Categories
اداریہ

سکیورٹی خدشات ؛پشاور یونیورسٹی میں رکشہ اور ٹیکسی داخل نہیں ہو سکیں گے

نامہ نگار لالٹین
پشاور یونیورسٹی انتظامیہ نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیمپس میں رکشہ اور ٹیکسی کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے اس فیصلہ سے یونیورسٹی میں قائم ملازمین اور اساتذہ کی کالونیوں کے رہائشی افراد کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے ۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کیمپس کے رہائشیوں کی مشکلات کم کرنے کے لئے خصوصی ٹرانسپورٹ سروس شروع کی ہے تاہم کیمپس کے رہائشیوں کے مطابق اس سروس کے محدود اوقات اور گاڑیوں کی محدود تعداد کے باعث یونیورسٹی حدود میں مقیم افراد کے لئے نقل و حمل ناممکن ہو چکی ہے۔ انتطامیہ کے مطابق پابندی کا اطلاق صرف کمرشل گاڑیوں پر ہوگا طلبہ اور اساتذہ کی ذاتی سواریوں کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں۔
” پہلے تو یونیورسٹی تعلیمی ادارہ کم اور بازار زیادہ لگتی تھی جہاں ہر تھوڑی دیر بعد کوئی رکشہ شور اور دھواں پھیلاتا گزرتا تھا کچھ پتہ نہیں ہوتا تھا کہ کون جا رہا ہے اور کون آ رہا ہے۔ ٹیکسی اور رکشہ ڈرائیوروں کی جلد بازی حادثات کا باعث بھی بنتی رہی ہے، اب صورت حال کافی بہتر ہو گئی ہے۔”
یونیورسٹی ترجمان اختر امین کے مطابق اس پابندی کا مقصد یونیورسٹی میں آلودگی کم کرنا اور سکیورٹی خدشات کو کم کرنا تھا، “رکشہ اورٹیکسی نہ صرف آلودگی میں اضافہ کے باعث تھے بلکہ سکیورٹی مسائل کا باعث بھی بنتے تھے اس لئے ان کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ یونیورسٹی رائیشیوں کے لئے متبادل ٹرانسپورٹ صبح ساڑھے چھ بجے سے رات گیارہ بجے تک دستیاب ہو گی۔” امین اختر کے مطابق یونیورسٹی کی جانب سے فراہم کی جانے والی ٹرانسپورٹ سہولت سے صرف دس روپے فی سٹاپ ادا کرکے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ یونیورسٹی ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یونیورسٹی کے رہائشیوں کے لئے شروع کی جانے والی سروس میں12 مسافروں کی گنجائش والی صرف پانچ گاڑیاں شامل ہیں جو 4000 کی آبادی کے لئے ناکافی ہے۔یونیورسٹی ٹرانسپورٹ رات نو بجے تک ہی دستیاب ہوتی ہے جس کے بعد کہیں آنے جانے کا کوئی ذریعہ دستیاب نہیں ہوتا۔
آمدورفت کے لئے رکشہ اور ٹیکسی پر انحصار کرنے والی طالبات اس پابندی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ پشاور یونیورسٹی کی طالبہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یونیورسٹی امدورفت کے لئے انہوں نے رکشہ لگوایا تھا لیکن اب اس پابندی کے بعد انہیں اب لوکل ٹرانسپورٹ پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔ تاہم بعض طلبہ نے اس پابندی کو خوش آئند قرار دیا ۔ سوشل سائنسز کے طالب رحیم خان کے مطابق اس اقدام سے یونیورسٹی کے ماحول کو شور اور آلودگی سے پاک کرنے میں مدد ملی ہے،” پہلے تو یونیورسٹی تعلیمی ادارہ کم اور بازار زیادہ لگتی تھی جہاں ہر تھوڑی دیر بعد کوئی رکشہ شور اور دھواں پھیلاتا گزرتا تھا کچھ پتہ نہیں ہوتا تھا کہ کون جا رہا ہے اور کون آ رہا ہے۔ ٹیکسی اور رکشہ ڈرائیوروں کی جلد بازی حادثات کا باعث بھی بنتی رہی ہے، اب صورت حال کافی بہتر ہو گئی ہے۔”یونیورسٹی گارڈز نے اس پابندی پر ملے جلے تاثرات کا اظہار کیا۔ یونیورسٹی گارڈ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا،” ہمارا کام بڑھ گیا ہے اور روز کسی نہ کسی رکشہ ٹیکسی والے سے تلخ کلامی ہو جاتی ہے۔ ڈرائیوروں کی مجبوری ہے ان کی بھی روزی روٹی کا مسئلہ ہےاور ہمارا بھی۔ ”
یونیورسٹی کے بعض طلبہ نے سکیورٹی کے ان اقدامات کو ناکافی قرار دیا اور مزید اقدامات کا مطالبہ کیا، ایڈمنسٹریٹو سائنسز کے ایک طالب علم کے مطابق ایسے اقدامات سے صرف عام لوگون کا روزگار متاثر ہوتا ہے،”یونیورسٹی انتظامیہ لوگوں کا روزگار ختم کرنے کی بجائے نگرانی کے نظام کو بہتر بنائے تو شاید کچھ فرق پڑے، صرف رکشہ ٹیکسی بند کرنے سے تو خطرہ کم نہیں ہو سکتا۔”
سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پنجاب یونیورسٹی اور قائد اعظم یونیورسٹی میں بھی ایسی ہی پابندیوں کا اطلاق کای جاچکا ہے جو طلبہ اور رہائشیو ں کے لئے پریشانی کا باعث بنی ہیں۔ ماہرینِ تعلیم یونیورسٹی حدود میں پبلک ٹرانسپورٹ کے داخلے کو تعلیمی ماحول کے لئے نامناسب قرار دیتے ہیں اور اس کی بجائے یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کی حدود میں انتظامیہ کی جانب سے متبادل ٹرانسپورٹ سروس کی فراہمی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
Categories
اداریہ

شمالی وزیرستان میں کالجز اور سکولز غیر معینہ مدت تک بند کر دیے گئے

شمالی وزیرستان میں جاری کشیدگی کے باعث نافذ کرفیو کی وجہ سے قبائلی علاقوں کے تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت تک بند کر دیے گئے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں جاری کرفیو کے باعث بیشتر طلبہ اور ان کے خاندان ضروریات زندگی کے حصول میں دشواریوں کے باعث وزیرستان کو چھوڑ کرافغانستان یا خیبر پختونخواہ کےمحفوظ علاقوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں زیر تعلیم قبائلی طلبہ نے گزشتہ دس روز سے جاری کرفیو کی وجہ سے پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے وزیرستان کے تعلیمی اداروں کے جلد کھولے جانے کا مطالبہ بھی کیا۔ طلبہ حلقوں کے مطابق شمالی وزیرستان میں سوات جیسے حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے جہاں شدت پسند طالبان تنظیموں نے تعلیمی اداروں پر پابندیاں عائد کی تھیں اور بعد ازاں سرکاری سکولز اور کالجز پر حملے بھی کئے تھے۔
انتظامیہ کے مطابق شدت پسند گروہوں سے مذاکرات میں تعطل کی وجہ سے سرکاری عمارات خصوصاً تعلیمی اداروں پر حملہ کا خطرہ بڑھ چکا ہے جس کی وجہ سے کرفیو نافذ کیا گیا ہے، تاہم انتظامیہ نے کرفیو کے خاتمہ کی کوئی بھی تاریخ دینے سے انکار کیا ہے۔ کرفیو اور کشیدہ حالات کی وجہ سے انٹرمیڈیٹ کے تین پرچے بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ طلبہ کے مطابق کرفیو کے غیر اعلانیہ نفاذ کی وجہ سے مقامی افراد کو ضروریات زندگی کی اشیاء کی قلت کا بھی سامنا ہے۔
سوات میں شدت پسندوں کی طرف سے سرکاری تعلیم اداروں پر کئے جانے والے حملوں سے ہونے والا نقصان ابھی تک پورا نہیں کیا جا سکا۔ فوجی آپریشن کے دوران بے دخل ہونے والے افراد کے کیمپس میں مختلف غیر سرکاری اداروں نے عارضی سکول قائم کئے تھے، لیکن بہت سے طلبہ کو اپنا تعلیمی سال ادھورا چھوڑنا پڑا تھا۔