Categories
شاعری

میں نے ایک گھر بنایا ہے

ابرار احمد: پہلے ۔۔۔میں رنگین شیشوں اور گھنیرے کمروں والے
اس گھر میں رہتا تھا
جسے میرے باپ نے تعمیر کیا

پہلے ۔۔۔میں رنگین شیشوں اور گھنیرے کمروں والے
اس گھر میں رہتا تھا
جسے میرے باپ نے تعمیر کیا
محبت کی گلیوں میں آباد وہ گھر
ہمیں در بدری اور دھوپ سے بچا نہ پایا
لیکن — کبھی نہ ختم ہونے والی مسافرت میں
اس گھر کی خوشبو
ہمیشہ میری سانسوں میں چلتی رہی
میں بہت سے گھروں میں رہا
ایک تعلق بھری مغایرت کے ساتھ
وہ کمرہ نما گھر
جس کی اداس شاموں میں دھول اڑا کرتی تھی
اور صحرائی میدانوں کی گرم جوش ہوا
دل میں بے چینی بھر دیتی تھی
جس کی خاموشی میں
دوستوں، دور افتادہ یادوں
اور آنے والے دنوں کی صورت گری سے
رونق لگی رہتی تھی
ایک اجنبی پہاڑ پر وہ خیمہ
جو ایک پر شور دریا کے کنارے
تیز ہواؤں کی زد پر ساری رات پھڑکتا تھا
جہاں پتروماکس کی روشنی میں
میں نے ” وار اینڈ پیس ” کا مطلب جانا
اور کتابوں سے باہر کی دنیا کو دیکھا
پر کیف خوابوں جیسا وہ گھر
جس کے اطراف میں بہت بارش ہوتی اور
بہت مہمان آتے تھے
زندہ دل لوگوں اور گھروں کے درمیان کا وہ گھر
جہاں پارک کی روش پر ٹہلتے ہوئے
ہنستے کھیلتے، ایک عمر بیت گئی
اور ایک گھر
جو ان گھروں سے پرے
میرے خیالوں ہی میں بنا رہا
گھر ہوتا ہے، رہنے والوں کے لیے
اور یہاں قیام کس کو ہے؟
ویسے بھی کچھ لوگوں کا گھر نہیں ہوتا
یا پھر وہ گھروں کے نہیں ہوتے
میں نے اب
ادھر ادھر سے اینٹیں جمع کر کے
ایک خوب صورت گھر تعمیر کیا ہے
ایک چھت جو انھیں دھوپ اور آندھی سے بچا سکے
اپنے بچوں کے لیے
ان کی روشن آنکھوں کے خوابوں کی رہایش گاہ —–
لیکن میرا تو ایسا سایہ بھی نہیں
جہاں وہ تا دیر قیام کر سکیں
پھر بھی
زندگی کے گلی کوچوں سے گزرتے ہوئے
اجنبی زمینوں پر نئے گھر بناتے ہوئے
اس گھر کی خوشبو
اور میرے تھکے ماندے خوابوں کی چاپ
ہمیشہ ان کے ساتھ ساتھ چلے گی
موجود اور معدوم کے
کناروں تک
Image: Peterio

By ابرار احمد

ابرار احمد 1980ء سے شعر کہہ رہے ہیں۔ ان کی شاعری کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک نظموں کا مجموعہ "آخری دن سے پہلے" (1997)، اور دوسرا غزلوں کا مجموعہ "غفلت کے برابر" (2007)۔ ان کی شاعری میں وجودی کرب، زندگی کی لایعنیت، فریب کی پردہ کشائی اور نقل مکانی کے موضوعات کو چھیڑتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *