Categories
شاعری

روح زیست کے ٹرائل روم میں کھڑی ہے

سوئپنل تیواری: روح کھڑی ہے
جسم پہن کر
زیست کے ٹرائل روم پھر سے
عمر کے آئینے میں خود کو دیکھ رہی ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

روح زیست کے ٹرائل روم میں کھڑی ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

روح کھڑی ہے
جسم پہن کر
زیست کے ٹرائل روم میں پھر سے
عمر کے آئینے میں خود کو دیکھ رہی ہے
ہر اینگل سے جانچ پرکھ میں لگی ہے وہ اس پیراہن کی
دکھنے میں تو ٹھیک ٹھاک ہے جسم یہ لیکن
روح مطمئن نہیں ہے بالکل
فِٹنگ میں شاید دقّت ہے کچھ۔۔۔۔۔۔
منہ بچکا کر
جسم اتار کے
ٹرائل روم سے باہر آ کر
پچھلے جسم کو بھول کے بالکل، روح دوبارہ
ایک نئے سے جسم کی کھوج میں لگ جاتی ہے
اک ایسے معقول جسم کی کھوج میں جو اس کو پورا فٹ آئے
اس پر خوب پھبے
اب کہ امر ہو جائے پہن کر وہ جس کو۔۔۔۔۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By سؤپنِل تیواری

سوئپنل تیواری ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر غازی پور میں 1984 میں پیدا ہوئے اور فی الحال ممبئی میں اسکرپٹ رائٹنگ اور نغمہ نگاری کا کام کررہے ہیں، وہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ ہندی کی نئی فکشن نگار نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی کہانیاں ہندی رسالوں میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ان کی مندرجہ ذیل کہانی ہندوستان میں غریب طبقے کی جد و جہد اور زندگی سے اس کے ایک لاحاصل لیکن اٹوٹ رشتے کو اجاگر کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *