Categories
شاعری

کروں کیا

ابرار احمد: تو مونھ موڑ کر ۔۔۔۔
.میں کہیں جا نکلتا ہوں
ویران ٹیلوں کے پیچھے۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹرپتی ہوئی ریت میں
چیخنے کے لیے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کروں کیا

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں اس خامشی کا کروں کیا
جو مجھ سے سدا بات کرتی ہے، کرتی ہی رہتی ہے
اور آنسوؤں کا
جو ہنستے ہوئے بھی
مری آنکھ میں تیرتے ہیں

 

چکا چوند کا،
جو اندھیرے کی صورت
رگوں میں بھری ہے

 

میں مصروفیت کا کروں کیا
کہ جس میں
فراغت کی نا مختتم بے دلی ہے

 

کروں کیا میں اس بے گھری کا۔۔۔۔۔۔
جو میرے تعاقب میں ۔۔۔۔۔۔۔روز ازل سے چلی آ رہی ہے

 

 

میں اس خالی پن کا۔۔۔۔۔
جو کھانے کو آتا ہے۔۔۔۔۔
اس شور کا۔۔۔۔۔
جس کے باطن میں
گہری خموشی کی ہیبت چھپی ہے

 

تمہارا کروں کیا؟
ادھیڑے چلے جا رہے ہو مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کروں کیا میں اس بے نہایت محبت کا۔۔۔۔۔۔
۔وارفتگی سے جو بڑھتی ہے، مجھ سے لپٹنے کی خاطر

 

تو مونھ موڑ کر ۔۔۔۔
.میں کہیں جا نکلتا ہوں
ویران ٹیلوں کے پیچھے۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹرپتی ہوئی ریت میں
چیخنے کے لیے

Image: Naikos
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By ابرار احمد

ابرار احمد 1980ء سے شعر کہہ رہے ہیں۔ ان کی شاعری کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک نظموں کا مجموعہ "آخری دن سے پہلے" (1997)، اور دوسرا غزلوں کا مجموعہ "غفلت کے برابر" (2007)۔ ان کی شاعری میں وجودی کرب، زندگی کی لایعنیت، فریب کی پردہ کشائی اور نقل مکانی کے موضوعات کو چھیڑتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *