Categories
شاعری

عمر قید

رضوان علی: مجھے اپنے ہی جسم میں
قید کر دیا گیا ہے
پچھلے کئی سالوں میں
اس جسم کے اندر
مَیں بہت سی عمر قیدیں
گزار چکا ہوں

مجھے اپنے ہی جسم میں
قید کر دیا گیا ہے
پچھلے کئی سالوں میں
اس جسم کے اندر
مَیں بہت سی عمر قیدیں
گزار چکا ہوں
لیکن میری رہائی نہیں ہو پا رہی ہے

میرا برتاؤ بھی سب سے بہت اچھا ہے
ملنسار بھی مشہور ہوں
جیلر نے کئی مرتبہ
اچھے رویے پر
مجھے شاباشی بھی دی ہے

میرا کام میں دل بھی بہت لگتا ہے
کبھی کبھی تو
مقررہ وقت گذرنے کے بعد بھی
کام میں جُتا رہتا ہوں
وقت پہ سو بھی جاتا ہوں
صبح سویرے آنکھ بھی کھل جاتی ہے

لیکن جب سے قید خانے میں
نیا جیلر آیا ہے
صفائی کا انتظام بہتر ہو گیا ہے
غذا بھی اچھی مل رہی ہے
کشادہ کھڑکی سے
سورج بھی دیکھ پاتا ہوں
ہوا بھی تازہ چل رہی ہے
دوا بھی وقت پہ مل رہی ہے

قید خانہ جب سے
کشادہ ہو گیا ہے
میری اس قید میں
کئی اور سالوں کا
اضافہ ہو گیا ہے ۔۔۔

By رضوان علی

ڈاکٹر رضوان علی کراچی کی ادبی سرگرمیوں میں کئی برس تک مصروف رہے۔ اب گزشتہ کئی برس سے امریکہ کی ریاست ورجینیا میں مقیم ہیں اور وہاں کی تین یونیورسٹیوں میں نفسیات کے پروفیسر ہیں۔ ادب کے ساتھ ساتھ تھیٹر اور موسیقی سے بھی خاص لگاؤ ہے۔ گزشتہ کئی سال سے ایک معتبر ادبی فورم "لٹرری فورم آف نارتھ امریکہ" کے نام سے چلا رہے ہیں۔ نظم اور غزل دونوں اصنافِ سخن کو اظہار کا ذریعہ گردانتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *