Categories
نقطۂ نظر

دو قومی نظریہ اور تقسیم ہند: تقسیم در تقسیم کی نفسیات

دونوں ملکوں کی نفرت نے دو نسلوں کو نگل لیا ہے۔ اس نفرت نے خطے کی بھوک مٹانے کی بجائے، کھیت اور کھلیان جلانے کے لیے جان جوکھوں میں ڈالی ہوئی ہے۔
سیاست میں تاثر (perception) کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ حقیقت کیا ہے، اس سے غرض نہیں ہوتی۔ غرض اس سے ہوتی ہے کہ پیش کیا گیا، تاثر کیا بنا۔ دو قومی نظریے پر ہم اسی تناظر میں بات کر رہے ہیں کہ جس تاثر کے ساتھ وہ عوام میں تقسیمِ ہند کے وقت پھیلا، یا پھیلایا گیا اور اب تک جیسا پڑھایا اور سکھایا جا رہا ہے۔ تحقیق سے اگر ثابت بھی ہو جائے کہ قائد اعظم یا مسلم لیگ کا نظریہ اس تاثر سے مختلف ہے جو ہمارے سامنے ہے تو بھی ہمارے لیے نتائج کے اعتبار سے اسی تاثر کی اہمیت ہے نا کہ اس نظریے کی جو قائد اعظم یا مسلم لیگ کے اذہان میں رہ گیا اور اس کی ترسیل نہ ہو سکی۔ جس تاثر نے یہ نتائج پیدا کئے ہمارے لیے وہی حقیقت ہے اور اسی پر بات کرنا ضروری ہے۔

 

سوال یہ ہے کہ اس پر با ت کرنا کیوں ضروری ہے؟ کیا یہ بے وقت کی راگنی ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ تقسیم ِ ہند کے اثرات اور نتائج کا سلسلہ 1947 سے لے کر آج تک لگاتار جاری ہے۔ دونوں ملکوں کی نفرت نے دو نسلوں کو نگل لیا ہے۔ اس نفرت نے خطے کی بھوک مٹانے کی بجائے، کھیت اور کھلیان جلانے کے لیے جان جوکھوں میں ڈالی ہوئی ہے۔ وہ جوانیاں جو اپنی ذاتی اور ملکی ترقی کے کام آ سکتی تھیں، وہ جنگوں میں ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کے کام آ رہی ہیں۔ دونوں ملکوں کے عوام کی قربانیوں کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا۔ تقسیم کے وقت جو ٹرینیں لاشوں سے بھری ہوئی آتی تھیں آج بھی ان سے لاشیں اٹھا ئی جا رہی ہیں: پہلے وہ تلواروں اور بھالوں کی زد میں ہوتی تھیں، آج وہ بم دھماکو ں کا ہدف ہیں ۔تقسیم کا اشتعال آج بھی سرحدوں پر بلا اشتعال فائرنگ کروا دیتا ہے۔ گیتا جیسی لڑکیوں کو 17 سال در در کے دھکے کھا کر اپنے ملک جانا نصیب ہوتا ہے، اور کتنے ایسے ہیں جن کو جانا نصیب ہی نہیں ہوتا، کتنے ہیں جو اپنوں سے ملنے کی آس لیے تہہ خاک چلے گئے۔ ابھی چند دن پہلے ہی ہندوستان سے ایک بہن 50 سال بعد اپنے بھائی سے ملنے پاکستان آئی تو بھائی اس خوشی سے ہی چل بسا۔ تقسیم کے دکھ ختم نہیں ہوئے۔ دونوں ملکوں کی نفرت نے تعلیم کو بھی تخریب کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ سیلاب روکنے کے اقدامات سے زیادہ ان کے لیے ایٹم بم بنانا ضروری ہو گیا تاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں! ہمارا مستقبل سخت خطرے میں ہے۔ اور اسی وجہ سے ہمارے لیے بہت ضروری ہے کہ نفرت کی بنیادوں کو سمجھیں اور اس کے خاتمے کاراستہ تلاش کریں۔ بنیاد کی غلطیوں کو درست کیے بغیر ایسا ممکن نہیں۔ اور یہی ہماری کوشش ہے۔

 

ہندوستان اور پاکستان میں نفرت کی بنیاد تقسیمِ ہند ہے۔ اور تقسیمِ ہند کی بنیاد دو قومی نظریہ۔ دو قومی نظریہ جس تاثر کے ساتھ عوام میں پھیلایا گیا ہم اس پر بات کر رہے ہیں۔

 

دو قومی نظریہ پیدا کرنے اور اس کو پروان چڑھانے کے لیے ہندو مسلم امتیازات کو خوب ہوا دی گئی۔ دونوں طرف کے چند انتہا پسندوں کی حرکتوں اور بیانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا جیسے کہ اب بھی سیاسی جماعتیں کرتی ہیں۔
دو قومی نظریہ پیدا کرنے اور اس کو پروان چڑھانے کے لیے ہندو مسلم امتیازات کو خوب ہوا دی گئی۔ دونوں طرف کے چند انتہا پسندوں کی حرکتوں اور بیانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا جیسے کہ اب بھی سیاسی جماعتیں کرتی ہیں۔ جب یہ فصل خوب پک گئی، تو اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ مسلمانوں کو الگ ملک میں رہنا چاہیے، لیکن صرف جنوب مغربی ہندکے مسلمانوں کو۔ اس خیال کو ہندوستان میں رہنے والی مسلم اقلیت میں پذیرائی حاصل ہوگئی، اور اس کے ساتھ مسلم لیگ کو بھی، جسے اس واضح مقصد کے تعین سے پہلے مسلمانوں میں پذیرائی نہیں مل پا رہی تھی۔
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں مسلم اکثریت تھی، جو اب پاکستان میں شامل ہیں، وہاں کے مسلم عوام کو وہ مسائل درپیش ہی نہ تھے، جو ہندوستان کی مسلم اقلیت کو درپیش تھے اور جن کی بنا پر یہ مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ یہاں برعکس معاملہ ہوسکتا تھا کہ ہندو اقلیت کو مسلم اکثریت سے خطرات لاحق ہو سکتے تھے، مگر ایسا بھی کچھ نہ تھا۔ یہ علاقے اس لحاظ سے پرسکون تھے، اور اسی وجہ سے سیاسی طور پر کم بیدار بھی۔ اور اسی وجہ سے مسلم لیگ کو آخر وقت تک ان علاقوں سے ووٹ حاصل کرنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ساری تگ و دو کرنے کے بعد بھی 1945-46 کے انتخابات مین مسلم لیگ کو بنگال اور سندھ سے تو مکمل حمایت ملی، البتہ پنجاب میں اسے کل مسلم سیٹوں کا 87.2 فیصد ملا، جب کہ کل مسلم ووٹ کا 67.3 فیصد مل سکا۔ جب کہ خیبر پختون خواہ نے مسلم لیگ کے خلاف ووٹ دیا اگرچہ مذہب کے نام پر سب سے زیادہ اسی صوبے سے ووٹ مانگے گئے تھے، بلوچستان تو ان انتخابات میں شامل ہی نہ تھا۔

 

مسلم لیگ کی کامیابی یہ تھی کہ وہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر الگ ملک کی مکمل مصنوعی بھوک پیدا کرنے میں ناکام ہونے کے باوجود بھی اسے اپنا مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی، البتہ، اس میں کانگریس کی ناعاقبت اندیشی کا بڑا دخل تھا۔

 

دوسری طرف، جس مسلم اقلیت کو ہندو کے سیاسی، سماجی اور مذہبی غلبے سے ڈرا کر ووٹ لیے گئے تھے، یعنی ہندوستان کے ہندو اکثریت والے علاقوں کے مسلمان سے، ان کے لیے الگ ملک کا قیام ان کے مسائل کا حل تھا ہی نہیں، اس لیے کہ عملاً یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ سب کے سب ہجرت کر کے پاکستان میں چلے آتے۔1920 کی تحریکِ ہجرت میں وہ یہ ناکام تجربہ پہلے کر بھی چکے تھے۔ لیکن اس کے باوجود مسلم لیگ کو الگ مسلم ریاست کے نام پر سب سے زیادہ ووٹ اور سیٹیں ان سے ہی ملیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ لوگ ووٹ نہ دیتے تو پاکستان نہیں بن سکتا تھا۔

 

دوسری طرف، جس مسلم اقلیت کو ہندو کے سیاسی، سماجی اور مذہبی غلبے سے ڈرا کر ووٹ لیے گئے تھے، یعنی ہندوستان کے ہندو اکثریت والے علاقوں کے مسلمان سے، ان کے لیے الگ ملک کا قیام ان کے مسائل کا حل تھا ہی نہیں
دو قومی نظریہ ایک ایسا لالی پاپ تھا، جسے ہر طبقے کو اس کے پسندیدہ ذائقے اور رنگ میں پیش کیا گیا تھا۔ ہندوستان کی مسلم اقلیت کو یہ بتایا گیا کہ الگ ملک ہوگا تو مسلمانوں کا مذہبی، اور ثقافتی تشخص محفوظ رہے گا ورنہ ہندوستان کی ہندو اکثریت میں ضم ہو کر کھو جائے گا۔ لیکن یہ پتا، مسلم اکثریتی علاقوں کے مسلمانوں کے ہاں نہیں چل سکتا تھا۔ چنانچہ، ان کو یہ بتایا گیا کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد، جمہوریت کے نظام کی وجہ سے سیاست اور حکومت میں مسلمان اقلیت میں رہ جائیں گے، یہاں کے لوگ بھی ہندو اکثریت کے دست نگر بن جائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کا الگ ملک ہو تاکہ وہ اس میں آزادی سے حکومت کر سکیں گے۔

 

تیسری طرف، مذہبی طبقے کو ساتھ ملانے کے لیے انہیں بتایا گیا کہ یہ درحقیقت اسلامی ریاست کا قیام عمل لایا جا رہا ہے، جس سے خلافت کی کمی پوری کی جا سکے گی، اسلام نافذ ہوگا اور قرونِ اولی کی یاد تازہ ہو جائے گی۔ علامہ اقبال جیسی بلند قامت شخصیت اور ان کے عظمتِ رفتہ کی بحالی کی فکر اور شاعری نے مسلم لیگ کے مدعا کو مذہب کو مقدس جامہ پہنا دیا۔ مذہب کو شامل کرتے ہی، پاکستان اب ایک نظریہ سے بلند ہو کر عقیدہ بن گیا، ‘پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ’ کا نعرہ اس فکر کا ترجمان بن کر مقبول ہوگیا، اب جس کی مخالفت، کفر اور گمراہی قرار پائی۔ مسلم لیگ میں شامل ہونے والی مذہبی شخصیات کو فوراً ہی اس نظریے کے حق میں دلائل کے ساتھ ساتھ، مطلوبہ خواب اور غیبی بشارتیں بھی آنے لگیں۔ وہ مسلم لیگ کی قیادت، کے مغربی لباس کو تو تبدیل نہ کروا سکے، لیکن عالمِ رویا میں انہوں نے ان کو سبز چغے پہنا دئیے۔ البتہ، مخالف دھڑوں کی دینی شخصیات کے مختلف یا مخالف خواب، الہام، کشف اور فتوؤں کو انہوں نے نظر انداز کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی ،حسبِ توقع وہ، قرآن سے بھی دو قومی نظریہ برآمد کر لائے۔

 

چوتھی طرف، لبرل، سیکولر اور غیر مسلم اقلیتوں کو یہ بتایا گیا کہ پاکستان میں ملائیت (Theocracy)نہیں ہوگی۔ تمام شہری بلا امتیازِ مذہب برابر ہوں گے۔ ‘وقت سے ساتھ ہندو، ہندو نہیں رہیں گے ، اور مسلمان ، مسلمان نہیں رہیں گے، مذہبی طور پر نہیں بلکہ سیاسی طور پر’۔ چنانچہ یہ لبرل اور سیکولر طبقات بھی اس تحریک میں دامے درمے سخنے شامل ہو گئے۔

 

آج جو یہ سب طبقات دو قومی نظریے یا نظریہ پاکستان کی اتنی مختلف توجیہات پیش کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ہر ایک کو جو ورژن بتایا گیا، وہ اسی کا راگ الاپ رہا ہے۔

 

بدقسمتی دیکھیے کہ جس وقت دنیا شعوری بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، فیڈریشن اور کنفیڈریشن کی طرف جا رہی تھی، ہندوستان کے رہنما انہیں تقسیم کا سبق پڑھا رہے تھے۔
بدقسمتی دیکھیے کہ جس وقت دنیا شعوری بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، فیڈریشن اور کنفیڈریشن کی طرف جا رہی تھی، ہندوستان کے رہنما انہیں تقسیم کا سبق پڑھا رہے تھے۔ امریکہ کی 50 ریاستوں نے 1775 میں ساتھ مل کر رہنے کا معاہدہ کیا اور پهر وہ دنیا کا ایک طاقتور ترین ملک بن گئے۔ یورپ کے 28 ممالک نے مسلک اور نسل کی بنیادوں پر ہونے والی صدیوں کی طویل باہمی جنگوں سے سبق سیکھ کر یورپی یونین کی بنا ڈالی۔ اسی طرح دنیا کے دیگر سیاسی بالغ ممالک بھی باہمی تعاون سے رواداری سے رہنا سیکھ گئے، لیکن ہندوستان کے باشندے مذہب اور ثقافت کے نام پر ایک زمین، ایک تاریخ، ایک بڑی مشترکہ زبان (اردو اور ہندی)، ایک ادب، ایک جیسے فنون لطیفہ کے وارث ہو کر بھی ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے۔ ہندوستان اور پاکستان کی مشترکہ یکساں اور متخالف اقدار کا میزانیہ بنایا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہماری مشترکہ یکساں اقدار اتنی زیادہ ہیں کہ مختلف یا متضاد اقدار بے ضرر بلکہ اختلاف حسن کا باعث ہیں۔ مگر سیاست دانوں کے سیاسی مفادات اور تعصبات، فرقہ باز مولویوں کی طرح ہمیں اتفاق سے زیادہ اختلاف کے پہلو نمایاں کر کے دکھاتے ہے۔

 

پھر یہ تقسیم کی نفسیات کہ اگر دو لوگ ایک دوسرے سے مختلف فکر اور تہذیب کے حامل ہیں تو انہیں الگ بھی ہو جانا چاہیے، ہمیں مزید تقسیم کرتی چلی گئی۔ تقسیمِ ہند کی کامیابی نے تقسیم کی اس نفسیات کو تقویت دی۔ چنانچہ، ملک کے اندر ہم آپس میں یہ دیکھنے لگے ہم میں سے کون ہم سے مختلف ہے، اور پهر اسے خود سے الگ کرنے کے لیے اسے خود سے الگ سمجھنا شروع کر دیا۔ اس کے نتیجے میں پہلے مشرقی پاکستان کے لوگ ہم سے علیحدہ ہو گئے، محض اس بنا پر کہ چونکہ وہ ہم سے مختلف رنگ، زبان اور تہذیب رکھتے تھے، اس لیے ان کا علیحدہ ہونا بھی ضروری تھا۔ در حقیقت، وہ علیحدہ نہیں ہوئے تھے، ہم نے انہیں علیحدہ کیا تھا۔ یہ سلسلہ پھر چل نکلا، چنانچہ، ہم نے اپنے ملک کی سب سے بڑی اقلیت، مسیحی برادری کو خود سے الگ سمجھ لیا، ان کی بستیاں الگ بسائیں، معاشرتی طور پر ان کے ساتھ امتیازی سلوک اپنایا، بات بات پر ان پر توہینِ مذہب کے الزام لگا کر ان کو ایک خوف زدہ اقلیت میں تبدیل کر دیا۔ ہم مسلسل ان کو الگ کئے جا رہے ہیں۔ اب دیکھیے وہ بھی کب ہم سے الگ ملک کا مطالبہ کر دیں، اور جب وہ یہ مطالبہ کریں گے، تو ہم ان پر الزام لگا دیں گے کہ وہ پاکستان کے وفادار نہیں، اس ملک کو تقسیم کر کے وہ غیرو ں کا ایجنڈا پورا کر رہے ہیں۔ اور اگر وہ علیحدہ ہونے میں کامیاب ہو گئے تو ہم ان سے ہمیشہ کے لیے دشمنی پال لیں گے۔ یہ ہے وہ کہانی جو بار بار دہرائی جا رہی ہے۔ اس سے ایک قدم اور آگے بڑھ کر ہم نے زبانوں کے مختلف ہونے کی بنیاد پر الگ صوبے بنانے کا مطالبہ کر دیا۔ کراچی جیسے شہر میں مختلف قومیتوں والوں کے الگ الگ علاقے بن گئے۔ حتی کہ ملک میں اہلِ تشیع کو بھی الگ محلّے بنا کر رہنا پڑا۔

 

جن فسادات سے بچنے کے لیے ہم نے الگ ملک بنا تها ان فسادات نے ہمارا پیچھا پھر بھی نہ چھوڑا۔ ہمیں ہندو نہ ملے تو ہم نے اپنے ملک کے لوگوں کو کاٹنا شروع کر دیا۔
جن فسادات سے بچنے کے لیے ہم نے الگ ملک بنایا تھا ان فسادات نے ہمارا پیچھا پھر بھی نہ چھوڑا۔ ہمیں ہندو نہ ملے تو ہم نے اپنے ملک کے لوگوں کو کاٹنا شروع کر دیا۔ حقیقت میں مسئلہ ادیان کا نہیں، انسان کا تھا۔ یہ انسان تھا جو لڑنا چاہتا تھا۔ وہ مذہب کو بنیاد بنا کر لڑا، جب یہ بنیاد نہ ملی تو مسلک کو بنیاد بنا کر لڑا، مزید ورائٹی کے لیے زبان اور جلد کے رنگ کے اختلاف کو بنیاد بنا کر لڑا۔ ہم کب تک اور کہاں تک علیحدہ ہو تے چلے جائیں گے۔ ہم جتنے بھی اپنے جیسوں کے ساتھ علیحدہ ہوں گے، وہ بھی بہرحال انسان ہی ہوں گے۔ ہم انسان سے تو علیحدہ نہیں ہو سکتے۔ ہم اپنی اپنی اکائیوں میں بھی لڑنے کے لیے کوئی نہ کوئی اختلاف ڈھونڈ لیں گے۔ تو اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ علیحدہ ہونا اس کا حل نہیں، وہ حل نکال کر ہم بھگت چکے۔ اس کا حل انسان کو انسان بنانے میں ہے۔ اس کی تعلیمی اور شعوری تربیت کرنے میں ہے کہ وہ انسانوں کے ساتھ انسانوں کی طرح رہنا سیکھ لے۔ یہی ایک حل ہے۔ تقسیم اس کا حل نہیں۔ تقسیم در تقسیم کی پهر کوئی حد نہیں۔

 

یہی بھارتی اور پاکستانی، ہیں جو باہر ممالک میں جب جاتے ہیں تو محض معاش کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ نہایت امن و سکون، بلکہ بھائی چارہ کے ساتھ رہتے ہیں۔ پیٹ کے راستے آنے والی عقل بڑی پختہ ہوتی ہے۔ لیکن یہ سب بھارت اور پاکستان کے عوام میں ہونے نہیں دیا جاتا۔ اگر باہر ممالک میں ایک ساتھ رہنے اور کھانے پینے سے ان کا مذہب اور دھرم، خراب اور بھرشٹ نہیں ہوتا تو اپنے ملک میں کیوں ہو جاتا ہے؟ وہاں ان کی ثقافت کو ایک دوسرے سے خطرہ لاحق نہیں ہوتا تو یہاں کیسے لاحق ہو جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ خطرات عوام کو نہیں ، سیاست دانوں کو لاحق ہوتے ہیں۔ جن کو مشترکہ حکومت میں اپنے ذاتی اقتدار کی آزادی نظر نہیں آتی اس لیے وہ تقسیم کو پسند کرتے ہیں تاکہ ایک الگ ٹکڑے میں بلا شرکتِ غیرے اقتدار کے مزے لوٹ سکیں۔ اس کے لیے نفرت کا پیدا کرنا اور نفرت کو قائم رکھنا ان کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔ ان کا حال فرقہ باز مولویوں سے بالکل مختلف نہیں ہے۔

 

دو ملک بن گئے مگر اجنبیت کا سفر جاری رہا، پھر اسی نفسیات نے بنگلہ دیش بنوا دیا، لیکن اجنبیت کا سفر پھر بھی نہ رکا، اب ملک میں اپنے مسلک مشرب، سیاسی اور ثقافتی اختلافات رکھنے والوں کو برداشت نہیں کیا جا رہا۔
ہمارے بزرگ بتاتے ہیں کہ پاکستان کے انہی علاقوں میں ہندو مسلم بڑے سکون سے رہاکرتے تھے، بڑا میل جول ہوتا تھا۔ ایک دوسرے کے ساتھ ان کے مذاہب پر مزاح بھی کرتے تھے لیکن ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں معاشرتی طور پر شامل بھی ہوا کرتے تھے۔ پھر سیاست آئی اور اس نے اچانک بتایا کہ تمہارے ساتھ رہنے والا مذہب اور ثقافت کے لحاظ سے تم سے مختلف ہے، اس لیے یہ تمہارا دوست نہیں ہے، اسے خود سے اجنبی بناؤ۔ پھر یہی ہوا اور اجنبیت بڑھتی چلی گی۔ دو ملک بن گئے مگر اجنبیت کا سفر جاری رہا، پھر اسی نفسیات نے بنگلہ دیش بنوا دیا، لیکن اجنبیت کا سفر پھر بھی نہ رکا، اب ملک میں اپنے مسلک مشرب، سیاسی اور ثقافتی اختلافات رکھنے والوں کو برداشت نہیں کیا جا رہا۔ اب ملک کے بعض حصے الگ ملک تو نہ بن سکے مگر نو گو ایریاز بن گئے، علیحدگی کی نفسیات ہمیں اپنے جیسے انسانوں سے دور کرتی چلی جا رہی ہے۔

 

دونوں ملکوں کی عوام کو چاہیے کہ نفرت کے اس کھیل کو سمجھیں اور اپنے خرچے پر اپنی تباہی مت خریدیں۔ تقسیمِ ہند، تاریخ کا جبر تھا جو گیا۔ اب ہمارے مستقبل کا تحفظ اور فلاح، بالغ نظر ممالک کی طرح کنفیڈریشن بنا کر رہنے میں ہے۔ جہاں سرحدیں بس نام کی ہوں۔ ویزہ کی پابندی نہ ہو۔ جب ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا ہوگا تو معلوم ہوگا کہ دونوں طرف عام انسان بستے ہیں، جو اسی طرح سکون سے رہنا چاہتے ہیں، جیسے ہم رہنا چاہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوگا کہ وہاں اور یہاں کا عام آدمی اس ‘عام آدمی’ سے بالکل مختلف ہے جو میڈیا کے کیمرے کی کانی آنکھ سے نظر آتا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

Why Quaid-e-Azam Residency?

Rafiullah Kakar
Why-Quaid-e-Azam-Residencyinner

“Quaid we are embarrassed, those terrorists are alive,” young protesters in Lahore chanted at a protest demonstration against recent arson attack on Quaid-e-Azam Residency in Ziarat.  The slogan reflects the nationwide shock over the Ziarat incident, which was followed by two terrorist attacks in Quetta the same day. Confused about the dynamics of ethnic and sectarian violence in Balochistan, many are asking why, after all, a harmless national heritage site was targeted.

Quaid-e-Azam Residency has perhaps been the most popular tourist destination in the restive province. For many Baloch, however, the monument was a symbol of the arbitrary and unfair treatment to which they have been subjected since Pakistan‘s inception.  For the insurgents, it was perhaps a relatively convenient target to hurt the military establishment against whom their anger is primarily aimed. Most importantly, the attack signified Baloch criticism of Jinnah’s role in what they consider forced accession of Kalat state to Pakistan. Because of the conflicting historical accounts on the subject, this claim merits special scrutiny.

Quaid-e-Azam Mohammad Ali Jinnah knew Balochistan better than any other national leader of India. Throughout the constitutional struggle in the 1920s and 1930s, Jinnah pleaded for reforms in Balochistan. He had friendly relations with the Khan of Kalat, who provided significant financial help for the freedom struggle. When in the 1940s the Khan of Kalat accelerated his efforts for an independent Baloch state, Jinnah, as his legal adviser, presented a memorandum to the British to explain the unique constitutional position of Kalat. It was based on the argument that unlike other Indian princely states, Kalat was never a part of India. It was an independent state whose relations with the British government were governed by the treaty of 1876 that recognized the sovereignty of Kalat, argued the Khan. Jinnah supported Khan’s stance and Jawaharlal Nehru opposed it. Having had the option of retaining independence as per the 3rd June plan, Kalat state opted for independence – a status that was recognized in a communiqué signed by Jinnah, Liaqat Ali Khan, Lord Mountbatten and the Khan of Kalat on 11th August, 1947 . Subsequently, Kalat’s bicameral legislature passed a resolution in favour of independence, with Ghaus Bakhsh Bizenjo, the leader of the popular Kalat State National Party (KSNP) in the Darul Awam (House of Commons), emerging as the most ardent advocate of Baloch nationalism and Kalat’s independence.

But in the days that followed, the Quaid – who had earlier accepted Kalat as an independent non-Indian state – kept on advising the Khan to merge Kalat with Pakistan. According to Malik Saeed Dehwar in ‘Contemporary History of Balochistan’, Khan’s response was initially positive but later became “evasive” as he sought time for taking his people into confidence. While Pakistan wanted an unconditional accession of the Kalat state, the Khan and Baloch nationalists represented by the KSNP desired a treaty-based relationship with special cooperation in the areas of foreign affairs, defence, and communication. After having realised Khan’s reluctance to accede, the Pakistani state – exploiting the internal disunity of Baloch sardars and rulers – obtained the separate merger of the principalities of Kharan, Makran, and Lasbela, which until then were claimed as “vassal states” by Kalat. This move annoyed the Baloch nationalists and left the Khan with little choice. He regarded it as the “political castration” of Baloch people. This development coupled with what the Khan called the “mischievous and misleading but suggestive” announcement on All-India Radio on March 27, 1948 about his intentions to accede to India led the Khan to announce “unconditional” accession of Kalat to Pakistan. The Baloch nationalist viewed it as a “forced merger” and criticized the Khan for burying “all the glory and vanity of his line”. The Khan’s younger brother, Prince Abdul Karim Khan, launched what was to become the first of the many insurgencies against Pakistan, allegedly with the Khan’s tacit blessing.

Nevertheless, there are several instances that prove that the Quaid respected the sensitivities of the Baloch people. The leaders that followed him, Khan says in his autobiography, “lacked the requisite experience of handling sensitive matters like the ethnological, historical, and traditional background of Baloch people”. They tried to handle the situation arbitrarily and failed to fulfil the promises the Quaid had made to the people of Balochistan.

Baloch grievances could have been placated in the post-colonial Pakistan, had it not been for the centralized and interventionist policies of the successive governments in the centre. Having inherited a state comprising of multiple ethnic groups bound together loosely by the force of a common religion, Pakistan’s civil-military establishment – which was aware of the vulnerability of this setup – regarded ethnic or any form of identity assertion other than Islam as anathema (especially in case of Baloch insurgency, given its predominantly secular and leftist character) and declared it detrimental to national security and integrity. Using a top-down approach, the state enforced an exclusively-defined religious nationalism to counter various ethno-nationalist, secular and democratic challenges to its authoritarianism. This approach stifled the religious and ethnic minorities. It was especially true in case of Pashtun and Baloch nationalists who, on account of their secular approach, were never enchanted with the Muslim League’s slogan of “Deen in danger” and were, therefore, allied with the Congress.

Blast-Quaid-e-Azam-Residency

The recent attack is a shocking reminder of the increasing disillusionment among the Baloch against Pakistan. ‘Patriotic’ Pakistanis must feel embarrassed not because Quaid’s residency was demolished but because all post-Jinnah Pakistani leaders failed to fulfil the lofty promises made by the Quaid to the people of Balochistan. The sad attack must evoke thoughtful revisiting of our policies rather than humiliation. We need to ponder over the question as to why Quaid’s residency was attacked in a province where he used to be accorded gracious welcome and was once even weighed in gold and silver.

The current nationalists-led Balochistan government faces a double-edged sword in the form of Baloch separatists and the religious and sectarian extremists. While the later are bent upon destroying Jinnah’s Pakistan, the former are relatively easier to negotiate with. While the fact that Pashtun and Baloch nationalists have formed government in Balochistan augurs well for the long-term stability and progress of the province, though Baloch separatists and the disappointed Balochistan National Party (Mengal) pose a serious challenge to the representative character of the government. Bringing the angry Baloch nationalist leadership in the mainstream is a test for the new government.

 

(The writer is an Oxford Rhodes Scholar for 2013. A graduate of G. C. University, he hails from Quetta, Balochistan)