Categories
شاعری

سوراخوں سے رِستی سیاہی

حسین عابد: میں دیکھتا ہوں
وہ میرا خون
سیاہی میں بدلتے ہیں
سوراخوں سے رِستی سیاہی
جوتے میں اتنے سوراخ ہیں
جتنے منہہ میں دانت نہیں
بغیر ازاربندکے، شلوار
دھوتی بن گئی ہے
اور کُرتے میں جیب کا پیوندحسرت
آوارہ کتوں کی چربی میں تلے
پکوڑے کھاتے کھاتے
خدائی بے نیازی طاری ہے
میں دیکھتا ہوں
وہ میرا خون
سیاہی میں بدلتے ہیں
ناقابلِ فہم تقریریں لکھنے کے لیے
محبوباؤں اور
دور دراز کی تعلیم گاہوں میں رقصاں
نونہالوں کے اخراجات پر دستخط کرنے کے لیے
اور اسلحہ ساز کارخانوں کے
سائین بورڈ پینٹ کرنے کے لیے
لیکن
چربی تو کسی بھی دماغ کو چڑھ سکتی ہے
عمامہ پہنے اونٹ کی ہو
یا آوارہ کتے کی

By حسین عابد

شاعر اور موسیقار حسین عابد، لاہور میں پیدا ہوئے اور اس وقت جرمنی میں مقیم ہیں۔ ان کی شاعری کا مجموعہ، "اتری کونجیں"، "دھندلائے دن کی حدت" اور "بہتے عکس کا بلاوا" عام قارئین اور ناقدین سے یکساں پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔ حسین عابد نے "کاغذ پہ بنی دھوپ" اور "قہقہہ انسان نے ایجاد کیا" کی پیشکش میں مسعود قمر سے اشتراک کیا۔ عابد کا موسیقی کا گروپ "سارنگا" پہلا انسیمبل ہے جو اردو اور جرمن دونوں زبانوں میں فن کا مظاہرہ کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *