Categories
فکشن

لاکھ کا گھر

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

مزید ہندوستانی کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مہابھارت دنیا کی قدیم ترین کتابوں میں سے ہے۔ اس میں کورووں اور پانڈووں کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ پانڈو دراصل ہستنا پور کے راجا کا نام تھا۔ان کے پانچ بیٹے تھے۔ یدھشٹر، بھیم، ارجن، نَکُل اور سہدیو۔ یہ پانچوں بھائی بھی پانڈو کہلاتے تھے۔ ان کے چچا دھرت راشٹر کے سو بیٹے تھے جو کورو کہلاتے تھے۔ دھرت راشٹر پیدائش سے اندھے تھے۔ اگرچہ حکومت کے حق دار تو وہی تھے لیکن اندھے ہونے کی وجہ سے وہ راج پاٹ نہیں سنبھال سکتے تھے اس لیے ان کے چھوٹے بھائی پانڈو کو راجا بنایا گیا تھا۔

 

دھرت راشٹر پیدائش سے اندھے تھے۔ اگرچہ حکومت کے حق دار تو وہی تھے لیکن اندھے ہونے کی وجہ سے وہ راج پاٹ نہیں سنبھال سکتے تھے اس لیے ان کے چھوٹے بھائی پانڈو کو راجا بنایا گیا تھا۔
پانڈو اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتے تھے اور عایا بھی انہیں دل و جان سے چاہتی تھی، لیکن جلد ہہی ان کا انتقال ہوگیا۔ چونکہ اُن کے بیٹے یعنی پانچوں پانڈو بھائی ابھی چھوٹے تھے، اس لیے مجبوراً دھرت راشٹر کو راج پاٹ کی ذمہ داری سنبھالنی پڑی۔ دھرت راشٹر کے بیٹوں کو یہ خطرہ تھا کہ جیسے ہی پانڈو بھائی بڑے ہوجائیں گے، دھرت راشٹر راج پاٹ انہیں سونپ دیں گے۔ وہ چاہتے تھے کہ دھرت راشٹر کے بیٹے ہونے کے ناتے راج انہیں کو ملے۔ اس طرح شروع ہی سے کورو حسد کی آگ میں جلنے لگے، اور کسی نہ کسی طرح پانڈووں کو اپنے راستے سے ہٹانے کی ترکیبیں سوچنے لگے۔ ان کے دل میں نفرت کی آگ روز بروز بھڑکنے لگی۔

 

پانچوں پانڈو بھائی بہادر تھے اور خوب صورت بھی۔ سارے ملک میں ان کے کارناموں کا شہرہ تھا۔ اکثر کورووں سے ان کی جھڑپ ہوجاتی لیکن ہر بار پلہ پانڈووں ہی کا بھاری رہتا۔ کورووں میں دُریودھن سب سے بڑا تھا۔ گُرز چلانے میں اس کا جواب نہ تھا۔ اس کا مقابلہ اکثر بھیم سے ہوتا جو پانڈوووں میں سب سے بہادر تھا۔ لیکن دریودھن کو بھیم سے ہمیشہ مات کھانی پڑتی۔

 

جب ولی عہد مقرر کرنے کا وقت آیا تو دھرت راشٹر نے سب کے مشورے پانڈووں میں سب سے بڑے بھائی یدھشٹر کو راجا بنانے کا فیصلہ کیا۔ کورووں کو یہ ہرگز منظور نہ تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ راج کا حق انہیں کو دیا جائے۔ اس حق کو پانے کے لیے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار تھے۔ انہوں نے اپنے ماما شکنی سے مشورہ کیا۔ وہ بھی پانڈووں سے بہت جلتا تھا اور بڑا کینہ پرور تھا۔ سب مل کر دھرت راشٹر کے پاس گئے اور اس بات پراصرار کرنے لگے کہ دریوددھن کو ولی عہد بنایا جائے۔

 

جب ولی عہد مقرر کرنے کا وقت آیا تو دھرت راشٹر نے سب کے مشورے پانڈووں میں سب سے بڑے بھائی یدھشٹر کو راجا بنانے کا فیصلہ کیا۔ کورووں کو یہ ہرگز منظور نہ تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ راج کا حق انہیں کو دیا جائے۔
دُریودھن نے کہا: “پتاجی آپ راجا ہیں۔ راجا کو ولی عہد چُننے کا حق ہے۔ یہ صحیح ہے کہ رعایا یدھشٹر کو چاہتی ہے، لیکن کیا ضروری ہے کہ اس معاملے میں آپ رعایا سے رائے لیں۔ اگر یدھشٹر راجا بن گئے تو ہماری حالت ان کے ملازموں جیسی ہوگی۔ ایسی زندگی سے تو موت بہتر ہے۔”

 

دھرت راشٹر نے سوچ کر کہا: “جو کچھ تم کہتے ہو، ٹھیک ہے لیکن یدھشٹر بہت لائق اور نیک دل ہے۔ رعایا اس کو بہت چاہتی ہے۔ میں بے انصافی نہیں کرسکتا۔”

 

دُریودھن نے کہا: “آپ ناحق فکر کرتے ہیں۔ ہمارے سپہ سالار اور گُرو شکنی ہمارے ساتھ ہیں۔ آپ پانڈووں کو کچھ دنوں کے لیے کہیں باہر بھیج دیجیے۔ جب وہ یہاں نہیں ہوں گے تو ہم رعایا کو اپنا ہم نوا بنالیں گے۔”
اگرچہ دھرت راشٹر نہیں چاہتے تھے،لیکن بیٹوں کے اصرار پر آخر یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ پانڈو بھائیوں کو یہ کہہ کر وارنادت بھیج دیا جائے کہ وہاں کے لوگوں کی بہت خواہش ہے کہ وہ وہاں جائیں۔ پانڈووں کو جب فوری طور پر وارنادت چلے جانے کا حکم ملا تو انہیں کھٹک گیا کہ کچھ دال میں کالا ہے، لیکن دھرت راشٹر کے حکم کو ٹالا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ ادھر دریودھن کی چال یہ تھی کہ پانڈو پھر ہستنا پور لوٹ کر نہ آئیں، اور انہیں وہیں باہر ہی باہر مردادیا جائے۔

 

دریودھن کو ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے اپنے آدمی وارنادت بھیجے اور انہیں حکم دیا کہ وہاں پانڈووں کے لیے لاکھ کا ایک گھر بنائیں۔ اس کی دیواروں کو اس طرح رنگا جائے کہ کسی کو بھی شک نہ گزرے۔ پانڈووں کے آنے کے بعد موقع دیکھ کر محل میں آگ لگادی جائے گی۔ لاکھ کا محل پل بھر میں جل کر راکھ ہوجائے گا، اور پانڈو بھی اس کے ساتھ ہی بھسم ہوجائیں گے۔

 

پانڈووں کے آنے کے بعد موقع دیکھ کر محل میں آگ لگادی جائے گی۔ لاکھ کا محل پل بھر میں جل کر راکھ ہوجائے گا، اور پانڈو بھی اس کے ساتھ ہی بھسم ہوجائیں گے۔
چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے وارناوت میں لاکھ کا محل تیار کردیا گیا، پانڈو جب اپنی ماں کُنتی کے ساتھ وارناوت کے لیے روانہ ہوئے تو ان کے چچا وِدُر نے جو بڑے وِدوان اور دوراندیش تھے، پانڈووں کو خبردار کیا اور بتایا کہ اپنا خیال رکھیں کیونکہ کورو سازشوں میں مصروف ہیں۔

 

وارناوت میں لوگوں نے پانڈووں کا خوب سواگت کیا۔ انہیں لاکھ کے محل میں ٹھہرایا گیا۔ انہوں نے محل کی بہت تعریف کی، لیکن دل ہی دل میں سمجھ گئے کہ اس میں کچھ راز ہے۔ تھوڑے ہی دنوں میں وِدُر نے اپنے ایک خاص آدمی کو پانڈووں کی مدد کے لیے بھیجا۔ اس نے پانڈووں کو رائے دی کہ خطرے کے وقت محل سے باہر نکلنے کے لیے ایک سرنگ کھودنی چاہیے۔ چنانچہ راتوں رات ایک سرنگ کھودی گئی۔

 

پانچوں پانڈودن بھر شکار کھیلتے اور رات کو چوکنے رہتے۔ دریودھن کا دربان پروَچن موقع کی تاڑ میں رہتا۔ پانڈووں میں بھیم سب سے زیادہ طاقت ور اور ارجن سب سے زیادہ عقل مند تھا۔ پروَچن ان دونوں پر خاص طور سے نظر رکھتا۔ اس طرح لاکھ کے محل میں رہتے رہتے کئی مہینے گزر گئے، لیکن پَروچن کو محل میں آگ لگانے کا موقع نہ ملا۔ آخر پانڈووں نے فیصلہ کیا کہ محل چھوڑ دینے ہی میں بہتر ہی ہے۔ چنانچہ ایک رات موقع پاکر انہوں نے محل میں آگ لگادی، اور خود سرنگ کے راستے سے نکل گئے۔ پل بھر میں لاکھ کا محل جل کر راکھ ہوگیا، اور اس کے ساتھ پَروچن بھی جو گہری نیند سو رہا تھا، جل مرا۔

 

محل جل گیا تو لوگوں نے سمجھا کہ پانڈو اپنی کُنتی کے ساتھ جل کر راکھ ہوگئے ہیں۔ سب کو بہت دکھ ہوا۔ پانڈووں کے جل کر مرجانے کی خبر جب ہستنا پور پہنچی تو دھرت راشٹر بے ہوش ہوگئے۔ کورووں نے بھی جھوٹ موٹ کا دُکھ ظاہر کیا۔ اگرچہ دل ہی دل میں وہ بہت خوش تھے۔

 

لاکھ کے محل سے بچ کر پانڈو اپنی ماں کُنتی کے ساتھ سُرنگ سے ہوتے ہوئے ایک جنگل میں جا نکلے۔ وہاں جا کر انہوں نے بھیس بدل لیا اور فیصلہ کیا کہ جب تک ہستناپور واپسی نہیں ہوتی، بھیس بدل کر رہنے ہی میں بھلائی ہے۔

Image: M. F. Hussain

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
نان فکشن

جوانی کی ہوس

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

پانڈووں کے پرکھوں میں راجا جیاتی بہت مشہور گزرا ہے۔وہ اپنے باپ کا سب سے طاقتور اور بہادر بیٹا تھا۔اپنے زمانے میں اس نے ایک کے بعد ایک کئی علاقوں کو فتح کیا اور شنکر اچاریہ کی بیٹی دیویائی سے شادی کی۔ جیاتی کی بہادری سے خوش ہو کر اندر نے اسے ایک ایسا شاندار رتھ دیا تھا جس میں من سے بھی تیز رفتار گھوڑے جتے ہوئے تھے۔کہا جاتا ہے کہ جیاتی نے اس رتھ کی مدد سے چھ دن میں ساری پرتھوی (زمین)کا سفر کیا اور کئی راجاؤں کو اپنا مطیع کرلیا۔

 

جیاتی جب بوڑھا ہونے لگا تو اس کو اپنی جوانی کی یاد ستانے لگی۔ وہ اپنے گرو کے پاس گیا اور پرنام کرکے بولا۔’مہاراج! جوانی کی یادمجھے بہت تڑپاتی ہے۔ کیا کوئی ایسی ترکیب ہو سکتی ہے کہ میں پھر سے جوان ہو جاؤں اور کبھی بوڑھا نہ ہوں۔’

 

پانڈووں کے پرکھوں میں راجا جیاتی بہت مشہور گزرا ہے۔وہ اپنے باپ کا سب سے طاقتور اور بہادر بیٹا تھا۔اپنے زمانے میں اس نے ایک کے بعد ایک کئی علاقوں کو فتح کیا اور شکر اچاریہ کی بیٹی دیویائی سے شادی کی۔
گرو نے سوچ کر کہا۔ ‘اس کا صرف ایک طریقہ ہے۔ اگر کوئی اس پر تیار ہوجائے کہ وہ تمہارا بڑھاپا لے لے اور تمہیں اپنی جوانی دے دے تو تم یقیناًپھر سے جوان ہوسکتے ہو۔’

 

جیاتی کے پانچ بیٹے تھے۔ سب کے سب تنو مند، تندرست اور جوان۔ اس نے سب سے بڑے بیٹے کو بلا کر پوچھا۔ ‘بیٹا! میں کچھ دن اور عیش و عشرت سے گزارنا چاہتا ہوں اور جوانی کے مزے لینا چاہتا ہوں۔کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ تم مجھے اپنی آدھی جوانی دے دو اور میرا بڑھاپا لے لو۔ اس کے بدلے میں تمہیں راج پاٹ دے دوں گا۔’ بیٹے نے بڑے ادب سے جواب دیا۔ ‘مہاراج! جب اپنی پوری جوانی کا لطف اٹھانے کے بعد بھی آپ کا جی نہیں بھرا تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں اس کا مزا لیے بغیر ہی اسے دوں۔ راج پاٹ تو بعد میں بھی مل سکتا ہے۔ لیکن جوانی پھر ہاتھ نہیں آئے گی۔’

 

جیاتی کو یہ سن کر بہت دکھ ہوا۔ اس نے اپنے بڑے بیٹے کو ولی عہدی کے حق سے محروم کردیا۔ اس کے بعد اس نے ایک ایک کرکے اپنے دوسرے بیٹوں کو بلایا اور ان سے بھی یہی سوال کیا۔ سب نے معذرت کی اور بڑھاپے کے بدلے جوانی دینے سے انکار کردیا، لیکن سب سے چھوٹے یعنی پانچویں بیٹے نے سر جھکا کر کہا۔ ‘مہاراج! آپ کا حکم سر آنکھوں پر، میں آپ کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیار ہوں۔ جوانی دینا تو معمولی بات ہے۔’

 

کہتے ہیں اسی طرح ایک کے بعد ایک کئی آدمیوں کی جوانی مانگ کر جیاتی نے ایک ہزار سال تک جوانی کے مزے لوٹے، لیکن پھر بھی جب گرو نے اس سے پوچھا تو راجا بدستور یہی جواب دیتا رہا کہ میری خواہشیں ابھی پوری نہیں ہوئیں اور میرا دل اب بھی بھٹک رہا ہے
چنانچہ جیاتی پھر سے جوان ہوگیا، اور متواتر کئی برسوں تک وہ پھر جوانی کے مزے لوٹتا رہا۔ لیکن کب تک؟ مانگی ہوئی جوانی کے دن بھی آخر پورے ہوگئے۔ جیاتی کو بڑھاپے کا خوف پھر ستانے لگا اور وہ پھر اپنے گرو کے پاس پہنچا۔ گرو نے پوچھا: ‘اے راجا، اب تو تم جوانی کی بہت خوشیاں دیکھ چکے ہو۔مطمئن ہونا؟’

 

جیاتی نے اداس لہجے میں کہا۔ ‘اچاریہ جی۔ سچ تو یہ ہے کہ ابھی میرا جی نہیں بھرا۔ اگر اجازت ہو تو اپنے بیٹے کی جوانی کے باقی دن بھی مانگ لوں، اور خوب مزے سے رہوں۔’

 

گرو نے کہا۔ ‘اگر بیٹا مان جائے تو تم شوق سے باقی حسرتیں بھی نکال لو۔’

 

جیاتی نے چھوٹے بیٹے کو بلا کر اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ بیٹے نے دوبارہ فرماں برداری کا ثبوت دیا۔ راجا پھر سے جوان ہوگیا۔ اب کی بار راجا نے دنیا کی ہر خوشی کو از سر نو حاصل کیا اور اپنے دل کے سب ارمان نکالے۔ آخر بیٹے سے مانگی ہوئی باقی جوانی کے یہ دن بھی پورے ہوگئے اور بڑھاپے نے جیاتی کو پھر آدبایا۔

 

گرو نے اس سے پوچھا۔ ‘کہو راجا، اب تو دنیا سے تمہارا دل بھر گیا ہوگا۔’

 

جیاتی نے سر ہلا کر جواب دیا۔ ‘نہیں مہاراج،ابھی کہاں؟ میرے دل میں تو خواہشوں کی آگ اور بھی بھڑک اٹھی ہے۔ اگر آپ کی عنایت سے ایک اور آدمی کی جوانی مجھے مل جائے تو ممکن ہے میری خواہشیں کسی قدر پوری ہوسکیں۔’
کہتے ہیں اسی طرح ایک کے بعد ایک کئی آدمیوں کی جوانی مانگ کر جیاتی نے ایک ہزار سال تک جوانی کے مزے لوٹے، لیکن پھر بھی جب گرو نے اس سے پوچھا تو راجا بدستور یہی جواب دیتا رہا کہ میری خواہشیں ابھی پوری نہیں ہوئیں اور میرا دل اب بھی بھٹک رہا ہے، آخر شنکر اچاریہ نے کہا:

 

‘اے راجا! اگر تم لاکھوں سال بھی جوان رہو اور عیش و عشرت میں ڈوبے رہو تو بھی تمہاری خواہشات پوری نہیں ہوسکتیں۔ خواہشات کے پیچھے بھاگنا ایسا ہے جیسے آگ میں گھی ڈالنا۔ جتنا بھی تم خواہشات کو پورا کرنے کے لیے بھٹکو گے، اتنی ہی یہ آگ زیادہ بھڑکتی جائے گی۔’

 

جیاتی نے پوچھا۔ ‘تو مہاراج! من کی شانتی کا راستہ کیا ہے؟’

 

شنکر اچاریہ بولے۔ ‘اپنی خواہشات پر قابو پانے کی کوشش کرو۔ ایسی چیز کی خواہش ہرگز نہ کرو جو تمہاری پہنچ سے باہر ہو۔ من کی شانتی صبر کے راستے پر چل کر ملتی ہے۔’

 

اس کے بعد جیاتی نے شکر اچاریہ کی نصیحت گرہ میں باندھ لی۔ کہتے ہیں ایک ہزار سال تک لہو و لعب میں ڈوبے رہنے پر بھی جیاتی کو جو سکھ اور شانتی حاصل نہ ہوسکی تھی، وہ اسے شنکر اچاریہ کے بتائے ہوئے راستے یعنی صبر کے راستے پر چل کر حاصل ہوگئی۔

 

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔