Categories
نقطۂ نظر

بلوچستان کی سچائی- مدیر کے نام خط

Letter-to-Editor

یوں تو پاکستانی ریاست میں موجود ہر خطے سے ہی ‘محب وطن’ پاکستانی ناواقف ہیں مگر بلوچستان سے متعلق تو سنگین غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ جس طرح کا نصاب یہاں رائج ہے اور جو اول فول نسیم حجازی جیسے مصنفین اور زید حامد جیسے تجزیہ کاروں نے پڑھ کر پلایا ہے اس کے تناظر میں یہ لا علمی کچھ بہت انہونی بات بھی نہیں ۔ بلوچستن کے بارے میں طاقتور اداروں کی جانب سے جو کچھ بتایا گیا ہے اس کی بنیاد پر کوئی بھی درست رائے کیسے قائم کی جا سکتی ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ نقطہ نظر غلط ہو تو مسئلے کو بحث و مباحثہ کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے مگر اگر حقائق غلط ہوں تو معاملہ بہت پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

 

یوں تو پاکستانی ریاست میں موجود ہر خطے سے ہی ‘محب وطن’ پاکستانی ناواقف ہیں مگر بلوچستان سے متعلق تو سنگین غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔
بلوچستان کی تاریخ اور موجودہ صورت حال کے حوالے سے اکثر مسخ شدہ حقائق طلبہ کو پڑھائے جاتے ہیں۔ یک عام غلط فہمی تو یہ ہے کہ ہم لوگوں کا خیال ہے کہ دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان کا ذکر بھی قراردادِ پاکستان میں موجود تھا اور 14 اگست 1947 کو ہی بوچستان پاکستان کا حصہ بن گیا۔ بلوچستان کے الحاق سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کی بنیاد پر ہی موجودہ صورت حال کا درست ادراک ممکن نہیں رہا۔ عام پاکستانیوں کے نزدیک عام بلوچ محب وطن پاکستانی ہیں اوربلوچ سردار ہندوستان اور امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستان کو اس کے سب سے بڑے صوبے سے جدا کرنا چاہتے ہیں۔ مگر بلوچ سردار ایسا کیوں چاہتے ہیں؟ عام پاکستانیوں کے خیال میں وہ اس لئے پاکستان سے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان کی ریاست خاص کر فوج وہاں ترقی دیکھنا چاہتی ہے اور جس کے نتیجہ میں وہاں کے عوام باشعور ہوں گے اور سرداری نظام اور اس کے نتیجہ میں جاری استحصال کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔

 

یہ جام اور اس جیسے کئی جام صبح شام ہمارے عوام کو پلائے جاتے ہیں اوروہ بیچارے یہ بھول کر کہ ان کی اپنی حالت ان حکمرانوں نے کیا بنا رکھی ہے، حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر بلوچ سرداروں اور ہندوستان اور امریکہ کو کوستے رہتے ہیں۔ وہ تو اتنے معصوم ہیں کہ اقبال جس نے ہمیشہ pan-Islamism کی بات کی اس ہی کو پاکستان کے نظریاتی معاملات کا حرفِ کل مانتے ہیں۔ جبکہ درحقیقت دو قومی نظریہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کے حوالے سے دیا گیا تھا اور جناح خود pan-Islamism کے مخالف تھے۔

 

اگر ہم دو قومی نظریہ کو ہی لے لیں جس کی اپنی ساخت بہت کمزور ہے تو بھی بلوچستان پاکستان کی جھولی میں نہیں آنا چاہیئے کیونکہ اس کے مطابق ہندوستان میں بسنے والے مسلمان ایک قوم ہیں جب کہ بلوچستان کا ایک بڑا حصۃ تو کبھی ہندوستان کا حصہ نہیں رہا۔ میرے بہت سارے دوستوں کا خیال ہے کہ کشمیر اور بلوچستان کا موازنہ نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ کشمیر کا معاملہ متنازعہ ہے جبکہ بلوچستان پاکستانی وفاق کا حصہ ہے۔ یوگینا وینا کے ایک مضمون کے مطابق:

 

تقسیم پاک و ہند سے قبل، برطانوی راج میں بلوچستان چار شاہی ریاستوں قلات، لسبیلہ، خاران اور مکران پر مشتمل تھا۔ان ریاستوں میں سے دو ریاستیں لسبیلہ اور خاران، برطانوی راج کی طرف سے خان آف قلات کو جاگیر کے طور پر اجارے پر عنایت کی گئی تھیں، اسی طرح مکران بھی اس زمانے میں قلات کا ہی حصہ تھا۔ جناح نے برطانوی راج سے قلات کے زیر انتظام بلوچستان کی آزادی کے معاملے پر قیام پاکستان سے تین ماہ قبل مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ ریاست قلات اور اس کے پاکستان سے تعلقات پر بات چیت کے آغاز سےتاج برطانیہ کی طرف سے وائسرائے ہند، والی قلات اور جناح کے مابین ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں 11 اگست 1947 کو ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق:

 

دارالعوام کے فیصلہ کی روح سے بلوچستان نے پاکستان میں شامل ہونے کی مخالفت کر دی تھی اور برطانوی معاہدوں اور دستاویزات کی روح سے بھی بلوچستان کو ایک علیحدہ خودمختار ریاست کا درجہ دیا گیا تھا۔
الف۔ پاکستانی حکومت قلات کو برطانیہ کے ساتھ معاہدوں کے تناظر میں، برطانیہ کے زیرانتظام علاقوں سے منفرد حیثیت میں ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔
ب۔ قلات کو برطانیہ سے( اجارے پر ملی جاگیرات کے )موجودہ( معاہدوں کی پاکستان کے ساتھ تجدید یا تنسیخ سے متعلق قانونی مشاورت کی جائے گی۔
ج۔ حتمی فیصلے تک پاکستان اور قلات کے مابین معاملات کو جوں کا توں برقرار رکھنے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔
د۔ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات سے متعلق امور پر فیصلوں کے لیے پاکستان اور قلات کے مابین کراچی میں مذاکرات کیے حائیں گے۔

 

کچھ ہی عرصہ میں بلوچستان کے حوالے سے پاکستان کے خیالات میں تبدیلی رونما ہوئی اور خان آف قلات کو مختلف انداز سے دباو میں لانے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ خان نے اس دباو سے بچنے کے لئے معاملہ پارلیمان کے حوالے کر دیا۔ 21 فروری 1948 کو دارالعوام نے پاکستان میں شامل ہونے کی مخالفت میں فیصلہ کیا۔ مارچ میں ان افواہوں کو گرم کیا گیا کہ خاران، لسبیلہ اور مکران نے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا جبکہ 26 مارچ 1948 میں پسنی جیونی اور دیگر سمندری پٹی میں فوج داخل ہو گئی۔ 27 مارچ کو فوج قلات پہنچ گئی اور کراچی میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ خان نے پاکستان میں شامل ہونے کی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ جبکہ یہ معاہدہ بندوق کے زور پر کرایا گیا۔ اگر آپ اس معاہدہ کی صحت کو تھوڑی دیر کے لئے نظر انداز بھی کر دیں تو دارالعوام کے فیصلہ کی روح سے بلوچستان نے پاکستان میں شامل ہونے کی مخالفت کر دی تھی اور برطانوی معاہدوں اور دستاویزات کی روح سے بھی بلوچستان کو ایک علیحدہ خودمختار ریاست کا درجہ دیا گیا تھا۔

 

اس کے برعکس اگر کشمیر کے معاملہ پر غور کیا جائے تو وہاں پہلے پاکستان کے قبائلی لشکروں نے چڑھائی کی اور اس ڈر سے کہ کشمیر پر پاکستان کا قبضہ نہ ہو جائے مہاراجہ نے ہندوستان کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ ایک مہاراجہ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ پورے کشمیر کی عوام کا فیصلہ کرے لیکن اگر اس وجہ سے ہم سب کشمیر کو مقبوضہ کشمیر گردانتے ہیں تو پھر بلوچستان کے حوالے سے ہماری حب الوطنی کیوں جاگ جاتی ہے اور ہم ان کے تاریخی اور قومی حق کو تسلیم کرنے سے کیوں قاصر ہیں؟

 

یہ تنظیمیں پاکستان کے لئے دو مونہی والی تلوار کا کام کرتی ہیں کیونکہ ایک طرف تو ان کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ “ناراض بلوچوں” کو راہِ راست پر لا کر جہاد پر لگایا جائے تو دوسری جانب یہ ایران کے خلاف ایک حفاظتی تدبیر کا کام کرتی ہیں۔
یہ ساری باتیں درست مگر ہماری فوج جس نے یہ طے کر لیا ہے کہ افغانستان ہو یا بلوچستان اس کے مسئلوں کو حل کرنا اس کی ذمہ داری ہے وہ بھلا غریب بلوچوں کو ظالم و جابر سرداروں کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتی ہے۔ لہٰذا ریاستِ پاکستان نے 90 فیصد سراداروں کو مراعات دے کر خرید لیا اور ان کے لشکروں کو اسلحہ سے لیس کر کے اپنی ہی قوم پر ظلم کرنے کی ذمہ داری پر لگا دیا۔ جو 10 فیصد پاکستان کی مخالفت کرتے ہیں وہ جان بچا کر پاکستان سے باہر بیٹھے ہیں۔

 

دوسری جانب خدائی خدمتگاروں کو بلوچستان کے لوگوں کی اسلام سے دوری بہت کھائی جا رہی تھی۔ بلوچستان کی اکثریت ہے تو مسلمان مگر اسے خودکش دھماکوں میں خاص دلچسپی نہ تھی اور نہ ہی وہ افغانستان اور کشمیر کے جہاد میں خاص دلچسپی لیتے تھے لہٰذا وہاں نہ صرف کوئٹہ شوریٰ کو رکھا گیا بلکہ لشکرِ جھنگوی اور جماعت الدعوۃ یا لشکرِ طیبہ جیسی تنظیموں کے مدرسوں کو متعارف کرایا گیا جن کے ذریعہ اب داعش وغیرہ بھی بلوچستان میں اسلام و جہاد پھیلانے کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

 

یہ تنظیمیں پاکستان کے لئے دو مونہی والی تلوار کا کام کرتی ہیں کیونکہ ایک طرف تو ان کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ “ناراض بلوچوں” کو راہِ راست پر لا کر جہاد پر لگایا جائے تو دوسری جانب یہ ایران کے خلاف ایک حفاظتی تدبیر کا کام کرتی ہیں۔ آج کل ان ہی تنظیموں کے ذریعے ہزارگنج کو خالی کرانے کے منصوبہ پر بھی تیزی سے کام جاری ہے جو نہ جانے کیوں ہجرت کر کے ایسی سرزمین پر آ گئے جہاں وحشی درندوں نے قبضہ کرنا تھا اور اپنی strategic depth سے سب کا لہو پینا تھا۔

 

سوال لیکن یہ پیدا ہوتا ہے کہ آدھا بلوچستان چھاونی بنا ہوا ہے مگر سب سے زیادہ اسمگلنگ آخر اس سرحد سے کیوں ہو رہی ہے؟ سوال لیکن یہ پیدا ہوتا ہے کہ 1952 سے سوئی سے گیس نکلنے کے باوجود ریاست بلوچوں کی حالت بہتر کیوں نہیں کر پائی؟ سوال لیکن یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئٹہ جو مکمل چھاونی بنا ہوا ہے وہاں آئے دن اتنی آسانی سے ہزارہ کیوں بے دردی سے قتل ہو جاتے ہیں؟ سوال لیکن یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آپ کشمیر کو مقبوضہ سمجھتے ہیں تو بلوچستان کو کیوں نہیں؟
خدائی خدمتگار اور وردی والے تو اپنے مفادات کے غلام ہیں مگر آپ کس بنیاد پر حب الوطنی کے خمار میں ظالم کا ساتھ دے رہے ہیں؟
Categories
نان فکشن

قلات کے الحاق کا تنازعہ

[blockquote style=”3″]

ڈاکٹر عبدالمجید عابد کا یہ مضمون دی نیشن اخبار کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا تھا۔ یہ مضمون یوگینا وینا کے ایک مضمون ‘بلوچستان پاکستان کا حصہ کیسے بنا-ایک تاریخی تناظر ‘ کے جواب میں لکھا گیا ہے۔ لالٹین کے قارئین کے لیے اس مضمون کا ترجمہ شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

یوگینا وینا کی تحریر کا ترجمہ پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ریاست قلات کے پاکستان سے الحاق کا درست بیان جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ تاریخ کے سرکاری بیانیے میں قلات کے ایوان بالا اور ایوان زیریں میں پاکستان سے الحاق کے خلاف ہونے والی مزاحمت کا تذکرہ سرے سے موجود نہیں
کہا جاتا ہے کہ کسی بھی قضیے میں تاریخ ‘فاتحین’ کے قلم سے رقم ہوتی ہے۔ گزشتہ صدی کے دوران محکوم اور بے اختیار طبقات کے نقطہ نظر سے تاریخ نویسی کا آغاز ہوا۔ تاریخ نویسی کا یہ ڈھنگ پاکستان سمیت دنیا کے کئی معاشروں میں اپنایا گیا ہے۔ حسب توقع مقتدر حلقے تاریخ نگاری کے اس اسلوب کی حوصلہ افزائی یا سرپرستی کے قائل نہیں۔ تاہم حالیہ برسوں کے دوران ‘ارفع مقاصد’ کے حصول کی خاطر حقائق میں تحریف کے باعث یہ اسلوب بھی کڑی جانچ کے عمل سے گزارا گیا ہے۔ سہولت کی خاطر حقائق پر سمجھوتہ قوم پرست مورخین کے کارہائے نمایاں میں شامل ہے، لیکن یہی سمجھوتہ ان مورخین کو ‘جابرین’ کے برابر لا کھڑا کرتا ہے۔

 

ریاست قلات کے پاکستان سے الحاق کا درست بیان جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ تاریخ کے سرکاری بیانیے میں قلات کے ایوان بالا اور ایوان زیریں میں پاکستان سے الحاق کے خلاف ہونے والی مزاحمت کا تذکرہ سرے سے موجود نہیں (اگرچہ خان آف قلات دونوں ایوانوں کی رائے پر عمل درآمد کے پابند نہیں تھے پھر بھی یہ نکتہ قابل غور ہے)۔ دوسری جانب بلوچ قوم پرستوں کی جانے سے بیان کی جانے والی تاریخ ایک بالکل مختلف تصویر کشی کرتی ہے۔ اس تاریخ میں معاملات جوں کے توں رکھنے کے معاہدہ، جناح صاحب کی طرف سے خان آف قلات کے اعتماد کو مجروح کرنے اور اپریل 1948 میں کی گئی فوجی جارحیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ تاریخ کے ان دو مختلف بیانیوں میں مشترک بنیادوں کی تلاش تقریباً ناممکن ہے خصوصاً جب فریقین اپنے اپنے نقطہ نظر کو الہامی سچائی خیال کرتے ہوں۔ تاہم دونوں بیانیوں کی تشکیل میں اندھے اعتقاد کی بنیاد پر کی گئی حاشیہ آرائی کا بھی گراں قدر حصہ ہے۔

 

ہندوستان کے انتظامی امور سے علیحدگی کے اسی احساس کے تحت قلات کے ہندوستان کی ایک شاہی ریاست ہونے یا نہ ہونے کا سوال پیدا ہوا۔
اسی موقر روزنامے میں ایک مضمون “بلوچستان پاکستان کا حصہ کیسے بنا-ایک تاریخی تناظر” کے عنوان سے شائع ہوا ہے، مضمون میں “بلوچستان کی حقیقی تاریخ کے انکشاف” کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ مصنفہ نے مضمون کے آغاز میں نوآبادیاتی دور میں اس صوبے کی جغرافیائی اہمیت کے تذکرے کے بعد قلات اور پاکستان کے مندوبین کے مابین خط و کتابت کا حوالہ دیا ہے۔ مضمون کا اگلا حصہ قلات کے الحاق پر جناح صاحب کے موقف میں تبدیلی اور بالآخر قلات کے پاکستان سے الحاق کا داستان پر مشتمل ہے۔ مضمون کا اختتام بلوچستان میں انسانی وسائل کی ترقی اور سیاسی ماحول کی مخدوش صورت حال کے ذکر پر ہوتا ہے۔ اس مضمون کا آخری جملہ میرا پسندیدہ فقرہ ہے: “یہ دانشوروں اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر تحریف شدہ دستاویزات کی بنیاد پر حقائق سامنے لائیں”۔

 

اگرچہ میں مصنفہ کہ اس نقطہ نظر سے اتفاق کرتا ہوں کہ قلات کے الحاق کا معاملہ ہماری نصابی کتب اور ذرائع ابلاغ کا پسندیدہ موضوع نہیں رہا، تاہم اس موضوع پر بائیں بازو کے دانشور اورمحققین مصنفہ کے ہم خیال رہے ہیں اور ہمیشہ اسی نقطہ نظر سے بات کرتے اور لکھتے آئے ہیں۔ انٹرنیٹ کی اس دنیا میں بلوچستان کی ‘متبادل’ تاریخ تک رسائی محض چند کلک کے فاصلے پر ہے۔ بلوچ قوم پرستوں کے زیر انتظام سائبر سپیس میں سینکڑوں ویب سائٹس، فیس بک گروپ اور ٹویٹر اکاونٹ فعال ہیں۔ اس معاملے پر دیانت دارانہ بحث کا جلد از جلد انعقاد ضروری ہے۔

 

حکومت ہند نے جون 1942 میں فیصلہ سناتے ہوئے قلات کو دیگر شاہی ریاستوں کے مساوی ریاستی حیثیت کا حامل قرار دیا اور قلات سے کسی بھی امتیازی سلوک کے تاثر کو رد کیا۔
تاریخ سے متعلق بات کرتے ہوئے ‘سیاق و سباق’ کو ایک اہم پہلو تصور کیا جاتا ہے۔ قلات اور پاکستان کے مندوبین کے مابین ‘مراسلت’ کسی خلاء میں وقوع پذیر نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی ‘برطانوی دور میں بلوچستان کی حیثیت کا مسئلہ’ (جیسا کہ مصنفہ نے اسے بیان کیا ہے)۔ ڈاکٹر یعقوب بنگش اپنی کتاب ‘A Princely Affair’ میں لکھتے ہیں: ‘تقسیم کے بعد قلات (رقبے کے اعتبار سے) سب سے وسیع ریاست تھی جو پاکستان کا حصہ بنی’۔ مغل سلطنت میں ایک مختصر مدت کے لیے شامل رہنے اور برطانوی ہند کے دائرہ کار کی سرحد پر واقع ہونے کی وجہ سے قلات کے دہلی (یا کلکتے) سے براہ راست روابط بے حد کم رہے ہیں۔ قلات کی ریاست میں اسی لیے عمومی ہندوستانی امور سے علیحدگی کا احساس بھی پیدا ہوتا چلا گیا’۔ ہندوستان کے انتظامی امور سے علیحدگی کے اسی احساس کے تحت قلات کے ہندوستان کی ایک شاہی ریاست ہونے یا نہ ہونے کا سوال پیدا ہوا۔ 1942 میں کرپس مشن کی ہندوستان آمد کے بعد خان آف قلات نے بلوچستان کی آزاد ریاست کا مقدمہ کمیشن کو بھیجا۔ حکومت ہند نے جون 1942 میں فیصلہ سناتے ہوئے قلات کو دیگر شاہی ریاستوں کے مساوی ریاستی حیثیت کا حامل قرار دیا اور قلات سے کسی بھی امتیازی سلوک کے تاثر کو رد کیا۔ قلات کی ریاستی حیثیت سے متعلق یہ ابہام 1877 کے شاہی دربار کے دوران رونما ہونے والے واقعات کے باعث پیدا ہوا۔ شاہی دربار کے آغاز کے موقع پر قلات کو خان آف قلات کے ساتھ ایک ایسی ریاست کے نمائندے کا سا رویہ رکھا گیا جسے شاہی ریاست قرار نہیں دیا گیا، تاہم دربار کی کارروائی کے دوران ان کا درجہ بڑھا کر ایک شاہی ریاست کے نمائندے کے برابر کر دیا گیا۔ تین جون 1947 کے منصوبے کے تحت قلات کو ایک ہندوستانی شاہی ریاست کے طور پر ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی ایک ریاست سے الحاق کا فیصلہ کرنا تھا۔

 

قلات اور پاکستان کے مابین بات چیت ابھی جاری تھی جب خاران اور لسبیلہ کے مقامی سرداروں نے حکومت پاکستان سے اپنی جداگانہ حیثیت تسلیم کرانے کی کوشش کر دی۔
ایک ہندوستانی شاہی ریاست کے طور پر قلات کی ریاست سے متعلق ایک اہم معاملہ قلات اور برطانیہ کی حکومتوں کے مابین پٹے پر حاصل کی گئی زمین کے معاہدوں کا بھی تھا۔ حکومت ہند نے قلات سے 1833 میں کوئٹہ، 1903 میں نوشکی اور 1903 میں ناصر آباد کے علاقے اجارے پر حاصل کیے تھے۔ برطانوی انخلاء کے ساتھ حکومت ہند اور شاہی ریاستوں کے مابین ہونے والے تمام معاہدے بھی ختم ہو جانے تھے۔ ڈاکٹر بنگش کے مطابق،”قلات کو آزاد ریاست تسلیم کرنے پر حکومت پاکستان کا ضمیر مکمل طور پر مطمئن تھا، حکومت پاکستان اس امر سے بخوبی آگاہ تھی کہ برطانیہ اور ہندوستان میں سے کوئی بھی قلات کو ایک علیحدہ مملکت تسلیم نہیں کرے گا۔ اس لیے (قلات کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا) محض ایک مراسلہ کسی طرح نقصان دہ ثابت نہیں ہو گا۔ تزویراتی طور پر اس قدر اہم محل وقوع کا حامل ہونے کی وجہ سے کوئٹہ اور پٹے پر دیئے گئے دیگر علاقوں کوقلات کی عملدآری سے دور رکھنا پاکستان کے مفاد میں تھا’۔ قلات اور پاکستان کے مابین مراسلت میں ثالثی کے باوجود ماونٹ بیٹن نے خود اس اعلامیے پر دستخط نہیں کیے۔ اگرچہ قلات کے وفد نے برطانیہ کی جانب سے ایک آزادی ریاست تسلیم کیے جانے کی علامت کے طور پر ماونٹ بیٹن کے دستخط نہ کرنے پر بہت زیادہ ردوقدح نہیں کی، تاہم اسی حقیقت کی بناء پر 11 اگست 1947 کو ہونے والا قلات پاکستان الحاق کا اعلامیہ بے مصرف قرار دیا جا سکتا ہے۔

 

قلات اور پاکستان کے مابین بات چیت ابھی جاری تھی جب خاران اور لسبیلہ کے مقامی سرداروں نے حکومت پاکستان سے اپنی جداگانہ حیثیت تسلیم کرانے کی کوشش کر دی۔ جناح صاحب نے 1948 کے سبی دربار میں خان آف قلات کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنے کی امید پر شرکت کی، تاہم خان آف قلات اس دربار میں تشریف نہیں لائے۔ اس تحقیر سے جناح صاحب اور خان آف قلات کے مابین تعلقات مجروح ہوئے۔ اس کے جواب میں پاکستان نے خاران، لسبیلہ اور مکران کو علیحدہ ریاستوں کے طور پر تسلیم کر لیااور مارچ 1948 تک ان کی آزاد حیثیت برقرار رہنے دی۔ خاران اور لسبیلہ کے نواب ، برتری کے خواہاں خان آف قلات پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں تھے۔ پاکستان نے اس بد اعتمادی کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔

 

اس الحاق کے فوراً بعد حکومت پاکستان نے مذکورہ بالا ریاستوں میں مواصلات اور بندرگاہوں کا انتظام سنبھالنے کے لیے فوجی اور لیوی اہلکار بھجوائے۔ مارچ 1948 کے اختتام تک خان آف قلات نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کر لیا تھا۔ خان آف قلات کے ایک بھائی عبدالکریم کی شادی ایک افغان شہزادی سے ہوئی تھی۔ عبدالکریم نے افغانستان کو مرکز بنا کر وہاں سے قلات میں ایک عوامی بغاوت کو ہوا دینے کی کوشش کی، تاہم یہ بغاوت عام لوگوں کو ہتھیار اٹھانے پر آمادہ کرنے میں ناکام رہی۔ اگرچہ شہزادہ عبدالکریم کی بغاوت بہت مختصر عرصے کے لیے ہی جاری رہ سکی لیکن بلوچ قوم پرستوں کے تاریخی بیانیے میں ‘آزادی کی یہ پہلی جنگ’ دیومالائی حیثیت حاصل کر چکی ہے۔