Categories
اداریہ

فاٹا میں رہنے والوں کو مساوی شہری تسلیم کیا جائے-اداریہ

قبائلی علاقوں کے افراد پاکستان کی اس تذویراتی حکمت علمی کے متاثرین ہیں جو افغانستان میں پاکستان دوست حکومت لانے کے لیے اپنائی گئی تھی۔
ایک خبر کے مطابق آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں افغانستان میں پناہ لینے والے ساڑھے سات ہزار پاکستانی خاندانوں میں سے محض اڑھائی ہزار نے وطن واپسی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہی صورت حال پاکستان کے اندر پناہ حاصل کرنے والوں کی واپسی کے ضمن میں بھی نظر آتی ہے۔ وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سے بے گھر افراد کی ایک بہت بڑی تعداد ابھی بھی پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہے۔ قبائلی افراد کو واپسی کے لیے اپنائے گئے طریق کار پر تحفظات ہیں۔ اپریل 2016 میں فوج کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق محض 36 فیصد خاندان شمالی وزیرستان واپس جا سکے ہیں۔ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کر کے پاکستان کے بندوبستی علاقوں میں رہائش اختیار کرنے والے افراد گھر واپسی کے خواہش مند ہونے کے باوجود واپسی کے عمل سے ناخوش ہیں۔ فوجی کارروائی کے بعد وزیرستان کے مختلف علاقوں میں واپس لوٹنے والوں کی تعداد اندازوں سے کم ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں واقع اپنے گھروں سے دوبرس تک دور رہنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد آپریشن کے کامیاب ہو جانے کے باوجود بھی واپس لوٹنے کو تیار کیوں نہیں؟

قبائلی علاقوں میں رہنے والے پاکستانیوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا امتیازی سلوک اور اس علاقے کو سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے دیکھا جانا اس تذبذب کی اہم وجوہ ہیں۔ قبائلی علاقوں کے افراد پاکستان کی اس تذویراتی حکمت علمی کے متاثرین ہیں جو افغانستان میں پاکستان دوست حکومت لانے کے لیے اپنائی گئی تھی۔ قبائلی علاقوں میں رہنے والے افراد کو ایک ایسی جنگ کا ایندھن بنایا گیا ہے جس کے نہ تو وہ متحارب فریق ہیں اور نہ ہی انہوں نے اس جنگ کا انتخاب کیا تھا لیکن اس کے باوجود اس جنگ کے متحارب ہر دودھڑوں کی جانب سے مسلسل انہیں ہی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ایک جانب جہاں ماضی میں ان کے علاقوں کو ریاستی سرپرستی میں افغان جنگ کے لیے مجاہدین کا مستقر بنایا گیا تو دوسری جانب افغانستان، مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر سے آنے والے مجاہدین نے ان علاقوں میں اپنی جڑیں مضبوط کیں۔ ایک طرف جہاں انہیں ڈرون حملوں اور پاک فوج کی کارروائیوں کے دوران شہری نقصان (collateral damage) بننا پڑا تو دوسری جانب انہیں عسکریت پسندوں کی انتقامی کارروائیوں کا شکار بھی ہونا پڑا۔

رحقیقت ریاست قبائلی علاقوں کے باشندوں کو اپنا شہری بعد میں اور پہلے قومی سلامتی کے لیے ایک ممکنہ خطرہ تصور کرتی ہے،
درحقیقت ریاست قبائلی علاقوں کے باشندوں کو اپنا شہری بعد میں اور قومی سلامتی کے لیے ایک ممکنہ خطرہ پہلے تصور کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ فاٹا اور یہاں کے رہنے والوں کو ہمیشہ سیکیورٹی کے نقطہ نظرسے عسکری بنیادوں پر دیکھا اور سمجھا گیا ہے۔ فاٹا اور یہاں رہنے والوں کے لیے اختیار کی گئی سیاسی اور انتظامی حکمت عملی بھی مقامی ترقی اور خوشحالی کی بجائے ہمیشہ ملکی سلامتی اور سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے مرتب کی گئی ہے۔ مقامی آبادی مساوی شہری حیثیت کے حصول کے لیے متعدد مرتبہ ایف سی آر کے خاتمے اور فاٹا کی آئینی حیثیت کے تعین کا مطالبہ کر چکی ہے۔ لیکن ایک متنازع اور غیر متعین سرحد سے متصل ہونے کے باعث پاکستانی ریاست ان علاقوں کے لوگوں کے لیے قانونی اصلاحات نہیں لا سکی۔ ان علاقوں کا انتظام اب بھی نوآبادیاتی دور کے ضابطہ قانون فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کے تحت چلایا جاتا ہے۔

پاکستانی ریاست، حکومت، سیکیورٹی اداروں، سیاسی جماعتوں اور عام شہریوں کی جانب سے قبائلی باشندوں کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے۔ یہ امتیازی سلوک انہیں مساوی شہری تسلیم نہ کرنے کا مظہر ہے۔ فاٹا کا رہائشی ہونے کا مطلب پورے ملک میں ہر ناکے، ہر چوکی اور ہر جگہ شک کی نگاہ سے دیکھا جانا ہے۔ بلاشبہ آپریشن ضربِ عضب پاکستانی بقا اور سلامتی کا معاملہ ہے مگر آپریشن ضرب عضب کے متاثرین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست ان کی فلاح و بہبود اور بحالی کی بجائے ان کی جانچ پڑتال میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ بعض دہشت گرد بھی بے گھر ہونے والے افراد کے ساتھ بندوبستہ علاقوں میں آ چکے ہوں لیکن اس خدشے کے پیشِ نظر حکومت کی جانب سے آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن سے لے کر آباد کاری تک کے معاملات عملاً فوج اور سیکیورٹی اداروں کے سپرد کر دینے سے ان افراد کی مشکلات میں مزیداضافہ ہوا ہے۔ اسی شک کی بنیاد پر سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کی جانب سے بے گھر افراد کے آنے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، سرکاری سطح پر قائم کیمپوں میں رہنے والوں کو تلاشی اور جانچ پڑتال کے بے جا عمل سے گزرنا پڑا اور بدترین حالات میں سیکیورٹی ترجیحات کے تحت رہنا پڑا۔ امداد کے حصول، پناہ گزین کیمپوں میں رہائش حاصل کرنے اور شہری سہولیات تک رسائی کے لیے نہایت سخت شرائط اور طریق ہائے کار مرتب کیے گئے اوریہی صورت حال ان افراد کی گھر واپسی کے عمل کی بھی ہے۔

فاٹا کے بے گھر افراد کے مصائب میں مزید اضافے کی وجہ ان لوگوں کی دیکھ بھال اور بحالی کا عمل سیکیورٹی اداروں کے سپرد کر دینا ہے۔ گھر واپسی کا عمل ایسی یقین دہانیوں کے تحت ہو رہا ہے جن پر عملدرآمد قبائلی افراد کے لیے ناممکن ہے۔ قبائلی فراد کو اپنے علاقوں میں ایک بار پھر ایف سی آر قانون کے تحت دھکیلا جا رہا ہے۔ دو برس کی فوجی کارروائی کے باوجود شدت پسندوں کی نشاندہی کی ذمہ داری قبائل پر عائد کی گئی ہے، اور اس میں ناکامی پر انہیں سزائیں بھی دی جا رہی ہیں۔ جون 2016 کے اواخرمیں پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ نے اجتماعی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے اور شدت پسندوں کی نشاندہی نہ کرنے پر دو قبیلوں کی تمام مراعات بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ تحصیل یکہ غنڈ میں قاسم خیل قبیلے کی دو ذیلی شاخوں کڈو کور اور بھائی کور قبائل کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنانے اور فصلوں کی کاشت اور کٹائی پر بھی پابندی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ کیا سیکیورٹی اداروں سے یہ پوچھا نہیں جانا چاہیئے کہ دو برس کی فوجی کارروائی کے بعد بھی شدت پسندوں ی نشاندہی کی ذمہ داری قبائل پر کیوں عائد کی گئی ہے؟ ریاست سے یہ سوال پوچھا جانا چاہیئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ریاست دیشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ریاستی ذمہ داری اپنے ہی تباہ حال اور جنگ زدہ شہریوں پر عائد کر رہی ہے؟

فاٹا میں رہنے والوں کو اگر اصلاحات کے ذریعے جلد مساوی آئینی اور شہری حیثیت نہ دی گئی تو حالات بہت جلد دوبارہ تشویش ناک ہو سکتے ہیں اور آپریشن ضرب عضب سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کے اثرات زائل ہوسکتے ہیں۔
قبائلی علاقوں کے لوگ خوفزدہ ہیں اور وہ انتظامیہ پر پھروسہ کرنے کو تیار نہیں، انہیں خدشہ ہے کہ طالبان واپس آ سکتے ہیں یا انتقامی کارروائی کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس برس عیدالاضحیٰ کے میلوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ فاٹا کے موجود مسائل کی ذمہ داری اگر چہ سویلین حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے تاہم ان حالات کی خرابی کی اصل ذمہ داری عسکری اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ عسکری اداروں کی جانب سے سول حکومت اور اداروں کو انتظامی معاملات سے بے دخل رکھنے کی وجہ سے وفاقی اور صوبائی حکومتیں تاحال خود کو اس علاقے کو اپنی عملداری میں لینے کا اہل نہیں بناسکیں۔ سرکاری سطح پر اس صورت حال کا کسی قدر ادراک نظر آتا ہے مگر اصلاحات کا عمل سست رفتار بھی ہے اور قبائلی علاقوں کی نمائندگی کے بغیر سرانجام دیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے فاٹا کے علاقوں میں رہنے والوں پر بداعتمادی اس قدر زیادہ ہے کہ فاٹا اصلاحات کی کمیٹی میں مقامی افراد کو نمائندگی نہیں دی گئی۔

افغانستان کے غیر یقینی حالات اور پاک افغان کشیدگی کے باعث بھی قبائلی علاقوں میں سیاسی اصلاحات کا عمل تاخیر کا شکار ہے۔ مقامی افراد کی جانب سے اصلاحاتی کمیٹی پر متعدد بار تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے اور مقامی آبادی میں سیاسی تنہائی خوفناک شرح سے بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ اڑسٹھ برس سے قبائلی علاقوں میں بسنے والے پاکستانی شہریوں کو دوسرے درجے کے شہری بنا کر رکھا گیا ہے، انہیں ملک کے اندر اور باہر ملازمتوں کے حصول، سیاسی نمائندگی، شناختی اور سفری دستاویزات کے حصول اور اعلیٰ عدلیہ تک رسائی کے محدود حقوق حاصل ہیں، یہ کم تر شہری حیثیت ان کی بے چینی کا ایک بڑا سبب ہے۔ ریاست کو جلد از جلد ان علاقوں کے افراد کے خواہشات کو سامنے رکھتے ہوئے اصلاحات کا آغاز کرنا ہو گا۔ اس ضمن میں قانونی پیچیدگیوں کو دور کر کےعلیحدہ صوبے کے قیام، خیبرپختونخوا میں انضمام یا ان علاقوں کا نظم و نسق وفاق کی بجائے خیبرپختونخوا حکومت کے سپرد کرنے (فاٹا کی بجائے پاٹا بنانے) پر ایک ریفرنڈم بھی کرایا جا سکتا ہے۔ فاٹا میں رہنے والوں کو اگر اصلاحات کے ذریعے جلد مساوی آئینی اور شہری حیثیت نہ دی گئی تو حالات بہت جلد دوبارہ تشویش ناک ہو سکتے ہیں اور آپریشن ضرب عضب سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کے اثرات زائل ہوسکتے ہیں۔

Image: Salim-ur-Rehman Afridi

Categories
نقطۂ نظر

فاٹا اصلاحات؛ حکومتی اقدامات اور قبائلی عوام کے تحفظات

فاٹا کے لوگوں کو ملازمت، روزگار، تعلیم، صحت اور سہولیات میں نظرانداز کیا جاتا ہے، اور انہیں صوبائی اسمبلی میں بھی نمائندگی نہیں دی جاتی۔ اس امتیازی سلوک کو فاٹا کے عوام کب تک برداشت کریں؟
تقسیم ہند کے بعد قائد اعظم نے بحیثیت گورنر جنرل پشاور میں قبائلیو ں کے ساتھ جرگے میں اس بات پر زور دیا تھا کہ فاٹا میں کوئی بھی تبدیلی فاٹا کے عوام کی مشاورت کے بغیر نہیں کی جائے گی۔ فاٹا کے نظم و نسق میں اصلاحات کے لیے پہلی باقاعدہ کمیٹی 1976 میں ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل نصیر اللہ بابر کی سربراہی میں تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی میں حفیظ پیرزادہ، رفیع رضا اور ڈاکٹر مبشرحسن شامل تھے۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد1977کے انتخابات کے لیے وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں کو صوبہ سرحد (خیبر پختون خوا) کا حصہ بنانے کے لیے سفارشات مرتب کرنا تھا۔ اس حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت کی امید تھی لیکن ضیاء مارشل لاء نے فاٹا کو اس بحران سے دوچار کر دیا جس سے یہاں کے عوام آج تک نہیں نکل سکے۔ ضیاء دور میں افغانستان میں مداخلت کے لیے فاٹا کو دُنیا بھر کے جنگجووں کا مرکز بنایا گیا جس کا خمیازہ آج تک پوری قوم بھُگت رہی ہے۔

 

فاٹا کے لیے دوسری اصلاحات کمیٹی کی تشکیل 2006 میں جنرل پرویز مشرف کے دورحکومت میں امتیاز صاحبزادہ کی سر براہی میں ہوئی۔ اس کمیٹی کی حتمی سفارشات یہی تھیں کہ فاٹا کے وسیع تر مفاد کے لیے موزوں یہی ہے کہ اسے خیبر پختون خوا میں ضم کر دیا جائے۔ بدقسمتی سے اس انضمام کو افغانستان میں امن (کی غیر منطقی اور غیر منصفانہ شرط) کے ساتھ مشروط کیا گیا گویا انہیں ان کے آئینی اور شہری حقوق سے محروم کر دیا گیا۔ قبائلی علاقوں کے لوگ پاکستانی ہوتے ہوئے بھی پاکستانی نہیں اور دوسرے درجے کے شہری تصور کیے جاتے ہیں۔ فاٹا کے مقامی باشندے بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس علاقے کا مستقبل حکومت کے افغانستان میں اثرورسوخ حاصل کرنے کے عزائم سے وابستہ رکھنا کس طرح منصفانہ اور آئینی ہے؟

 

فاٹا کے لیے تیسری اصلاحات کمیٹی 8 نومبر 2015 کو وجود میں آئی۔ آرمی پبلک سکول پر حملے کے نتیجے میں قومی ایکشن پلان بنا اور اس قومی ایکشن پلان کی شق 12 کے مطابق فاٹا میں انتظامی اور ترقیاتی تبدیلیاں تجویز کی گئیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے مُشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیزکی سربراہی میں پانچ رُکنی کمیٹی بنائی جس میں سرتاج عزیز صاحب کے علاوہ لیفٹنت جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ، وزیر ماحولیات زاہد حامد، وزیراعظم کے مُشیر برائے قومی سلامتی لیفٹنت جنرل (ر) ناصر جنجوعہ اور گورنر خیبر پختون خوا سردار مہتاب خان عباسی شامل ہیں۔ اس پانچ رُکنی کمیٹی پر فاٹا کے عوام اور پارلیمانی اراکین کا بنیادی اعتراض یہی ہے کہ فاٹاکی تقدیر کا فیصلہ ایک ایسی کمیٹی کر رہی ہے جس میں فاٹا کا کوئی بھی نمائندہ شامل نہیں۔ وفاق کی جانب سے یہ رویہ فاٹا کے عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔

 

کیا فاٹا کو اس قدر وسائل دیئے جائیں گے کہ وہ الگ صوبہ بننے کے بعد فوری طور پر دفاتر، تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی تعمیر اور انتظام کا بوجھ اٹھا سکے؟
فاٹا کے19 پارلیمانی اراکین نے فاٹا کے وسیع تر مفاد کے لیے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے9 ستمبر 2015 کو قومی اسمبلی سیکریٹیریٹ میں ایک بل جمع کرایا جس میں اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کو خیبر پختون خوا میں ضم کیا جائے۔ اس بل پر فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن یا ایف سی آر کے مراعات یافتہ طبقے نے فاٹا میں خوب واویلا مچایا ہے۔ فاٹا کے حقوق کے حصول میں اس مزاحمت کی سربراہی سابق وزیر ماحولیات حمید اللہ جان آفریدی کر رہے ہیں۔ ان حضرات کا موقف یہ ہے کہ فاٹا کو خیبر پختون خوا میں ضم کرنا ہماری روایات کے خلاف ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ موصوف کون سی روایات کی بات کر رہے ہیں؟ بندوبستی علاقوں سے ممتاز قرار دینے کے اس نوآبادیاتی نظم کو کیوں کر قبائلی علاقوں کی روایت قرار دیا جا سکتا ہے؟ سابق وزیر ماحولیات حمید اللہ جان آفریدی کے خیال کے برعکس فاٹا اور خیبر پختون خوا کے رسم و رواج میں یکسانیت ہے اور قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا میں باآسانی ضم کیا جا سکتا ہے۔

 

برطانیہ نے محض چند مقامی قبائلی سرداروں کو اپنے نمائندے کے طور پر یہاں کے عوام پر مسلط کیا تھا تا کہ وہ افغانستان تک اپنی افواج کی محفوظ رسائی یقنی بنا سکے اور افغانستان کے راستے برطانیہ کی ہندوستانی نوآبادیات تک کسی قسم کی فوجی کارروائی کا امکان کم کر سکے۔ پاکستان بننے کے بعد اس حکمت عملی کو برقرار رکھا گیا اور بعدازاں افغان جہاد کے لیے اس علاقے کو مجاہدین کا مستقر بھی بنایا گیا جس کی وجہ سے یہاں کے مقامی لوگوں کو ایک تزویراتی اور عسکری بفرزون بنا کر باقی پاکستان سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اس انتظامی علیحدگی کے باعث اس علاقے کے لوگوں کو پاکستان بھر میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب بھی ملک میں کوئی تقریب ہوتی ہے تو فاٹا سے تعلق رکھنے والوں کے شناختی کارڈ دیکھ کر اُنہیں مشکوک قرار دے دیا جاتا ہے گویا وہ کسی اور ملک کے شہری یا غدار ہوں۔ فاٹا کے لوگوں کو ملازمت، روزگار، تعلیم، صحت اور سہولیات میں نظرانداز کیا جاتا ہے، اور انہیں صوبائی اسمبلی میں بھی نمائندگی نہیں دی جاتی۔ اس امتیازی سلوک کو فاٹا کے عوام کب تک برداشت کریں؟ پاکستان کے لیے اتنی قربانیاں دینے اور اذیتیں برداشت کرنے کے باوجود اُن کی حب الوطنی پر شک کیا جانا ناانصافی ہے۔ ایف سی آر جیسے ظالمانہ قوانین کے تسلسل کے حامی افراد کس بنیاد پر فاٹا کے عوام کو اس فرسودہ نظام کا غلام رکھنا چاہتے ہیں؟

 

وزیر اعظم کی قائم کردہ پانچ رُکنی کمیٹی فاٹا کے عوام کی رائے جاننے کے لیے فاٹا کے دورے کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں پہلا دورہ 31 دسمبر 2015 کو باجوڑ ایجنسی اور پھر دوسرا دورہ یکم جنوری 2016 کو مہمند ایجنسی کا کیا گیا۔ یہ کمیٹی عوام کے پاس تین تجاویز لے کر گئی تھی:

 

حکومت نے اگر اس مرتبہ سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے ایف سی آر قوانین کے خاتمے اور فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا فیصلہ نہ کیا تو پھر پاکستان نہ تو شدت پسندی کے خلاف جنگ جیت سکے گا اور نہ قبائلی علاقوں کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کر سکے گا۔
اول: فاٹا کو الگ صوبہ بنایا جائے۔
دوم: فاٹا کو صوبہ خیبر پختون خوا میں ضم کیا جائے۔
سوم: ایف سی آر میں ترامیم کی جائیں۔

 

ایف سی آر میں ترمیم کا انتخاب دینے پر صاحب الرائے عمائدین کی جانب سے اعتراض کیا جا رہا ہے۔ مقامی باشندے اور ان کے نمائندے بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ ایف سی آر ان کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں۔ یہ ایک کالا قانون ہے جسے بنیاد بنا کر یہاں کے مقامی باشندوں کو اب تک ان کے جائز قانونی اور آئینی حقوق اور حیثیت سے محروم کیا جاتا رہا ہے۔

 

معزز اراکین کمیٹی کیا یہ نہیں جانتے کہ ایف سی آر ملکی آئین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہے؟
الگ صوبے کے قیام کی تجویز پر بھی عوام کے تحفظات موجود ہیں۔ فاٹا کو الگ صوبہ بنانا بھی زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ فاٹا کی جغرافیائی ساخت ایسی ہے کہ اگر اسے الگ صوبہ بنایا جائے تو اس کے دارالحکومت کے لیے موزوں ایجنسی کا انتخاب بے حد مشکل ہے۔ کیا وزیرستان کا نمائندہ باجوڑ ایجنسی جا سکتا ہے اگر صوبائی دفاتر باجوڑ میں ہوں؟ یا خیبر اور کُرم ایجنسی کے باشندے وزیرستان جا سکتے ہیں اگر صوبائی دارالحکومت وزیرستان کو بنایا جائے؟

 

علیحدہ صوبے کے قیام کی صورت میں موزوں صوبائی دارالحکومت کا انتخاب مشکل ہو گا
علیحدہ صوبے کے قیام کی صورت میں موزوں صوبائی دارالحکومت کا انتخاب مشکل ہو گا
دوسرا بنیادی مسئلہ وسائل اور تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کا ہے۔ فاٹا میں اس وقت نہ تو کوئی یونیورسٹی ہے اور نہ ہی معیاری ہسپتال۔ ایک کروڑ افراد کی سرزمین فاٹا جس کی تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی کا 90 فیصد دارومدار خیبر پختون خوا پر ہے اس کے لیے فوری طور پر نیا تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کا نظام کھڑا کرنا کس طرح ممکن ہو گا؟ کیا فاٹا کو اس قدر وسائل دیئے جائیں گے کہ وہ الگ صوبہ بننے کے بعد فوری طور پر دفاتر، تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی تعمیر اور انتظام کا بوجھ اٹھا سکے؟

 

مقامی افراد کی رائے جاننے کے لیے فاٹا کا فیصلہ آزاد ریفرنڈم کی بنیاد پرکیا جائے نا کہ بند کمروں میں مخصوص افراد کی مشاورت سے، کیونکہ کوئی بھی غلط فیصلہ فاٹا اور پاکستان کو تباہی کے دہانے پر دھکیل سکتا ہے۔
وزیر اعظم کی قائم کردہ کمیٹی نے فاٹا کے عوام سے رائے لینے کے نام پر بند کمروں میں انہیں افراد سے ملاقاتیں کیں جو ایف سی آر قوانین سے نسل در نسل فیض یاب ہونے والوں میں سے ہیں۔ یہ حضرات فاٹا کے استحصال اور پسماندگی کے ذمہ دار ہیں۔ ایف سی آر کے حق میں ان چنیدہ افراد کے بیانات کے خلاف وہاں موجود دیگر افراد نے احتجاج بھی کیا ہے۔ اس ناانصافی پر فاٹا سیاسی اتحاد کے نمائندوں او ر ہال میں موجود تمام نوجوانوں نے احتجاجاً کھڑے ہو کر “گو ایف سی آر گو” کے نعرے بلند کیے۔ ان نعروں اور شدید عوامی ردِعمل پر کمیٹی ممبران اسٹیج پر کچھ دیر تو خاموش تماشائی بنے رہے لیکن پھر گورنر اور سرتاج عزیز صاحب کی دس منٹ کی “خاموش رہو، خاموش رہو” کی نصیحتیں رنگ لے آئیں اور لوگ پھر خاموش ہو گئے۔

 

حکومت نے اگر اس مرتبہ سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے ایف سی آر قوانین کے خاتمے اور فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا فیصلہ نہ کیا تو پھر پاکستان نہ تو شدت پسندی کے خلاف جنگ جیت سکے گا اور نہ قبائلی علاقوں کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کر سکے گا۔ حکومت نے اگر اب بھی ایف سی آر کے تحت ہی ان علاقوں کا نظم و نسق چلانے کی کوشش کی تو پھر “گو ایف سی آر گو” کا نعرہ ہر جگہ سنائی دے گا، وزیرستان سے خیبر، کُرم سے باجوڑ اور مہمند سے اورکزئی تک ہر جگہ کمیٹی کا استقبال انہی نعروں سے کیا جائے گا۔ اگر حکومت نے ایف سی آر میں ترامیم ہی کرنی ہیں اور کمیٹی نے انہی افراد سے رائے لینی ہے جو فاٹا کے عوام کی پسماندگی کے زمہ دار ہیں اور انہیں مساوی شہری تسلیم کرنے کی راہ میں روکاوٹ ہیں تو پھر اتنے درد سر کی ضرورت کیا تھی؟ اگر برطانوی استعمار کا لاگو کردہ کالا قانون ہی چند ترامیم کے ساتھ نافذ کرنا مقصود ہے تو پھر کمیٹی کے ہیلی کاپٹر، قیام و طعام اور مراعات پر خرچ کی بجائے بہتر تھا اسلام آباد کے کسی پر تعیش ہوٹل میں ایف سی آر کے پروردگان کے لیے ظہرانے کا اہتمام کیا جاتااورسب مل کر ایف سی آر کی درازی عمر اور صحت یابی کے لیے قران خوانی اور دعا کر کے فارغ ہو جاتے۔

 

یہی وقت ہے کہ فاٹا اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کے لیے قبائلی علاقوں کے عوام کی امنگوں کے ترجمان، حقیقت پسندانہ فیصلے کیے جائیں۔ مقامی افراد کی رائے جاننے کے لیے فاٹا کا فیصلہ آزاد ریفرنڈم کی بنیاد پرکیا جائے نا کہ بند کمروں میں مخصوص افراد کی مشاورت سے، کیونکہ کوئی بھی غلط فیصلہ فاٹا اور پاکستان کو تباہی کے دہانے پر دھکیل سکتا ہے۔