Categories
نان فکشن

محبت کی گمراہ کن تعبیریں

محبت ایک نہایت ہی گھسا پٹا سا لفظ ہے۔ اس کا استعمال ہماری عام زندگیوں میں راشن پانی کے مسائل سے زیادہ ہوتا ہے، اس لفظ کی بہت سی تشریحات اور تعبیرات بھی ہمارے ذہنی دفتروں میں بالکل الگ پائی جاتی ہیں۔
محبت ایک نہایت ہی گھسا پٹا سا لفظ ہے۔اس کا استعمال ہماری عام زندگیوں میں راشن پانی کے مسائل سے زیادہ ہوتا ہے، اس لفظ کی بہت سی تشریحات اور تعبیرات بھی ہمارے ذہنی دفتروں میں بالکل الگ پائی جاتی ہیں۔سماجی و سیاسی سطح پر اس لفظ کے معنی ہیں، اپنے ملک، اپنی زبان، اپنی طرز زندگی اور دوسری تمام باتوں سے ایسی محبت کرنا جو دوسری تہذیبوں، ملکوں اور زبانوں کے تعلق سے نفرت، بیزاری یا ان کی کم مائیگی کا احساس بھی ساتھ ہی ساتھ پیدا کرے۔اگر ایسا نہیں ہے اور آپ کو اپنی اس محبت پر فخر نہیں ہے تو آپ سوسائٹی میں ایک ادھورے اور بے وقوف قسم کے شخص ہیں جو عام لوگوں کی رائے میں جس تھالی میں کھاتے ہوں اسی میں چھید کرنے کے بھی مجرم ہوسکتے ہیں۔گویا کسی اور ملک کی خوبصورتی کی تعریف کرنا، وہاں کے لوگوں اور وہاں کے کاروباری طریقوں، وہاں کی زبانوں اور رہن سہن کے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنا ایک ایسا ناقابل معافی جرم ہے جو آپ کو اپنے پڑوسیوں تک سے دور کرسکتا ہے۔سماجی قسم کے معاملات میں یہ چوٹ ذرا اور گہری ہوجاتی ہے اور آپ ان رسموں، رواجوں، خداوں اور منصبوں کی عزت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جو اس عظیم لفظ ‘محبت’ کے ثبوت کے طور پر ہماری سوسائٹی میں پیش کیے جاتے ہیں۔

 

یہ ایک بہت ہی عجیب و غریب بات ہے کہ نام تو ہے محبت کا لیکن اجازت ہے صرف اور صرف نفرت کرنے کی۔محبت کی دور تک نہ تو کوئی روشنی نظر آنی چاہیے ۔بعض معاملات میں سیاسی و سماجی قسم کے اصولوں کے تحت کھنچے ہوئے محبت کے دائرے سے ایک قدم باہر رکھتے ہی آپ مشکوک ہوجاتے ہیں۔اب یہ مشکوک ہونا کیا ہے۔یہ شک ہے کہ آپ ان تمام لوگوں کے ذہن میں برسوں کے بعد تیار کی گئی محبت کی ایسی عمارات کے قلعی کھول سکتے ہیں۔تو ثابت ہوا کہ ہمارے سماجوں میں کسی نئے معنی کے ساتھ کی جانے والی محبت کو یا تو برداشت نہیں کیا جاسکتا یا اگر کرنا ہی پڑ جائے تو اسے اچھا نہیں تسلیم کیا جاتا۔یعنی کہ یہ ایک ایسی برائی ہے کہ آپ اسے کرکے ایک عزت دار شخص نہیں رہ سکتے۔ لیکن اس سیاسی و سماجی قسم کی محبت کا ایک اور مسئلہ ہے، یہ صرف انسان کو لڑنا، چیخنا، چلانا اور گالیاں بکنا سکھاتی ہے۔ہاتھ پاوں ہلانے کا کام اس کے بس کا نہیں۔یہ ذمہ داریوں کے نام پر دوسروں کو کوسنے دے سکتی ہے، ان کو طرح طرح کے طعنوں اور تشنوں سے نواز سکتی ہے مگر یہ متواتر اپنے سماجوں کی خامیوں، برائیوں اور کمیوں کو نظر انداز کرنے اور برداشت کرتے رہنے کو ہی عقلمندی سمجھتی ہے، اس کے نزدیک رسموں، رواجوں، ملک اور سماجوں کی طے شدہ کھوکھلی اقدار اور برے اصولوں کو توڑنے کے متعلق بات کرنے کا مطلب ہے، دنیا کے سامنے یہ تسلیم کرنا کہ ہمارے آبا و اجداد، ہمارے سیاسی رہنما، ہمارے قدیم ترین تہذیبی تماشے ، حتیٰ کہ گھر کی بڑی بوڑھیاں بھی بے وقوف تھیں۔

 

اگر آپ کسی بحث یا کسی تنہائی میں ایسے سوالوں کے درمیان گھر گئے ہیں، جہاں آپ کا عقیدہ یا خدا کے مقرب بندوں کی بتائی ہوئی باتیں غلط ثابت ہوں تب وہاں محبت کا یہ تعویذ آپ کے بہت کام آئے گا۔
اسی طرح یہ لفظ محبت مذہبی پیرائے میں بھی بہت عام ہے۔ خدا سے محبت، اس کے پیغمبروں اور بھیجے گئے اوتاروں سے محبت۔لیکن یہ محبت مشروط ہے۔اس کا طوق گلے میں ڈالنے سے پہلے آپ کو دل و جان سے یہ قبول کرنا ہوگا کہ آپ جن خدا کے زمین پر اتارے گئے لوگوں کی باتوں پر ایمان لارہے ہیں، ان کی باتوں کو سنتے ہوئے آپ کو سمجھنے کی بالکل اجازت نہیں ہوگی۔جہاں آپ نے اسے سمجھنا شروع کیا، کھیل خراب ہوجائے گا اور آپ محبت کے اس عظیم ترین منصب سے خود بخود زمین پر پٹخ دیے جائیں گے۔اس میں کسی جواز، کسی سوال یا کسی منطق کی بالکل گنجائش نہیں ہوگی۔ یہ ایک ایسا معاہدہ ہے، جس کی رو سے آپ ان باتوں کو ماننے پرمجبور ہوں گے جن کو بار بار آپ کا دماغ تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہوگا۔
اگر آپ کسی بحث یا کسی تنہائی میں ایسے سوالوں کے درمیان گھر گئے ہیں، جہاں آپ کا عقیدہ یا خدا کے مقرب بندوں کی بتائی ہوئی باتیں غلط ثابت ہوں تب وہاں محبت کا یہ تعویذ آپ کے بہت کام آئے گا۔ اسے چومیے اوراس کے ساتھ ساتھ سوال کے بھاری پتھر کو بھی چوم کر چھوڑ دیجیے۔وجہ یہ ہے کہ آپ محبت کرتے ہیں، خدا سے۔خدا جو آپ کو پسند کرتا ہے، اس لیے اس نے آپ کو ایک ایسی قوم میں پیدا کیا، جسے وہ سب سے زیادہ پسند کرتا تھا۔ آپ کو پہلے ہی جنت کی کنجی تھمادی گئی ہے اور خدا کی محبت کے اس عظیم ترین تحفے کے ملنے کے باوجود اگر آپ ناشکری یا بغاوت کا اعلان کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ آپ کو عتاب بھی جھیلنا پڑے گا، جس کی تفصیل میں جاتے ہی آپ کے رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں اور آپ ڈر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔یعنی اس محبت میں محبت سے زیادہ ڈر کا عنصر حاوی ہے۔یہ محبت ایک اوڑھی ہوئی مصنوعی قسم کی محبت ہے،جس طرح ہاتھوں میں تھالیاں پکڑنے والا گڈا، چابی بھرنے پر خوش ہو کر انہیں تب تک بجاتا رہتا ہے، جب تک اس میں موجود پوری حرکت بالقویٰ اپنا کام مکمل نہ کرلے اسی طرح آپ کو بھی مسکراتے ہوئے اس نظام محبت پر تالی بجاتے رہنا ہے۔ غور وخوض کرنا بھی ہے تو ایک شرط کے ساتھ، کہ آپ خدا کی بتائی ہوئی، اس کے مقرب بندوں کی بتائی ہوئی انہی باتوں کو نتیجے کے طور پر پہلے سے طے کرلیں جو کہ آپ کے سامنے رکھ دی گئی ہیں، یعنی کہ تجربہ گاہ میں جانے سے پہلے آپ کو بتادیا گیا ہے کہ آپ کو صرف صابن بنانے کی اجازت ہے، اگر آپ غلطی سے اپنا دماغ استعمال کرکے صابن کی جگہ خوشبودار سفوف تیار کرلیتے ہیں تو آپ کو تجربہ گاہ میں ایک لعنتی طالب علم کی حیثیت حاصل ہو گی۔

 

تیسری محبت فرض اور ذمہ داری کا نام ہے۔یہ فرض اور ذمہ داری اگر چار لوگوں کا پیٹ بھرنے تک محدود رہے تو بات الگ ہے، لیکن آپ مجبور ہیں کہ جن والدین نے آپ کو اپنی خوشی سے بستروں پر مکمل لطف حاصل کرتے ہوئے پیدا کرنے کا ارادہ کیا تھا، ان کی اطاعت آپ پر فرض ہے۔اس اطاعت میں بہت سی چیزیں شامل ہیں، جیسے کہ آپ ان کی مرضی سے شادی کریں گے۔ان کی مرضی سے کریئر چنیں گے، ان کے حسب منشا زندگی گزاریں گے، انہی اصولوں پر چلتے ہوئے، جن پر آپ کے خاندان کو ہمیشہ سماج میں فخر و عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔اور اگر کہیں دھوکے سے آپ اس شان خاندان میں بٹہ لگانے کے مجرم یا ملزم پائے جاتے ہیں تو ماں باپ، بھائی بہن آپ کا گھر میں جینا دوبھر کردیں گے اور بہت ممکن ہے کہ اگر آپ کا باپ ایک رئیس شخص ہے تو وہ آپ کو اپنی جائیداد سے بے دخل کردے۔آپ اس محبت کا حق ادا کرتے ہوئے، ایک فرمانبردار انسان بنے رہیں تاکہ آپ کے سامنے جائداد کو کھونے، سماج میں عزت کے گم ہونے یا برادری باہر ہونے کا کوئی بھی خدشہ باقی نہ رہے۔اس طرح کی محبت ایک محبت ہی نہیں، بلکہ آپ کا فرض ہے، کیونکہ آپ کی شخصیت محض آپ کی نہیں، آپ کے گھروالوں، ماں باپ بھائی بہن، سماج ، مذہب، طے کردہ تعلیمی نظام اور باقی چھٹ بھیے اصولوں کی چھوٹی چھوٹی پراپرٹی ہے، اس لیے یہاں تابعداری بری بات نہیں، بلکہ ایک خوبی سمجھی جاتی ہے اور اس سانچے میں ڈھل ڈھلا کر ایک دن آپ ایسے انسان بن جاتے ہیں، جو اس پورے سسٹم کو قبول کرتے ہوئے، اسے جوں کا توں اپنی اولاد پر نافذ کردیتے ہیں۔

 

جب دو لوگ آپسی رضامندی سے سیکس کرتے ہیں ، رومانس کرتے ہیں تو اس میں توقعات کا دفتر نہیں کھلتا، جب کہ محبت ہے ہی توقعات کا دوسرا نام۔
محبت کا جو سب سے کھلا ڈھلا روپ ہے، وہ ہے ایک لڑکا اور لڑکی میں ہونے والی محبت۔اب اس محبت کے بھی کچھ ایسے ادھیائے ہیں، جنہیں پڑھے بغیر آپ اس میں ایک کچے کھلاڑی تسلیم کیے جائیں گے۔انسانی خواہش کا یہ سب سے بڑا مرکز ہوتا ہے، لیکن یہیں انسان کا بیڑہ بھی غرق ہوتا ہے۔اس محبت کی بہت سی اقسام ہیں۔میں اپنی ایک دوست کا واقعہ سنا کر بات شروع کرتا ہوں۔ایک شادی شدہ صاحب ہیں، جو کہ اسی دفتر میں کام کرتے ہیں، جس میں ہماری دوست ملازم ہے۔دونوں میں علیک سلیک ہوئی، بات آگے بڑھی اور پھر کافی اچھی دوستی ہوگئی۔لڑکیوں کی دوستی کو عام طور پر ہمارے یہاں ایک ‘فخریہ امتیاز ‘حاصل ہے۔ہم اس شخص کو بہت سمارٹ، سمجھدار اور قابل رشک سمجھتے ہیں، جس کی ایک سے زیادہ لڑکیوں سے بات چیت ہو، دوستیاں ہوں اور وہ دوستیاں عام چلتی پھرتی زندگی میں نظر بھی آئیں۔اسی وجہ سے ہمارے یہاں جب کوئی لڑکی، کسی لڑکے سے دوستی کرنا چاہتی ہے تو لڑکا پہلے سے یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہوتا ہے کہ لڑکی اسے دل و جان سےچاہنے لگی ہے، اس کے بغیر رہ نہیں سکتی اور اسی وجہ سے اس نے دوستی کا ہاتھ آگے بڑھایا ہے۔اسی سبب سے لڑکیوں کا عدم تحفظ اس درجے کو پہنچا ہوا ہے، جہاں وہ کسی بھی لڑکے سے دوستی یا بات کرنے سے پہلے دس بار سوچتی ہیں۔خیر، ان صاحب نے ایک رات میری دوست سے کہا کہ وہ اس سےقربت چاہتےہیں، اس نے پوچھا کہ قربت کس معنی میں؟انہوں نے کہا کہ جسمانی قربت نہیں، بس ایک دوست کے قریب ہونے کا احساس، لڑکی نے انہیں احساس دلایا کہ وہ شادی شدہ ہیں، تو انہوں نے کہا کہ کیا شادی شدہ لوگوں کی زندگی میں کسی د وست کی قربت کی ضرورت نہیں ہوسکتی، بات جس نکتے پر ختم ہوئی وہ یہ تھی کہ لڑکا ، لڑکی کو ایک دفعہ بہت دیر تک گلے لگائے رکھنا چاہتا تھا۔اس کی نظر میں لڑکی کو گلے لگانا کسی بھی قسم کی جسمانی قربت نہیں تھی، رومانس نہیں تھا، بلکہ صرف دوستی کا ایک احساس تھا۔ ایسی بہت سی تعبیریں ہماری عام زندگیوں میں محبت کے حوالے سے دیکھنے، سننے اور پڑھنے کو مل جاتی ہیں۔ظاہر ہے کہ ہمارے نصاب میں محبت کی وہ تصویریں کبھی دکھائی ہی نہیں جاتیں، جن سے ذہن یہ سمجھیں کہ اصل میں یہ جذبہ ہے کس چیز کا ہے نام۔جسمانی قربت میں کوئی برائی نہیں، لیکن اسے محبت کا نام دینا، ایک مسئلہ ہے، مسئلہ یہ ہے کہ میں خود بھی اس بات کا قائل ہوں کہ جب دو لوگ آپسی رضامندی سے سیکس کرتے ہیں، رومانس کرتے ہیں تو اس میں توقعات کا دفتر نہیں کھلتا، جب کہ محبت ہے ہی توقعات کا دوسرا نام۔یہ اس جذبے سے بالکل الگ چیز ہے، جسے ہم بستری یا جنسی عمل کہا جاتا ہے۔ستر فی صدی سے زیادہ شادیاں ہمارے یہاں جنسی عمل کے کچے پکے راستوں سے ہو کر گزرتی رہتی ہیں، جبکہ ان میں محبت یا تو بالکل کم ہوتی ہے، یا پھر ہوتی ہی نہیں۔دو لوگ ایک دوسرے پر بوجھ بنے اپنی زندگیوں کو صرف اس لیے ڈھوتے رہتے ہیں کیونکہ انہیں سماج، اولاد اور دوسرے بہت سے لوگوں کے سامنے شرمسار ہونے سے بچنا ہوتا ہے۔ان بجھے ہوئے رشتوں میں وہ راتوں کو پنڈلیوں کی رگڑ سے حرارت پیدا کرسکتے ہیں لیکن محبت نہیں۔محبت بالکل برعکس مسئلے کا نام ہے، جس میں انسان کا دماغ پورے طور پر شامل ہوتا ہے۔

 

کیونکہ محبت اقرار کے بجائے انکار سے شروع ہوتی ہے۔ان لدی پھندی زنجیروں کو اتار پھینکنے کی ہمت سے جو دوسروں نے ہم پر کس دی ہیں۔ محبت، اپنے وجود کو تسلیم کرلینے سے شروع ہوتی ہے، جہاں کسی ایک شخص کی اہمیت دوسروں سے بہت زیادہ ہوجاتی ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ محبت ایک وقت میں دو لوگوں سے نہیں ہوسکتی، مگر میں اس کی بھی حمایت نہیں کروں گا کہ محبت ایک وقت میں سو لوگوں سے ہوسکتی ہے۔محبت اداسی کو سہہ پانے کا نام ہے، محبت کسی کو اس قدر ذہن و دل پر حاوی کرنے کا نام ہے، کہ اس سے نفرت کا کسی بھی دور میں سوال ہی پیدا نہ ہو۔بلکہ جب آپ اس قسم کی محبت میں ہوتے ہیں تو آپ کو تمام دوسری چیزیں، دوسرے لوگ، دوسری باتیں سب بھلے معلوم ہوتے ہیں، دنیا میں کچھ برا نہیں لگتا، نقصان آپ کا کچھ بگاڑتا نہیں اور فائدہ آپ کا کچھ بناتا نہیں۔میں نے بہت سے لوگوں کو یہ شکایت کرتے دیکھا ہے کہ انہوں نے فلاں سے محبت کرکے غلطی کی، کبھی کوئی لڑکی یہ کہتی ہے کہ اچھا ہوا میں اس کے چنگل سے نکل آئی، کیونکہ وہ تو ایک دل پھینک لڑکا تھا، کبھی کوئی لڑکا ایک چھوٹے سے بریک اپ کے بعد نفسیاتی مرض کے حملوں کا شکار ہوکر لڑکی پر بہتان کسنے لگتا ہے، اس کا کردار ناپنے لگتا ہے۔یہ سب باتیں، محبت میں ممکن نہیں۔ہاں ان سود و زیاں، نفع و ضرر والے جذبوں میں ضرور ممکن ہیں۔ جن کو ہمارے دوست ٹھرک پن کہہ سکتے ہیں۔

 

اگر کوئی سماج کسی بھی لڑکے یا لڑکی کو محبت کرنے پر بدنام کرتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ اس میں خود کہیں نہ کہیں کوئی بڑا کھوٹ ہے۔
ایک آخری بات یہ کہ لوگوں نے اپنے طے کردہ اخلاقی شذرات میں محبت کرنے والوں کو بدنام اور رسوا سمجھ لیا ہے۔بدنامی کا مطلب ہے کوئی ایسا کام کرنا، جس سے آپ کا نام خراب ہوجائے۔محبت ایک اچھی چیز ہے۔ اس سے نام خراب نہیں ہوسکتا۔اگر کوئی سماج کسی بھی لڑکے یا لڑکی کو محبت کرنے پر بدنام کرتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ اس میں خود کہیں نہ کہیں کوئی بڑا کھوٹ ہے۔ورنہ وہ اس قسم کی سنکی باتیں کبھی نہ کرتا۔مجھے یاد ہے، میں چوتھی یا پانچویں جماعت میں رہا ہوں گا، جب ہم نے سنا کہ ہمارے سکول کی ایک ٹیچر کسی لڑکے ساتھ بھاگ گئی تھیں۔سب انہیں برا بھلا کہہ رہے تھے۔ہم تو خیر اس وقت کچھ سمجھتے نہیں تھے، لیکن اب سوچتے ہیں کہ جس معاشرے سے محبت کرنے والوں کو بھاگنا پڑتا ہے، اس معاشرے میں رہنے والے کون لوگ ہوتے ہیں۔دماغ تو آپ کے پاس بھی ہے، سوچ کر دیکھیے۔

Image: Roberlan

Categories
نقطۂ نظر

محبت اور متوسط طبقے کا المیہ

مذہبی اور ثقافتی اقدارکے ذریعے مردوں اور عورتوں میں ناروا دوری قائم رکھی جاتی ہے۔
محبت ایک بے حد پیچیدہ معاملہ ہے، خاص طور پر متوسط طبقے کے افراد کے لئے۔ ہماری سوسائٹی میں یہ ایسا طبقہ ہے جو نمائشی مگر ناقابلِ عمل اخلاقیات کا اسیر ہوتا ہے۔ اس طبقے کے لئے مذہب ایک ایسی مجبوری ہوتا ہے جسے نہ تو یہ پوری طرح اپنا سکتا ہے اور نہ ہی اسے ترک کر سکتا ہے۔ بس یوں جانئے کہ اس طبقے کے افراد اس کی دم پکڑے گھسٹتے رہتے ہیں۔

 

مذہبی اور ثقافتی اقدارکے ذریعے مردوں اور عورتوں میں ناروا دوری قائم رکھی جاتی ہے۔ اور یہی دوری عورت اور مرد کو ایک دوسرے کے لئے معمہ بنا دیتی ہے۔ اور یوں ایک دوسرے کے لئے تجسس اور کشش غیر ضروری حد تک انگیخت ہونے لگتی ہے۔ دونوں کے بیچ ایک خلا اگ آتا ہے۔ اور جب کبھی کسی بہانے سے رابطے کا موقع ملتا ہے تو وہ اس بے جا کشش کے باعث فوراً ہی ایک دوسرے پر دل و جان سے مر مٹتے ہیں۔ کئی بار یہ سانحہ صرف ایک فریق کے ساتھ ہی پیش آتا ھے جس کی وجہ سے اسے طویل عرصہ تک یکطرفہ محبت کا عذاب جھیلنا پڑتا ہے۔

 

دونوں فریق اپنے بیچ موجود خلاء کو ایک دوسرے کے تخیلاتی محاسن سے بھرنا شروع کر دیتے ہیں۔
یہ معاملہ دو طرفہ بھی ہو تو بے جا کشش انہیں ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع نہیں دیتی اور ویسے بھی سماجی پابندیوں کے باعث براہِ راست ملاقات کے مواقع کم ہی نصیب ہوتے ہیں۔ ایسے میں دونوں فریق اپنے بیچ موجود خلاء کو ایک دوسرے کے تخیلاتی محاسن سے بھرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور یوں خود کو اس یقین کا اسیر کر لیتے ہیں کہ ان کا محبوب دنیا کا نایاب ترین فرد ھے۔ اور یہی تخیلاتی محاسن جب شادی کے بعد ناپید ملتے ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ اوہو ہم جسے سونا سمجھے تھے وہ تو پیتل نکل آیا۔ اب ایسے حالات میں بھلا شادی سے پہلے کی افسانوی محبت کیونکر باقی رہ سکتی ہے جبکہ اس میں ایک دوسرے کی شخصیت کے بارے میں دھوکے اور مایوسی کا عنصر بھی شامل ہوچکا ہو۔
Categories
نقطۂ نظر

بس سے آگے ہٹ جائیے

عالمگیریت کے اسی ثقافتی سیلاب کی اسی سلسلے کی ایک کڑی کا نام ویلنٹائن ڈے ہے۔ اسے “یومِ محبت” کی مقامیت بھی بخشی جا چُکی ہے۔
تو بھائی یہ جو عالمگیریت دم سادھے بھاگتی ہی آتی جا رہی ہے، اس کے سامنے کسی طور بند باندھنا محال ہو گیا ہے۔ کیونکہ پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی پہلے ہی بہنے جو دے دیا گیا تھا اور ابھی بھی واقعاتی شہادت تو یہی ہے کہ پانی مسلسل بہنے دیا جا رہا ہے۔ اپنی ثقافت کے آثار و رسوم کی نئے وقت اور زمانے کے مطابق تزئین و آرائش نہیں کی گئی کہ وہ شرفِ عام کے حامل رہتے؛ کہ نئی نسل کو اپنے انداز و اطوار کی ثقافتی رسوم ملتی رہتیں۔ اپنی مقامی ثقافتی رسوم کو مرکزی دھارے سے دور کیا جاتا رہا۔ عجیب سی گھٹن کا چلن ہوا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک خلا سا پیدا ہوگیا۔ اور بھئی بات یہ ہے کہ ثقافتی خلا تا دیر برقرار رہ نہیں سکتے۔ عوامی ثقافت کی صارفیت طوفان کے اسباب کی سی فطرت کی حامل ہوتی ہے۔

 

عالمگیریت کے اسی ثقافتی سیلاب کی اسی سلسلے کی ایک کڑی کا نام ویلنٹائن ڈے ہے۔ اسے “یومِ محبت” کی مقامیت بھی بخشی جا چُکی ہے۔ دنیا کے کئی حصوں بالخصوص برصغیر پاک و ہند میں تو عالمگیریت کے ثقافتی سیلاب کے اس ایک مظہر کے سامنے پیشانیوں پہ پڑنے والے بَلوں سے لے کر ریاستی نوٹیفکیشنوں اور غیر ریاستی جتھوں کی ڈنڈا برداری تک ہر طور سے پُل باندھنے کی کوششیں ہوئی ہیں۔ لیکن اپنا آپ جلانے، کُڑھنے، تڑپنے اور دوسروں پہ اپنے اندر کے پکتے الاؤ کے سینک پہنچانے کا کچھ خاص اثر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

 

ہم دو ایک جُملوں میں کہیں تو یہ کہیں گے کہ اگر آپ کو اپنی ثقافت واقعتًا اتنی عزیز تھی تو اسے نئے عہد اور زمانے میں مقابلے کے لئے تیار کرنا بھی آپ کی ہی ذمے داری تھی۔ اب آپ نے اگر اس بابت نالائقی دکھائی یا سستی کی اور اب آپ اس خیال میں گُم ہیں کہ وقت کے بہتے دھارے کو روک لیں گے تو اس خیال کو ہم خیالِ خام کے علاوہ کچھ نہیں کہہ پائیں گے۔ آپ کا حال بھی اس پرانی سی پنجابی فلم کے اس تھکے ہوئے ہیرو کی طرح ہوگا جو اپنی محبوبہ کی آتی بارات کی بس کے سامنے اپنا چھوٹا سا کانپتا ہوا سینہ کھڑا ہوتا تھا۔ اونچی اور پھٹی ہوئی آواز میں چِلّاتا:

 

اگر آپ کو اپنی ثقافت واقعتًا اتنی عزیز تھی تو اسے نئے عہد اور زمانے میں مقابلے کے لئے تیار کرنا بھی آپ کی ہی ذمے داری تھی
“ایہہ شادی نہیں ہوسکدی!”

 

کچھ لمحوں بعد بس کے اندر سے کچھ بڑی بڑی مونچھوں والے نکلتے اور “اِب کے بول” نہیں کہتے تھے بلکہ دما دم مست مچھندر برپا کرتے۔ چند ہی لمحوں بعد وہ ڈائجسٹ مارکہ فلمی ہیرو اپنا رہا سہا وجود اٹھاتا، اپنے تن کا لباس سمیٹتا اور چلتا بنتا۔ اسی ہیرو کی طرح آپ جو اپنی ثقافت کے آثار و رسوم کو پہلے گُھن لگنے کے لئے چھوڑ آئے تھے اب اپنے کپڑے بچانے کی کوشش کریں، یا پھر زیادہ محنت کریں کہ آپ کے کلچر کے آثار و رسوم پھولے پُھولیں اور ہمہ گیر طور پر پُرکشش بنیں۔ اور قبولیتِ عام حاصل کریں۔

 

لہذا یہ جو آپ جدید ثقافتی طوفانوں کو اپنی کمزور چھتریوں سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اس سے دستبردار ہوجائیے، اور ہماری طرف سے یومِ محبت کے سعید لمحے یہ خوبصورت نظم پڑھ کے حظ کشید کیجئے۔ اس نظم کو لالٹین میگزین نے شائع کیا ہے۔ آپ کو بھی دعوت ہے کہ:

 

 

شاعر: لائبر فالکو ( پیرا گوائے)
مترجم: یاسر چٹھہ

 

مجھے آسمان کی جانب مختصر رستہ مِل گیا ہے
جس رستے پہ صرف میں چلا ہوں۔
لیکن آج تمُ بھی میرے ساتھ چلو گی،
تم میرے بازو کی سوار بنو گی۔
تم، لڑکی، اور میرے سب دوست،
ہم سب، بانہوں کو ہار کرکے۔
مجھے بہ جانبِ آسمان آسان رستہ مل گیا ہے۔
تمُ سب آؤ گے، ہم سب ہمجولی جائیں گے۔
ہم سب ہمجولی، بانہوں کو ہار کر کے
Categories
نقطۂ نظر

محبت کا عالمی دن

میرے لیے تو یہ دن بھی ان تمام عالمی دنوں جیسا ہے جو مختلف مواقع، جذبات، انسانوں اور جانوروں سے موسوم ہوتے ہیں۔
محبت کا عالمی دن جو سینٹ ویلنٹائن کے نام سے موسوم ہے اس کی تاریخ ماقبل و آخر اس سے تو ہمیں چنداں دلچسپی نہیں لیکن اس ایک بحث سے ضرور شغف رہتا ہے کہ آیا یہ محبت کا دن ہمیں منانا چاہیئے یا نہیں۔ میرے لیے تو یہ دن بھی ان تمام عالمی دنوں جیسا ہے جو مختلف مواقع، جذبات، انسانوں اور جانوروں سے موسوم ہوتے ہیں۔ اس دن کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ایک ایسے جذبے سے ماخوذ ہے جو ہمارے ہاں قبول عام رکھتا ہے اور وسیع پیمانے پر اپنائے جانے کے باوجود دانستہ طور پر نظرانداز ہی نہیں کیا جاتا بلکہ مطعون بھی کیا جاتا ہے۔ کچھ اس دن کے حوالے سے دورکی کڑیاں لاتے ہیں اور اسے محض معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے مغرب کا پراپیگنڈا قرار دیتے ہیں۔ کچھ مذہب پسند لوگ اس پر لعن طعن کرکے اپنی دکانداری چلاتے ہیں تو کچھ اسے تہذیب و ثقافت کے منافی خیال کرتے ہیں۔ لیکن یہ بات تو طے ہے کہ خواہ جو بھی خیالات ہوں لیکن اکثریت اس دن کو منانے کے خلاف نظر آتی ہے اور جو چند اس کے حق میں بھی ہوں تو وہ بھی کچھ معذرت خواہانہ انداز میں عجیب و غریب تاویلات دیتے نظر آتے ہیں۔ کل فیس بک کی ایک پوسٹ پر جس میں غامدی صاحب نے حیا کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے محبت کے حق میں کچھ مثبت سے دلائل دیے تھے اس پر ایک صاحب کا کھلی بےغیرتی کے اظہار کے ساتھ کڑی تنقید کرتے ہوئے غامدی صاحب کی بہن کے حوالے سے انتہائی رکیک جملے ادا کیے جو میرا قلم بھی لکھنے سے قاصر ہے۔

 

ہمارے ہاں محبت اور محبت کا عالمی دن دونوں ہی متنازعہ حیثیت کے حامل ہیں۔ وہ لوگ جو محبت کے حامی ہیں وہ بھی ویلنٹائنز ڈے کے خلاف محاذ آرا نظر آتے ہیں شاید اس کی وجہ تسمیہ جناب ویلنٹائن صاحب کا نام ہوسکتا ہے۔ مغرب سے آئی ہر(امپورٹڈ) شے ہمیں مرغوب ہے سوائے اس ایک دن کے۔ کچھ لوگ محبت کرنا چاہتے ہیں لیکن اسے وہ ایک دن کا پابند نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ روزانہ محبت کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ کے خیال میں محبت کرنے میں حرج نہیں لیکن وہ اپنے سوائے دیگر تمام کی محبت میں کی گئی “حرکات و سکنات” کو لغو اور بیہودہ قرار دیتے ہیں۔ کچھ محبت کو پاک اور ناپاک کے تصور سے جوڑتے ہوئے اس کے ڈانڈے زوجین، بہن بھائی، ماں باپ اور دیگر اہل خانہ کی محبت سے جوڑ کر اسے مشرف بہ مذہب کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے نزدیک محبت انتہائی گرا ہوا اور گھٹیا جذبہ ہے جس سے ہر صورت اپنے خاندان کی خواتین کو اس سے بچانا ان کا اولین فریضہ ہے خواہ وہ خود دن بھر اور سال کے تین سو پینسٹھ دن صنف نازک ہی نہیں اپنی صنف تک کی اسکن ٹائٹ جینز اور تیسری جنس تک کے لچکوں سے آنکھیں سینکنا اور رگ و پے میں تناو کی لہریں دوڑانا محبوب مشغلہ جانتے ہوں۔

 

بہت سارے لوگ محبت کرنا چاہتے ہیں اور اپنے لیے اسے جائز بھی خیال کرتے ہیں لیکن ان کی “روشن خیالی” یہ گوارا نہیں کر پاتی کہ ان کے اہل خانہ خصوصا خواتین محبت کر لیں، یا اگر محبت کر بھی لیں تو وہ محض پسندیدگی تک ہی ہو۔
بہت سے لوگ عمر بھر دل اور آنکھوں میں کسی حسین کی شبیہہ اور پہلو میں ان چاہی زوجہ اور درجن بھر بچے لیے گھومتے ہیں لیکن محبت کے کھلے عام اظہار کو ثقافت و روایات کے منافی خیال کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ان کے نزدیک تو محبت سے جڑے اظہار و افعال بھی شجر ممنوعہ ہیں۔ یہ لوگ اپنے بچوں پر بھی ایک عرصہ تک یہ ثابت کرنے پر تلے رہتے ہیں کہ ایک دن گھر کے آنگن میں ایستادہ درخت سے لٹکے بچے توڑ کر انھوں نے پال لیے ہیں۔ یہ کہانی اس وقت تک چلتی رہتی ہے جب تک بچے خود نہ ٹوک دیں کہ ہم میں سے کوئی معمول کے مطابق بھی پیدا ہوا تھا یا نہیں۔

 

بہت سارے لوگ محبت کرنا چاہتے ہیں اور اپنے لیے اسے جائز بھی خیال کرتے ہیں لیکن ان کی “روشن خیالی” یہ گوارا نہیں کرپاتی کہ ان کے اہل خانہ خصوصا خواتین محبت کرلیں یا اگر محبت کر بھی لیں تو وہ محض پسندیدگی تک ہی ہو۔ لو بھلا جب سب ہی صنف نازک محبت کرنے سے رک جائیں گی تو جو لڑکے اور مرد جو صنف مخالف سے محبت کرنا چاہتے ہیں۔ محبت کے لیے ہم سب نے ہی جو دوغلا رویہ اپنا رکھا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سب ہی محبت کو پسند کرتے ہیں اور اپنانا بھی چاہتے ہیں لیکن ہم سب ہی خوف کا شکار بھی رہتے ہیں۔ پہلا خوف معاشرے کا ہے کیوں کہ معاشرہ ہمیں چھت پر کھڑے ہو کر بجلی کا کنڈا لگانے کی اجازت تو دیتا ہے اور اس بجلی چوری سے ہماری شرافت و نجابت پر حرف نہیں آتا۔ سڑک پر آتے جاتے ایک دوسرے کو مغلظات بکنے اور دست و گریباں ہوجانے سے بھی ہماری عزت قائم رہتی ہے۔ ہم گھر میں موجود ہوتے ہوئے بھی اپنے بچوں سے دروازے یا فون پر جھوٹ کہلواسکتے ہیں کہ ہم گھر پر نہیں ہیں۔ ہم اپنے بچوں کے سامنے لوگوں کی غیبت، برائیاں کرسکتے ہیں لوگوں کے خلاف سازشیں رچ سکتے ہیں لیکن محبت نہیں کرسکتے۔ ہم صنفی امتیاز، منفی انداز فکر، بے جا احساس تفاخر اور شقاوت قلبی تو اپنے بچوں کو سکھا سکتے ہیں لیکن محبت کرنا نہیں سکھا سکتے۔

 

ہم سارا دن نیوز چینل پر ریپ اور زیادتیوں کی داستانیں اپنے بچوں کی سماعتوں سے گزارتے نہیں جھجکتے لیکن جہاں محبت کا دن منانے کی بات آئے ہم سارا دن ٹی وی آف کر سکتے ہیں۔
ہم سارا دن نیوز چینل پر ریپ اور زیادتیوں کی داستانیں اپنے بچوں کی سماعتوں سے گزارتے نہیں جھجکتے لیکن جہاں محبت کا دن منانے کی بات آئے ہم سارا دن ٹی وی آف کر سکتے ہیں۔ بچپن میں جب وی سی آر پر فلمیں دیکھی جاتی تھیں تب ہر فلم پہلے والدین کے سنسر سے گزر کر بچوں کو دکھائی بھی جاتی تو بھی ہر پندرہ منٹ بعد بچوں سے سر جھکانے کو کہا جاتا اور متنازعہ منظر اور بالعموم گانے تیزی سے ریوائنڈ کردیے جاتے۔ لیکن اس سب سنسرشپ کے باوجود بچے اس بچپن میں بھی یہ بخوبی جان جاتے کہ والدین کی ہمدردیاں ہیرو ہیروئن اور ان کی محبت کے ساتھ ہیں۔ لیکن عملی زندگی میں یہی والدین محبت کے خلاف اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھتے۔

 

ایک ماں ہونے کے ناطے میں اپنے بچوں کے لیے سوچتی ہوں کہ میرا رویہ کیا ہوگا جب میری بیٹیاں محبت کریں گی۔ اور یہ میری دلی خواہش ہے کہ وہ زندگی میں محبت ضرور کریں اور اس ایک میٹھے جذبے کی چاشنی سے خود کو محروم نہ کریں لیکن! ہاں میں خوف زدہ رہتی ہوں محبت سے نہیں بلکہ محبت کے نام پر ملنے والے دھوکے سے۔ فی زمانہ محبت کو معتوب کرنے اور اسے رانداہ بنادینے میں ان دھوکے بازیوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ محبت کا انجام شادی ہونا ضروری نہیں لیکن اگر ایسا ہوجائے تو اس سے بڑی خوش نصیبی بھی کوئی اور نہیں۔ پر آج کل جو کلی کلی منڈلانے اور رس چوس کر اڑ جانے کا رواج ہے اس نے محبت کے شفاف آئینے میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ ہم محبت میں اعتماد دینے اور یقین کے ساتھ محبت لینے والے ماحول کو فروغ دیں، محبت کو مثبت جذبہ سمجھتے ہوئے دھوکا دہی اور فریب کاری کی حاصلہ شکنی کریں تو ہمیں نہ معاشرے کے بگاڑ کا خدشہ رہے گا نہ ہی محبت سے خوف محسوس ہوگا۔