Categories
نقطۂ نظر

بلوچستان کی سچائی- مدیر کے نام خط

Letter-to-Editor

یوں تو پاکستانی ریاست میں موجود ہر خطے سے ہی ‘محب وطن’ پاکستانی ناواقف ہیں مگر بلوچستان سے متعلق تو سنگین غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ جس طرح کا نصاب یہاں رائج ہے اور جو اول فول نسیم حجازی جیسے مصنفین اور زید حامد جیسے تجزیہ کاروں نے پڑھ کر پلایا ہے اس کے تناظر میں یہ لا علمی کچھ بہت انہونی بات بھی نہیں ۔ بلوچستن کے بارے میں طاقتور اداروں کی جانب سے جو کچھ بتایا گیا ہے اس کی بنیاد پر کوئی بھی درست رائے کیسے قائم کی جا سکتی ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ نقطہ نظر غلط ہو تو مسئلے کو بحث و مباحثہ کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے مگر اگر حقائق غلط ہوں تو معاملہ بہت پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

 

یوں تو پاکستانی ریاست میں موجود ہر خطے سے ہی ‘محب وطن’ پاکستانی ناواقف ہیں مگر بلوچستان سے متعلق تو سنگین غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔
بلوچستان کی تاریخ اور موجودہ صورت حال کے حوالے سے اکثر مسخ شدہ حقائق طلبہ کو پڑھائے جاتے ہیں۔ یک عام غلط فہمی تو یہ ہے کہ ہم لوگوں کا خیال ہے کہ دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان کا ذکر بھی قراردادِ پاکستان میں موجود تھا اور 14 اگست 1947 کو ہی بوچستان پاکستان کا حصہ بن گیا۔ بلوچستان کے الحاق سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کی بنیاد پر ہی موجودہ صورت حال کا درست ادراک ممکن نہیں رہا۔ عام پاکستانیوں کے نزدیک عام بلوچ محب وطن پاکستانی ہیں اوربلوچ سردار ہندوستان اور امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستان کو اس کے سب سے بڑے صوبے سے جدا کرنا چاہتے ہیں۔ مگر بلوچ سردار ایسا کیوں چاہتے ہیں؟ عام پاکستانیوں کے خیال میں وہ اس لئے پاکستان سے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان کی ریاست خاص کر فوج وہاں ترقی دیکھنا چاہتی ہے اور جس کے نتیجہ میں وہاں کے عوام باشعور ہوں گے اور سرداری نظام اور اس کے نتیجہ میں جاری استحصال کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔

 

یہ جام اور اس جیسے کئی جام صبح شام ہمارے عوام کو پلائے جاتے ہیں اوروہ بیچارے یہ بھول کر کہ ان کی اپنی حالت ان حکمرانوں نے کیا بنا رکھی ہے، حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر بلوچ سرداروں اور ہندوستان اور امریکہ کو کوستے رہتے ہیں۔ وہ تو اتنے معصوم ہیں کہ اقبال جس نے ہمیشہ pan-Islamism کی بات کی اس ہی کو پاکستان کے نظریاتی معاملات کا حرفِ کل مانتے ہیں۔ جبکہ درحقیقت دو قومی نظریہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کے حوالے سے دیا گیا تھا اور جناح خود pan-Islamism کے مخالف تھے۔

 

اگر ہم دو قومی نظریہ کو ہی لے لیں جس کی اپنی ساخت بہت کمزور ہے تو بھی بلوچستان پاکستان کی جھولی میں نہیں آنا چاہیئے کیونکہ اس کے مطابق ہندوستان میں بسنے والے مسلمان ایک قوم ہیں جب کہ بلوچستان کا ایک بڑا حصۃ تو کبھی ہندوستان کا حصہ نہیں رہا۔ میرے بہت سارے دوستوں کا خیال ہے کہ کشمیر اور بلوچستان کا موازنہ نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ کشمیر کا معاملہ متنازعہ ہے جبکہ بلوچستان پاکستانی وفاق کا حصہ ہے۔ یوگینا وینا کے ایک مضمون کے مطابق:

 

تقسیم پاک و ہند سے قبل، برطانوی راج میں بلوچستان چار شاہی ریاستوں قلات، لسبیلہ، خاران اور مکران پر مشتمل تھا۔ان ریاستوں میں سے دو ریاستیں لسبیلہ اور خاران، برطانوی راج کی طرف سے خان آف قلات کو جاگیر کے طور پر اجارے پر عنایت کی گئی تھیں، اسی طرح مکران بھی اس زمانے میں قلات کا ہی حصہ تھا۔ جناح نے برطانوی راج سے قلات کے زیر انتظام بلوچستان کی آزادی کے معاملے پر قیام پاکستان سے تین ماہ قبل مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ ریاست قلات اور اس کے پاکستان سے تعلقات پر بات چیت کے آغاز سےتاج برطانیہ کی طرف سے وائسرائے ہند، والی قلات اور جناح کے مابین ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں 11 اگست 1947 کو ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق:

 

دارالعوام کے فیصلہ کی روح سے بلوچستان نے پاکستان میں شامل ہونے کی مخالفت کر دی تھی اور برطانوی معاہدوں اور دستاویزات کی روح سے بھی بلوچستان کو ایک علیحدہ خودمختار ریاست کا درجہ دیا گیا تھا۔
الف۔ پاکستانی حکومت قلات کو برطانیہ کے ساتھ معاہدوں کے تناظر میں، برطانیہ کے زیرانتظام علاقوں سے منفرد حیثیت میں ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔
ب۔ قلات کو برطانیہ سے( اجارے پر ملی جاگیرات کے )موجودہ( معاہدوں کی پاکستان کے ساتھ تجدید یا تنسیخ سے متعلق قانونی مشاورت کی جائے گی۔
ج۔ حتمی فیصلے تک پاکستان اور قلات کے مابین معاملات کو جوں کا توں برقرار رکھنے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔
د۔ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات سے متعلق امور پر فیصلوں کے لیے پاکستان اور قلات کے مابین کراچی میں مذاکرات کیے حائیں گے۔

 

کچھ ہی عرصہ میں بلوچستان کے حوالے سے پاکستان کے خیالات میں تبدیلی رونما ہوئی اور خان آف قلات کو مختلف انداز سے دباو میں لانے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ خان نے اس دباو سے بچنے کے لئے معاملہ پارلیمان کے حوالے کر دیا۔ 21 فروری 1948 کو دارالعوام نے پاکستان میں شامل ہونے کی مخالفت میں فیصلہ کیا۔ مارچ میں ان افواہوں کو گرم کیا گیا کہ خاران، لسبیلہ اور مکران نے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا جبکہ 26 مارچ 1948 میں پسنی جیونی اور دیگر سمندری پٹی میں فوج داخل ہو گئی۔ 27 مارچ کو فوج قلات پہنچ گئی اور کراچی میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ خان نے پاکستان میں شامل ہونے کی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ جبکہ یہ معاہدہ بندوق کے زور پر کرایا گیا۔ اگر آپ اس معاہدہ کی صحت کو تھوڑی دیر کے لئے نظر انداز بھی کر دیں تو دارالعوام کے فیصلہ کی روح سے بلوچستان نے پاکستان میں شامل ہونے کی مخالفت کر دی تھی اور برطانوی معاہدوں اور دستاویزات کی روح سے بھی بلوچستان کو ایک علیحدہ خودمختار ریاست کا درجہ دیا گیا تھا۔

 

اس کے برعکس اگر کشمیر کے معاملہ پر غور کیا جائے تو وہاں پہلے پاکستان کے قبائلی لشکروں نے چڑھائی کی اور اس ڈر سے کہ کشمیر پر پاکستان کا قبضہ نہ ہو جائے مہاراجہ نے ہندوستان کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ ایک مہاراجہ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ پورے کشمیر کی عوام کا فیصلہ کرے لیکن اگر اس وجہ سے ہم سب کشمیر کو مقبوضہ کشمیر گردانتے ہیں تو پھر بلوچستان کے حوالے سے ہماری حب الوطنی کیوں جاگ جاتی ہے اور ہم ان کے تاریخی اور قومی حق کو تسلیم کرنے سے کیوں قاصر ہیں؟

 

یہ تنظیمیں پاکستان کے لئے دو مونہی والی تلوار کا کام کرتی ہیں کیونکہ ایک طرف تو ان کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ “ناراض بلوچوں” کو راہِ راست پر لا کر جہاد پر لگایا جائے تو دوسری جانب یہ ایران کے خلاف ایک حفاظتی تدبیر کا کام کرتی ہیں۔
یہ ساری باتیں درست مگر ہماری فوج جس نے یہ طے کر لیا ہے کہ افغانستان ہو یا بلوچستان اس کے مسئلوں کو حل کرنا اس کی ذمہ داری ہے وہ بھلا غریب بلوچوں کو ظالم و جابر سرداروں کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتی ہے۔ لہٰذا ریاستِ پاکستان نے 90 فیصد سراداروں کو مراعات دے کر خرید لیا اور ان کے لشکروں کو اسلحہ سے لیس کر کے اپنی ہی قوم پر ظلم کرنے کی ذمہ داری پر لگا دیا۔ جو 10 فیصد پاکستان کی مخالفت کرتے ہیں وہ جان بچا کر پاکستان سے باہر بیٹھے ہیں۔

 

دوسری جانب خدائی خدمتگاروں کو بلوچستان کے لوگوں کی اسلام سے دوری بہت کھائی جا رہی تھی۔ بلوچستان کی اکثریت ہے تو مسلمان مگر اسے خودکش دھماکوں میں خاص دلچسپی نہ تھی اور نہ ہی وہ افغانستان اور کشمیر کے جہاد میں خاص دلچسپی لیتے تھے لہٰذا وہاں نہ صرف کوئٹہ شوریٰ کو رکھا گیا بلکہ لشکرِ جھنگوی اور جماعت الدعوۃ یا لشکرِ طیبہ جیسی تنظیموں کے مدرسوں کو متعارف کرایا گیا جن کے ذریعہ اب داعش وغیرہ بھی بلوچستان میں اسلام و جہاد پھیلانے کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

 

یہ تنظیمیں پاکستان کے لئے دو مونہی والی تلوار کا کام کرتی ہیں کیونکہ ایک طرف تو ان کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ “ناراض بلوچوں” کو راہِ راست پر لا کر جہاد پر لگایا جائے تو دوسری جانب یہ ایران کے خلاف ایک حفاظتی تدبیر کا کام کرتی ہیں۔ آج کل ان ہی تنظیموں کے ذریعے ہزارگنج کو خالی کرانے کے منصوبہ پر بھی تیزی سے کام جاری ہے جو نہ جانے کیوں ہجرت کر کے ایسی سرزمین پر آ گئے جہاں وحشی درندوں نے قبضہ کرنا تھا اور اپنی strategic depth سے سب کا لہو پینا تھا۔

 

سوال لیکن یہ پیدا ہوتا ہے کہ آدھا بلوچستان چھاونی بنا ہوا ہے مگر سب سے زیادہ اسمگلنگ آخر اس سرحد سے کیوں ہو رہی ہے؟ سوال لیکن یہ پیدا ہوتا ہے کہ 1952 سے سوئی سے گیس نکلنے کے باوجود ریاست بلوچوں کی حالت بہتر کیوں نہیں کر پائی؟ سوال لیکن یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئٹہ جو مکمل چھاونی بنا ہوا ہے وہاں آئے دن اتنی آسانی سے ہزارہ کیوں بے دردی سے قتل ہو جاتے ہیں؟ سوال لیکن یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آپ کشمیر کو مقبوضہ سمجھتے ہیں تو بلوچستان کو کیوں نہیں؟
خدائی خدمتگار اور وردی والے تو اپنے مفادات کے غلام ہیں مگر آپ کس بنیاد پر حب الوطنی کے خمار میں ظالم کا ساتھ دے رہے ہیں؟
Categories
نقطۂ نظر

ماضی کی بجائے مستقبل کی طرف دیکھنا ہو گا

مترجم: ظاہر کریم

 

یہ وہ وقت نہیں کہ جب ماضی کی مایوسیوں اور غلطیوں کو مستقبل پر حاوی ہونے دیا جائے۔ آج آگے بڑھنے کے لیے موزوں لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ آج اس سوال کا جواب کہ بلوچ کون ہیں؟ ان کے تاریخی پس منظر اور ورثے کے حوالے سے دینے کی بحث بے کار ہے۔ برطانوی راج سے آج تک اس خطے میں سب سے زیادہ قہر بلوچوں پر ہی ڈھائے گئے ہیں۔ نوآبادیاتی دور کے یہ مصائب ان پر برطانوی کالونی کے طور پر بھی روا رکھے گئے اور بعد ازاں پاکستان کے زیرتسلط آنے کے بعد بھی یہی نوآبادیاتی نظم برقرار رہا۔ کون اس کا ذمہ دارہے اور کسے قصوروار ٹھہرایا جائے یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔

 

قیامِ پاکستان کے وقت بلوچستان میں کوئی نظم و نسق اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کا کوئی بنیادی ڈھانچہ سرے سے موجود ہی نہیں تھا، اور کم و بیش یہی صورت حال آج بھی ہے۔
انگریز دور سے ہی بلوچوں کو ترقی کے عمل سے محروم رکھا گیا ہے، ترقی سے محرومی کا یہ عمل صدیوں پر محیط ہے۔ نتیجتاً قیامِ پاکستان کے وقت بلوچستان میں کوئی نظم و نسق اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کا کوئی بنیادی ڈھانچہ سرے سے موجود ہی نہیں تھا، اور کم و بیش یہی صورت حال آج بھی ہے۔ یونیورسٹیاں تو دور کی بات کوئی تعلیمی ادارہ موجود نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ عوام کی شرح خواندگی (اس وقت) نہایت غیر تسلی بخش تھی۔ انگریزوں کے زمانے میں فوج اور افسر شاہی میں بلوچوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ اسی پس منظر میں بلوچستان پاکستان کا حصہ بنا۔ ان حالات میں پاکستان میں شمولیت کے بعد پیش آنے والے مصائب اس وقت کی صورت حال کا فطری اور لازمی نتیجہ ہیں۔

 

گزشتہ 68سالوں میں بلوچوں کے لئے کچھ نہیں بدلا، کیونکہ وہ خود کو پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کے ساتھ مربوط نہیں کر سکے۔ ایک بار پھر یہ جاننا ضروری ہے کہ اس بارے میں بھی یہ بحث بے سود ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے۔ یہ وقت جو کچھ ہوا اس پہ رونے کا وقت نہیں بلکہ آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ یہ وقت نہیں کہ ماضی کی کوتاہیوں کو مستقبل کا تعین کرنے کا موقع دیا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ غلطیوں کا اعتراف کرکے وہ حاصل کیا جائے جو اب تک حاصل نہیں کیا جا سکا۔

 

بلوچستان میں رہنے والے بلوچوں سے متعلق مستند اعدادوشمار دستیاب نہیں۔ بہرطور بلوچوں کی تعداد رقبے کے اعتبار سے کم ہے۔ مبینہ طور پر بلوچ ایک جانب افغان مہاجرین کی وجہ سے اور دوسری طرف پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر کے بعد آباد کاروں کی آمد سے پیدا ہونے والی آبادیاتی تبدیلی کے ہاتھوں سیاسی معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ بلوچوں کو ، ابھی یا کبھی نہیں کی صورتحال کا سامنا ہے، اور اپنی بقاء کے لئے یہ کڑوا گھونٹ پینا ہے۔

 

ایک جانب بلوچ افغان مہاجرین کی وجہ سے اور دوسری طرف پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر کے بعد آباد کاروں کی آمد سے پیدا ہونے والی آبادیاتی تبدیلی کے ہاتھوں سیاسی معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ بلوچ اب عملیت پسند اور حقیقت پسند طرز فکر اور طرز عمل اختیار کریں۔ موجودہ صورت حال کے تناظر میں اس عملیت پسندی کی تعریف کئی طرح سے کی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے شدید اختلاف رائے پیدا ہونے کا بھی امکان ہے، لیکن اس کے سوا کوئی اور معقول راستہ (چارہ) نہیں۔ یہاں عملیت پسند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں حقیقت اور تبدیلی کو مانتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیئے۔ انہیں ملک کی موجودہ انتظامی اور وفاقی ڈھانچے میں رہتے ہوئے اپنی تعلیمی قابلیت اور سیاسی شعور میں اضافہ کرنا ہو گا تاکہ وہ اپنے سیاسی حقوق کا تحفظ یقینی بنا سکیں۔

 

اس بحث میں ایک اور اہم پہلو موجودہ بلوچ جدوجہد کے اہداف کی نوعیت کا تعین ہے۔ موجودہ صورت حال میں ناقابل حصول اہداف کا تعاقب نہ صرف جدوجہد کرنے والے افراد بلکہ پوری قوم کے نقصان کا باعث ہو گا۔ اس لئے دانائی اسی میں ہے کہ ایسی ناقابل حصول منزل کا راستہ چھوڑ کر اور ان حقوق کے لئے جدوجہد کی جائے جن کا حصول عملاً ممکن ہے۔ بلوچ جدوجہد اگر اپنا نظریاتی قبلہ تبدیل کر لے تو اسلام آباد کے لیے بلوچوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔

 

علاوہ ازیں، گزشتہ ایک دہائی یا اس سے زائد عرصے کے دوران بلوچ نوجوانوں نے جن وجوہ کی بناء پر شدت پسند قوم پرستی اختیار کی وہ اپنی جگہ درست نہیں۔ ان وجوہ پر بحث کی جا سکتی ہے جن کی بناء پر بلوچ نوجوان یہ رویہ اپنانے پر مجبور ہوئے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ انتہا پسندانہ طرز عمل ان کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ بہت سے قیمتی انسان جو اس معاشرے کے لیے سودمند ثابت ہو سکتے تھے اسی انتہا پسندی کے نتیجے میں مارے گئے۔

 

دانائی اسی میں ہے کہ ایسی ناقابل حصول منزل کا راستہ چھوڑ کر اور ان حقوق کے لئے جدوجہد کی جائے جن کا حصول عملاً ممکن ہے۔
ماضی کے غلطیوں سے سیکھ کرانہیں آئندہ دہرانے سے بچنے کا یہ ایک شاندار موقع ہے۔ یہ وقت کمزوریوں کو طاقت میں بدلنے اور اس قوت کو پورے معاشرے کی خوشحالی کے لیے بروئے کار لانے کا ہے۔ بلوچ گزشتہ سات دہائیوں سے مصیبت زدہ ہیں اور ابھی تک پسماندہ ہیں۔ لیکن ان مصائب کے ہاتھوں وہ معاشی و سماجی اعتبار سے بہت باشعور ہو چکے ہیں اور اس شعور کو وہ اپنی طاقت بنا سکتے ہیں۔ وہ اس طاقت کے ذریعے ماضی میں روا رکھے جانے والے ظلم اور زیادتی سے آنے والے وقتوں میں خود کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔

 

قدرت نے انہیں بے پناہ وسائل اور جغرافیائی طور پر اہم زمین سے نوازا ہے۔ بلوچستان کے جغرافیے کی سیاسی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بلوچستان مسخر و غیر مسخر معدنی وسائل کے خزانوں سے مالا مال ہے، جو اسے دنیا کے امیر ترین خطوں میں سے ایک بناتا ہے۔ اگر بلوچ اپنے حقوق کے حصول کے لئے صحیح راستہ اختیار کریں تو کوئی بھی انہیں قدرت کے ان عطیات سے محروم نہیں کر سکتا۔

 

بلوچوں کی جانب سے اپنی جدوجہد کے لیے صحیح سمت اختیار کرنے کے بعد دیگر تصفیہ طلب امور کا حل دشوار نہیں ہو گا۔ اس کے بعد عام بلوچ کے استحصال پر پلنے والی بلوچ اشرافیہ کے قبائلی ظلم و ستم اور معاشی بدعنوانی سے نجات زیادہ مشکل نہیں ہوگی۔

 

حقیقت پسندی کے برعکس اگر مثالیت پسند بلوچ فکر اختیار کی گئی تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ اس صورت میں بلوچوں کو ایک طرف جغرافیائی تبدیلی اور مذہبی انتہا پسندی جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا تو دوسری طرف بلوچ اشرافیہ عام بلوچوں کے استحصال سے اپنی جیبیں بھرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔