے ہوئے کسٹمر کی طرح گزارنا چاہتے ہوں، یعنی ایک خاص وقت پر اس میں داخل ہوکر اپنی مرضی کا کھانا آرڈر کرو، مزے سے کھاؤ اور پھر بل چکا کر چلتے بنو۔طلعت پر میں نے اس زمانے میں کچھ نظمیں لکھی تھیں’ پھول چہرہ’، ‘گل اندام ‘ وغیرہ وغیرہ ۔ اس نے وہ نظمیں مکمل یاد کرلی تھیں۔میں جب اس کے قریب تھا تو بہت سادگی پسند اور کچے جذبوں والا ایک نوجوان تھا، جسے فلرٹ کرنے کا ہنر بھی ٹھیک سے نہیں آتا تھا۔ڈھیلے ڈھالے شرٹ پہنا کرتا، فارمل پینٹس ۔میں پینٹ میں شرٹ کو کبھی اڑستا نہ تھا بلکہ ڈھیلا چھوڑ دیتا، کالے اوردبلے بدن پر یہ ڈھیلے کپڑے بہت عجیب نقش پیدا کرتے تھے، مگر طلعت کو ان سب سے سروکار نہیں تھا۔وہ مجھ سے پانچ روپے بھی اگر کبھی خود پر مجبوری میں خرچ کروالیتی تو مجھے واپس لوٹایا کرتی تھی۔ایک وقت پہ جاکر میں نے اس سے ٹیوشن فیس لینا بند کردی ،اس کی وجہ ہمارا گہرا تعلق تھا۔

 

سردی کی ایک شام ہم چھت پر بیٹھے تھے، میں کرسی پر تھا اور وہ پائری سے ٹیک لگائے، آگے نکلی ہوئی اینٹوں پر بیٹھی تھی۔ہم اکثر وہاں بیٹھتے تھے، شام کا دھندلکا تھا۔آس پاس کی چھتیں ویران تھیں،اس کا سینہ زیادہ بھرا ہوا نہ تھا، دو چھوٹی گولیاں تھیں اور وہ بھی اتنی اندر کہ بس اتنا حصہ سپاٹ معلوم ہوتا۔اس وجہ سے اس کی گردن کا حصہ نیچے اتر کر کسی دھوپ میں سوئے ہوئے صحرا کی مانند پھیل گیا تھا۔طلعت اس پر اپنی مخروطی انگلیاں پھیر رہی تھی۔میں اسے دیکھنے لگا، اس روز بس اس نے میرا ہاتھ بغیر کچھ کہے، اس شفاف حصے پر رکھ دیا، وہ حصہ بہت گرم تھا، میں اندر سے کچھ گھبرا گیا تھا، بات کچھ بھی نہ تھی، طلعت شاید اس روز یہی بتارہی تھی کہ اس کا بدن عام لوگوں سے زیادہ گرم رہا کرتا ہے۔مگر اس کے بعد ہم اکثر بات کرتے میں ایک دوسرے سے انگلیاں الجھا لیتے، پاؤں لڑاتے اور ایک دفعہ جب وہ کسی بات پر آبدیدہ ہوئی تو سرد اندھیرے کی گیلی چادر کے اندر میں نے بڑی خموشی سے اسے گلے لگالیا۔وہ بس ایک لڑکے اور لڑکی کے درمیان چمک چمک کر ماند ہوجانے والے جگنوؤں جیسے لمحے تھے، جو بہت اضطراری اور جلد باز تھے۔آئے، گزر گئے ۔نہ ان میں کچھ ہوسکتا تھا، نہ ہوا، ہم نے تو کبھی سانسوں کی ڈوریں بھی الجھانے کا خود کو موقع نہ دیا۔شاید میں اس وقت ان سب باتوں سے بہت خوفزدہ رہتا تھا۔اخلاقیات کا بھی بے حد قائل تھا اور ہمت کے لحاظ سے بھی بے حد کمزور۔ ورنہ وہ لمحے دھندلی گلابیوں میں اترے ہوئے پانیوں جتنے حسین تو تھے ہی، بس انہیں لبوں تک لانے کی توفیق نہ ہوئی۔لیکن اچھا ہی ہوا۔اگر ایسا ہوتا تو آج بھی اپنی تمام بے باکیوں کے باوجود مجھے اس بات پر افسوس ہی ہوتا۔وہ میری بہت اچھی دوست تھی اور مجھ پر اس کا بھروسہ بھی بلا کا تھا۔ہمارے درمیان کوئی ایسا جذبہ بھی نہ تھا، جو بعد میں اس وقتی یا فطری جذباتیت کوJustify کرنے کا بہانہ بن سکتا۔چنانچہ جو ہوا ، اچھا ہوا۔

 

محبت کے اس خوبصورت دورانیے میں سب کچھ ٹھیک تھا، ندیم بھی میری بہت عزت کرتا تھا، مجھ سے بہت محبت کرتا تھا۔مگر میرے ہی اندر رقابت کا جذبہ پیدا ہونے لگا
طلعت کی شادی، فیضان کے ہی ایک دوست ندیم سے ہوئی ہے۔اب ان دونوں کے دو بچے بھی ہیں۔ندیم کی اس سے پہلی ملاقات میرے ہی گھر پر ہوئی تھی۔وہ ندیم سے کیا ملی، دنیا سے بیگانہ ہوگئی،اس نے رفتہ رفتہ سب کو نظر انداز کردیا۔کہانی میں ایک موڑ بڑا دلچسپ تھا، طلعت جتنی عجیب و غریب تھی، ندیم بھی ویسا ہونق و اجبق آدمی نکلا۔ فیضان نے ایک روز مجھے بتایا کہ ندیم اور طلعت فلم اکیلے دیکھنے جانا چاہتے ہیں اور ندیم، طلعت کو سرپرائز دینا چاہتا ہے، اس کے لیے پہلی دفعہ اس نے دو ٹکٹ خریدے ہیں، لیکن بھری ہوئی قطار میں کارنر سیٹ طلب کرنے کی شرمندگی اس کے چہرے پر صاف دیکھی جاسکتی تھی، اس محنت کا فائدہ بھی کچھ خاص نہ ہوا کیونکہ طلعت دوسرے روز کسی وجہ سے اس کے ساتھ فلم کے لیے نہ جاسکی، اس روز ہم نے ندیم کا بہت مذاق اڑایا۔ اسی طرح ندیم کو معلوم تھا کہ طلعت اپنے گھر پر رات کو فون پر بات نہیں کرسکتی، پھر بھی اس نے طلعت کو ایک فون گفٹ کیا، سم دلوائی اور رات کو وہ اس طرح بات کرتے کہ طلعت اپنی بہنوں کے بیچ لیٹی، چادر میں دبکی کان پر فون لگائے رہتی اور ندیم اس طرف سے لگاتار بولے جاتا، دو طرفہ محبت میں ایک طرفہ کنورسیشن کی یہ سروس کئی دفعہ طلعت کے اچانک سوجانے سے متاثر ہوچکی تھی۔ندیم ہماراگہرا دوست بنا۔ اور آج بھی ہے۔ہم نے کئی فلمیں ساتھ میں دیکھیں، شامیں ساتھ میں گزاریں اور وقت کے سطح مرتفعی علاقوں کی سیر کرتے وقت ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رکھا۔اکثر یہ ہوتا کہ میں اور فیضان ، ندیم اور طلعت کو، ہمارے متوقع بہنوئی کی عدم موجودگی میں ، ان کے گھر پر چھوڑ کر باہر سے تالا لگا دیتے اور کہیں گھومنے چلے جاتے۔دو چار گھنٹے، ادھر ادھر گزارنے کے بعد واپس آتے۔

 

محبت کے اس خوبصورت دورانیے میں سب کچھ ٹھیک تھا، ندیم بھی میری بہت عزت کرتا تھا، مجھ سے بہت محبت کرتا تھا۔مگر میرے ہی اندر رقابت کا جذبہ پیدا ہونے لگا، مجھے فکر ہونے لگی کہ اگر طلعت کی شادی ہوگئی تو اتنا اچھا وقت جو میں اس کے ساتھ گزارتا ہوں، ایک دم سے ختم ہوجائے گا اور کہانی رک جائے گی۔اس جلن میں میں نے ایک روز طلعت کی بڑی بہن مسرت انجم کو یہ بتادیا کہ طلعت جس لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہے وہ میرا دوست ہے، اور یہ دونوں شادی کے لیے کبھی بھی فرار ہوسکتے ہیں۔میں یہ بات وسیم بھائی تک کسی ذریعے سے پہنچانا چاہتا تھا ، مجھے یقین تھا کہ اگر بات وہاں تک پہنچ گئی تو ان دونوں کا رشتہ ٹوٹ جائے گا۔۔وہ کوئی عشقیہ رقابت نہ تھی، بس میں وقت کو روکنا چاہتا تھا، جبکہ مجھے اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ میں جس وقت کو روکنا چاہ رہا ہوں، وہ واقعی گزر چکا ہے اور طلعت کی شامیں اب کسی اور کی زندگی کا حصہ بن گئی ہیں، وہ ٹیوشن کم آنے لگی تھی، اس بات پر ایک دو بار ہمارا جھگڑا بھی ہوا۔۔مجھے حیرت تب ہوئی، جب اس طرف شادی کے سارے انتظامات ہونے کے باجود طلعت کے گھرمیں کوئی ہلچل ہی نہ دکھائی دی۔طلعت نے ٹیوشن چھوڑ دی تھی، ہماری کبھی کبھار فون پر بات ہوجاتی۔پھر ایک دن جب میں ایک اداکارہ کے ساتھ کناٹ پلیس میں کہیں بیٹھا ہوا تھا تو طلعت کا فون آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ ندیم اور وہ دونوں دلی چھوڑ کر جارہے ہیں۔سب کچھ اتنا اچانک تھا کہ میں کچھ نہ کرسکا۔ مگر اس رات مجھے وسیم بھائی کے ساتھ بہت بھاگ دوڑ کرنی پڑی، ندیم کے گھروالوں اور ان کے گھروالوں کے درمیان میں کسی پسو کی طرح دبکا ہوا ساری باتیں سنتا رہا۔وہ دونوں کہاں تھے، اس کی کسی کو خبر نہیں تھی۔طلعت نے اپنے بندھے ہوئے لبوں کے پرندے کو بالآخر پوری طرح آزاد کردیا تھا، رات کے ڈھائی بجے وسیم بھائی نے مجھے میرے گھر ڈراپ کیا اور میں یہ سوچتا ہوا گھر کی سیڑھیاں چڑھنے لگا کہ آخر مسرت نے اپنے گھروالوں کو کچھ بتایا کیوں نہیں۔۔۔مگر اب اس پورے قصے پر سوائے ایک روکھی ہنسی ہنس دینے کے علاوہ میرے پاس اور کیا چارہ تھا۔
Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی – قسط نمبر 9

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انہیں اصل میں اس بات پر یقین کرتے ہوئے بڑی شرم سی محسوس ہورہی تھی کہ یہ جو چھٹانک بھر کا لڑکا ان کی نگاہوں کے سامنے کھڑا ہے، ابھی ابھی ان کی بیٹی نے اسے اپنا استاد تسلیم کیا ہے۔
بہت دنوں تک دوردرشن اردو کے لیے کام کرنے کے بعد مجھے جب فراغت ملی تو میں ایک روز جب دوپہری میں گھر پر آرام کررہا تھا، طلعت مجھ سے ملنے آئی۔طلعت دراصل انہی دو لڑکیوں میں سے ایک تھی، جن کو مجھے کوچنگ میں پڑھانا تھا۔لیکن اپنی مصروفیت کی وجہ سے نہ پڑھا سکا تھا۔دہلی ایجوکیشن پوائنٹ میں بہت زیادہ وقت میں نہ گزار سکا۔وہاں اصل میں مسئلہ یہ تھا کہ بہت کم پیسوں پر مجھے کام کرنا پڑتا تھا۔طلعت والی بات بھی بڑھاؤں گا، مگر اس سے پہلے دو واقعات سن لیجیے، جو کچھ مزے کے ہیں۔کوچنگ میں سردیوں میں پھٹے ہوئے ایک کوٹ کو پہن کر بیٹھے رہنے سے لے کر تین تین شفٹ کرنے کی بھی نوبت آئی تھی۔اس نوبت کے پہنچتے پہنچتے میں وہاں سے نکل آیا اور مجھے سکرپٹنگ کا چسکہ لگ گیا۔اس کام میں کوچنگ کی بہ نسبت پیسے کافی زیادہ تھے اور کام بھی میری پسند کا تھا۔کوچنگ کے دوران بتانے کے لیے ایسا کچھ خاص نہیں ،بس ان دنوں میں یہ تبدیلی ضرور ہوئی تھی کہ ہم شاہین باغ سے اب بٹلہ ہاؤس شفٹ ہوچکے تھے، وہاں ایک بہت چھوٹے کمرے میں کچھ بیس بائیس دن گزار کر، ہم نے ایک دو کمروں کا فلیٹ ایک پرانی سی بلڈنگ کے فرسٹ فلور پر ذاکر نگر کے علاقے میں لے لیا تھا۔تو پہلا واقعہ کچھ یوں ہے کہ میں کوچنگ میں کچھ کم عمر لڑکیوں کو بھی پڑھایا کرتا تھا، جو جوانی اور بچپن کے بالکل برابر کی لکیر پر کھڑی ہوا کرتی تھیں۔وہ مجھ سے مانوس اس لیے ہوجاتی تھیں کیونکہ میں پڑھاتا کم تھا اور ان سے باتیں زیادہ کرتا تھا۔مجھے کبھی سختی سمجھ ہی میں نہ آئی، کسی طالب علم پر آنکھیں نکالنا بھی میرے لیے کبھی ممکن نہ ہوسکا۔اس لیے کیا لڑکے ، کیا لڑکیاں سب سے ایک دوستانہ قسم کے ماحول میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ خوب باتیں ہوا کرتیں۔ایک روز میں اپنے گھر سے کوچنگ جارہا تھا، کوچنگ کوئی بہت دور تو تھی نہیں۔لیکن میں جب اپنے گھر سے نکل کر کچھ سیدھا چل کر ایک گلی میں مڑا تو سامنے سے ایک طالبہ اپنی والدہ کے ساتھ آرہی تھی، اس نے مجھے سلام کیا تو میں مسکرادیا۔میرا مسکرانا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بہت بھاری بھرکم قسم کی خاتون اپنے ڈگڈاتے بدن، تمتماتے چہرے اور چھلکتے ہوئے غصے کے ہمراہ میرے سامنے آکر کھڑی ہوگئیں۔انہوں نے میری طرف نہایت جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے پوچھا۔

 

“کس کو دیکھ کر ہنس رہا تھا تو؟”

 

میں کچھ سمجھ نہ پایا کہ کیا کروں، مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی لڑکی کو چھیڑتا ہوگا تو ضرور اسے بچ نکلنے، بھاگنے یا پھر ایسی سچویشن میں مقابلہ کرنے کے سارے گر ضرور معلوم ہوں گے، لیکن میں اس معاملے بالکل اناڑی تھا اور پھر کسی عورت کو اس قسم کے روپ میں دیکھنا اس وقت میرے لیے بالکل ہی انوکھا تجربہ تھا، ان کی آنکھیں ابلی پڑرہی تھیں، بدن پر لال رنگ کا جمپر تیزی سے آگے کی جانب جھکا پڑرہا تھا، دوپٹہ گلے میں کسی اجگر کی طرح لپٹا ہوا، بال بندھے ہوئے اور ایک ہاتھ ہوا میں اس نیت سے لہراتا ہوا کہ میرے الفاظ سن کر میرے گالوں کے حق میں کوئی فیصلہ کرے گا۔مجھ سے بے وقوفی یہ ہوئی کہ میں نے ان سے یہ کہہ دیا

 

“آپ اپنی بیٹی سے معلوم کیجیے، میں کون ہوں!”

 

اس روز مجھے اس بات کا ضرور احساس ہوا کہ اس سوسائٹی میں رہنا ہے تو غصے میں رہنا بہت ضروری ہے۔کسی لڑکی کو دیکھ کر توکیا کسی کبوتر کو دیکھ کر بھی مسکرادینے سے بے وقت کی آفت ٹپک پڑسکتی ہے۔
اب وہ آئو دیکھیں نہ تاو، مجھ پر مزید برس پڑیں۔اور اس چھوٹی ، معصوم اور ننھی گلی کے آدھے دائرے میں ان کے غصے کا بگولہ ایسا رقص کرنے لگا کہ آس پاس کی کھڑکیوں نے اس نظارے کے لیے یکدم پٹاپٹ اپنی اپنی آنکھیں کھولنی شروع کردیں۔بات بڑھنے لگی، پتہ نہیں ، کیا مسئلہ تھا کہ وہ مجھ پر ہاتھ اٹھانے سے چوک رہی تھیں۔مگر یقینی طور پر اگر اسی وقت ان کی بیٹی آگے بڑھ کر انہیں فوراً یہ نہ بتاتی کہ ‘ارے امی! کیا کررہی ہو، یہ تصنیف سر ہیں!’تو ان ہاتھوں کی برق میں لپٹی لہروں کو ضرور ایک زناٹے کے ساتھ میرے رخساروں سے چپٹ جانا تھا۔اول تو انہوں نے بیٹی کے بیان پر گھور کر مجھے دیکھا، پھر ان کی خون آلود نگاہوں میں ابلتا ہوا دریا ،دھیرے دھیرے بیٹھنے لگا۔انہیں اصل میں اس بات پر یقین کرتے ہوئے بڑی شرم سی محسوس ہورہی تھی کہ یہ جو چھٹانک بھر کا لڑکا ان کی نگاہوں کے سامنے کھڑا ہے، ابھی ابھی ان کی بیٹی نے اسے اپنا استاد تسلیم کیا ہے۔ اس لیے انہوں نے زیادہ معافی تلافی تو نہ مانگی،البتہ یہ کہہ کر کام چلایا کہ ‘سر! پلیز سڑک پر آئندہ اس کی طرف دیکھ کر آپ مسکرائیے گا نہیں، اگر مجھے غلط فہمی ہوسکتی ہے تو کسی کو بھی ہوسکتی ہے۔آپ تو سمجھ دار ہیں نا۔۔۔’اس وقت میرے پاس ان کی بات ماننے کے علاوہ کوئی اور چارہ تھا ہی نہیں۔

 

میں اس واقعے پر اتنا سٹپٹا گیا تھا کہ میں نے ان کی شکایت نسیم سر سے کی، مگر وہ بے چارے بھی کیا کرسکتے تھے۔اب میرا پتلا دبلا ڈھانچہ نما جسم، پکاکالا رنگ اور اس پر حلیہ بھی بالکل راہ چلتوں کا سا۔قدرت کے ساتھ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے کہ جو چیز اندر سے جیسی ہے، ویسی باہر سے بالکل نہیں ہے۔اور ہر چیز کا اندر و باہر جاننا ہر شخص کا مسئلہ نہیں ہے۔جیسے اس لڑکی کی والدہ کا یہ مسئلہ بالکل نہ تھا کہ میں کون ہوں یا کون ہوسکتا ہوں، ان کا بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ میں ان کی لڑکی کو دیکھ کر مسکرایا کیوں۔بہرحال برا وقت تھا ٹل گیا۔لیکن اس روز مجھے اس بات کا ضرور احساس ہوا کہ اس سوسائٹی میں رہنا ہے تو غصے میں رہنا بہت ضروری ہے۔کسی لڑکی کو دیکھ کر توکیا کسی کبوتر کو دیکھ کر بھی مسکرادینے سے بے وقت کی آفت ٹپک پڑسکتی ہے۔مجھے یاد ہے کہ اس واقعے کا اثر بہت دنوں تک میرے ذہن و دل پر رہا اور میں سڑک پر اس قدر سنجیدہ ہوکر چلنے لگا جیسے وہاں بھی میں کوئی استاد ہوں، جبکہ سڑک پر ہر آدمی صر ف آدمی ہونا چاہیے، اس کا عہدہ، اس کا کردار، اس کی ذہانت، اس کی خوبصورتی یا بدصورتی سب کچھ ایک سیال میں ڈوبے ہوئے برادے کی طرح گھل مل جانا چاہیے لیکن ایسا یہاں نہیں چل سکتا تھا۔اس لیے بعد میں احساس ہوا کہ لوگ یہاں سڑک پر بھی اپنے ماتھوں پر اپنے عہدوں کی تختیاں لگائے کیوں گھومتے ہیں۔

 

دوسراواقعہ یہ ہے کہ طلعت اور روشن، یعنی کہ انہی دو لڑکیوں کو ساتھ میں پڑھانے کے دوران بہت سی ادھر ادھر کی باتیں ہوجایا کرتی تھیں، ایک دن طلعت نے بتایا کہ اسے اپنے ہی کسی استاد پر کرش ہے۔میں چونک گیا کیونکہ استاد تو میں بھی تھا لیکن اس زمانے میں مجھے اس کی امید کم تھی کہ میری طرف کوئی بہت خوبصورت لڑکی اس طور بھی دھیان دے سکتی ہے۔واقعہ یہ تھا کہ میرا ایک دانت ، جو کہ سامنے کی اوپری جانب کا تھا، ٹوٹ گیا تھا۔یہ تب ہی سے ٹوٹا ہوا تھا، جب میں ممبئی سے دہلی آیا تھا،جس حادثے میں میں نے اپنا یہ دندان شہید کروایا تھا، وہ خاص ایک کتے سے تعلق رکھتا ہے، اور اسی دن سے کتوں نے میرے دل میں ایک بڑا خوف سا پیدا کردیا تھا، ممبئی کے علاقے میرا روڈ میں جب میں کورئیر بانٹا کرتا تھا، جو کام میں نے ٹھیک سے شاید مہینہ دیڑھ مہینہ ہی کیا تھا۔ اس زمانے کی بات ہے کہ ایک بلڈنگ میں مجھے خط پہنچانے جانا تھا، میں ایک سائیکل پر خطوط لے کر نکلا کرتا تھا۔ آخری خط بچا تھا، بلڈنگ گھر سے بہت دور نہیں تھی، چنانچہ سوچا کہ اسے بھی پہنچا دیا جائے۔جب بلڈنگ کے پھاٹک سے اندر داخل ہوا اور بلڈنگ میں جانے کے لیے دائیں جانب کو مڑا تو دیکھتا کیا ہوں کہ ایک کافی بھاری بھرکم چاکلیٹی رنگ کا کتا، اپنی دم کو اپنی بانہوں میں دبائے آرام کررہا ہے، میری ہمت نہ ہوئی کہ اسے پار کرکے اوپر کی جانب نکل جاؤں۔

 

ایسے وقت میں جب سڑک پر کوئی آدمی کسی جانور سے خوفزدہ ہوکر سہما ہوا کھڑا ہو، اسے ایک محفوظ گھر سے دیکھنے کی انسانی جبلت الگ ہی لطف دیتی ہے ۔
ایسا نہیں تھا کہ اس سے پہلے بلڈنگوں میں خطوط پہنچاتے وقت کتوں سے میرا سامنا نہ ہوتا ہو، لیکن وہ کتا کچھ دراز قامت تھا اور بھیانک شکل و صورت کی صفت بھی رکھتا تھا۔میں باہر آیا اور سائیکل پر بیٹھ کر اسے موڑنے لگا، اچانک ایک دوسرا کتا، جو کہ نہ جانے کہاں سے منظر کی سفید چادر پر نمودار ہوا اور اپنی گرجدار آواز سے اس میں چھید کرنے کی کوشش کرنے لگا۔اس کے چمکتے ہوئے دانت، ٹپکتی ہوئی رال اور بھوں بھاں اس قدر بھیانک تھے کہ مجھے کچھ سمجھ نہ آتا تھا کہ کروں تو کیا کروں، ہوتا یہ تھا کہ جہاں میں پیڈل پر پیر رکھ کر اسے آگے بڑھانا چاہوں ، وہاں وہ بھونک کر میری جانب بڑھ جاتا، ادھر میری حالت ایسی کہ پاؤں بھاری ہوئے جارہے تھے، جب میں پرسکون ہوجاتا اور حرکت نہ کرتا تو وہ بھی بیٹھ جاتا۔اس وقت اس کے بھرپور گدرائے ہوئے چکنے بدن میں جس پھرتی سی کسی ضدی بچے کی روح داخل ہوئی تھی، وہ میری عاقبت کے لیے کافی اندوہناک ثابت ہونے والی تھی۔میں نے دیکھا کہ گراؤنڈ فلور کی ایک گریل میں لٹکا ہوا چھوٹا سا ایک لڑکا بڑی ہی دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔میں اس کی دلچسپی کو سمجھ سکتا تھا۔ایسے وقت میں جب سڑک پر کوئی آدمی کسی جانور سے خوفزدہ ہوکر سہما ہوا کھڑا ہو، اسے ایک محفوظ گھر سے دیکھنے کی انسانی جبلت الگ ہی لطف دیتی ہے ۔بہرحال، رکنے کا کوئی فائدہ نظر نہ آتا تھا، میں نے تیزی سے اچانک پیڈل پر پیر رکھ کر اسے بھگانا شروع کر دیا، بائیں جانب مڑتے ہی پیچھے جو اک نظر کی تو بھاگتا اور ہانپتا ہوا وہی کتا، بالکل میرے پیروں سے لپٹا نظر آیا، ہوا کے اس تیز کینواس پر میری چیخ اور دہشت کا ایک بھرپور رنگ پھیلتا جارہا تھا۔سامنے کسی نے پھاٹک بند کردیا تھا اور سائیکل میں بریک نہ تھے۔میں نے پیڈل پر ابتدائی قدم دھرتے ہوئے یہی سوچا تھا کہ سائیکل کو بھگاتا ہوا پھاٹک سے باہر لے جائوں گا، لیکن میری امیدوں کا در بند تھا اور راستہ تنگ تھا، نہایت منطقی قسم کا سوال اس موقع پر یہ ہوسکتا ہے کہ اگر اس وقت سائیکل میں بریک ہوتے بھی تو کیا میں انہیں لگانے کی دلیری کا متحمل ہوسکتا تھا۔بہرحال دھاڑ سے جاکر سائیکل پھاٹک سے ٹکرائی ، اونگھتا ہوا پھاٹک اس بد ہنگم قسم کی اچانک بغل گیری پر ایسا بوکھلایا کہ اس کا ایک پٹ دور تک گھسٹتا چلا گیا، میں ایک ذرا ہوا میں اچھلا اور دھڑام سے زمین پر آرہا، بلڈنگ کے باہر موجود دکان پر سے کچھ لونڈے میری طرف دوڑے ، جب تک وہ میرے پاس آئے، کتا مجھے سونگھ سانگھ کر بھاگ چکا تھا۔اسی حادثے میں میرے مسوڑھوں کا خون ایک دانت کو کھوکھلا کرتا ہوا اس میں اتر گیا اور وہ دانت کالا پڑتا چلا گیا، کچھ عرصے بعد ایک دن جب میں انڈا بریڈ تناول فرمارہا تھا، کٹ کی سی ایک ہلکی آواز ہوئی اور وہ داغ نما دندان چھوٹے سے نوالے کی قالین میں لپٹا ہوا میری ہتھیلی پر اتر آیا۔کافی بعد میں جاکر میں نے اس مقام پر ایک مصنوعی دانت لگوایا تھا جو کہ بدستور اپنی جگہ پر قائم ہے۔

 

اس سے پہلے دو دفعہ طلعت کا ذکر آچکا ہے، مگر درمیان میں کوئی نہ کوئی واقعہ نکل آتا ہے۔تو میں بتا یہ رہا تھا کہ اس نے مجھے بتایا کہ اسے اپنے ایک استاد سے محبت ہے، تفتیش کرنے پر معلوم ہوا کہ جن صاحب کے بدن سے انہیں عشق کی بو آرہی ہے، وہ فیضان علی ہیں۔فیضان ایک بہت ہی ہینڈسم نوجوان تھے، وہ کوچنگ کی اس چھوٹی برانچ میں پڑھایا کرتے تھے، جس کے وہ مالک بھی تھے اور روح رواں بھی۔وہاں یہ لڑکیاں ان سے انگریزی وغیرہ پڑھنے جایا کرتی تھیں۔لیکن اس وقت تک میں نے انہیں نہ دیکھا تھا، پھر ایک روز جب وہ جوگابائی والی برانچ میں آئے تو میری ان سے ملاقات ہوئی۔میرے دل پر ان کے نقوش کا گہرا اثر ہوا اور ہماری دوستی ہوگئی۔ یہ اتفاق ہی تھا ، مگر اتفاق ، فیضان جتنا ہی حسین نکلا۔میں ہمیشہ سے محبت کرنے والوں کی قدر کرتا ہوں، طلعت فیضان کو پسند کرتی تھی، یہی بات میری اور فیضان کی دوستی کا محرک ثابت ہوئی۔وقت گزرا، بہت سا وقت گزرا ، رفتہ رفتہ طلعت تو کہیں غائب ہوگئی، مگر فیضان سے میری دوستی بہت گہری ہوگئی۔آج وہ ایک شادی شدہ مرد ہیں ، اور ان کی یہ شادی شدگی، میری زندگی سے ان کی بہت حد تک گمشدگی کا باعث بھی ہوئی ہے۔ لیکن طلعت ان کی بیوی نہیں ہےبلکہ ان کے ہی ایک اور بہت گہرے دوست کی بیوی ہے۔ یہ ایک طویل قصہ ہے، ایسا طویل قصہ، جس میں بہت سے داؤ پیچ ہیں۔مگر میں انہیں کم لفظوں میں سمجھانے کی کوشش کروں گا۔
Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی- قسط نمبر 8

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

ڈسپلن کا بڑا عجیب و غریب معنی ہم نے بنالیا ہے اور وہ ہے طے شدہ اوقات میں کوئی کام کرنا۔کام دل سے ہوا کرتے ہیں، طے شدہ اوقات کے حساب سے نہیں
ہر بات انسان کے طے شدہ معاملات کے ساتھ نہیں چلتی ہے، میں نے ایسے دوست دیکھے ہیں، جو زندگی کو برتنے کے قاعدے بناتے ہیں، پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں، حساب لگاتے ہیں اور پھر ایک دنیا بنانے کا خواب دیکھتے ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے زندگی سے اب تک یہ نہیں سیکھا کہ وہ بالکل غیر متوقع ہے۔ اتنی غیر متوقع کہ جو بات ہم سوچتے ہیں، اسے کرنے اور کرپانے میں بہت فاصلہ ہوتا ہے۔اس لیے زیادہ ضروری یہی ہے کہ جینے کا موقع مل رہا ہے تو جی لیجیے۔ جس دوپہر آپ کا دل لمبی تان کر سونے کا چاہ رہا ہو،اگر اس دوپہر آپ کسی دفتر کی چپچپی کرسی پر چوتڑ چپکائے بیٹھے ہوئے ہیں تو آپ بے وقو ف ہیں۔ڈسپلن کا بڑا عجیب و غریب معنی ہم نے بنالیا ہے اور وہ ہے طے شدہ اوقات میں کوئی کام کرنا۔کام دل سے ہوا کرتے ہیں، طے شدہ اوقات کے حساب سے نہیں، مجھے اگر پڑھنا اچھا لگتا ہو تو میں لمحوں کو گن کر، ان کا حساب لگا کر نہیں پڑھوں گا اور اگر میں پڑھنے کا ٹائم ٹیبل سیٹ کرتا ہوں تو بے وقوف ہوں، کیونکہ میں اگر ایسا کرتا بھی ہوں تو اس دوران پڑھنے سے زیادہ ٹائم پر توجہ دوں گا۔کاموں کو مشینی طور پرکرنے کے ہم اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ زندگی کو بھی مشینی طور پر ہی گزارنا چاہتے ہیں۔میں نے جو بھی نوکریاں کیں۔ آرچ میڈیا پرائیوٹ لمیٹڈ میں یا ریختہ میں یا کہیں اور۔ان میں کبھی میں نے خود کو بھاگتے ہوئے دفتر نہیں پہنچایا۔میں چاہتا تو دوسروں کی طرح ایسا کرکے باس کی نظر میں ایک ڈسپلنڈ انسان بن سکتا تھا، مگر مجھے ڈسپلن سے زیادہ زندگی کی قدر کرنی تھی اور میں وہی کرتا ہوں۔کوئی بھی نوکری آپ سے بس بندھا ٹکا وقت چھین سکتی ہے، آپ کے نصیب کا چین سکون نہیں چھین سکتی۔اور سارا چین سکون حاصل ہونے سے پہلے اپنی ذات پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔گدھوں کی طرح زندگی گزار کر، خود کو انسان تصور کرنا ایک بڑی حماقت ہے۔آپ جو کام پسند کرتے ہیں، اس میں کی جانے والی محنت ، اس کا صحیح پھل دیتی ہے، پھل اس طرح کہ وہ کام بہت عمدہ ہوتا ہے، لوگ اسے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، آپ کی محنت رنگ لاتی ہے،اس میں وقت کا حساب نہیں ہوتا، کبھی کبھی آپ چوبیسوں گھنٹے جاگ کر وہ کام کیا کرتے ہیں، آنکھیں لال ہوجاتی ہیں، گھر والے چخ چخ کرتے ہیں، نزلہ ہو، زکام ہو یا بخار، جس کام سےعشق ہو، اسے کرنے سے کوئی جسمانی یا ذہنی پریشانی روک نہیں سکتی۔میں نے بہت پریشان کن حالات میں بھی ادبی کام کیے ہیں، جو مجھے اچھے لگتے تھے، جن دنوں نہیں اچھے لگتے، نہیں کرتا ہوں۔جن پروڈکشن ہاوسز میں میں کام کیا کرتا ہوں، وہاں ایک دن قریب چار سال پہلے کی بات ہے، مجھ سے کسی پروڈیوسر نے کہا کہ تصنیف! پروفیشنل رائٹنگ کا مطلب ہے، وقت پر کام کرکے دینااور اچھا کام کرکے دینا، رائٹنگ اس فیلڈ میں صرف آرٹ نہیں ہے، بلکہ ذمہ داری ہے، میں نے اس سے کہا کہ ذمہ داری کیا ہے، صرف کام کردینا، یا کام کو اچھی طرح کرنا۔اس نے جواب دیا کہ اچھی طرح کرنا۔میں نے کہا کہ اگر میں دو ہفتوں تک کچھ اچھا سوچ ہی نہ سکوں تو اچھا کیسے لکھوں گا۔۔اور اگر اچھا نہیں لکھوں گا تو پہلی ذمہ داری ہی نہیں نبھاپاوں گا، دوسری کا کیا بنے گا۔اسی طرح ایک دن میری ایک دوست نے مجھے ٹوکا تھا، اس نے کہا کہ تصنیف تمہیں مکالمے نہیں لکھنے آتے، تم یہ مت لکھا کرو، اس دن سے میں نے ڈائیلاگ رائٹنگ کا کام لینا بند کردیا۔مجھے واقعی احساس ہوا کہ میں نے کچھ غلط کام لے لیا تھا۔ایسے اور بھی بہت سے کام ہیں، جن کو کرکے، ان میں ناکامی اٹھانے کے بعد میں نے تہیہ کیا کہ دوبارہ ان کی طرف کبھی رخ نہیں کروں گا۔

 

میں مانتا ہوں کہ دنیا میں ایسے مجبور لوگ بھی ہیں کہ جنہیں کھانے میں نمک کم یا زیادہ محسوس ہونے پر بھی کسی طرح لقمے توڑنے پڑتے ہیں مگر اس زہر مار کو خود پر حاوی ہونے دینے کا مطلب ہے کہ آپ ایک روز اصل کھانے کا مزہ بھول جائیں گے۔
ہمارے ایک دوست اور خیر خواہ ہیں، طارق فیضی، انہوں نے مجھے ایک دفعہ سخت پریشانی کے عالم میں ایک انگریزی ناول کا ترجمہ کرنے کے لیے دیا، میں نے اسے جلد از جلد کردیا۔ اس زمانے میں انگریزی ناول کا ترجمہ کرنے پر ایک فخر کا سا احساس بھی ہوا تھا، اس ترجمے کی قیمت بہت کم ملی تھی،مگر مجبوری تھی، کیونکہ میں خود ترجمے کے کام کی اہمیت اورقیمتوں کو ٹھیک سے نہیں جانتا تھا۔طارق فیضی، اردو پریس کلب انٹرنیشنل کے جنرل سکریٹری ہیں اور بہت یار باش قسم کے آدمی ہیں اور کھلکھلانے، کھل کر زندگی بتانے کے قائل ہیں، ہرسال دبئی میں ایک عالمی مشاعرہ کرتے ہیں اور بہت کامیاب قسم کی زندگی گزار رہے ہیں۔سیاست، فلم اور دوسرے تمام شعبوں میں ان کی شناسائی بہت اچھے لوگوں سے ہے۔وہ کام دبئی میں ہی رہنے والے کسی ہندوستانی نژاد شخص کا تھا۔ میں نے جو ترجمہ کیا سو کیا، اس پر ایکسائٹمنٹ میں دیباچہ بھی لکھا۔ وہ ایرانی پس منظر میں لکھا گیا ایک انگریزی ناول تھا، ایک تو ناول بہت پھسپھسا تھا، دوسرے نہایت خراب ترجمہ، اس پر بے ڈھنگے قسم کا دیباچہ، جس میں بلا سبب کی اوٹ پٹانگ باتیں میں نے بھردی تھیں۔اس وقت میرے ایک دوست فیاض احمد وجیہہ نے مجھے بہت برا بھلا کہا تھا، میری ان سے اس معاملے پر کچھ ان بن بھی ہوگئی۔ مگر ان کی بات صحیح تھی، جس کا بعد میں مجھے اندازہ ہوا،اصل میں میں ان کے آئینہ دکھانے سے کچھ کھسیا گیا تھا۔ترجمے کی خرابی کا سارا بھگتان طارق صاحب نے جھیلا، ان کا تعلق بھی اس شخص سے کچھ خراب ہوا مگر طارق فیضی کی زندہ دلی پر حیران رہ گیا کہ اس نے مجھ سے ایک حرف بھی خراب نہ کہا۔بس مجھے یہی سمجھایا کہ تصنیف! کام نہ کرو، کوئی کام دو سال تک نہ کرو، مگر جب کرو تو ایسا کہ دنیا اش اش کراٹھے۔تب میں نے فیصلہ کیا کہ کاموں میں جلد بازی اچھی چیز نہیں۔لوگ جسے پرفیکٹ کام کہا کرتے ہیں، اس کا کوئی وجود نہیں، اول تو اچھا کام انتخاب کرنے کا موقع ہم جیسوں کو ملتا ہی کہاں ہے۔جو کام دے دیا گیا ہے، وہ بس کرنا ہے، اور اس لیے کرنا ہے تاکہ دوسرے اس سے بہت سا فائدہ حاصل کریں۔

 

میں ایک پروڈکشن ہاوس کے لیے آج بھی کام کرتا ہوں، ان کا طریقہ یہ ہے کہ مجھے کام بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اطمینان سے کرنا یا پھر انکار کردینا۔میرا ذاتی تجربہ ہے کہ آج تک ان کے جتنے کام میں نے کرکے دیے ہیں، وہ ان کی بیسٹ ڈیل کے طور پر انہیں دستیاب ہوئے ہیں۔طے شدہ وقت میں آپ وہی کام کرسکتے ہیں، جس میں ہروقت آپ کا دل لگا ہوا ہو، وہ کام تو آپ اس وقت سے کم میں بھی کرلیں گے۔مگر جن کاموں کو کرنے کا دل ہی نہ ہو، وہ بس معاشی مجبوریوں کے تحت کیے جارہے ہوں، انہیں کرنے یا کرتے رہنے کو ، گھسے پٹے انداز سے کرنے سے بہتر ہے کہ آپ درمیان میں ہی چھوڑ دیں۔میں مانتا ہوں کہ دنیا میں ایسے مجبور لوگ بھی ہیں کہ جنہیں کھانے میں نمک کم یا زیادہ محسوس ہونے پر بھی کسی طرح لقمے توڑنے پڑتے ہیں مگر اس زہر مار کو خود پر حاوی ہونے دینے کا مطلب ہے کہ آپ ایک روز اصل کھانے کا مزہ بھول جائیں گے۔میں اصل کھانے کا مزہ بھولنا نہیں چاہتا، یہ میرے وجود کا مسئلہ ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ زندگی پر ڈسپلن کو زیادہ ترجیح دیتے ہوں، جیسے بہت سے لوگ زندگی پر مذہب کو، قومیت کو یا پھر محبت کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کے لیے مارنے مرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ میں وہ کام نہیں کرسکتا، چنانچہ یہ کرتا ہوں اور خوش رہتا ہوں۔

 

یوں تو ہمارا اندرونی سسٹم کسی اجگر کے بگڑے ہوئے ہاضمے کی طرح سڑتا جارہا ہے، مگر ہم لوگوں میں ذوق پیدا کرنے کے بجائے، اسے ماررہے ہیں۔
ادبی کاموں میں بھی میں کبھی کبھی جب بہت اکتا جاتا ہوں تو اچھی سے اچھی کتاب کو اسی وقت بند کردیتا ہوں، زبردستی کسی ایک سطر کو بھی پڑھنا میرے لیے بڑا مشکل کام ہے۔مجھ سے لوگوں نے اکثر شکایت کی ہے کہ ہم نے آپ کو بہت سی نظمیں، غزلیں اور نہ جانے کیا کچھ بھیجا ہے، آپ نے کبھی نہیں دیکھا۔یقین جانیے کہ اگر میں انہیں دیکھنے لگوں اور خود کے ساتھ ہلکی سی بھی زبردستی کروں تو ممکن ہے کہ بہت اچھی چیز بھی میرے سر سے گزر جائے اور مجھے اس کا احساس تک نہ ہو۔یوں تو ہمارا اندرونی سسٹم کسی اجگر کے بگڑے ہوئے ہاضمے کی طرح سڑتا جارہا ہے، مگر ہم لوگوں میں ذوق پیدا کرنے کے بجائے، اسے ماررہے ہیں۔آفرین کے بارے میں آپ لوگ جانتے ہیں۔وہ مجھ سے کہا کرتی تھی کہ تصنیف! اردو پر اتنی توجہ نہ دو، تم جتنا کام اردو زبان میں کررہے ہو، اس کا ایک تہائی انگریزی میں کروگے تو کچھ ہاتھ لگے گا، ورنہ ایک دن یا تو سائڈوں سے اڑے ہوئے بالوں اور ایک موٹے چشمے سمیت ، جرسی پہنے کسی پروفیسر کی طرح بڑبڑانے لگو گے یا پھر تھر ڈ ورلڈ کے کسی فرسٹریٹڈ رائٹر کی طرح خودکشی کرلو گے۔مجھے اب اس کی باتوں پر ہلکا ہلکا یقین سا آنے لگا ہے۔جب میں دیکھتا ہوں کہ مجھے لوگوں کی ٹھڈیوں میں ہاتھ ڈال کر انہیں بتانا پڑتا ہے کہ میں نے کچھ کام کیا ہے، جسے آپ مشہور اخبارات یا خبر رساں ویب سائٹس کے ذریعے بہت سے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔اور یہ کام افادیت پسندی کے پیش نظر نہیں کیا گیا ہے، بس اس کا مقصد ہے ، لوگوں تک ایک ایسی انفارمیشن کا پہنچنا، جو ان تک پہنچنی چاہیے۔تو وہ میرے کاموں کو سراہتے ہوئے ، ایک چھوٹی سی خبر کے لیے بھی معقول وجوہات بھیجنے کی درخواست کرتے ہیں۔ان کی غلطی نہیں ہے، کسی شرمندہ و شیریں زبان کے لیے تگ و دو کرنے والے کو ایسی کوئی خاص اہمیت حاصل ہونی بھی نہیں چاہیے ۔

 

بہرحال ، ان واقعات پر مجھے کلدیپ نیر کا ایک واقعہ یاد آتا ہے، انہوں نے لکھا ہے کہ جب وہ دہلی میں اردو کے ایک اخبار، انجام کے لیے کام کررہے تھے، تو انہی دنوں اس کے ایک دفتر میں ایک بوڑھے شخص نے انہیں مشورہ دیا کہ بیٹا، اردو کا زمانہ لد گیا، اگر چاہتے ہو کہ کسی زبان میں لکھ کر دوسروں کے دست نگر نہ بنو تو انگریزی میں لکھا کرو، وہ بوڑھا کوئی اور نہیں اردو صحافت کا ایک زریں باب تھا، جسے دنیا حسرت موہانی کے نام سے جانتی ہے۔ بہرحال ابھی تک تو وہ نوبت نہیں آئی کہ مجھے اردو میں لکھ کر شرمندہ ہونا پڑے، لیکن ہاں آبھی سکتی ہے۔اس لیے اس بارے میں کچھ سنجیدگی سے سوچنا ضروری ہے۔

 

ابھی تک تو وہ نوبت نہیں آئی کہ مجھے اردو میں لکھ کر شرمندہ ہونا پڑے، لیکن ہاں آبھی سکتی ہے۔اس لیے اس بارے میں کچھ سنجیدگی سے سوچنا ضروری ہے۔
گورو اور میں ایک دفعہ یوسف سرائے کی سڑک پر رات کو تین بجے ایک نالے کی پائری پر بیٹھے تھے۔ ادھر ادھر کتے منڈرارہے تھے، ہم کسی ٹھیلے سے خریدا ہوا ایک چھوٹا برگر ان دنوں بڑے شوق سے کھایا کرتے تھے، گورو اس دن یہی سوچ کر بہت پریشان تھا کہ اس نے ہندی میڈیم سے کیوں پڑھائی کی۔میں نے اس سے کہا کہ واقعی ہم لوگ دونوں بڑے عجیب و غریب منظر میں پھنسے ہوئے لوگ ہیں۔سین یہ ہے کہ ایک قوم تھی، جس نے خود کو زبان اور مذہب کی ایک بڑی سی تلوار سے آدھا آدھا کاٹ لیا، خون اچھلا، ہاتھ پیر تڑپے، جڑواں جسموں سے تڑپ تڑپ کر ہزاروں روحیں چیختی چلاتی آسمانوں کی طرف دوڑنے لگیں، چاند سرخ ہوگیا، بادل گاڑھے اور زہر آلود، پٹریوں پر خون کے سیاہ دھبے، جو آتی جاتی ٹرینوں سے لٹکتی ہوئی لاشوں کی زبانوں پر ثبت ہوتے رہے مگر اس پوری چیخ پکار، لڑائی بھڑائی کے جو بنیادی مقاصد تھے، دو لوگ، ایک ہندو، ایک مسلمان۔آج وہ دونوں ہی ایک نالے کی پائری پر بیٹھے ہیں، آس پاس کتے منڈرارہے ہیں اور ایک ٹھیلے سے خریدا ہوا برگر کھاتے ہوئے اپنی مادری زبان کو گالیاں دے رہے ہیں۔کیا انگریز واقعی چلا گیا ہے؟کیا ہم واقعی کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں؟کیا ہمیں واقعی لڑنا چاہیے تھا؟کیا ہم واقعی ملک پرست لوگ ہیں؟ پتہ نہیں، مگر ہم انہی لوگوں کی اولاد ضرور ہیں، جنہوں نے وقت کے بہتے ہوئے سرخ دریا میں اپنے پھولتے ہوئے جسموں کو دیکھ کر بھی کبھی کوئی احتجاج نہیں کیا، ہمارے اجداد کے ہاتھوں میں انگریز کی پہنائی ہوئی ڈیڑھ سو سالہ پرانی زنجیریں تھیں، جو اب بھی پڑی ہیں، زنگ آلود، بجتی ہوئی زنجیریں،جنہیں توڑتے توڑتے مسوڑے زخمی ہوچکے ہیں اور پائوں تھک کر رات کے سرہانے اس نالے کی پائری پر لٹکنے کے لیے تیار ہوگئے ہیں، اب کیا فرق پڑتا ہے کہ یہ پیر تعفن پھیلاتی ہوئی سیاہ لہروں کی جانب ہیں یا پھر کالک اگلتی ہوئی اوبڑ کھابڑ سڑک کی طرف!!
(جاری ہے)
Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی- قسط نمبر 7

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

قسط نمبر 7

 

دہلی ایجوکیشن پوائنٹ جانے والے دنوں کی شروعات میں ہم لوگ شاہین باغ میں رہا کرتے تھے، یہ علاقہ اس وقت جوگا بائی سے کچھ چار میل کی دوری پر تھا اس لیے صبح سویرے میں اور میری بہن شائستہ عرف خوشبو ساتھ میں گھر سے نکلا کرتے تھے۔وہ مکان، جس میں ہم اس وقت رہ رہے تھے، ایک منزلہ مکان تھا اور پورے علاقے میں بھوتیا گھر کے نام سے مشہور تھا۔ہمارے خالو نے اپنے ایک بلڈر دوست سے سفارش کرکے ان دنوں ہمیں وہ مکان دلوایا تھا، سردیوں کا موسم تھا اس لیے پنکھے کی اس وقت کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی، ہمارے پاس رضائی نما کچھ گدے تھے اورخالہ نے ہم کو اپنے پاس سے کچھ اوڑھنے بچھانے کا سامان بھی دے دیا تھا، جس کی مدد سے امید تھی کہ سردیاں با آسانی کٹ جائیں گی۔

 

کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ وہ خود کشی نہیں تھی بلکہ راتوں رات اسے قتل کرکے گھر میں ڈال دیا گیا تھا،ہماری اس وقت کی پڑوسن کا کہنا تھا کہ یہ حرکت اس عورت کے بھائی کی ہی تھی جو کہ مکان ہتھیانا چاہتا تھا۔
اس مکان کے بھوتیا مشہور ہونے کے پیچھے اصل قصہ یہ تھا کہ اس میں ایک طلاق شدہ عورت نے خودکشی کی تھی۔ کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ وہ خود کشی نہیں تھی بلکہ راتوں رات اسے قتل کرکے گھر میں ڈال دیا گیا تھا، ہماری اس وقت کی پڑوسن کا کہنا تھا کہ یہ حرکت اس عورت کے بھائی کی ہی تھی جو کہ مکان ہتھیانا چاہتا تھا۔مکان تو عورت کے مرنے پر اسے حاصل ہو سکتا تھا، مگر وہ چونکہ آسیب زدہ مشہور ہوچکا تھا اس لیے کوئی اسے خریدنے پر آمادہ نہ ہوتا تھا، ایسے گھر میں رہنے کے لیے ہم لوگوں کی فیملی بہت مناسب تھی۔وجہ یہ تھی کہ ہمیں بھوتوں، چڑیلوں کا سامنا کرنے کی بڑی مشق تھی۔ہماری والدہ ایک مضبوط دل گردے والی عورت ہیں، جن کے اعصاب پر اس قسم کی چیزوں کا کوئی گہرا اثر نہیں پڑتا۔البتہ ہمارے ددھیال میں ایک خاص قسم کا وظیفہ بند ماحول جن، بھوت پریتوں، اثرات، نظر بد اور طرح طرح کی چیزوں سے انسان کے اعتماد کو کمزور کرنے کے لیے کافی تھا۔مجھے یاد ہے کہ میں اور میری بہن خوشبو صبح صبح کڑکتی سردی میں ،کہرا کھاتے ہوئے اپنی اپنی منزلوں کو جانے کے لیے نکلا کرتے تھے،اور ایک لمبی سڑک پر نالے کے برابر چلتے چلے جاتے (آج کل اس روڈ کو شبلی نعمانی روڈ کے نام سے پہچانا جاتا ہے)جب تک کہ پلیا نہ آجاتی۔پلیا اور اس پر بنی ہوئی اچھی خاصی پولیس چوکی ، وہ جگہ تھی، جہاں سےسائیکل رکشے مل جایا کرتے۔میں اور میری بہن دونوں بہت دھان پان سے تھے، ہم رکشے میں ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر بیٹھا کرتے اور وہاں سے بٹلہ ہاوس بس سٹینڈ تک آجاتے۔واپسی میں ہم سائیکل رکشے کو گھر تک لے جایا کرتے، شام کے اندھیرے میں چمگادڑوں کا شور، کہرے کی پرت اور سڑکوں کے اوبڑ کھابڑ پڑاو اس چھوٹے سے سفر کواچھا خاصا ایڈونچرز بنادیتے تھے۔ہمیں ڈر یہ ہوتا تھا کہ کہیں رکشہ کسی پتھر سے ٹکرا کر نالی میں نہ گرپڑے، کیونکہ ایسا بہت سے لوگوں کے ساتھ ہوبھی چکا تھا، مگر ہم گنگا کے گنہگاروں کی اس بدبو دار سازش میں ہرگز شریک نہیں ہونا چاہتے تھے، اس لیے نام خدا لب پر اور ذکر خدا دل میں دھر کر گھر تک پہنچتے اور چین کی سانس لیتے۔

 

اس مرد اساس معاشرے کی بنیاد کو پانی دینے والی عورتیں ہی ہیں، جو اپنی جوانی ڈھلتے ہی اور سینہ مرجھاتے ہی دوسری عورتوں کی جوانی سے ایک خاص قسم کا بغض دل میں پال کر بیٹھ جاتی ہیں۔
میری بہن ان دنوں ایک بیوٹی پارلر میں کام کرتی تھی، وہ بطور ہیئر ڈریسر وہاں کام پر لگ گئی تھی، دلی آنے کے بعد ہم سب اولادوں میں سب سے پہلے خودکفیل ہوجانے والی میری بہن ہی تھی، جو اس وقت ہم سب سے زیادہ کماتی تھی ، وہ اپنے سوٹ پر ایک ہلکا اونی جیکٹ ڈال لیا کرتی تھی، بالوں کو بڑے سلیقے سے بناتی، اپنی بھرپور سادگی میں بھی اسے خود کو بنائے رکھنے کا سلیقہ خوب آیا کرتا تھا۔بہت سی عورتیں اس سے اسی بات پر بعد میں چڑنے لگیں کہ اس نے اپنے بل بوتے پر اتنے پیسے کس طور کمالیے کہ وہ جینز بھی پہننے لگی ہے۔ہمارے یہاں جینز پہننے کی لڑکیوں کو اجازت اس لیے نہیں ہے کیونکہ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان کے پاس بھی کولہے ہیں، جو حقیقت ظاہر ہے کہ کسی طور مرداساس معاشرے میں قبول نہیں کی جاسکتی، لیکن اس مرد اساس معاشرے کی بنیاد کو پانی دینے والی عورتیں ہی ہیں، جو اپنی جوانی ڈھلتے ہی اور سینہ مرجھاتے ہی دوسری عورتوں کی جوانی سے ایک خاص قسم کا بغض دل میں پال کر بیٹھ جاتی ہیں۔یہ تو بہت اچھی بات ہوئی کہ قدرت نے کوئی ایسا طریقہ انسان کو عطا نہیں کیا، جس کی بنیاد پر وہ عورت کے سینے کو اندر کی جانب ڈھکیل کر اسے دن میں بالکل اپنے جیسا بنالیتا اور جب یہ کام روایت اور تقدیس کے زمرے میں شامل ہوجاتا تو اس کی ساری ذمہ داری بدصورت، جل ککڑی اور جھری زدہ عورتوں کے ہاتھوں میں چلی جاتی۔بہرحال میں بتا یہ رہا تھا کہ میری بہن بٹلہ ہاوس میں ایک بیوٹی پارلر میں چلی جایا کرتی اور میں وہاں سے پیدل چلتا ہوا جوگا بائی کی طرف آجاتا۔

 

کوچنگ کے اپنے ابتدائی دنوں میں ہی میری دو لڑکیوں سے بہت قربت ہوگئی تھی۔بات یہ تھی کہ وہ مجھ سے اردو پڑھنا چاہتی تھیں مگر ان میں سے ایک کے گھر پر اس کو پڑھنے کے لیے دی جانے والی فیس کی اجازت نہیں تھی۔میں لڑکیوں کے معاملے میں بہت فیاض دل واقع ہوا ہوں اور جب معاملہ کسی خوبصورت لڑکی کا ہو تب تو بات ہی کچھ اور ہوجاتی ہے۔میں نے ان دونوں سے کہا کہ تم اس کی کوئی فکر نہ کرو، میں بغیر فیس کے ہی پڑھا دیا کروں گا۔اتفاق کی بات ہے کہ انہی دنوں شاید دو ہزار چھ میں ایک دن میرے ہونے والے بہنوئی(جو کہ اس وقت صرف ہمارے دور کے بھتیجے ہوا کرتے تھے)میرے پاس ایک کام لے کر آئے۔ وہ بنیادی طور پر میک اپ کی فیلڈ سے وابستہ تھے، اور انہوں نے شاید کچھ ہی روز پہلے ایک بڑے نیوز چینل سے استعفیٰ دیا تھا۔کام یہ تھا کہ ان کے ایک دوست کے زیر ہدایت دوردرشن کا ایک پروگرام اردو میں بنایا جارہا تھا۔لیکن پائلٹ (نمونے کا ایپی سوڈ)جمع ہونے سے پہلے کسی اردو داں کا اسے ہری جھنڈی دکھانا ضروری تھا۔میں نے پائلٹ دیکھ کر بتایا کہ سکرپٹ میں اردو کا استعمال بہت غلط ہوا ہے، اینکر نے بھی تلفظ صحیح ادا نہیں کیاوغیرہ وغیرہ۔کچھ دنوں بعد انہوں نے مجھے ایک ایپی سوڈ لکھنے کے لیے کہا، میں نے اسے لکھ کر دے دیا، اس کو لکھنے کی دیر تھی کہ تیرہ ایپی سوڈ لکھنے کی فرمائش آگئی، میں نے چار پانچ دنوں کی محنت میں وہ ایپی سوڈ بھی لکھ کر دے دیے۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اگلے روز میں اپنے موجودہ بہنوئی دانش مسعود کے ساتھ دہلی کے ایک پاش علاقے ساوتھ ایکسٹنش پارٹ ٹو میں بنے ایک بنگلے میں جارہا تھا۔میں پہلی دفعہ وہاں بس سے ہی گیا تھا، دہلی کی بسوں میں بیٹھنے کا مجھے بہت اتفاق ہوا ہے، یہاں زیادہ تر ہریانوی لہجے میں بات کرنے والے اکھڑ قسم کے کنڈکٹر ہوا کرتے ہیں، جو بات بے بات کبھی کبھار لڑپڑنے میں بھی کوئی پریشانی محسوس نہیں کرتے۔

 

اس زمانے میں دو قسم کی بسیں چلا کرتی تھیں، ایک سرکاری اور دوسری بلیو لائن بسیں، جو کہ ٹھیکیدار چلوایا کرتے تھے، ان بسوں کے ڈرائیور عام طور پر بہت تیز رفتاری سے گاڑی چلایا کرتے تھے، چونکہ کوئی پوچھ تاچھ تو تھی نہیں، اس لیے آئے دن ایک یا دو اموات ان بسوں کے ذریعے اس زمانے میں دہلی کا روز مرہ کا معمول تھا۔ جہاں تک ماحولیات کا تعلق تھا، یہ بسیں اس کے لیے بھی مہلک تھیں، مجھے دانش بھائی نے ہی بتایا تھا کہ ہمارے دلی آنے سے پہلے یہاں سی این جی گیس کا استعمال اتنا عام نہیں تھا اور گاڑیاں ڈیزل ، پٹرول پر زیادہ چلا کرتی تھیں، جس کا انجام یہ ہوتا تھا کہ لوگ ٹریفک میں پھنس کر کئی دفعہ گرمیوں میں بے ہوش ہوجایا کرتے تھے، دھواں اپنی بھرپور کالک اور زہریلے اثرات سمیت ان کے ناک ، کان میں داخل ہوجایا کرتا اور پھیپھڑوں میں غل مچاتا۔اچھی بات یہ تھی کہ دو ہزار پانچ ، یعنی کہ جس سال ہم دلی آئے تھے، اسی سال سرکار نے بیشتر گاڑیوں کو سی این جی استعمال کرنے کے احکامات جاری کردیے اور اس طرح راجدھانی کا ماحول سڑکوں، ہوٹلوں اور چوباروں پر کنٹرول میں آسکا۔جب میں پروڈکشن ہاوس پہنچا تو مجھے ایک کیبن میں بٹھایا گیا، وہاں ایک لڑکا اور لڑکی پہلے سے بیٹھے تھے۔لڑکی کے بال سنہرے رنگ کے تھے، ہونٹ موٹے اور ان پر چمکتی اور دھدھکتی ہوئی لپ سٹک لگی تھی، برابر والی سیٹ پر ایک لڑکا بیٹھا تھا ، جس کے قد و قامت پر مجھ جیسے کمزور جثہ شخص کو صرف رشک ہی آسکتا تھا۔قدوقامت کے لحاظ سے وہ کوئی پہلوان معلوم ہوتا تھا، اس نے جو جینز پہنی تھی، ان میں سے ایک پائنچہ تو غائب ہی تھا، بلکہ جگہ جگہ سے جھالریں بھی لٹک رہی تھی، اوپری حصے پر صرف ایک بنیان موجود تھی۔ میں ابھی ان دونوں کا ٹھیک سے جائزہ ہی لے رہا تھا کہ کیبن کا دروازہ کھلا اور دانش بھائی کے ساتھ ایک شخص اور داخل ہوا، اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔

 

مجھے دانش بھائی نے ہی بتایا تھا کہ ہمارے دلی آنے سے پہلے یہاں سی این جی گیس کا استعمال اتنا عام نہیں تھا اور گاڑیاں ڈیزل ، پٹرول پر زیادہ چلا کرتی تھیں، جس کا انجام یہ ہوتا تھا کہ لوگ ٹریفک میں پھنس کر کئی دفعہ گرمیوں میں بے ہوش ہوجایا کرتے تھے
‘اور تصنیف بیٹے! کیسے ہو؟’پھر ایک جاندار قہقہہ لگایا، ہلکے نکلے ہوئے پیٹ کے ساتھ ، وہ جوان اور پر اعتماد شخص ، اپنی چمکدار آنکھوں کو لیے میری طرف پرتپاک انداز میں گھور رہا تھااور میں اس کی طرف دیکھ کر شرمائے جارہا تھا۔دانش بھائی نے بتایا کہ میں نے وہ سارے ایپی سوڈ انہی صاحب کے لیے لکھے ہیں، جن کا نام دیپک گپتا ہے۔ظاہر ہے میرے ہاتھوں کی لکھی ہوئی ساری سکرپٹس چیل بلیوں کے سے انداز میں تھیں اور دیپک گپتا انہیں ٹائپ کروانا چاہتے تھے۔سو انہوں نےمجھے باہر چشمہ لگائے، ادھ کھلے منہ کے ساتھ کام کرتے ہوئے ایک لڑکے سے ملایا، جس کا نام گورو مشرا تھا۔اب ہم دونوں کی یہ ذمہ داری تھی کہ سکرپٹ ساتھ میں ٹائپ کریں۔سو طے یہ پایا کہ میں سکرپٹ بولتا جاوں گا اور وہ اسے ہندی میں ٹائپ کرتا جائے گا۔اردو زبان ، اور وہ بھی اس زمانے میں لکھی ہوئی ، ظاہر ہے گورو کے ساتھ اینکر کو بھی بہت پریشان کرنے والی تھی، مگر سب کام جیسے تیسے پورے ہوگئے۔دو مہینے کے دورانیے میں میں روز اس جگہ جاتا رہا اور کام کرتا رہا۔تصوف پر لکھا ہوا وہ میرا پہلا پروگرام تھا، لیکن ابھی تو بہت کام اور آنے والا تھا۔اس دوران دانش بھائی خود کسی دوسرے پروجیکٹ میں مصروف ہوچکے تھے اور کوچنگ کی وہ دو لڑکیاں ، شاید انہوں نے بھی یہی سوچ کر صبر کرلیا تھا کہ میں اب دوبارہ کوچنگ نہیں آوں گا۔مگر قسمت بڑی عجیب و غریب چیز ہے۔

 

(جاری ہے)
Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی- قسط نمبر 3

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

قسط نمبر 3

 

دلی جیسے بڑے شہر کی جیکٹ میں کوئی بہت چھوٹی اور مڑی تڑی ایک جیب سی ہے، جسے اوکھلا کہا جاتا ہے۔ اوکھلا کا جامعہ نگر ایک ایسا علاقہ ہے، جہاں زیادہ تر مسلمانوں کی آبادی ہے۔
دلی جیسے بڑے شہر کی جیکٹ میں کوئی بہت چھوٹی اور مڑی تڑی ایک جیب سی ہے، جسے اوکھلا کہا جاتا ہے۔ اوکھلا کا جامعہ نگر ایک ایسا علاقہ ہے، جہاں زیادہ تر مسلمانوں کی آبادی ہے۔ یہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسی بڑی یونیورسٹی ہے۔ اس علاقے میں مسجدیں بہت ہیں، بہت ساری اذانیں ہیں، بہت سے برقعے ہیں اور کئی لاکھ کی تعداد میں داڑھیاں اور پائجامے، کچھ اونچے، کچھ نیچے۔ یہ دہلی کیا ہندوستان کے کچھ گنے چنے خوش باش مسلم آبادی والے علاقوں میں سے ایک ہے۔ اوکھلا کے اسٹیشن پر 25اکتوبر 2005 کی صبح ایک ٹرین دھیمی رفتار سے رینگتی ہوئی گزر رہی تھی، جس میں سے ایک لڑکے نے ایک چھوٹی سی اٹیچی باہر پھینکی، اور چار لڑکے ، ایک لڑکی اور ایک عورت اس میں سے اترے۔ ٹرین کی رفتار اب بھی ان کی پیٹھ پر ہلکی سی آواز کے ساتھ رینگتی ہوئی ایک عجیب سا منظر بنا رہی تھی۔ باہر گہرے نیلے رنگ کا آسمان ابھی تھوڑی بہت نیند میں تھا، سورج کی آمد کا انتظار کرتا ہوا، وہی بوڑھا راستہ، جس پر کبھی جنگل تھا، کبھی خون، کبھی خواب تھے تو آج اسٹیشن، اپنے پہلو میں بے زبان جانوروں اور انسانوں کو کچی پکی نیند میں سلائے، کھردرے چہرے کے ساتھ آسمان کی ایک خاص سمت میں دیکھ رہا تھا۔ عورت کا چہرہ لمبوترا تھا، ماتھے پر چار پانچ گہری شکنیں، جو جمی ہوئی تھیں، یعنی ایسا نہیں کہ وہ فکر میں تھی، اب شکنیں اس فکرکے گہرے سمندر میں ڈوب گئی تھیں، بس وہاں ان کی سرد اور سفید دھاریاں باقی تھیں، جمی ہوئی، جیسے لہریں ڈوب گئی ہوں مگر ان کی روحیں آئینے کی طرح سمندر کی سطح پر دھرنا دے کر بیٹھ گئی ہوں۔ اس عورت کی آنکھوں میں پانی بھی نہیں تھا، ہونٹو ں پر صبح کی ایک کچی مہک۔

 

“حسیب! اس طرف ہیں، دیکھو، وہ بچے کھڑے ہیں” ایک آواز نے منظر کی خاموشی میں گونجتے ہوئے خود کو گھولا۔ سامنے ایک سفید بالوں والا سانولے رنگ کا شخص کھڑا تھا، اس کی جھلملاتی آنکھوں میں پانی تھا، چہرے پر نئی نئی جھریاں اور گالوں کی ہلکی لٹکی ہوئی کھال پر کھردرے اور سخت کالے سفید چھوٹے چھوٹے بال۔ اس آدمی نے آگے بڑھتے ہوئے سب سے پہلے اپنے چھ سالہ بیٹے کو گود میں اٹھایا۔ یہ آدمی میرے والد تھے، فصیح اکمل قادری۔ جو اس واقعے سے آٹھ مہینے پہلے ہی دہلی آگئے تھے، اب ہم یہاں پہنچے تھے، ایک نئی صبح کی تلاش میں۔ وہ صبح جو اس اسٹیشن کے اس پار تھی، میں نے چاندی اگلتی ہوئی پٹریوں پر نظر ڈالی، پہلی کرن وہیں سے پھوٹی تھی، میری آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔ بہرحال، ہم اسٹیشن سے باہر نکلے، حسیب، جو ہمارے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ انہوں نے وہ ہلکی سی اٹیچی اٹھائی، جس میں شاید دس گیارہ جوڑ کپڑے ہوں گے۔ وقت کی سیاہی سے دھلے ہوئے وہ کپڑے جن میں درد کے تار تھے اور کچلے ہوئے خوابوں کی دھجیاں۔

 

ہم دہلی پہنچے تھے، ایک نئی صبح کی تلاش میں۔ وہ صبح جو اس اسٹیشن کے اس پار تھی، میں نے چاندی اگلتی ہوئی پٹریوں پر نظر ڈالی، پہلی کرن وہیں سے پھوٹی تھی، میری آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔
ہم نے باہر نکل کر دو یا تین سائیکل رکشہ کیے، میں اس تاریخ سے تقریباً سات آٹھ سال پہلے دہلی آچکا تھا، بیس بائیس دنوں کے لیے، اس وقت میری عمر یہی کوئی بارہ تیرہ سال رہی ہوگی، اس لیے جامعہ نگر میرے لیے بہت انجان نہیں تھا، یونیورسٹی کا بھی ایک اپنا ہی چارم تھا، جب ہمارا رکشہ وہاں سے گزرا تو صبح کی سفیدی میں اس خوبصورت اور تاریخی تعلیم گاہ کو دیکھ کر مجھے بہت اچھا احساس ہوا تھا، وہ احساس جو تعلیم کا رس لیے ہوا تھا، تعلیمی چونچلے بازیوں، شوخیوں، اتھلے پن اور سیاست سے بہت دور، وہ احساس جو انسان کے ذہن کو بس کچھ تقویت دیتا ہے۔ پتہ نہیں غالب کا وہ مجسمہ جو وہاں اب ہے، اس وقت تھا یا نہیں، مگر اس وقت تو وہاں جالیاں تھیں، وہی ہری ہری لمبی سلاخوں والی جالیاں، جن کے اندر لال لباس پہنے ہوئے دور دور تک پھیلی ہوئی چھوٹی بڑی عمارتیں کتنی اچھی لگ رہی تھیں، ان پر لکھے ہوئے نام، ان سے آتی ہوئی صبح کی وہ مترنم آوازیں، بچوں کی،جو جامعہ کا ترانہ گنگنارہے تھے، یہ آوازیں اصل میں نہیں تھیں، کہیں نہیں، بس فضا میں ان کا گھلا ہوا احساس تھا، گاندھی جی کی رکھی ہوئی نیو کا احساس، خلافت تحریک کا احساس، حکیم اجمل خاں اور مولانا محمد علی جوہر کی آنکھوں میں گھلے ہوئے خوابوں کا احساس، عدم تعاون تحریک کے جذبے کا احساس، یہ سب آپس میں ایک دوسرے سے اتنا گتھا ہوا تھا، جیسے وصل منائے ہوئے لباسوں کی مہک ہوائوں میں ڈوب کر ایک نئی ہوا بن جاتی ہے، جیسے اونچے جھرنوں سے گرتے ہوئے چمکدار موتی جیسے قطرے دریا میں ڈوب کر اپنے وجود کو ایک نئی شناخت دیتے ہیں، جیسے انسان مٹی میں مل کر مٹی اور آگ میں مل کر آگ بن جاتا ہے، اور جو مٹی کا مقدر ہے، وہ اس کا مقدر، جو آگ کا نصیب ہے، وہ اس کا نصٰیب ہوجاتا ہے۔ رکشہ دوڑ رہا تھا، اور میری نظر اپنی ماں کی جانب اٹھی۔

میری ماں شمع اکمل، گورے چٹے رنگ کی ایک عورت ہیں، اس وقت ان کی عمر پینتالیس سال کی تھی، وہ ایک خوبصورت خاتون ہیں۔ ان کے ستے ہوئے چہرے پر دہلی کی ہوائیں کچھ پھاہے رکھنے کی کوششیں کررہی تھیں۔ کالے گھنے بالوں میں جمی ہوئی، ڈوبی ہوئی آنکھیں، جلد کی پیلی پڑی ہوئی رنگت، دبلے پن کا ایک ایسا بوجھ، جس نے ہڈیوں اور نسوں کو ملا کر ایک جیسے ایک گہری سبز اور زرد سازش ان کے خلاف رچا رکھی تھی،کانپتے ہوئے ہونٹ، چوڑے دہانے پر ایک تھکے ہوئے فاتح کی سی خاموش چمک اور اداسی، جیسے وہ لاشوں کے درمیان کھڑا اپنی بے معنی فتح کو گھور رہا ہو۔

 

دہلی میری والدہ کے لیے ایک دستک تھی، جس میں ان کے لیے امید جاگی تھی، کہ اب ان کی اولادوں کی پرورش کی ذمہ داری اس شہر کی ہے، اس شہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان بچوں کو معاشیات کے پینترے سکھائے، نوکری دلوائے، ایک ایسی زندگی دے، جو ان کے لیے ہمیشہ صرف خوابوں اور دعاؤں میں ہی قابل عمل ہو سکی تھی۔
دہلی میری والدہ کے لیے ایک دستک تھی، جس میں ان کے لیے امید جاگی تھی، کہ اب ان کی اولادوں کی پرورش کی ذمہ داری اس شہر کی ہے، اس شہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان بچوں کو معاشیات کے پینترے سکھائے، نوکری دلوائے، ایک ایسی زندگی دے، جو ان کے لیے ہمیشہ صرف خوابوں اور دعاؤں میں ہی قابل عمل ہوسکی تھی۔ قریب پچیس سالوں سے ازدواجی رشتے میں بندھے بندھے دکھ کی ایک بھاری نیا کو اس عورت نے اپنے بازوؤں سے کھینچا تھا، وہ بھی تیرتے ہوئے پانی پر نہیں، دلدلی زمین پر، اس کی تاریخ پڑھنے اور جاننے کے لیے کسی قیافہ شناس کو بس اس کی سوکھی ہتھیلیاں کافی تھیں۔ فکروں میں ڈوبا ہوا اس کا چوڑا ماتھا تو بہت دور سے دکھائی پڑتا تھا۔ میں نے اپنی ماں کے ہونٹوں تلے دم توڑتے وظیفہ کرتے ہوئے الفاظ کو دیکھا تھا، سیاہی میں ڈوبی ہوئی اس کی آنکھیں، ان کے گرد جمتے ہوئے کالے دائرے اور بے وفائی، تنگی معاش اور کرب و تکلیف جھیلتی ہوئی ان دعاوں کو اس کے دوپٹے پر ڈوبا ہوا پایا تھا، جن میں ایک بہتر زندگی اور بنیادی حقوق کا خیال رکھنے والے ایک خدا کی تلاش سر مارتی رہتی تھی۔

 

زندگی کے پینتالیس سال بعد اب یہ شہر، ایک نئی صبح میں اس کا استقبال تو کررہا تھا، مگر اس عورت کو کیا ملنے ولا تھا، ویسے بھی ایک عورت کو چالیس سال بعد کیا مل سکتا ہے جب اس کی جوانی کے سارے دن کچن کی کال کوٹھری میں پٹے پر بیلن چلاتے اور ہلدی، دال، آٹے اور قرضداروں کی قطار کی فکر میں گزر گئی ہو۔ وہ راتیں جو امانت ہوتی ہیں، وہ راتیں جو وراثت ہوتی ہیں، ہمارے یہاں اکثر عورتوں کی ان کے کھونٹوں سے ٹنگے ٹنگے ہی خرچ ہوجاتی ہیں، جن میں زندہ رہنا اور پہلو سے جڑے چار بچوں کو پالنے کی بہت بھاری کوششیں موجودہوتی ہے۔

 

دنیا کی شاید سب سے گہری جدائی میاں بیوی کے درمیان واقع ہونے والا فاصلہ ہی ہوسکتی ہے، دو کھری روحوں کے درمیان، جن میں اکثر مرد کی جانب سے کھوٹے پن کا اظہار زیادہ ہوتا ہے، بار بار ہوتا ہے، مگر اس وقت میرے والد کی بے وفائی مسئلہ نہیں تھی، ان کی جدائی مسئلہ تھی
میری ماں پر میرا ہی نہیں، خدا کا بھی قرض ہے، وہ زندگی بھر جو مانگتی رہی، اس کاہمیشہ اسے عجیب سا جواب ملتا رہا، اس نے تعلیم کی خواہش کی تو اسے پیلے ہاتھوں کی سوغات دے دی گئی، نوکری جاری رکھنی چاہی تو حجلہءعروسی کا راستہ دکھادیا گیا، زندگی کے بنیادی حقوق مانگے تو جنت کے ایک سراب نما وعدے سے اس کے ہونٹوں پر مہر لگائی گئی۔ مگر وہ زندہ رہی، اس بوڑھے بیمار کی طرح جس نے پوری رات صرف اس امید پر گزار دی تھی کہ دیا تو جل رہا ہے، ضرور اس کی گرمی کا ایک حصہ میرے لیے بھی ہوگا، ضرور وہ روشنی جو مجھ تک پہنچ رہی ہے، گرماہٹ بھی مجھ تک پہنچارہی ہوگی، بس مجھے ہی اس کا احساس نہیں ہوتا۔ اس جاگتے رہنے کے درد میں میری ماں نے اپنی زندگی کے سنہرے پچیس سال بے کار کاموں کی نذر کردیے، مگر ان بے کار کاموں نے اس کی روح کو اندر سے گھول دیا، ایک پنجرے کا قیدی بنادیا، اس نے خواہشیں کرنی چھوڑ دیں، وہ اب ایک عورت نہیں رہی تھی، وہ ایک ماں بن گئی تھی، ایک فرض شناس بیوی، جس کا کام صرف دوسروں کی حفاظت، ان کی زندگی سنوارنا ہوتا ہے، اپنے لیے تو اس کے پاس خدا سے کہنے کا بھی کوئی حرف نہیں ہوتا۔ اب یہ شہر اسے دلاسے دے رہا تھا، اس کی چھلنی پیٹھ تھپتھپا رہا تھا اور بالوں کو سہلا رہا تھا، وہ اس وقت میرے والد سے کچھ باتیں کر رہی تھیں، دونوں آٹھ مہینے کی لمبی جدائی کے بعد ملے تھے۔

 

دنیا کی شاید سب سے گہری جدائی میاں بیوی کے درمیان واقع ہونے والا فاصلہ ہی ہوسکتی ہے، دو کھری روحوں کے درمیان، جن میں اکثر مرد کی جانب سے کھوٹے پن کا اظہار زیادہ ہوتا ہے، بار بار ہوتا ہے، مگر اس وقت میرے والد کی بے وفائی مسئلہ نہیں تھی، ان کی جدائی مسئلہ تھی، وہ تھے اور تپتے ہوئے صحرا میں گھر آنے والے بادل کی طرح میری ماں کی ہنسی، وہ ہوائیں گونج رہی تھیں، رکشے ایک گلی میں مڑے، اور ڈھلان پر سے ہوتے، ہچکولے کھاتے ہوئے، ہماری خالہ کے گھر کےسامنے رک گئے۔ ایک دیڑھ دو منزلہ عمارت، زمین پر بنا ہوا، عمارتوں سے گھرا ایک مکان، جس میں گزشتہ کئی برسوں سے دہلی میں بسنے والی میری خالہ رہتی تھیں۔ میرے خالہ زاد بھائی بہن اور ان کے والد یعنی میرے خالوبھی۔ اندر سے آوازیں آرہی تھیں، دروازے پر خالہ کھڑی ہوئی تھیں، ٹین کا پٹ کھولے ہوئے، موٹی اور پستہ قد گورے رنگ کی میری خالہ کے چہرے پر ایک چوڑی مسکراہٹ تھی، بال بکھرے ہوئے تھے، جو بتارہے تھے کہ سرد موسم میں وہ ابھی ابھی لحاف سے نکل کر ہمارے استقبال کو آکھڑی ہوئی ہیں، موسم کی طرح، دہلی شہر کی طرح۔