Categories
فکشن

سائن بورڈ اور دوسری کہانیاں

جب چیخوف ہمارے گھر آتا ہے

جب چیخوف ہمارے گھر آتا ہے تب ہمیں اسکی مہمان نوازی سے زیادہ گھر کی چیزوں کی فکر ہونے لگتی ہے۔ اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ چیخوف کوئی چور ہے، تو نہیں، آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔ میں بھی آپکی غلط فہمی میں برابر کا شریک ہوں کہ میرا انداز تشکیک آمیز ہے۔ جب چیخوف ہمارے گھر کے نمبر پر فون کر کے کہتا ہے کہ وہ ٹالسٹائی کے پاس گیا تھا اور اس نے سوچا کہ ہماری طرف بھی آ جائے تو ہمارے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ ہم سادہ سا کھانا بناتے ہیں، جس میں چاول شامل نہیں ہوتے۔ چیخوف کو چاول پسند نہیں۔ انہیں کھانے کے دوران اسے پانی زیادہ پینا پڑتا ہے اور زیادہ تر حصہ پانی ہی گھیر لیتا ہے اور اسے لگتا ہے کہ اس نے کافی کھا لیا ہے، لیکن تھوڑی دیر بعد پھر سے بھوک لگنے لگتی ہے، لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کرتا۔

مجھے لگتا ہے کہ میں چیخوف کو سمجھتا ہوں۔ میں چائے بنوانے جاتا ہوں اور ساتھ ہی بسکٹ بھی لیتا جاتا ہوں۔ چیخوف کو چاکلیٹ پسند نہیں۔ اسے چائے میں بسکٹ ڈبونا بھی اچھا نہیں لگتا اور چائے پیتے وقت منہ سے نکلنے والی آواز تو اسے بالکل بھی اچھی نہیں لگتی۔ چیخوف اس بیزاری کا اظہار نہیں کرتا۔ اس کا کہنا ہے کہ تہذیب یافتہ افراد چڑتے نہیں، اور تہذیب یافتہ ہونا فقط چائے میں بسکٹ نہ ڈبونا یا چائے پیتے وقت آواز نہ نکالنا ہی نہیں بلکہ اگر کوئی ایسا کرے تو اس پر شور نہ مچانا بھی تہذیب یافتگی ہی ہے۔ ہم ایسا کر سکتے ہیں، اس لئے کہ ہم جانتے ہیں چیخوف بھی ہمیں سمجھتا ہے۔

دراصل چیخوف جب ہمارے گھر آتا ہے تو ہمارے دادا کی جوانی میں خریدی گئی بندوق، جو دیوار کیساتھ لٹک رہی ہوتی ہے، کو دیکھ کر پوچھتا ہے کہ کیا کبھی اسے استعمال کیا۔

میں کہتا ہوں کہ کبھی نہیں۔

تب وہ کہتا ہے کہ اس وعدے کا کیا فائدہ جو آپ نے کبھی نبھایا ہی نہ ہو۔ یہ بہت عجیب توجیح ہے لیکن اس کے بعد وہ نقلی تصویروں پہ بھی بولنے لگتا ہے اور کبھی تو روغن پر بھی، جیسے وہ سبز رنگ کو دیکھ کر پوچھتا ہے کہ امن صرف رنگ میں ہی نہیں چھپا ہوتا بلکہ اپنی روح کو بھی سبز کرو۔

میں چیخوف کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن پھر چھوڑ دیتا ہوں اور خود کو کہتا ہوں کہ آئندہ یہ بندوق یا ایسی فضول چیزیں ہماری بیٹھک کا حصہ نہیں ہوں گی۔

چیخوف مجھے نکولائی کی طرح پیار کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میں نکولائی کی طرح ہوں۔ معصوم اور بے ضرر۔ اسی لئے وہ میری بہت سی بیوقوفیوں کو برداشت کرتا ہے۔

ہم اسی طرح باتیں کرتے ہیں اور پھر اچانک چیخوف مجھ سے ہوچھتا ہے کہ محبت یا نفرت میں کونسی چیز زیادہ مظبوط ہوتی ہے۔ میں نے اسکے ڈرامے پڑھ رکھے ہیں اور میں جواب دیتا ہوں کہ باہمی نفرت۔ چیخوف ہلکا سا ہنستا ہے۔

وہ آگے بڑھتا ہے کہ چائے کپ میں ڈال سکے۔ میں آگے بڑھ کر اشارہ کرتا ہوں کہ میں ڈالتا ہوں۔
وہ چائےکا گھونٹ بھرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ سب سے اچھا مہمان کونسا ہوتا ہے۔
میں جواب دیتا ہوں : جیسے آپ

سائن بورڈ

اگر ہم دو کلو میٹر پیدل چل کر “کیفے ہوٹل” جاتے ہیں تو اس کی دو ہی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ اس ہوٹل کا مینجر ہمیں پسند کرتا ہے۔ دوسری یہ کہ ہم اس کے ایک بیرے کو پسند کرتے ہیں جو بھارتی فلموں کا شائق ہے اور خود کو انوپم کھیر کا پرستار کہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انوپم کھیر بہترین اداکار ہے، لیکن وہ اکثر بنیاد پرست بن جاتا ہے یا یہ کہ وہ نیشنل سکول آف ڈرامہ کا پڑھا ہے اور نصیر الدین شاہ کے بر عکس ادبی محفلوں میں آنے سے بھی کترا جاتا ہے۔ ہم بھی انوپم کھیر کو پسند کرتے ہیں، ہم نے بھی”سارنش” دیکھ رکھی ہے اور انوپم کو دیکھ کر ہم سوچتے ہیں کہ آپکی شکل اچھی ہو تو گنجا پن کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ جب ہم، یعنی میں، میرا دوست اورحان اور احسن اچھی شکل اور گنجے پن کے بارے بات چھیڑتے ہیں، ایسے میں وہ بیرا، جس کا نام۔۔۔۔( معاف کیجیے ہم نے کبھی اس سے اس کا نام نہیں پوچھا ) اوم پوری کا زکر چھیڑ دیتا ہے، جس کی شکل بھی واجبی سی تھی اور بال بھی چپچپے، تب ہماری بحث یکدم سیاسی ہو جاتی ہے۔ اس دوران ہمارے ذہن سے اس بیرے کا خیال نکل چکا ہوتا ہے۔

میں ثابت کر سکتا ہوں یہ اداس کر دینے والی کہانی ہے

کہانی شروع ہو گئی ہے. آپ نے عنوان کے بارے سوچنا شروع کر دیا ہے. آپ سرورق دیکھنے لگے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیا اوپر موجود تصویر اسکے پہلے صفحہ کی طرح ہے یا بیچ میں بننے والے مناظر کی یا آخری صفحوں میں یکدم سفید ہو جانے والے بالوں کے حامل شخص کی. آپ اپنے دکھوں کو سوچنے لگے ہیں اور اس کہانی کے کرداروں کو بھی. آپ اپنا موازنہ ہیرو کے ساتھ کرنے سے کترانے لگے ہیں. آپ سوچنے لگے ہیں کہ آپکو بھوک نہ لگے اور آپ بنا کھائے ہی سو جائیں. آپکی خواہش ہے کہ کاش آپ یہ کہانی نہ پڑھتے. آپ اس کتاب کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

آپ اس کے ابتدائی صفحات کو اس لئے پڑھنے لگے ہیں کہ بھول جانے کو طاری کر لیں کہ آپ نے بس یہی پڑھے ہیں اور آگے کیا لکھا ہے آپ نہیں جانتے

آپ کتاب کو بند کر کے نارمل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور یا تو سو جاتے ہیں یا ماں کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں کہ وہ کوئی ایسی بات کرے گی جسے سن کے آپ ہنسنے لگیں گے اور سوچیں گے وہ کتنی معصوم ہے۔
آپ کے ذہن میں خیالات کا جھکڑ چل رہا ہے. آپ خود کو جہاں دیدہ سمجھنے لگے ہیں.
کہانی ختم ہو چکی ہے.

Categories
فکشن

سرائے

مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

رہنما

 

غار سے نکل کر بے نور پتلیوں والے شخص نے رنگ برنگا جھنڈا ایک طرف رکھا!

 

بغیر سروں کے انسانی ہجوم کو بیٹھنے کا اشارہ کیا!

 

پھر دوسرے ہاتھ میں پکڑے چھرے کو کھونٹے سے بندھے نوخیز غزال کے پیٹ میں گھونپ کر آزاد کر دیا۔

 

اس کے رستے خون سے چہرہ تر کیا اور روشنی کی دعا مانگی غزال گیت گاتا، قلانچیں بھرتا رخصت ہوا۔

 

آسمانوں پر پنکھ پھیلائے ساکت گدھ نظریں جمائے ہوے دور کے درندوں کو خبر دے رہے تھے۔

 

میں حیران تھا۔

 

تھوڑی دیر پہلے ہی تو الاؤ روشن ہوا تھا کہ
کارواں ان راستوں میں کھو نہ جائیں جو اندھیروں میں گم ہو رہے تھے۔

 

جب خوشبو دار پھول راہ دکھانے پر مامور کیے گئے۔

 

الاؤ بھڑ کانے کو کتنے خوشبو دار پھولوںٰ کتنی نازک کلیوں اور تروتازہ کونپلوں نے اپنا وجود آگ کے سپرد کیا !

 

مگر افسوس قافلے والے دکانوں سے رنگ برنگے جگنو خرید کر انہی کی پھیکی روشنی میں راستہ بھٹک کر پتھیریلی وادیوں کی طرف نکل گئے۔

 

سرائے

 

وہ دلاویز مسکراہٹ سے ہر آنے والے کااسقبال کرتی۔ اس کا والہانہ انداز ہر مسافر کو یہ باور کرواتا کہ جیسے اس کو بس اسی کا انتظار تھا۔ آنے والا ہر مسافر سرشار تھا کہ وہ اس کا خاص مہمان ہے۔

 

مسافروں کی سرشاری دیدنی ہوتی کہ جب طاقتِ اظہار نہ ہونے کے باوجود وہ ان کی ضرورتوں کو بھانپ جاتیٰ۔ مہمان کو کس وقت کیا چاہیے وہ بن مانگے پیہم خدمت میں ڈٹ جاتی۔

 

مسافروں کو اس کا قطعاً ادراک نہیں تھا کہ اقتصادی اصولوں کے پیش نظر ہر چیز کی ایک قیمت مقرر ہے۔ وہ تو بس اس کی خدمت سے محظوظ ہو رہے تھے۔

 

مسافروں کو سرائے میں ٹھہرے ہوئے جب چند دن گزرے تو ان کو احساس ہوا کہ اب اس کی مسکراہٹ میں ایک اکتاہٹ کا عنصر نمایاں ہو چکا ہے۔

 

وہ آج بھی ان کی خدمت میں کوشاں تھی مگر ایسا لگتا تھا جیسے اب یہ سب بادل ناخواستہ کر رہی ہے وہ نئے آنے والے مسافروں سے خاص عنایت برت رہی تھی جبکہ پرانے مسافر اس کی بے اعتنائی و کج روی کا شکار ہوچلے تھے۔

 

پرانے مسافروں میں سب سے بوڑھا شخص جسے آج بھی اس کی وہ شاندار اسقبالیہ مسکراہٹ روز اول کی طرح یاد تھی اور وہی اس کے بدلے ہوئے رویے پر سب سے زیادہ دلبرداشتہ بھی تھا دھیرے سے اٹھا اور اپنا سامان باندھنے لگا۔ اس کی ڈبڈباتی ہوئی ملگجی آنکھیں تصور میں اپنا پہلا وجود دیکھنے لگیں کہ جس پر اس قتالہ نے ایک نگاہِ غلط انداذ ڈالی اور اسے غیر مرئی زنجیر سے جکڑ لیا تھا۔
بوڑھا مسافر اپنا سامان باندھ کر جھکی ہوئی کمر پر ہاتھ دھرے دروازے کی طرف بڑھا جہاں وہ اپنی روایتی حشر سامانیوں سے لیس نئے مسافروں کا اسقبال کر رہی تھی۔

 

بوڑھا اس کے قریب سے گزرا مگر اس نے اسے یوں نظر انداز کیا جیسے جانتی ہی نہیں بوڑھا مسافر دل گرفتہ ہوکر اس کی بے وفائی پر آنسو بہاتا ہوا دروازے تک پہنچا تو ایک آواز سماعت سے ٹکرائی سنیے !!!

 

یہ اسی کی مدھر آواز تھی۔ مسافر کی آنکھیں فرط مسرت سے جگمگا اٹھیں۔ تمام وسوسے دم توڑ رہے تھے وہ اسے بلا رہی تھی بوڑھے نے خود کو ملامت کیا کہ کیوں کر وہ اسے بے وفا سمجھا وہ تو اسے بلا رہی ہے۔

 

بوڑھے نے گھوم کر اس کی طرف دیکھا وہ اسی طرح شاداب تھیں کئی ہزار سال کی عمر پانے کے باوجود وہ اتنی ہی تر و تازہ تھی بولی حضور معذرت چاہتی ہوں گر خدمت میں کوئی کوتاہی ہوئی ہو اب آپ سے حساب ہو جائے؟

 

بوڑھے نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اپنی بند مٹھی اس کی طرف بڑھائی اور اپنی روح اس کی ہتھیلی پر رکھ دی۔