Categories
شاعری

پکچر پزل

ناصرہ زبیری: یہ اپنے ٹکڑوں کو جب سمیٹے
اور ان کو پھر جوڑنے کا سوچے
تو پچھلی ترتیب بن نہ پائے
یہ اپنی پہچان بھول جائے
پکچر پزل
یہ خواب دیکھے
تو اس کی آنکھیں
سلگتی سیخوں کی تیز نوکوں سے چھید دینا
کہ اس کی آنکھوں میں خواب کوئی نہ پھر سمائے

اگر یہ چیخے
تو اس کے ہونٹوں کو سخت دھاگوں میں یوں پرونا
کہ کوئی سسکی بھی اس کے لب سے نکل نہ پائے

زبان کھولے تو
کند خنجر سے کاٹ دینا زبان اس کی
کہ اس کے لفظوں کا خون بہہ کر
اسی کے ہونٹوں پہ پھیل جائے

سماعتوں پر یہ دھیان بھی دے
تو اس کے کانوں کی نالیوں میں
پگھلتا سیسہ انڈیل دینا
کہ اس کے اندر
نوائے دل کاغرورِ تاباں رہے نہ باقی

سفر کا سوچے
تو اس کے پاؤں ہی کاٹ دینا
کہ اس کے دل میں مسافتوں کا
کوئی بھی ارماں رہے نہ باقی

یہ بادلوں کی ردائیں مانگے
برہنہ سورج کا قہر دینا
سمندروں کی طلب کرے تو
زمین۔ تشنہ کی لہر دینا
حقیقتوں کا پیام چاہے
فریب کاری کا سحر دینا
یہ شہد مانگے تو زہر دینا
خیال رکھنا
یہ فکر۔نو کا پیامبر ہے
نۓ خیالوں، نئی امیدوں،
نئ امنگوں کا ہمسفر ہے
یہ آنے والی نئی رتوں کا بھی
چارہ گر ہے
خیال رکھنا
وجوداس کا تم اتنے ٹکڑوں میں
بانٹ دینا
یہ اپنے ٹکڑوں کو جب سمیٹے
اور ان کو پھر جوڑنے کا سوچے
تو پچھلی ترتیب بن نہ پائے
یہ اپنی پہچان بھول جائے!

By ناصرہ زبیری

ناصرہ زبیری ایک نامور صحافی ہیں۔ انہوں نے ڈیلی بزنس ریکارڈر سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا ہے۔ ان کی کتب "شگون"، "کانچ کا چراغ" اور "تیسرا قدم" شائع ہو چکی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *