Categories
اداریہ

تعلیمی اداروں میں اخلاقی جبر ۔ اداریہ

طاقت اور اختیار کو اخلاقیات کے نفاذ کا ذریعہ سمجھنے کا مغالطہ تعلیمی اداروں میں ایسے ضوابط کی تشکیل کا باعث بن رہا ہے جو انتخاب، میل جول اور فیصلہ کرنے کی آزادی کو محدود کر رہے ہیں۔
طاقت اور اختیار کو اخلاقیات کے نفاذ کا ذریعہ سمجھنے کا مغالطہ تعلیمی اداروں میں ایسے ضوابط کی تشکیل کا باعث بن رہا ہے جو انتخاب، میل جول اور فیصلہ کرنے کی آزادی کو محدود کر رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی جانب سے طلبہ کے لباس، میل جول اور طرزعمل کو مذہبی، سماجی اور اخلاقی رویات کے تناظر میں پابند کرنے کے اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے بزرگ نوجوانوں پر اور مرداہ برتری پر مبنی ہماری اقدار خواتین پر بھروسہ کرنے کو تاحال تیار نہیں۔ اخلاقیات کے نام پر ابوی اقدار کانفاذ نئی نسل (خصوصاً خواتین اور دیگر غیر مرد جنسی اصناف) کو فرسودہ صنفی سانچوں میں ڈھالنے کا بیزارکن عمل ہے جو جوانی، رنگارنگی، تخلیق اور خؤشی کے اظہار کو بغاوت، بے حیائی اور فحاشی قرار دیتا ہے۔ اس عمل کو بڑے پیمانے پر جاری ان شعوری اور غیرشعوری کوششوں کا بھی حصہ سمجھا جا سکتا ہے جن کے ذریعے مذہبی شناخت کی بنیاد پر سماجی، سیاسی اور فکری شعبوں کو یک رنگ اور یکساں کرنے کی کوشش پاکستان میں جاری ہے۔ بظاہر ہمارے تعلیمی ادارے اخلاقیات، لباس اور سماجی میل جول کو فرد کا ذاتی معاملہ تسلیم کرنے کی بجائے ذاتی معاملات کو اجتماعی اخلاقی سانچوں کے مطابق ڈھالنے کے خؤاہاں ہیں۔ اگرچہ نظم و ضبط کے قیام اور سازگار تدریسی ماحول کے لیے قواعدوضوابط کی تشکیل انتظامی فرائض میں شامل ہے تاہم ان قواعدوضوابط کا مقصد تمام افراد کو یکساں آزادی فراہم کرنا ہونا چاہیئے ناکہ آزادی کو سلب کرنا اور نجی معاملات میں مداخلت کرنا۔

 

درحقیقت اخلاقیات کے نفاذ کا یہ عمل روایات کو آزادی، تقلید کو تخلییق، اطاعت کو اختلاف اور معاشرے کو فرد پر اہمیت دینے کا عمل ہے جو ہمارے طلبہ کو مذہب، ثقافت اور نظریے سے بلند انسانی اقدار کی بجائے اپنے حلیے، شباہت اور میل جول کو مذہبی اور سماجی پیمانوں کے مطابق ڈھالنے پر مجبور کر رہا ہے۔ اخلاقیات کے نفاذ کا یہ دائرہ اپنی تمام تر تنگ نظری، فرسودگی اور جبر کے ساتھ صنفی امتیاز اور مردانہ برتری کی ابوی اقدار کی ترویج اور استحکام کا ایک استحصالی ذریعہ ہے۔ اخلاقیات کے نفاذ کے اس خودتفویض کردہ اختیار کے تحت ادارے اور انتظامی عہدیداران خود کو ہر اس فرد پر نظر رکھنے، اسے پابند کرنے یا سزا دینے کا ذمہ دار اور اہل سمجھتے ہیں جو صنفی تفریق پر مبنی اس اخلاقی نظم سے منحرف یا مختلف ہو۔ تعلیمی اداروں میں رائج اخلاقیات کا تمام تر دائرہ کار صنفی اختلاط کی نفی پر مبنی ہے اور اعلٰی انسانی اوصاف کی بجائے تنگ نظر، محدود اور شدت پسند رویے پروان چڑھا رہا ہے۔ لیکن ہم اس امر سے واقف ہیں کہ جن اخلاقی ہیمانوں کی بنیاد پر ہم تعلیمی اداروں کو چلانے کے خواہاں ہیں وہی سماجی اقدار غیرت کے نام پر قتل اور تشدد کو جواز فراہم کرتے ہیں؟

 

تعلیمی اداروں کے اخلاقی ضوابط درحقیقت اختلاف رائے اور تنوع کی بیخ کنی کے لیے تشکیل دیے گئے ہیں جن کے تحت ایک مخصوص حلیے، لباس اور طرزِعمل کے سوا تمام شباہتیں، جنسی شناختیں اور رویے قابل نفرت اور ممنوع قرار پاتے ہیں
ہمارے تعلیمی ادارے تمام جنسی شناختوں کے لیے قابل قبول اور محفوظ ماحول پیدا کرنے میں ناکام ہیں، اور طلبہ کو اپنی نجی زندگی کے فیصلوں کے لیے ذمہ دار اور خودمختار بنانے کی بجائے طلبہ و طالبات کے لباس، اختلاط اور سماجی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ تعلیمی اداروں کے اخلاقی ضوابط درحقیقت اختلاف رائے اور تنوع کی بیخ کنی کے لیے تشکیل دیے گئے ہیں جن کے تحت ایک مخصوص حلیے، لباس اور طرزِعمل کے سوا تمام شباہتیں، جنسی شناختیں اور رویے قابل نفرت اور ممنوع قرار پاتے ہیں۔ تعلیمی ادارے انہی پدرسری اقدار کو فروغ دے رہے ہیں جو مردوں کے سوا تمام صنفی شناختوں کو کم تر قرار دیتی ہیں۔

 

تعلیمی اداروں میں عموماً اخلاقیات اور کردار سازی کو صرف جنسی خواہشات، ترغیبات یا آزادانہ اظہار کی روک تھام تک محدود تصور کیا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں صنفی علیحدگی اور اخلاقی جبر کو ایک نمایاں اور فخریہ خصوصیت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ اخلاقیات کے نفاذ کا یہ عمل ذمہ دار شہری پیدا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے اور تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ کی بڑی تعداد شہری ذمہ داریوں سے بے بہرہ ہے۔ انفرادی سطح پر آزادی اور ذمہ داری کے اخلاقی تصورات سے بے بہرہ یہ سندیافتہ ہجوم ریاست کی اس تعلیمی حکمت عملی کی پیداوار ہے جو مذہبی سطح پر ایک شدت پسند اور سیاسی طور پر غیر جمہوری نسل تیار کرنے کے لیے وضع کی گئی تھی۔ اس حکمت عملی کا مقصد طلبہ کو صحیح اور غلط کی پہچان کے لیے تنقیدی شعور حاسل کرنے کے قابل بنانے کی بجائے ریاست اور معاشرے کے لیے قابل قبول مذہبی، سماجی اور سیاسی نظریات کے تحت ایک ایسی نسل پروان چڑھانا تھا جو مقتدر حلقوں سے اختلاف کرنے اور سوال اٹھانے کی جرات اور صلاحیت سے محروم ہو۔

 

ہمارا معاشرتی نظم فرد کو اپنی اخلاقی زندگی اور فیصلوں کا ذمہ دار قرار دینے کی بجائے اسے اجتماعی یا اکثریتی معاشرتی اقدار کا پابند بنانے کا خواہاں ہے۔
بدقسمتی سے اس بندوبست میں کمزور طبقات خود کو مقتدر اصناف، طبقات، مسالک اور گروہوں کے اخلاقی جبر سے محفوظ رکھنے میں ناکام ہیں۔ اخلاقی اصولوں اور معاشرتی اقدار کے تحت ہر مرد کی ہر عورت پر اور ہر معمر کی کم سن پر اخلاقی اجارہ داری تفویض شدہ سمجھی جاتی ہے جس کے باعث گھر کے اندر اور باہر اخلاقیات کے نفاذ کا اختیار مردوں، مذہبی طبقات اور انتظامیہ کے ہاتھ آ چکا ہے جسے چیلنج کرنا مشکل تر ہو رہا ہے۔ ہمارا معاشرتی نظم فرد کو اپنی اخلاقی زندگی اور فیصلوں کا ذمہ دار قرار دینے کی بجائے اسے اجتماعی یا اکثریتی معاشرتی اقدار کا پابند بنانے کا خواہاں ہے۔ اپنی اخلاقی زندگی کے حوالے سے ذمہ داری کے ساتھ آزادی اور خودمختاری کی نفی کسی بھی فرد کی بطور انسان تحقیر کے مترادف ہے۔ بادی النظرمیں ہمارے تعلیمی ادارے ایک آزاد اور خود مختار انسان کی بجائے اپنے طلبہ کو مطیع، فرمانبردار اور محتاج فرد کے طور پر نشوونما پاتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

 

‘اخلاقیات گردی'(Moral Policing) کا عمل صرف انتظامیہ کی جانب سے نہیں، اس امر کو سیاسی قیادت، معاشرے اور والدین کی مکمل حمایت میسر ہے۔ والدین کی جانب سے جنسی تعلیم اور مخلوط تعلیم پر اعتراضات نئے نہیں، سیاسی قیادت کی جانب سے سخت گیر منتظمین اور اخلاقی سزاوں کی حمایت ہمیشہ سے موجود رہی ہے اور مختلف مذہبی طلبہ تنظیمیں طلبہ و طالبات کی اخلاقی نگرانی کو ہمہ وقت مستعد رہتی ہیں۔ ریاست، مذہبی طبقات، والدین اور اساتذہ سمیت معاشرے کی اکثریت نوجوانوں کو نجی زندگی اور سماجی میل جول میں خودمختاری اور آزادی دینے کی روادار نہیں اور یہ اس خوف کا نتیجہ ہے جو فرد کی آزادی سے وابستہ کیا گیا ہے۔ یہ احساس ہر سطح پر پھیلایا گیا ہے کہ آزادی اور خودمختاری کا لازمی نتیجہ بے راہروی، اخلاقی گراوٹ، سماجی انتشار اور فحاشی کی صورت ہی نکلے گا۔

 

تعلیمی اداروں میں اخلاقی جبر کے نتیجے میں پیدا ہونے والا گھٹن زدہ ماحول کسی بھی تخلقیی یا عملی سرگرمی کے امکانات محدود کر دیتا ہے کیوں کہ طلبہ کے لیے کہن زدہ افکاراور نظریات پر تنقید ممکن نہیں رہتی۔
تعلیمی اداروں میں اخلاقی جبر کے نتیجے میں پیدا ہونے والا گھٹن زدہ ماحول کسی بھی تخلقیی یا عملی سرگرمی کے امکانات محدود کر دیتا ہے کیوں کہ طلبہ کے لیے کہن زدہ افکاراور نظریات پر تنقید ممکن نہیں رہتی۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کے اخلاقی ضوابط جنسی ہراسانی کی مختلف صورتوں، پیشہ ورانہ بددیانتی اور مالی و انتظامی بے قاعدگیوں کو کم کرنے کی بجائے طلبہ و طالبات کی ذاتی اور سماجی زندگی کو محدود کرنے کے لیے تشکیل دیے جاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں اخلاقیات کے نفاذ کے لیے پیش کیا جانے والا مذہبی اور ثقافتی جواز اپنے نفس میں غلط اور متضاد استدلال پر استوار ہے۔ تعلیمی اداروں میں جاری کی جانے والی اخلاقی ہدایات اورضوابط انہی مغالطوں کی بازگشت ہیں جو مرد اور عورت کے ہر تعلق کو جنسی کشش کی پیداوار سمجھتے ہیں اور جنسی جرائم کا ذمہ دار عورت کے لباس یا ظاہری حلیے کو قرار دیتے ہیں۔ اخلاقی جبر کا تعلیمی نظام جس نصاب اور تعلیمی ماحول کا خواہاں ہے وہ ایک فرد کی آزادی، خودمختاری اور آزادانہ انتخاب کےبنیادی حق کی نفی کرتا ہے اور ایک جمہوری بندوبست میں کسی ادارے، فرد حتیٰ کہ ریاست کو بھی یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کسی آزاد یا خودمختار فرد کو کسی ایسے اخلاقی ضابطے کا پابند بنانے کی کوشش کرے جو اس کے بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں سے متصادم ہو۔ لیکن بدقسمتی تعلیمی اداروں میں طلبا و طالبات کے مابین میل جول، ان کے لباس اور سماجی سرگرمیوں سے متعلق جاری کیے جانے والے اخلاقی ضوابط نہ صرف انسانی حقوق اور انفرادی آزادیوں کے تصورات سے متصادم ہیں بلکہ تعلیم و تدریس کے اس بنیادی منہاج کے بھی منافی ہیں جس کے تحت ایک آزاد، خودمختار اور ذمہ دار شہری کی تشکیل کے لیے آزادانہ اور سازگار ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

تعلیمی اداروں کی غیرت بریگیڈ

میں یہ امر فراموش نہیں کر سکتا کہ غیرت بریگیڈ کے اخلاقی جہاد کے نتیجے میں ہم کس خوف کے ساتھ یونیورسٹی میں اپنی جوانی کے بہترین سال برباد کر کے نکلے۔
یہ فروری 2007 کی ایک سہ پہر کا ذکر ہے جب پہلی مرتبہ مجھے تعلیمی اداروں کی غیرت بریگیڈ کے ہاتھوں تذلیل کا سامنا کرنا پڑا۔ میں اپنی ایک ہم جماعت کے ساتھ اسلامیہ یونویرسٹی نیوکمیپس میں اکٹھے بیٹھ کر چائے پینے جیسی “مخرب الاخلاق” حرکت کا مرتکب ہوا تھا جس کی پاداش میں انجمن طلبہ اسلام کے مجاہدین نے سرعام ہمیں نہ صرف بے عزت کیا بلکہ گالم گلوچ بھی کی۔ میں اس لمحے اپنی ہم جماعت کے چہرے پر در آنے والے احساس ذلت اور گھر پہنچ کر بھیجے گئے اس کے ایس ایم ایس کو کبھی فراموش نہیں کر سکوں گا۔ میں یہ امر بھی فراموش نہیں کر سکتا کہ ڈگری کے آغاز پر ہی سرعام تذلیل کا جو طوق ہمارے گلے میں ڈالا گیا اس سے نکلنے میں ہمیں کتنا وقت اور دقت پیش آئی اور غیرت بریگیڈ کے اخلاقی جہاد کے نتیجے میں ہم کس خوف کے ساتھ یونیورسٹی میں اپنی جوانی کے بہترین سال برباد کر کے نکلے۔

 

ایسا ہی معاملہ تب بھی درپیش آیا جب جامعہ پنجاب میں میری بہن نے اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ لیا اور اسے اس کے چند ہم جماعت طلبا و طالبات کو ایس ٹی سی (سٹوڈنٹ ٹیچر سنٹر) کے راستے میں روک کر سڑک پر دو مختلف سمتوں میں جانے پر مجبور کیا گیا، میری بہن کا احساس ذلت میری ہم جماعت سے مختلف نہیں تھا۔ ان دونوں کو غیرت بریگیڈ نے یہ پیغام دیا تھا کہ تمہارا عورت ہونا تمہیں اچھوت بناتا ہے اور مردوں کے ساتھ تمہارا اٹھنا بیٹھنا تمہارا کردار مشکوک بناتا ہے۔ اسی سمیسٹر میں محض اس بناء پر انہیں تفریحی دورے کو ملتوی کرنا پڑا کیوں کہ اسلامی جمعیت طلبہ “مخلوط” دورے کی “اجازت” دینے کو تیار نہیں تھی۔ اس کے بقول اسے اور اس کے ہم جماعتوں کو ایک کینٹین، ایک راستے، ایک بس اور ایک سبزہ زار میں بیٹھنے کی اجازت نہیں حتیٰ کہ بہت سے مقامات پر تو وہ ایک دکان سے فوٹو کاپی تک نہیں کرا سکتے۔ کچھ عرصہ پہلے یہ جان کر حیرت اور افسوس ہوا کہ ہیلی کالج میں بعض کورسز میں مخلوط تعلیم نہیں دی جاتی اور وہاں کی انتظامیہ اور اساتذہ اس امر پر فخر کرتے رہے ہیں۔

 

اساتذہ کا یہ رویہ صرف سرکاری یا مخلوط تعلیمی اداروں تک محدود نہیں، ہم نے تو بوائز سکول میں بھی اساتذہ کو لڑکوں کے “پف” کاٹتے دیکھا ہے اور گرلز سکول میں رنگین جرابوں یا مہندی لگے ہاتھوں پر جرمانے سنے ہیں۔
جامعہ پنجاب سمیت ملک کی چند سرکاری جامعات کے بعض تعلمی شعبے تو ایسے ہیں جہاں ایک لائبریری میں بھی طلبا و طالبات کا اکٹھے بیٹھنا منع ہے۔ یہ خبر بھی سنی کہ شعبہ ابلاغی علوم جامعہ پنجاب میں ایک عرصے تک کینٹین اس لیے نہیں بنائی گئی کہ وہاں لڑکے لڑکیاں اکٹھے بیٹھ کر کھانے جیسی “غیر اخلاقی” حرکت کر سکتے ہیں۔ کینٹین بننے کے بعد اسلامی جمعیت طلبہ کے مجاہدین نے اس میں لڑکے اور لڑکیوں کے لیے الگ جگہ کا مطالبہ شروع کیا۔ اور یہ تو نسبتاً حال کا ہی واقعہ ہے کہ کراچی میں طلبا و طالبات کے اکٹھے کرکٹ کھیلنے پر جامعہ کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کی غیرت بریگیڈ نے طالبات کو ہراساں کیا اور بعض طلبہ کو زدوکوب بھی کیا۔ گزشتہ دنوں موسیقی سننے پر اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے بلوچ طلبہ پر تشدد بھی غیرت بریگیڈ کی مسرت مخالف جہادی سرگرمیوں کا حصہ ہی ہے۔

 

ویلنٹائن ڈے پر یوم حیاء کا زبردستی انعقاد بھی اسی غیرت بریگیڈ کی اختراع ہے جو نہایت بے شرمی سے راہ چلتے لڑکے لڑکیوں کو باربار یہ احساس دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کا جوان ہونا، کسی سے دوستی کرنا، بات چیت کرنا، اکٹھے بیٹھنا اٹھنا، اچھے کپڑے پہننا اور کھل کر سانس لینا سب جرم ہے۔ بدقسمتی سے تعلیمی اداروں کی یہ غیرت بریگیڈ مذہبی طلبہ جماعتوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اس غیرت بریگیڈ کی صفوں میں تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور اساتذہ بھی شامل ہیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی کے ایک بزرگ استاد ریسرچ کی کلاس میں طالبات کو دوپٹہ لینے اور طلباوطالبات کو الگ الگ قطاروں میں بیٹھنے کا باقاعدہ درس دیا کرتے تھے۔ ہماری ایک خوش شکل خاتون لیکچرر اور ساتھی طالبات کے لباس اور حلیے کو جس طرح وہ تنقید کانشانہ بناتے رہے وہ نہایت تکلیف دہ تجربہ تھا۔ جینز پہننے والی طالبات کے حوالے سے ہمارے اساتذہ اور انتظامیہ کا رویہ جس قدر واہیات ہے وہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔ یہی نہیں بلکہ ہم نے اپنے تعلیمی اداروں میں ایسے دروس ہائے قرآن بھی سنے ہیں جن میں خواتین کے لباس، خوشبو اور چال ڈھال کی بناء پر انہیں خدا کے ہان معتوب قرار دلانے کے سوا کوئی بات نہیں کی جاتی تھی۔ اساتذہ کا یہ رویہ صرف سرکاری یا مخلوط تعلیمی اداروں تک محدود نہیں، ہم نے تو بوائز سکول میں بھی اساتذہ کو لڑکوں کے “پف” کاٹتے دیکھا ہے اور گرلز سکول میں رنگین جرابوں یا مہندی لگے ہاتھوں پر جرمانے سنے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ والدین اور معاشرہ بھی ایسی تنظیموں کی جانب سے “اخلاقیات” کے نفاذ کی حمایت کرتے ہیں۔ میں نے خود کئی احباب کو غیرت بریگیڈ کے حق میں اس قسم کے لغو دلائل دیتے سنا ہے کہ “اگر جمعیت نہ ہوتی تو پنجاب یونیورسٹی میں کسی کی بہن بیٹی کی عزت محفوظ نہ ہوتی۔”

 

ہماری بعض سرکاری جامعات کا ماحول اس قدر حبس زدہ ہے کہ وہاں تحقیق اور جستجو کی بجائے ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں صنف مخالف سے آپ کا درمیانی فاصلہ “قابل اعتراض” حد تک کم نہ ہو جائے۔
یہ درست ہے کہ تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں ہی طلبہ کی زندگی کا محور ہونی چاہیئں لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ انہیں ایک ایسے ماحول میں رکھ کر پڑھایا جائے جہاں ایک غیرت بریگیڈ ہمہ وقت آپ کے میل جول، آمدورفت اور لباس کے حوالےسے آپ پر نظر رکھے ہوئے ہو؟ کیا ہمارے والدین، معاشرہ اور تعلیمی ادارہ ہماری سوجھ بوجھ پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں کہ ہم بالغ ہونے کے ناطے اپنا اچھا برا سمجھتے ہیں اور لوگوں سے میل جول رکھنے کی اخلاقیات سے واقف ہیں؟

 

ہماری بعض سرکاری جامعات کا ماحول اس قدر حبس زدہ ہے کہ وہاں تحقیق اور جستجو کی بجائے ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں صنف مخالف سے آپ کا درمیانی فاصلہ “قابل اعتراض” حد تک کم نہ ہو جائے۔ نوٹس کے تبادلے کے دوران کہیں کسی کی نظر آپ پر نہ پڑ جائے اور کہیں سالانہ تقریبات کے دوران موسیقی کا اہتمام کسی کو ناگوار نہ گزرے۔ عین ممکن ہے کہ مخلوط ماحول میں پڑھنے والے طلبا وطالبات آپس میں ایک دوسرے کے لیے کشش محسوس کریں، ایک دوسرے کی محبت میں مبتلا ہو جائیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے چند ایک سماجی طور پر ناقابل قبول سرگرمیوں میں بھی ملوث ہو جائیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں ہمہ وقت اسلامی جمعیتوں، انجمنوں، امامیہ سٹوڈنٹ آرگنائزیشنوں اور استادوں کی نگرانی میں ایک دوسرے سے علیحدہ رکھنے کی کوشش کی جائے۔ جب تک کوئی تفریحی یا سماجی سرگرمی کسی طالب کی انفرادی تعلیمی کارکردگی یا دیگر طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں میں مداخلت کا باعث نہیں بنتی اس پر پابندی عائد کرنا غلط ہے بلکہ ایسی پابندیاں نوجونوں کے فکری ارتقاء میں سب سے بڑی روکاوٹ ہیں۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کلاس چھوڑ کر کیفے ٹیریا میں بیٹھنا غلط ہے لیکن یہ ضابطہ جاری کرنا کہ کیفے ٹیریا میں لڑکے لڑکیوں کا اکٹھے بیٹھنا منع ہے کسی طرح درست نہیں ہو سکتا، آپ یہ حکم نامہ جاری کر سکتے ہیں کہ سپیکر کی ایک خاص حد سے اونچی آواز ممنوع ہے لیکن موسیقی سننے سے منع کرنا ہر طرح سے غلط ہے۔ آپ یہ تاکید کر سکتے ہیں کہ طلبہ کو اپنا زیادہ تر وقت تدریسی اور علمی سرگرمیوں میں صرف کرنا چاہیئے لیکن یہ کہنا کہ انہیں ایک ساتھ بس میں، کینٹین میں یا کمرہ جماعت میں بیٹھنے کی اجازت نہیں سراسر شخصی آزادی کی نفی ہے۔ آپ طالب علموں کے لیے باقاعدہ وردی کے حق میں دلائل دے سکتے ہیں مگر جینز پہننے پر ممانعت کس طرح درست ہو سکتی ہے؟ آپ ویلنٹائن ڈے کی مخالفت کر سکتے ہیں، حیا ڈے منا سکتے ہیں لیکن راہ چلتے لڑکے لڑکیوں کو مذہب، اخلاقیات اور حیاء کے نام پر زبردستی علیحدہ کرنے اور ہراساں کرنے کا جواز کیا ہے