Categories
شاعری

جنت جلتے پیروں نیچے

سدرہ سحر عمران: بندوقوں کے بل پر کتنے تابوت اٹھانے باقی ہیں
کتنی ماؤں کے دل پر
بارود گرانے باقی ہیں؟
جنت جلتے پیروں نیچے
کم سن جسموں کو دیکھا ہے
اِس کونے میں
اُس کھڑکی سے
ٹکڑے ٹکرے جھول رہے ہیں
الف سے اللہ
بھول رہے ہیں
جیسا یونی فارم اتارا
ویسا پھر سے پہنے دیکھا
چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں جو قید دعائیں تھیں ساری
مٹی میں ملتے دیکھی ہیں
ہونٹوں پر ہلتے دیکھی ہیں
آج لہو کی جھیل میں دیکھو
جوتے، بستے، پنسل، بوتل
اور کچھ سکے تیر رہے ہیں

 

یہ دنیا بھی ایک جہنم
اُس دنیا میں بھی دوزخ ہے
جنت جلتے پیروں نیچے
قبروں کی جانب بھاگ رہی ہے
سنتے ہیں دربار لگا ہے
لیکن سننے والا چپ ہے
اک دہشت چنگھاڑ رہی ہے
باپ کا کرتا پھاڑ رہی ہے

 

2

 

دہشت گردو! کن ماؤں نے جنما تم کو
کیسے باپ کا نطفہ ہو؟
کب تک تم تاریک کرو گے
گھر، مسجد، اسکول ہمارے
کب تک نوچو گے ماؤں کے
کلیاں، شبنم، پھول، ستارے
اپنی جنگیں جیتو، ہارو
لیکن ہم کو تو مت مارو
بندوقوں کے بل پر کتنے تابوت اٹھانے باقی ہیں
کتنی ماؤں کے دل پر
بارود گرانے باقی ہیں؟

Image: Ammar Saleem

By سدرہ سحر عمران

سدرہ سحر عمران اردو میں ماسٹرز ڈگری یافتہ ہیں۔ وہ معاصر اردو نثری نظم کے حلقوں میں ایک نمایاں نام ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *