Categories
نان فکشن

سائنس کیا ہے؟ – حصہ دوم

اس مضمون کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

سائنسی فلسفے کی تحریکیں

 

گزشتہ مضمون میں ہم نے سائنسی طریقہ کار کا مختصر تجزیہ پیش کیا جس کے مطابق حقائق کو مشاہدے سے اخذ کرکے کچھ بیانات کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ اور بہت سے بیانات کا آپس میں ربط قائم کر کے ایک مفروضہ تشکیل پاتا ہے جس کو پھر تجربے کی کسوٹی پر پرکھنے سے درست یا غلط ہونے کا پتا لگایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ سائنسی طریقہ کار چارصدیاں پہلے فرانسس بیکن کے ہاتھوں تشکیل پایا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مختلف فلاسفہ نے اس پر اپنے مباحث پیش کیے ہیں۔ سائنس اور تکنیک کی ترقی سے ایسے مشاہدات سامنے آئے ہیں جنہیں عام حواس خمسہ سے مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا۔

 

مائیکروسکوپ کی ایجاد سے ایسے خلیے اور سالمے دریافت ہوئے جن کو محسوس نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح دوربین کی ترقی نے ایسی کہکشاؤں اور ستاروں کا پتا بتلایا ہے کہ جنہیں عام آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ بیسویں صدی کے آغاز ہی سے فزکس میں ایسے نظریات کا ظہور ہوا ہے کہ جس نے نہ صرف سائنسدانوں کو ورطہ حیرت میں ڈالا ہے بلکہ اب سائنسی نظریات میں بھی اثر پذیر ہورہے ہیں۔ اور فلسفے کی ایک باقاعدہ شاخ جسے ‘فلسفۃ السائنس’ کہا جاتا ہے وجود میں آچکی ہے۔ گزشتہ صدی میں رونما ہونے والی بڑی فلسفیانہ تحریکوں میں سائنس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سائنسی فلسفے کی ان تحریکوں کا مختصر جائزہ ہمارے اس مضمون کا مدعا ہے۔

 

1۔ منطقی اثباتیت

 

1929ء میں ویانا کے کچھ دانشوروں نے ایک منشور جاری کیا جس کانام “ایک سائنسی جہاں بینی: ویانا سرکل” تھا۔ یہ سرکل 1922ء میں ویانا میں قائم ہوا جس میں گزشتہ صدی کے مشہور فلاسفہ مثلاً گوڈل، کارنپ، کارل پوپر وغیرہ شامل تھے۔ یہ لوگ اس سرکل میں اکٹھے ہوتے اور سائنس اور فلسفے کے مابین مختلف حدود پر بحث و مباحث کرنے کے بعد یہ اس منشور تک پہنچے جسے 1929ء میں شائع کیا گیا۔ اس سرکل کو سائنسی فلسفے کی تاریخ میں بہت اہم مقام حاصل ہے۔ اگرچہ جرمنوں کے قبضے کے بعد یہ سرکل بکھر گیا لیکن اسکے فلسفیانہ نظریات نے گزشتہ صدی میں اہم کردار کیا۔ اس میں سے پہلا اہم نظریہ منطقی اثباتیت کہلاتا ہے جسکا ہم مختصر جائزہ پیش کریں گے۔

 

اس نظریے کے مطابق تمام انسانی علم میں صرف وہی علوم قابل اعتبار ہیں جو یا تو منطقی استدلال یا تجربے کی رو سے ثابت ہوتے ہیں۔ اور دیگر ہر قسم کے علم کی نفی کردی جائے گی۔ گویا اس استدلال کے تحت بہت سے علوم مثلاً مابعد الطبیعات اور اخلاق وغیرہ بے معنی علوم ہیں کیونکہ انکو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اس نظریے کی بنیاد تصدیقیت پر ہے جس کے مطابق ایک قضیہ صرف اسوقت معتبرمعنی کا حامل ہوگا جب اس کی تصدیق یا تردید ہونے کی کامل دلیل پیش کردی جائے۔ بہرحال منطقی اثباتیت کے مطابق تمام فطری یا سماجی مسائل کو منطق اور تجربے یعنی سائنسی طریقہ کار ہی سے حل کیا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ ایک ایسی ‘متحدہ سائنس’ یا زبان کی تلاش میں تھے جس کے ذریعے تمام سائنسی قضیوں کو ایک ہی پیرائے میں بیان کیا جا سکے۔ اس مقصد کے حصول میں مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل کے مایہ ناز شاگرد لدوگ ویتجنسٹائن کے پی ایچ ڈی کے تھیسز بنام ‘ٹریکٹیٹس’ نے اہم کردار ادا کیا جسے ویانا سرکل میں موضوع بحث بنائے رکھا جاتا تھا۔ ویتجنسٹائن کے مطابق کسی لفظ کا معنی زبان کےاستعمال سے بنتا ہے اور الفاظ یا خیالات دراصل دنیا میں موجود اشاء کی علامات یا تصویریں ہوتی ہیں۔ اس رجحان نے بعد میں لسانیات میں سمبلزم یعنی علامت پسندی کو جنم دیا۔ اسی طرح برٹرینڈ رسل اور الفرڈ نارتھ وائیٹ ہیڈ کی مشہور تصنیف ‘پرنسپیا میتھییمیٹکا’ جس کا نام نیوٹن کی کتاب سے مستعار لیا گیا کیونکہ اس میں نیوٹن کے ریاضیاتی اصولوں کا نئے رجحانات کی روشنی میں جائزہ لیا گیا اور ریاضی کو رسمی منطق کی بجائے سمبلزم کی بنیاد پر استوار کیا گیا۔ برطانیہ میں اے جے آئر کی مشہور تصنیف “زبان، سچائی اور منطق” نے منطقی اثباتیت کا بول بالا کیا۔

 

2۔ تردیدی فلسفہ

 

ویانا سرکل کے نتیجے میں منطقی اثباتیت کی تشہیر کے بعد اس پر تنقید کا دور شروع ہوا۔ سب سے پہلا شخص جس نے اس رجحان پر شک کرتے ہوئے اہم تنقید کی وہ سر کارل پوپر ہیں۔ انہوں نے ویانا کی یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی جسکا موضوع سوچنے کے عمل میں طریقہ کار کا مسئلہ تھا۔ ان کا زیادہ کام نظریاتی طبیعات اور ریاضی کے حوالے سے تھا۔ لیکن انکا سب سے اہم کام سائنسی و غیرسائنسی نظریات کے معیار کے حوالے سے ہے جسے ہم تردیدی فلسفے کا نام دیں گے کیونکہ اس میں کسی خاص نظریے کے سائنسی ہونے کی تردید کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ انکی دومشہور ترین کتب کا نام “سائنسی دریافت کی منطق” (1959ء) اور “قیاس اور تردید” (1963ء) ہیں۔ اسکے علاوہ تاریخ اور معاشرے کے حوالے سے بھی بہت اہم کام کئے۔

 

اپنی کتاب “قیاس اور تردید” میں انہوں نے لکھا ہے کہ کیسے ان کو پہلی مرتبہ منطقی اثباتیت کے فلسفے پر شک ہوا۔ یہ شک انہیں تین اہم نظریات کے سائنسی کہے جانے پر پیدا ہوا جس میں مارکس، فرائڈ اور ایڈلر شامل ہیں۔ بلکہ ایڈلر کے حوالے سے انہوں نے 1919ء کا ایک واقعہ بھی بیان کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے پاس کسی بچے میں نفیساتی مسئلہ پیش آیا اور انہیں اس کی وجہ ایڈلر کی تھیوری کے مطابق ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔ جب انہوں نے ایڈلر کو یہ کیس دکھایا تو اس نے فوراً اپنے نفسیاتی طریقہ کار سے اس کا حل پیش کر دیا۔ حالانکہ اس نے ابھی بچے کو دیکھا تک نہ تھا۔ پوپر لکھتے ہیں میں نے حیرانی میں ان سے پوچھا کہ آپ اس بارے میں یقین سے کیسے کہہ سکتے ہیں؟ تو جواباً انہوں نے کہا کہ یہ میرا ہزارمرتبہ آزمودہ تجربہ ہے۔ جس پر پوپر نے کہا “تو گویا آج آپ کا تجربہ ایک ہزرا ایک مرتبہ آزمودہ ہو گیا”۔ اس اہم مشاہدے نے جو شک پیدا کیا وہ پوپر کے تردید فلسفے کی بنیاد ہے۔

 

پوپر کے مطابق سائنس اس لئے معتبر نہیں کہ یہ حقائق کی تعداد پر منحصر ہے۔ یعنی زیادہ حقائق کا مطلب یہ نہیں کہ یہ نظریہ زیادہ سائنسی ہوگیا ہے۔ در اصل مارکس، فرائڈ اور ایڈلر کے نظریات اتنے لچکدار ہیں کہ ان کو ہر قسم کے حالات میں ایڈجسٹ کر کے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا یہ نظریات کبھی بھی غلط ثابت نہیں ہو پائیں گے۔ اس کے مقابلے میں آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت قابل تردید ہے کیونکہ ایک تجربے سے اسکو غلط ثابت کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ یہ نظریہ قابل تردید ہے لہٰذا سائنسی نظریہ ہے جبکہ مارکس اور فرائڈ وغیرہ کے نظریات غیر سائنسی ہیں۔
تردیدی فلسفہ کے ماننے والے وہی بات کہتے ہیں جو ہم نے اس مضمون کے حصہ اول میں بیان کی تھی یعنی یہ کہ حقائق اور تجربات بھی دراصل ہمارے قیاس اور نظریات کے پابند ہوتے ہیں۔ ہمارا تجربہ ہمارے نظریے کے تابع ہوتا ہے۔ لہٰذا آئندہ تجربیت کی بجائے نظریات کی تردید سائنس کے لئے مشعل راہ ہوگی۔ امریکہ کے مشہور زمانہ فلسفی و ماہرلسانیات نوم چومسکی نے اپنے ایک لیکچر میں بہت اہم بات کہی تھی کہ آج کا زمانہ حقائق سے نظریات لینے کی بجائے نظریات کی بنیاد پر حقائق جانچنے کا زمانہ ہے۔ یعنی پہلے انسان اس کائنات کے بارے میں ایک قیاس قائم کرے گا اور پھر اس کے لئے تجربے سے حقائق کی تلاش کی جائے گی۔ اگر قیاس کی تردید ہوئی تو پھر اس کی جگہ نیا قیاس آجائے گا۔ یعنی سائنسی ترقی “قیاس اور تردید” سے طریقے سے ہوگی۔

 

تردیدی فلسفے سے سائنس کو استقرائی طریقہ کار سے آزادی مل جاتی ہے۔ کیونکہ اب ہم حقائق کی خاص تعداد کی بنیاد پر عمومی نتیجہ اخذ نہیں کریں گے۔ بلکہ عمومی بیانات کی تردید محض ایک واحد بیان سے ہو جائے گی۔ ایک تجربہ کسی بھی قانون کو غلط ثابت کر دے گا۔ ایسے بہت سے سماجی، نفسیاتی اور مذہبی نظریات ہیں جو شاید کائنات کی ہر شے کی وضاحت پیش کریں مگر حقیقت میں وہ کوئی وضاحت پیش نہیں کرتے اور نہ ہی ان سے نیا علم حاصل ہو سکتا ہے۔ کیونکہ نیا علم صرف تب حاصل ہوگا جب کسی نظریے میں غلط ہونے کا امکان پایا جائے گا۔ اور اگر بار بار کے تجربے اور تنقید سے کوئی نظریہ غلط ثابت نہ ہوا تو وہ کسی ایسے مسئلے کو جنم دے گا جس کے لئے پھر کوئی نیا قیاس بنانا پڑے گا۔ مثال کے طور پرنیوٹن کی گریوٹی نے 300 سال تک غلط نہ ہو کر ایسے مسائل پیدا کر دئے کہ ہمیں آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی ضرورت پیش آگئی۔ لیکن ریلٹوٹی نے نیوٹن کو مکمل غلط ثابت نہیں کیا۔ اس نے نیوٹن کی حدود متعین کردی ہیں اور لہٰذا ہم کہیں گے کہ آئن سٹائن کی فزکس نیوٹن کی فزکس سے بہتر ہے۔ آئندہ ہم آئن سٹائن کی تردید کرنے میں لگ جائیں گے اور شاید مستقبل میں اسکی بھی حدود متعین کرنا پڑ جائیں۔ تردید فلسفہ سچائی کی تلاش کا دعوٰی نہیں کرتا بلکہ خوب سے خوب ترنظریات کی تلاش اس کا مدعا ہے۔

 

یہاں ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ اکثر سائنسی نظریات ایک سے زیادہ قیاسی بیانات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب کبھی کوئی تجرباتی بیان اورنظریات میں تضاد پیدا ہو، تو ہم نظریات ہی کی تردید کیوں کریں؟ اور نظریہ جن قیاسی بیانات پر مشتمل ہے ان میں سے کس قیاس کی تردید ہوئی ہے؟ کیونکہ تردیدی فلسفہ کے مطابق تجربہ بھی قیاس اور نظریات کے تابع ہوتا ہے۔ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ ہم نے جو تجربہ ترتیب دیا تھا وہ اس قیاسی نظریے کے لئے کافی نہیں تھا؟ یہ سوالات تاریخ میں دوہم-قوائن تھیسز کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان سوالات اور دیگر تنقید کے زیراثر تردید فلسفے میں یہ ترمیم کی گئی ہے کہ کسی نظریے کو یکسر رد کردینے کی بجائے اس پر مزید تجربات کرتے رہنا بھی ضروری ہے۔ پوپر خود کہا کرتا تھا کہ محض تردید کافی نہیں ہمیں عقیدہ بھی ہونا چاہئے۔ 2015ء میں رینالڈ نامی ایک سائنسدان نے موجودہ فزکس کے اہم مسئلے ڈارک میٹر کو اس تھیسز کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

 

3۔ ساختیت یا سانچہ سازی

 

گزشتہ دونوں تحریکوں نے جن مسائل کو جنم دیا ان کے حل کے طور پر بیسیویں صدی کے اواخر میں جس رجحان کو سب سے زیادہ تقویت ملی ہے وہ ساختیت یا ڈھانچہ سازی کی تحریک ہے جس کے بانی مشہور فلسفی تھامس کوہن ہیں جنہوں نے اپنا نظریہ مشہور کتاب “سائنسی انقلاب کی ساخت” میں پیش کیا۔ کوہن نے اپنی تعلیم کا آغاز فزکس سے کیا اور جنگ عظیم دوم کے دوران ہارورڈ اور یورپ میں رڈار سسٹم پر تحقیق کرت رہے۔ فزکس میں انکا اہم کام کوانٹم میکانیات کے اصولوں سے ٹھوس حالت میں مادے کے مطا لعے پر مبنی ہے۔ ہارورڈ میں انہیں عمرانیات کے شعبہ جات میں سائنس کی تاریخ پڑھانے کا موقع ملا جس سے انکا رجحان سائنس کی تاریخ اور فلسفے کی طرف ہوگیا۔

 

کوہن کے مطابق سائنسی نظریات کی پرکھ اس خاص سانچے یا ساخت میں ہوسکتی ہے جس کے تحت وہ نظریہ اخذ ہوا ہے۔ تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ جب ایک سانچہ اس قابل نہیں رہا کہ وہ موجودہ نظریات کی وضاحت کر سکے تو اسکی جگہ ایک نئے سانچے یا ساخت نے لے لی۔ 1957ء میں کوہن نے اپنی پہلی کتاب “کوپرنیکن انقلاب” میں اسی نقطہ نظر کی وضاحت کوپرنیکس کے انقلابی خیالات کی شکل میں کی ہے۔ کوپرنیکس سے پہلے ارسطوئی طبیعات اور بطلیموس کے نظریات کے مطابق زمین ساکت اور کائنات کا مرکز تھی۔ لیکن کوپرنیکس کے مشاہدات نے اس ساکت زمین میں حرکت پیدا کردی اور اس سے کائنات کی مرکزیت چھین لی۔ گلیلیو کی دوربین اور حساب و کتاب نے بھی کوپرنیکس کی حمایت کردی۔ یہ ایک بڑا انقلابی قدم تھا جسے نہ تو استقرائی انداز سے ثابت کیا جا سکتا ہے اور تردیدی فلسفہ اس بارے کچھ بھی واضح کرتا ہے۔ اسکا صرف واحد حل یہی تھا جو کوہن کی ساختیت نے پیش کیا۔

 

ایک اور مثال نیوٹن کی میکانیات کی ہے جو ایک خاص ساخت کی حامل ہے۔ نیوٹن نے کمیت اور قوت وغیرہ کی ایک خاص تعریف کی ہے جس کے بعد اسکی میکانیات نے ایک ساخت یا نظام کی شکل اختیار کی۔ لیکن یہ ساخت ایک انقلابی تبدیلی کے بعد آئن سٹائن کی ریلٹوٹی اور پھر کوانٹم فزکس کی شکل میں نمودار ہوئی۔ کوہن کے مطابق پہلے بکھرے ہوئے تصورات آپس میں مربوط ہو کر ایک سائنسی ساخت تشکیل دیتے ہیں۔ اس ساخت کے تحت ساری سائنسی تحقیق اور تکنیک کام کرتی رہتی ہے۔ جیسے آج کوانٹم فزکس ساری سائنسی تحقیق کے لئے بنیادی سانچہ فراہم کر رہی ہے۔ جبکہ عمرانیات میں کوئی بنیادی سانچہ موجود نہیں اس لئے یہ ایک غیر سائنسی علم ہے۔ کچھ عرصے کے بعد یہ ساخت توڑ پھوڑ کا شکار ہونے لگتی ہے اور ناقابل حل مسائل جنم لیتے ہیں۔ لیکن ہر طرح کے مسائل کو ساختیت کے مسائل نہیں کہا جائے گا۔ صرف وہ مسائل انتشار پیدا کریں گے جو کسی بنیادی سانچے کے اصولوں کو چیلنج کررہے ہوں۔ پھر کسی انقلابی صورتحال میں یہ ساخت ایک نئی شکل میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ یہ نئی ساخت اچانک سے کسی شخص کے ذہن میں نمودار ہوگی اور یہ پچھلی ساخت سے تضاد میں ہوگی۔ مثلاً ریلٹوٹی میں روشنی کی رفتار محدود ہے جبکہ نیوٹن کے مطابق لامحدود۔ اس نئی ساخت میں تبدیلی کسی بھی سائنسدان کے لئے مشکل کام ہوتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی آپ سے اپنا مذہب تبدیل کرنے کا کہے۔ مثلاً آئن سٹائن ساری زندگی کوانٹم فزکس کے نتائج کو نہیں مانتا تھا۔ اور ایک نئی سائنسی ساخت پھرایک اور انقلاب سے دوچار ہوتی ہے اور یوں سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

 

کوہن کے اس نظریہ پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ کوہن کے مطابق سارے سائنسی نظام اور نظریات اپنے اپنے وقت اور حالات میں صحیح ہوتے ہیں۔ اور یہ کہ مختلف ساختیں محض اظہار رائے کا کام دیتی ہیں۔ اور اس طرح سائنس میں ترقی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔

 

4۔ انارکی نظریہ

 

تھامس کوہن کی ساختیت کے نتیجے میں جو رجحان سب سے زیادہ کھل کر سامنے آیا وہ مشہور فلسفی پال فیوربینڈ کا نظریہ نراجیت ہے۔ اس نے 1975ء میں یہ نظریہ اپنی مشہور کتاب “طریقہ کار کی نفی: علم کا نراجی نظریہ” میں پیش کیا۔ اس نظریے کے مطابق سائنس میں کوئی طریقہ کار نہیں ہوتا اور کسی خاص انداز سے ترقی واقع ہوتی ہے۔ بلکہ سائنس میں کسی بھی وقت “کچھ بھی” ہوسکتا ہے۔ سائنس کو کوئی حق نہیں کہ وہ خود کو باقی علوم سے معبتر قرار دے سکے۔ اسی مناسبت سے اسے انارکی کا نظریہ کہا جاتا ہے۔

 

فیورا بنڈ کے مطابق سائنس کو ایک اعلٰی اور معتبر علم کا درجہ دینا محض خام خیالی اور عقیدہ پرستی ہے۔ اسکے دفاع کےلیئے کوئی ٹھوس دلائل میسر نہیں ہیں۔ وہ خود اپنی کتاب میں گیلیلو کا حوالہ دیتے وقت کہتا ہے کہ گلیلیو نے اپنی بات کسی سائنسی طریقے کی بجائے دھوکہ دہی اور چالبازی سے ثابت کی تھی۔ اس کی بجائے وہ انسانی آزادی کا قائل ہے۔ اس کے مطابق سائنسی طریقہ کار سے آزادی کے بعد ہر فرد خود اپنا معیار آپ ہوگا اور کسی بھی قسم کے علم کو حاصل کر سکے گا۔ سائنس کی حکمرانی ختم ہوگی اور انسان آزاد ہوگا۔ یہ انسان کی مرضی اور اس کی خواہش ہے کہ وہ سائنس پڑھے یا کچھ اور۔ لیکن جو بھی وہ پڑھے گا اسے باقیوں پر ترجیح نہ ہوگی۔ بلکہ تمام علوم برابر اہمیت رکھتے ہیں۔ جس طرح ہمارے بزرگوں نے ہمیں مذھبی آزادی دلوائی اسی طرح فیورابنڈ ہمیں علمی آزادی دلوانا چاھتا ہے۔ یعنی “کچھ بھی چلے گا”۔

 

بہرحال فیورابنڈ بالکل ویسی ہی باتیں کرتا نظر آتا ہے جسے آج کل کے پس جدیدیت کے ماننے والے کہتے ہیں۔ اور اس سے انسانی آزادی کا حسین خواب پورا ہوتا نظر آتا ہے۔ لیکن ایسے تو سائنس سمیت ہر علم اپنی اہمیت کھو دے گا اور انسان ایک ویرانے کی سی کیفیت میں مبتلا ہوجائے گا۔ کیوں نہ اس کا کوئی حل نکالا جائے؟ اسکا چالمرز نامی فلسفی نے اپنی کتاب “سائنس اور اس کی ساخت” میں پیش کیا ہے اور وہ یہ کہ ہم فیورابنڈ کے ایک عالمی سائنسی طریقہ کی حمایت کرتے ہوئے ایک ترقی پذیر سائنسی طریقہ کار کو اختیار کریں۔ اس طرح ہم ہر قسم کے علم کے لئے مختلف طریقہ کار کا انتخاب کریں گے۔ اور ہر طریقہ کار بجائے خود ترقی پذیر اور مخصوص علم میں کارگر ہوگا۔ یہ طریقہ کار جامد اصولوں کی بجائے متحرک مشاہدات پر مشتمل ہوگا۔ تمام مشاہدات، تجربات، حقائق اور نظریات دراصل اپنے اندر کچھ اقدار مشترک لازمی رکھتے ہیں یعنی ان میں ایک قسم کی وحدت مقصود پائی جاتی ہے۔ اور اسی وحدت کے زیر اثر سائنس ترقی کرتی ہے۔ وگرنہ کوہن کے مختلف سانچے آپس میں کچھ بھی مشترک نہیں رکھتے تو پھر سائنسی ترقی کیسے ہو؟ اسی طرح سائنس کے عزائم بھی آزاد نہیں بلکہ سماجی تبدیلیوں کے ساتھ منسلک ہیں۔ سائنسدان کی ذاتی دلچسپی، معاشرے کے رجحانات اور سائنس کی فنڈنگ وغیرہ ملکر ان مقاصد کو جنم دیتے ہیں جن کے حصول کی طرف سائنس پیش قدمی کرتی ہے۔
Categories
نان فکشن

سائنس کیا ہے؟ ۔ پہلا حصہ

اس مضمون کا دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
آج کی دنیا میں سائنس کو جس قدر فضیلت اور اہمیت کا مقام حاصل ہوا ہے وہ تاریخ میں کہیں نظر نہیں آتا۔ سائنس کا نام لیتے ہی ذہن میں ایک خاص تصور جنم لیتا ہے جس میں کسی بات کی پائیداری اور حقیقی ہونے کی تسلی پائی جاتی ہے۔ عام انسانوں کی سطح سے لے کر انتہائی پڑھے لکھے طبقات تک سائنس اپنا ایک خاص معتبر مقام رکھتی ہے۔ اب تو دنیا کے اکثر مذاہب بھی اپنے سچ ہونے کی دلیل سائنس کے نتائج پر قائم کرنے لگے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمیں مختلف موضوعات جیسے “اسلام اور سائنس” اور “تاؤازم اور سائنس” اور اسے طرح “بائبل اور سائنس” کے نام سے بے بہا لٹریچر مل جائے گا۔ اسی طرح وہ تمام علمی میدان جو کل تک بنیادی سائنسزیعنی فزکس، کیمسٹری یا بائیولوجی سے مختلف سمجھے جاتے تھے آج ان کے دعویداروں نے “سوشل سائنس” کی اصطلاح ایجاد کرلی ہے۔ برٹرینڈ رسل نے اپنے فلسفے کا نام ہی ‘سائنسی فلسفہ’ رکھا ہے۔ سائنس کی اس قدر کامیابی کی وجہ کیا ہے؟ اور سائنس کو اس قدر معتبر علم کیوں سمجھا جاتا ہے؟ ان سوالات پر مختصر بحث اس مضمون کا مقصد ہے۔

 

سائنس کی اہمیت بطور علم اس لئے معتبر قرار دی جاتی ہے کیونکہ سائنس کسی بھی علم کے حصول میں ‘حقائق’ کو بنیادی حیثیت دیتی ہے۔ ان حقائق کا حصول سائنسدان اپنے حواس خمسہ سے کرتا ہے۔ اور اس کے بعد ان حقائق کو مرتب کر کے کسی خاص نظریے تک پہنچتا ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں تجربیت اور منطقی اثباتیت کی تحریکیں اس انداز فکر کی واضح مثالیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سائنسی طریقہ کار میں دو بنیادی عوامل کارفرما ہیں جنہیں ہم ‘حقائق’ اور’تشریح’ کا نام دے سکتے ہیں۔ آئیے ان دونوں عوامل کا بغور جائزہ لیتے ہوئے پہلے حقائق کی تعریف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

جب بھی کوئی انسان اپنے اردگرد موجود فطرت پردھیان لگاتا ہے تو اسے کچھ حقائق موصول ہوتے ہیں۔ ان حقائق کے موصول ہونے میں اس کے حواس خمسہ اس کی مدد کرتے ہیں۔ آنکھ اس کو کچھ رنگ اور حرکات کا مشاہدہ کرواتی ہے۔ اسی طرح کان، ناک، جلد اور زبان بھی کچھ حقائق مہیا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اس دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے ہی ماں کے بطن میں جب حواس اپنی ارتقائی منازل پوری کر لیتے ہیں تو ان کا کام حقائق کو اکٹھا کرنا ہوتا ہے۔ یہاں یہ عام مشاہدہ بھی سامنے آیا ہے کہ مختلف مشاہد ان حقائق کو مختلف طور پر وصول کرتے ہیں۔ اگر دو شخص ایک ہی شے کو ایک ہی وقت میں اور ایک ہی سمت سے مشاہدہ کر رہے ہوں تو لازمی نہیں کہ وہ ہمیشہ ایک جیسے نتائج پر پہنچیں گے۔ اسی طرح اگر سمت، وقت اور جگہ میں سے کسی بھی حالت کو تبدیل کردیا جائے تو دونوں اشخاص ایک ہی شے کو مختلف انداز سے دیکھیں گے۔ مثال کے طور پر موسم گرما کے دوران عین وقت دوپہر کسی صاف سڑک کو دور سے دیکھیں تو وہ گیلی محسوس ہوگی جبکہ ایک قریبی شخص اس کو خشک محسوس کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حقائق اپنے آپ میں کوئی مطلق حیثیت نہیں رکھتے؟ اور کیا حقائق کا حصول دیکھنے والے کے مشاہدے یا خواہش پر منحصر ہے؟ جیسا کہ بچپن میں ہم بادلوں میں کسی ہاتھی یا اونٹ کی شکل دیکھ لیتے تھے۔ یا یہ کہ ہمارے ذہن سے آزاد کسی دنیا کا وجود ہے بھی کہ نہیں؟ اگر ہے تو وہ دنیا کیسی ہے اور کیا ہم اسے جان سکتے ہیں؟

 

اس کے بعد ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان حقائق کو وصول کر لینے کے بعد ہم ان کا اظہار کیسے کریں گے۔ اس کے لئے ہمیں زبان کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ جب بھی ہم کچھ اشیاء کا مشاہدہ کررہے ہوتے ہیں تو ہمارے ذہن میں اس شے سے متعلق کوئی لفظ یا جملہ ترتیب پانا چاہتا ہے۔ اگر تو دیکھی گئی شے کو ہمارا ذہن پہلے سے پہچانتا ہوا تو ہم فوری طور پر اس شے کے لئے وہی لفظ تیار کریں گے جو ہمیں باہر اپنے ماحول سے ملا ہے لیکن اگر یہ کوئی نئی شے ہوئی تو ہمیں اس کے لئے نیا لفظ ترتیب دینا ہوگا۔ اور پھر مزید یہ کہ دو مختلف اشخاص جو الفاظ ترتیب دیتے ہیں وہ اگر آپس میں مترادف ہوئے تو ان سے ایک مربوط تصور جنم لے گا۔ لیکن اگر دو اشخاص کا مشاہدہ ان کا ذاتی فعل ہے اور اس کا کسی دوسرے شخص کو علم نہیں تو وہ ایک ہی واقعہ کو حقیقت میں مختلف سمجھیں گے اور مختلف الفاظ کا چناؤ کریں گے۔ لہٰذا ہمیں یہ ماننا پڑتا ہے کہ سائنس محض حقائق کو اکٹھا نہیں کرتی بلکہ وہ الفاظ یا معنی بھی ترتیب دیتی ہے۔ یہی الفاظ سائنس کی بنیاد بنتے ہیں۔ حواس اکیلے کافی نہیں ہیں۔ اسکا واضح مطلب یہ ہوگا کہ ایک مشاہدہ کرنے والا حقائق کا بیان کرتے وقت پہلے سے موجود الفاظ یا پھر بجا طور پر کہنا چاہیئے کہ وہ پہلے سے موجود کسی زبان کا سہارا لے گا۔ یہ وہ زبان ہے جو اس کو بچپن میں اسکے والدین یا معاشرے نے سکھائی ہوگی۔ یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ انسانی شعور میں اس زبان کا وجود کیسے پیدا ہوا؟ اور انسان کے شعور میں ایسی کیا خوبی ہے کہ وہ حقائق کو محض مشاہدہ کرنے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ انکو آپس میں مربوط کر کے نیا علم دریافت کرتا ہے؟ پہلے سوال کے جواب میں اگرچہ مختلف نظریات موجود ہیں جیسے کہ ارتقائی نقطہ نظر کے ماننے والے کہتے ہیں کہ ماضی میں انسان کے ارتقائی عمل کے دوران حادثاتی طور پر جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے کچھ لوگوں نے زبان ایجاد کی ہوگی مگر انکا یہ ماننا کسی بھی تجربے یا تاریخی شواہد سے خالی ہے۔ اسی طرح دوسرے سوال کا تعلق اس بات سے ہے کہ انسان میں عقلی استدلال کی موجودگی بجائے خود ایک معمہ ہے۔ کچھ فلسفی کہتے ہیں کہ انسان میں عقلی اصول دراصل مادے ہی کی اعلیٰ شکل ہیں جب کہ دوسرے یہ مانتے ہیں کہ انسان میں عقلی اصول اس کی فطرت کا لازمہ اور خاصہ ہیں اور مادے میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ خودبخود عقلی استدلال پیدا کر سکے۔ بہرحال یہاں ہمارا یہ موضوع نہیں اور اس موضوع کو ہم اپنے ایک مضمون “فلسفہ اور سائنس” کے نام سے لکھ چکے ہیں۔

 

گزشتہ بحث سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ کسی بھی واقعہ کی حقیقت کا ادراک ہمارے مشاہدات پر منحصر ہے اور یہ مشاہدات کسی فرد واحد یا کسی بے مثال اور ناقابل دید واقعات پر مشتمل نہیں ہوسکتے۔ مختلف مشاہد مل کر مختلف انداز سے کسی ایک ہی واقعہ پر جو تبصرہ کریں گے وہ سب مل کر ایک خاص اندازفکرکو جنم دے گا اور یہی سائنسی سوچ کا آغاز ہے۔ یعنی سائنسی حقائق مشترکہ انسانی مشاہدات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ نیوٹن کا قانون حرکت صرف نیوٹن ہی کا نہیں بلکہ میرا اور آپ کا بھی قانون ہے جبکہ اس کے برعکس امیرخسرو کے بنائے ہوئے سر اور تال صرف امیرخسرو کے ہیں نہ کہ میرے اور آپ کے۔ اسی طرح سائنسی قوانین کسی ایک فرد کی مرضی اور خواہش کے تابع نہیں ہوتے جیسا کہ کوئی شخص اقبال اور شیکسپیئر میں سے کسی کوبھی پسند یا ناپسند کر سکتا ہو بلکہ یہ قوانین حقیقت کے تابع ہوتے ہیں۔ بہرحال اس فکر سے حقیقت کا ادراک کرنے کے لئے سائنس ایک اور قدم اٹھاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اپنی سوچ اور نظریے کو تجربے کی کسوٹی پر پرکھیں۔

 

دنیا میں ہمارے اردگرد بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں اور ہر واقعہ کے پیچھے بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک شخص ان تمام وجوہات کا براہ راست مشاہدہ نہیں کرسکتا۔ اور اگر ہم کسی واقعہ کو مکمل طور پر جانچنا چاہیں تو اس کی تمام وجوہات کو ایک ساتھ رکھ کر جاننا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔ مثال کے طور پراگر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ بارش کیسے ہوتی ہے؟ تو اس کے پیچھے بہت سے عوامل جیسے سورج کی حرارت سے بخارات بننا، بخارات کا آپس میں اکٹھے ہونا، پانی کے مالیکیولز کا جڑنا اور پھر کسی سرد علاقہ میں پہنچ کر پانی کے قطرے بننا اور قطروں کا ہوا کی مخالف قوت کو عبور کر کے گریوٹی کے زیر اثر نیچے آنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ ایک سادہ سا مشاہدہ ہے۔ اس کو مزید مشکل بھی کیا جاسکتا تھا۔ لہٰذا ہمیں مجبور ہو کر کوئی ایسا طریقہ اپنانا پڑتا ہے کہ جس میں ہم کسی ایک واقعہ کے صرف اہم اور لازمی عوامل کی بجائے باقی تمام عوامل کے اثرات رد کردیتے ہیں اور اس سادہ سے نظام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور یہی سادہ قسم کے مشاہدات پر تجربہ کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ شک پیدا ہوتا ہے کہ ہم تو کسی تجربہ میں وہی کچھ دیکھ پائیں گے جس کے لئے وہ تجربہ ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ وہ شک ہے جو اکثر میرے طلباء پریکٹیکل امتحان میں مجھ پر کررہے ہوتے ہیں کہ میں ان سے وہی نتیجہ نکالوں گا جو پہلے سے میرے ذہن میں ہے۔ لیکن ایسا ہرگز درست نہیں ہے۔ میرے تجربات میری چاہت کے تابع نہیں ہیں بلکہ قوانین فطرت کے تابع ہیں اور اسی لئے کبھی مجھے اپنے تجربے میں ایسے نتائج بھی مل جاتے ہیں جو میرے ذہن میں نہیں ہوتے۔

 

آئیے اب ہم سائنس کے دوسرے بڑے اہم مسئلے یعنی حقائق کی تشریح کے بارے میں کچھ گذارشات پیش کرتے ہیں۔ اگر منطق کی تعریف کی جائے تو وہ محض ایک قاعدہ ہے جو دئیے گئے بیانات میں ایک ربط پیدا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر:

 

الف) تمام انسان ممالیہ ہیں۔
ب) سقراط ایک انسان ہے۔
ج) سقراط بھی ممالیہ ہے۔

 

گزشتہ مثال میں الف اور ب کو مقدمات کہا جاتا ہے جن کا لازمی نتیجہ ج کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہاں ہمیں منطق کے استعمال سے ایک نئی معلومات ملی ہے یعنی یہ کہ سقراط بھی ممالیہ ہے۔ اب ایک اور مثال لیجئے:

 

الف) تمام انسان جھوٹے ہیں۔
ب) سقراط ایک انسان ہے۔
ج) سقراط جھوٹا ہے۔

 

اب اگر اس دوسری مثال کو دیکھیں تو یہ بھی منطقی طور پر صحیح کام کرتی نظر آتی ہے۔ لیکن چونکہ اس میں پہلا مقدمہ مبہم اور ناکافی معلومات پر مشتمل ہے لہٰذا نتیجہ بھی مشکوک اور غلط ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صرف منطق کافی نہیں ہے۔ مختلف حقائق کا اکٹھ جوڑ کرنے سے اگر کوئی منطقی نتیجہ برامد ہو بھی جائے تو لازمی نہیں کہ وہ درست علم مہیا کرے۔

 

اس حوالے سے جو عام تاثر پایا جاتا ہے وہ یہ کہ سائنس حقائق سے نظریات کو اخذ کرنے میں استقرائی طریقہ کار کا استعمال کرتی ہے۔ اس طریقہ میں کچھ محدود اور مخصوص حقائق کی بنیاد پر ایک ایسا نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے جو عمومی ہوتا ہے اور ان تمام حقائق یا ان جیسے دیگر ناقابل دید واقعات پر یکساں نافذ ہوتا ہے۔ مثلاٌ چند ایٹموں کی جوخاصیت ہمارے تجربے میں سامنے آتی ہے وہ کائنات کے تمام ایٹموں پر لاگو کر دی جاتی ہے۔ استقرائی طریقہ کار کے کچھ مسائل ہیں جنہیں مختلف فلاسفہ جیسے ڈیوڈ ہیوم اور برٹرینڈ رسل وغیرہ نے واضح کیا ہے۔ ان میں بڑے اعتراضات دو ہیں: ایک یہ کہ چند حقائق کیسے ایک عمومی بیان کی بنیاد بن سکتے ہیں؟ اور پھر یہ کہ ان حقائق کی تعداد کتنی ہو۔ دوسرا مسئلہ یہ کہ استقرائی طریقہ کار کو ثابت کرنے کے لئے استقرائی طریقہ کار ناکافی ہے۔ اسی طرح سائنسی قوانین جو کہ عالمی نوعیت کے بیانات پر مشتمل ہوتے ہیں ان کا انحصار بھی حقائق کی ایک خاص تعداد پرہوتا ہے۔ ان قوانین کو منطقی استدلال سے ثابت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ اپنے مقدمات کے خلاف ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ بھی بنتی ہے کہ ہم کسی ایک قوم یا قبیلے کے چند افراد کے رویے کی بنا پر ساری قوم یا قبیلے کو برا نہیں کہہ سکتے۔ اس مسئلے کا حل یہ پیش کیا جا سکتا ہے کہ سائنسی طریقہ کار میں تینوں عوامل یعنی حقائق پر مبنی بیانات، استقراء کے ذریعے عمومی قوانین کا اخذ کرنا اور پھر ان عالمی و عمومی قوانین سے منطقی استدلال یا استخراج شامل ہیں۔

 

حقائق سے نظریات کو اخذ کرتے وقت یہ خیال لازمی رکھا جاتا ہے کہ ان حقائق کی تعداد کافی زیادہ ہو اور ان حقائق کو مختلف حالات و واقعات میں دہرایا گیا ہے اور ان سے اخذ کردہ قانون آئندہ بھی کسی مشاہدہ سے تضاد نہ رکھتا ہو۔ جب قوانین قائم ہوجائیں تو ہم منطقی استدلال یعنی استخراجی طریقہ کار استعمال میں لا کر مزید انکشافات کرسکتے ہیں۔

 

(جاری ہے)