Categories
فکشن

پستان ۔ دسویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-10
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

کچ ایک بے پناہ اندھیرے میں لمبی سانسیں بھررہی تھی۔رات کے فرفر کرتے ہوئے ، ہوا سے بھرے قالین پر قدم رکھنے کی جرات اس نے خود میں نہ پائی تو وہ گرائونڈ فلور کے آخری زینے پر بیٹھ گئی۔باہر بارش بہت تیز ہورہی تھی، جیسے کسی نے بادلوں کی بق بق کرتی ہوئی بھری ہوئی توندوں میں چاقو گھسیڑ دیا ہو۔کیا ہوگیا تھا، اسے وہ میسج پڑھ کر،جس رشتے میں کوئی توقع نہ تھی، جس کے مستقبل کی وہ عامیانہ سوچ اس پر کبھی حاوی نہ تھی، کیا وہ دنیا کی باقی عورتوں کی طرح ایک سرخ لباس میں خود کو صدر کے ساتھ حجلہ عروسی میں دیکھنا چاہتی تھی؟ کیا اس خاص، خوشبوئوں سے لدی پھندی اور رویات سے بوجھل رات میں کوئی خاص بات ہوتی، ایسا کیا تھا جو جنسی اختیارات حاصل کرنے میں اب تک مانع رہا تھا،شوہر اور بیوی کا جنسی عمل بھی کوئی ایسی بات ہے،جس کا رومانس محسوس کیا جاسکے۔وہ تو ایک تھکی ہاری عادتوں میں روزبروز بدلتے جانے والا عمل ہے، ایک شخص کے ساتھ محبت کے نام پر اپنا پلو باندھ کر رات کو اسی پر پلو کھول دینا، نہیں یہ سب بہت عجیب تھا۔صرف ایک ہی شخص کیوں، ابھی اس کے پاس زندگی تھی، ایک بھرپور لمبی اور سانس لیتی ہوئی تازہ دم زندگی۔ وہ الگ رہ سکتی تھی، اسے تکلفات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیا جانے والا جنسی عمل پسند نہیں تھا، جیسا ان دو افراد کے بیچ ہوتا ہے، جو پتی پتنی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔اس میں دونوں کو ایک دوسری کی جنسی تہذیب کا خیال رکھنا پڑتا ہے، جنسی تہذیب؟ یہ بھی کوئی بات ہے؟اس کا تو دل چاہتا تھا کہ صدر اور وہ ایک دوسرے کے بدن سے کھیلیں، ویسے ہی، جیسے کوئی ضدی بچہ پلاسٹک کے بازیچوں کے ساتھ کھیلتا ہے ، غباروں کے ساتھ کھیلتا ہے۔وہ اپنے بدن کے ہر انگ سے محبت کرتی تھی، اس کی محبت میں ہرنیوں کی سی وحشت تھی، وہ کسی پستانیے کی طرح زندگی نہیں گزارنا چاہتی تھی، جس کا مقصد صرف اپنی اولاد کو دودھ پلانا ہو، وہ اپنے سینے کی حفاظت کرنا چاہتی تھی، اسے اپنی مرضی سے برباد کرنے کے لیے۔جب بھی صدر اس کے سینے کے درمیان موجود خاکی لکیر پر ہاتھ رکھتا،اس کی سانسیں گرم ہونے لگتی تھیں، رانوں کے درمیان کوئی آبشار ابلنے کے لیے بے تاب ہونے لگتا اور سرد موسم میں بھی حدت کی ساری تہیں اس کی ہتھیلیوں میں جذب ہونے لگتیں۔اسے یاد تھا کہ کسی شخص نے اسے بتایا تھا کہ انسان کیچڑ سے بنائے گئے ہیں، لبلبلی مٹیوں سے، جن کو مٹھیوں میں بھرنے کے بعد انگلیوں کے کھانچوں سے نکلتے ہوئے دیکھنے میں ایک سلیٹی سی فرحت محسوس ہوتی تھی۔ایک دفعہ اس نے ایک آدمی کے منہ پر تھوک دیا تھا، جب اس نے کہا تھا کہ عورت کی تکمیل تو ماں بن جانے میں ہے۔حالانکہ اتنا غصہ اسے اچانک کیوں آیا وہ اس کی وجہ نہیں جانتی تھی، مگر ماں بن جانا، قدرت کی جانب سے اس کے نزدیک ایک اضافی بوجھ تھا، ہر عورت پر۔جو دھیرے دھیرے ذمہ داری سے پسند میں بدلتا چلا گیا اور پھر عورت نے لاچاری میں اس تصور کو اپنی ذات کے سب سے اونچے کنگورے پر ٹانگ کر دیکھنا شروع کردیا تاکہ وہ اس لعنت کو کم از کم جب بھی دیکھے، سر اونچا کرکے دیکھے۔ماں بن جانا، ضروری نہیں ہے، ایک عورت بچے کو جنم دے سکتی ہے، بغیر ماں بنے بھی۔عورت کی چھاتیوں میں بننے والا دودھ دراصل اس گرم خون کا پہلا قتل ہے، جو اس میں جنسی حرارت پیدا کیا کرتا تھا۔وہ دنیا کی ساری ماؤں کو بتانا چاہتی تھی کہ انہیں اپنے بچے اس شرم اور جھجھک کے ساتھ نہیں پالنے چاہیے کہ زندگی بھر اپنے ہی پستانوں کو بغلوں میں دبا کر گھومنا پڑے۔اسے تقدس سے چڑ تھی، کسی بھی قسم کے تقدس سے۔عورت کو دیوی، ماں یا اس کے پیروں میں جنت رکھنے کی روایتی فکروں سے اسے سخت الجھن ہوتی تھی، وہ نہیں چاہتی تھی کہ جب وہ کوئی لڑکا پیدا کرے تو اس کا بچہ اپنی گوشت سے بنی ہوئی ایک سادہ اور جنسی خواہش رکھنے والی عورت کو کوئی مقدس ہستی سمجھ بیٹھے اور اس کے ہونٹ چومنے، سینے پر ہاتھ رکھنے اور گلے لگنے پر پستانوں کی موجودگی کو نظر انداز کرنے کے رائج طریقوں سے آشنا ہو۔وہ سوچتی تھی کہ اگر کبھی اس نے بچے کو جنم دیا تو وہ ایک انسان کو تخلیق کرے گی، اپنے ہی بطن سے، اپنے ہی جیسا ایک گوشت کا سانس بھرتا ہوا لوتھڑا۔کیچڑ سے بنا ہوا، اسی کی طرح ، سلیٹی خوشبو سے لیس۔برسات کا زور نہیں تھم رہا تھا اور بھیگنے کی اس میں ہمت نہ تھی، بدن سردی کی شدت سے جھرجھری لینے لگا تو اس نے اپنے آپ کو زانوئوں کے چادر میں لپیٹ لیا، لیکن کچھ دیر یونہی بیٹھنے کی وجہ سے گھٹنوں میں درد ہونے لگا اور گلے میں خشکی سی محسوس ہوئی۔رات کسی اندھے ، گہرے غار کی طرح منہ کھول کر چیخ رہی تھی اور اس کے منہ سے نکلنے والا ٹھنڈی ہواؤں کا بھبھکا کچ کی کنپٹیوں پر زور ڈال رہا تھا، اس کے روئیں روئیں کو چھو رہا تھا۔ اس نے اس بھیانک حملے سے بچنے کے لیے خود کو جھریوں والے حصے میں ایک طرف بٹھا دیا، اب اس کے اور ہوا کے بیچ ایک موٹی دیوار کی پرت تھی، مگر زمین بالکل نم تھی، اتنی سرد اور ایسی سوجی ہوئی، جیسے فریزر میں رکھا ہوا پپیتا ہو۔اس کے کولہے اس سردی سے کچھ دیر تک خود کو بدن کی گرمی کی وجہ سے برداشت کرسکتے تھے، وہ سکڑ کر کونے میں ہی ہلکی غنودگی میں ڈوب گئی۔مگر اب بھی اس لڑکی کا دھیان اس کے دماغ کے ریشوں میں چوکڑیاں بھر رہا تھا۔

 

کیا ایک عورت بغیر رقابت کے زندہ نہیں رہ سکتی، وہ بھی تو انہی عورتوں کی طرح اس معاملے میں پیش آرہی تھی جو مرد کی ناف پر اپنا نام کھدوادینا چاہتی ہیں۔لیکن رقابت کی یہ عجیب و غریب پہیلی عورت ہی کے حصے میں تو نہیں آئی، مرد بھی عورت کے کون سے دوسرے رشتے کو برداشت کرسکتا ہے۔اور پھر سوال یہاں شاید رقابت کا نہیں تھا، یا پھر شاید پہلے کے کچھ لمحوں میں رہا ہو، مگر اب نہ تھا۔اب وہ اپنے اور صدر کے تنہائی پسند تعلق میں ایک تیسرے سایے کو پھیلتا ہوا دیکھ رہی تھی، اسے لگا کہ این نامی وہ لڑکی ، کون تھی، کب تھی ، شاید اس بات سے اسے کوئی خاص فرق نہیں پڑا تھا، خاص طور پر اب جب وہ اس معاملے پر سرد موسم میں ٹھنڈے دل سے وچار کررہی تھی۔وہ شاید اب یہ سچ جانتے ہوئے کہ ایک مست و بے خود سانپ اس طرف لپک رہا ہے، اپنے آپ کو ، اپنے جسم کے سبز ناگ کو صدر کے تن سے لپیٹے رکھنے میں برائی محسوس کررہی تھی۔اب تک اس نے کوئی رشتہ دل سے نہیں بنایا تھا، صدر بلاشبہ وہ پہلا شخص تھا، جس نے اس کے بدن کی آیتوں کو ترجمے ہی نہیں تفسیر کے ساتھ پڑھا تھا، ان پر بحث کی تھی، انہیں اچھا یا خراب، مقبول یا منسوخ قرار دیا تھا۔مگر اب یہ کھیل اور کتنے دن جاری رہ سکتا تھا، سانسوں کا جھرنا، اس کی ناف کے نیچے موجود سیاہ جھلیوں کی کٹوری میں کہاں تک ٹھہرتا، ایک نہ ایک روز تو چھلکنا تھا، اور پھر آج تو یہ رات بھی طوفانی ہورہی تھی، اندر و باہر کا اتنا پانی اس کے شریر کے چلو میں کیسے سماسکتا تھا، سو اس نے ہمیشہ کے لیے خود کو اس رشتے سے الگ کردینے کا یہ سب سے بہتر موقع سمجھا تھا۔یا پھر یہ بالکل بے ارادہ سی کیفیت تھی، جیسے کبھی کبھی کوئی مسافر بغیر کسی منزل کے بھی راستوں پر نکل پڑتا ہے، صرف اپنی ذات کی بے چینی کی وجہ سے۔کچ کے ساتھ بھی شاید ایسا ہی ہورہا تھا۔ بہت دیر اسی غنودگی کے عالم میں بیٹھنے کے بعد اسے اچانک متلی سی محسوس ہونے لگی، ایسے میں جب اسے واپس اسے صدر کے برابر میں پھیلے کمفرٹر کی گرم آغوش میں چلے جانا چاہیے تھا، وہ برسات میں باہر کی طرف نکل کھڑی ہوئی۔کالی گھنی برسات میں سفید بوندوں کی ایسی یلغار اس پر شروع ہوئی کہ اس کا تقریبا ننگ دھڑنگ بدن بے جان سا ہونے لگا، برسات کے ہی دوران اسے دو چار الٹیاں ہوئیں، رات کا سارا کھانا باہر نکل چکا اور اب پتھ کی آخری ہری الٹی نے اسے بالکل بے دم کردیا۔اچانک اسے ایک ٹھیلہ دکھائی دیا، یا شاید وہ اس سے ٹکراگئی تھی، اس پر نیلے رنگ کی موٹی سی پلاسٹک تنی ہوئی تھی، شاید اس کے مالک نے اس پلاسٹک کو تان دیا تھا تاکہ اس گھنگھور برسات میں لکڑی کا ٹھیلہ پھولنے سے بچ جائے، اسی ٹھیلے پر ایک جانب ایک کتیا اپنے چار بچوں کو بغل میں دبائے سانسیں بھررہی تھی، اس کی پھولتی پچکتی پسلیوں کی کسرت بتارہی تھی کہ وہ گہری نیند میں ہے،ٹھیلے کو لگنے والی ٹھیل سے اس میں کچھ انگڑائی سی کیفیت پیدا ہوئی، لیکن ٹھنڈ کی اتھاہ گہرائی میں اترجانے کے ڈر سے وہ خود اپنے بچوں سمیت اپنے ہی بازوئوں میں دوبارہ سمٹ گئی۔وہ کتیا کی بغل میں ٹانگوں کو گھٹنوں کے بل موڑ کر لیٹ گئی، ٹھنڈ تو بہرحال تھی، مگر پانی کی بہت دھیمی پھوار پڑرہی تھی، کچھ دیر بعد اسے ہوش ہی نہیں رہا کہ وہ سورہی ہے یا جاگ رہی ہے، ایسا لگتا تھا جیسے اس کی کمر پر کوئی بھاری بوجھ رکھ دیا گیا ہے، بہت سارے بھیڑیے مل کر اس کی چھاتی کو بھنبھوڑ رہے ہیں اور وہ رسیوں سے بندھی،سر کو اچکا کر اپنے ہی جسم سے اٹھنے والے تعفن اور نوچے جانے والے گوشت کے ٹکڑوں کو دیکھ رہی ہے، اچانک اسے لگا جیسے اسے ایک بہت اونچی عمارت سے پھینک دیا گیا ہے، مگر نیچے گرنے سے پہلے ہوا نے اچک کر اس کے بالوں کو ایک بہت بڑے سے ہینگر میں ٹانگ دیا ہے۔اس نے یہ بھی دیکھا کہ وہ مرچکی ہے اور اس کی ارتھی پر بہت ساری عورتیں بال کھول کر رورہی ہیں، چیخ رہی ہیں، مگر ان کے منہ سے عجیب و غریب اور دل کو جھنجھوڑنے والی آوازیں نکل رہی ہیں۔انہی عورتوں میں صدر بھی شامل ہے، اس کے بھی سینے پر پستان کے دو بھاری پھول کھل اٹھے ہیں اور وہ ماتھے پر لال رنگ کا بھبھوت لگائے ، ہاتھوں میں موجود چوڑیوں کو زمین پر مار کر توڑ رہا ہے۔بہت دیر سے اسی کیفیت میں موجود رہنے کے بعد اسے لگا جیسے کوئی اس کے کولہے کو ہلکے ہلکے کھرچ رہا ہے، اس نے کروٹ لینی چاہی تو معلوم ہوا کہ وہ تو سیدھی ہی لیٹی ہے، کولہے پر ٹھیلے پر اگی ہوئی کوئی کیل مستقل چبھ رہی تھی، اس نے اپنے کپکپاتے ہوئے پوروں سے اس کیل کو چھوا، اس کے سینے پر ایک پلا آکر لیٹ گیا تھااور اتنی ہی بے خبری کے ساتھ سورہاتھا، جیسے کوئی معصوم بچہ اپنی ماں کی چھاتی سے لپٹ کر ،گرم و گداز اور گدگدے بدن کی لہر میں لپٹ کر اپنے بند نتھنوں کی الجھن کو بھول کر سوجاتا ہے۔اسے صدر کا دھیان آیا، شاید وہ یہ سب کچھ جو کررہی تھی، ٹھیک نہیں تھا۔اس نے بڑی محنت سے اپنی ہمت کو مجتمع کیا اور دوبارہ اسی سمت کو لوٹ گئی جدھر سے آئی تھی۔بارش ابھی بھی فراٹے سے ہورہی تھی، اور اندھیرا بدستور اپنی کوربینی پر دہاڑیں مار مار کر رو رہا تھا۔مگر وہ ٹٹولتے ہوئے صحیح سمت میں پہنچ گئی۔

 

گھر پہنچ کر سب سے پہلے اس نے بھیگے ہوئے بدن کو بہت تھکا ہوا محسوس کیا، اتنا کہ وہ اپنے ہی بوجھ کو اٹھانے سے قاصر معلوم ہوتی تھی، سلائڈنگ کھلی ہوئی تھی اور ہوا کے ساتھ ساتھ پانی کی زبردست پھواریں اندر بھی داخل ہورہی تھی، فرش پر اور دیواروں پر پانی ہی پانی نظر آرہا تھا، جیسے وہ اجلے خوابوں کی ایسی گھٹی ہوئی آوازوں اور بجھی ہوئی امیدوں پر پڑا ہوا پانی ہو، جس کو واپس بھیجنا ناممکن سا ہی ہوا کرتا ہے۔اس نے اپنے بدن کی اس تکان کو بہت دیر تک صوفے پر بیٹھ کر اس کی گیلے سفنج میں جذب کیا ، پھر یکایک اس کی نظر صدر کی بنائی ہوئی ایک تصویر کی جانب گئی ، جس میں ایک کاگ پستان کو اپنے منہ دبائے حرص کے مارے اڑرہا تھا اور ایک بڑی سی چیل اس کے پیچھے منڈرارہی تھی، اس نے اٹھ کر تصویر میں موجود پستان کو چھوا،وہ اس تصویر کامطلب کئی دفعہ صدر سے پوچھ چکی تھی، مگر کچھ نہیں بتا تا تھا یا شاید بتاہی نہ پاتا ہو۔وہ کسی فرانسی داداازم کا حوالہ دے کر اس کے سوال کو ہوا میں اڑا دیا کرتا تھا، مگر کوئی تو مطلب ہوگا جو کاگ کے پنجوں میں دبے ہوئے اس پستان کو ایک مخصوص مطلب دے سکے۔صدر کہتا تھا، وہ اپنی ہر تصویر میں موجود ہوا کرتا ہے، تو کیا وہ اس تصویر میں بھی تھا، وہ کاگ تھا،یا چیل تھا یا پھر پستان یا پھر وہ خلا جو ان تینوں کے درمیان موجود کشمکش اور ندیدگی کو کسی لاچار بوڑھے کی طرح دیکھ رہا تھا۔اسے بہت دیر تک کچھ سمجھ میں نہ آیا تو اس نے الجھن میں دیوار پر ابھر آئے پلاستر کو اپنے لمبے ناخن سے ادھیڑنا شروع کردیا۔ہوا کی ایک تیز لہر نے اس کے سن ہوتے ہوئے بدن کا احساس جب بے حد شدید کردیا تو وہ ہال سے ملحقہ باتھ روم میں گھس گئی اور باتھ ٹب میں لیٹ کر کافی دیر تک گرم پانی کی آغوش میں اپنے جسم کو جگانے کی کوشش کرتی رہی۔عجیب سی بات تھی، یہی پانی تھا بس سرد و گرم کی وجہ سے اس کی تاثیر میں ایسی تبدیلی واقع ہوئی تھی کہ ایک کچ کے حق میں زہر بن گیا تھا تو دوسرا اس زہر کو چوس کرباہر نکال لینے والا چارہ گر۔نہا کر نکلنے کے بعد جب وہ کمرے میں گئی تو صدر غائب تھا، اتنی رات میں وہ کہاں نکل سکتا تھا، ہوسکتا ہے، اسے ہی ڈھونڈنے گیا ہو، کچ کو بہت تیز سردی کا احساس ہورہا تھا، اس کا سارا بدن پھک رہا، دماغ پھوڑے کی طرح پھولنے پچکنے کے عمل میں مصروف تھا ، مگر ایسے میں بھی اسے اس بات سے بہت فرحت محسوس ہوئی تھی کہ صدر اتنی بھیانک رات میں اس کی تلاش میں نکلا ہے، وہ شخص جس کے اندر اپنی ہی پرواہ کے جراثیم بالکل نہ پائے جاتے ہوں، کچ کی عدم موجودگی سے اتنا پریشان ہوگیا تھا۔اسے یہ سوچ کر خوشی ہورہی تھی، اسی خوشی میں اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھے ہوئے ریکارڈر کے تار کو چھیڑدیا۔اس میں سے جل ترنگ کی لہریں پیدا ہونی شروع ہوگئیں۔

 

راہ تکے من ہارے نہیں
اب کوئی کہیں ہے کوئی کہیں
کیوں راہ تکے من ہارے نہیں

 

کمرے کی لائٹ آن تھی، بارش کے شور کی گرج ہولے ہولے مدھم پڑرہی تھی، وہ کمفرٹر میں گھس گئی اور ابھرتے ہوئے سورج کی گرد میں نہ جانے کب اس کے بھاری اور گہرے سرخ پپوٹوں کا آفتاب غروب ہوگیا۔
Categories
فکشن

میرواہ کی راتیں- تیسری قسط

رفاقت حیات کے ناول ‘میر واہ کی راتیں‘ کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

اس شب وہ سونے کے لیے محراب دار برآمدے میں چارپائی پر بچھے اپنے بستر پر لیٹا تو اسے محرابوں کی جگہ دو بڑی بڑی آنکھیں دکھائی دینے لگیں۔ کبھی وہ آنکھیں بازو بن کر اس کے وجود کے گرد پھیل جاتیں اور کبھی ہونٹ بن کر اس کی سماعت میں مبہم لیکن مسحور کر دینے والی سرگوشیاں کرنے لگتیں۔ نیند کے دوران خواب میں اس نے ان آنکھوں کو زیرِزمین غلام گردش میں تبدیل ہوتے دیکھا، وہ جس میں داخل ہوا تو پھر اسے وہاں سے نکلنے کا راستہ نہیں مل سکا۔ غلام گردش میں وہ ان آنکھوں کی مالکن کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گیا مگر وہ اسے کہیں دکھائی نہیں دی۔ صبح کو چاچی خیرالنسا نے جب اسے نیند سے جگایا تو وہ ہانپ رہا تھا اور اس کا چہرہ پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔

 

وہ آنکھیں اس کے اعصاب پر اتنی بری طرح سوار ہوئیں کہ اگلے کئی روز تک وہ گوٹھ ہاشم جوگی کے پھیرے ہی لگاتا رہا، لیکن اسے معلوم ہی نہیں ہوسکا کہ وہ پردہ نشین کون تھی اور کس کے گھر میں رہتی تھی۔
وہ آنکھیں اس کے اعصاب پر اتنی بری طرح سوار ہوئیں کہ اگلے کئی روز تک وہ گوٹھ ہاشم جوگی کے پھیرے ہی لگاتا رہا، لیکن اسے معلوم ہی نہیں ہوسکا کہ وہ پردہ نشین کون تھی اور کس کے گھر میں رہتی تھی۔ نذیر کبھی پیدل اور کبھی سائیکل پر گوٹھ کے آس پاس منڈلاتا رہا۔ وہ وقفے وقفے سے بہانہ بنا کر دکان سے چھٹی لیتا اور آدھے پون گھنٹے میں چکر لگا کر لوٹ آتا۔ ایک مرتبہ اس نے گوٹھ سے آنے والے راستے پر نگاہ رکھنے کے لیے گنے کے کھیت کو منتخب کیا۔ وہ بہت دیر تک وہاں دبک کر بیٹھا رہا اور گاؤں آنے جانے والوں پر نظر رکھتا رہا، مگر اسے خاطرخواہ کامیابی نہیں مل سکی۔ اس نے گوٹھ ہاشم جوگی آنے جانے والے تمام راستوں کا پتا چلایا اور وہ وہاں بھی پہرہ دیتا رہا، مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔

 

تین مرتبہ اسے برقع پوش عورتوں کو دیکھ کر اس پردہ نشین کا گمان گزرا۔ اس نے تندہی سے ان کا تعاقب کیا۔ ان کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا وہ نہر عبور کر کے قصبے کی طرف نکل آیا اور بازار کے اطراف کی گلیوں میں گھومتا پھرا۔ نذیر کے لیے عورتوں کو ان کی چال کے ذریعے پہچاننا مشکل تھا مگر جب اس نے ایک نظر ان کی آنکھوں میں جھانکا تو اسے فوراً پتا چل گیا کہ وہ برقعے کی وجہ سے دھوکا کھا گیا تھا۔

 

اسے اپنی کوششوں کے رائیگاں چلے جانے پر بے حد افسوس تھا۔ وہ اپنے آپ سے خفا بھی تھا کہ اس معاملے میں وہ کس قدر انہماک سے مبتلا ہو گیا تھا۔ ایک ایسی عورت کے لیے اس کی جستجو اور خواری کے کیا معنی؟ اس کے لیے جس سے ملاقات کرنا ناممکن، جسے دیکھنا شدید دشوار اور جس سے گفتگو کرنا بالکل محال تھا۔ اس نے خود کو ذلیل ترین آدمی تصور کیا۔ اس نے اپنے آپ سے پیمان باندھا کہ وہ آئندہ اس کے بارے میں بالکل نہیں سوچے گا۔ اس نے غصے میں آ کر اپنے آپ سے پیمان تو باندھ لیا مگر وہ اچھی طرح جانتا تھا، اس کی ذات کے پاتال میں پیوست دو آنکھیں اسے بےقراری سے اپنی جانب بلاتی رہیں گی اور ان کے بلاوے پر وہ اپنا پیمان، اپنا غصہ وغیرہ سب فراموش کر دے گا، اور ایک نئے عزم کے ساتھ پردہ نشین کی جستجو میں نکل پڑے گا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ایک دوپہر کو نذیر وڈیرے کریم بخش جلبانی کی حویلی میں سلائی شدہ کپڑے پہنچا کر لوٹ رہا تھا کہ اسے ایک گلی میں وہی پکوڑا فروش اپنے پکوڑوں سے بھرے تھال سمیت نظر آیا۔ اسے دیکھتے ہی اس کے پاؤں ساکت ہو گئے۔

 

پکوڑا فروش ایک دیوار کے سائے میں تھال زمین پر رکھ کر بیٹھا تھا۔ اس کے آس پاس بچوں نے حلقہ بنا رکھا تھا اور شور مچا مچا کر وہ سب اس سے پکوڑے مانگ رہے تھے۔
پکوڑا فروش ایک دیوار کے سائے میں تھال زمین پر رکھ کر بیٹھا تھا۔ اس کے آس پاس بچوں نے حلقہ بنا رکھا تھا اور شور مچا مچا کر وہ سب اس سے پکوڑے مانگ رہے تھے۔ وہ ان کی مانگ پر ہنستا ہوا اخباری کاغذ کے کٹے ہوے ٹکڑوں پر پکوڑے رکھ کر، ان پر مسالہ چھڑک کر بچوں کو تھما دیتا۔ جس بچے کو پکوڑے مل جاتے وہ اسے پیسے تھما کر بھاگ جاتا۔ اس کی چابک دستی کی وجہ سے تھوڑی ہی دیر میں بچوں کی بھیڑچھٹ گئی۔ پکوڑوں سے بھرا تھال تقریباً آدھا فروخت ہو چکا تھا۔ پکوڑافروش اپنی آمدنی کا حساب لگا کر پیسے اپنی جیب میں رکھنے لگا۔ اس دوران اس کی نظر اس سے کچھ فاصلے پر کھڑے نذیر پر جا ٹھہری، جو اس سے بظاہر لاتعلقی ظاہر کرتا، یوں ہی اِدھراْدھر دیکھ رہا تھا۔

 

پکوڑا فروش ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے اسے شک بھری نظر سے دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔ اپنے کاندھے سے انگوچھا اْتار کر اپنے چہرے کی گرد صاف کرتے ہوے وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔ اس نے کھڑے کھڑے جیب سے پولو فلٹر کا سگریٹ نکال کر سلگایا اور دو تین لمبے کش کھینچے۔ اس کے بعد وہ اپنے تھال کو سر پر رکھ کر وہاں سے چل پڑا۔

 

جانے سے پہلے اس نے ایک بار پھر نذیر کو مشکوک نظروں سے دیکھا مگر وہ دوسری جانب دیکھتا رہا اور اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں۔ پکوڑا فروش کے جانے کے بعد وہ مخمصے میں تھا کہ اس کا پیچھا کرے یا نہ کرے۔ اس دوران معاً اس کا ہاتھ اپنی جیب تک گیا تو وہاں چند نوٹوں کی موجودگی نے اسے مخمصے کے عالم سے نکالا۔ وہ تیزرفتاری سے اس سمت بھاگنے لگا جس طرف وہ گیا تھا۔

 

اگلی گلی کے موڑ پر اسے دور سے پکوڑا فروش جاتا ہوا دکھائی دیا۔ تیز دوڑنے کی وجہ سے، بے حدّت دھوپ کے باوجود، نذیر کی بغلیں سلگنے لگیں اور وہاں سے بہتا پسینہ قمیض سے ہوتا اس کی شلوار میں داخل ہونے لگا۔ اسے لگ رہا تھا کہ جب وہ پکوڑ فروش کے پاس پہنچے گا تو وہ قہقہے لگائے گا اور پوشیدہ بات آشکار ہو جائے گی۔ اپنا پسینہ خشک کرنے کی خاطر وہ دھیرے سے چلتا اس کا تعاقب کرنے لگا۔ آگے چل کر ایک سایہ دار گلی میں اس نے پکوڑافروش کو آواز دی: “پکوڑے والے، رکنا!”

 

وہ اپنے سر سے تھال اْتارے بغیر رک گیا اور پلٹ کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔

 

پکوڑافروش اس کے لہجے کے تحکم سے متاثر ہوا۔ اس کی آنکھوں سے شک کے سبب پیدا ہونے والی درشتی غائب ہو گئی۔ وہ اپنی نظروں سے تھال میں پڑے پکوڑوں کو تولنے لگا
نذیر آہستگی سے چلتا اس کے قریب آیا اور اس سے کھردرے لہجے میں پوچھنے لگا، “تھال میں جو پکوڑے بچ گئے ہیں، وہ کتنے کے بیچو گے؟”

 

پکوڑافروش اس کے لہجے کے تحکم سے متاثر ہوا۔ اس کی آنکھوں سے شک کے سبب پیدا ہونے والی درشتی غائب ہو گئی۔ وہ اپنی نظروں سے تھال میں پڑے پکوڑوں کو تولنے لگا۔ “سائیں وڈا! یہ سارے آپ اکیلے کھا نہیں سکیں گے۔”

 

نذیر گھورتے ہوے بولا، “تمھیں اس سے مطلب؟”

 

“غلطی معاف! پورا تھال چھتیس روپے کا دے دوں گا۔”

 

“مطلب، پکوڑوں کے ساتھ تھال بھی؟” اس نے مسکراتے ہوے پوچھا۔

 

پکوڑافروش عاجزی سے مسکرانے لگا۔ “یہ تو میری روزی کا وسیلہ ہے، سائیں!”

 

“تم کوئی گاڈا یا ٹھیلا کیوں نہیں خرید لیتے؟” وہ اس کے مرعوب ہونے سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

 

“بوہتار! میں غریب آدمی ہوں، گاڈا خریدنا میرے بس سے باہر ہے،” یہ بات کہتے ہوے اس نے تھال پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔

 

نذیر نے اس کا نام پوچھا تو اس نے بتایا: “نْورل جوگی۔”

 

سارے پکوڑے اخبار میں لپیٹنے کے بعد اس نے اپنے تھال کو فوراً اپنی بغل میں دبا لیا۔ اس نے یہ دیکھ کر خود کو مسکرانے سے بمشکل روکا۔ جب نورل نے اخبار میں لپٹے ہوے پکوڑے اس کی طرف بڑھائے تو نذیر نے پکوڑے لینے سے انکار کر دیا۔

 

۔ نذیر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پچاس کا نوٹ اس کی جیب میں رکھتے ہوے بولا، “نورل، تم بہت اچھے آدمی ہو اور یہ تمھاری خرچی ہے۔”
اس کا انکار نورل جوگی کے لیے غیرمتوقع تھا۔ وہ باربار پلکیں جھپک کر اسے دیکھنے لگا۔ نذیر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پچاس کا نوٹ اس کی جیب میں رکھتے ہوے بولا، “نورل، تم بہت اچھے آدمی ہو اور یہ تمھاری خرچی ہے۔”

 

اس کی بات سن کر وہ ہکابکا رہ گیا، پھر اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور ہاتھ جوڑ کر اس کا شکریہ ادا کیا۔

 

نذیر نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور خوش دلی سے اسے ساتھ چلنے کی پیشکش کرنے لگا۔ “آؤ! چل کر ہوٹل پر چائے پیتے ہیں۔”

 

یہ سن کر نورل کی باچھیں کھل اٹھیں۔ وہ نذیر کو صاحبِ ثروت خیال کرنے لگا۔ وہ تابعداری اور جی حضوری کے جذبات سے سرشار ہو کر اس کے ساتھ چلنے لگا۔ اس نے اپنی حیرت اور پریشانی نذیر پر ظاہر نہیں ہونے دی۔ وہ اندر سے سہما ہوا تھا کیونکہ اس وقت اس کی جیب میں تھوڑی سی چرس پڑی تھی۔ اسے خدشہ تھا کہ یہ نوجوان سخی بابو کسی ایجنسی کا اہلکار نہ ہو اور پچاس روپے اور چائے کی پیشکش کے عوض نورل کو کہیں تین مہینے حوالات میں نہ کاٹنے پڑ جائیں۔ چائے خانے تک پیدل جاتے ہوئے وہ اسے کریدنے کی کوشش میں اس سے الٹے سیدھے سوال پوچھتا رہا۔ نذیر بھی اس کی ذہنی کیفیت کو بھانپ چکا تھا۔ وہ اس کے بے تکے سوالوں کے بے تکے جواب دیتا رہا۔ وہ اس بات سے بھی بے نیاز ہو گیا کہ چھوٹے سے قصبے میں حقیقت کو چھپانا مشکل ہوتا ہے۔ اس نے اپنے آپ کو یہ سوچ کر مطمئن کر لیا تھا کہ اس کا تعلق اس قصبے سے نہیں تھا۔ یہی سوچ کر اس نے دروغ گوئی سے کام لیتے ہوے نورل کے سامنے خود کو وڈیرے کریم بخش جلبانی کے دوست کا بیٹا ظاہر کر دیا۔ نورل نے اس کے جھوٹ پر یقین کر لیا اوراسے اطمینان ہو گیا کہ یہ چھوکرا اسے حوالات میں بند نہیں کروائے گا۔

 

چند چھوٹی بڑی گلیوں سے گزرتے وہ بازار تک پہنچے اور بازار سے گزر کر نہر کے وسیع و عریض بند پر واقع ایک چائے خانے تک۔ یہ میرواہ نہر کا دایاں کنارہ تھا اور آگے اس کنارے پر واقع کئی گوٹھوں کے لیے یہ بند کچی سڑک کا کام بھی دیتا تھا۔ اس سڑک پر گاڑیوں کی آمدورفت براے نام ہوتی تھی۔ اسی کا فائدہ اٹھا کر چائے خانے کے مالک نے سڑک پر کرسیاں بچھا دی تھیں۔ اس چائے خانے کے آس پاس چند خستہ سی دکانیں تھیں۔ کسی دکان میں حجام کام کر رہا تھا تو کسی میں بڑھئی۔ ان دکانوں کے عقبی حصے کے ساتھ مکانوں کی طویل قطار متصل تھی۔ مکانوں کی یہ قطار تھوڑی دور جا کر ختم ہو جاتی تھی۔ سب سے آخر میں محکمہ آبپاشی کا ڈاک بنگلہ واقع تھا جبکہ سامنے، بائیں کنارے پر، کھیتوں کا طویل سلسلہ تھا جس کے درمیان کہیں کہیں چھوٹے بڑے گوٹھ نظر آتے تھے۔

 

اس وقت اس کی جیب میں تھوڑی سی چرس پڑی تھی۔ اسے خدشہ تھا کہ یہ نوجوان سخی بابو کسی ایجنسی کا اہلکار نہ ہو اور پچاس روپے اور چائے کی پیشکش کے عوض نورل کو کہیں تین مہینے حوالات میں نہ کاٹنے پڑ جائیں۔
نذیر بند پر درختوں کے نیچے بچھی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا۔ اس کے چہرے کا رخ گوٹھ ہاشم جوگی کی طرف تھا جہاں اسے متحیر کرنے والی، بے باک اور چمک دار دو آنکھوں کی جوڑی کی مالکن رہتی تھی۔ اس کے دل میں بسی برقع پوش کی یاد کی آگ دھیرے دھیرے آنچ دینے لگی۔ نورل بلاسبب اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتا، اپنا تھال اس کے سامنے رکھ کر چائے خانے کے اندر چلا گیا۔

 

نذیر کو اس سے بے حد اہم باتیں پوچھنی تھیں۔ وہ منہ بسورتے ہوے نہر کی طرف دیکھنے لگا۔ نہر میں پانی بہت کم تھا۔ کناروں کے اندر پانی سے زیادہ مٹی نظر آ رہی تھی۔ شیشم کے ٹنڈمنڈ درخت بند پر دور تک قطاروار کھڑے تھے۔

 

نورل جوگی نے واپس آنے میں کچھ زیادہ ہی دیر لگا دی مگر جب وہ آیا تو چائے کی پیالیاں ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے آیا۔ اس کی آنکھیں گہری سرخ ہو رہی تھیں اور اس کا چہرہ سوجا ہوا تھا۔

 

نذیر فوراً بھانپ گیا کہ پکوڑافروش نے اندر ضرور چرس یا بھنگ کا نشہ کیا ہے اسی لیے اس کی یہ درگت بنی ہوئی ہے۔ نذیر نے مسکرا کر اسے دیکھا اور چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے اس سے چرس کا سگریٹ پلانے کی فرمائش کی۔ اس کی فرمائش سن کر پکوڑافروش نے قہقہہ لگایا اور کسی توقف کے بغیر جیب سے سگریٹ نکال کر اسے خالی کرنے لگا۔ اس کے ہاتھ سرعت سے کام کر رہے تھے۔ اس دوران وہ چند لمحوں کے لیے دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوگیا۔ چرس کا سگریٹ بنانے کے بعد اس نے اپنے ایک ہاتھ پر دیاسلائی اور دوسرے پر چرس کا سگریٹ رکھ کر اسے پیش کر دیا۔ نذیرکو چرس پیتے دیکھ کر اس کے ذہن میں بسے تمام شکوک و شبہات ختم ہو گئے۔

 

نذیر پہلی بار چرس کے سگریٹ کو اپنے ہونٹوں سے لگا رہا تھا۔ اس نے جیسے ہی پہلا کش لگایا تو اسے محسوس ہوا جیسے اس کی چھاتی پر کسی نے زوردار مْکّا مار دیا ہو۔ وہ فوراً کھانسنے لگا اور اس کا سر اتنی تیزی سے چکرانے لگا کہ اس کی آنکھوں سے پانی رواں ہو گیا اور حلق میں کڑوا ذائقہ پھیل گیا۔ اس نے اپنے سر کو دو تین بار زور سے جھٹکا اور ایک لمحے کے لیے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ دیر بعد اس کے سر نے چکرانا بند کر دیا اور گردوپیش کی چیزوں کا گھومنا بھی تھم گیا۔

 

چرس کا سگریٹ بنانے کے بعد اس نے اپنے ایک ہاتھ پر دیاسلائی اور دوسرے پر چرس کا سگریٹ رکھ کر اسے پیش کر دیا۔ نذیرکو چرس پیتے دیکھ کر اس کے ذہن میں بسے تمام شکوک و شبہات ختم ہو گئے۔
نورل بھاگتا ہوا گیا اور پانی سے بھرا گلاس لے آیا۔ اس نے پانی سے بھرا گلاس نذیر کو تھمایا۔ پانی کے چند گھونٹ پی کر اس کے حلق میں پھیلی تلخی ختم ہو گئی۔ اس کے بعد اس نے بے حد اصرار کر کے نورل سے ایک مرتبہ پھر چرس کا سگریٹ لیا اور دو تین کش لگائے۔ اس بار بھی وہ کش کے ذریعے زیادہ دھواں نہیں کھینچ سکا۔

 

نورل اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر مسکراتے ہوے کہنے لگا، “میرے سائیں، یہ فقیر فقرا کا پسندیدہ نشہ ہے۔ اس کے کش لگا کر آدمی کا ذہن عرش پر پہنچ جاتا ہے۔”

 

نذیر نے اس کی بات سمجھے بغیر اثبات میں سر ہلایا، مگر درحقیقت اس کا دماغ ماؤف ہو چکا تھا۔ اسے نورل جوگی سے بہت کچھ پوچھنا تھا مگر چرس کے چند کش لگا کر وہ اپنی جراتِ اظہار کھو چکا تھا۔ اس کے لیے سوال پوچھنا تو درکنار، بات کرنا بھی سخت دشوار ہو رہا تھا۔ وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا ہوا پکوڑافروش سے بس اتنا ہی کہہ سکا: “نورل، آج سے اپنی دوستی پکی۔ ٹھیک ہے؟”

 

“ہاں، بالکل ٹھیک ہے بوہتار!” اس نے تابعداری سے جواب دیا۔

 

کچھ دیر بعد نذیر نے رخصت لیتے ہوئے اسے خداحافظ کہا اور ڈگمگاتے قدموں سے ڈاک بنگلے کی طرف چل پڑا۔ وہ ایسی حالت میں دکان پر نہیں جانا چاہتا تھا۔ اسے خوف تھا کہ اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کرسب لوگوں کو پتا چل جائے گا کہ اس نے نشہ کیا ہوا ہے۔ وہ ڈاک بنگلے کے عقب میں واقع سرسبز قطعہءِ زمین پر نیم کے گھنے پیڑوں کی چھاؤں میں کچھ دیر سستانے کی غرض سے دراز ہو گیا۔ خنک ہوا اور نشے کی وجہ سے اس کی آنکھیں مندنے لگیں اور اس کے اعصاب پر نیند کا خمار چھانے لگا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

نذیر کے بھائی اور والد اسے کبھی شہربدر نہ کرتے اگر وہ میرپور ماتھیلو کے چکلے کی بدنامِ زمانہ رنڈی زوری کی زلفوں کا اسیر نہ ہو جاتا۔
نذیر کو میرپور ماتھیلو سے ٹھری میرواہ آئے ہوے چھ مہینے سے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ اسی لیے یہاں زیادہ لوگوں سے اس کی جان پہچان نہیں تھی۔ وہ اپنے والدین کی آٹھ اولادوں میں چوتھے نمبر پر تھا، اس لیے اس کے حصے میں ماں باپ کا اتنا پیار نہیں آ سکا جتنا اس کے سب سے بڑے بھائی اور سب سے چھوٹے بھائی کے حصے میں آیا تھا۔ اس کا بچپن اور لڑکپن ماں باپ اور بڑے بھائیوں کی گھرکیاں کھاتے ہوئے گزرا۔ پانچ برس کی عمر میں جب اسے اسکول میں داخل کروایا گیا تو پہلے ہی دن ایک لنگڑے استاد نے کسی وجہ کے بغیر اسے تین زوردار تھپڑ رسید کیے۔ اب معلوم نہیں یہ استاد کے تھپڑوں کا اثر تھا یا اس کی طبیعت کا من موجی پن، کہ وہ آٹھویں جماعت سے آگے نہیں پڑھ سکا۔ اسکول کو خداحافظ کہنے کے بعد اس نے آوارہ گردی کا شغل اپنایا۔ وہ صبح سے شام تک میرپور ماتھیلو کے گلی محلوں کی خاک چھانتا پھرتا۔ اپنی والدہ کی ڈانٹ ڈپٹ کو وہ خاطر میں نہیں لاتا تھا، مگر اپنی آوارہ گردیوں کی وجہ سے وہ اکثر اپنے بڑے بھائیوں کے ہاتھوں مار کھاتا۔ اس کے والد میرپور ماتھیلو کے مشہور حلوائی تھے اور وہاں ان کی مٹھائی کی بہت بڑی دکان تھی۔ اس کے تین بڑے بھائی دکان پر والد کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ نذیر کی آوارہ گردیوں سے تنگ آ کر اس کے والد نے اسے بھی دکان پر رکھ لیا۔ اس کی عمر کا یہ وہی دورتھا جب اپنی ہم عمر لڑکیاں بلا کسی سبب اسے اچھی لگنے لگی تھیں۔ راہ چلتے ہوے کسی حسین دوشیزہ کی ایک جھلک ہی اسے راستے سے بھٹکانے کے لیے کافی ہوتی تھی۔ وہ اپنے والد اور بھائیوں کے بتائے ہوے کام فراموش کر کے اس حسین دوشیزہ کو اس کے گھر تک پہنچانے کا فریضہ انجام دینے لگتا تھا۔ بعد میں جب اس کے بھائی اور والد کام میں ہونے والی تاخیر کے متعلق دریافت کرتے تو وہ بغلیں جھانکنے لگتا۔ ایسے میں اس کے بھائیوں اور والد کے طمانچے اس کے چودہ طبق روشن کر دیتے۔ گھر پہنچ کر وہ اپنی ماں کو بھائیوں اور والد کی اس کارگزاری کے بارے میں بتاتا تو وہ دکھ اور افسوس سے اس کے سرخ گالوں پر اپنے نرم ہاتھ رکھ کر انہیں سہلانے لگتی۔

 

نذیر کے بھائی اور والد اسے کبھی شہربدر نہ کرتے اگر وہ میرپور ماتھیلو کے چکلے کی بدنامِ زمانہ رنڈی زوری کی زلفوں کا اسیر نہ ہو جاتا۔ وہاں کا راستہ اسے ایک دوست نے دکھایا، اس کے بعد وہ خود ہی آنے جانے لگا۔ مگر زوری بہت منھ زور تھی۔ اس جیسے کم عمر بالک پر اپنی نظرِ الفت ڈالنا اسے اپنے شایانِ شان نہیں لگتا تھا۔ ہر مرتبہ وہ تھوڑی دیر تک زوری کا دیدار کر کے لوٹ آیا۔ ایک روز اس کے والد نے اسے پچاس ہزار روپے بینک میں جمع کروانے کے لیے دیے، مگر اس کے دل میں نہ جانے کیا سمائی کہ وہ رقم جیب میں لیے چکلے پہنچ گیا۔ وہاں پہنچنے کے بعد جب اس نے زوری کے سامنے نوٹوں کی گڈی نکالی تو وہ اس پر توجہ کرنے پر مجبور ہو گئی۔ مگر وہ بھی ایک گھاگ عورت تھی، نذیر جیسے نوخیز لڑکے کو بہلانا اس کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ وہ شام تک اسے اپنی لچھے دار باتوں سے بہلاتی رہی۔ دوسری طرف دکان پر اس کے واپس نہ آنے پر ڈھنڈیا مچ گئی تھی۔ اس کے بھائیوں نے اس کے دوستوں سے مل کر اور انہیں کرید کر پتا چلا لیا کہ اس وقت وہ کہاں چھپا بیٹھا تھا۔ انھوں نے اپنے والد کی معیت میں چکلے پر چھاپہ مارا تو وہ زوری کے کمرے سے برآمد ہوا۔ اس کے بھائیوں اور والد نے زوری کو دھمکیاں دے کر اس سے سارے پیسے نکلوا لیے اور نذیر کو پیٹتے ہوے وہاں سے لے گئے۔ اس واقعے کے اگلے دن اس کے والد نے اس کی حرکتوں سے نالاں ہو کر اسے اپنے چھوٹے بھائی کے پاس ٹھری میرواہ بھجوا دیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

نذیر دھیرے دھیرے چرس کا عادی ہونے لگا تھا۔ اسے اس نشے میں لطف آنے لگا تھا۔ اس کے چند کش لگانے کے بعد وہ خود کو پردہ نشین کے قرب میں محسوس کرنے لگتا تھا۔
نورل پکوڑافروش سے اگلی دو ملاقاتوں میں بھی نذیر اپنے دل و دماغ میں پیوست آنکھوں کی مالکن کے متعلق اس سے کوئی بات معلوم نہیں کر سکا۔ مگر نورل سے اس کی دوستی مضبوط ہو گئی تھی۔ وہ مطمئن تھا کہ مسحورکن آنکھوں والی کا شجرہ نسب معلوم کرنا اب اس کی دسترس میں تھا۔ مگر اسے یہ احساس بھی شدت سے تھا کہ اس معاملے میں اسے مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ یہی سوچ کر ایک روز نذیر نے شام ڈھلے نورل کو نہر کے کنارے اسی ہوٹل پر بلایا۔ یہ ان کی چوتھی ملاقات تھی۔ نذیر چاہتا تھا کہ اس عورت کے بارے میں آج ساری تفصیلات معلوم کر کے کوئی نہ کوئی حتمی فیصلہ کر لے، کہ اسے اس عورت تک رسائی کے لیے کوشش کرنی چاہیے یا اس کی یاد کو ہمیشہ کے لیے طاقِ نسیاں پر رکھ دینا چاہیے۔ اپنی پہلی غلطی کے خمیازے کے طور پر نذیر کو ہر ملاقات پر اس کے ساتھ چرس کا سگریٹ پینا پڑ رہا تھا۔ اس نے نورل کو خوش کرنے کے لیے اسے بتایا کہ وہ اسے دیکھتے ہی پہچان گیا تھا کہ یہ آدمی ایک موالی ہے، اسی وجہ سے تو اس نے اس کے ساتھ دوستی کی تھی۔ نورل اس کی یہ بات سن کر اپنے آپ پر فخر محسوس کرنے لگا۔ نذیر گزشتہ ملاقاتوں کی طرح اس بار بھی اس سے تفصیلات معلوم کرنے میں ناکام رہا۔ اسے اپنی کم ہمتی پر غصہ آ رہا تھا کہ وہ ایک معمولی سے آدمی کے سامنے کھل کر بات کرنے سے گھبرا رہا ہے۔ اسے دل ہی دل میں یقین تھا کہ وہ جب بھی پکوڑافروش سے اس بابت دریافت کرے گا، وہ اسے کسی ردوکد کے بغیر سب کچھ بتا دے گا۔ مگر چرس کے سگریٹ پینے کے بعد وہ نجانے کیوں گھگھیانے لگتا تھا۔ عام سی باتیں کرتے ہوئے بھی اس کی زبان میں گرہ لگ جاتی تھی۔ اس نے چرس پر تمام الزام رکھ کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کی۔ مگر وہ بھول رہا تھا کہ ایک مرتبہ بھی نورل نے اسے چرس پینے کی پیشکش نہیں کی تھی بلکہ ہر بار اسی نے اصرار کر کے اس سے چرس پینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

 

نذیر دھیرے دھیرے چرس کا عادی ہونے لگا تھا۔ اسے اس نشے میں لطف آنے لگا تھا۔ اس کے چند کش لگانے کے بعد وہ خود کو پردہ نشین کے قرب میں محسوس کرنے لگتا تھا۔ وہ اس کے ذہن و دل میں ایستادہ دھیرے دھیرے اپنا نقاب اتارتی تو وہ مبہوت ہو کر اس کے جمال کا مشاہدہ کرنے لگتا تھا۔ اس کا مکمل چہرہ اسے اس کی آنکھوں سے زیادہ تابناک محسوس ہوتا۔ ایسے لمحوں میں اسے یقین ہونے لگتا کہ یہ حسینہ غیرزمینی جمال لے کر اس کرہ ارض پر اتری ہے۔ نذیر ہولے ہولے برقع پوش کی حقیقت سے زیادہ اس کے خیال کی لو سے متاثر ہو رہا تھا۔

 

اسی لیے نذیر پکوڑافروش کے ساتھ ایسی تمام جگہوں پر جانے لگا جہاں موالی اکٹھے ہوتے تھے۔ نورل کے ساتھ اسے ہر جگہ خوش دلی سے قبول کیا جاتا اور ان دونوں کی چرس اور چائے سے خوب آؤبھگت کی جاتی۔

 

چرس کے زیادہ استعمال کی وجہ سے نذیر احساسِ جرم محسوس کرنے لگا۔ اس عرصے میں چاچا اور چاچی نے کئی مرتبہ اس سے اس کی صحت کے بارے میں پوچھا مگر اسے ہر بار جھوٹ بول کر انھیں جھانسا دینا پڑا۔

 

نذیر کے دوست حیدری کو بھی اس گڑبڑ کا احساس ہو گیا تھا۔ نذیر نے ایک دن اس کے پاس جا کر پڈعیدن اسٹیشن سے شروع ہونے والے اس قصے کی مکمل تفصیلات بتا دی تھیں اور اس کے بعد کے معاملات سے بھی اسے باخبر رکھتا رہا تھا۔ حیدری نے ہر مرتبہ اس کی سادہ لوحی کا مذاق اڑایا کیونکہ وہ پکوڑافروش کو اچھی طرح جانتا تھا۔ نذیر نے حیدری کی منت سماجت اور خوشامد کر کے اسے اپنی مدد کرنے پر آمادہ کر لیا۔ حیدری نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اسے اپنے ساتھ دکان پر لے آئے۔

 

(جاری ہے)