Categories
نقطۂ نظر

مذہبی آزادی مگر اپنے رِسک پر

11 اگست 1947 کی تقریر میں قائد اعظم محمد علی جناح کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر کوئی اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہوگامگر بد قسمتی سے جناح صاحب ایک اضافی جملہ کہنا بھول گئے “اپنے رِسک پر”۔قائد اعظم کی اِس بھول کا خمیازہ گزشتہ روز لاہور کے علاقے یوحنا آباد کی مسیحی برادری کو ایک بار پھراس وقت بھگتنا پڑا جب دو خود کش حملہ آوروں نے اپنے آپ کو رُومن کیتھولک چرچ اور کرائسٹ چرچ کے باہر دھماکے سے اڑا لیا ۔ دھماکے کے نتیجے میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے 15 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والوں کو یہ خوش فہمی تھی کے وہ قائد اعظم کی تخلیق کردہ فلاحی ریاست کے شہری ہیں جس کے خالق نے اقلیتوں کے ساتھ برابری کے سلوک کی ضمانت دی تھی اور جس ریاست کے جھنڈے میں سفید رنگ، اقلیتوں کی نمائندگی کے لئے شامل کیا گیا تھا۔مگر اب تک اقلیتوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ یہ قائداعظم کی وہ تخلیق کردہ ریاست نہیں، جہاں آزادی سے رہنے کے خواب کبھی اقلیتیں دیکھا کرتی تھیں۔ اس ریاست میں مذہبی آزادی صرف انہیں حاصل ہے جن کے ہاتھ میں بندوق ہے اور جو اسے چھین سکتے ہیں۔
دیکھا جائے تو پاکستان میں اقلیتیں تو دور کی بات، اکثریت بھی محفوظ نہیں اور یہی وجہ ہے کبھی امام بارگاہوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی مساجد کو،کبھی مزاروں کو اور کبھی گرجا گھروں کو۔
دھماکوں کے بعد مقامی لوگوں نے اشتعال میں آ کر دو افراد جن پر پولیس کو شبہ تھا کہ وہ دہشتگردوں کے ساتھی ہیں، مقامی لوگوں نے فوری عدل کا نظام رائج کرتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنا کرجلا دیا۔سوموار کے دن جل کر مر جانے والوں میں سے ایک سے متعلق نشتر کالونی تھانے میں درخواست درج کرائی گئی ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ مشتعل مظاہرین کے ہاتھوں ہلاک ہونے والا ایک شخص “نعیم”ان کا بھائی ہے۔ نعیم کی ہلاکت کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہےاور کہا ہے تھا کہ “شک کی بنیاد پر کسی کی جان لینا، انسانیت سوز واقعہ ہے۔”لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب سےکوئی یہ پوچھے کہ کیا اقلیتوں پر اس سے قبل ہونے والے حملوں کے مجرم پکڑنے میں کیا پیش رفت ہوئی ہے ؟ یہ بات بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار جو حملے کے وقت پاکستان اور آئر لینڈ کا کرکٹ میچ دیکھ رہے تھےانہوں نے صرف اس لئے ان دو افراد کو مشکوک سمجھاکیونکہ ان کے منہ پر داڑھیاں تھیں؟
واقعہ کے بعد مشتعل ہجوم نے پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو ثبوت اکٹھے کرنے سے بھی روکا تاہم پولیس افسران سے معاملات طے پانے کے بعد تفتیش کا کام شروع کیا گیا۔ واقعہ کے اگلے روز یعنی سوموار کو بھی یوحنا آباد کے لوگوں نے لاہور کی فیروز پور روڈ بند کیے رکھی، ٹائر جلائے اور گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔ ہنگاموں اور احتجاج کے باعث میٹرو بس بھی بند رہی اور احتجاج میں شامل شر پسندوں نے لوٹ مار کا نادر موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ احتجاج کا سلسلہ دیگر شہروں مثلاً فیصل آباد میں بھی جاری رہا جہاں مظاہرین نے ٹائر جلائے اور فیصل آباد موٹر وے کو آمدورفت کے لیے بند رکھا۔ درحقیقت یہ احتجاج کسی بھی طرح ایسے مواقع پر کیے جانے والے مظاہروں سے مختلف نہیں تھا، فرق تھا تو صرف یہ کہ پہلی مرتبہ کسی اقلیت نے اس طرح کے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
یہ وہ طبقہ ہے جو بندوق کے زور پر شریعت کا نفاذ چاہتا ہے اور جسے معاشرے کے اندر سے بھی ہمدردی حاصل ہےیہی وجہ ہے کہ لاکھوں مساجد میں مرنے والوں کے ایصالِ ثواب کے لئے دعا تو مانگی جاتی ہے مگر دہشتگردوں کے خلاف دعا مانگنا ممنوع تصور کیا جاتا ہے۔
لاہور اور فیصل آباد میں ہونے والے جھڑپوں اور احتجاج میں سرکاری املاک سمیت چند عام لوگوں کو بھی نقصان پہنچا۔ جس کا مقدمہ حسبِ روایت چند نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا جائیگا اور یوں یہ مقدمہ دیگر ہزاروں بلکہ لاکھوں مقدمات کی گنتی میں شامل ہوجائےگا۔یہ تمام احتجاج اور جھڑپیں مسیحی عبادت گاہوں پر ہونے والے دہشتگرد حملے کے بعد ہوئیں مگر دیکھا جائے تو پاکستان میں اقلیتیں تو دور کی بات، اکثریت بھی محفوظ نہیں اور یہی وجہ ہے کبھی امام بارگاہوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی مساجد کو،کبھی مزاروں کو اور کبھی گرجا گھروں کو۔موجودہ حالات اور پیش آنے والے واقعات کو دیکھا جائے تو پاکستان میں صرف اقلیتیں ہی نہیں بلکہ اکثریتی عقیدے کے حامل افراد بھی انتہائی غیر محفوظ ہے۔
مسیح تو پھر اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں،اہلِ تشیع تو اقلیت نہیں۔ ان کی امام بارگاہیں بھی آئے دن بربریت کا نشانہ بن رہی ہیں، مزارات بھی خود کش دھماکوں کا نشانہ بن چکے ہیں، مساجد تو اب جمعہ کے مبارک دن نشانہ بنائی جارہی ہیں لیکن اس کے باوجود اقلیتوں کے حق میں کبھی معاشرے کا اجتماعی ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔احمدیوں ، عیسائیوں، ہندووں اور سکھوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی سے متعلق نہ تو زیادہ بات کی جاتی ہے اور نہ انہیں تحفظ دینا ریاست اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ اخبارات بھی اقلیتوں سے متعلق خبر کسی اندرونی صفحہ پر لگا کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔
اگر پاکستان میں گرجہ گھر، امام بارگاہ، مزارات اور مساجد محفوظ نہیں تو سوچنے کی بات یہ ہے کے حملہ کرنے والے کس کی ترجمانی کر رہے ہیں؟
یہ وہ طبقہ ہے جو بندوق کے زور پر شریعت کا نفاذ چاہتا ہے اور جسے معاشرے کے اندر سے بھی ہمدردی حاصل ہےیہی وجہ ہے کہ لاکھوں مساجد میں مرنے والوں کے ایصالِ ثواب کے لئے دعا تو مانگی جاتی ہے مگر دہشتگردوں کے خلاف دعا مانگنا ممنوع تصور کیا جاتا ہے۔
Categories
اداریہ

تشدد کی ہر صورت غلط ہے- اداریہ

تشدد ہر صورت غلط اور قابل مذمت ہے ۔ لاہور میں دو مسیحی عبادت گاہوں پردہشت گرد حملے کے بعد احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ اور دوافراد کے سرعام قتل اور ان کی لاشوں کی بے حرمتی کا دفاع ممکن نہیں تاہم اس جرم کو عقیدے کی بنیاد پر سوچا سمجھا اور ارادی عمل قرار دیا جانا نامناسب ہے۔ مشتعل ہجوم کے ہاتھوں دوافراد کی بہیمانہ ہلاکت یہ ظاہرکرتی ہےکہ ریاستی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اقلیتوں اور محروم طبقات کے تحفظ اورفراہمی انصاف میں ناکام ہیں، اور اس ناکامی کے باعث قانون کو ہاتھ میں لینے کے رحجان میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس واقعہ سے متعلق یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مسیحی ، شیعہ ، بریلوی اور احمدی آبادیوں اور عبادت گاہوں اور عوامی مقامات پر حملے مذہب کی بنیاد پر سرگرم دہشت گردوں کی کارروائیاں ہیں لیکن ہجوم کا اشتعال میں آ کر دوافراد کو قتل کرنا مذہبی محرکات کے تحت نہیں بلکہ فوری اشتعال کے تحت تھا۔ اس عمل کی نہ تو حمایت کی جاسکتی ہے اور نہ ہی ایسا کرنے والوں سے ہمدردی کی جاسکتی ہے تاہم اس بنیاد پر مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کو بھی جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عقیدے کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف احتجاج کے دوران انسانی جان اور املاک کو نقصان پہنچانے سے محض ان دہشت گردگروہوں کے ہاتھ ہی مضبوط ہوں گے جو پاکستانی معاشرے کو مذہبی تشدد اور منافرت کے ذریعے کم زور اور تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔
عقیدے کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف احتجاج کے دوران انسانی جان اور املاک کو نقصان پہنچانے سے محض ان دہشت گردگروہوں کے ہاتھ ہی مضبوط ہوں گے جو پاکستانی معاشرے کو مذہبی تشدد اور منافرت کے ذریعے کم زور اور تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔
لاہور سانحہ کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کے محرکات کا درست تعین کیا جائے اورمسیحی عبادت گاہوں پر حملے کی شدت اور اقلیتوں کے خلاف جاری مذہبی تشدد کو دوافراد کی مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ہلاکت کے باعث پس پشت نہ ڈال دیا جائے۔ مشتعل ہجوم کا متشدد ردعمل غلط ہے لیکن کئی دہائیوں کی محرومی،نظام انصاف کی عدم فعالیت اور ریاست کی سطح پر نظرانداز کیے جانے کے باعث ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ مشتعل ہجوم اگرچہ مسیحی عقائد کا حامل تھا تاہم ان کا ردعمل مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ احساس محرومی، ریاست کی سطح پر نظر انداز کیے جانے اور عدم تحفظ کے باعث تھا۔ اس واقعہ کے تناظر میں گوجرہ کے مسیحیوں پر کیے جانے والے حملوں، احمدیوں اور اہل تشیع کے خلاف حملوں اور مسیحی جوڑے کو زندہ جلائے جانے جیسے واقعات سے متعلق حقائق کو مسخ کرنا مناسب نہیں اور نہ ہی اس واقعے مذہبی دہشت گردی اور مذہبی منافرت پر مبنی جرائم کے ہم پلہ قراردیاجاسکتا ہے۔ مشتعل ہجوم ، مشتعل مذہبی گروہوں اور مذہبی محرکات کے تحت دہشت گردی کرنے والوں کے درمیان فرق کو بھلا دینے سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جاسکتے۔
مشتعل مسیحی ہجوم کے ہاتھوں دوافراد کی ہلاکت کی بنیاد پر اس واقعہ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش اور اسے مسلم بمقابلہ غیر مسلم صورت دینے والوں کی حوصلہ شکنی بھی ضروری ہے۔
مسیحی برادری پر اس سے قبل مذہبی بنیادوں پر مسیحی برادی پر کیے جانے والے حملوں کے تناظر میں یہ ضروری ہے کہ اس انسانیت سوز اور دلخراش واقعے کواقلیتوں کے خلاف مزید اشتعال پھیلانے اور مذہبی منافرت کی بنیاد پر منظم اور انفرادی جرائم کا جواز بننے سے بھی روکا جائے۔ مشتعل مسیحی ہجوم کے ہاتھوں دوافراد کی ہلاکت کی بنیاد پر اس واقعہ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش اور اسے مسلم بمقابلہ غیر مسلم صورت دینے والوں کی حوصلہ شکنی بھی ضروری ہے۔
مذہبی محرکات کے تحت کی جانے والی دہشت گردی اور ریاست کی جانب سے ماضی میں مذہبی دہشت گردی کی سرپرستی کے باعث معاشرہ میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوا ہے۔ ریاستی اور سیاسی مفادات کے تحت ملک کے اندر تکفیری گروہوں، فرقہ وارانہ دہشت گرد تنظیموں اور اقلیتوں کے خلاف منافرت کی داعی مذہبی تحریکوں کی سرپرستی، حمایت، ہمدردی یا ان کی جانب سے آنکھیں بند رکھنے کی پالیسی کے باعث معاشرتی گروہوں کے مابین عقیدے کی بنیاد پر عدم اعتماد، نفرت اور اشتعال میں اضافہ ہوا ہے۔ریاست کو معاشرے میں تمام مذہبی گروہوں کو یکساں آزادی فراہم کرنے اور مذہبی منافرت سے پاک سماجی میل جول کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہوگا۔ ریاست کو یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں خواہ مذہبی بنیادوں پر کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد ہوں یا اشتعال میں آکر املاک اور انسانی جانوں کا ضیاع کرنے والے ہجوم ہوں سب قانون کے سامنے جوابدہ ہیں اور سب کو اپنے جرائم کا حساب دینا ہوگا۔