Categories
شاعری

بڑھاپا جاگ جاتا ہے

کوئی چیز اپنے آپ کو بچانے کی تگ و دو میں گرداں رہتی ہے، کھوجتی ہے
اپنے حق میں دلیلیں، لیکن لفظ پھسل جاتے ہیں
مکھیوں کی مانند، اپنے ہی مطالب نکالتے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بڑھاپا جاگ جاتا ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ٹیڈ ہیوز
مترجم: یاسر چٹھہ

 

اپنی راکھ، چنگاریوں اور جلی ہوئی لکڑیوں کو ہِلاتے جُلاتے

 

ایک غازہ مَلی ہوئی آنکھ، ایک بار آدھی پگھلی، بعدازاں جم گئی ہوئی
سوچتے بچارتے
ان خیالات کے متعلق، جو چکنا چور ہو جاتے ہیں
توجہ کی نظر کے پہلی ہی بار مٓس کرنے سے

 

کھڑکی پہ پڑنے والی روشنی، کتنی مربع شکل اور عین پہلے ہی جیسی
بالکل ہمیشہ جیسی، پوری طرح توانا، اور اس کھڑکی کا قالب
خلا میں باندھی ایک مچان جوکہ آنکھوں کے اوپر جھکنے کے واسطے ہے

 

جسم کے آسرے کے واسطے، اپنے پرانے کام کرنے کی شکل میں ڈھلے
سُرمئی ہوا میں چھوٹی چھوٹی مسافتیں کرتے
سُن شُدہ اس دھندلائے سے حادثے سے
اس مہلک، حقیقی گھاؤ کی کیفیت کے اندر سے گذر آنے کے
نِسیان کی لاچاری کے زیرِ اثر

 

کوئی چیز اپنے آپ کو بچانے کی تگ و دو میں گرداں رہتی ہے، کھوجتی ہے
اپنے حق میں دلیلیں، لیکن لفظ پھسل جاتے ہیں
مکھیوں کی مانند، اپنے ہی مطالب نکالتے

 

بڑھاپا آہستگی سے ملبوس ہو جاتا ہے
موت رات کی بھاری خوراکِ دوا پر
بستر کے ایک کونے پہ بیٹھتی ہے

 

اپنا ریزہ ریزہ چُن کے اکٹھا کرتی ہے
اور اپنی قمیص میں ٹانک لیتی ہے۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By یاسر چٹھہ

مصنف ماڈل کالج فار بوائز میں انگریزی کے مدرس ہیں۔ وہ کونسل آف سوشل سائنسز آف پاکستان سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ ان کی انگریزی شاعری کا ترجمہ حال ہی میں شائع ہو چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *