Categories
نقطۂ نظر

کم عمری کی شادی؛ اسباب و اثرات

ایک ایسا معاشرہ جہاں آدھی آبادی پڑھی لِکھی نہ ہو، چالیس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہو، جہاں نوجوانوں میں سیاسی و سماجی شعور نہ ہو، جہاں عورتوں کو جائیداد میں حصہ دینے کی بجائے جائیداد سمجھا جاتا ہو، وہاں کم عمری میں بچوں خاص طور پر لڑکیوں کی شادیاں کر دینا کوئی عجب بات نہیں ہے۔ کم عمری میں بچوں کو شادی جیسے بندھن میں باندھنا جِسے نبھانے کے لیے ذہنی بالیدگی، فریقین کی ذہنی و جذباتی ہم آہنگی ضروری ہے سمجھ سے بالاتر ہے۔ کم عمری کی شادی محض دو افراد یا خاندانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس سے شدید متاثر ہوتی ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ نابالغ بچے جو اپنے لیے ووٹ نہیں ڈال سکتے، ڈرائیونگ لائسنس نہیں بنوا سکتے اور سگریٹ نہیں خرید سکتے ان کی شادی کیسے کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ہمارے معاشرے میں کم سنی کی شادی کا مسئلہ موجود ہے اور روزمرہ معمول کا حصہ ہے۔ اس کے اسباب سماجی بھی ہیں اور مذہبی بھی، المیہ یہ ہے کہ اس حوالے سے موجود قوانین کے نفاذ میں کوئی سنجیدہ نہیں۔
سماجی اسباب
پنجاب کے بعض علاقوں میں یہ سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ زیادہ تعلیم یافتہ لڑکیاں اچھی اور فرمانبردار بیویاں نہیں بن سکتیں اِس لیے اِبتدائی تعلیم کے بعد کم عمری میں ہی لڑکیوں کی شادیاں کردی جاتی ہیں۔

 

روایات، اقدار اور رسوم ایسے تصورات کا مجموعہ ہیں جو سماجی نظام چلانے کے لیے قانون کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں کئی ایسی فرسودہ روایات موجود ہیں جو بچوں کی کم عمری میں شادی کا باعث بنتی ہیں؛ مثلاً بیٹی کو ذمہ داری یا بوجھ سمجھنا، عزت کو عورت کی جنسی زندگی سے جوڑے جانا وغیرہ۔ شادی بیاہ کے معاملات ہمارے ہاں دوافراد کی جذباتی وابستگی کی بجائے سماجی، سیاسی اور معاشی محرکات کے تحت نپٹائے جاتے ہیں۔ تنازعات کے حل یا تعلقات کی مضبوطی کے لیے بھی شادی بیاہ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں جب عمائدین کِسی قتل کا فیصلہ کرتے ہیں تو مقتول کے ورثاء کا یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ ہمیں قاتِل سے خون بہا میں اِتنی زمین اور اِتنی لڑکیاں چا ہیئے ہیں جِسے عام طور پر بانہہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اِس طرح کے فیصلوں کا شکار بننے والی زیادہ تر لڑکیاں کم عمر ہوتی ہیں اور انہیں فیصلے کے کچھ ہی دِن بعد مقتول کے لواحِقین بانہہ کے طور پر اپنے گھر لے جاتے ہیں۔ انہیں پھر مختلف طریقوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے یہاں تک کے وہ ذ ہنی اور نفسیاتی مریض بن جاتی ہیں۔ صوبہ سندھ اور پنجاب میں وٹہ سٹہ کا روایتی نظام بھی اِیسا ہی ہے۔ ونی، سوارا اور وٹے سٹےجیسی رسموں کا شکار بھی زیادہ تر کم عمر لڑکیاں ہی ہوتی ہیں۔ وٹہ سٹہ دو خاندانوں کے درمیان مبادلے (چیز کے بدلے چیز) جیسا ہی ایک معاہدہ ہے جِس میں ایک خاندان کی لرکی کے بدلے دوسرا خاندان بھی لڑکی دینے کا پابند ہوتا ہے۔ اِس کے علاوہ پنجاب کے بعض علاقوں میں یہ سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ زیادہ تعلیم یافتہ لڑکیاں اچھی اور فرمانبردار بیویاں نہیں بن سکتیں اِس لیے اِبتدائی تعلیم کے بعد کم عمری میں ہی لڑکیوں کی شادیاں کردی جاتی ہیں۔ عورت کو اس کی عمر اور شکل و صورت کی بنیاد پر اہمیت دینے کی وجہ سے بھی جلد شادی کی جاتی ہے کیوں کہ لڑکی جتنی کم عمر اور جتنی خوش شکل ہو گی اس کے لیے اتنے ہی زیادہ موزوں رشتے دستیاب ہوں گے۔
یہ سمجھے بغیر کے مذاہب نے مخصوص سماجی حالات میں کم عمری کی شادی کا جواز پیش کیا تھا جو آج قابل اطلاق نہیں، بہت سے افراد آج بھی کم عمری کی شادی کو مذہبی بنیادوں پر درست بلکہ لازمی سمجھتے ہیں۔

 

معاشی اسباب:
کسی بھی خاندان کی روزمرہ زندگی مناسب طریقے سے چلانے کے لیے مضبوط معیشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لڑکیوں کی شادیاں اِس وجہ سے بھی کم عمری میں کردی جاتی ہیں کہ چونکہ لڑکی شادی کے بعد اپنے سسرال چلی جائے گی سو کم از کم گھر میں ایک فرد تو کم ہو جائے گا۔ اِس طرح اس کی تعلیم، خوراک، کپڑے جیسی بنیادی ضروریات پورا کرنے میں جو روپیہ لگنا ہو تا ہے وہ بھی بچ جائے گا۔ کچھ غریب گھرانے اِس وجہ سے کم عمری میں لڑکیوں کی شادیاں معاشی لحاظ سے اپنے سے بہتر گھرانے میں کرتے ہیں کہ وہ وہاں جا کے اچھی معاشی زندگی گزا ر پائیں گی۔ ملازمت پیشہ اور تعلیم یافتہ خواتین سے متعلق مشہور مفروضوں کی وجہ سے اکثر لڑکیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے اور ان کے لیے کسی پیشے سے وابستگی معیوب سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لڑکیوں کے لیے واحد کامیابی جلدازجلد شادی اور سسرال میں نیک نامی ہی سمجھی جاتی ہے۔

 

مذہبی اسباب:
دنیا کے بیشتر مذاہب کم سنی کی شادی کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ سمجھے بغیر کے مذاہب نے مخصوص سماجی حالات میں کم عمری کی شادی کا جواز پیش کیا تھا جو آج قابل اطلاق نہیں، بہت سے افراد آج بھی کم عمری کی شادی کو مذہبی بنیادوں پر درست بلکہ لازمی سمجھتے ہیں۔ اسلام میں بھی حضرت عاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی سے متعلق پائے جانے والای روایات کی بناء پر علماء کم سنی کی شادی کو حلال سمجھتے ہیں۔

 

اثرات:
کم عمر میں بیاہی جانے والی اکثر لڑکیاں اپنا بچپن پوری طرح سے نہیں گزار پاتیں جو بہت سی نفسیاتی اور جذباتی الجھنوں کا باعث بنتا ہے۔ شادی کے بعد فوراً ماں بننے کا دباو بھی کم عمر لڑکیوں میں زچگی کے دوران زیادہ اموات کی وجہ ہے۔ کم عمر لڑکیوں کے حمل کے دوران مرنے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک ایسی لڑکی کے لیے جسے جسمانی نشوونما مکمل ہونے سے پہلے ماں بننے پر مجبور کیا جاتا ہے کے لیے حمل کا جسمانی اور نفسیاتی دباو برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے۔

 

تدارک:
اِس سماجی مسئلےکا حل تعلیم سے ممکن ہے۔ معاشرے میں عورت سے متعلق پائے جانے والے عام تصورات تبدیل کیے بغیر اس مسئلے کو حل کرنا ممکن نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ لڑکیوں کی تعلیم پر زیادہ سے زیادہ توجہ دے۔ شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی زیادہ سے زیادہ تعلیمی ادارے کھولے جائیں۔ کیونکہ بیشتر لوگ اپنی بیٹیوں کو گھر سے دور تعلیم کے سلسلے میں بھیجنے سے کتراتے ہیں۔ اس کے علاوہ کم عمری کی شادی کے تدارک کے لیے شادی کے لیے کم سے کم حد سے متعلق قوانین کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔ خصوصاً نکاح خواں حضرات کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ لڑکے اور لڑکی کے شناختی کارڈ یا پیدائش کی معلومات کی تصدیق کیے بغیر نکاح نہ پڑھائیں۔ مذہبی تشریحات میں اصلاحات بھی ضروری ہیں تاکہ لوگوں کو کم عمری میں شادی کو مذہبی فرضہ سمجھنے کے مغالطے سے نکالا جا سکے۔
Categories
اداریہ

تشدد کی ہر صورت غلط ہے- اداریہ

تشدد ہر صورت غلط اور قابل مذمت ہے ۔ لاہور میں دو مسیحی عبادت گاہوں پردہشت گرد حملے کے بعد احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ اور دوافراد کے سرعام قتل اور ان کی لاشوں کی بے حرمتی کا دفاع ممکن نہیں تاہم اس جرم کو عقیدے کی بنیاد پر سوچا سمجھا اور ارادی عمل قرار دیا جانا نامناسب ہے۔ مشتعل ہجوم کے ہاتھوں دوافراد کی بہیمانہ ہلاکت یہ ظاہرکرتی ہےکہ ریاستی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اقلیتوں اور محروم طبقات کے تحفظ اورفراہمی انصاف میں ناکام ہیں، اور اس ناکامی کے باعث قانون کو ہاتھ میں لینے کے رحجان میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس واقعہ سے متعلق یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مسیحی ، شیعہ ، بریلوی اور احمدی آبادیوں اور عبادت گاہوں اور عوامی مقامات پر حملے مذہب کی بنیاد پر سرگرم دہشت گردوں کی کارروائیاں ہیں لیکن ہجوم کا اشتعال میں آ کر دوافراد کو قتل کرنا مذہبی محرکات کے تحت نہیں بلکہ فوری اشتعال کے تحت تھا۔ اس عمل کی نہ تو حمایت کی جاسکتی ہے اور نہ ہی ایسا کرنے والوں سے ہمدردی کی جاسکتی ہے تاہم اس بنیاد پر مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کو بھی جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عقیدے کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف احتجاج کے دوران انسانی جان اور املاک کو نقصان پہنچانے سے محض ان دہشت گردگروہوں کے ہاتھ ہی مضبوط ہوں گے جو پاکستانی معاشرے کو مذہبی تشدد اور منافرت کے ذریعے کم زور اور تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔
عقیدے کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف احتجاج کے دوران انسانی جان اور املاک کو نقصان پہنچانے سے محض ان دہشت گردگروہوں کے ہاتھ ہی مضبوط ہوں گے جو پاکستانی معاشرے کو مذہبی تشدد اور منافرت کے ذریعے کم زور اور تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔
لاہور سانحہ کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کے محرکات کا درست تعین کیا جائے اورمسیحی عبادت گاہوں پر حملے کی شدت اور اقلیتوں کے خلاف جاری مذہبی تشدد کو دوافراد کی مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ہلاکت کے باعث پس پشت نہ ڈال دیا جائے۔ مشتعل ہجوم کا متشدد ردعمل غلط ہے لیکن کئی دہائیوں کی محرومی،نظام انصاف کی عدم فعالیت اور ریاست کی سطح پر نظرانداز کیے جانے کے باعث ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ مشتعل ہجوم اگرچہ مسیحی عقائد کا حامل تھا تاہم ان کا ردعمل مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ احساس محرومی، ریاست کی سطح پر نظر انداز کیے جانے اور عدم تحفظ کے باعث تھا۔ اس واقعہ کے تناظر میں گوجرہ کے مسیحیوں پر کیے جانے والے حملوں، احمدیوں اور اہل تشیع کے خلاف حملوں اور مسیحی جوڑے کو زندہ جلائے جانے جیسے واقعات سے متعلق حقائق کو مسخ کرنا مناسب نہیں اور نہ ہی اس واقعے مذہبی دہشت گردی اور مذہبی منافرت پر مبنی جرائم کے ہم پلہ قراردیاجاسکتا ہے۔ مشتعل ہجوم ، مشتعل مذہبی گروہوں اور مذہبی محرکات کے تحت دہشت گردی کرنے والوں کے درمیان فرق کو بھلا دینے سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جاسکتے۔
مشتعل مسیحی ہجوم کے ہاتھوں دوافراد کی ہلاکت کی بنیاد پر اس واقعہ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش اور اسے مسلم بمقابلہ غیر مسلم صورت دینے والوں کی حوصلہ شکنی بھی ضروری ہے۔
مسیحی برادری پر اس سے قبل مذہبی بنیادوں پر مسیحی برادی پر کیے جانے والے حملوں کے تناظر میں یہ ضروری ہے کہ اس انسانیت سوز اور دلخراش واقعے کواقلیتوں کے خلاف مزید اشتعال پھیلانے اور مذہبی منافرت کی بنیاد پر منظم اور انفرادی جرائم کا جواز بننے سے بھی روکا جائے۔ مشتعل مسیحی ہجوم کے ہاتھوں دوافراد کی ہلاکت کی بنیاد پر اس واقعہ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش اور اسے مسلم بمقابلہ غیر مسلم صورت دینے والوں کی حوصلہ شکنی بھی ضروری ہے۔
مذہبی محرکات کے تحت کی جانے والی دہشت گردی اور ریاست کی جانب سے ماضی میں مذہبی دہشت گردی کی سرپرستی کے باعث معاشرہ میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوا ہے۔ ریاستی اور سیاسی مفادات کے تحت ملک کے اندر تکفیری گروہوں، فرقہ وارانہ دہشت گرد تنظیموں اور اقلیتوں کے خلاف منافرت کی داعی مذہبی تحریکوں کی سرپرستی، حمایت، ہمدردی یا ان کی جانب سے آنکھیں بند رکھنے کی پالیسی کے باعث معاشرتی گروہوں کے مابین عقیدے کی بنیاد پر عدم اعتماد، نفرت اور اشتعال میں اضافہ ہوا ہے۔ریاست کو معاشرے میں تمام مذہبی گروہوں کو یکساں آزادی فراہم کرنے اور مذہبی منافرت سے پاک سماجی میل جول کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہوگا۔ ریاست کو یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں خواہ مذہبی بنیادوں پر کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد ہوں یا اشتعال میں آکر املاک اور انسانی جانوں کا ضیاع کرنے والے ہجوم ہوں سب قانون کے سامنے جوابدہ ہیں اور سب کو اپنے جرائم کا حساب دینا ہوگا۔
Categories
نان فکشن

پچھتاوا

میں ایک خونی معاشرے میں سانس لے رہا ہوں جس کا خمیر ازلی متعفن نفرتوں سے اٹھا ہے۔ اس کی بنیادوں میں تعصب اور تنگ نظری کا ضماد ہے۔ اس میں بسنے والے انسانوں کی مثال بھیڑیوں کے غول کی سی ہے ،جس کا باہمی ربط اور اشتراک محض خون بہانے اور چاٹنے تک محدود ہے ،اس کا اورکوئی تعارف نہیں۔ اس معاشرے میں بسنے والے ہر خونی کی طرح اپنے لیے اس پہچان کا انتخاب بھی میں نے خود کیا ہے۔ میں نے انسانی قدروں اور رویوں کویکسرمسترد کر دیا اور ان کریہہ رویوں کو اپنا لیا ، جو صرف جانوروں اور قبل ازمسیح کے وحشیوں کو زیب دیتے ہیں۔ ان رویوں نے مجھے انسانیت کی معراج سے حیوانیت کی پستیوں میں گرا دیا ہے، میں ننگِ انسانیت اور ننگِ وجود ہوں۔
دراصل نفرت میرا بیوپار ہے،میں نے انسانوں کو ذات، قبیلے، رنگ نسل، مذہب اور فرقوں میں تقسیم کر رکھا ہے، میں ان میں تفریق اوراختلاف کی خیرات تقسیم کرتا ہوں۔
دراصل نفرت میرا بیوپار ہے،میں نے انسانوں کو ذات، قبیلے، رنگ نسل، مذہب اور فرقوں میں تقسیم کر رکھا ہے، میں ان میں تفریق اوراختلاف کی خیرات تقسیم کرتا ہوں۔ میں انھیں صبح و شام یقین دلاتا ہوں کہ ان کی ذات معتبر، ان کا رنگ مناسب، ان کا مذہب سچا اور ان کا عقیدہ عین منشائے ایزدی ہے۔ ان کی ذات، فرقے اور عقیدے کی بڑائی مسلمہ ہے اور ان سے ذرہ برابر اختلاف عین کفر و بدعت ہے۔ اس نظریے کے نفاذ کے لیے میں دلیلیں اور فتوے بیچتا ہوں ۔ یہ مجھے رزق بہم پہنچاتے ہیں اور مقابلے کے کٹھن دور میں اثرورسوخ اور زندگی کی آسائش بھی۔
یہ کام بظاہر آسان دکھائی نہیں دیتا اس کے لیے مجھے معاشرے کے اجتماعی فکر و شعور کو سلب کرنا پڑتا ہے، عقل کو تعصب کی کوٹھڑی میں بند کرنا ہوتا ہے۔ مجھ سے اختلاف کرنے والے کو کافر اور ملحد ٹھرانا پڑتا ہے، اس کے موت کے پروانے پر دستخط کرنا ہوتے ہیں۔ میں صرف ایک مخصوص سوچ کی ترویج کرتا ہوں، جو محدود نظریات کی نالی سے گزر کر اجتماعی عدم رواداری کے حوض میں گرتی ہے۔ میں ایک عام انسان ہوں اورمیری بات اتنی اہمیت و افادیت نہیں رکھتی ۔ ممکن ہے کہ پڑھے لکھے نوجوان جن کے ذہن مغربی فلسفیوں کے نظریات سے آلودہ ہیں، میری بات کو چٹکیوں میں اڑا دیں، لہٰذا میں قرآنی تعلیمات و احادیث کو اپنے افکا ر کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہوں۔ میں اپنے افکار کو اسلامی نظریات کے شیرے میں بھگو کر عوام کو پیش کرتا ہوں تاکہ کسی آزاد خیال کو اختلاف کی صورت نہ ملے، یوں میری ہر بات قابل قبول اور جزو ایمان ٹھہرتی ہے۔ میری دکان عوام الناس کے اندھے اعتقاد اور مذہبی جنون کے پایوں پر کھڑی ہے۔ قرآن اور حدیث گویا میری طاقت ہیں، عوام قرآن و حدیث کے تعلم میں میرے دست نگر ہیں ۔ میں نے یہ بات ان کے لاشعور میں بٹھا دی ہے کہ مذہب کے اسرار و رموز صرف میں ہی منکشف کر سکتا ہوں اور ان دینی علوم سے متعلق ان کی جدوجہد اور غور و فکر سعئ لا حاصل ہے۔ پس معاشرہ دینی و دنیاوی زندگی میں سمت کے تعین کے لیے بہ رضا و رغبت اپنی باگیں مجھے تھما دیتا ہےاور مجھے اختیار ہے کہ ان کے لیے جس رستے کا چاہوں انتخاب کروں اور جس سے چاہوں، روکوں۔
میں نے نفرتوں کی ترویج تیز کر دی، میں نے ہر دوسرے گروہ کو مرتد قرار دیا، ہر تیسرے فرقے کو قابل گردن زنی قرار دے دیا، میں نے لوگوں میں نفرت بھر دی اور انھیں متشدد بنادیا۔
ہربیوپاری کی طرح میری بھی خواہش ہے کہ میرا کاروبار عروج پر ہو۔ دوسرے بیوپاریوں سے میری مسابقت چلتی رہتی ہے۔ ہمارے کاروبار کو فکری لحاظ سے بیمار معاشرے راس ہیں۔ علمی وفکری لحاظ سے آزاد معاشروں میں یہ کاروبار پنپ نہیں سکتا۔ علم اعتقادات اور رسوم و رواج کو عقل کی کسوٹی سے پرکھنے کا پرچار کرتاہے۔ علم مذہب کو جمود سے نکالنے کی سعی کرتا ہےاور اس کی بنیادیں عقلی دلائل اور سائنسی براہین پر استوار کرنا چاہتا ہے۔
باالفاظ دیگر جدید علم اس خول کو مسمار کرتا ہے جو میں نے صدیوں کی محنت شاقہ سے معاشرے کے فکر و شعور کے گرد تعمیر کیا ہے۔ پس اس کے سوا چارہ نہیں کہ میں جدید علم کو کفر،الحاد اور بدعت کہہ کر اس کا ناطقہ بند کردوں۔ اس کے لیےمیں نے ایسے تمام لوگوں کے خون سے ہاتھ بھی رنگے جو معاشرے کو ایک متبادل نظام دے کر میرے پیٹ پر لات مارنا چاہتے تھے۔ میں نے سائنس کو مغرب کی سازش اوراسلام سے متصادم قرار دیا، میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ لوگوں کو سائنسی تعلیم سے محفوظ رکھا جائے جو فرد کو سوال اٹھانے، غور وفکر کرنے اور شعوری فیصلے کرنے کی طرف راغب کرتی ہے۔ اس سے میرا اختیار ختم ہوتا، میرا اثر و رسوخ ملیامیٹ ہوجاتا اور قریب تھا کہ میں اس معاشرے کا عضو معطل بن کر رہ جاتا۔
مجھے قدم اٹھانے کی ضرورت تھی، میری بقا کا سوال تھا، میں نے اپنا بیوپار تیز کردیا، میں نے نفرتوں کی ترویج تیز کر دی، میں نے ہر دوسرے گروہ کو مرتد قرار دیا، ہر تیسرے فرقے کو قابل گردن زنی قرار دے دیا، میں نے لوگوں میں نفرت بھر دی اور انھیں متشدد بنادیا۔ میں نے قتل و غارت کو جزو ایمان ٹھرایا اور اس کے لیے ابدی انعامات اور سرخروی کی منادی کروا دی، میں نے معاشرے کو خون کا پیاسا بنا دیا، مذہب کو بھٹی اور انسانی جان کو اس کاایندھن بنا دیا۔ میرا کاروبار عروج پر پہنچ گیا، دولت اور طاقت میرےپیروں کی خاک تھی۔
لیکن ہر عروج کو زوال ہے، پس صورت حال تشویش ناک ہے،کیونکہ معاشرہ فرینکن سٹائن کا درندہ بن چکا ہے۔ میں نے جس درندے کو جنم دیا تھا وہ اب میرے قابو میں نہیں رہا۔ معاشرہ ایک ایسا کھولتا لاوا بن چکا ہے جس پر کسی کا بس نہیں چلتا اور یہ اپنے رستے میں حائل ہر سنگ و خشت کو نیست ونابود کرتاجاتا ہے۔ لوگوں کی رگوں میں خون کی بجائے نفرتوں کا متعفن پس گردش کرتا ہے۔ تعصب نے ان کی بصیرت و بصارت کو زائل کردیا ہے۔ انسانی خون اور گوشت ان کا کھاجا ہے، مگر ان کا نفس کبھی سیراب نہیں ہوتا۔ آدم خوروں کا یہ انبوہ دانتوں سے خون ٹپکاتا ، بستیاں تاراج کرتا، لاشیں گراتا، بھنبھوڑتا، آگے بڑھتا جارہا ہے۔
میرا ضمیر مجھے اکساتا ہے کہ میں سچ بول دوں اور اس جم غفیر کو اس غیر فطری موت سے بچا لوں، جو نہایت تیزی سے ان کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر میں نہیں کرسکتا۔ پس مجھے اپنی لگائی ہوئی آگ میں جل مرنا ہوگا
گومیں آگے چلتا ہوں مگراب میں اس بِھیڑ کا قائد نہیں۔ اب ان کا جنون انھیں راہ دکھاتا ہے، روز روز نئی پستیوں کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ میں نے درندوں کے اس غول کو شکار کرنا سکھایا ہے، ان کے منہ کو خون لگ چکا ہے،اب انھیں روکنا اور ان کی راہیں مسدود کرنا میرے اختیار میں نہیں۔ پس میں ان کے آگے آگے بڑھتا جا رہاہوں، آگے تباہی ہے، بربادی ہے، مگر اب میں رک نہیں سکتا، میں اس بِھیڑ کو یہ نہیں بتا سکتا کہ میں اتنے سالوں تک تمھیں جو سکھاتا رہا، وہ سب غلط تھا، میں نے تمھارے دماغوں میں فتور بھرا۔ میرے افکار، میرے نظریات میری دین داری محض ایک ڈھکوسلہ تھی۔ میں نے اپنے فائدے کے لیے تمھاری انسانیت چھین کر تمھیں حیوان بنا دیا۔
میرا ضمیر مجھے اکساتا ہے کہ میں سچ بول دوں اور اس جم غفیر کو اس غیر فطری موت سے بچا لوں، جو نہایت تیزی سے ان کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر میں نہیں کرسکتا۔ پس مجھے اپنی لگائی ہوئی آگ میں جل مرنا ہوگا،ان سے پہلے اس تباہی سے دوچا ر ہونا ہوگا۔ میں جانتا ہوں کہ یہ بے وقوف بھی میرے پیچھے اس کھائی میں کود پڑیں گے، مگر یہ میری انا کی فتح ہوگی، چاہے میرے ضمیر کی شکست ہو۔