Categories
نان فکشن

قلات کے الحاق کا تنازعہ

[blockquote style=”3″]

ڈاکٹر عبدالمجید عابد کا یہ مضمون دی نیشن اخبار کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا تھا۔ یہ مضمون یوگینا وینا کے ایک مضمون ‘بلوچستان پاکستان کا حصہ کیسے بنا-ایک تاریخی تناظر ‘ کے جواب میں لکھا گیا ہے۔ لالٹین کے قارئین کے لیے اس مضمون کا ترجمہ شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

یوگینا وینا کی تحریر کا ترجمہ پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ریاست قلات کے پاکستان سے الحاق کا درست بیان جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ تاریخ کے سرکاری بیانیے میں قلات کے ایوان بالا اور ایوان زیریں میں پاکستان سے الحاق کے خلاف ہونے والی مزاحمت کا تذکرہ سرے سے موجود نہیں
کہا جاتا ہے کہ کسی بھی قضیے میں تاریخ ‘فاتحین’ کے قلم سے رقم ہوتی ہے۔ گزشتہ صدی کے دوران محکوم اور بے اختیار طبقات کے نقطہ نظر سے تاریخ نویسی کا آغاز ہوا۔ تاریخ نویسی کا یہ ڈھنگ پاکستان سمیت دنیا کے کئی معاشروں میں اپنایا گیا ہے۔ حسب توقع مقتدر حلقے تاریخ نگاری کے اس اسلوب کی حوصلہ افزائی یا سرپرستی کے قائل نہیں۔ تاہم حالیہ برسوں کے دوران ‘ارفع مقاصد’ کے حصول کی خاطر حقائق میں تحریف کے باعث یہ اسلوب بھی کڑی جانچ کے عمل سے گزارا گیا ہے۔ سہولت کی خاطر حقائق پر سمجھوتہ قوم پرست مورخین کے کارہائے نمایاں میں شامل ہے، لیکن یہی سمجھوتہ ان مورخین کو ‘جابرین’ کے برابر لا کھڑا کرتا ہے۔

 

ریاست قلات کے پاکستان سے الحاق کا درست بیان جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ تاریخ کے سرکاری بیانیے میں قلات کے ایوان بالا اور ایوان زیریں میں پاکستان سے الحاق کے خلاف ہونے والی مزاحمت کا تذکرہ سرے سے موجود نہیں (اگرچہ خان آف قلات دونوں ایوانوں کی رائے پر عمل درآمد کے پابند نہیں تھے پھر بھی یہ نکتہ قابل غور ہے)۔ دوسری جانب بلوچ قوم پرستوں کی جانے سے بیان کی جانے والی تاریخ ایک بالکل مختلف تصویر کشی کرتی ہے۔ اس تاریخ میں معاملات جوں کے توں رکھنے کے معاہدہ، جناح صاحب کی طرف سے خان آف قلات کے اعتماد کو مجروح کرنے اور اپریل 1948 میں کی گئی فوجی جارحیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ تاریخ کے ان دو مختلف بیانیوں میں مشترک بنیادوں کی تلاش تقریباً ناممکن ہے خصوصاً جب فریقین اپنے اپنے نقطہ نظر کو الہامی سچائی خیال کرتے ہوں۔ تاہم دونوں بیانیوں کی تشکیل میں اندھے اعتقاد کی بنیاد پر کی گئی حاشیہ آرائی کا بھی گراں قدر حصہ ہے۔

 

ہندوستان کے انتظامی امور سے علیحدگی کے اسی احساس کے تحت قلات کے ہندوستان کی ایک شاہی ریاست ہونے یا نہ ہونے کا سوال پیدا ہوا۔
اسی موقر روزنامے میں ایک مضمون “بلوچستان پاکستان کا حصہ کیسے بنا-ایک تاریخی تناظر” کے عنوان سے شائع ہوا ہے، مضمون میں “بلوچستان کی حقیقی تاریخ کے انکشاف” کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ مصنفہ نے مضمون کے آغاز میں نوآبادیاتی دور میں اس صوبے کی جغرافیائی اہمیت کے تذکرے کے بعد قلات اور پاکستان کے مندوبین کے مابین خط و کتابت کا حوالہ دیا ہے۔ مضمون کا اگلا حصہ قلات کے الحاق پر جناح صاحب کے موقف میں تبدیلی اور بالآخر قلات کے پاکستان سے الحاق کا داستان پر مشتمل ہے۔ مضمون کا اختتام بلوچستان میں انسانی وسائل کی ترقی اور سیاسی ماحول کی مخدوش صورت حال کے ذکر پر ہوتا ہے۔ اس مضمون کا آخری جملہ میرا پسندیدہ فقرہ ہے: “یہ دانشوروں اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر تحریف شدہ دستاویزات کی بنیاد پر حقائق سامنے لائیں”۔

 

اگرچہ میں مصنفہ کہ اس نقطہ نظر سے اتفاق کرتا ہوں کہ قلات کے الحاق کا معاملہ ہماری نصابی کتب اور ذرائع ابلاغ کا پسندیدہ موضوع نہیں رہا، تاہم اس موضوع پر بائیں بازو کے دانشور اورمحققین مصنفہ کے ہم خیال رہے ہیں اور ہمیشہ اسی نقطہ نظر سے بات کرتے اور لکھتے آئے ہیں۔ انٹرنیٹ کی اس دنیا میں بلوچستان کی ‘متبادل’ تاریخ تک رسائی محض چند کلک کے فاصلے پر ہے۔ بلوچ قوم پرستوں کے زیر انتظام سائبر سپیس میں سینکڑوں ویب سائٹس، فیس بک گروپ اور ٹویٹر اکاونٹ فعال ہیں۔ اس معاملے پر دیانت دارانہ بحث کا جلد از جلد انعقاد ضروری ہے۔

 

حکومت ہند نے جون 1942 میں فیصلہ سناتے ہوئے قلات کو دیگر شاہی ریاستوں کے مساوی ریاستی حیثیت کا حامل قرار دیا اور قلات سے کسی بھی امتیازی سلوک کے تاثر کو رد کیا۔
تاریخ سے متعلق بات کرتے ہوئے ‘سیاق و سباق’ کو ایک اہم پہلو تصور کیا جاتا ہے۔ قلات اور پاکستان کے مندوبین کے مابین ‘مراسلت’ کسی خلاء میں وقوع پذیر نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی ‘برطانوی دور میں بلوچستان کی حیثیت کا مسئلہ’ (جیسا کہ مصنفہ نے اسے بیان کیا ہے)۔ ڈاکٹر یعقوب بنگش اپنی کتاب ‘A Princely Affair’ میں لکھتے ہیں: ‘تقسیم کے بعد قلات (رقبے کے اعتبار سے) سب سے وسیع ریاست تھی جو پاکستان کا حصہ بنی’۔ مغل سلطنت میں ایک مختصر مدت کے لیے شامل رہنے اور برطانوی ہند کے دائرہ کار کی سرحد پر واقع ہونے کی وجہ سے قلات کے دہلی (یا کلکتے) سے براہ راست روابط بے حد کم رہے ہیں۔ قلات کی ریاست میں اسی لیے عمومی ہندوستانی امور سے علیحدگی کا احساس بھی پیدا ہوتا چلا گیا’۔ ہندوستان کے انتظامی امور سے علیحدگی کے اسی احساس کے تحت قلات کے ہندوستان کی ایک شاہی ریاست ہونے یا نہ ہونے کا سوال پیدا ہوا۔ 1942 میں کرپس مشن کی ہندوستان آمد کے بعد خان آف قلات نے بلوچستان کی آزاد ریاست کا مقدمہ کمیشن کو بھیجا۔ حکومت ہند نے جون 1942 میں فیصلہ سناتے ہوئے قلات کو دیگر شاہی ریاستوں کے مساوی ریاستی حیثیت کا حامل قرار دیا اور قلات سے کسی بھی امتیازی سلوک کے تاثر کو رد کیا۔ قلات کی ریاستی حیثیت سے متعلق یہ ابہام 1877 کے شاہی دربار کے دوران رونما ہونے والے واقعات کے باعث پیدا ہوا۔ شاہی دربار کے آغاز کے موقع پر قلات کو خان آف قلات کے ساتھ ایک ایسی ریاست کے نمائندے کا سا رویہ رکھا گیا جسے شاہی ریاست قرار نہیں دیا گیا، تاہم دربار کی کارروائی کے دوران ان کا درجہ بڑھا کر ایک شاہی ریاست کے نمائندے کے برابر کر دیا گیا۔ تین جون 1947 کے منصوبے کے تحت قلات کو ایک ہندوستانی شاہی ریاست کے طور پر ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی ایک ریاست سے الحاق کا فیصلہ کرنا تھا۔

 

قلات اور پاکستان کے مابین بات چیت ابھی جاری تھی جب خاران اور لسبیلہ کے مقامی سرداروں نے حکومت پاکستان سے اپنی جداگانہ حیثیت تسلیم کرانے کی کوشش کر دی۔
ایک ہندوستانی شاہی ریاست کے طور پر قلات کی ریاست سے متعلق ایک اہم معاملہ قلات اور برطانیہ کی حکومتوں کے مابین پٹے پر حاصل کی گئی زمین کے معاہدوں کا بھی تھا۔ حکومت ہند نے قلات سے 1833 میں کوئٹہ، 1903 میں نوشکی اور 1903 میں ناصر آباد کے علاقے اجارے پر حاصل کیے تھے۔ برطانوی انخلاء کے ساتھ حکومت ہند اور شاہی ریاستوں کے مابین ہونے والے تمام معاہدے بھی ختم ہو جانے تھے۔ ڈاکٹر بنگش کے مطابق،”قلات کو آزاد ریاست تسلیم کرنے پر حکومت پاکستان کا ضمیر مکمل طور پر مطمئن تھا، حکومت پاکستان اس امر سے بخوبی آگاہ تھی کہ برطانیہ اور ہندوستان میں سے کوئی بھی قلات کو ایک علیحدہ مملکت تسلیم نہیں کرے گا۔ اس لیے (قلات کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا) محض ایک مراسلہ کسی طرح نقصان دہ ثابت نہیں ہو گا۔ تزویراتی طور پر اس قدر اہم محل وقوع کا حامل ہونے کی وجہ سے کوئٹہ اور پٹے پر دیئے گئے دیگر علاقوں کوقلات کی عملدآری سے دور رکھنا پاکستان کے مفاد میں تھا’۔ قلات اور پاکستان کے مابین مراسلت میں ثالثی کے باوجود ماونٹ بیٹن نے خود اس اعلامیے پر دستخط نہیں کیے۔ اگرچہ قلات کے وفد نے برطانیہ کی جانب سے ایک آزادی ریاست تسلیم کیے جانے کی علامت کے طور پر ماونٹ بیٹن کے دستخط نہ کرنے پر بہت زیادہ ردوقدح نہیں کی، تاہم اسی حقیقت کی بناء پر 11 اگست 1947 کو ہونے والا قلات پاکستان الحاق کا اعلامیہ بے مصرف قرار دیا جا سکتا ہے۔

 

قلات اور پاکستان کے مابین بات چیت ابھی جاری تھی جب خاران اور لسبیلہ کے مقامی سرداروں نے حکومت پاکستان سے اپنی جداگانہ حیثیت تسلیم کرانے کی کوشش کر دی۔ جناح صاحب نے 1948 کے سبی دربار میں خان آف قلات کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنے کی امید پر شرکت کی، تاہم خان آف قلات اس دربار میں تشریف نہیں لائے۔ اس تحقیر سے جناح صاحب اور خان آف قلات کے مابین تعلقات مجروح ہوئے۔ اس کے جواب میں پاکستان نے خاران، لسبیلہ اور مکران کو علیحدہ ریاستوں کے طور پر تسلیم کر لیااور مارچ 1948 تک ان کی آزاد حیثیت برقرار رہنے دی۔ خاران اور لسبیلہ کے نواب ، برتری کے خواہاں خان آف قلات پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں تھے۔ پاکستان نے اس بد اعتمادی کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔

 

اس الحاق کے فوراً بعد حکومت پاکستان نے مذکورہ بالا ریاستوں میں مواصلات اور بندرگاہوں کا انتظام سنبھالنے کے لیے فوجی اور لیوی اہلکار بھجوائے۔ مارچ 1948 کے اختتام تک خان آف قلات نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کر لیا تھا۔ خان آف قلات کے ایک بھائی عبدالکریم کی شادی ایک افغان شہزادی سے ہوئی تھی۔ عبدالکریم نے افغانستان کو مرکز بنا کر وہاں سے قلات میں ایک عوامی بغاوت کو ہوا دینے کی کوشش کی، تاہم یہ بغاوت عام لوگوں کو ہتھیار اٹھانے پر آمادہ کرنے میں ناکام رہی۔ اگرچہ شہزادہ عبدالکریم کی بغاوت بہت مختصر عرصے کے لیے ہی جاری رہ سکی لیکن بلوچ قوم پرستوں کے تاریخی بیانیے میں ‘آزادی کی یہ پہلی جنگ’ دیومالائی حیثیت حاصل کر چکی ہے۔
Categories
نان فکشن

بارکھان کی تاریخ

بلوچستان کا کوئی بھی ضلع، تحصیل یا سب تحصیل حتیٰ کہ کوئی بھی گاؤں یا قصبہ ایسا نہیں ہے کہ جہاں ماضی قدیم کی یادگار یں اور مزاروں کے خستہ حال آثار نہ ملتے ہوں۔
بارکھان اب ژوب ڈویژن کا ایک ضلع ہے اور بلوچستان کا انتہائی مشرقی ضلع کہلاتا ہے۔ ضلع بارکھان کل تین ہزار چارسو گیارہ کلومیٹر رقبے پر محیط ہے جبکہ آبادی تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار ہے۔ بارکھان کے شمال میں موسیٰ خیل اورلورالائی، جنوب میں ضلع کوہلو اور ڈیر بگٹی، اور مشرق میں صوبہ پنجاب کا شہر ڈیرہ غازی خان ہے۔ یہاں کی آبادی کی اکثریت کھیتران بلوچ قبیلے پر مشتمل ہے۔ کھیتران قوم اپنی مخصوص بولی کھیترانی بولتے ہیں۔ ضلع بارکھان کا زیادہ تر علاقہ زرعی ہے اور ستر فیصد آبادی زراعت سے ہی منسلک ہے۔ لوگوں کا ذریعہ معاش مالداری اور زراعت ہی ہے۔ ضلع بارکھان بارہ یونین کونسل اور ایک تحصیل پر مشتمل ہے۔ بارکھان تاریخی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے یہ علاقہ کبھی وسطی ایشیا سے ہندوستان کو ملانے کا آسان ترین راستہ ہوا کرتا تھا۔ بارکھان بھی قدیم ثقافتی ورثے کا گہوارہ ہے، یہاں کے طول و عرض میں قدیم ٹیلوں، کاریزات، قبرستان اور دیگر آثار ابھی تک موجود ہیں۔

 

باروخان سے بارکھان تک

 

بعض روایات کے مطابق بارکھان کا نام ماضی میں باروخان تھا، اس کی توجیہہ یہ ہے کہ مغل دور میں یہ علاقہ سبی کے زیر اثر تھا۔ سبی کے مغل حکمرانوں کا نامزد باروزئی گورنر بارو خان اس علاقہ سے مالیہ وصول کیا کرتا تھا۔ بارو خان باروزئی کی ہی وجہ سے اس علاقے کا نام باروخان مشہور ہوا جو بعد ازاں بارکھان کہلانے لگا۔

 

موسم:

 

یہاں کی آب و ہوا خوشگوار ہے اور مئی جون کے گرم مہینوں میں جنوبی پنجاب سے لوگ گرمی سے تنگ آ کر ضلع بارکھا ن کا رخ کرتے ہیں یہاں مون سون کی بارشوں کا تناسب 514.6 ملی لیٹر ہے۔ یہاں گرمیوں میں درجہ حرارت کم اور سردیوں میں کبھی کبھار نقطہ انجماد تک جا پہنچتا ہے۔ سردیوں میں پہاڑوں پر اور یونین کونسل بغاو میں کبھی کبھار برف باری بھی ہو جاتی ہے۔ موسم سرما میں کوئٹہ کی طرف سے آنے والی سرد اور خشک ہوائیں ضلع بارکھان کی سردی میں اضافہ کرتی ہیں اور یہی ہوائیں خشک موسم سرما کا باعث بھی بنتی ہیں۔

 

بارکھان کا تہذیبی و ثقافتی ورثہ

 

بارکھان تاریخی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل علاقہ ہے جو وسطی ایشیا سے ہندوسستان کو ملانے کا آسان اور سہل زمینی راستہ تھا۔
بلوچستان کو ماہرین آثار قدیمہ اور مورخین “قدیم تہذیبوں کا امام” کہتے ہیں۔ بلاشبہ زمانہ قبل از تاریخ کے آثار کے حوالے سے خطہ بلوچستان اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ یہاں قدم قدم پر قدیم تہذیب کے آثار ملتے ہیں۔ مہر گڑھ کی قدیم ترین انسانی بستی بھی اسی خطہ زیبا کی امانت گراں ما یہ ہے جسے اولین زرعی انسانی تہذیب کا درجہ حاصل ہے۔ علاوہ ازیں بلوچستان کا کوئی بھی ضلع، تحصیل یا سب تحصیل حتیٰ کہ کوئی بھی گاؤں یا قصبہ ایسا نہیں ہے کہ جہاں ماضی قدیم کی یادگار یں اور مزاروں کے خستہ حال آثار نہ ملتے ہوں۔ بلاشبہ جس طرح بلوچستان معدنی دولت، جغرافیائی اہمیت، سیاسی تاریخ اور قومی ثقافت کے حوالے سے عالمی سطح پر انفرادیت کا حامل ہے اسی طرح قدیم تہذیبی ورثہ کے حوالے سے بھی کسی عجوبے سے کم نہیں۔ ضلع بارکھان میں بھی ٹیلوں اور آبادیوں کے آس پاس کاریزات، قبرستان، کتبے اور دیگر آثار پھیلے ہوئے ہیں۔ چونکہ اس اہم قومی اور ثقافتی ورثہ کی جانب سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی توجہ نہیں رہی اس لیے ان آثار میں سے اکثر یا تو دریافت نہیں کیے جا سکے یا پھر نوادر چور مافیا یعنی تہذیب کے چوروں یا تہذیبی دہشت گردوں کی زد میں آ چکا ہے۔ اس خطرناک مافیا کے ہاتھوں ان آثار کو بری طرح نقصان پہنچا ہے اور یہ قیمتی سرمایہ بس خاک کا ایک ڈھیر بن چکا ہے۔

 

بارکھان تاریخی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل علاقہ ہے جو وسطی ایشیا سے ہندوسستان کو ملانے کا آسان اور سہل زمینی راستہ تھا۔ اس راستے سے نہ صرف تجار لکہ فاتحین و جنگجوبھی گزرتے رہے ہیں جو دوران سفر یہاں قیام بھی کرتے تھے۔ لہذا یہاں انسانی آبادی کے آثار زمانہ قدیم سے ملتے ہیں۔ یقیناً یہاں ماضی میں بھی اچھی خاصی آبادی رہی ہوگی کہ جو آنے جانے والے مسافروں کے قیام وطعام کا بندوبست کرنے کی سکت رکھتی ہو گی۔

 

بلوچستان کے دیگر تاریخی مقامات کی طرح بارکھان کے حوالےسے بھی تحریری مواد نہیں ملتا۔ اس علاقے کا تاریخی کردار قومی سرمایے کے طور پر تحریر کرنے اور محفوظ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو اپنی تاریخ کی تلاش میں ہماری طرح بھٹکنا نہ پڑے۔ ان آثار اور اس ثقافتی ورثے کی تفصیلات ضبط تحریرمیں لانے سے قبل یہ عرض کرتا چلوں کہ یہ تفصیلات تاریخ کی کسی بھی کتاب میں مذکور نہیں بلکہ مقامی لوگوں کی روایات میں زندہ ہیں۔

 

سوران ایک مقبرہ

 

ایک کتبہ خضدار کی یونین کونسل باغبانہ کے قریب لونڈو کے ٹیلے کے پاس ا یک پہاڑی پر کندہ ہے جبکہ دوسرا کتبہ یونین کونسل درہ، مولہ کے گاؤں پیر لاکھا میں تھا جسے وہاں سے غائب کر دیا گیا۔
سوران یونین کونسل ناہڑکوٹ میں واقع ایک مشہور و معروف مقام ہے اور اس کی وجہ شہرت اس کی قدیم تاریخ ہے جو مغل دور سےشروع ہوتی ہے۔ اس مقبرے کے بارے میں بعض مورخین نے اپنی کتب میں لکھا ہے کہ عہد جہانگیری یا اس سے بھی قبل اکبر کے دور حکومت میں مغل فوج کا ایک دستہ یا لشکر ہندوستان سے شہزادہ خسرو کی سالاری میں نکلا۔ انہوں نے سفر کے لیے بارکھان کے راستے کا نتخاب کیا۔ ڈیرہ غازی خان سے گزرنے کہ بعد ان کا ایک پڑاو موجودہ بارکھان میں ہوا جسے آئین اکبری کا مصنف جنجاہ یا جانجاہ تحریر کرتا ہے۔ یہاں قیام کے دوران شہزادہ خسرو کہ ایک معتمد خاص کی وفات ہوئی توشہزادہ موصوف نے انہیں وہیں دفنا دیا اور ان کا مقبرہ بھی تعمیر کروایا اور ساتھ ہی ایک مسجد بھی تعمیر کروائی۔ مورخین کے خیال کے مطابق بارکھان میں موجود سوران ہی وہ مقبرہ ہے جو شہزادہ خسرو نے اپنے معتمد خاص کی وفات پر تیار کرایا تھا۔

 

بعض روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ اس مقبرے میں ایک پتھر پرچند اشعار کندہ تھے جن کے مطالعے کے بعد ہی یہ بات واضع ہوئی کہ یہ مقبرہ واقعی شہزادہ خسرو کے کسی معتمد خاص کا تھا۔ اب وہ پتھر تو دستیاب نہیں ہے مگر جس لکھائی کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے بالکل اس سے ملتی جلتی دو تحریریں ضلع خضدار میں ملتی ہیں جو اکبر اعظم کے معتمد خاص اور بکھر اور سندھ میر معصوم البکھری سے منسوب ہیں۔ ان میں سے ایک کتبہ خضدار کی یونین کونسل باغبانہ کے قریب لونڈو کے ٹیلے کے پاس ا یک پہاڑی پر کندہ ہے جبکہ دوسرا کتبہ یونین کونسل درہ، مولہ کے گاؤں پیر لاکھا میں تھا جسے وہاں سے غائب کر دیا گیا۔ پیر لاکھا میں بھی ایک قدیم مقبرہ ہے جو میر معصوم کے کسی معتمد خاص سے منسوب ہے۔ یہاں میر مصوم نے پتھر پر کچھ اشعار کندہ کروا کے نصب کرا دئیے تھے۔ ان دونوں کتبوں کا تذکرہ راقم الحروف اپنی کتاب “بلوچستان کے تہذیبی نقوش” میں تفصیل سے کر چکا ہے۔ سوران کی ظاہری صورت تو بالکل تباہ ہو چکی ہے البتہ اندرونی جانب بنائے گئے نقش و نگار کی باقیات موجود ہیں۔

 

محل وقوع:

 

ناہڑکوٹ سے کچھ ہی فاصلے پر موجود اس مقبرے کی تعمیر ایک ٹیلہ پر کی گئی تھی جو دور سے ہی نظر آ جاتا ہے۔ کسی زمانے میں سوران اس قدر خوبصورت اور دیدہ زیب ہوا کرتا تھا کہ سورج کی پڑنے والی ہر کرن اس کو اس قدر چمچما دیتی تھی کے لوگ اپنی آنکھوں کو اس کی چکا چوند سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھنے پر مجبور ہو جاتے تھے مگر حکومتی اداروں کی لاپرواہی کی وجہ سے ایک کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس کو اس طرز پر تعمیر کیا گیا ہے کہ ٹھنڈی اور تازہ ہوا کا گزر اس میں ہر طرف سے ہو۔ اندرونی جانب مقبرہ کی دیواریں اب بھی اس وقت کے ہنر کی گواہی دے رہی ہیں۔ اس مقبرے کی موجودہ حالت انتہائی خستہ ہو چکی ہے، اس کی یہ حالت سرکاری اداروں کی عدم توجہی اور عدم دلچسپی کے ساتھ مقامی عوام کی نا سمجھی کی بھی مظہر ہے کہ کس طرح نا سمجھ لوگوں نے اس کی ایک ایک اینٹ اکھاڑ کر اپنی کم عقلی کا ثبوت دیا ہے۔ مگر اب بھی انسانی دست برد سے محفوظ بعض دیواروں پر قدیم طرز تعمیر اور گل کاری کے اعلیٰ نمونے محفوظ ہیں۔ اس مقبرے کی خستہ حالی کسی بھی باشعور اور پڑھے لکھے معاشرے کے افراد کے لیے ناقابل برداشت ہو گی کیونکہ تاریخ و تہذیب کے نمونوں سے ہی اس معاشرے کی ثقافت کی عکاسی ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اپنی تہذیب کا گلا خود کاٹ رہا ہے۔
Categories
نان فکشن

بلوچستان پاکستان کا حصہ کیسے بنا؟

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: یوگینا وینا سیاسی حمکت عملی کی طالبہ ہیں اور مروجہ بیانیے سے انحراف کی قائل ہیں۔ ان کا یہ مضمون انگریزی اخبار دی نیشن کی ویب سائٹ پر 5 دسمبر کو شائع کیا گیا جسے اردو میں ترجمہ کر کے لالٹین پر پیش کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

بلوچستان پاکستان کے جنوب مغربی حصے پر مشتمل صوبہ ہے جس کی سرحد مغرب میں افغانستان اور ایران سے ملتی ہے اور جنوب میں بحیرہ عرب سے۔ رقبے کے اعتبار سے یہ پاکستان کے تقریباً پچاس فی صد کے برابر ہے جہاں پاکستان کی آبادی کا محض 3.6 فی صد حصہ مقیم ہے۔ بلوچستان تیل، گیس، تانبے اور سونے سمیت قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود یہ پاکستان کا غریب ترین صوبہ ہے جہاں پینے کے پانی اور بجلی جیسی سہولیات بھی میسر نہیں۔

 

تقسیم پاک و ہند سے قبل، برطانوی راج میں بلوچستان چار شاہی ریاستوں قلات، لسبیلہ، خاران اور مکران پر مشتمل تھا۔ان ریاستوں میں سے دو ریاستیں لسبیلہ اور خاران، برطانوی راج کی طرف سے خان آف قلات کو جاگیر کے طور پر اجارے پر عنایت کی گئی تھیں، اسی طرح مکران بھی اس زمانے میں قلات کا ہی حصہ تھا۔ جناح نے برطانوی راج سے قلات کے زیر انتظام بلوچستان کی آزادی کے معاملے پر قیام پاکستان سے تین ماہ قبل مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ ریاست قلات اور اس کے پاکستان سے تعلقات پر بات چیت کے آغاز سےتاج برطانیہ کی طرف سے وائسرائے ہند، والی قلات اور جناح کے مابین ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں 11 اگست 1947 کو ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق:

 

الف۔ پاکستانی حکومت قلات کو برطانیہ کے ساتھ معاہدوں کے تناظر میں، برطانیہ کے زیرانتظام علاقوں سے منفرد حیثیت میں ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔
ب۔ قلات کو برطانیہ سے( اجارے پر ملی جاگیرات کے )موجودہ( معاہدوں کی پاکستان کے ساتھ تجدید یا تنسیخ سے متعلق قانونی مشاورت کی جائے گی۔
ج۔ حتمی فیصلے تک پاکستان اور قلات کے مابین معاملات کو جوں کا توں برقرار رکھنے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔
د۔ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات سے متعلق امور پر فیصلوں کے لیے پاکستان اور قلات کے مابین کراچی میں مذاکرات کیے حائیں گے۔

 

خان آف قلات اپنی برائے نام آزادی سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھے تاہم وہ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے معاملات پر پاکستان کی بالادستی قبول کرنے کو تیار تھے۔
گریفٹی- سمتھ کے 17 اکتوبر، 1947 کوبھیجے گئے ایک تار میں پاک- قلات مذاکرات سے متعلق ایک یادداشت کے مطابق جناح قلات کو آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کرنے کے حوالے سے دو دلی کا شکار تھے، اور اب پاکستان میں شامل ہونے والی دیگر ریاستوں کی طرح قلات کا پاکستان سے الحاق چاہتے تھے۔ اسی یادداشت میں قلات کی دو جاگیروں لسبیلہ اور خاران کے پاکستان سے الحاق کی صورت میں پیدا ہونے والی دلچسپ صورتحال کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
اکتوبر 1947 تک قائداعظم محمد علی جناح قلات کو ایک “آزاد اور خودمختار ریاست” کے طور پر تسلیم کرنے سے متعلق اپنا ارادہ بدل چکے تھے اور اب دیگر ریاستوں کی طرح خان آف قلات کی جانب سے پاکستان سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کے خواہاں تھے۔ خان آف قلات اپنی برائے نام آزادی سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھے تاہم وہ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے معاملات پر پاکستان کی بالادستی قبول کرنے کو تیار تھے۔ لیکن وہ جاگیر کے طور پر ملے علاقوں پر اطمینان بخش معاہدہ ہو جانے تک الحاق یا اتصال کی کسی دستاویز پر دستخط کرنے کو تیار نہیں تھے۔ اس حوالے سے خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا تھا کہ پاکستانی حکام لسبیلہ اور خاران کی ریاستوں سے پاکستان کے ساتھ باقاعدہ الحاق کے معاملات طے کر سکتے ہیں۔

 

فروری 1948 تک حکومت پاکستان اور قلات کے درمیان بات چیت کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پائی۔ قائداعظم نے خان آف قلات کو لکھا: “مرا مشورہ ہے کہ آپ بلاتاخیر پاکستان سے الحاق کر لیں۔۔۔۔۔میں وعدے کے مطابق آپ کے جواب کا انتظار کروں گا جو آپ نے کراچی میں میرے ساتھ قیام اور الحاق کے تمام پہلووں پر بات چیت کے بعد کیا تھا۔” 15 فوری، 1948 کو جناح نے سبی دورے کے دوران شاہی دربار سے خطاب کیا، جس کے دوران انہوں نے اعلان کیا کہ دو سال تک جب تک کہ پاکستان کا آئین تیار نہیں ہو جاتا، بلوچستان کی حکومت وہ اپنی نامزد کردہ ایک مشاورتی کونسل کی مدد سے خود چلائیں گے۔ تاہم اس دورے کا اصل مقصد خان آف قلات کو پاکستان کے الحاق پر آمادہ کرنا تھا۔ خان آف قلات نے ناسازی طبع کے باعث جناح سےحتمی ملاقات سے معذوری ظاہر کی۔ جناح کے نام اپنے خط میں والی قلات نے لکھا کہ انہوں نے پاکستان سے تعلقات پر ریاستی دارالعوام اور دارالامراء کی رائے جاننے کے لیے اجلاس طلب کیا ہے، اور اس ماہ کے اختتام تک وہ دونوں ایوانوں کی رائے سے جناح کو آگاہ کر دیں گے۔

 

اکیس فروری 1948 کو دارالعوام کے اراکین نے اجلاس کے دوران پاکستان سے الحاق کرنے کی بجائے قلات کے پاکستان سے تعلقات کی نوعیت طے کرنے کے لیے ایک معاہدے پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا۔
21 فروری 1948 کو دارالعوام کے اراکین نے اجلاس کے دوران پاکستان سے الحاق کرنے کی بجائے قلات کے پاکستان سے تعلقات کی نوعیت طے کرنے کے لیے ایک معاہدے پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا۔ 9 مارچ 1948 کو خان آف قلات کو جناح صاحب کا پیغام ملا کہ قلات کے ساتھ وہ ذاتی حیثیت میں مذاکرات نہیں کریں گے بلکہ اس حوالے سے تمام معاملات حکومتِ پاکستان کے ساتھ طے کیے جائیں گے۔ حالانکہ اس وقت تک )جناح کے ساتھ ( باقاعدہ مذاکرات کا آغاز تک نہیں ہوا تھا بلکہ جناح نے سبی میں خان آف قلات سے )الحاق کی ( محض ایک غیر رسمی درخواست کی تھی۔

 

پاکستان میں امریکی سفیر کے 23 مارچ 1948کو بھیجے گئے ایک مراسلے سے پتہ چلتا ہے کہ 18 مارچ کو،”ریاست قلات کو اجارے پر ملی خاران، لسبیلہ اور مکران کی ریاستوں نے” پاکستان سے الحاق کر لیا ہے۔ خان آف قلات نے اس الحاق کی مخالفت کی اور اسے قلات اور پاکستان کے درمیان معاملات جوں کے توں رکھنے کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خاران اور لسبیلہ کی ریاستیں انہیں اجارے پر دی گئی ہیں جبکہ مکران قلات کا ایک ضلع ہے۔ تقسیم سے پہلے جولائی 1947 میں خاران اور لسبیلہ کے خارجہ امور قلات کے سپرد کر دیئے تھے۔

 

26 مارچ 1948 کو پاکستانی فوج کو بلوچستان کے ساحلی علاقوں پسنی، جیوانی اور تُربت میں داخل ہونے کا حکم دے دیا گیا۔ یہ پیش قدمی یکم اپریل 1948 کو قلات پر پاکستانی فوج کی (باقاعدہ) چڑھائی سے قبل پہلی جارحیت تھی۔ ساحلی علاقوں میں پاکستانی فوج کے داخل ہونےکے بعد قلات نے 27 مارچ کو ہتھیار ڈال دیئے جبکہ کراچی میں یہ اعلان کیا گیا کہ خان آف قلات نے پاکستان سے الحاق پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ جناح نے بھی بندوقوں کے سائے میں اس الحاق کو تسلیم کر لیا۔ یہ یاد رکھا جانا ضروری ہے کہ بلوچستان اسمبلی نے کسی بھی صورت میں بلوچستان کی آزادی کے خاتمے کی کوئی بھی تجویز قبول کرنے کا امکان رد کر دیا تھا۔ بلوچستان کی پارلیمان کی جانب سےالحاق مسترد کیے جانے کے باعث بندوق کی نوک پر خان آف قلات سے لیے گئے دستخط بھی قابل اطلاق نہیں تھے۔ ہندوستان کی آزادی سے قبل بلوچستان کے معاملات خان آف قلات کے سپرد کرتے ہوئے برطانیہ نے الحاق کا اختیار )قلات کی ریاست( کو نہیں دیا تھا۔ خود مختار بلچ ریاست برطانوی راج کے خاتمے کے بعد صرف 227 روز قائم رہی۔ اس دوران بلوچستان کا جھنڈا پاکستان میں بلوچ سفارت خانے پر لہراتا رہا۔

 

چھبیس مارچ 1948 کو پاکستانی فوج کو بلوچستان کے ساحلی علاقوں پسنی، جیوانی اور تُربت میں داخل ہونے کا حکم دے دیا گیا۔ یہ پیش قدمی یکم اپریل 1948 کو قلات پر پاکستانی فوج کی چڑھائی سے قبل پہلی جارحیت تھی۔
یہ کہنا کہ بلوچوں کی زمین پر غیر قانونی اور زبردستی کیے گئے قبضے کے بعد سے پاکستانی حکومتوں اور عسکری قیادت نے بلوچوں کے ساتھ ناروا سلوک نہیں کیا زیادتی ہے۔ بلوچوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کے باعث یہاں علیحدگی پسند تحریکیں چلتی رہی ہیں، جن میں سے سب سے بڑی 2006 میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں سردار اکبر بگٹی اور اس کے 26 قبائلی حواریوں کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی۔ 2006 میں کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان نے اپنی رپورٹ میں بلاجواز گرفتاریوں، حبس بے جامیں رکھنے، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، حراست کے دوران پولیس، خفیہ اداروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے بے جااور بلاتفریق تشدد کا سامنا کرنے والوں کے اعدادوشمار پیش کیے۔ ان اعدادوشمار کی تصدیق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی کی ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے سابق رہنمائے حزب اختلاف کچکول علی بلوچ کے مطابق جبری گمشدگان یا عدالت میں پیش کیے بغیر حراست میں رکھے گئے افراد کی تعداد 4000 ہے۔ لاپتہ افراد میں ایک ہزار کے قریب طالب علم اور سیاسی کارکن شامل ہیں۔ حال ہی میں ان کا اپنا بیٹا چودہ ماہ غیرقانونی حراست میں رکھے جانے کے بعد رہا کیا گیا ہے۔ بلوچ نینشنلسٹ پارٹی کے رہنما سردار اختر مینگل بھی ان افراد میں شامل ہیں جن پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے۔ درحقیقت وہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف ایک لانگ مارچ نکالنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ انہیں 2008 میں رہا کیا گیا تھا۔ موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پنجاب میں “استحکامِ بلوچستان-مسائل اور امکانات” نامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پرکہا ہے کہ اگر بلوچستان کے وسائل پر بلوچوں کا اختیارتسلیم نہ کیا گیا تو ہم ایک اور مسلح مزاحمت دیکھیں گے جس پر کوئی بھی قابو نہیں پا سکے گا۔

 

پاکستانی عوام کے سامنے کبھی بھی بلوچستان کی اصل کہانی پیش نہیں کی گئی اور نہ ہی کبھی اس پر بات کی گئی ہے۔ ہماری درسی کتب اور ذرائع ابلاغ حقیقت سے دور ایک جھوٹے بیانیے کے ابلاغ میں مشغول ہیں۔ یہ دانشوروں اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر مسخ شدہ حقائق سے واقفیت حاصل کریں اور لوگوں تک پہنچائیں۔