Categories
فکشن

نل دمینتی

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

دیوتاؤں کو پہلے سے معلوم تھا کہ دمینتی نل کو چاہتی ہے، چنانچہ سوئمبر میں چاروں دیوتاؤں نے نل کی شکل اختیار کرلی۔
ہزاروں سال پہلے کا ذکر ہے، وسطی ہندوستان میں نِشدھ نام کی ایک ریاست تھی، جس پر راجا نل کی حکومت تھی۔ نل نہایت حسین اور تنو مند تھا، اور بہادری اور دلیری میں اپنا جواب نہیں رکھتا تھا۔ اسپ شناسی کا بھی ماہر تھا، اور رتھ ہوا سے بھی تیز چلا سکتا تھا۔ لیکن اسے چوسر بازی اور جوا کھیلنے کی بری عادت تھی۔ دمینتی ودربھ یعنی بیدر کے راجا بھیم کی اکلوتی بیٹی تھی جس کے حسن اور خوبی کا دور دور تک شہرہ تھا۔ نل اور دمینتی ایک دوسرے کی تعریف سن کر دل ہی دل میں ایک دوسرے کو چاہنے لگے۔ حسن اتفاق سے ایک بار نل کے ہاتھ ایک ایسا ہنس لگا، جس نے جا کر دمینتی کو بتایا کہ نل کے دل میں اس کے لیے کتنی عزت ہے۔ دمینتی تو پہلے ہی نل کو چاہتی تھی، چنانچہ اس نے عہد کرلیا کہ اگر وہ شادی کرے گی تو راجا نل ہی سے کرے گی۔ راجا بھیم نے فیصلہ کیا کہ دمینتی سوئمبر کے ذریعے اپنے شوہر کا انتخاب کرے گی۔ سینکڑوں راجے، مہا راجے اور کنور قسمت آزمائی کے لیے بیدر پہنچے ۔ نل بھی ان میں سے ایک تھا۔ چار دیوتا اگنی، اندر، ورُن اور یم بھی اس سوئمبر میں شرکت کی غرض سے آئے۔ راستے میں نل سے ان کی مڈ بھیڑ ہوگئی۔ انہوں نے نل سے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ دمینتی کو بتادے کہ دمینتی ان چاروں میں سے کسی ایک کو شوہر چن لے، ورنہ ہنگامہ ہوجائے گا۔

 

دیوتاؤں کو پہلے سے معلوم تھا کہ دمینتی نل کو چاہتی ہے، چنانچہ سوئمبر میں چاروں دیوتاؤں نے نل کی شکل اختیار کرلی۔ دمینتی ایک کے بجائے پانچ نل دیکھ کر بہت حیران ہوئی۔ اس نے سوچا ہو نہ ہو اس میں دیوتاؤں کی شرارت ہے لیکن اصلی نل کو پہچاننے میں اسے دیر نہ لگی۔ چنانچہ اس نے انتخاب کی جے مالا اصلی نل کے گلے میں ڈال دی۔ کالی دیوتا سوئمبر میں ذرا دیر سے پہنچا تھا۔ نل کی کامیابی پر وہ بھی حسد کی آگ میں جل رہا تھا۔ چنانچہ سب دیوتاؤں نے مل کر نل سے بدلہ لینے کی ٹھانی۔

 

شادی کے بعد نل اور دمینتی نشدھ میں بڑے مزے سے زندگی بسر کرنے لگے۔ ان کے ایک لڑکا اندر سین اور ایک لڑکی اندرا پیدا ہوئی۔ اس طرح کئی سال گزر گئے۔ ایک دن نل کی غفلت سے حاسد دیوتا کالی کو نل کے حواس پر قابو پانے کا موقع مل گیا، اور نل نے اپنے چچیرے بھائی پشکر سے چوسر کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ نل اگرچہ چوسر کا ماہر تھا اور اسے اعتماد تھا کہ جیت اسی کی ہوگی۔ لیکن چوسر پر کالی کا اثر تھا۔ نل کو مات پر مات ہوئی۔ پُشکر چونکہ نل سے جلتا تھا، وہ نل کی ہر چیز ہتھیانے پر تلا ہوا تھا۔ نل بازی ہارتا گیا، حتیٰ کہ تخت و تاج اور مال و دولت ہر چیز ہار گیا۔ نل نے حکومت کا کام پشکر کو سونپ دیا۔ راج پاٹ پر قابض ہوجانے کے بعد پشکر نے اعلان کیا کہ کوئی شخص نل کو پناہ نہ دے۔ غرض نل کے لیے سوائے نشدھ چھوڑنے کے چارہ نہ تھا۔ دمینتی نے بھی ساتھ دیا اور دونوں نشدھ سے نکل کھڑے ہوئے۔

 

ہنس نے دمینتی کو راجا نل کی پسندیدگی سے آگاہ کیا
ہنس نے دمینتی کو راجا نل کی پسندیدگی سے آگاہ کیا
نل اور دمینتی جنگلوں میں رہنے لگے۔ سارا سارا دن سفر کرتے اور جہاں رات پڑتی، سو رہتے۔ پرندوں کا شکار کرکے پیٹ کی آگ بجھاتے۔ ایک دن جب نل نے پرندے پکڑنے کے لیے ان پر چادر پھینکی تو پرندے چادر لے کر اُڑ گئے۔ اب نل کے پاس تن ڈھانپنے کو بھی کچھ نہ رہا۔ دیوتا نل کو دُکھ پہنچانے پر تلے ہوئے تھے۔ نل سے دمینتی کی پریشانی نہیں دیکھی جاتی تھی۔ وہ بہت سوچتا کہ کسی طرح دمینتی کو اس کے مائیکے بھیج دے۔ آخر ایک دن اس نے دمینتی سے کہا۔

 

“راج پاٹ سب چھوٹ گیا۔ اب میرے پاس رہ ہی کیا گیا ہے، دکھ ہی دکھ۔ میں چاہتا ہوں تم اپنے ماں باپ کے پاس چلی جاؤ اور مصیبت کے یہ دن وہیں گزار دو۔”

 

دمینتی نے کہا۔ “ہرگز نہیں۔ کتنے ہی دکھ کیوں نہ آئیں، میں آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گی، جس حالت میں آپ رہیں گے، میں بھی آپ کے ساتھ رہوں گی۔”

 

نل کی عقل پر حاسد دیوتاؤں کی وجہ سے جنون کا غلبہ تو تھا ہی، اس نے طے کر لیا کہ وہ دمینتی کو چھوڑ دے گا تاکہ وہ اپنے ماں باپ کے گھر چلی جائے۔ چنانچہ ایک رات موقع پا کر اس نے سوتے میں دمینتی کو اکیلا چھوڑ دیا۔ دمینتی کی آدھی ساڑی پھاڑ کر اپنے تن کو ڈھانپا اور راتوں رات کہیں سے کہیں نکل گیا۔ کچھ مدت کے بعد ایک دن جنگل میں اسے ایک آواز نے چونکا دیا۔ “بچاؤ بچاؤ” نل نے دیکھا، جھاڑیوں کے ایک جھنڈ میں آگ لگی ہوئی ہے اور ایک اجگر آگ میں گھرا ہوا ہے۔ نل نے آگ میں کود کر بڑی بہادری سے اجگر کی جان بچائی۔ اجگر نے کہا تم نے مجھ پر احسان کیا ہے۔ اس کے بدلے میں تمہاری شکل تبدیل کیے دیتا ہوں تاکہ جب تک تمہارے بُرے دن نہیں پھرتے، تمہیں کوئی پہچان نہ سکے۔ جب تمہاری قسمت ٹھیک ہوجائے گی تو زہر کا اثر خودبخود جاتا رہے گا۔ یہ کہتے ہی اجگر نے نل کو ڈس لیا جس سے نل کا رنگ کالا پڑگیا اور شکل بونے کی سی ہوگئی۔ اجگر نے نل کو بتایا۔

 

دمینتی کے سوئمبر کا منظر
دمینتی کے سوئمبر کا منظر
“ایودھیا کا راجا رِتو پُرن پانسہ کھیلنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، اگر تمہیں اس کھیل پر عبور حاصل کرنا ہو تو اس کے پاس چلے جاؤ۔ اس کے بعد ہی تم اپنے بھائی پشکر سے جیت سکو گے۔”

 

نل کی عقل پر حاسد دیوتاؤں کی وجہ سے جنون کا غلبہ تو تھا ہی، اس نے طے کر لیا کہ وہ دمینتی کو چھوڑ دے گا تاکہ وہ اپنے ماں باپ کے گھر چلی جائے۔
چنانچہ نل نے ایسا ہی کیا۔ وہاں سے سیدھا ایودھیا پہنچا، اور راجا رتو پرن کے ہاں رتھ بان کی حیثیت سے ملازم ہوگیا۔ ادھر جب دمینتی کی آنکھ کھلی تو نل کو نہ پاکر وہ بہت گھبرائی۔ “نل”،”نل” پکارتی ہوئی وہ دیوانوں کی طرح بھٹکنے لگی۔ ایک دن خوں خوار اژدہے نے دمینتی کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا۔ اتفاق سے ایک شکاری وہاں آنکلا جس نے دمینتی کی جان بچائی وہ دمینتی کے حسن پر فریفتہ ہوگیااور اسے پکڑنے لگا۔ دمینتی نے بد دعا دی۔ شکاری غیبی آگ کی لپٹوں میں گھر گیا اور جل کر راکھ ہو گیا۔ اسی طرح ایک کے بعد ایک کئی مصیبتوں کا سامنا کرتی ہوئی دمینتی ایک دن ایک ندی کے کنارے پہنچی۔ وہاں اسے بیوپاریوں کا گروہ ملا۔ دمینتی ایک ایک سے نل کے بارے میں پوچھتی لیکن کوئی کچھ نہ بتا سکا۔ اسی اثنا میں ہاتھیوں کے ایک جھنڈ نے بیوپاریوں پر حملہ کیا اور ان کا سامان برباد کردیا۔ انہوں نے سوچا، ہو نہ ہو، دمینتی ہی اس ساری بد نصیبی کا سبب ہے۔ انہوں نے دمینتی کو مارڈالنے کا فیصلہ کیا۔ دمینتی نے بڑی مشکل سے جان بچائی۔ نل کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ وپر پور پہنچی۔ یہاں کی رانی نے یہ دیکھ کر کہ دمینتی کسی اچھے گھرانے کی معلوم ہوتی ہے، اس کو مشاطہ کا کام سونپ دیا۔ دمینتی کی اصلیت پر پردہ پڑا ہوا تھا، تاہم وہاں کے لوگ بہت جلد اس کی سوجھ بوجھ اور سلیقہ شعاری کے قائل ہوگئے اور اس کی عزت کرنے لگے۔ دمینتی کی اصلیت بہت دنوں تک راز نہ رہ سکی۔ ایک کندن پور کے وزیر نے، جو کسی کام سے ویر پور آیا ہو ا تھا، دمینتی کو پہچان لیا۔ اس نے بتایا کہ وہ دمینتی ہی کی کھوج میں نکلا ہوا ہے۔ چنانچہ وہ دمینتی کو اس کے مائکے کندن پور لے گیا۔

 

نل نے دمینتی کو سوتے میں چھوڑنے کا فیصلہ کیا
نل نے دمینتی کو سوتے میں چھوڑنے کا فیصلہ کیا
دمینتی کو ڈھونڈ چکنے کے بعد اب وزیر نل کی تلاش میں نکلا۔ جگہ جگہ گھومتا ہوا وہ ایودھیا میں راجا رتو پرن کے دربار میں پہنچا۔ یہاں اس نے تمام درباریوں سے ایک پہیلی پوچھی، جس کا صحیح جواب صرف نل ہی دے سکتا تھا۔ جب کسی درباری کو اس کا جواب نہ سوجھا تو رتھ بان سے پوچھا گیا۔ رتھ بان کے روپ میں دراصل راجا نل ہی تو تھا۔ اس نے راجا کی اجازت سے پہیلی کا صحیح جواب بتا دیا۔

 

وزیر نے کندن پور آکر سارا ماجرا دمینتی کو سنایا۔ دمینتی نے کہا، وہ رتھ بان خواہ کتنا ہی بونا اور کالا کیوں نہ ہو، راجا نل ہی ہے۔ اس کو کسی طرح یہاں بلا کر حقیقت معلوم کرنی چاہیے۔ چنانچہ وزیر کو ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے راجا رِتو پرن کو دمینتی کے سوئمبر کی جھوٹی خبر پر بلا بھیجا۔ وقت اتنا تھوڑا تھا کہ پورے ملک میں سوائے نل کے اس قدر تیز رتھ چلانے والا دوسرا کوئی نہ تھا جو رتو پرن کو رات رات میں ودربھ پہنچا دے۔
نل نے اس کمال سے رتھ چلایا کہ گھوڑے ہوا سے باتیں کرنے لگے۔ رِتو پرن نل کی مہارت سے بہت خوش ہوا۔ وہ خود ریاضی اور چوسر میں غیر معمولی دسترس رکھتا تھا۔ باتیں ہونے لگیں۔ نل نے رِتو پرن رتھ بانی کے اعلیٰ گُر بتائے اور اس کے بدلے میں رِتو پرن نے چوسر کھیلنے کی باریکیوں اور نکتوں سے آگاہ کیا۔ نل نے رتو پرن کو صبح ہونے سے پہلے ہی ودربھ پہنچا دیا۔ یہ دیکھ کر دمینتی کا شبہ اور بھی گہرا ہوگیا، لیکن نل ابھی بونے کی شکل میں تھا۔ دمینتی نے اس کی اصلیت کا یقین کرنے کے لیے چند اور آزمائشیں کیں، اور بالآخر نل کا پکایا ہوا کھانا چکھنے کے بعد اس کا گمان یقین میں بدل گیا۔ نل پہچانا گیا۔ اس نے دمینتی سے پوچھا۔ “کیا تم واقعی دوسری شادی کرنا چاہتی ہو۔” دمینتی نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔ “مہاراج! یہ تو آپ کو یہاں بلانے کا بہانہ تھا۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ اتنے تھوڑے وقت میں ایودھیا سے ودربھ سوائے آپ کے کوئی نہیں پہنچ سکتا تھا۔”

 

دمینتی کے اذدھے کی جکڑ میں آنے کا منظر
دمینتی کے اژدھے کی جکڑ میں آنے کا منظر
نل بہت خوش ہوا۔ زہر کا اثر خودبخود جاتا رہا۔ نل کو اپنی بدشکلی سے نجات ملی اور وہ اپنی اصلی حالت پر آگیا۔ دمینتی کے پتا، راجا بھیم نے نل کی جمیعت میں ایک بھاری لشکر روانہ کیا تاکہ وہ اپنے غاصب بھائی پشکر سے اپنی سلطنت واپس حاصل کرسکے۔ نشدھ پہنچ کر نل نے پشکر کو پھر سے چوسر کھیلنے کی دعوت دی۔ اب تو نل راجا رتو پرن سے سارے گر سیکھ چکا تھا، چنانچہ جیت گیا۔ پُشکر کو اپنے کیے پر بہت افسوس ہوا۔ نل نے اس کو معاف کر دیا اور اس کے ساتھ خلوص و محبت کا برتاؤ کیا۔ اُجڑا چمن شاداب ہوا اور نل اور دمینتی پھر سے نشدھ پر حکمرانی کرنے لگے۔

 

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
فکشن

شکنتلا

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

راجا دشینت کو شکار کھیلنے کا بے حد شوق تھا۔ ایک بار گرمیوں میں شکار کھیلتے کھیلتے وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ کر بہت دور جا نکلا۔ راستے میں ایک بے حد خوب صورت ہرن دکھائی دیا۔ راجا ہرن پر تیر چلانا ہی چاہتا تھا کہ ایک رشی کی آواز نے اسے چونکادیا۔ پاس آکر رشی نے بتایا کہ وہ ان کے آشرم کا پالتو ہرن ہے، اس لیے کسی کو اسے مارنے کی اجازت نہیں۔ رشی، دشینت کو اپنے ساتھ آشرم لے گئے۔ وہاں درختوں کے نیچے تین جوان لڑکیاں پھولوں کو پانی دے رہی تھیں۔ ان میں سے ایک شکنتلا بھی تھی۔

 

راجا دشینت شکار کھیلتے ہوئے راستہ بھٹکا اور تقدیر اسے شکنتلا تک لے آئی
راجا دشینت شکار کھیلتے ہوئے راستہ بھٹکا اور تقدیر اسے شکنتلا تک لے آئی
شکنتلا کنو رشی کی کٹیا میں رہتی تھی۔ وہ وشوا متر کی بیٹی تھی اور اندر لوک کی مشہور اپسرا مینکا کے بطن سے تھی۔ اس کی پیدائش کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ رشی وشوامتر نے اتنی ریاضت کی کہ راجا اندر کو اپنے تخت کے چھن جانے کا خطرہ لاحق ہوگیا۔ وشوامتر کی ریاضت کو ناکام بنانے کے لیے اندر لوک کی سب سے خوب صورت اپسرا مینکا کو بھیجا گیا۔ یہ تدبیر کارگر ثابت ہوئی، اور وشوامتر اور مینکا کے ملن کے نتیجے کے طور پر شکنتلا پیدا ہوئی ہے جسے پیدائش کے بعد مینکا نے جنگل میں چھوڑ دیا۔ وہاں سے اس کو کنو رشی اپنے آشرم میں اٹھا لائے اور پال پوس کر بڑا کیا۔

 

شکنتلا کے آسمانی حسن کو دیکھتے ہی دشینت کے دل پر عجیب سا اثر ہوا، اور اس کا صبر و قرار جاتا رہا۔ جان پہچان ہونے کے بعد دشینت نے شکنتلا سے گندھرو بیاہ کی درخواست کی، جو دونوں کے راضی ہونے پر بغیر برہمنی رسموں کے فوراً کیا جاسکتا ہے۔ شکنتلا نے اس شرط پر یہ درخواست منظور کرلی کہ شکنتلا ہی کی اولاد تخت و تاج کی وارث ہوگی۔ دشینت نے وعدہ کیا کہ ایسا ہی ہوگا۔ آشرم سے رخصت ہونے سے پہلے راجا نے یقین دلایا کہ وہ بہت جلد شکنتلا کو محل میں بلوا لے گا۔

 

دُرواسا رشی شکنتلا کو شراپ دیتے ہوئے
دُرواسا رشی شکنتلا کو شراپ دیتے ہوئے
راجا کے چلے جانے کے بعد بہت دن گزرگئے لیکن راجدھانی سے کوئی شکنتلا کو لینے نہ آیا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا شکنتلا کی پریشانی بڑھتی گئی۔ اس کو نہ کھانے کی سدھ رہی نہ پینے کا ہوش۔ وہ دن رات دشینت کی یاد میں کھوئی رہتی۔ ایک دن دُرواسا رشی کنو سے ملنے آئے۔ کنو گھر پر نہیں تھے۔ شکنتلا کو دُرواسا کی پذیرائی کا مطلق خیال نہ رہا۔ وہ انہیں آسن پر بیٹھنے کو بھی نہ کہہ سکی۔ اس بے ادبی پر دُرواسا نے شراپ یعنی بد دعا دی کہ اے لڑکی، جس شخص کے خیال میں تو اس قدر کھوئی ہوئی ہے ،وہ تجھے بھول جائے اور تیرے یاد دلانے پر بھی وہ تجھے نہ پہچانے۔ بعد میں شکنتلا کی سہیلیوں نے دُرواسا رشی کو شکنتلا کی بپتا سنائی اور منت سماجت کی کہ وہ اس بد دعا کو واپس لے لیں یا اس کے اثر کو کم کردیں۔ اس پر دُرواسا نے اپنی بد دعا کے اثر کو کم کرنے کے لیے کہا کہ دشینت اپنی دی ہوئی نشانی دکھانے پر شکنتلا کو پہچان لے گا۔ شکنتلا کی سہیلیوں نے اس بد دعا کا ذکر کسی سے نہیں کیا۔ ان کا خیال تھا کہ شکنتلا کے پاس راجا کی انگوٹھی ہے، اسے دکھانے پر راجا اسے ضرور پہچان لے گا اور بد دعا کا اثر ٹل جائے گا۔

 

تھوڑے دنوں میں شکنتلا کو معلوم ہوا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ اُدھر دُرواسا رشی کی بد دعا کے اثر سے دشینت، شکنتلا کو بالکل بھول چکا تھا۔ کنو رشی جب یاترا سے واپس آئے تو انہیں شکنتلا کے گندھرو بیاہ کا حال معلوم ہوا۔ جب کئی ماہ تک راجا کی طرف سے کوئی شکنتلا کو لینے نہیں آیا تو انہوں نے شکنتلا کو خود راجا کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ شکنتلا کو گھر گرہستی کی ضروری باتیں سمجھائیں اور آشرم کے دو ملازموں کے ساتھ رخصت کردیا۔
راستے میں ایک مقدس جگہ شکنتلا نے اشنان کیا۔ بد قسمتی سے نہاتے میں ایک انگوٹھی پانی میں گر گئی، اور بہت ڈھونڈنے پر بھی نہ ملی۔ کئی دنوں کی مسافت کے بعد تھکی ہاری شکنتلا جب دربار میں پہنچی تو راجا اسے پہچان نہ سکا۔ شکنتلا انتہائی دُکھ اور بے سرو سامانی کی حالت میں دربار سے نکل آئی۔ جب شکنتلا کی اس ناقدری کی اطلاع مینکا کو اندر لوک میں ہوئی تو وہ فوراً زمین پر اتری اور شکنتلا کو اپنے ساتھ ایک محفوظ آشرم میں لے گئی۔ کچھ مدت کے بعد بیٹا پیدا ہوا جس کا نام بھرت رکھا گیا۔

 

راجہ دشینت اور شکنتلا کا بیٹا بھرت جو آگے چل کر ہندوستان کا حکمران بنا
راجہ دشینت اور شکنتلا کا بیٹا بھرت جو آگے چل کر ہندوستان کا حکمران بنا
اتفاق سے شکنتلا کی انگوٹھی چند مہینوں بعد ایک ماہی گیر کو مچھلی کے پیٹ سے ملی۔ وہ اسے بیچنے کے لیے بازار میں لایا تو راجا کی انگوٹھی چرانے کے الزام میں پولیس نے اسے پکڑ لیا، معاملہ دربار تک پہنچا۔ راجا نے جیسے ہی انگوٹھی دیکھی، اس کو کنو رشی کے آشرم میں گزرا ہوا وقت اور شکنتلا سے گندھرو بیاہ یاد آگیا اور وہ شکنتلا کی یاد میں بے قرار ہو اٹھا۔ ہر طرف شکنتلا کی تلاش میں آدمی دوڑائے گئے، لیکن شکنتلا کا کہیں پتہ نہ چلا۔
کچھ مدت بعد جب دشینت اور اس کے سپاہی ایک مہم سے لوٹ رہے تھے تو انہوں نے ہیم کوٹ پہاڑی پر ایک رشی کے آشرم کے قریب پڑاؤ ڈالا۔ راجا جب رشی سے ملنے کے لیے جا رہا تھا تو راستے میں اسے ایک لڑکا دکھائی دیا، جو کھیل ہی کھیل میں شیر کے بچے کا منہ کھولے اس کے دانت گننے کی کوشش کررہا تھا۔ لمباقد، چھریرا ڈیل، چہرے پر چمک۔ راجا کو اپنا دل کھچتا ہوا محسوس ہوا۔ تھوڑی دیر میں وہ اس لڑکے سے گھل مل کر باتیں کرنے لگا۔ معلوم ہوا کہ اس کی ماں کا نام شکنتلا ہے اور اس کے باپ نے اسے اور اس کی ماں کو چھوڑ رکھا ہے۔ مارے خوشی کے دشینت کے آنسو بہنے لگے۔ بھاگا بھاگا آشرم میں گیا اور شکنتلا سے اپنی بھول کی معافی مانگی۔

 

شکنتلا کو مہارانی کا درجہ دیا گیا۔ شکنتلا نے اپنے بیٹے کانام بھرت رکھا تھا۔ یہی بھرت دشینت کے بعد اس کا جانشین ہوا، اور اسی بھرت کی رعایت سے ہندوستان کا نام بھارت ورش مشہور ہوا۔ بھرت کی اولاد نے صدیوں ہندوستان پر حکومت کی اور مہابھارت میں انہیں حکمرانوں کے کارنامے بیان کیے گئے ہیں۔

 

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
فکشن

اُروَشی

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

پرانے زمانے میں پُروروا نامی ایک مشہور راجا گزرا ہے۔ماں کی طرف سے اس کا رشتہ سورج بنسی خاندان سے اور باپ کی طرف سے چندر بنسی خاندان سے تھا، چنانچہ اس میں دونوں اعلیٰ خاندانوں کی خوبیاں جمع ہوگئی تھیں۔پروروا اس قدر بہادر اور دلیر تھا کہ راجا اندر بھی اکثر مہموں کو سر کرنے میں اس سے مدد لیتے تھے۔

 

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ نر اور نارائن دو رشی سخت ریاضت کر رہے تھے۔ راجا اندر کو ان سے خطرہ پیدا ہوگیا اور انہوں نے ان کی ریاضت مںے رخنہ ڈالنے کے لیے عشق و محبت کے دیوتا “کام” کو بسنت اور کئی دوسری اپسراؤں کے ساتھ بھیجا۔ رشی بڑے دور اندیش تھے۔ وہ راجا اندر کا ارادہ بھانپ گئے اور اپسراؤں کے سامنے انہوں نے ایک پھول اٹھا کر اپنی ران پر رکھ لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ پھول ایک ایسی خوبصورت پری کی شکل میں تبدیل ہوگیا کہ راجا اندر کی پریاں بھی اسے دیکھ کر شرما گئیں۔ اس حسین و جمیل پری کا نام اُروَشی رکھا گیا اور رشیوں نے احتراماً اسے راجا اندر کی خدمت میں بھیج دیا۔

 

اندر لوک میں اُروَشی بہت جلد سب کی توجہ کا مرکز بن گئی خود راجا اِندر بھی اس کی تعریف کرتے تھے لیکن بدقسمتی سے ایک دن گھومتے گھومتے وہ رشی متراورُن کے آشرم میں جا نکلی، اور ان کی عبادت میں خلل انداز ہوئی۔ رشی نے غضب ناک ہو کر بد دعا دی کہ اُروشی تمام آسمانی مسرتوں سے محروم ہو کر انسان کی صحبت میں رہے۔

 

اروشی نے تین شرطیں رکھیں۔ اول یہ کہ میں دنیا کی تمام لذتیں چکھنا چاہتی ہوں۔ میرے کھانے میں ہر روز کوئی نئی چیز ہونی چاہیے۔ دوسرے یہ کہ میرے مینڈھے مجھے جان سے پیارے ہیں، یہ میرے ساتھ رہیں گے۔ تیسرے یہ کہ راجا کا برہنہ جسم میری نظر میں کبھی نہ آئے۔
اس بد دعا کے اثر سے اروشی زمین پر اتار دی گئی۔ گندھرووں) نیم دیوتا( نے اس کے لیے دو مینڈھے درختوں سے باندھ دیئے۔ یہاں اس کی ملاقات راجا پُروروا سے ہوئی، جو اسے دیکھتے ہی اس پر فریفتہ ہوگیا اور خواہش ظاہر کی کہ اُروَشی اس کے ساتھ رہے۔ اروشی نے تین شرطیں رکھیں۔ اول یہ کہ میں دنیا کی تمام لذتیں چکھنا چاہتی ہوں۔ میرے کھانے میں ہر روز کوئی نئی چیز ہونی چاہیے۔ دوسرے یہ کہ میرے مینڈھے مجھے جان سے پیارے ہیں، یہ میرے ساتھ رہیں گے۔ تیسرے یہ کہ راجا کا برہنہ جسم میری نظر میں کبھی نہ آئے۔ راجا نے اروشی کی تینوں شرطیں مان لیں اور دونوں ساتھ رہنے لگے۔ راجا اُروَشی کے عشق میں اس قدر محو ہوگیا کہ اسے وقت کا بھی احساس نہ رہا۔

 

جب کئی برس گزر گئے تو اندر لوک کی محفلوں میں اروشی کی کمی محسوس کی جانے لگی۔ خود راجا اندر اروشی کا رقص دیکھنے کے لیے بے تاب ہوگئے۔ چنانچہ مشورہ دیا گیا کہ مترا ورن نے اروشی کو انسان کی صحبت میں رہنے کی جو بد دعا دی تھی وہ تو پوری ہو ہی چکی، اب کسی نہ کسی طرح اروشی کو آسمان پر واپس لانا چاہیے۔ چنانچہ گندھروں کو حکم دیا گیا کہ وہ راتوں رات دونوں مینڈھوں کو محل سے بھگا لائیں۔

 

مینڈھے اُروَشی کے پلنگ سے بندھے رہتے تھے۔ جب گندھرو انہیں کھول کر لے جانے لگے تو اُروشی کی آنکھ کھل گئی۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھی اور مدد کے لیے راجا کو آواز دی۔ راجا اندھیرے میں لباس کی پروا کیے بغیر گندھروں کے پیچھے بھاگا۔ عین اسی وقت زور سے بادل گرجا اور بجلی چمکنے لگی۔ بجلی کی چمک میں اُروَشی کی نظر جونہی راجا کے برہنہ جسم پر پڑی۔ قسم ٹوٹ گئی اور اُروشی نظروں سے غائب ہوگئی۔

 

اُروَشی کے اس طرح اچانک چلے جانے سے راجا کو بڑا صدمہ ہوا۔ وہ اُروشی کے عشق میں دیوانہ ہوچکا تھا۔ کئی برسوں تک جنگلوں میں مارا مارا پھرنے کے بعد ایک دن وہ کوروکشیتر میں سرسوتی جھیل کے کنارے بیٹھا تھا کہ اتفاق سے کچھ پریاں آسمان سے اتریں۔ ان میں اُروَشی اور اس کی سہیلی تلوتما بھی تھی۔ اروشی نے اگرچہ راجا کو پہچان لیا، لیکن اس سے بولنے کی روادار نہ ہوئی۔ آخر جب تلو تما نے اصرار کیا تو دونوں راجا کے پاس آئیں، اُروشی کو دیکھتے ہی گویا راجا کی جان میں جان آگئی۔ گڑگڑا کر کہنے لگا کہ اب مجھے چھوڑ کر کبھی نہ جانا۔

 

اُروشی کے جانے اور راجہ کے منت کرنے کا منظر
اُروشی کے جانے اور راجہ کے منت کرنے کا منظر
اُروشی نے جواب دیا۔ ‘اے راجا! تم اپنی خواہشات نفسانی سے بے بس ہو کر بھکاریوں کی طرح میرے سامنے گڑگڑاتے ہو۔ اسی لیے تم نے راج پاٹ اور سلطنت سے منہ موڑا اور مارے مارے پھرتے ہو۔ مرد کو چاہیے کہ عورت کو کبھی اپنی کمزوری نہ بنائے۔ تمہیں اپنے حواس پر قابو پانا چاہیے۔ عورت کو اپنے آرام اور مزے سے مطلب ہوتا ہے۔ جب تک میں تمہارے ساتھ تھی، اور مجھے تم سے سکھ پہنچتا تھا، اس وقت تک تمہاری محبت کا دم بھرتی تھی۔ اب میرا تمہارا ساتھ نہیں۔ مجھے بھول جاؤ۔’

 

اس نصیحت کا راجا پر کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ اسی طرح گڑگڑاتا رہا۔ اُروَشی نے اس کی ایک نہ سنی، لیکن جاتے جاتے اتنا وعدہ کرگئی کہ اگر وہ راج پاٹ کے کام کاج میں دلچسپی لے گا اور اپنی ذمہ داری نبھائے گا تو وہ سال میں ایک بار اس کے پاس ضرور آجایا کرے گی۔

 

اُروَشی سال میں ایک رات کے لیے آسمان سے اترتی اور راجا کے پاس رہتی۔ اس طرح دونوں کے چھ بیٹے پیدا ہوئے جن میں سب سے بڑے کا نام آیو (عمر ) رکھا گیا۔

 

راجا کی گہری اور سچی لگن سے خوش ہو کر دیوتاؤں نے اسے مقدس آگ کا ایک برتن دیا اور یگیہ کرنے کا طریقہ بھی بتایا تاکہ اپنی ریاضت سے وہ دیوتا کا مرتبہ حاصل کرسکے۔ ایک دن وہ اروشی کی یاد میں کھویا ہوا تھا کہ اس نے دیکھا کہ جہاں مقدس آگ رکھی تھی وہاں دو درخت اُگ آئے ہیں۔ ایک پیپل کا اور دوسرا شمی کا۔ راجا نے ان کی ٹہنیوں سے آگ جلا جلا کر کئی یگیہ اور ہون کیے۔ بالآخر اسے آسمان پر جانے کی اجازت مل گئی، جہاں وہ ہمیشہ اروشی کے ساتھ رہنے لگا۔

 

یہ دنیا عجیب و غریب جگہ ہے۔ یہاں انسان کو جو سکھ اور لذتیں حاصل ہیں، دیوتا(فرشتے) بھی ان کو ترستے ہیں۔ انسان کی صحبت اور زمینی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے اروشی بار بار زمین پر اترتی تھی، جبکہ زمین پر رہنے والے انسان یعنی پُروروا کی ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ وہ عروج حاصل کرکے دیوتا بن جائے اور آسمان پر بلند منصب پائے۔ پُرورواکو وکرم بھی کہتے تھے۔ سنسکرت میں کالی داس نے اس قصے کو ’وکرم اروشی‘ کے نام سے لکھا اور ہندی میں رام دھاری سنگھ دِ نکر نے اس کہانی کو ’اُروَشی‘ کے نام سے دوبارہ لکھا۔ پرانوں کی کتھاؤں میں یہ کہانی بے حد ہر دلعزیز رہی ہے۔

 

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
نان فکشن

جوانی کی ہوس

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

پانڈووں کے پرکھوں میں راجا جیاتی بہت مشہور گزرا ہے۔وہ اپنے باپ کا سب سے طاقتور اور بہادر بیٹا تھا۔اپنے زمانے میں اس نے ایک کے بعد ایک کئی علاقوں کو فتح کیا اور شنکر اچاریہ کی بیٹی دیویائی سے شادی کی۔ جیاتی کی بہادری سے خوش ہو کر اندر نے اسے ایک ایسا شاندار رتھ دیا تھا جس میں من سے بھی تیز رفتار گھوڑے جتے ہوئے تھے۔کہا جاتا ہے کہ جیاتی نے اس رتھ کی مدد سے چھ دن میں ساری پرتھوی (زمین)کا سفر کیا اور کئی راجاؤں کو اپنا مطیع کرلیا۔

 

جیاتی جب بوڑھا ہونے لگا تو اس کو اپنی جوانی کی یاد ستانے لگی۔ وہ اپنے گرو کے پاس گیا اور پرنام کرکے بولا۔’مہاراج! جوانی کی یادمجھے بہت تڑپاتی ہے۔ کیا کوئی ایسی ترکیب ہو سکتی ہے کہ میں پھر سے جوان ہو جاؤں اور کبھی بوڑھا نہ ہوں۔’

 

پانڈووں کے پرکھوں میں راجا جیاتی بہت مشہور گزرا ہے۔وہ اپنے باپ کا سب سے طاقتور اور بہادر بیٹا تھا۔اپنے زمانے میں اس نے ایک کے بعد ایک کئی علاقوں کو فتح کیا اور شکر اچاریہ کی بیٹی دیویائی سے شادی کی۔
گرو نے سوچ کر کہا۔ ‘اس کا صرف ایک طریقہ ہے۔ اگر کوئی اس پر تیار ہوجائے کہ وہ تمہارا بڑھاپا لے لے اور تمہیں اپنی جوانی دے دے تو تم یقیناًپھر سے جوان ہوسکتے ہو۔’

 

جیاتی کے پانچ بیٹے تھے۔ سب کے سب تنو مند، تندرست اور جوان۔ اس نے سب سے بڑے بیٹے کو بلا کر پوچھا۔ ‘بیٹا! میں کچھ دن اور عیش و عشرت سے گزارنا چاہتا ہوں اور جوانی کے مزے لینا چاہتا ہوں۔کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ تم مجھے اپنی آدھی جوانی دے دو اور میرا بڑھاپا لے لو۔ اس کے بدلے میں تمہیں راج پاٹ دے دوں گا۔’ بیٹے نے بڑے ادب سے جواب دیا۔ ‘مہاراج! جب اپنی پوری جوانی کا لطف اٹھانے کے بعد بھی آپ کا جی نہیں بھرا تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں اس کا مزا لیے بغیر ہی اسے دوں۔ راج پاٹ تو بعد میں بھی مل سکتا ہے۔ لیکن جوانی پھر ہاتھ نہیں آئے گی۔’

 

جیاتی کو یہ سن کر بہت دکھ ہوا۔ اس نے اپنے بڑے بیٹے کو ولی عہدی کے حق سے محروم کردیا۔ اس کے بعد اس نے ایک ایک کرکے اپنے دوسرے بیٹوں کو بلایا اور ان سے بھی یہی سوال کیا۔ سب نے معذرت کی اور بڑھاپے کے بدلے جوانی دینے سے انکار کردیا، لیکن سب سے چھوٹے یعنی پانچویں بیٹے نے سر جھکا کر کہا۔ ‘مہاراج! آپ کا حکم سر آنکھوں پر، میں آپ کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیار ہوں۔ جوانی دینا تو معمولی بات ہے۔’

 

کہتے ہیں اسی طرح ایک کے بعد ایک کئی آدمیوں کی جوانی مانگ کر جیاتی نے ایک ہزار سال تک جوانی کے مزے لوٹے، لیکن پھر بھی جب گرو نے اس سے پوچھا تو راجا بدستور یہی جواب دیتا رہا کہ میری خواہشیں ابھی پوری نہیں ہوئیں اور میرا دل اب بھی بھٹک رہا ہے
چنانچہ جیاتی پھر سے جوان ہوگیا، اور متواتر کئی برسوں تک وہ پھر جوانی کے مزے لوٹتا رہا۔ لیکن کب تک؟ مانگی ہوئی جوانی کے دن بھی آخر پورے ہوگئے۔ جیاتی کو بڑھاپے کا خوف پھر ستانے لگا اور وہ پھر اپنے گرو کے پاس پہنچا۔ گرو نے پوچھا: ‘اے راجا، اب تو تم جوانی کی بہت خوشیاں دیکھ چکے ہو۔مطمئن ہونا؟’

 

جیاتی نے اداس لہجے میں کہا۔ ‘اچاریہ جی۔ سچ تو یہ ہے کہ ابھی میرا جی نہیں بھرا۔ اگر اجازت ہو تو اپنے بیٹے کی جوانی کے باقی دن بھی مانگ لوں، اور خوب مزے سے رہوں۔’

 

گرو نے کہا۔ ‘اگر بیٹا مان جائے تو تم شوق سے باقی حسرتیں بھی نکال لو۔’

 

جیاتی نے چھوٹے بیٹے کو بلا کر اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ بیٹے نے دوبارہ فرماں برداری کا ثبوت دیا۔ راجا پھر سے جوان ہوگیا۔ اب کی بار راجا نے دنیا کی ہر خوشی کو از سر نو حاصل کیا اور اپنے دل کے سب ارمان نکالے۔ آخر بیٹے سے مانگی ہوئی باقی جوانی کے یہ دن بھی پورے ہوگئے اور بڑھاپے نے جیاتی کو پھر آدبایا۔

 

گرو نے اس سے پوچھا۔ ‘کہو راجا، اب تو دنیا سے تمہارا دل بھر گیا ہوگا۔’

 

جیاتی نے سر ہلا کر جواب دیا۔ ‘نہیں مہاراج،ابھی کہاں؟ میرے دل میں تو خواہشوں کی آگ اور بھی بھڑک اٹھی ہے۔ اگر آپ کی عنایت سے ایک اور آدمی کی جوانی مجھے مل جائے تو ممکن ہے میری خواہشیں کسی قدر پوری ہوسکیں۔’
کہتے ہیں اسی طرح ایک کے بعد ایک کئی آدمیوں کی جوانی مانگ کر جیاتی نے ایک ہزار سال تک جوانی کے مزے لوٹے، لیکن پھر بھی جب گرو نے اس سے پوچھا تو راجا بدستور یہی جواب دیتا رہا کہ میری خواہشیں ابھی پوری نہیں ہوئیں اور میرا دل اب بھی بھٹک رہا ہے، آخر شنکر اچاریہ نے کہا:

 

‘اے راجا! اگر تم لاکھوں سال بھی جوان رہو اور عیش و عشرت میں ڈوبے رہو تو بھی تمہاری خواہشات پوری نہیں ہوسکتیں۔ خواہشات کے پیچھے بھاگنا ایسا ہے جیسے آگ میں گھی ڈالنا۔ جتنا بھی تم خواہشات کو پورا کرنے کے لیے بھٹکو گے، اتنی ہی یہ آگ زیادہ بھڑکتی جائے گی۔’

 

جیاتی نے پوچھا۔ ‘تو مہاراج! من کی شانتی کا راستہ کیا ہے؟’

 

شنکر اچاریہ بولے۔ ‘اپنی خواہشات پر قابو پانے کی کوشش کرو۔ ایسی چیز کی خواہش ہرگز نہ کرو جو تمہاری پہنچ سے باہر ہو۔ من کی شانتی صبر کے راستے پر چل کر ملتی ہے۔’

 

اس کے بعد جیاتی نے شکر اچاریہ کی نصیحت گرہ میں باندھ لی۔ کہتے ہیں ایک ہزار سال تک لہو و لعب میں ڈوبے رہنے پر بھی جیاتی کو جو سکھ اور شانتی حاصل نہ ہوسکی تھی، وہ اسے شنکر اچاریہ کے بتائے ہوئے راستے یعنی صبر کے راستے پر چل کر حاصل ہوگئی۔

 

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
نان فکشن

سمندر منتھن

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

ہندوستان کی لوک کتھاؤں میں دیوتاؤں کو نیکی کا مظہر بتایا گیا ہے اور راکشسوں کو بدی کا۔ نیکی اور بدی میں کشمکش جاری رہتی ہی ہے۔ چنانچہ کئی پرانی کہانیوں میں دیوتاؤں اور راکشسوں کی جنگ کا ذکر ملتا ہے۔ راکشس، دیوتاؤں کو آرام چین سے رہنے نہیں دیتے تھے اور ان کے کاموں میں طرح طرح سے رکاوٹیں ڈالا کرتے تھے۔ ایک دفعہ تمام دیوتاؤں نے مل کر برہما جی سے راکشسوں کی شکایت کی۔معاملہ چونکہ برہما جی کے بس کا نہیں تھا، وہ انہیں نارائن بھگوان کے پاس لے گئے جو سب کے خالق ہیں۔ انہوں نے فرمایا:

 

“ظاہر ہے میری ہمدردی دیوتاؤں کے ساتھ ہے، لیکن درواسارشی کے شراپ(بددعا) سے آج کل راکشسوں کا پلہ بھاری ہے۔ ضروری ہے کہ پہلے اس بددعا کا اثر زائل کیا جائے۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ سب دیوتا راکشسوں کے پاس جائیں اور ان کے ساتھ مل کر سمندر منتھن کریں۔ سمندر کا متھنا آسان کام نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ اس کے لیے مندراچل پہاڑ کو متھنی بنایا جائے اور واسکی ناگ کو ڈوری کے طور پر استعمال کیا جائے۔ سمندر کے متھنے سے چودہ انمول رتن دستیاب ہوں گے، جن میں امرت بھی ہوگا۔ اگر وہ امرت کسی طرح دیوتاؤں کو پلا دیا جائے تو دیوتا امر ہوجائیں گے اور راکشسوں پر ہمیشہ غالب رہیں گے۔”

 

نارائن جی نے مشورہ دیا ہے کہ دیوتا اور راکشس دونوں مل کر کثیر ساگر کو متھیں۔ جس طرح دہی بلونے سے مکھن نکلتا ہے اسی طرح سمندر متھنے سے چودہ انمول رتن نکلیں گے، جن میں امرت بھی ہوگا۔ وہ امرت ہم سب مل کر پئیں گے۔
دیوتاؤں نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا۔ ‘مہاراج راکشس ہم سے کہیں زیادہ طاقت ور ہیں۔ اگر اتنی محنت سے نکالا ہوا مرت وہ لوگ ہم سے چھین کر پی گئے تو ہمارا کیا ہوگا؟’
نارائن جی نے یقین دلایا: ‘جو بھی ہو امرت کسی نہ کسی طرح دیوتاؤں کو پلایا جائے گا اور راکشس کچھ بھی نہ کرسکیں گے۔’

 

اگلے دن دیوتا، راکشسوں کے سردار ’بلی راج‘ کے پاس گئے۔ بلی راج انہیں نہتا دیکھ کر دل ہی دل میں بہت خوش ہوئے اور سوچنے لگے کہ اندر اور برہما جیسے بڑے بڑے دیوتا آج کیسے میری پناہ میں آگئے۔
کہنے لگے۔’فرمائیے، آج کیسے آنا ہوا؟’
اندر مہاراج نے کہا۔ ‘یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ہم سب چاہے دیوتا ہوں، چاہے راکشس، ہیں سب کیشپ جی کی اولاد ہیں اور اس رشتے سے بھائی بھائی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں مل کر کوئی ایسا طریقہ نکالیں کہ نہ تو بڑھاپا ستائے اور نہ موت ہی آئے، ہم سب مل جل کر رہیں اور پھولیں پھلیں۔ اس سلسلے میں نارائن جی نے مشورہ دیا ہے کہ دیوتا اور راکشس دونوں مل کر کثیر ساگر کو متھیں۔ جس طرح دہی بلونے سے مکھن نکلتا ہے اسی طرح سمندر متھنے سے چودہ انمول رتن نکلیں گے، جن میں امرت بھی ہوگا۔ وہ امرت ہم سب مل کر پئیں گے۔’
بلی راج نے اپنے راکشس ساتھیوں سے مشورہ کیا اور دیوتاؤں کی تجویز منظور کرتے ہوئے کہا۔ ‘ہم اس نیک کام میں یقیناً آپ کا ساتھ دیں گے لیکن آپ کو وعدہ کرنا ہوگا کہ سمندر سے جو بھی انمول رتن نکلیں گے، انہیں برابر برابر بانٹا جائے گا۔’

 

دیوتاؤں نے یہ تجویز مان لی، اور سمندر متھنے کی تیاریاں ہونے لگیں۔ دیوتاؤں اور راکشسوں نے مل کر بڑی محنت سے مندراچل پہاڑ کو اپنی جگہ سے اکھیڑا اور اسے گرڑ کی پیٹھ پر رکھ کر سمندر تک لائے، اور پھر سمندر کے بیچوں بیچ اسے سیدھا کھڑا کردیا۔اس کے بعد سب مل کر پاتال سے واسکی ناگ کو لینے گئے، اور نارائن جی کا حکم سنا کر اسے اپنے ساتھ لے آئے۔ سب سے پہلے گنیش جی کی پوجا کی گئی اور اس کے بعد سمندر متھنے کے مشکل کام کا آغاز کیا گیا۔ نارائن جی کے مشورے کے مطابق دیوتاؤں نے سانپ کو سر کی طرف سے پکڑا اور راکشسوں سے دم پکڑنے کو کہا۔ اس پر راکشس بگڑ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر بات میں دیوتاؤں کے برابر ہیں، تو ناگ کو دم کی طرف سے کیوں پکڑیں۔ انہوں نے اصرار کیا کہ وہ ناگ کو سر کی طرف سے پکڑیں گے، دم دیوتاؤں کو پکڑنی پڑے گی۔ دیوتا چونکہ امرت پانے کی خاطر سب کچھ سہنے کو تیار تھے، وہ اس پر بھی راضی ہوگئے۔ چنانچہ دونوں فریق باری باری زور لگا کر سمندر متھنے لگے۔ سمندر کے نیلے نیلے پانی میں میلوں تک جھاگ ہی جھاگ دکھائی دینے لگے۔ ادھر جب راکشس ناگ کو سر سے کھینچتے تو مارے درد کے اس کی پھنکار نکل جاتی، جس کی آنچ سے راکشس جھلسنے لگے۔ آنچ کی تباہی سے بچنے کے لیے اب انہوں نے چاہا کہ وہ ناگ کو دم کی طرف سے پکڑیں لیکن نارائن جی نے کہا کہ جو طرف انہوں نے اپنی مرضی سے لی ہے، اب اسی طرف رہنا پڑے گا۔ مجبوراً وہ ناگ کا سر پکڑ کر سمندر کو متتھے رہے اور جھلس جھلس کر کالے پڑ گئے۔ جب دونوں فریق سمندر متھتے متھتے تھک گئے اور کچھ بھی حاصل نہ ہوا تو نارائن سے شکایت کرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمت نہ ہاریں اور کچھ دیر دم لے کر پھر کام شروع کردیں۔

 

سمندر کے نیلے نیلے پانی میں میلوں تک جھاگ ہی جھاگ دکھائی دینے لگے۔ ادھر جب راکشس ناگ کو سر سے کھینچتے تو مارے درد کے اس کی پھنکار نکل جاتی، جس کی آنچ سے راکشس جھلسنے لگے۔
تھوڑی دیر بعد جب دونوں نے جوش میں آکر متھنا شروع کیا تو جلدی ہی سمندر سے ایسا ’ہلاہل‘(زہر) نکلا جس کے اثر سے مچھلیاں مرنے لگیں اور جانور تڑپنے لگے۔دیوتاؤں اور راکشسوں نے یک زبان ہو کر کہا:
‘نارائن! اس زہر کو کسی طرح سنبھالیے۔ورنہ ہم سب اس کے اثر سے مرجائیں گے۔’
نارائن نے کہا۔’اس زہر کو سوائے شو جی کے کوئی ٹھکانے نہیں لگا سکتا۔سب مل کر ان سے کہیں۔’
چنانچہ سب نے ہاتھ جوڑ کر شو جی سے گزارش کی کہ وہ انہیں اس مصیبت سے چھٹکارا دلائیں۔ شو جی دیکھتے دیکھتے غٹا غٹ زہر چڑھا گئے۔ زہر پینے کو تو وہ پی گئے۔ لیکن اس کے اثر سے ان کی گردن نیلی پڑ گئی(اسی لیے شو جی نیل کنٹھ کہلاتے ہیں) زہر پیتے وقت چند بوندیں زمین پر گر گئیں، کہتے ہیں کہ اسی سے تمام زہریلے جانور سانپ، بچھو وغیرہ پیدا ہوئے۔

 

زہر کو ٹھکانے لگانے کے بعد سمندر متھنے کا کام پھر شروع ہوگیا۔ اب کی بار جھاگ کے خوب صورت بادلوں سے ایک سفید “کام دھینو” گائے نکلی۔ نارائن جی نے کہا،”یہ گائے برہمنوں اور رشیوں منیوں کو دے دینی چاہیے۔” لہٰذا انہوں نے وہ گائے وشسٹ مُنی اور دُرواسا رشی کو دے دی اور کہا کہ “اس گائے کو سورگ میں رکھا جائے۔ جب برہمنوں اور رشیوں کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو اس گائے کی پوجا کرنے سے جو مانگیں گے وہی مل جائے گا۔”
اس کے بعد سمندر منتھن کا کام پھر زور شور سے شروع ہوا۔ اب کے نارائن جی نے فیصلہ کیا کہ جو چیز بھی سمندر سے نکلے، اس میں سے باری باری ایک چیز دیوتاؤں کو ایک چیز راکشسوں کو دی جائے گی۔ راکشسوں نے کہا کہ پہلی چیز ہماری ہوگی۔ نارائن نے کہا، ایسا ہی ہوگا۔ تھوڑی دیر میں سمندر سے ایک بہت ہی خوب صورت سفید گھوڑا نکلا۔ راکشسوں نے کہا کہ یہ گھوڑا ہمارے راجا ‘بلی'” کی سواری کے کام آئے گا۔ وہ گھوڑا راکشسوں کو دے دیا گیا۔
اس کے بعد سمندر سے سفید رنگ کا ’اراوت‘ ہاتھی نکلا۔ وہ دیوتاؤں کو دے دیا گیا۔ پانچویں بار سمندر میں سے بہت ہی سندر اور چمکدار ’کوستوبھا ‘ موتی نکلا۔

 

‘اس پر ہمارا حق ہے۔‘نارائن نے کہا۔’یہ ہم لیں گے۔’
چنانچہ دیوتا اور راکشس دونوں نے آپس میں مشورہ کرکے موتی انہیں دے دیا۔ انہوں نے وہ موتی اپنے گلے میں پہن لیا۔ چھٹی بار سمندر متھنے سے ’پاریجات‘ نام کا ایک درخت نکلا، جسے دیکھ کر نارائن جی نے کہا۔’یہ درخت دلی مرادیں پوری کرنے والا ہے۔ لہٰذا اسے سورگ میں رکھنا چاہیے۔’

 

ساتویں بار رمبھا نامی ایک نہایت ہی حسین و جمیل اپسرا (پری) سمندر سے نکلی۔ چونکہ وہ جھگڑے کی بنیاد بن سکتی تھی اس لیے اسے حکم دیا گیا کہ وہ ناچ گا کر سب کا دل بہلائے۔ آٹھویں بار سمندر سے لکشمی جی نہایت حسین اور پاکیزہ لباس پہنے کنول پر کھڑی ہوئی ظاہر ہوئیں۔ ان کے دائیں ہاتھ میں پھول اوربائیں ہاتھ میں مالا تھی۔ ان کے حسن پر فریفتہ ہوکر دیوتاؤں اور راکشسوں نے سمندر متھنا چھوڑ دیا اور انہیں حاصل کرنے کے لیے ان کے چاروں طرف جمع ہوگئے۔ لکشمی جی نے کہا:

 

‘مجھے زبردستی کوئی نہیں لے جاسکتا۔ مجھے جس میں سب سے زیادہ خوبیاں نظر آئیں گی میں خود ہی اپنی مرضی سے اس کے پاس چلی جاؤں گی اور اس کے گلے میں جے مالا ڈالوں گی۔’ یہ سن کر سبھی دیوتا اور راکشس کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔ لکشمی جی نے سب پر باری باری نظر ڈالی اور بالآخر جے مالا نارائن جی کے گلے میں ڈال دی۔

 

اب دیوتا اور راکشس واپس جا کر پھر سمندر متھنے لگے۔ اس بار چاند جیسے چہرے اور پھولوں جیسے بدن والی ایک حسین و جمیل لڑکی ’’واونی‘ سمندر سے نکلی جسے بلا تکرار راکشسوں کو دے دیا گیا۔ اس کے بعد نورانی چہرے والا ’دھن ونتری‘ وید(حکیم) باہر آیا، جس کے ایک ہاتھ میں امرت کا کلس اور دوسرے ہاتھ میں ہریتکی تھی۔ اسے دیکھتے ہی دیوتا اور راکشس دونوں خوشی سے پاگل ہواٹھے کہ جس چیز کے لیے اتنی دیر سے مصیبت اٹھا رہے تھے آخر وہ دستیاب ہوگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک راکشس نے امرت کا کلس دھن ونتری وئید کے ہاتھ سے چھین لیا۔ دیوتا بولے اس میں آدھا حصہ ہمارا بھی ہے۔راکشسوں نے خودغرضی سے جواب دیا کہ پہلے ہم پییں گے، اگر کچھ بچ گیا تو تمہیں بھی دیں گے۔ دیوتاؤں نے نارائن سے فریاد کی کہ امرت ہی کے لیے تو یہ سارے جتن کیے تھے اور اسی کو راکشس ہڑپ کرنا چاہتے ہیں۔

 

Amrit Myth-Laaltain

(ہندو دیوتاوں اور راکشسوں کے سمندر متھنے کا منظر)
نارائن نے کہا۔ ‘تم فکر نہ کرو، کوئی نہ کوئی راستہ نکالا جائے گا۔’ ادھر راکشسوں میں امرت پینے کے لیے چھینا جھپٹی جاری تھی۔جو زیادہ طاقت بر تھے وہ کلس چھین لیتے تھے۔ لیکن امرت پینے کا موقع ابھی کسی کو نہ ملا تھا۔اتنے میں نارائن جی ایک خوبصورت اپسرا کا روپ بدل کر وہاں آپہنچے، اور اپنی اداؤں سے راکشسوں کا دل لبھانے لگے۔ راکشسوں نے کہا، آج ہمارا ستارہ بہت بلند ہے۔تینوں لوک سے زیادہ حسین یہ اپسرا بھی ہمیں پر مہربان نظر آتی ہے۔کیوں نہ ہم سب اس کے چاروں طرف بیٹھ جائیں اور اسی کے ہاتھ سے باری باری امرت پیئں۔ چنانچہ امرت سے بھرا وہ کلس اس حسینہ کے سامنے رکھ دیا گیا۔

 

حسینہ نے ترچھی نظروں سے راکشسوں کی طرف دیکھا اور کہا۔ ‘نہ بھئی!میں تو اس جھگڑے میں نہیں پڑتی۔ تمہارے اور دیوتاؤں کے جھگڑے میں میری جان خواہ مخواہ جائے گی۔ مجھے پنچ مت بناؤ، میرے لیے تو سب برابر ہیں۔‘
راکشسوں کو یقین تھا کہ حسینہ انہیں کی طرف داری کرے گی۔ چنانچہ انہوں نے اصرار کیا۔’جیسے بھی ہو امرت تو ہم تمہارے ہی ہاتھ سے پییں گے۔ ہمیں تمہاری ہر بات منظور ہے۔جیسے چاہو انصاف کرو۔’
حسینہ نے کہا۔ ‘اچھا تو تم سب نہا دھو کر پوتر (پاک) ہو جاؤ اور امرت پینے سے پہلے اگنی کی پوجا کرو۔’

 

اتنے میں نارائن جی ایک خوبصورت اپسرا کا روپ بدل کر وہاں آپہنچے، اور اپنی اداؤں سے راکشسوں کا دل لبھانے لگے۔ راکشسوں نے کہا، آج ہمارا ستارہ بہت بلند ہے۔تینوں لوک سے زیادہ حسین یہ اپسرا بھی ہمیں پر مہربان نظر آتی ہے۔کیوں نہ ہم سب اس کے چاروں طرف بیٹھ جائیں اور اسی کے ہاتھ سے باری باری امرت پیئں
دونوں فریقوں نے حکم کی تعمیل کی اور تھوڑی ہی دیر میں صفوں میں آکر بیٹھ گئے۔ حسینہ نے دائیں طرف سے جدھر دیوتا بیٹھے تھے، امرت پلانا شروع کردیا۔ ساتھ ہی ساتھ بڑے ناز و ادا سے وہ راکشسوں کوبھی دیکھتی اور مسکرا مسکرا کے ان کا دل رجھاتی جاتی۔ جب تقریباً سبھی دیوتا امرت پی چکے اور صرف سوریہ(سورج) اور چندرما(چاند) باقی رہ گئے تو راہو نامی ایک راکشس کو شک ہوگیا کہ سارا امرت تو دیوتاؤں ہی میں ختم ہورہا ہے۔ یہ سوچتے ہی جھٹ راہو نے دیوتا کا روپ بدلا اور سورج اور چاند کے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔امرت ابھی راہو کے حلق تک ہی پہنچا تھا کہ سورج نے راہو کو پہچان لیا اور لپک کر کہا۔ ‘غضب ہوگیا، غضب ہوگیا۔ یہ تو راکشس ہے۔ اس کو امرت کیسے پلادیا۔’ وہیں سدرشن چکر نمودار ہوا اور راہو کا سر کاٹ دیا گیا، لیکن امرت اپنا اثر کرچکا تھا، اس لیے راہو مر نہ سکا۔اس کے دو ٹکڑ ہوگئے، سر راہو کی شکل میں اور دھڑ کیتو کی شکل میں زندہ رہا۔

 

غرض دیوتاؤں کے ساتھ راہو اور کیتو دو راکشس بھ امر ہوگئے۔ لیکن چونکہ سورج اور چاند کے بتانے ہی سے راہو کے دو ٹکڑے ہوئے تھے، راہو اور کیتو کی سورج اور
چاند سے ہمیشہ کے لیے دشمنی ہوگئی۔کہتے ہیں کہ سورج اور چاند سے ہمیشہ کے لیے دشمنی ہوگئی۔ کہتے ہیں یہ عداوت آج تک چلی آتی ہے۔ سورج گرہن کے وقت راہو سورج کو نگل لیتا ہے اور چاند گرہن کے وقت کیتو چاند کو۔
راہو اور کیتو چونکہ دونوں امر ہیں، اس لیے ان کو بھی دیوتا کا درجہ دیا جاتا ہے۔ یوں تو اصل گریہہ (ستارے) سات ہیں لیکن راہو اور کیتو کو ملا کر رسم و رواج کے لیے نو ستارے مانے جاتے ہیں، انہیں ’نو گریہہ‘ کہا جاتا ہے۔
(ماخوذ ‘پرانوں کی کہانیاں’ مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔