Categories
فکشن

اٹھتے ہیں حجاب آخر-حصہ چہارم

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: اس تحریر کی اشاعت کا مقصد کسی بھی مسلک کے پیروکاروں کی دل آزاری یا انہیں غلط قرار دینا نہیں بلکہ مذہب اور عقیدے پر انفرادی رائے قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ پاکستانی مسلمانوں میں مذہب اور عقیدے کے معاملے پر سوچ بچار، تنقید، تحقیق اور علمی جستجو کا چلن مفقود ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر مسلک میں جہاد، ختم نبوت یا ناموس اہل بیت جیسے تصورات کی آڑ میں تشدد کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ مذہب سے متعلق مروجہ تشریحات سے مختلف رائے قائم کرنا ہر فرد کا حق ہے، اس تحریر کی اشاعت ایسے افراد کو اعتماد بخشنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کا باعث بنے گی۔

[/blockquote]

تبلیغی جماعت

 

اس سلسلے کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے

 

دین کے نام پر ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے جو تبلیغی جماعت سے عمومًا اور مولانا طارق جمیل کی طرف سے خصوصًا، تبلیغی حضرات کے فہم دین کا حصہ بنائی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ان کے طرزِ عمل میں کسی ممکنہ بہتری کے امکان معدوم ہو جاتے ہیں، وہ یہ کہ اگر تبلیغی حضرات کسی کمی کوتاہی کا شکار بھی ہیں تو ان کا تبلیغ کے راستے میں چلنے کا بے انتہا ثواب، جو ہر عمل کو کروڑوں میں بتاتا ہے، ان کی کمی کوتاہیوں کی تلافی کر دے گا اور خدا کے ہاں وہ ٹوٹل میں پاس ہو کر نجات یافتہ بلکہ انعام یافتہ قرار پائیں گے۔ اسے مولانا طارق جمیل سو میں تینتیس نمبر لے کر پاس ہونا کہتے ہیں۔ یہ خود ساختہ معیارِ فہم دین کی ناقص تفہیم سے پیدا ہوا ہے، اور یہ خود کو خدا کے درجے پر فائز کرنا ہے۔ دین کے فرائض اور مستحبات میں اور دین کے ضروری اور کم ضروری احکامات میں فرق کرنا اصل فہم دین ہے۔ مثلاً کوئی اپنے اپنے گھر کے افراد کی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر کے تبلیغ کرنے نکل کھڑا ہو، تو ایسا کوئی مطالبہ خدا نے اس سے نہیں کیا ہے۔ اپنے جنونِ شوق میں خدا کی تعلیم، اصولوں اور ترتیب کو نظر انداز کر کے اپنے لائحہ عمل کو ترجیح دینا، خدا کی بجائے اپنی پالیسی کو اور اس کو پیش کرنے والوں کو خدا اور رسول کے درجے پر لا بٹھانا ہے، جیسا کہ یہود کے عوام، اپنے فقیہوں اور راہبوں کے ساتھ کرتے تھے۔ قرآن اس کی مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے یہود کے عوام اپنے علماء اور راہبوں کو معبود بنا لیا، ان کی سنتے تھے، ان کے مقابلے میں اپنی کتاب کے صریح بیانات کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ یہاں بھی یہی حال ہے۔

 

اپنی دولت و جائیداد پیچ کر یا قرض لے کر تبلیغ پر جانا آپ کا اپنا انتخاب ہو سکتا ہے، دین نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا ہے۔ اپنے انتخاب سے ایک غیر فرض کو ایک فرض کے لیے چھوڑ دینا ایسا معاملہ نہیں ہے کہ خدا یہ دیکھے کہ ایک کام چھوڑ کر دوسری نیکی کر لی گئی ہے تو معاملہ برابر سرابر ہو گیا، ہر گز نہیں، درحقیقت دین کے بارے میں خدا کی ساری سکیم کو ہی الٹ دیا گیا ہے، دین کی ترتیب بدل دی گئی ہے اور جو نتائج خدا پیدا کرنا چاہتا تھا، وہ نتائج پیدا نہیں ہونے دیئے گئے۔

 

مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگوں کو تبلیغ کرنی ہے، مسئلہ یہ بھی ہے کہ اپنے خاندان کو صالح روزی اور صالح تربیت بھی دینی ہے۔ اور یہ کام مسلسل حاضری اور نگرانی مانگتا ہے۔ کوئی مجبوری ہو تو معاملہ الگ ہے، لیکن خدا کبھی یہ نہیں چاہتا کہ گھر کے مرد، سال ہا سال اپنے گھر سے، اس کی ذمہ داریوں سے، اور اپنے گھر والوں کی تربیت سے دور، لوگوں کو تبلیغ کرتے رہیں جو ان پر خدا نے فرض بھی نہیں کی۔ خصوصاً ایسے لوگوں کو تبلیغ کرنا جن کی زبان سے بھی یہ واقف نہیں۔ یہ معاملہ سو میں سے تینتیس نمبر لینے کا نہیں، لازمی سوال چھوڑنے کا ہے، جس کی تلافی اختیاری سوالات کے زیادہ جوابات دینے سے بھی پوری نہیں ہو سکتی۔ تبلیغ کو جس طرح فرض سمجھا گیا ہے، اور جو تفصیلی لائحہ عمل اس کے لیے طے کر لیا گیا ہے کہ آپ گھر سے دور رہ کر اور بلاضرورت سفر کر کر کے لوگوں کو تبلیغ کریں اور کوئی اس کے علاوہ اگر تبلیغ کی کوئی صورت اختیار کرنا چاہے تو اسے دین کی خدمت سرے سے ماننے سے انکار کر دیا جائے، یہ سب دین میں ایک اور دین بنانے کی کوششیں ہیں جس کی غلطی سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ان غیر ضروری قربانیوں کو عزیمت گردانا جاتا ہے جب کہ درحقیقت یہ بڑی غلط فہمی ہے۔

 

معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کے قوانین کسی کے فہم دین کی کجی سے بدل نہیں جاتے۔ یہ بات خدا نے قرآن میں واضح طور پر بتائی ہے:

 

(تم پر واضح ہونا چاہیے کہ نجات) نہ تمھاری آرزوؤں پر موقوف ہے نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ (اِس لیے) جو برائی کرے گا، اُس کا بدلہ پائے گا اور اللہ کے مقابلے میں وہ اپنے لیے کوئی حامی اور مددگار نہ پاسکے گا (سورہ النساء، 4:123)

 

ان غیر ضروری قربانیوں کے جواز کے لیے جو واقعات سنائے جاتے ہیں، پہلے تو ان کی تصدیق کرانا ضروری ہے کہ کیا وہ واقعی درست ہیں یا نہیں۔ اور اگر درست ہیں تو کیا وہ قرآن مجید کی واضح نصوص اور دین کے واضح اصولوں کے مطابق بھی درست ہیں یا نہیں۔ دین کا معیار قرآن ہونا چاہیے نہ کہ واقعات۔

 

اس غیر متناسب حدود سے ماورا دین داری جس میں اپنی مرضی کے کسی دینی عمل کو چن کر باقی کو نظر انداز کرنے کی روش اپنا لی جاتی ہے، اس کے جواز کے لیے لوگوں میں پائے جانے والے بے دین رویوں سے جواز تلاش کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے کہ فلاں اگر جوا یا نشے کی لت میں پڑ کر یا کسی محبوب کی چاہ میں اپنا گھر بار لٹا سکتا ہے یا لوگ نوکری اور دولت کے لیے اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں، تو تبلیغی حضرات نے یا اور کسی دینی رویے میں پڑ کر کوئی حدود سے تجاوز کر رہا ہے تو کیا برا ہے، یہ تو اچھا ہے ہے نا کہ کسی بے دینی کی وجہ سے ایسا نہیں کر رہا۔ یہ جواز پیدا کرنا بہت نا درست ہے۔ دین پر عمل کرنے کے لیے بے دینی کے رویوں سے جواز کیسے لایا جا سکتا ہے؟ دین پر عمل کرنا ہے تو اسی تناسب اور شعور سے عمل کرنا ہوگا جو دین کا مقصود ہے۔ کیا میں چاہوں کہ سارا دن نمازیں پڑھا کروں اور اس کی لذت میں دین اور دینا کی باقی ذمہ داریوں سے جان چھڑا لوں تو کیا درست ہوگا؟ اسی طرح کوئی عشق رسول کو بنیاد پر کر باقی کاموں سے کنارہ کش ہو جائے تو کیا جائز ہوگا۔ ایسا جواز وہی لا سکتا ہے جو دین کے بنیادی تصورات سے بھی واقف نہیں۔ اسی بات کا افسوس ہے کہ تبلیغ میں برسوں گزار لینے کے باوجود دین کی بنیادی تعلیم سے آگاہی حاصل کرنا بالکل غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بڑوں کے بیانات سن کر دیکھا جا سکتا ہے کہ علم اور فہم دین کی طرف سرے سے کوئی رغبت نہیں دلائی جاتی۔

 

اور پھر یہ کون سی عقل مندی ہے کہ تبلیغی حضرات کو ایسے علاقوں اور ملکوں میں تبلیغ کرنے بھیج دیا جاتا ہے جن کی زبان بھی ان کو نہیں آتی۔ اس سے تو تبلیغ کا مقصد ہی حاصل نہیں ہو سکتا۔ خدا نے ہر قوم میں اسی کا ہم زبان پیغمبر بھیجا، لیکن یہاں بھی دین کی حکمت کے برعکس، غیر زبان والوں کو اشاروں یا مترجم کے ذریعے تبلیغ کی جاتی ہے۔ تبلیغ کا مقصد پیغام پہنچانا ہی نہیں ہوتا، بات کو دلوں میں اتارنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے تو نہ صرف یہ کہ ہم زبان ہونا ضروری ہے، بلکہ زبان دان ہونا ضروری ہے۔ تبلیغی جماعت کی یہ پالیسی، دعوت دین کی حکمت کے برخلاف ہے۔

 

دین کا ہر حکم اپنی شرائط، آداب اور ضوابط کے ساتھ لاگو ہوتا ہے۔ یہ اہم بات تبلیغی حضرات کے سمجھنے کی ہے۔

 

(جاری ہے)
Categories
نقطۂ نظر

اٹھتے ہیں حجاب آخر-حصہ سوئم

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: اس تحریر کی اشاعت کا مقصد کسی بھی مسلک کے پیروکاروں کی دل آزاری یا انہیں غلط قرار دینا نہیں بلکہ مذہب اور عقیدے پر انفرادی رائے قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ پاکستانی مسلمانوں میں مذہب اور عقیدے کے معاملے پر سوچ بچار، تنقید، تحقیق اور علمی جستجو کا چلن مفقود ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر مسلک میں جہاد، ختم نبوت یا ناموس اہل بیت جیسے تصورات کی آڑ میں تشدد کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ مذہب سے متعلق مروجہ تشریحات سے مختلف رائے قائم کرنا ہر فرد کا حق ہے، اس تحریر کی اشاعت ایسے افراد کو اعتماد بخشنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کا باعث بنے گی۔

[/blockquote]

تبلیغی جماعت

 

1) مولانا طارق جمیل

 

مولانا طارق جمیل کے مسحور کن خطبات سے ہمارے متاثر ہونے کا زمانہ بھی یہی تھا۔ ہمیں جب خبر ملتی کہ مولانا کہیں تشریف لا رہے ہیں، ہم دوڑے جاتے۔ ہمارے دوست اہتمام سے موٹا رومال بھی ساتھ لاتے کہ مولانا کا بیان سن کر آنسو جذب کرنے کے لیے ضروری ہو جاتا تھا۔ یہ تسلیم ہے کہ مولانا کے پر تاثیر بیانات نے بے شمار لوگوں کو دین سے جوڑا، ان کی زندگیوں میں دین داری در آئی۔ مولانا بڑی حد تک تبلیغی حضرات میں پائے جانے والی بے اعتدالیوں کو درست کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بین المسالک روابط قائم کرنے میں بھی ان کا کردار قابل تحسین ہے۔ آپ سے پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دیوبند کی طرف سے بھی اہل تشیع کے ساتھ دینی رشتے کے ناطے سے مل بیٹھا جا سکتا ہے۔

 

مولانا کی ان تمام دعوتی اور تبلیغی مساعی اور پر تاثیر بیانات کے باوجود مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوا کہ اس جماعت میں دین سے جڑنے کا مطلب اللہ سے نہیں، محض اعمال سے جڑنا ہے۔ یہاں خدا سے تعلق محسوس نہیں ہوتا، اعمال کی گنتی ہی سب کچھ ہے۔ یہاں خدا سے محبت نہیں ہے، خدا کے ساتھ لین دین ہے، دکان داری ہے، سودے بازی ہے۔
ہمارا دور وہ دور تھا جب وقت تصویر اور ویڈیو بنانا “حرام قطعی” ہوا کرتا تھا! کیمرے اور ٹی وی پر آنا ہی کسی بھی بڑے سے بڑے عالم کو درجہ اعتبار سے گرا دینے کے لیے کافی تھا۔ ٹی وی اور ویڈیو سے تبلیغ حرام ہوا کرتی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ ویڈیو میں نا محرم عورتیں آپ کو دیکھتی ہیں، اور آپ دین کے نام پر حرام کے مرتکب ہوتے ہیں۔ شیطانی ذرائع سے تبلیغ چاہے کتنی ہو موثر ہو، ہے مگر حرام ہی۔ کچھ لوگ مولانا کے بیانات میں چھپ چھپا کر کیمرہ لے جایا کرتے تھے کہ مولانا کی تصویر بنائیں۔ پکڑے جاتے تو بڑی بے عزتی ہوتی تھی۔ خیر اب تو سارے حجابات اٹھا دیے گیے ہیں۔

 

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدار یار ہو گا
سکوت تھا پردہ دار جس کا ، وہ راز اب آشکار ہوگا
گزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے
بنے گا سارا جہان مے خانہ ، ہر کوئی بادہ خوار ہو گا

 

سوشل میڈیا پر دیکھیے تو علما کرام کی تصاویر اور ویڈیوز کی بہار بلکہ بھر مار ہوئی پڑی ہے۔ ہمارے ایک دوست نے بڑی حسرت سے ایک دن کہا کہ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ لاوڈ سپیکر اور تصویر پھر سے حرام ہو جائیں، سکون کے دن لوٹ آئیں گے۔

 

کچھ کہنے سے پہلے ایک شعر پیش خدمت ہے:

 

راہ میں ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں
اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں

 

مولانا جدید تعلیم اور تعلیمی اداروں سے دینی تعلیم اور دین داری کی طرف آئے ہیں، لیکن درحقیقت وہ دین و فقہ کی روایتی تعبیر سے ہی وابستہ ہیں، اسی کو وہ حق سمجھتے ہیں اور اپنے متاثرین کو اسی منزل پر پہنچاتے ہیں، جہاں مخصوص حلیے، چند ظاہری اعمال اور دعوت و تبلیغ کے کام میں شمولیت کے مطابق، دین داری کا معیار طے کیا جاتا ہے۔ کسی کی دین داری کا بیان یوں کیا جاتا ہے کہ اس نے تو اتنی لمبی داڑھی رکھی ہوئی ہے اور جماعت کے ساتھ اتنا وقت لگاتا ہے۔ مخصوص حلیہ اگر نہیں ہے آپ چاہے کتنے ہی اہل علم اور دین دار ہوں، آپ سے محبت تو کی جا سکتی ہے، لیکن آپ کو دین میں معتبر نہیں مانا جائے گا۔ اور اگر آپ کا یہ مخصوص حلیہ رکھتے ہیں تو آپ کو معتبر تو فورا مان لیا جائے گا، البتہ آپ سے محبت بھی ہو، یہ ضروری نہیں۔ منبر پر اس مخصوص حلیے کی بدولت جنید جمشید جیسا واجبی علم رکھنے والا تو بیٹھ سکتا ہے، لیکن اس حلیے کے بغیر، کوئی بڑے سے بڑا اہل علم بھی منبر پر بیٹھنے کے لائق نہیں سمجھا جاتا۔

 

یہ معلوم ہے کہ اسلام نے کوئی مخصوص حلیہ متعین کر کے نہیں دیا۔ اسلام جب تک دعوت کا دین رہا، اس نے دین میں داخل ہونے والوں پر کسی مخصوص حلیہ اختیار کرنے کی پابندی لگا کر انہیں اپنے ماحول اور معاشرے سے اجنبی نہیں بنایا، حلیہ کے اعتبار سے عرب کے مشرکین ،یہود، نصاری اور مسلمانوں میں کوئی امتیاز نہیں ہوا کرتا تھا، بلکہ عجمی اقوام کی ثقافتی اقدار کو عربوں نے بھی اپنایا۔ ہمارے اسلاف نے برصغیر میں آ کر ہندوؤں کی واسکٹ، شیروانی اور تنگ موری کا پائجامہ اور شلوار اپنے لیے اختیار کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کی تھی، انہیں کفار کے ساتھ مشابہت کے طعنے کسی نے نہیں دییے۔ لیکن جیسے جیسے دین، مسلم قومیت اور مسلکی علامت کی پیچان بنتا چلا گیا ‘اسلامی حلیے’ پر زور بڑھتا چلا گیا، یہ اس لیے کہ کسی سیاسی پارٹی کی طرح مخصوص بیج لگا کر اپنی تعداد کا مظاہرہ کیا جا سکے۔

 

معلوم ہونا چاہیے کہ مولوی صاحب کا اپنا حلیہ بھی رسول اللہﷺ کے حلیے کے عین مطابق نہیں۔ مولوی صاحب اگر اپنی آسانی کے لیے اپنے لیے حلیے کا انتخاب کرسکتے ہیں، تو یہی سہولت دیگر لوگوں کو بھی دینی چاہیے۔

 

اپنے تبلیغی انتظامی مسائل کی وجہ سے تبلیغی جماعت والے اپنے عام لوگوں کو بھی بحث و مباحثہ میں پڑنے سے منع کرتے ہیں، اور یہ مناسب بھی ہے، لیکن اس سے پیدا ہونے والی سادہ مزاجی، ان کے تمام اہل علم کا بھی وتیرہ ہے، یہ آپس میں بھی علمی مباحثہ کم کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے تو کہا تھا کہ کوئی تم سے جاہلانہ مباحثہ کرنے لگے تو تم اسے سلام کر کے رخصت ہو لو، جب یہی رویہ یہاں علمی مباحث کے بارے میں پایا جاتا ہے کہ ان باتوں کی کیا ضرورت ہے بس عمل کرو اور کیے جاؤ۔ تسلیم و رضا ہی دین کا اصل بن کر رہ گیا ہے، عقل و فہم کا استعمال عملا ممنوع ہے۔ زیادہ سوال پوچھنے والے کو ہدات کی دعا پر لگا دیا جاتا ہے یا وہ انہیں خود چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔

 

فضائل میں ضعیف روایات کے بیان کو چونکہ سندِ جواز حاصل ہے، اس لیے مولانا کے بیان میں ایمان کو تازہ کرنے اور دلوں کو گرمانے، بلکہ جنت اور حورانِ جنت کے نام پر شہوت کو بڑھکانے والی ضعیف روایات کا بے دریغ استعمال پایا جاتا ہے۔ مولانا کا حورانِ جنت کے بارے میں شہوانی تصور مولانا کا مبالغہ اور ہمارے حبس زدہ معاشرے کا عکاس ہے۔ جنس اور جنسی لذت کے بارے میں جو بیانات عموماً ممنوع سمجھے جاتے ہیں، جن کو کسی نوجوان کی زبان سے سن کر بڑے بوڑھے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں یا کان سے پکڑ کر گھر سے نکال کر دیتے ہیں، وہ یہاں دینی اصطلاحات کے لبادے میں مسجد و منبر کی روح پرور، پاکیزہ فضاؤں میں، بڑی شرح و بسط سے سنائے جاتے ہیں، جن کے سننے کے بعد، سامعین وضو تازہ کر کے نماز پڑھنا مناسب سمجھتے ہیں۔ مولانا، نوجوانوں کو اس طرح دین کی راہ پر لگا تو لاتے ہیں، لیکن یہ درست رویہ نہیں۔

 

مولانا زکریا کاندھلوی جیسے بڑے شیخ الحدیث کی طرف سے ‘فضائل اعمال’ اور ‘فضائلِ صدقات’ جیسی ضعیف روایات سے بھرے ہوئے تبلیغی نصاب نے ضعیف احادیث کا جواز اور ان پر ایمان اور بھی پختہ کر دیا ہے۔ تبلیغی نصاب میں کار آمد کتب کی تعلیم اگر دی جاتی، تو تبلیغی جماعت، عوام کے بڑے طبقے کو مذھب کی مناسب تعلیم و تربیت دے کر حقیقی مسلمان بنانے کی عظیم خدمت سر انجام دے سکتی تھی۔ مگر افسوس کے کہ عظیم فورم بھی ضائع ہو کر رہا۔ نصابی ضرورتوں کی وجہ سے ان کتب تک محدود کر دینے کی وجہ سے تبلیغیوں کا علم ان کے عمل کی طرح منجمد ہو کر رہ گیا ہے۔

 

ضعیف روایات کو فضائل کے لیے سند جواز تو دے دی گی، لیکن ان کے ذریعے بننے والا تصور خدا اور تصور دین، درحقیقت، بری طرح متاثر ہوا ہے۔ خدا کا تصورِ عدل تو مسخ ہو کر رہ گیا ہے جو کہ دین کی بنیاد ہے، بلکہ سار ے دین کی عمارت اسی تصور عدل پر قائم ہے۔ ان ضعیف روایات کی رو سے خدا ایک مطلق العنان بادشاہ نظر آتا ہے جو چاہے تو کسی کی ایک ادا پر اس کے سارے گناہ معاف کر دے اور کسی کے ایک گناہ پر اس کی ساری نیکیاں غارت کردے۔ خدا کا کوئی معیار ہی نہیں۔ سارا معاملہ اس کے شاہانہ مزاج کا ہے جو کسی اصول کا پابند نہیں۔ یہ تصور، قرآن مجید کے تصور خدا کے بالکل برعکس ہے، متضاد ہے۔

 

قرآن مجید میں خدا نے اپنا جو تعارف کرایا ہے وہ ایک اصول پسند خدا کا ہے، جس کے اصول و ضوابط مکمل طور پر عدل پر قائم ہیں اور کسی کے لیے بھی نہیں بدلتے۔ خدا سراسر رحمت ہے لیکن اس رحمت کا سب سے بڑا مظہر اس کا عدل ہے کہ وہ کافر و مومن، گناہ کار اور نیکو کار کے درمیان اپنے مقرر کردہ معیار کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ وہ سب کو ایک لاٹھی سے نہیں ہانکے گا۔ اس نے مختلف درجات کے نیکو کاروں اور گناہ گاروں کے مطابق ثواب و عذاب اور جنت و دوزخ مختلف درجات بنا رکھے ہیں۔ وہ ذرہ برابر نیکی اور ذرہ برار گناہ کا بھی شمار رکھتا ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ ثواب و عذاب کے پیمانے، انسان کے علم، عقل اور فہم کے میسر وسائل، اور انسان کے ضمیر کے اطمینان کے ساتھ وابستہ ہیں۔

 

یہ معلوم ہے کہ ضعیف احادیث وضع کرنے میں کم علم صالحین کا حصہ سب سے زیادہ ہے، جو لوگوں کو ترغیب دلانے کے لیے حدیثیں گھڑا کرتے تھے۔ مولانا طارق جمیل کو بھی اسی قطار میں شمار کیا جانا چاہیے۔ مولانا طارق جمیل ایک عالم سے زیادہ ایک واعظ ہیں۔ ان کو اسی حیثیت سے سننا چاہیے۔

 

مولانا جدید ذہن سے اور اس کے ڈکشن Diction سے واقف ہیں، اس لیے ان کی نوجوانوں کو ان کی متاثر کرنے کی صلاحیت کافی زیادہ ہے۔ جب وہ بھارتی فلم سٹار، عام خان سے ملے تو پہلے تو اس کو 60 اور 70 کی دہائی کی فلموں کے بارے میں اپنی معلومات سے حیران کر دیا، پھر اسے دین کی دعوت دی، لیکن عام خان بہرحال، اتنے سادہ ذہن کا نہیں تھا کہ اتنی جلدی رام ہو جاتا۔ مولانا کی کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے عوام کی اکثریت نے دین کو عقل اور غور و فکر کا محل کبھی سمجھا ہی نہیں۔ دین کے بارے میں وہ بہت سادہ ذہن رکھتے ہیں۔ اس لیے مولانا کی پر تاثیر سادہ بیانی ایسے لوگوں کو دین داری کی طرف لے آتی ہے، جس میں دین سے زیادہ ‘دین داری’ اہم ہوتی ہے۔ جس میں اعمال کی گنتی، ان کے وزن پر حاوی ہے، جہاں، مخصوص ” اسلامی حلیہ” ایمان اور علم کا معیار ہے، جہاں سوال کی بجائے بنا سوچے سمجھے تسلیم کرنا دین کا تقاضا بتایا جاتا ہے۔

 

مولانا ہائی ویلیو ٹارگٹ، یعنی سلیبریٹیز Celebritiesکو ہدف بناتے ہیں، کیونکہ ان کا حلقہ اثر زیادہ ہوتا ہے۔ اس طرز عمل میں بذات خود کوئی قباحت نہیں ہے، انبیا بھی پہلے اپنی قوم کے سرداروں کو ہی مخاطب بنایا کرتے تھے۔ مولانا اس میدان میں کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں، لیکن متاثر ہونے والے سلیبریٹیز کے ذریعے اسلام کا مخصوص حلیے والا تصور دین اور بلا دلیل بات کو تسلیم کرنے والا رجحان جو پھیلتا ہے، وہ نہ صرف یہ کہ قرآن کے منشا کے مطابق نہیں بلکہ دین کی ناقص ترجمانی کا سبب ہے، جو اسلام کا غلط اور برا تعارف بنتا ہے۔ نیز، ذہین اور اہل علم افراد کو متاثر بھی نہیں کرتا۔

 

معاشرے کا ذہین طبقہ مولوی کا ہدف کبھی رہا ہی نہیں۔ ذہین طبقہ ہمیشہ سوال اٹھاتا ہے، بات کو سمجھے بغیر چلنے کو تیار نہیں ہوتا، جب کہ ان کے ہاں ترتیب یہ ہے کہ پہلے مان لو، پہلے چلنا شروع کرو، پھر خود سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سادہ ذہن لوگ تو دین دار ہو رہے ہیں لیکن ذہین طبقہ درست طور پر مخاطب نہ بننے کی وجہ سے الحاد اور آزاد خیالی کی طرف مائل ہو گیا ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ سماج اور تاریخ پر ہمیشہ ذہین اور باصلاحیت طبقہ اثر انداز ہوتا ہے۔ ابھی ہمارا ذہین طبقہ بھی پریشان خیالی میں مبتلا ہے۔ جب یہ کبھی یکسو ہو سکا تو معاشرہ اسی رخ پر تبدیل ہوگا، جس رخ پر یہ طبقہ اسے لے چلے گا۔

 

تبلیغی جماعت کو چاہیے کہ درست اور مستند علم کے ذریعے عوام میں دین کی دعوت دیا کریں، تاکہ فہم دین کی کجی سے مذکورہ مسائل پیدا نہ ہوں۔ وہ عمل جو علم کی روشنی میں ہو، اس عمل سے ہزار درجے بہتر ہے جو بغیر علم او بلا سمجھے کیا جائے۔ منبر پر بیٹھنے کے لیے علم کا کوئی معیار مقرر کریں، اور علم دوستی کی فضا پیدا کریں۔ ذہین طبقے سے مکالمہ کریں، لیکن اس کے لیے علما کی بہت تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح سماج کا ذہین اور اہل علم طبقہ بھی ان کی طرف متوجہ ہو سکے گا، ورنہ یہ بھیڑوں کا ریوڑ ہی بنا رہے گا، جو گنتی میں تو شمار کیے جا سکتے ہیں لیکن وقت اور تاریخ کے ترازو میں ان کا کوئی وزن نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

اٹھتے ہیں حجاب آخر-حصہ دوم

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: اس تحریر کی اشاعت کا مقصد کسی بھی مسلک کے پیروکاروں کی دل آزاری یا انہیں غلط قرار دینا نہیں بلکہ مذہب اور عقیدے پر انفرادی رائے قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ پاکستانی مسلمانوں میں مذہب اور عقیدے کے معاملے پر سوچ بچار، تنقید، تحقیق اور علمی جستجو کا چلن مفقود ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر مسلک میں جہاد، ختم نبوت یا ناموس اہل بیت جیسے تصورات کی آڑ میں تشدد کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ مذہب سے متعلق مروجہ تشریحات سے مختلف رائے قائم کرنا ہر فرد کا حق ہے، اس تحریر کی اشاعت ایسے افراد کو اعتماد بخشنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کا باعث بنے گی۔

[/blockquote]

تبلیغی جماعت

 

اس سلسلے کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے

 

اس سلسلے کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے

 

میرے علمی و عقلی سفر کا اگلا مرحلہ دیوبندیت سے تعارف تھا۔ دیوبندیوں کی باتیں, ان کے دلائل بڑی حد تک درست معلوم ہو رہے تھے۔ دیوبندی ہوئے ہی تھے کہ تبلیغی جماعت والے ہمیں لے اڑے۔ ان کی سادہ نفسی اور عمل پر اصرار اچھا معلوم ہوا۔ تبلیغی جماعت نے دین داری پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، بہت سے لوگ، جو بڑے بڑے جرائم اور غلط کاموں میں پڑے ہوئے تھے، جن سے دین کی بات کرنا تک کسی کو گوارا نہ تھا، تبلیغی جماعت کی کاوشوں سے تائب ہو کر دین دار ہوئے۔

 

لیکن دوسری طرف، تبلیغی جماعت میں زہد نما رہبانیت اور علم سے بیزاری کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ ان کے ہاں علم سے ایک کِد سی پائی پائی جاتی ہے۔ کوئی عالم تبلیغی بھی ہو جائے تو آسانی سے اس کو معتبر تبلیغی نہیں سمجھتے۔ علما کے لیے وقت بھی زیادہ لگانا تجویز کر رکھا ہے۔ میں نے پوچھا کہ ایسا کیوں تو جواب ملا کہ علما کا علم ان کا حجاب ہے، جسے توڑنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہے۔ اسی وجہ سے کم علم خطبا ان کے ہاں زیادہ پذیرائی پا جاتے ہیں۔

 

ان کے ہان توکل کا مطلب وسائل پر عدم بھروسہ ہی نہیں، معاملہ ترک وسائل تک چاپہنچا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ تبلیغ کریں، اللہ آپ کے کاموں کا ذمہ خود اٹھا لے گا، فرشتے خود آئیں گے اور آٹا دال آپ کے گھر پہنچا آئیں گے۔ علما یہاں بھی کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کو درست بات سمجھا سکیں، لیکن علم سے ایک اکتاہٹ سی جو یہاں پائی ہے، اس وجہ سے ایسی باتیں موثر کم ہوتی ہیں۔ امریکہ سے آئے ہوئے ایک تبلیغی ساتھ کے ساتھ تشکیل ہوئی۔ میں چھری سے سبزی کاٹ رہا تھا۔ فرمانے لگے، ‘اسباب سے کچھ نہیں ہوتا سب اللہ سے ہوتا ہے۔ یہ چھری خود سے نہیں کاٹ رہی، اللہ کے حکم سے کاٹ رہی ہے۔ اس بات پر اگر پختہ یقین ہو تو آپ چاہے چھری چلائیں، وہ نہیں کاٹے گی۔’ میرا دل چاہا کہ کہوں کہ چھری کو اسی یقین کے ساتھ ذرا اپنے پیٹ میں مار کر دیکھیں ابھی فیصلہ ہو جاتا ہے۔ لیکن مروت آڑے آ گئی۔

 

یہ تو درست ہے کہ ہر چیز اپنی تاثیر دکھانے میں اللہ کے حکم کے تابع ہے، لیکن اس سب کی کنجی اللہ کے ہاتھ میں ہے، کسی اور کے ہاتھ میں نہیں۔ ان معاملات کو اپنے ایمان و یقین کے تابع سمجھنا، گویا خود کو خدا کی جگہ رکھ لینا ہے کہ میری سوچ سے اسباب اپنی تاثیر بدل ڈالیں گے۔ پھر جس کا ایمان ایسا نہ ہو، جو اسباب پر اثر انداز ہو سکتا ہو، اور یقینًا ایسا ایمان ہو ہی نہیں سکتا، تو آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ اچھا مومن ہی نہیں۔ میں نے ایک بار پوچھا بھی کہ کیا ایسا ایک بھی مومن تبلیغی جماعت نے تیار کیا ہے جس کا ایسا ایمان ہو کہ اسباب کی تاثیر پر اثر انداز ہو سکے، جواب ملا، نہیں، تو پوچھا کہ پھر اس جماعت کو کامیاب کیسے قرار دیا جا سکتا ہے جو ایک بھی ایسا مومن تیار نہ کر سکی؟

 

اس قسم کے افکار کی وجہ سے تبلیغی حضرات کے ہاں اپنے گھریلو ذمہ داریوں سے لا پرواہی عام ہے۔ اس کی افسوس ناک مثالیں معاشرے میں دیکھی گئی ہیں۔ ہمارے سامنے ایک تبلیغی کی لاپرواہی کی وجہ سے اس کی بیوی عدم توجہ اور بر وقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے دھیرے دھیرے موت کے منہ میں چلی گئی، اس کو بہت سمجھایا گیا، اس کے گھر والوں سے اسے مارا پیٹآ بھی، لیکن تبلیغ کے آگے وہ ہر چیز قربان کر دینے پر تیار تھا۔ یہ اس کے نزدیک عزیمت کا سفر تھا۔ بیوی کے مرنے کے بعد اس نے ایصال ثواب کے لیے مدرسے میں پیسے دییے اور پھر کچھ ماہ بعد مولوی صاحب سے درخواست کی کہ اس کے لیے کوئی رشتہ تلاش کیا جائے۔

 

سال سال بھر یہ حضرات گھروں سے دور رہتے ہیں، اور ان کے گھر والے، بیوی اور بچے ان کی توجہ سے محروم، دین سے دور ہو جاتے ہیں۔ دین داری کا ایسا منفی رویہ یہ پیش کرتے ہیں جوان کی زبانی دعوت سے زیادہ بلند آہنگ ہوتا ہے۔ ان کی بیویاں اپنے بچوں کے ایسا تبلیغی بننے سے پناہ مانگتی ہیں۔ شوہروں کی اتنی طویل غیر حاضری بیویوں کے لیے کتنی آزمائش کا سبب ہوتی ہے، معلوم ہی ہے۔ اسی بات کا احساس کرتے ہوئے خلیفہ دوم، حضرت عمر نے جہاد پر جانے والوں کے لیے ہر چار ماہ بعد گھر واپس آنا لازم قرار دیا تھا، انہوں نے ایک خاتون جس کا شوہر طویل مدت سے جہاد پر تھا، اشعار میں یہ کہتے سنا تھا، کہ اگر خدا کا ڈر نہ ہوتا تو اس چارپائی کے پائے ہل گئے ہوتے۔ معلوم نہیں، کہ تبلیغی جماعت میں سال سال بھر کے دعوتی دورے، کس اصول کی رو سے درست سمجھے گیے ہیں۔ اس پر مزید ستم یہ کہ جیسے ہی کوئی تبلیغی دورے سے واپس آتا ہے، اسے ترغیب دی جاتی ہے کہ گھر نہ جانا، یہیں سے پھر اللہ کے راستے میں نکل کھڑے ہو، اس پر یہ زبان زد عام فقرہ بولا جاتا ہے کہ ‘جو گھر گیا وہ گھِر گیا۔”

 

کہا جاتا ہے کہ لوگ کسب معاش کے لیے بھی تو سالوں اپنے گھر نہیں جاتے، ہم تو اللہ کے راستے میں نکلے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جو کسب معاش کے لیے جاتے ہیں، ان کا گھر سے اتنا دور رہنا کون سا درست عمل ہے۔ کوئی مجبوری سے گھر سے دور ہے تو الگ بات ہے لیکن اپنے اختیار سے یہ عمل کیسے درست ہو سکتا ہے، جب کہ آپ اسے دین کے نام پر کر رہے ہیں، اور دین نے ایسی کوئی مجبوری آپ پر لادی بھی نہیں ہے۔ اپنے لیے طوق و سلاسل خود کیوں ایجاد کرتے ہو اور وہ بھی دین کے نام پر۔ یہ سب تبلیغی حضرات کے اہل علم اور غیر اہل علم ذمہ داران کی ہدایات کی روشنی میں ہو رہا ہے۔ تبلیغی مساعی سے دین اتنا نہیں پھیلتا جتنا اس طرح غلط حکمت عملی کی وجہ سے منفی تاثر پھیلتا ہے اور تبلیغی جماعت سے لوگوں کو متنفر کرتا ہے۔

 

دنیا سے بے رغبتی سکھاتے سکھاتے، یہ رہبانیت کی طرف نکل گئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دنیا کی قیمت مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں، خدا کو اگر دنیا کی اتنی بھی قدر ہوتی، تو کسی کافر کو پانی کا ایک قطرہ نہ پینے دیتا۔ ظاہر ہے کہ کافر سے مراد، ان کے نزدیک ہر غیر مسلم ہوتا ہے، چاہے اس نے اسلام کی دعوت کا شعوری طور پر انکار کیا ہو یا بے جانے بوجھے، بہرحال وہ بھی کافر ہے۔ اس سے دنیا اور خدا کا جو تصور سامنے آتا ہے وہ ایسا نہیں کہ اس سے کوئی اچھا تاثر لیا جا سکے۔ دوسری طرف قرآن مجید کہتا ہے کہ خدا نے دنیا ہی نہیں، اس کی زینتیں اور خوب صورتیاں بھی اپنے مومن بندوں کے لیے پیدا کی ہیں، کون ہے جس نے ان کو حرام کرنے کی جرات کی ہے:

 

اِن سے پوچھو، (اے پیغمبر)، اللہ کی اُس زینت کو کس نے حرام کر دیا جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی تھی اور کھانے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے ممنوع ٹھیرایا ہے؟ اِن سے کہو،وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لیے ہیں، (لیکن خدانے منکروں کو بھی اُن میں شریک کر دیا ہے) اور قیامت کے دن تو خاص اُنھی کے لیے ہوں گی، (منکروں کا اُن میں کوئی حصہ نہ ہو گا)۔ ہم اُن لوگوں کے لیے جو جاننا، اپنی آیتوں کی اِسی طرح تفصیل کرتے ہیں۔ (سورہ اعراف، 7:32)

 

غور کیجیے، صرف دنیا ہی حلال نہیں، بلکہ دنیا کی زینتیں بھی ہمارے ہی لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اور یہ زینتیں تو ایک طرف، دنیا ہی کے ترک کی طرف لیے جا رہے ہیں۔

 

دنیا سے اسی بے رغبتی کا نتیجہ ہے کہ یہ نہ صرف اپنی بلکہ اپنے متعلقین کی دنیوی ضرورتوں اور ان کے پورا کرنے کے لیے وقت اور توانائی صرف کرنے کو عبث یا وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نہ صرف اپنی دنیوی ترقی اور خوشحالی سے لا پرواہ ہو جاتے ہیں، بلکہ جس محکمے میں کام کرتے ہیں، جو کاروبار یہ کرتے ہیں، اس کو بھی تبلیغ کے نام پر قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ دنیا کے بارے میں انہیں تصورات کی وجہ سے یہ فلاحی کاموں میں بھی کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ انہیں اس قسم کے دنیوی کاموں میں مشغولیت بھی غیر دینی محسوس ہوتی ہے۔
جس طرح بریلویت میں عشق رسولؐ، اعمال اور سیرت میں تبدیلی پیدا نہیں کرتا، اسی طرح، تبلیغی جماعت میں بھی دین، نماز، روزہ اور دعوت جیسے چند اعمال کے ساتھ ہی شروع ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو تبلغی مراکز میں خطبات تک ارشاد فرماتے ہیں لیکن اپنے کلچر کے مطابق بیٹیوں اور بہنوں کو جائیداد میں حصہ دینے کے روادار نہیں۔

 

یہ بھی عام تاثر ہے کہ کسی بھی محکمے میں کوئی تبلیغی اہل کار ہوگا تو وہ اپنے پیشہ ورانہ کاموں میں کوتاہ ہو گا، اسے ہر وقت دعوت دینے کی فکر رہتی ہے، اور کام پر توجہ کما حقہ نہیں ہوتی۔ تبلیغی لوگ، اپنے لیے تبلیغی ملازم رکھنے سے گھبراتے ہیں۔

 

سرمایہ دار تبلیغی الگ فینامینن ہے۔ یہ لوگ اپنے کاروبار کبھی متاثر نہیں کرتے۔ پورے انتظامات کر کے تبلیغ پر نکلتے ہیں۔ ان کی تبلیغ ان کے سرمایہ دارانہ اخلاقیات پر ذرہ برابر اثر انداز نہیں ہوتی۔ اپنے ملازمین کا قانونی اور غیر قانونی استحصال بڑے اطمینان قلب سے کرتے ہیں۔ ایک ملازم کے لیے تبلیغی مالک اور غیر تبلیغی مالک میں سوائے داڑھی، ٹخنوں سے اونچی شلوار اور نماز روزے کی پابندی کے اور کوئی فرق نہیں ہے۔

 

تبلیغی حضرات میں ایک عجیب اور دلچسپ خصوصیت پائی جاتی ہے، وہ یہ کہ ان کا اخلاص بھی بہت پروفیشنل ہوتا ہے۔ اخلاق اور اخلاص کا مظاہرہ وہیں کرتے ہیں جہاں دعوت دینا ہو اور تبلیغی جماعت کے دائرے میں لانا مقصود ہو, ، بالکل اس سیلز مین کی طرح جو اپنی پراڈکٹ پیچنے کے لیے پیشہ ورانہ خوش اخلاقی اور آپ سے اپنے اخلاص کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہ اس جماعت کے ماحول سے بننے والا عمومی مزاج ہے، اس سے انکار نہیں کہ اس سے مختلف لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی اچھی تربیت انہیں ہر جگہ اچھائی کا مظاہرہ کرنے پر ابھارتی ہے۔

 

تبلیغ والے، اپنی جماعت کو واحد جماعت قرار دیتے ہیں جو حق پر ہے، جس کا منہج واحد منہجِ ہے جو حق پر ہے، باقی سب لوگ ان کے نزدیک اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ تعصب کا حال یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ فتوی اور مسئلہ فقط تبلیغی عالم سے پوچھا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تبلیغی جماعت ایک فرقہ بن چکی ہے۔

 

اصلاح احوال کی کچھ کوشش اہل علم اپنے تئیں کرنے میں لگے ہوئے ہیں، لیکن جو تربیت ہو گئی ہے، اسی ریورس کرنا بہت مشکل ہے، بلکہ ان کے ہاں کہ کم علم تبلیغی حضرات، علما کی طرف سے کی جانے والی اصلاحی کوششوں کو ایک طرح کی مداہنت یا رخصت سمجھتے ہیں اور اپنے لیے عزیمت کے نام پر یہی انتہا پسند طرز عمل اپنائے ہوئے ہیں۔