Categories
فکشن

رحم دل بادشاہ

ٹن ٹن ٹن ۔۔۔گھنٹی کی آواز پورے محل میں گونجی تو رحم دل بادشاہ ہڑ بڑا کر اُٹھا اور برہنہ پا اپنی خوا بگاہ سے باہر نکل کر دروازے پر کھڑے دربان سے تشویش بھری آواز میں پوچھا “یہ کس نے زنجیر عدل ہلائی ہے ؟ ضرور کوئی مجبور فریادی ہوگا, جاؤ دیکھو کیا فریاد لایا ہے اور فوراً اس کی دادرسی کرو۔”
درباری:” حضور کا اقبال بلند ہو آپ نے بجا فرمایا فریادی ہی ہے۔”
” کیا چاہتا ہے؟”
” حضور کچھ نہیں بس زار قطار رو رہا ہے اور ایک ہی راگ الاپ رہا ہے کہ مجھے حضور سے ملنا ہے وہی میری فریاد سنیں گے”۔
یہ سن کر رحم دل بادشاہ تڑپ اٹھا اور دربارن سے کہا “فورا جاؤ اور اس فریادی کو ہمارے روبرو پیش کیا جائے”۔
“کہو فریادی ایسی کونسی اُفتاد پڑی تھی کہ تمہیں رات کے اس پہر یہاں آنا پڑا”۔ فریادی روتے ہوئے بڑے درد بھرے انداز میں تڑپ کر بولا” حضور میں اُجڑ گیا ہوں، برباد ہو گیا، میرا کچھ نہیں بچا میری مدد کریں، للہ میری مدد کریں۔ میرے ،میرے بچے، میرے بچے مر جائیں گے”۔ بادشاہ تڑپ کر بولا “کیا ہوا انہیں؟ ہمیں شروع سے لیکر آخر تک ساری داستان سناو” ۔
ہم اپنے علاقے سے دور ایک خیمہ گاہ میں ہیں،ہمارا گھر تباہ ہو چکا ہےاور میرے بچے خوف سے بیمار پڑ گئے ہیں، ان کے پیٹ میں کئی دنوں سے ایک دانہ تک نہیں گیا وہ بھوک سے تڑپ رہے ہیں اور موت ان کے سروں پر پرمنڈلا رہی ہے۔ ان کی ماں کی امید بھری نگاہیں جب میری طرف اُٹھتی ہیں تو میری روح تک کو چھلنی کر کے رکھ دیتی ہیں۔
فریادی نے روتے ہوئے اپنی درد بھری داستان سنانا شروع کی۔ “حضور میرے چھےچھوٹے چھوٹے بچے ہیں جن میں سے دو بچیاں سکول جاتی تھیں ، میں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ شمال کی کوہستانی ولائیت میں رہتا تھا۔ میرا چھوٹا سا کاروبار تھا جس سے میں اپنی بیوی بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ زندگی سکھ دکھ میں گزر رہی تھی پھر یوں ہوا کہ ہمارے علاقے میں کچھ شر پسند جنگجو پہاڑوں کے پار سے آنا شروع ہوگئے اور دیکھتے دیکھتے وہ پورے علاقے میں پھیل گئے انہوں نے اپنی طاقت کے زور پر لوگوان کو خوفزدہ کرنا شرو ع کردیا۔ انہوں نے بچیوں کے سکولوں کو جلادیا جس سے علاقہ کےاور میرے بچے پڑھنے لکھنے سے محروم ہو گئے۔ مجھے اپنی قلیل آمدن سے ان کا حصہ بھی نکا لنا پڑتا جس کی باعث میری مالی حالت اور بھی دگر گوں ہو گئی۔ میں اپنا پیٹ کاٹ کر اپنا گھر بار چلا رہا تھا کہ کچھ دن پہلےان شرپسندوں کی بیخ کنی کے لئے لشکر کشی شروع ہو گئی۔ چاروں طرف توپیں اور بندوقیں سر ہو رہی تھیں، ہم خوف زدہ اپنے گھروں میں بند تھے۔ پھردربار کی سپاہ نے ہمیں علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا، ہمیں جان کے لالے پڑے ہوئے تھے اور ہم سب ڈرے ہوئے تھے چارو ناچار ہمیں اپنا سب مال و متاع اپنا گھر، اپنا سب کچھ چھوڑ کر حکم کی تعمیل میں نکل پڑے۔ اب ہم اپنے علاقے سے دور ایک خیمہ گاہ میں ہیں،ہمارا گھر تباہ ہو چکا ہےاور میرے بچے خوف سے بیمار پڑ گئے ہیں، ان کے پیٹ میں کئی دنوں سے ایک دانہ تک نہیں گیا وہ بھوک سے تڑپ رہے ہیں اور موت ان کے سروں پر پرمنڈلا رہی ہے۔ ان کی ماں کی امید بھری نگاہیں جب میری طرف اُٹھتی ہیں تو میری روح تک کو چھلنی کر کے رکھ دیتی ہیں۔ مگر میں کیا کر سکتا ہوں ایک مجبور باپ جسکا گھر، کاروبا ہرچیزتباہ ہو گئی ہو، جو خود شکستہ حال اور فاقہ زدہ ہو وہ کیا کر سکتا ہے۔ اس مجبور باپ کے پاس بیمار بچوں کی دوائیں تو کجا ان کے سکڑتے معدوں میں ایک نوالہ ڈالنے کو کچھ نہیں بچا۔ میں در در کی ٹھوکریں کھاتا پھر رہا ہوں۔ میرے بس میں ہوتا تو میں بھیک مانگ کر بھی اپنے بچوں کو ایک وقت کا کھانا لا دیتا۔ پر میں مانگوں کس سے؟ میرے ارد گرد تو سب تباہ حال اور اجڑے ہوئے میری طرح کے لوگ ہیں۔ وہ بھلا میری کیا مدد کر سکتے ہیں”۔
“ظلِ الٰہی ،آپ کی سخاوت، غریب پروری، دریا دلی اور ہمدردی کا شہرہ چار سو ہے۔ سنا ہے آپ کے در سے کوئی سوالی مایوس نہیں لوٹتا بس یہی فریاد لے کر آپ کے پاس آیا ہوں کہ میرے بچوں کو بچا لیجئے انہیں دواؤں اور خوراک کی ضرورت ہے۔ للہ میری مدد کریں، میری مدد کریں”
“ہوں!!! فریادی تمہاری داستان بہت درد ناک ہے اس نے ہمارے ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہم تمہاری مدد کریں گے اورضرور کریں گے۔ آخر کو ہمیں یہ حکومت، شان و شوکت عوام ہی کی بدولت ملی ہے۔ تم لوگوں کی خدمت ہی ہمارا فرض اور نصب العین ہے۔ اس نیکی کے کام میں ہم بھلا کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں۔ ہمیں تمہاے مسائل کا ادراک اور مصیبتوں کا احساس ہے اور اس مصیبت کی گھڑی میں مابدولت تمہارے ساتھ کھڑے ہیں”۔
فریادی نے خوش ہو کر بادشاہ کی شان میں قصیدے پڑھنے شروع کر دئیے” حضور کا اقبال بلند ہو، حضور کی کرسی سلامت رہے حضور ہزاروں سال کی عمر پائیں، حضور کی دریا دلی، نیک نامی اور بلند بختی تا قیامت قائم و دائم رہے”۔
حضور نے بڑی شان بے نیازی سے دربان کو سر کا اشارہ کیا اور کہا ” دربان، فریادی کو شاہی خزانے سے ایک لیپ ٹاپ دے دیا جائے”

 

Categories
اداریہ

شمالی وزیرستان سے ہجرت کرنے والے طلبہ کے لئے موبائل کالجز کے قیام اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تجویز

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری فوجی کاروائی سے بے گھر ہونے والے طلبہ کے لئے پنجاب حکومت کے لئے موبائل کالجز قائم کرے گی اور ان میں لیپ ٹاپ تقسیم کرے گی۔ ذرائع ابلاغ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ )ایچ ای ڈی(پنجاب نے منصوبہ پر کام شروع کر دیا ہے جسے جلد وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے پاس منظوری کے لئے بھیجاجائے گا۔ ایچ ای ڈی ذرائع کے مطابق بے گھر طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے حوالے سے طریقہ کار وزیر اعلیٰ کی ہدایات پر طے کی جائے گی،”وزیر اعلیٰ پہلے سے موجود لیپ ٹاپ کی تقسیم کے منصوبہ میں سے بھی آئی ڈی پیز کے لئے کوٹہ مخصوص کیا جا سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ شمالی وزیرستان سے ہجرت کرنے والے طلبہ کےلئے علیحدہ سےکوئی سکیم شروع کی جائے۔”
آئی ڈی پی طلبہ کے لئے عارضی تعلیمی ادارے قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔سیکرٹری پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن عبداللہ سنبل کے مطابق بے گھر طلبہ کے لئے موبائل کالجز اور سمر کیمپس قائم کرنے کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے جو لیپ ٹاپ تقسیم کرنے سے زیادہ اہم ہے۔
شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تجویز کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقہ سے تعلق رکھنےو الے پشاور یونویرسٹی کے ایک طالب علم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس تجویز کو وسائل کاضیاع قرار دیا ہے،”وزیرستان سے آنےو الے طلبہ اور لوگوں کو خوراک اورادویات میسر نہیں، لیپ ٹاپ پر پیسہ ضائع کرنے کی بجائے پہلے بنیادی ضروریات کا انتظام کر لیا جائے، پھر بھلے وزیر اعلیٰ اپنا شوق پورا کر لیں۔”تاہم طلبہ ذرائع نے عارضی تعلیمی اداروں کے قیام کی تجویز کی حمایت کی ہے،”ایسا ہوجائے تو بہت اچھا ہے، حکومت اگر اساتذہ فراہم کر دے طلبہ کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ۔”
Categories
اداریہ

شمالی وزیرستان میں کالجز اور سکولز غیر معینہ مدت تک بند کر دیے گئے

شمالی وزیرستان میں جاری کشیدگی کے باعث نافذ کرفیو کی وجہ سے قبائلی علاقوں کے تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت تک بند کر دیے گئے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں جاری کرفیو کے باعث بیشتر طلبہ اور ان کے خاندان ضروریات زندگی کے حصول میں دشواریوں کے باعث وزیرستان کو چھوڑ کرافغانستان یا خیبر پختونخواہ کےمحفوظ علاقوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں زیر تعلیم قبائلی طلبہ نے گزشتہ دس روز سے جاری کرفیو کی وجہ سے پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے وزیرستان کے تعلیمی اداروں کے جلد کھولے جانے کا مطالبہ بھی کیا۔ طلبہ حلقوں کے مطابق شمالی وزیرستان میں سوات جیسے حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے جہاں شدت پسند طالبان تنظیموں نے تعلیمی اداروں پر پابندیاں عائد کی تھیں اور بعد ازاں سرکاری سکولز اور کالجز پر حملے بھی کئے تھے۔
انتظامیہ کے مطابق شدت پسند گروہوں سے مذاکرات میں تعطل کی وجہ سے سرکاری عمارات خصوصاً تعلیمی اداروں پر حملہ کا خطرہ بڑھ چکا ہے جس کی وجہ سے کرفیو نافذ کیا گیا ہے، تاہم انتظامیہ نے کرفیو کے خاتمہ کی کوئی بھی تاریخ دینے سے انکار کیا ہے۔ کرفیو اور کشیدہ حالات کی وجہ سے انٹرمیڈیٹ کے تین پرچے بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ طلبہ کے مطابق کرفیو کے غیر اعلانیہ نفاذ کی وجہ سے مقامی افراد کو ضروریات زندگی کی اشیاء کی قلت کا بھی سامنا ہے۔
سوات میں شدت پسندوں کی طرف سے سرکاری تعلیم اداروں پر کئے جانے والے حملوں سے ہونے والا نقصان ابھی تک پورا نہیں کیا جا سکا۔ فوجی آپریشن کے دوران بے دخل ہونے والے افراد کے کیمپس میں مختلف غیر سرکاری اداروں نے عارضی سکول قائم کئے تھے، لیکن بہت سے طلبہ کو اپنا تعلیمی سال ادھورا چھوڑنا پڑا تھا۔