Categories
فکشن

پستان ۔ نویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-9
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

عام طور پر جو لڑکیاں آزاد مزاج ہوتی ہیں، ان کی صفت سیمابی ہوا کرتی ہے، مگر صدر کو بہت جلد اندازہ ہوگیا تھا کہ این کی فطرت سیمابی سے زیادہ تیزابی ہے۔اس کے اندر پاگل پن کی حد تک ایک خیال رچا بسا رہا کرتا تھا کہ وہ جو کچھ حاصل کرنا چاہے کرلے۔وہ کہا کرتی تھی کہ دنیا اس کمرے کی طرح ہے، جس میں ہمیں بند کرکے لاک کردیا گیا ہے، اس لیے رونے دھونے سے بہتر ہے کہ ہم اپنی ضرورت اور پسند کی چیزیں حاصل کریں یا چھین لیں۔اس کے نزدیک چوروں، لفنگوں، بدمعاشوں اور اٹھائی گیروں میں بس اتنی خرابی تھی کہ وہ پسند اور ضرورت کے پیمانوں کو حد سے زیادہ بڑا کرلیتے ہیں۔لیکن ایسا بھی نہیں تھا کہ انسان جو چاہے اسے حاصل کرنے کے لیے منہ دیکھتا رہے۔وہ صدر کے ذہن پر ایک ڈراؤنی رات کی طرح حاوی ہوتی جارہی تھی، جس کی وحشت سے نکل پانا بہت آسان کام نہ تھا۔اس نے خود صدر سے کئی بار کہا تھا کہ وہ ایک آسیب ہے، جس کا سایہ رات کے ان لمحوں میں بھی بھٹکتا رہتا ہے، جب وہ خود نیند میں ہوا کرتی ہے۔وہ جنسی عمل کے دوران اپنے بال کھول کر جھوما کرتی تھی، اسے اس ہیجانی رقص کا جیسے جنون سا تھا، صدر کے لیے اپنی شہوت کے گھوڑوں کو گھسیٹ کر اس آڑھی اور سفید لکیر تک لے جانا ضروری سا تھا، جہاں این خود تڑ سے اس کے بدن پر کسی کچے پھل کی طرح گر پڑے۔این کے شوق بڑے عجیب تھے، ہوش کے عالم میں صدر جب ان باتوں کے حوالے سے سوچتا تو اسے بڑی کراہت ہوا کرتی تھی، وہ کئی بار اپنے بدن اور منہ کو رگڑ رگڑ کر صاف کیا کرتا تھا، مگر این کے چہرے پر کبھی بھی ان حرکتوں کی وجہ سے ندامت اور تاسف کا شمہ بھی دکھائی نہ دیتا تھا۔مگر رفتہ رفتہ صدر اس کا عادی ہوتا جارہا تھا۔اس کی ان عجیب حرکتوں کا جن سے وہ عالم خرد میں بھاگتا تھا، مگر اب عالم خرد کے وقفے خود اس کی زندگی میں بہت کم رہ گئے تھے۔اس کا دماغ ماؤف ہوتا جارہا تھا اور وہاں بس این کی حکمرانی قائم ہورہی تھی۔جیسے شہروں کے شہر، بسیتوں کی بستیاں اجاڑتا، خاک و خون کرتا ہوا کوئی لشکر اپنی اشتہا اور گرسنگی کو ہوا دیتا، ایک نئی زمین اور مملکت کا لال نقشہ تیار کررہا ہو۔این بھی اسی طرح اس کے حواس پر چھارہی تھی، اس کی جنسی ترنگ کا نہ کوئی طے شدہ وقت تھا، نہ اندازہ۔ وہ کہتی تھی کہ موت اور جنس کا وقت معین ہو تو ان کا مزہ ہی خراب ہوجاتا ہے، یہ دونوں مختلف قسم کے ایڈونچر کی طرح ہم پر ہر وقت سوار رہنے چاہیے، اس لیے رسک لینے، اور خطرہ اٹھانے سے باز آ جانا عقلمندوں کا شیوہ نہیں ہے۔موت، کنہی حالات میں بھی ممکن ہے اور جنس کنہی حالات میں بھی دلچسپ، اس لیے سب طرح کے حالات کا کم از کم ایک دفعہ جائزہ لینا ضروری ہے، صدر آرٹ کی حد تک تو اس بات کا قائل تھا، مگر زندگی میں خطرے اٹھانے اور ایڈونچر کی طرح اس گیند کو مختلف طریقوں سے اچھالنے کی ا س میں ہمت نہ تھی۔وہ گیند چھوٹ جانے سے ڈرتا تھا، جبکہ این کے ماتھے پر شکن تک نہ آتی۔وہ کھانا کھاتے کے عین درمیان، جب نوالے کی کرچیاں، اس کے داڑھ کی اوبڑ کھابڑ درازوں میں کھچا کھچ بھری ہوتیں، زبان اور تالو میں رال سے گتھے ہوئے گیہوں کی بواور سالن کی مہک جھمک رہی ہوتی، صدر کے ہونٹوں پر منہ رکھ کر اسے ہلکے ہلکے گلابی پرتوں کی ہتھیلیوں سے کترنے لگتی۔ان دونوں کے منہ کی مختلف بو، ذرات اور گاڑھا لعاب وصل کے اس انتہائی لمحے میں ایک دوسرے سے الجھ پڑتے اور آوااز کے ہلکے اجالے، ہچکیوں کے دھندلکوں میں ڈوبنے لگتے۔وہ جنگل میں پھیلی ہوئی کسی آگ کی طرح دستر خوان پر ہی بچھ جایا کرتی، وہ صدر کے چہرے کو اپنی گرم سانسوں اور چپچپے لعاب میں بھگا دیتی، بکھرے ہوئے دانوں اور چھچھلتی ہوئی ہواؤں کے درمیان وہ صدر کا لباس اتار کر اس کی شرمگاہ کو اپنے سینے کا ستون بنالیا کرتی اور ہانپتی ہوئی دھاروں کے درمیان اس کی ننگی امنگوں کو بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتی۔وہ صدر کو اس جنسی مملکت میں حکم دینے کی عادی ہوتی جارہی تھی، اتنی کہ اگر کبھی صدر مدہوشی کے عالم میں کوئی بات ماننے میں دیر کردیتا تو وہ اس کا بدن نوچنے لگتی یا پھر عین جوش کے لمحوں میں الگ ہوکر کھڑی ہوجاتی، اسے گالیاں بکتی اور باہر نکل جانے کے لیے کہتی۔ ایک دفعہ رات میں اس نے صدر کو کوریڈور میں ننگا نکال کر دروازہ بند کردیا۔انجان جگہ پر اسے اپنی عریانی کی اتنی فکر نہ تھی، جس قدر سن سن کرتی ہوئی ہواؤں سے لڑنے کے پست حوصلوں کا اندازہ تھا، وہ دروازہ پیٹتا، منتیں سماجتیں کرتا اور بعض اوقات رودیا کرتا۔رو دینا، این کے سامنے ایک آخری اور فائنل دھمکی کی طرح ہمیشہ کار گر ثابت رہتا۔صدرکا اصل مقصد دراصل اس وقت چنگھاڑتی ہوئی جنسی تشنگی کو رام کرنا ہوتا تھا۔پتہ نہیں کیوں مگر خود ایسے لمحات میں اسے این کے سامنے گڑگڑانے اور رونے میں لطف آیا کرتا تھا، این نے ایک دفعہ اس سے اپنے پاؤں تک زبان سے چٹوائے، تلووں پر ناک رگڑوائی اور قہقہہ لگاتے ہوئے، اس کے گالوں پر کئی تھپڑ بھی رسید کیے۔دیکھنے میں یہ سارے مناظر ایسے معلوم ہوا کرتے، جیسے کوئی نہایت مظلوم شخص، دنیا کی سب سے ظالم عورت کے سامنے اپنی عزت نفس کو بٹے سے کچل کر، ٹشو پیپر میں رکھ کر پیش کررہا ہو، مگر ایسا نہ تھا، یہ تمام باتیں اصل میں اسی جذبہ جنسی کی نمائندہ ترین صورتیں تھیں، جن میں بدن کے حرکی تیشے، شہروں میں پٹے پڑے سرد جذبات کی برفانی سلیوں پر ضرب لگاتے تھے اور اس میں صدر کو بہت مزہ آتا تھا۔ایسا ہر رات نہ ہوتا، مگر صدر کو محسوس ہوا کہ جب بھی یہ ہوتا، وہ اگلے دن بہت اچھی اور آرٹ سے چھلکتی ہوئی ایک تصویر بنایا کرتا تھا۔یہ سب بالکل غیر عقلی معلوم ہوتا تھا، مگر جذباتی طور پر واقعی یہ نہایت شاندار اور کامیاب تجربے کی صورت میں اجاگر ہوتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ اسی طرح کبھی نہایت تیز گرم پانی میں نہاتے ہوئے، کبھی مختلف قسم کے مہکتے ہوئے تیلوں کا لباس پہن کر، چکنی جلدوں کو تھامتے، انہیں چاٹتے اور حلق میں اتارتے ہوئے رات اور دن ہانپ اور بھانپ کے کھیل میں مصروف رہا کرتے۔دنیا کے سارے کام چھوٹ گئے تھے، بس ایک کام تھا، جس نے تنہائیوں کا سارا عرق نکال کر ان دونوں کے ماتھوں پر سجادیا تھا۔

 

ایک روز این صدر کو ڈوبتی ہوئی شام کے موقع پر ہوٹل کے چھت پر لے گئی، کچھ وقت پہلے برسات ہوئی تھی اور ٹھنڈی ہوائیں معلوم ہوتا تھا گرم کوٹ کے آرپار ہوئی جارہی ہیں، حالانکہ صدر نے دستانے اور موزے دونوں پہن رکھے تھے، مگر سردی کی شدت سے اس کی ناک لال ہوگئی تھی اور آنکھیں بار بار بھیگ جاتی تھیں۔این نے صدر کو ایک کھجور سے بٹا ہوا پلنگ دکھایا، یہ لکڑی کے چوپایوں پر کھجور کی موٹی، سخت اور چبھنے والی رسیوں سے بٹی گئی ایک کھاٹ تھی، جسے سردی کے موسم کے لیے خاص طور پر این کے والد کو ان کے کسی دوست نے تحفے کے طور پر پیش کیا تھا۔ساتھ میں زعفران سے بھرا ایک گدا بھی دیا گیا تھا، جس کا یہاں کوئی اتا پتا نہ تھا۔این نے دروازہ بند کیا اور اپنے کپڑے اتارنے لگی، صدر کچھ کہتا، اس سے پہلے اس نے عالم عریانی میں اس کے ہونٹوں پر اپنی زبان پھیر کر اسے خاموش رہنے کا حکم دیا۔این چاہتی تھی کہ اس سرد رات میں وہ دونوں اس چبھتے ہوئے کھجور کے پلنگ پر بے لباسی کے عالم میں ایک یادگار رات گزاریں۔صدر کہنا چاہتا تھا کہ اتنی سردی میں اس کے دل و دماغ پر بھی دھند جم سکتی ہے، بدن سن ہوسکتے ہیں، زہریلی ہوائیں ہڈیاں اکڑا سکتی ہیں، مگر وہ این کو جانتا تھا۔وہ کسی حال ماننے والی نہ تھی، چار و ناچار اسے کانٹوں بھرے اس بستر کی زینت بننا پڑا۔وہاس عذاب میں اس کی برابر کی شریک تھی، اورپھر دونوں ایک دوسرے کے بدن پر جلتی ہوئی رسیوں کے تازیانے برسارہے تھے، ہوائیں اس دہکتی ہوئی دیگچی میں ان کو چمکتے ہوئے گوشت اور کھنکھتی ہوئی ہڈیوں کی طرح خوب ابال رہی تھیں۔چند ہی منٹوں میں ان دونوں کے گھٹنے بری طرح اکڑ چکے تھے، کھاٹ کی سائز صدر سے کافی چھوٹی تھی، اس لیے جب اس کے سمٹے ہوئے پیروں کو این نے اپنی رانوں کے زور سے نیچے دھکیلا تو اس کی چیخ نکل گئی۔وہ کپکپاتے، کانپتے ہوئے، ایک دوسرے کے بدن کو ڈھال بنانے کی کوشش میں ہلکے ہلکے گرم ہورہے تھے، مگر ہواؤں کی تاب، ان کی ننھی کوششوں سے زیادہ کارگر تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ جنسی عمل پورا ہونے سے کافی پہلے، ان دونوں پر غشی چھانے لگی، این کو دھندھلاتی ہوئی نگاہوں سے اپنی پھڑپھڑاتی ہوئی پینٹ نظر آرہی تھی، جو اس وقت ٹین کے ایک باسی ٹکڑے پر پڑی،کہیں دور جاگرنے کے لیے بے صبر ہوئی جارہی تھی، اور اس کے بعد گرجتی ہوئی سخت سرد اور دبیز چادر نے نہ جانے کب اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔اس کے پورے بدن میں چیونٹیاں رینگنے لگیں۔ادھر صدر کا بلڈ پریشر اتنا ہائی ہوگیا تھا کہ کانوں کی لویں گویا آگ کی لپٹوں میں تبدیل ہوگئی تھیں۔اسے محسوس ہورہا تھا، جیسے وہ کسی لبلبی مگر نہایت گرم تختی پر سجا ہوا کوئی پکوان ہے، جو ہوا میں اڑتا جارہا ہے، نہ جانے کس سمت مگر یہ سرمئی خلا، بڑھتا ہی گیا، دل دھڑکنے کے بجائے دھڑ دھڑ کرنے لگا اور عافیت اسی میں تھی کہ آنکھیں بند کرلی جائیں، مگر وہ تو بند ہوگئی تھیں، یا شاید دو سفید کناروں کے بیچ پھنسی ہوئی ایک کالی گوٹ برف کی سنسان اور اتھاہ تہوں پر سجے ہوئے کسی گول اور سیاہ جزیرے کی طرح جمی ہوئی نظر آتی تھی۔ نظر آتی تھی، مگر کس کو۔۔۔یہ نہ معلوم ہوا۔۔۔۔

 

این جانتی تھی کہ رات کو جو کچھ بھی ہوا وہ بہت الگ اور عجیب تھا، مگر کیا وہ کل رات ہی ہوا تھا، اسے بیتے ہوئے تو کافی وقت گزر چکا تھا۔کئی دن یا شاید کچھ مہینے۔نہ جانے کتنے یگوں تک وہ اپنے بستر پر ہڈیوں کے پگھلنے کا انتظار کرتی رہی تھی۔مگر وہ جو کچھ بھی تھا، اس نے موت کو کس قدر قریب کردیا تھا، بس جیسے سرد موت، جنس کے لفافے میں چھپی ہوئی اس کی مٹھی تک آگئی تھی، تو پھر اس نے مٹھی بند کیوں نہیں کی؟ اس نے موت کو جانے کیوں دیا؟صدر کہاں تھا۔کیا وہ مرگیا تھا؟کہیں دور سے ستار کی دھن بجتی ہوئی سنائی دے رہی تھی۔کیا وہ ہسپتال میں تھی، مگر ہسپتال کے نزدیک موسیقی کی لہریں کہاں سے آسکتی ہیں۔ہسپتال تو قبرستان کی نمائندگی کرنے والی خاموش دنیا ہے، جہاں موت اپنی اونگھ میں کسی قسم کا خلل پسند نہیں فرماتی۔اس نے ہلکے اجالے میں ہچکولے کھاتے ہوئے کیلنڈر کو دیکھا، واقعی بہت وقت بیت گیا تھا، شاید بارہ، تیرہ دن۔پھر اسے اپنے والد سے آخر معلوم ہی ہوگیا کہ اس گہری اور سرد نیند کے وقفے کے دس گیارہ گھنٹوں بعد، ٹھٹھرتی دوپہری میں کسی ویٹر نے ان دونوں کو ٹیرس پر، ایک دوسرے کے جسم پر ننگ دھڑنگ حالت میں پایا تھا، ان کے ہونٹ خون کی بے حد ہلکی رفتار کی وجہ سے دھیمے اودے ہورہے تھے۔پریس والوں نے اس معاملے میں کافی شور مچایا تھا۔ابھی دو دن پہلے صدر کی طبیعت جب سنبھلی تو اس کے والد نے اسے نہایت سخت برا بھلا کہہ کر راتوں رات، اس کے شہر واپس بھجوادیا تھا۔جہاں ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں سڑتی ہوئی، بغیر کسی مستقبل کا نقشہ تیار کرتی عجیب سی زندگی اس کی منتظر تھی۔۔باپ نے اسے یہ نہیں بتایا کہ اس نے اپنے ویٹرز کے ساتھ مل کر اس یقین کے ساتھ صدر کی اچھی خاصی پٹائی بھی کروائی تھی، کہ اس کی بیٹی کو ایسا واہیات آئیڈیا اسی نے دیا ہوگا۔وہ اسے ایک جنسی و ذہنی مریض بک رہا تھا اور اپنی بیٹی سے بار بار ہمدردی ظاہر کررہا تھا۔این کے پاؤں میں مزید کچھ دنوں تک سوجن رہی، مگر جب وہ چلنے پھرنے کے لائق ہوئی تو اس نے ایک ویٹر کی مدد سے صدر کے گھر کا پتہ نکلوالیا اور اس کے شہر کو روانہ ہوگئی۔وہ سوچ رہی تھی کہ شاید اس کا باپ، صدر سے اچھی طرح پیش نہیں آیا ہوگا، جب کہ وہ خود اس معاملے میں ایک وکٹم کی سی حیثیت رکھتا تھا۔این کے خیال میں اس کا صدر سے ملنا نہایت ضروری تھا۔وہ بغیر یہ جانے، بوجھے اس کی گلیوں کی طرف بڑھتی چلی جارہی تھی کہ پتہ نہیں وہ شخص، جس کو اس نے عین سرد رات میں مرنے کے لیے بدن کی ٹھنڈی دعوت میں شریک کیا تھا،اس کے ساتھ کیسا سلوک کرسکتا ہے۔
(جاری ہے)
Categories
فکشن

پستان۔ آٹھویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-8
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

این گاڑی میں تھی، مگر ابھی تک ہوائی جہاز کی وہ ژووووں ں ں کرتی ہوئی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ وہ ہوائی سفر پسند نہیں کیا کرتی تھی۔ باہر تیز برسات ہو رہی تھی۔ طویل راستہ تھا تو اس کے پاس سوائے موسیقی سننے اور دھیمے ٹریفک میں رینگتی ہوئی گاڑی کے درمیان یادوں کے ساتھ اٹکھیلیاں کرنے کے، کوئی دوسرا کام نہ تھا۔ اس نے ایک لمبی سانس بھری اور اس کے گول سینے کی ابلتی ہوئی ہانڈی میں دو خاموش طبع لوگوں کی یادیں گڑگڑانے لگیں۔وہ آنکھیں، وہ خوبصورت آنکھیں، جن سے بچھڑے ہوئے اسے قریب ڈیڑھ سال ہوگیا تھا۔ اس عرصے میں اس نے ہر دن ان آنکھوں کو بہت یاد کیا تھا، آخر کیا تھا ان آنکھوں میں جو صدمے کی طرح رہ رہ کر اس کے شانوں کو دباتا ہوا محسوس کرتا۔ راتوں میں جب وہ تکیے کے ساتھ لپٹ کر سو رہی ہوتی تو اس کی تنگ تاریک عریانی میں وہ آنکھیں دھڑکتی ہوئی آن پہنچتیں۔ اور اپنی پلکیں پھیلا کر اس کا پورا وجود خود میں گھول لیتیں، ملا لیتی۔ وہ رات بھر انہی آنکھوں کی تجوری میں کسی گرم خزانے کی طرح ہانپتی رہتی۔

 

این جب صدر سے بچھڑی تھی تو وہ وجہ اس قدر معمولی تھی کہ کوئی سوچ بھی نہ سکے۔ لیکن ان کا ملنا ایک عالیشان محل کے پھاٹک کی طرح ہمیشہ شاندار اور جاذب نظر معلوم ہوتا تھا۔ جسے جب بھی دیکھو، کتنی بھی دور سے، کتنی بھی ظلمت یا کیسی بھی روشنی میں، وہ خوبصورت ہی معلوم ہوتا تھا۔ وہ چقماق جیسی آنکھیں جو این کے سینے سے رگڑ کھاتے ہی سرخ ہونے لگتیں، خمار کی گرم اداسیوں اور محرومیوں کی کائیوں سے اٹی ہوئی۔ وہ نیلی، کالی، سرخ اور سبز آنکھیں۔ بہت سے رنگ بدلتی تھیں۔ این نے اس عرصے میں ہر دفعہ یہی سوچا تھا کہ وہ پلٹ کر صدر کے پاس نہیں جائے گی۔مگر اس کے جسم کی بو اور اس کے ذہن کے اتہاس کا یاتری بار بار رات کی ٹرین کو آنکھوں کے اسی سنسنان سٹیشن پر موڑ لاتا تھا اور وہ رات بھر ان آنکھوں کی پٹریوں، بنچوں، سیڑھیوں اور ریلنگ پر بیٹھ کر سوچا کرتی کہ کیا اسے واقعی واپس جانا چاہیے۔ صدر اس سے ملنے سے پہلے شاید یہی سمجھتا رہا ہوگا کہ وہ دنیا کا سب سے عجیب اور آزاد انسان ہے، مگر این نے اس کی طبیعت کی ساری تیزی اور انا کی ساری کراری ختم کردی تھی۔ وہ راتوں میں اس کے ایک بوسے کے لیے بھکاریوں کی طرح گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ کر اسے خود کے نزدیک آنے کے لیے منتیں کرتا رہتا اور این اپنے آپ کو اس منظر سے تسکین پہنچایا کرتی۔ اسے محسوس ہوتا کہ وہ شخص جو خود کو ذہانت کا پتلا سمجھتا ہے، اپنے برش سے عورتوں کے جسم کے ایسے باریک ریشوں اور دھبوں اور رنگوں کو نمایاں کرتا ہے کہ خود عورت کا آئنہ بھی اس پر اتنی صفائی کے ساتھ خود کو روشن نہ کرسکے۔ کیسے اس کے لیے ماہی بے آب بنا ہوا تڑپ رہا ہے۔ یہ روز ہوتا تھا۔ صدر کو اب اس طلب میں اور این کو اس اذیت دہی میں لطف آنے لگا تھا۔ صدر ان دنوں شہر کی کسی سرائے میں ایک کام سے ٹھہرا ہوا تھا، جب این سے اس کی ملاقات ہوئی۔ این اس سرائے کی مالک تھی، مگر وہاں اس کا اتفاق سے ہی جانا ہوا کرتا تھا، کیونکہ اس کا بوڑھا باپ ساری ذمہ داری اٹھائے تھا۔وہ کسی صورت این کا باپ معلوم نہ ہوتا تھا۔ چہرے پر جھریوں کا ایسا جال تھا، جیسے لگتا ہوکسی پھوہڑ عورت نے آٹا گوندھنے کی کوشش کی ہو۔ اکثر و بیشتر جب وہ کاؤنٹر پر کھڑا ہوکر اپنے گلے کی لٹکتی ہوئی کھال کو چٹکیوں میں بھر کر کالر میں ڈالا کرتا تو دیکھنے والے جھرجھری لیتے۔ مگر وہ چکنی اور بلاگوشت کی جھولتی ہوئی کھال بار بار پھسل کر باہر آجایا کرتی۔ اس کے بائیں ہاتھ میں رعشہ تھا۔ صدر نے ایک دفعہ این سے پوچھا بھی کہ آخر تمہارا باپ اس قدر بوڑھا کیوں ہے، تو این نے بتایا کہ اس کے باپ نے پچاس سال کی عمر میں شادی کی تھی اور قریب ساٹھ سال کی عمر میں وہ پیدا ہوئی تھی، اس کی ماں ڈلیوری کے وقت ہی دنیا سے سدھار چکی تھی۔ بقول این وہ کافی جوان تھی، اور اگر وہ اس رات بچ جاتی تو شاید این کا باپ پچھلے سترہ اٹھارہ سالوں میں اس قدر بوڑھا نہ ہوا ہوتا۔ این اس کے مقابلے میں بہت خوبصورت تھی، ایک سال پہلے ہی اس کا سکول پورا ہوا تھا، این کو شکایت تھی کہ اس کے پستان زیادہ بڑے نہیں ہیں۔ وہ انہیں انگلیوں سے چھوا کرتی تھی، عجیب بات یہ تھی کہ سکول میں اس کا کسی کے ساتھ افیئر نہیں ہوا تھا۔ بدن پتلا دبلا تھا، بال گردن تک جھولتے ہوئے، ٹھوڑی آگے کو نکلی ہوئی اور آنکھیں بڑی بڑی، ناک البتہ کچھ موٹی تھی، مگر گالوں کے گڑھے اور چوڑے دہانے کی آمیزش نے اس کی ناک کے اس عیب کو دبا لیا تھا۔

 

اس روز صدر کسی کام سے بازار گیا تو واپسی میں اس نے اپنے کمرے کا دروازہ کھلا پایا، احتیاط سے اندر داخل ہوا تو بالکنی میں ایک لڑکی کو اپنی ایک کتاب پڑھتے ہوئے دیکھ کر چونک گیا۔ اس نے کہا:
‘معاف کیجیے گا، لگتا ہے میں کسی غلط کمرے میں گھس آیا ہوں۔’
لڑکی نے کہا:’ہیلو ! میرا نام این ہے۔ آپ کسی غلط کمرے میں نہیں آئے ہیں۔ ایکچولی یہ کتاب ہماری کنٹری میں بین ہے۔’

 

صدر کو سمجھ میں نہ آیا کہ اس کی بات کا کیا جواب دے۔اس کے منہ سے صرف اتنا نکلا۔

 

‘واقعی؟’

 

لڑکی نے آگے بڑھ کر صدر کو ایک گال پر ایک بوسہ دیا اور کہا:’فی الحال میرے پاس آپ کو دینے کے لیے دوسرا اور کچھ نہیں ہے۔اس سے کام چلائیے، میں کچھ روز میں کتاب واپس کردوں گی۔’

 

صدر دیکھ رہا تھا کہ لڑکی نے کتاب کو ایک ہاتھ سے مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے اور درمیان میں انگلی پھنسائی ہوئی ہے۔اس کے انہماک کو توڑتے ہوئے لڑکی نے ایک ہاتھ سے اسے ہلکا سا پیچھے کیا اور مسکراتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔وہ بالکنی کی اسی کرسی پر بیٹھ گیا۔ لڑکی کے دائروں کی حرارت ابھی تک کرسی پر جمی بیٹھی تھی۔ پھر وہ کچھ خیال کرکے اٹھا، اس نے لیپ ٹاپ اٹھا کر چیک کیا کہ کیا واقعی وہ کتاب اتنی اہم تھی کہ کسی ملک میں اسے بین کیا جائے۔ وہ دراصل عورتوں کے مختلف پستانوں کے متعلق ایک بہت ہی دلچسپ کتاب تھی۔ خود زیادہ وہ بھی نہ پڑھ سکا تھا، مگر اس کتاب کو لکھنے والے نے ناول اور نالج کو کچھ اس طرح سے ملادیا تھا کہ پڑھتے وقت اگر ایک طرف بہت گرماہٹ محسوس ہوتی تو دوسری طرف پستانوں کے اندرون، ان کی ساخت اور بناوٹ کے اسباب پر جو روشنی ڈالی گئی تھی، اس کی سائنسی، نفسیاتی، فلسفیانہ، تاریخی اور عمرانی وجوہات کو پڑھ پڑھ کو وہ بہت بور بھی ہوا تھا۔وہ کتاب واقعی یہاں بین تھی۔ شاید اس لیے کہ اس کا مصنف ایک ایسا شخص تھا جو پستان اور مرد کے عضو تناسل کے بارے میں دنیا بھر میں ماہر ترین شخص سمجھا جاتا تھا۔اس نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عورت اگر اپنے پستان کاٹ بھی دے، تب اس کے اندر کی پستانی صفت ختم نہیں ہوسکتی۔ قدرت کی جانب سے ہر عورت کے سینے پر یہ ایک ایسا بوجھ ہے جو جس قدر بھاری ہو، اتنا ہی ہلکا معلوم ہوتا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ کسی بھی عورت کے پستان برابر نہیں ہوا کرتے، دنیا میں شاید دو تین فی صد عورتیں ایسی ہوں گیں، جن کے پستانوں کا وزن برابر ہوگا۔ پستان اپنی ایک دنیا خود میں آباد رکھتے ہیں۔ اور ان کی غیر برابری بھی ایک قسم کی تاریخی حقیقت کی وجہ سے وجود میں آئی ہے۔ اس کے تعلق سے اس نےاپنے ناول میں بڑا عجیب و غریب لیکن دلچسپ اسطورہ بھی بیان کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ شروعات میں کچھ عورتیں ایسی بھی تھیں، جن کے پاس اپنے سارے جنسی احساسات موجود تھے، مگر ان کے پستان ابھرا نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ مردوں کی طرح سپاٹ سینہ رہا کرتی تھیں، بس جس وقت ان کا جنسی عمل کرنے کا دل چاہتا، ان کے سینے پھول جاتے اور وہ اس قدر پھولتے کہ ان کی خواہش کسی سے چھپی نہ رہ پاتی تھی۔ اس نے اس سلسلسے میں ایک بھورے بالوں والے بندر کا قصہ سنایا تھا، جس کی بیٹی کو دنیا بھر میں عفیفہ اور عزت مآب شخصیت سمجھا جاتا تھا۔کئی مرد اس کے پاس آتے، اس کے جسم کا طواف کرتے، مگر وہ ایک دائرے میں اس طرح ننگی بیٹھی رہا کرتی کہ اس کا سینہ کسی بھی پہلوان، گبرو یا باہوبلی کے لیے نہیں پھولا کرتا تھا۔ ایک رات بہت برسات ہورہی تھی، اتنی کہ اس میں بھورے بندر کو احساس ہوا کہ دائرے میں موجود کھلے آسمان کے نیچے بیٹھی اس کی بیٹی بھیگ رہی ہوگی۔وہ خود رات کے پچھلے پہر، سب سے چھپتا چھپاتا اپنی بیٹی کو لینے کے لیے بے تاب سا وہاں پہنچا اور اسے دائرے سے اٹھا کر اپنی خوابگاہ میں لے آیا، اس نے سوچا تھا کہ اگلے پہر جب برسات کا زور ہلکا سا ٹوٹے گا تو وہ بیٹی کو دوبارہ وہاں پہنچادے گا، مگربھاری برسات میں جب وہ اپنی بیٹی کو لارہا تھا، تو اس کے بالوں بھرے ہاتھوں کی رگڑ بیٹی کی ننگی پیٹھ کو ایک عجیب تسکین پہنچا رہی تھی، اس نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں، بندر کا دوسرا ہاتھ بیٹی کے کولہوں پر تھا، خوابگاہ میں لانے کے بعد جب وہ ایک چھال سے بیٹی کا بدن پونچھنے لگا تو بیٹی نے بے تابانہ آگے بڑھ کر بھورے بندر کا بوسہ لے لیا۔ وہ رات بھورے بندر کے لیے اپنی زندگی کی سب سے گہری طوفانی رات میں بدل گئی اور اس نے سسکتے ہوئے اپنی بیٹی کے سینے پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا، سانسیں جب دونوں جانب بے حد گرم ہوگئیں تو قق قق کی آواز کے ساتھ بیٹی کے منہ سے عین وصل کے درمیان خون نکلنے لگا، لیکن بندر پر اس وقت وحشت طاری تھی، جب وہ جنسی عمل سے فارغ ہوا تو اس نے دیکھا کہ اس کی بیٹی مرچکی ہے۔ احساس ندامت نے اسے اتنا جھنجھوڑا کہ وہ خود جاکر اسی دائرے میں بیٹھ گیا، بھیگتی ہوئی برسات اور ٹھٹھرتی ہوئی لہروں نے اس کے جسم کو لپیٹ لیا، اس کی عفیفہ بیٹی کی روح برسات کے چابکوں میں بدل کر اس کی پیٹھ، چہرے اور رانوں کو سڑاک سڑاک کی آوازوں کے ساتھ چھلنی کرنے لگی۔ صبح لوگوں نے دیکھا کہ بھورے بالوں والا بندر دائرے میں اوندھے منہ پڑا ہوا ہے، اوراس کی سپاٹ سینہ و عفیفہ بیٹی اس کی خواب گاہ میں خون میں نہائی ہوئی،اپنے بڑے بڑے ہوئے پھٹے ہوئے سینوں کے ساتھ رانوں کو اوپر کی جانب کیے ہوئے مردہ پڑی ہے۔اس نے اس قصے کے بعد لکھا تھا کہ پستانوں کی دیوی ‘چوچارو’ کو اس روز احساس ہوا کہ ابلا اور بھرا ہوا سینہ ہر عورت کے پاس ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی عورت کو پستانوں کی عدم موجودگی میں اس قسم کے دائروں میں بیٹھنے کی نوبت نہ آئے۔ ناول کے سرورق پر بھی ایک ایسی بے چہرہ عورت کا مردہ وجود بنایا گیا تھا، جس کا بدن خون میں ڈوبا ہوا تھا اور اس کے پستان پھٹے ہوئے تھے۔ اچانک اسے محسوس ہوا کہ کتاب کے سرورق پر بنی ہوئی مردہ لڑکی یا عورت کا جسم ‘این’ کے فیگر سے کتنا ملتا جلتا تھا۔

 

صدر نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے اپنے آپ کو واپس ہوش کی دنیا میں پلٹایا، اس نے سوچا کہ این براہ راست اس سے کتاب مانگ کر کیوں نہ لے گئی، کیا اس نے اسے پہلے کوریڈور میں کہیں دیکھا تھا یا لابی میں یا ڈائننگ روم میں۔کہیں تو دیکھا ہوگا،ا ور پھر وہ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی تھی کہ وہ کچھ روز یہاں ٹھہرے گا۔ کہیں وہ کوئی جاسوس تو نہیں تھی۔کوئی جاسوس، جو اس ملک میں صدر کو یہ کتاب لاتے ہوئے دیکھ چکا ہو اور اب اس کا مقصد کسی صورت یہ کتاب وہاں سے ہٹانا ہو۔لیکن ایک کتاب سے اس قدر خوف اس کی سمجھ میں نہ آیا، پستان تو یہاں کی عورتوں کے بھی ہیں، لڑکیوں اور ننھی بچیوں کے بھی، بلکہ خود اس جاسوس کے بھی ہیں۔کیا یہ لوگ اس پر بھی پابندی لگا سکتے ہیں۔کیا یہ پستان کے پیچھے ایک جاسوس چھوڑ سکتے ہیں۔ممکن ہے اس کتاب میں آگے چل کر کہیں کوئی ایسی بات ہو، جس کی وجہ سے اس پر پابندی لگائی گئی ہو۔وہ باہر نکل کر دیکھنے لگا کہ شاید اسے کہیں وہ لڑکی دکھائی پڑے۔ مگر وہ دور دور تک نہیں تھی۔پھر اسے یاد آیا کہ جنس تو دنیا کی ہر شے میں موجود ہے۔خودوہ تو یہی سمجھتا ہے۔وہ کچھ سوچتے سوچتے اپنے کینوس کے نزدیک گیا۔اس نے ایک بکسے سے اپنا پسندیدہ ریکارڈ رنکالا اور اس پر ایک فرانسیسی گیت بجاتے ہوئے شرٹ اتار کر تصویر بنانے میں مصروف ہوگیا۔کافی دیر بعد جب وہ وہاں سے ہٹا تو تصویر میں عورت کی شرم گاہ ایک چھوٹی، مڑے اور جھجکے، بھیگے کاغذوں کی کتاب جیسی نظر آرہی تھی، جسے میں مرد کا عضو تناسل کسی انگلی کی طرح ایک مخصوص صفحے کو روکے رکھنے کے لیے درمیان میں کہیں پھنسا ہوا تھا۔

 

وقت بیت رہا تھا، شام ہورہی تھی، اس نے کچھ بسکٹ کھائے اوراپنے بستر پر لیٹ گیا، واٹر کلر اس کے چہرے اور ماتھے پر یونہی لگا ہوا تھا، فرانسیسی گیت اس ماحول میں اداسی کی ایک ایسی بے معنی تشریح کرتا معلوم ہورہا تھا جیسے سب کچھ کہیں پیچھے چھوٹ گیا ہو۔وہ اپنی غریب الوطنی اور خود ترحمی کے ملے جلے احساسات میں ڈوبا ہوا چلا گیا، اس نے دروازہ بھیڑنے تک کی زحمت گوارہ نہ کی تھی۔صبح آنکھ کھلی تو کوئی اس کی آنکھوں کے آگے چٹکیاں بجا رہا تھا۔وہ ‘این’ تھی۔
Categories
فکشن

پستان-چوتھی قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-4
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

کبھی کبھی دل نہ چاہتا تو چھ سات گھنٹوں کے لیے کسی پارک میں جاکر خوب آرام کرتا اور واپسی میں بھائندر پل پر سے سمندر میں ساری چٹھیاں پھینک دیا کرتااور رسیدوں پر خود الٹے سیدھے دستخط کرلیا کرتا
اس وقت وہ دونوں ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہیں، صدر کچ کے پیروں کے ناخنوں میں نیل پالش لگا رہا ہے اور وہ خلا میں گھور رہی ہے۔میں اس کے چہرے کو دیکھ کر بتا سکتا ہوں کہ وہ کچھ یاد کررہی ہے۔انسان جب کسی چیز یا کسی بات کو یاد کرتا ہے تو اندھا ہو جاتا ہے، اسے بس خلا نظر آتا ہے، جس کے پردے پر ہیولے ناچتے، تھرکتے نظر آتے ہیں۔ انسان کی یادیں ذہن کے صندوق سے گھنگھروؤں کو باندھ باندھ کر نکلتی ہیں اور گھنر گھنر گاتی ہوئی، سٹیج پر آکر رقص کرتے ہوئے دائیں سے بائیں گزر جاتی ہیں، ان یادوں کی شکلیں ٹیڑھی میڑھی اور عجیب و غریب ہوا کرتی ہیں، یہ ننگی یادیں انسانی بدن کے اس مردہ اور چمکتے ہوئے ڈھانچے کی طرح ہوتی ہیں، جن کی عریانیت پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا، یہ دیکھنے میں بھی بہت حد تک ایک جیسی ہوتی ہیں، مگر انہیں ہاتھ لگا کر چھونا چاہو تو بھربھرا کرزمین پر گرپڑتی ہیں۔کچ کو بھی اس وقت کچھ ایسا یاد آرہا تھا، جسے وہ مٹا کر اپنے حساب کا منظر بنانا چاہتی تھی، ایک نیا اور بالکل اپنی پسند کا نقشہ، جس میں کسی کا عمل دخل نہ ہوتا۔اس نے صدر سے ان خیالات کو چھیڑے بغیر پوچھا
‘کیا کبھی تمہیں کسی نے تمہاری مرضی کے بغیر چھوا ہے؟’

 

صدر نے ‘ہوں ں ں’کہہ دیا اور پھر اسی انہماک کے ساتھ اس کی انگلیوں پر پھونکیں مارنے اور اپنی صفائی پر خود توصیفی انداز میں گھورنے لگا۔برابر والے کمرے سے ہلکی موسیقی کی آواز آرہی تھی، سن ساٹھ کی دہائی کا کوئی گانا بج رہا تھا، جس کی موسیقی تو سمجھ میں آرہی تھی، مگر الفاظ، ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی بہت سریلی آواز موسیقی کی لہر وں میں بہتی ہوئی چلی آرہی ہو، بے معنی اور بے مقصد۔کچ نے پھر پوچھا۔

 

‘کس نے چھوا تھا؟’

 

صدر نے ایک کُشن اٹھا کر اپنی گود میں رکھا اور صوفے پر نیم دراز ہوتے ہوئے کہنے لگا۔

 

ہوا بہت اچھی چل رہی تھی، اس بوڑھے منظر میں اپنے وجود کی گٹھری اٹھائے کچھ سوکھے ٹٹر پیڑ اپنی خمیدہ کمروں کے ساتھ دھوپ سے پناہ مانگ رہے تھے
‘لمبا قصہ ہے، اب تم سننا ہی چاہتی ہو تو سن لو، یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں کورئیر کا کام کیا کرتا تھا۔در بدرپھرنا، لوگوں کے خطوں کو پہنچانا۔ان خطوں میں سے زیادہ تر کسی کمپنی کےبل، کسی بینک کے تقاضے اور کچھ ایسے ہی دوسرے معاملات کی شکل میں میری بغل میں دبے ہوا کرتے۔ایک دفعہ میں جب نالا سوپارہ اسٹیشن اترا تو مجھے بہت دور تک،یوں سمجھ لو کہ قریب چھ یا سات میل تک پیدل چل کر جانا پڑا اور وہ بھی ایک ایسے خط کے لیے، جس کو اگر میں نہ بھی پہنچاتا تو کوئی ایسا بڑا نقصان نہ ہوتا۔ ایسا نہیں تھا کہ میں سارے خط پہنچایا ہی کرتا، کبھی کبھی دل نہ چاہتا تو چھ سات گھنٹوں کے لیے کسی پارک میں جاکر خوب آرام کرتا اور واپسی میں بھائندر پل پر سے سمندر میں ساری چٹھیاں پھینک دیا کرتااور رسیدوں پر خود الٹے سیدھے دستخط کرلیا کرتا، جس سےمیرے مالک کو یہ اندازہ ہوسکے کہ میں نے خطوط پہنچا دیے ہیں۔الغرض جب میں اس گھر پر تھکا ہارا، بھوکا پیاسا، ڈولتے ہوئے بدن اور بہتی ہوئی قمیص کے ساتھ پہنچا تو دیکھتا کیا ہوں کہ تین منزل چڑھنے کے باوجود اس گھر پر قفل لگا ہوا ہے، مجھے وہ تالا دیکھ کر بہت غصہ آیا۔مجھے ایسا لگا، جیسے میں بہت دور سے کسی چیز کو چھونے آیا تھا، مگر وہ چیز وہاں گویا تھی ہی نہیں، میں اس خط کو پھینکنا نہیں چاہتا تھا، ہاں اگر میں نے اس کے لیے اتنی محنت نہ کی ہوتی تو شاید مجھے اسے پھاڑ دینے یا پھینک دینے کا کوئی افسوس نہ ہوتا، مگر ایسی تگ و دو کے بعد ؟ بہرحال میں کچھ دیر کے لیے وہیں ایک پائری پر بیٹھ گیا، سیڑھیوں کی جانب بنی ہوئی اس پائری سے باہر دور دور تک کا منظر دکھائی دے رہا تھا، یہ ایک طرح کی دکھائی دینے والی بہت سی بلڈنگوں میں سے ایک بلڈنگ تھی، جو کہ بالکل کنارے پر آباد تھی، اب ان تمام بلڈنگوں کی تعداد تو مجھے ٹھیک طور پر یاد نہیں، البتہ اتنا کہہ سکتا ہوں کہ بیس ، بائیس تو ہوں گی ہی یا شاید تھوڑی بہت زیادہ یا کم۔باہر دور دور تک بنجر میدان تھا، لیکن ہوا بہت اچھی چل رہی تھی، اس بوڑھے منظر میں اپنے وجود کی گٹھری اٹھائے کچھ سوکھے ٹٹر پیڑ اپنی خمیدہ کمروں کے ساتھ دھوپ سے پناہ مانگ رہے تھے، مگر مجھے دھوپ نہیں لگ رہی تھی، اوپر والی پائری نے اس خوبصورتی سے مجھ پر سایہ کیا ہوا تھا کہ منظر کی پیلاہٹ میری آنکھوں میں چبھن نہیں پیدا کرسکی اور میری تھکے ہوئے بازوؤں اور ٹانگوں کو ایسا لگ رہا تھا، جیسے ہوائیں انہیں ہلکے ہلکے دبارہی ہوں۔میں نے کچھ دیر بعد گھڑی پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ پون گھنٹہ بیت چکا ہے، اب میں جلدی جلدی نیچے اترنے لگا، لیکن ایک منزل اترتے ہی میں نے دیکھا کہ ایک خونخوار کتا اپنی پھولتی پچکتی پسلیوں میں اپنے دھار دار دانتوں کو چھپائے سورہا تھا، میری ہمت نہ ہوئی کہ اس کی بغل سے نکل جاوں۔میں نے سوچا کہ اوپر کی منزل سے کسی کو بلا لوں، مگر تیسری منزل پر تالا لگا ہوا تھا اور دوسری پر میں جا نہیں سکتا تھا۔ اس لیے میں نے ارادہ کیا کہ مجھے چوتھی منزل کو بھی ایک دفعہ دیکھ لینا چاہیے،میں وہاں پہنچا تو یہ دیکھ کر میری جان میں جان آئی کہ دروازے پر تالا نہیں لگا تھا، میری عمر اس وقت سولہ سترہ سال تھی،مجھے پوری امید تھی کہ کوئی نہ کوئی باہر نکلے گا اور میری فریاد پر مجھے زینہ پار کروادے گا۔میں ذرا اور اوپر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک جالی دار دروازہ تھا، جس پر جھلی دار پردہ پڑا ہوا تھا، اس پردے کے اڑنے سے یہ معلوم ہورہا تھا کہ گھر میں ضرور کوئی ہے، کیونکہ اصل لکڑی کا دروازہ بند نہیں تھا، میں نے آگے بڑھ کر دروازہ کھٹکھٹایاکیونکہ اس وقت دیوار پر کوئی گھنٹی نظر نہ آئی۔جب پندرہ بیس منٹ تک کھڑے رہنےکے باوجود کوئی نہ آیا تو مجھے تشویش ہوئی، شام گھر چلی تھی اور اب مجھے واپس بھی جانا تھا، میں نے ہیبت میں چار پانچ بار زور سے دروازے کو قریب قریب پیٹ ڈالا۔ایک وقفے کے بعد چھن چھن کرتی ہوئی آواز سنائی دی، پردے کے پیچھے سے کوئی سایہ سا سرسراتا ہوا نکلا اور دروازہ چررکی آواز کے ساتھ کھلتا چلا گیا۔

 

عجیب بات یہ تھی کہ اس کی آواز اس کی خوبصورت شکل و شباہت کا بالکل ساتھ دیتی ہوئی معلوم نہیں ہورہی تھی، ایسا لگتا تھا کہ کسی خوبصورت ایکٹرس کی ڈبنگ کسی تھرڈ کلاس ڈرامہ آرٹسٹ سے کروادی گئی ہو
وہ عورت عمر کے لحاظ سے تیس بتیس برس کی معلوم ہورہی تھی، اس کے بال شانوں پر بکھرے ہوئے تھے، اس نے ایک ساٹن کی ساڑی پہن رکھی تھی، جس کا بلاوز اس قدر چست تھا کہ اس کے پستان ان میں سے ابلے پڑرہے تھے۔ چوڑی پیشانی، لمبوترا چہرہ، ہلکے موٹے ہونٹ اور ان پر بہت مشاقی سے لگائی ہوئی لپ سٹک۔اس کی ساڑی کا پلو بھی جھلی دار پردے کی طرح ہوا میں لہرارہا تھا،مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس نے پیروں میں جرابیں پہن رکھی تھیں، کالی اور چمکدار رنگ کی گہری جرابیں،جو کہ سوراخ دار تھیں۔ ان کے بہت سے سوراخوں میں سے اس کی ہری رگیں اور چکنا گورا رنگ پنجوں کی ہیت کے ساتھ ان کی خوبصورتی کی بھی غمازی کررہا تھا۔اس عورت نے ایک نظر بھرپور انداز سے مجھے دیکھا، اس سے پہلے کہ میں اسے مسئلہ بتاتا، وہ قریب قریب چیختے ہوئے پوچھنے لگی کہ میں وہاں کیسے آیا، عجیب بات یہ تھی کہ اس کی آواز اس کی خوبصورت شکل و شباہت کا بالکل ساتھ دیتی ہوئی معلوم نہیں ہورہی تھی، ایسا لگتا تھا کہ کسی خوبصورت ایکٹرس کی ڈبنگ کسی تھرڈ کلاس ڈرامہ آرٹسٹ سے کروادی گئی ہو، بہرحال مجھے اتنا یاد ہے کہ کسی طرح میں نے اسے اپنا مسئلہ بتایا، اس پر اس نے ایک کھرک دار قہقہہ لگایا اور مجھے کالر سے پکڑ کر اندرلے آئی، اس نے جالی دار دروازے میں کنڈی لگالی، میں ایک چوکی پر ہکا بکا بیٹھا ہوا تھا، میرا جسم ساکت تھا، دماغ مائوف، کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے، میں نے دھیان دیا تو کمرے میں چاروں طرف دیواروں پر بہت سے نیبو اور ہری مرچیں، دھاگوں میں ٹنگی ہوئی نظر آرہی تھیں، حتیٰ کہ گھڑی کے پنڈولم سے بھی ایک ایسا ہی نیبو لٹک رہا تھا، عورت نے میرے بال پکڑے اور اپنے ہونٹوں کو میرے کانوں سے لپٹا کر چوستے ہوئے کہنے لگی۔

 

‘وہ کتا نہیں ہے، میرے مرد کی آتما ہے۔سالا سور، شام گئے آکر بیٹھ جاتا ہے، لیکن میں اسے اپنی ہڈیوں کی خوشبو تک نہیں سونگھنے دوں گی۔’

 

میں قریب قریب خوف سے بے ہوش ہونے لگا، مجھے کچھ سمجھ میں نہ آیا تو ہلکے سے گھگھیاتے ہوئے میں نے اسے ایک طرف دھکا دینا چاہا، مگر میں نے دیکھا کہ اس کی ساڑی اتر کر زمین پر آرہی تھی، اور کسی گول گول گھومتے ہوئے مگر مچھ کی طرح زمین پر پڑی پنکھے کی تیز ہوا میں چوکی کے ایک کونے سے ٹکی جھول رہی تھی، ہانپ رہی تھی۔میری سمجھ میں کچھ نہ آرہا تھا، عورت اپنی زبان سے میرا پورا چہرہ چاٹ رہی تھی، اس کے لعاب کی عجیب سی بو میرے نتھنوں میں زبردستی گھستی چلی آرہی تھی، اس نے میرا شرٹ اتار دیا تھا، اپنے ناخنوں سے، پہلے اس نے میرے سینے پر کچھ لکھا، اور میرے دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنی گردن پر رکھ دیے، اور پھر میرے کان میں ہلکے سے کہا۔

 

‘اسے دباو!’

 

مجھے اپنے بندھے ہوئے ہاتھ پاوں سے سن ہوتے ہوئے بدن اور کانٹے چبھوتی ہوئی شریانوں کے باوجود ایسا محسوس ہوا جیسے میرا پورا بدن گوشت کی دلدل میں دھنسا ہواہو، ایک نرم ، ہوا ابلتے ہوئے، گرم گوشت کی دلدل میں۔
میں جو اب تک اس منظر سے جان چھڑا کر بھاگنا چاہتا تھا، پتہ نہیں کیسے اس کے دام سحر میں اس بری طرح الجھ چکا تھا کہ سب کچھ مجھے ایک طلسمی ماحول سا لگنے لگا، میں اس عورت کے نیچے لیٹا ہوا تھا، اس نے میرے ٹراوزر کو اتار کر بھی وحشت میں کہیں دور پھینک دیا تھا،اس کی پھٹی پھٹی سانسیں اور خرخراتے ہوئے گلے سے مجھے محسوس ہورہا تھا کہ میں جیسے کسی کتیا کے ساتھ لپٹا ہوا ہوں، اسے پتہ نہیں میری کنپٹیوں سے کیا بیر تھا کہ وہ میرے کانوں کی لوئوں کو چوستی، دباتی، کاٹتی اور کان کے پچھلے حصے پر تیرتے ہوئے پسینے کو اپنے ہلکے موٹے ہونٹوں میں اتار لیتی، چھوٹی سی چوکی پر جب میرے وجود پر اس کا وجود پوری طرح سایہ نہ کرسکا تو اس نے مجھے دھکا دیا اور میں زمین پر گر گیا، پھر وہ کہیں سے دو دوپٹے لائی، اس نے پہلے میرے ہاتھ باندھے اور پھر پیر، پھر میرے عضو تناسل اور ان کے ساتھ لٹکتی ہوئی دو سیاہ گولیوں کو چھیڑنا شروع کردیا، وہ ہاتھ سے میرے اس مرکزی حصے کو چھیڑتی رہی اور پھر یکدم اس نے گولیوں کو اپنے منہ میں بھر لیا، مجھے اپنے بندھے ہوئے ہاتھ پاوں سے سن ہوتے ہوئے بدن اور کانٹے چبھوتی ہوئی شریانوں کے باوجود ایسا محسوس ہوا جیسے میرا پورا بدن گوشت کی دلدل میں دھنسا ہواہو، ایک نرم، ہوا ابلتے ہوئے، گرم گوشت کی دلدل میں۔جہاں ہر طرف اندھیرا ہے، لذت ہے اور چپچپے پانی کا احساس ہے، وہ پانی، جو پسینہ بن کر ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے ماتھے پر چھنک رہا تھا، اب میرے اندرون میں اتر رہا ہے۔پتہ نہیں کیوں، لیکن اس کیفیت میں میری آنکھیں ہلکی ہلکی بھیگنے لگیں، میں نے آنکھیں کھولیں تو اس کا چہرہ میرے چہرے پر ڈٹا ہوا تھا، اس کی لمبی گھنیری پلکیں بند تھیں اور اس نے اپنے پستان کا ایک سرا میرے منہ میں ٹھونس دیا تھا، ان پستانوں کی لذت میں ساری زندگی نہیں بھول سکتا،ایسا نہیں کہ اس سے پہلے مجھے کبھی عورت کے وجود اور اس کے لمس کا احساس نہ ہوا تھا، مگر وہ پہلی بار تھا جب کسی عورت نے مجھ پر اپنے سینے کی ابلتی ہوئی دیگ کو ظاہر کردیا تھا، مجھے اس کے پستانوں پر زبان پھیرتے وقت ایسا محسوس ہوا جیسے میں کوئی بہت نمکین اور گھلی ہوئی برف اپنے گلے میں اتار رہا ہوں، میرے بدن کے سارے تار بج رہے تھے، آنکھیں شیشہ بن کر ایک مرکز پر جم گئی تھیں، اندھیرا مزید دبیز اور گھنا ہوگیا تھا، میرے ہاتھ پاوں،قریب قریب مردہ ہوتے ہوئے بھی خون کی اچھل کود کو بدن کے چاروں کونوں میں رقص کرتا ہوا محسوس کررہے تھے۔
اب مجھے کہیں نہیں جانا تھا، ان پستانوں نے مجھے عورت کے خالق حقیقی ہونے کا احساس کرادیا تھا، میں ڈوب رہا تھا تو اس وقت انہی دو پستانوں کی مثلث نما کمانیں پکڑ کر میں بدن کے جزیرے پر واپس لوٹا۔۔۔۔۔۔۔۔ لوٹا بھی کیا، زبردستی واپس لایا گیا۔ آنکھ کھلی تو سب جانب اندھیرا تھا، میرے منہ کے اوپر اور اندر خوشبودار انسانی بالوں کا ایک ہجوم سا تھا، جب یہ ہجوم چھاٹنے کے لیے میں نے اپنے ہاتھوں کو ہلانا چاہا تو معلوم ہوا کہ وہ تو کھلے ہوئے تھے، پیر بھی ہل رہے تھے، مگر وہ دو مضبوط، تھل تھل کرتی ہوئی دو چمکدار گوری رانوں کے درمیان پھنسے تھے۔میں نے بالوں کا پردہ ذرا سا چاک کرکے دیکھا تو جالی کا وہی دروازہ کھلا ہوا تھا اور باہر ایک کتا، ہانپتے ہوئے بڑی امید اور حسرت کی نگاہوں سے اس عورت کے ننگے بدن کو مظلومیت کی انتہا کے ساتھ دیکھے جارہا تھا، یہ وہ کتا نہیں تھا، یا شاید وہی تھا، مجھے کچھ علم نہ تھا۔۔۔میرے کانوں میں بس ایک آواز آئی ۔

 

‘سوجاو!’

 

اور میں نے ان دو گول گول، بھرے ہوئے پستانوں کے بیچ میں سہم کر اپنا منہ چھپالیا،عورت کے دونوں ہاتھوں نے میرے کولہوں کو اپنی طرف گھسیٹ کر مجھے اپنے بدن کے صدر دروازے میں داخل کرلیا، اور ایک بار پھر اندھیرا چھاگیا، اس وقت پتہ نہیں وہ خط کہا ں تھا، جو میں تیسری منزل والے شخص کے لیے لایا تھا، بس اب تو چاروں اور ایک جھم جھم کرتی گوشت کی دلدل تھی، جس سے باہر نکلنے کا میرا کوئی ارادہ نہ تھا، وہ عورت اب بھی میرے کان کی لو کو، نیند میں ہلکے ہلکے چبارہی تھی، مجھے درد کا احساس تو تھا، مگر وہ درد میں اپنے دانتوں کے ذریعے اس کے پستانوں کی نوک میں انڈیلتے ہوئے ایک نئی لذت کا وظیفہ پڑھنے لگا، جس کی تاثیر ایک بھرپور ،صرصر کرتی ہوئی سیاہ نیند کی صورت میں میری آنکھوں کے سامنے موجود تھی۔

 

پتہ نہیں یہ وقت، اپنی اسی کیفیت کے ساتھ اور کتنی دیر وہاں رکا ہوگا، کیونکہ جب مجھے ہوش آیا تو میں اگلے دن کے کورئیر بانٹنے نکل کھڑا ہوا تھا، مگر اب میرا کہیں جانے کا دل نہ ہورہا تھا، اس لیے میں پارک کی جانب چل دیا۔

 

(جاری ہے)

ٰImage: Female Figure with Head of Flowers, 1937 Art Print by Salvador Dalí

Categories
فکشن

پستان – تیسری قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-3
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

اس کی ہر تصویر میں ایک بات یکساں تھی، وہ دو ملی ہوئی عمارتوں کی تصویر بنائے یا کسی خالی پھٹی ہوئی بالٹی کا عکس اتارے، اس میں پستان کا ایک عنصر، ایک جھلک ضرور موجود ہوا کرتی تھی۔
کاغذ کی ڈور پر ایک ساتھ بہت سارے پسووں نے حملہ بول دیا تھا، جیسے کسی باسی کھانے میں پھپھوند لگ جاتی ہے، اسی طرح ایک پھولی ہوئی سیاہ ہیت اپنے آپ کو سنوار رہی تھی، ابھی کچھ سمجھ میں نہ آرہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ کون سی طاقت ہے، جو ان بنتے بگڑتے خطوط کو ملا کر ایک تصویر بنا دے گی، تصویر بنانا بہت اہم عمل ہے، اس عمل سے دنیا کی بہت سی مقدس تدبیریں خوف کھاتی ہیں۔ تصویر میں زندگی ہوتی ہے، آنکھیں اور بھڑکتا ہوا بدن، اگر بنانے والا خدا ہو تو تصویر بھی دیوی کا روپ اختیار کرسکتی ہے، اور پھر سر سے پیر تک بدن کی ایک تباہ کن کیفیت کو منعکس کرنا اور وہ بھی انگلیوں کی مدد سے، یہ ایک ایسا کام ہے، جس کے لیے مشقت اور مہارت دونوں باتوں کی بے انتہا ضرورت ہے۔صدر تصویر بناتے ہوئے اکثر سانس بھی روک لیا کرتا تھا، اس کی ہر تصویر میں ایک بات یکساں تھی، وہ دو ملی ہوئی عمارتوں کی تصویر بنائے یا کسی خالی پھٹی ہوئی بالٹی کا عکس اتارے، اس میں پستان کا ایک عنصر، ایک جھلک ضرور موجود ہوا کرتی تھی۔ ایک نظر میں کبھی کبھار یہ بات بہت مشکل سے دکھائی دیتی کہ اس نے کسی تصویر میں اپنی مخصوص پستان سازی کو بھی برقرار رکھا ہے۔ عورت کے بدن کے اس اوپری حصے سے اس کی دلچسپی غیر معمولی تھی، ایک دفعہ جب اسے کسی چوہے کی تصویر بنانے کا خیال آیا تو اس نے چوہے کے پیٹ کو ایسی بھربھراتی ہوئی شکل بخشی، جس کے گہرے بھورے رنگ کے گچھے دار بالوں کو دور سے دیکھنے پر ایسا لگتا تھا، جیسے کسی پستان پر بہت سے بال اگ آئے ہوں۔۔۔۔ یہ ایک ایسی عجیب کیفیت تھی، جس سے اس کا چھٹکارا ممکن نہیں تھا۔ حالانکہ اس کے کچھ اساتذہ اسے بتا چکے تھے کہ ہندوستان کے بہت سے مصور ساری زندگی ایک ہی شکل کو متشکل کرتے رہے ہیں، کسی نے تمام عمر صرف اوم پینٹ کیا، کسی نے تا حین حیات صرف صفر کا عدد بنانے پر قناعت کی۔

 

کسی بھی تصویر کو سرسری دیکھنے والے عام طور پر وہ پیٹرن سمجھ ہی نہیں سکتے جو ایک تخلیق کار کا خاصہ ہوتی ہے، ایک مصور کا اسلوب، جس سے اس کی اپنی شناخت اپنے کینواس اور برش پر ظاہر ہوتی ہے، صدر نے پستان کے ساتھ اپنا ایک ایسا ہی تعلق بنایا تھا۔۔اور آج جب اسے ایک کولی لڑکی کے پستانوں کو تراشنا تھا تو اس نے سانسیں روک لی تھیں،اس نے کچ کا چہرہ بنایا،گردن، سڈول کمر،پیٹ کا شفاف بل کھاتا ہوا حصہ، شرم گاہ پر موجود ہلکی سیاہ دھاریاں اور ران، ان پر گھٹنوں کی دو ننھی رکابیاں، جو ہلکے پیلے بدن پر آنچ لگی ربڑی کے رنگ کی تھیں، پنڈلیاں،ان پر ڈھلتی ہوئی بوندیں، اور پانی کے ساتھ وصل کرتے ہوئے پنجے تک بنا دیے، پھر وہ چہرے پر واپس آیا، اس نے آنکھوں کے دونوں حلقوں کو بڑی احتیاط سے تراشا، جیسے پھل فروش گاہکوں کی خواہش پر تربوز کا پھانکا لگاتے ہیں۔پھر ان میں دو کانچ کے رنگ کی آنکھیں، گالوں پر ہلکے گڑھے، بالوں کی لٹوں کو عین اس کی نقل کے مطابق نقش کیا، بغلوں کا حصہ جب وہ پھیلا رہا تھا تو یہ سوچ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی، جیسے وہ کچ کی بغل میں ہلکی گدگدی کررہا ہے۔بہت دیر تک جب وہ کچ کی تصویر گری میں مصروف رہا اور بدن کے ایک ایک حصے کو جلتی ہوئی پرچھائیوں میں ڈھال چکا تب اس نے دیکھا کہ سینے پر بنے ہوئے دائرے بالکل سفید ہونقوں کی طرح، کسی آسیب کی پھٹی ہوئی آنکھوں کی مانند اسے گھور رہے ہیں، اس حصے کو بنانے سے پہلے وہ پھر ایک دفعہ کچ کے پاس آیا، کچ بڑی مشکل سے خود کو اسی پوز میں سنبھالے کھڑی تھی، صدر نے کہا:

 

“میں نے ابھی پستانوں کا حصہ نہیں بنایا ہے”

 

“کیوں؟”

 

“تصویر سے پہلے اس کے لیے مجھے تمہارے بدن پر کام کرنا ہوگا، جب یہاں پستان واقعی بن جائیں گے، تو وہاں بھی بنادوں گا۔”

 

“کیسی بات کررہے ہو صدر”اس نے منہ میں آجانے والے پانی کو پیتے ہوئے کہا۔”اس طرح تو بہت وقت لگ جائے گا۔”

 

صدر نے اس کی بغلوں پر زبان رکھ دی، وہ پانی کے بہتے ہوئے منظر میں ہانپنے ہوئے کسی کتے کی طرح اس چھوٹے سے دونے کو چاٹنے لگا۔پھر گردن تک چلا آیا،جب وہ کچ کی گردن کی کھال کو جمع کرکر کے اپنے منہ میں بھر رہا تھا، اس وقت بے اختیار کچ کا ہاتھ اس کی پیٹھ پر چلا گیا، اتنی دیر تھی کہ دوسرے ہاتھ نے بھی بغاوت کر دی، بھیگتی ہوئی رات کے اس چھوٹے سے آباد خانے میں دو بدن شرارے چھوڑنے لگے اور پانی اس جلتی، دہکتی، لاوا ابلتی ہوئی آواز کا گواہ بن گیا۔ کچ نے اپنی انگلی کو پہلے اپنی شرم گاہ میں پیوست کیا اور پھر وہاں سے اسے نکال کر صدر کی زبان پر اسے تیرانے لگی جیسے کوئی بریڈ پر جام لگایا کرتا ہے۔صدر کو کچ کی یہ بات پسند تھی کہ وہ اپنے انتہائی ہوس ناک اندرون کے جاگتے ہی آنکھیں کھول دیتی ہے۔وہ ایک نیولے کی طرح پہلے اسے پے در پے مختلف داو پیچ سے اتنا تھکا دیتی ہے کہ آخر کار وہ اس کا شکار ہوجانا ہی مناسب خیال کرتا ہے۔

 

٭٭٭

 

صدر کا جی چاہا کہ وہ اس عورت کے سینے پر رکھی ہوئی کمان کو کھینچے، اتنا کہ وہ سخت ہو جائے، اس قدر سخت کہ اس کو کہیں سے بھی چھونے پر عورت کا بدن تان چھیڑنے لگے، راگ گانے لگے اور صدر اس کمان کو کبھی ڈھیلا نہ کرے۔
صبح اس دن تھک کر چور ہوچکی تھی، اسی لیے اس نے اپنے وجود کو پھیلا کر پودوں کی پیلاہٹ، چیلوں کی اڑان، خچروں کی تھکن اور بھکاریوں کی آواز تک وسیع کردیا تھا،جب صدر کی آنکھ کھلی تو اس کی دھندلی نگاہوں نے دیکھا کہ چاروں جانب کہر کی ایک عجیب سی چادر ہے، یہ چادر ہلکے ہلکے کسی گیلے ٹشو پیپر کی طرح پھٹنے لگی اور اس میں سے ایک اور دوسرا تولیا نما منظر برآمد ہوا، جس نے اس ساری گیلاہٹ کو اپنے بدن میں جذب کرلیا تھا اور اب سب کچھ سوکھا، بے جان اور کریہہ نظر آرہا تھا، دھوپ اس قدر سخت نکلی ہوئی تھی کہ باہر کا منظر دیکھنے کا دل نہ چاہتا تھا، مگر پردے کھلے تھے اور ڈرائنگ روم کے پیٹ میں پڑی میز اور دو کرسیوں پر دھوپ بیٹھی ہوئی قہقہے لگارہی تھی، اس نے آگے بڑھ کر جلدی سے پردہ کھینچ دیا، پردہ کھینچتے ہی دھوپ تو غائب ہوگئی، لیکن ایک قسم کی دبیز گرماہٹ ابھی اس کے کولہوں کی تپن کا احساس کرارہی تھی، جیسے کوئی شخص کرسی پر اٹھ کر اپنے چوتڑوں کی بساند، بدنیت اور گرم سانسیں اس پر رکھ کر بھول جاتا ہے، پھر دھیرے دھیرے جیسے ہواوں کی کمانیں کستی ہیں، تو مناسب موقع پر اس چھون کا تیر تیزی سے کرسیوں کی پشت سے چھوٹ کر دیواریں پھاڑتا ہوا کہیں دور جانکلتا ہے۔

 

صدر کی نگاہ بھی اس وقت اس کی بنائی ہوئی ایک ایسی ہی پینٹنگ پر مرکوز تھی، جس میں اس نے کمان بنائی ہوئی تھی، یہ کمان ایک عریاں عورت اپنے سینے پر رکھے ہوئے سو رہی تھی، سونے کی کمان، جس سے ایک ربڑ نما ڈور بندھی ہوئی تھی، کمان کا سخت حصہ مرد کے عضو تناسل کی صورت میں بنایا گیا تھا، وہ عورت کے سینے پر یوں رکھا ہوا تھا، جیسے وہ کوئی یونانی دیوی ہو، جسے عضو تناسل سے محبت اور رقابت دونوں کا رشک حاصل ہو، یونان کی وہ واحد عورت، جسے پورے وقار کے ساتھ ، کسی مرد نے ایک رات اپنی شرمگاہ کا امین بنایا ہو، اور دوسرے دن وہ نوبالوں، شہہ بالوں کی بھیڑ میں کہیں کھو گیا ہو۔ عورت کے چہرے پر ایک عجیب قسم کا اضطرار تھا، جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہو، وہ خواب جو اس کے ادھورے وصل اور یونانی تہذیب میں عورت کے ساتھ کیے گئے ناروا سلوک کی سب سے کرب ناک داستان کو بیان کر رہا ہو، وہ عورت جس کے ہاتھ میں پھنسی ہوئی کمان اس اژدہے کی طرح ہو، جس پر اس عورت کا عتاب بس نازل ہونے والا ہے، زمین بس پھٹنے والی ہے اور یہ اژدر نما کمان دنیا کی باقی تمام تہذیبوں، تمام تاریخوں اور تمام ملکوں میں زمین پر اپنی تسکین کے لیے زمین پر گھسٹنے پر مجبور کردی گئی ہو۔وہ عورت جو دو دنیاوں کی مالک ہے، جس کے کھلے ہوئے ہونٹوں، دھنسی ہوئی آنکھوں اور بدن کے پھیلے ہوئے صحرا میں اس کی تسکین کا سارا سامان اس نے خود انسانی فطرت کے ہاتھوں گنوادیا ہو، اور وہ یونان کے گلی کوچوں سے لے کر مصر کے بازاروں تک گورے چٹے، ہٹے کٹے مردوں، لڑکوں کی تجارت ہوتے ہوئے دیکھ کر پیچ و تاب کھا رہی ہو۔ جب وہ انسانی صورت میں ڈھلی ہوئی اور اس نے اپنی اس ہوس کی تکمیل کے لیے کسی عام سے خوبصورت لڑکے کو اپنی جانب راغب کیا ہو تو اچانک اسے معلوم ہوا ہو کہ یہ تو پیغمبر ہے، اس نے اپنے کسی دوست کو اپنے پستانوں پر ہاتھ لگانے پر آمادہ کر لیا ہو تو اسے محسوس ہوا ہو کہ دو دنیاوں کے خدا نے اس حرکت سے تنگ آ کر اسے دوسرے درجے کا شہری بنا دیا ہو۔ وہ عورت اتنے سارے خواب یا عذاب اپنی آنکھوں میں سمیٹے ایک خوبصورت مخملیں بستر پر سو رہی تھی، اور کمان اس کے سینے پر دھری تھی۔۔۔۔صدر کا جی چاہا کہ وہ اس عورت کے سینے پر رکھی ہوئی کمان کو کھینچے، اتنا کہ وہ سخت ہو جائے، اس قدر سخت کہ اس کو کہیں سے بھی چھونے پر عورت کا بدن تان چھیڑنے لگے، راگ گانے لگے اور صدر اس کمان کو کبھی ڈھیلا نہ کرے۔

 

“تمہیں بھوک نہیں لگی؟ “کچ نے اپنے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے سنبھالتے ہوئے مچی مچی آنکھوں کے ساتھ کہا۔

 

“ہمم۔۔۔کچھ ہے نہیں ابھی، میں نیچے سے کچھ لے آتا ہوں، تم جب تک فریش ہوجاو”یہ کہہ کر وہ تصویر میں ڈٹے ہوئے

 

کچ کو یہ بات بہت بری لگتی تھی کہ لوگ زمین کو ماں کہتے ہیں۔۔۔ وہ زمین کو محبوب کے تصور میں زیادہ مناسب سمجھتی تھی، ایک منافق محبوب، جس نے اپنے اپنے سینے پر قابض قوموں کو اپنے چمکتے دمکتے وسائل سے لبھا لبھا کر ان کے ساتھ بے انتہا وصل کیے ہوں۔
انہماک کی پڑیا بنا کر اسے ایک جانب پھینکتے ہوئے باتھ روم میں گھس گیا۔کچ اٹھی، اس نے دھندلی نگاہوں کے ساتھ برش اور ٹوتھ پیسٹ ٹٹولا اور برش کرنے لگی، اس نے پنکھا تیز کیا اور پردہ کھینچ دیا، اس وقت کوئی بادل سورج کی آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا، اور پورے آسمان میں اتنا بڑا بادل دور دور تک کہیں اور دکھائی نہ دیتا تھا، کچ نے حیرانی سےآسمان کو دیکھا، وہ سورج کی بے بسی پر مسکرادی، اسے علم تھا کہ ابھی کم از کم دس بارہ منٹ تک دھوپ اس بادل کے سرکنے کا انتظار کرتی رہے گی اور اس کی تیز و دھار دار فوجیں بادل کی روئی جیسی پیٹھ پر اپنی تلواریں برسا برسا کر بے دم ہوجائیں گی، مگر پانی اور دھوئیں کو کون کاٹ سکتا ہے۔ اسے اسی لیے ان دونوں چیزوں سے بہت پیار تھا۔۔۔ وہ پانی کو ایک انسان کے طور پر دیکھتی تھی،ایک ایسا انسان جو اچھا برا، غلیظ، نمکین، ہرا، کالا، گہرا گلابی یا پھر کوئی بھی رنگ اپنے اندر سمولیتا تھا، بغیر کسی شکایت کے۔ پانی کچھ سوچتا نہیں، بس چیزوں کو قبول کرتا ہے اور دھواں؟ کہتے ہیں کہ دھواں اگر انسانی دماغ میں گھس جائے تو اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ماوف کر دیتا ہے، پھیپھڑوں میں گھس جائے تو انسان کے سینے میں اپنا سینہ پیوست کر کے اسے بھی اپنے جیسا بنا دیتا ہے، منہ کے راستے داخل ہو تو ناک کی نالیوں سے تیر کر کسی مشاق تیراک کی طرح باہر نکل آتا ہے، دھوئیں کو کتنا بھی قید کرو، وہ اپنے باہر آنے کا راستہ ڈھونڈ نکالتا ہے، بالکل عورت کی طرح۔مرد کو پانی اور عورت کو دھواں سمجھنے والی کچ اس وقت کلی کر رہی تھی، واش بیسن پر لگا ہوا نل جس وقت اس نے بند کیا، صدر سامان لینے نیچے جاچکا تھا، اب موسم میں دھوپ پھر واپس آ گئی تھی، بادل کا وہ ٹکڑا نہ جانے کہاں غائب ہو گیا تھا۔

 

اس نے ریڈیو آن کیا تو کھرکھراتی ہوئی آواز میں اینکر نے خبریں سنانی شروع کردیں۔موسم کے حال سے لے کر دنیاکے احوال تک، اپنے وطن کی برتری کی داستانیں، جیسی باقی کی کوئی زمین، زمین ہی نہ ہو، کچ کو یہ بات بہت بری لگتی تھی کہ لوگ زمین کو ماں کہتے ہیں۔۔۔ وہ زمین کو محبوب کے تصور میں زیادہ مناسب سمجھتی تھی، ایک منافق محبوب، جس نے اپنے اپنے سینے پر قابض قوموں کو اپنے چمکتے دمکتے وسائل سے لبھا لبھا کر ان کے ساتھ بے انتہا وصل کیے ہوں۔ اس طور پر دیکھا جائے تو زمین سے بڑی فاحشہ اور کون ہو گی، جس کے پستانوں سے لٹکتی ہوئی قومیں خود کو یہ باور کراتے کراتے تاریخ کی نذر ہو جاتی ہیں کہ یہ ان کی ماں کے پستان ہیں، جبکہ وہ انہی پستانوں کو کسی شرابی ڈھنڈاری، معیشت اور قسمت سے پٹے ہوئے ادھیڑ عمر کے ایک شخص کی طرح نوچتے کھسوٹتے رہتے ہیں، ان دودھ ابلتی شریانوں سے اپنا منہ بھڑا دینے کے لیے بہت سے انسانوں کا قتل بھی جائز سمجھتے ہیں۔ زمین ماں نہیں ہے، زمین ماں نہیں ہوسکتی۔۔ زمین صرف ایک عورت ہے، ایک عیار، تجربہ کار اور گھاگ عورت، جو بے انتہا حسین ہے اور اسے اپنے حسن کی قیمت کا اندازہ بہت اچھی طرح ہے۔ اتنے میں دروازہ کھل گیا اور اس کے ہاتھ سے خیالات کا تھیلا چھوٹ کر زمین پر گر گیا، خیالات منتشر ہوگئے لیکن اس نے پھر بھی زمین پر گھورتے ہوئے صدر سے پوچھا۔

 

زمین صرف ایک عورت ہے، ایک عیار، تجربہ کار اور گھاگ عورت، جو بے انتہا حسین ہے اور اسے اپنے حسن کی قیمت کا اندازہ بہت اچھی طرح ہے۔
‘وہ زمین پر تم نے کسی شاعر کا شعر سنایا تھا اس دن؟ کیا تھا وہ؟ بہت اچھا لگا تھا مجھے؟’

 

‘زمین پر تو بہت سے شعر ہیں۔’

 

‘ارے اس میں کچھ کٹاؤ وٹاؤ جیسی بات تھی۔۔۔’

 

صدر نے بریڈ کا پیکٹ کھولتے ہوئے مسکراکر جواب دیا۔’اب یاد کر لو، بار بار نہیں سناؤں گا۔ اسعد بدایونی کا شعر ہے

 

میں تو بس دیکھتا رہتا ہوں زمینوں کے کٹاؤ
آدمی سوچنے والا ہو تو پاگل ہو جائے’

 

اس نے زیر لب شعر دہرانے کی پھر کوشش کی، لیکن وہ غلط ہوگئی، میں رات بھر ان دونوں کے جاگتے ہوئے بدن کی گواہی دیتے دیتے تھک گیا تھا، اس شعر کی تکرار پر میری آنکھیں ڈوبنے لگیں اور میں اپنے وجود میں ڈوبتا چلا گیا، میں جو کمرے کے چوکور پستانوں سے انہیں دیکھتے رہنے کا عادی ہوں۔