Categories
شاعری

حطؔاب کہو، اب کیا بیچو گے؟

نصیر احمد ناصر: حطاب کہو !
بے کاری کے دن کیسے کاٹو گے؟
کن پیڑوں پر وار کرو گے؟

حطاب کہو، اب کیا بیچو گے ؟
جنگل تو سب شہر ہوئے ہیں
گلی گلی میں پائپ بچھے ہیں
دیواروں اور سڑکوں کی گنجلتا میں
حُسنِ سلوک اور حُسنِ طلب
متروک ثقافت کے قصے ہیں
بیچنے اور خریدنے والے
ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں
نام و نمود کی،اَصراف کی گہما گہمی میں
نامحدود ستائش کی خوش فہمی میں
حُسنِ گلو سوز بھی غازے کا،
حُسن افروزی کا محتاج ہوا ہے
کل جو نہیں تھا، آج ہوا ہے

حطاب کہو !
بے کاری کے دن کیسے کاٹو گے؟
کن پیڑوں پر وار کرو گے؟
تھک ہار کے کیا اپنے ہی سائے میں بیٹھو گے؟
شاخیں کاٹ کے جو ڈھیر لگایا تھا
اس پیشے میں جو دام اور نام کمایا تھا
کب تک اس پر گزران کرو گے
کب اور کہاں اپنے حصے کے اشجار لگاؤ گے؟
دیکھو بابا
یوں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو
بھوکے مر جاؤ گے!

By نصیر احمد ناصر

نصیر احمد ناصر پاکستانی اردو شاعری کا نمایاں اور رحجان ساز نام ہے۔ آپ کی شاعری دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ وہ چکی ہے۔ آپ 'تسطیر' کے نام سے ایک ادبی جریدہ بھی نکالتے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *