Categories
نقطۂ نظر

زبانیں بدلتے ہیں ہر آن خوباں

youth-yell

گزشتہ برس کراچی میں انجمن ترقی اردو کی جانب سے قائم کیے گئے ادارے اردو باغ کے افتتاح کے موقع پر صدر ممنون حسین نے ملک کے اسکالرز اور ادبی حلقوں پر زور دیا کہ وہ ٖاعلیٰ تعلیمی اداروں میں اردو کے بہ حیثیت ذریعہ تعلیم نفاذ کے لیے مثبت اور مؤثر کردار ادا کریں۔ اس حوالے سے انہوں نے مغربی اقوام کی سماجی، معاشی، سائنسی اور ثقافتی ترقی کی وجہ ان اقوام کا علاقائی زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنانا قرار دیا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی حکومتی عہدیدار نے ملک کے تعلیمی اداروں میں نصابی زبان کے حوالے سے مبہم اور حقائق کے بر عکس بیان جاری کیا ہو، ہر دور میں نصاب کے حوالہ سے حکمران طبقہ اور ریاستی ادارے تجربات کرتے آئے ہیں۔ یہ ایک شرمناک حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کو 70 برس گزرنے کو ہیں اور ہم آج تک اپنی تعلیمی ترجیحات کا حتمی تعین نہیں کر پائے۔

 

دیگر تعلیمی اصلاحات تو ایک طرف ریاستی ادارے آج تک یہی فیصلہ نہیں کر سکے کہ طلباء و طالبات کو کس زبان میں تعلیم دی جائے۔
دیگر تعلیمی اصلاحات تو ایک طرف ریاستی ادارے آج تک یہی فیصلہ نہیں کر سکے کہ طلباء و طالبات کو کس زبان میں تعلیم دی جائے۔ اس تمام صورت حال میں وفاقی ادارے اپنی پالیسی پر کام کر رہے ہیں جبکہ صوبائی ادارے اور حکومتیں اپنی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ شعبہ تعلیم میں اصلاحات کے حوالے سے ماضی میں کیے گئے متضاد اقدامات ایک طرف، اگر صرف موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات کو ہی دیکھا جائے تو حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ اس اولین درجے کے اہم قومی معاملہ میں صوبائی اور وفاقی حکومتیں کتنی سنجیدہ ہیں اور کس قدر رابطے میں ہیں۔ بلوچستان حکومت کے جاری کردہ پانچ سالہ تعلیمی پالیسی منصوبہ کے مطابق انگریزی کو اشرافیہ کی زبان قرار دیتے ہوئے پورے صوبے میں پرائمری سطح کی تعلیم کے لیے علاقائی زبانوں کواختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سطح کے طلباء و طالبات کو اختیار ہوگا کہ وہ اردو، انگریزی اور علاقائی زبانوں میں سے کوئی بھی زبان اختیار کر لیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے تعلیم سردار رضا کے مطابق بلوچی، براہوی، پشتواور سندھی زبان کو نصاب کا ذریعہ اور حصّہ بنانے کا مقصد علاقائی زبانوں کا فروغ ہے۔ سندھ حکومت نے سرکاری اسکولوں کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی اداروں پر بھی سندھی زبان کو نصاب کا حصّہ بنانے پر زور دیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

 

پنجاب میں پرویزالہی دور سے قبل تمام سرکاری اور بیشتر نجی تعلیمی اداروں میں سیکنڈری سطح تک اردو میں تعلیم دی جاتی تھی جبکہ ہائر سیکنڈری سطح پر انگریزی لازمی قرار دے دی گئی۔ جس کی وجہ سے طبعیات، کیمیا، حیاتیات اور ریاضی جیسے مضامین اردو میں پڑھ کر آنے والے طلباء و طالبات کے لیے یہی مضامین انگریزی میں پڑھنا انتہائی دشوار تھا جس کے سبب طلباء و طالبات کی قابل ذکر تعداد ہائر سیکنڈری سطح کے امتحنات پاس کرنے میں یا تو ناکام رہی یا اتنے نمبر حاصل نہیں کر پاتے تھے جو یونیورسٹی میں داخلہ کے لیے لازمی سمجھے جاتے ہیں۔ پرویزالہی دور میں پورے پنجاب میں ہر سطح پر ذریعہ تعلیم بجا طور پر انگریزی کو قرار دیا گیا جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے۔ جبکہ موجودہ حکومت نے پرائمری سطح کی تعلیم نہ صرف اردو میں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ علاقائی زبانوں کو بھی نصاب کا حصّہ بنانے کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت نے دیگر صوبائی حکومتوں کے برعکس صوبہ بھر میں ہر سطح کی تعلیم کے لیے انگریزی زبان کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

ملک میں بولی جانے والی قومی اور علاقائی زبانوں کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ پرائمری سطح سے لے کر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے نصاب کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔
جدید ترقی یافتہ دور میں تعلیم ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس کی بدولت کوئی بھی ملک اقوام عالم میں ایک مضبوط اور با عزت مقام حاصل کر سکتا ہے بدقسمتی سے بہ حیثیت ریاست شروع سے ہی ہماری تمام تر توجہ اپنے ملک کے نظام تعلیم و صحت کی بجائے غیر ضروری عالمی اور علاقائی تنازعات پر رہی ہے۔ خصوصاً 1970 اور 1980 کی دہائی میں جب سرد جنگ اپنے عروج پر تھی اس وقت کے حکمران ضیاء الحق نے سوویت یونین کے خلاف جہاد کا آغاز کیا اور ان مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے شعبہ تعلیم کو تختہ مشق بنایا گیا۔ نصاب میں تبدیلی کر کے ایک مخصوص سوچ اور نظریے کو پروان چڑھا کر ایک شدّت پسند گروہ کی سرپرستی کی گئی اور افغان پالیسی کے حوالے سے سیاسی فائدے حاصل کیے گئے جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ ملک کو ان حالات تک لانے میں اہم کردار اسی متنازع نصاب کا رہا ہے جسے تاحال تبدیل نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی مستقبل میں ایسی کوئی صورت دیکھائی دیتی ہے۔ اردو زبان اور دینی اقدار کے فروغ کے حوالے سے ارباب اختیار کے بعد اب اس ملک کی عدلیہ بھی تشویش میں مبتلا ہے اور اس ضمن میں اردو کے فروغ کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے اردو کو سرکاری زبان بنانے کے حوالے سے ایک تاریخی فیصلہ (جس کا بیشتر متن انگریزی زبان میں تھا) جاری کیا۔ اس فیصلے کا اردو حصّہ جس قسم کی اردو میں تحریر کیا گیا ہے اس سے بہتر یہی تھا کہ سب کچھ انگریزی میں ہی تحریر کر دیا جاتا۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ملک میں بسنے والے افراد خواہ وہ کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہوں شدید اور خطرناک حد تک شناخت کے بحران کا شکار ہیں۔ مزید مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ وفاقی حکومت کے جاری کردہ مراسلہ بتاریخ 6 جولائی 2015 میں جن اقدامات کی سفارشات دی گئی ہیں وہ ناقابل عمل ہیں اور اس مراسلہ میں جو الفاظ اردو میں شامل کیے گئے ہیں ان پر تو رونے کو جی چاہتا ہے۔ حکومت اور عدلیہ اپنے ہی جاری کردہ حکم نامے کے نفاذ میں اس قدر سنجیدہ ہیں کہ ایک برس گزر جانے کے باوجود بھی اپنے ماتحت محکموں میں اردو کے نفاذ میں ناکام رہے ہیں۔

 

کیا وجہ ہے کہ اسکول سے لے کر کالج اور یونیورسٹی تک ہمارا طالب علم کم از کم 14 برس تک اردو، مطالعہ پاکستان، اسلامیات اور انگریزی لازمی مضامین کے طور پر پڑھتا ہے لیکن اس کے باوجود اگر اس سے پاکستان کی نظریاتی اساس پر بات کی جائے تو اس کا جواب خاموشی ہے؟ اسے یہ نہیں معلوم کہ ابولکلام آزاد اور مولانا بھاشانی جیسے لوگ کون تھے اور تحریک آزادی سے متعلق کیا رائے رکھتے تھے؟ کیا یہ بات مضحکہ خیز نہیں ہے کہ 14 برس تک اسلامیات پڑھنے والے نوجوان سے جب مذہب پر بات کی جائے تو وہ جواب میں ذاکر نائیک اور طارق جمیل کے خطبات سننے کا مشورہ دیتا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ 14 برس تک اردو پڑھنے والے نوجوان قرة العین حیدر، مضطر خرد آبادی، سراج اورنگ آبادی اور سجاد حیدر یلدرم جیسے ناموں سے ناواقف معلوم ہوتے ہے؟ اس قدر طویل عرصه تک انگریزی پڑھنے والے نوجوان کے لیے انگریزی میں روانی سے بات کرنا ناممکن کیوں ہے؟ اس تمام صورت حال کا مطلب یہی ہے کہ ہم غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ ملک میں بولی جانے والی قومی اور علاقائی زبانوں کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ پرائمری سطح سے لے کر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے نصاب کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ تعلیمی اداروں میں اردو اور انگریزی کو بہ حیثیت مضمون نہیں بلکہ بہ حیثیت زبان پڑھائے جانے کی ضرورت ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے علیحدہ مضامین ہونے کے باوجود اردو اور انگریزی کی کتب میں تاریخ اسلام و پاکستان سے متعلق اسباق شامل کرنے میں کیا حکمت پوشیدہ ہے۔ اردو اور انگریزی کے نصاب میں مذکورہ زبانوں کا ادب شامل کیا جانا چاہئیے۔ اسی طرح تاریخ اور معاشرتی علوم کے نصاب میں عالمی تاریخ و ثقافت اور عالمگیر سیاسی و معاشرتی نظریات کو نصاب کا جصّہ بنانا ناگزیر ہے۔

 

پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک بر سرِاقتدار آنے والی قریباً ہر حکومت کو اردو کے فروغ اور دینی اقدار کے حوالے سے ہمیشہ ہی تشویش رہی ہے
اعلیٰ تعلیم کے لیے ذریعہ تعلیم اردو کرنے کا فیصلہ بھی انتہائی غیر دانشمندانہ ہے۔ اس قسم کے غیر سنجیدہ فیصلے کرنے والوں کو کیا یہ معلوم نہیں کہ پوسٹ گریجویٹ سطح کی تعلیم کے لیے ہمارا انحصار مغربی ممالک پر ہے، دنیا کی بہترین یونیورسٹیز، لیبارٹریز، تحقیقاتی ادارے یورپ اور امریکا میں موجود ہیں ایسے میں یہ کس طرح ممکن ہے کہ اردو میں گریجویشن کرنے والا طالب علم انگریزی میں دستیاب سائنسی علوم سے کس طرح استفادہ کر پائے گا یا مغربی جامعات میں کیوں کر تعلیم حاصل کر سکے گا؟ یقیناً اسے ان علوم کو انگریزی زبان میں سمجھنے کے مسائل کا سامنا رہے گا اس کے لیے مقابلے کی فضاء میں تحقیق کرنا ناممکن ہو گا۔ اگر نصاب کو اردو میں پڑھانا شروع کر بھی دیا جائے تو جدید سائنسی اصطلاحات اور فارمولوں کو اردو میں کیسے تبدیل کیا جائے گا؟ کیمیائی فارمولوں، ریاضیاتی فارمولوں، جیومیٹری کے اصول اور سائنس کے بنیادی قوانین کے اظہار کے لیے تو پھر بھی انگریزی کا ہی سہارا لینا پڑے گا۔ ادویات کے نام سے لے کر سائنسی تکنیک اور کمپیوٹر سافٹ وئیرز تک سبھی کچھ انگریزی میں ہے، ایسے میں کتنے شعبہ جات کو اردو زدہ کرنا ممکن ہو پا ئے گا؟ کیا ادویات اور میڈیکل آلات کو اردو نام دینا ممکن ہوسکے گا؟ یا ہماری اتنی قابلیت ہے کہ ہم انتہائی پیچیدہ کمپیوٹر سافٹ وئیرز اور پروگرامنگ لینگویجز کو اردو سے تبدیل کر سکتے ہیں؟ ابھی گریجویشن سطح کا نصاب انگریزی میں ہونے کے باوجود سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور پیشرفت میں ہمارا حصّہ صفر ہے ایسے میں اردو میں سائنس پڑھا کر نیوٹن، اور آئین اسٹائن جیسے دماغ پیدا کرنا دیوانے کا خواب ہے۔

 

پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک بر سرِاقتدار آنے والی قریباً ہر حکومت کو اردو کے فروغ اور دینی اقدار کے حوالے سے ہمیشہ ہی تشویش رہی ہے اور انگریزی زبان کا تعارف ہمیشہ غیروں کی زبان کے طور پر کروایا گیا ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت جو علاقے پاکستان میں شامل ہوئے ان میں سے کوئی ایک صوبہ، ضلع یا وفاقی اکائی ایسی نہ تھی جہاں اردو بولی جاتی ہو لیکن اس حقیقت کے باوجود جغرافیائی اور لسانی اعتبار سے اکیاون فیصد حصّے میں انگریزی زبان میں اردو اور صرف اردو کا نعرہ لگایا گیا اور یہ اقدام بعد ازاں علیحدگی کا پہلا زینہ ثابت ہوا۔ اس معاملہ میں جذبات کے بجائے ہمیں زمینی حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہو گا کہ باقی ماندہ پاکستان میں بھی جغرافیائی اعتبار سے کوئی وفاقی اکائی ایسی نہیں جہاں کی علاقائی زبان اردو ہو۔ اردو محض ایک رابطے کی زبان بن کر رہ گئی ہے اور اس کی وجہ انگریزی ذریعہ تعلیم نہیں بلکہ مختلف ادوار میں اردو ادیبوں پر لگائی جانے والی قدغن ہے۔ ماضی میں بلند قامت اردو ادیبوں کو دیوار سے لگا کر ریٹائرڈ بیوروکریٹس، خود ساختہ دانشوروں اور وظیفہ خوار مصنفین سے نام نہاد ادبی شہ پاروں کی اشاعت کروانے کا شغل ہمارا ہی فیصلہ تھا تو پھر اب اردو کے حوالے سے تشویش اور خدشات کیسے؟ یہ روش تاحال تبدیل نہیں ہوئی، تنخواہ دار لکھاریوں کو پروان چڑھانے اور ان کی سرپرستی کا کام اب بھی زور و شور سے جاری ہے۔ اردو کی ترویج کے لیے نصاب کو اردو زدہ کرنے سے کچھ فوائد حاصل نہ ہوں گے لیکن نقصانات کا امکان سو فیصد ہے۔ اردو کوبہ حیثیت زبان زندہ اور پائندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ادیبوں کو مصلحتوں اور ضابطوں سے آزاد کیا جائے۔ رابطے کی زبان وقت کے ساتھ ساتھ غیر شعوری طور پر ان گنت تبدیلیوں کا شکار ہوتی رہتی ہے اور یہ نا قابل اختیار اور مسلسل عمل ہے اس کو تباہی سے بچانے کا واحد راستہ اخبارات و جرائد اور دیگر ذرائع ابلاغ ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اردو اور علاقائی زبانوں کو فروغ دینے کے لیے ان زبانوں کے ادب کو فروغ دیا جائے اور آئندہ نسل کو جدید دنیا سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جدید تعلیم سے آراستہ کیا جائے، بصورت دیگر ہمیں قصّہ پارینہ بننے کے لیے تیار رہنا چاہئیے
Categories
نقطۂ نظر

اردو یا انگریزی؛ ضروری کیا ہے؟

youth-yell

یہ اس وقت کی بات ہے جب میں نویں جماعت میں تھا۔ اسکول کا پہلا دن تھا اور انگریزی کی استانی کلاس میں داخل ہوئیں اپنا تعارف انگریزی میں کرایا اور ہم پر بھی یہ پابندی عائد کر دی کہ سب اپنا تعارف کروائیں مگر انگریزی میں۔ ایک ایک کر کے سب اپنا تعارف کرواتے گئے اور میری باری آنے پر میں کھڑا ہوا اپنا نام بتایا اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں شروع ہو گیا جس پر پوری کلاس قہقہوں سے گونج اُٹھی، انگریزی زبان سے ناآشنائی پر مذاق اُڑایا جانے لگا۔

 

زبانوں کی تدریس جس مشینی انداز میں کی جاتی ہے اس کی وجہ سے انگریزی اور اُردو کے مضامین میں ادب جیسی دلچسپ اور رومان پرور شے بھی ہمارے لیے جوشاندے کا مرکب ثابت ہوئی
استانی صاحبہ نے بھی حوصلہ شکنی کی اور شرمندہ کیا۔ انہوں نے میرے سامنے انگریزی کا ایک جملہ رکھا اورکہا اس کا ترجمہ کرو مجھ سے وہ بھی نہ ہوا۔ مزید شرمندگی، ڈانٹ ڈپٹ اور تضحیک کا سامنا کرنا پڑا جس سے میرے جذبات کو مزید ٹھیس پہنچی اور اس دن سے میں خود سے ہی ایک جنگ لڑنے لگا۔ مگر آخر کیوں؟ اس زمانے میں اساتذہ کی جانب سے یہ دباو معمول کی بات تھی کہ انگریزی سیکھو گے تو ہی کامیاب ہو گے۔ بعض سکولوں میں تو انگریزی کے سوا کسی اور زبان میں بات کرنے پر جرمانے بھی عائد کیے جاتے تھے۔ ہم نے وہ زمانہ یہی سوچتے گزار دیا کہ کاش انگریزی کا مضمون نہ ہوتا صرف اُردو ہی پڑھنا پڑتی اور اردو میں بھی اگر اساتذہ کی کلاسیکی شاعری نہ پڑھائی جاتی تو خوب تھا۔ جن طلبہ کو عربی کی لازمی تدریس کا سامنا ہے ان سے ہمدردی تب دوچند ہو جاتی جب ہمیں انگریزی کے مختلف زمانے رٹانے کی کوشش کی جاتی یا گرامر کا گھوٹا لگوایا جاتا۔۔۔۔۔ زبانوں کی تدریس کا معاملہ جس قدر غیر دلچسپ تھا اس سے زبان تو نہ آئی لیکن انگریزی کا دبدبہ اور رعب ضرور دلوں میں بیٹھ گیا، جہاں کوئی صاحب انگریزی بولتے مل جاتے ہم سمجھتے کہ یہی صاحب علم اور یہی دانشور ہیں۔

 

زبانوں کی تدریس جس مشینی انداز میں کی جاتی ہے اس کی وجہ سے انگریزی اور اُردو کے مضامین میں ادب جیسی دلچسپ اور رومان پرور شے بھی ہمارے لیے جوشاندے کا مرکب ثابت ہوئی، پورے پرچے میں سب سے مشکل چیز اشعار کی تشریح معلوم ہوا کرتی تھی۔ اشعار کی تفہیم کے مقابلے میں شعراء کے نام یاد کرنے پر زیادہ زور دیا جاتا تھا جس کی کوئی توجیہہ سمجھ نہیں آتی۔ بدقسمتی سے تدریس کا یہ استادی چلب آج بھی برقرار ہے اور زبان و ادب کی تدریس کے باعث ہم جیسے آدھے تیتر half Quail پیدا ہو رہے ہیں۔

 

اعلیٰ تعلیم کے مدارج طے کرنے کے لیے بہرحال میں نے کوشش کر کے اپنی انگریزی کوکچھ بہتر تو بنا لیا مگراُردو آتے آتے بھی نہ آئی۔ ان دو زبانوں کا آپس میں توازن برقرار نہ رکھ پانا آج بھی میری بہت بڑی کمزوری ہے۔ میں اگر انگریزی میں اچھا نہیں ہوں تو اُردو میں بھی اظہار پر قادر نہیں ہوں۔ یہ مسئلہ اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ میرے سامنے تب آشکار ہوا جب چند روز پہلے یونیورسٹی میں “انگلش فار میڈیا” کی کلاس میں بیٹھا استاد صاحب کی گفتگو سُن رہا تھا۔

 

میرے نزدیک اردو کے زوال پذیر ہونے کا معاملہ ہمیں برصغیر میں انگریز دور میں لے جائے گا جب سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو انگریزی سیکھنے کی تلقین کی تھی۔
استاد محترم نے ایک سوال کیا کہ انگریزی سیکھنا کیوں ضروری ہے۔ میں نے دل میں سوچا میری تو اُردو بھی ٹھیک نہیں انگریزی کے بارے میں کیا خاک لکھ پاوں گا۔ خیر میں نے لکھنا شروع کیا اور چار سے پانچ وجوہ ٹھریر کیں جن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ انگریزی اس لیے زیادہ اہم ہوگئی ہے کیونکہ اُردو “ہماری” زبان ہونے کے باوجود زوال کا شکار ہے۔ میرے نزدیک اردو کے زوال پذیر ہونے کا معاملہ ہمیں برصغیر میں انگریز دور میں لے جائے گا جب سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو انگریزی سیکھنے کی تلقین کی تھی۔ اس کے پیچھے سرسید کے دو مقاصد تھے ایک تو انگریزوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور دوسرا سائنسی علوم کا انگریزی میں ہونا تھا جس کی سمجھ بوجھ کے لیے انگریزی سیکھنا ضروری تھا۔ تاہم سر سید احمد خان کی جانب سے صحافت اور تصنیف و تالیف کے معاملے میں اردو کو جدت سے روشناس کرانے سے اردو کو جو عوامی پذیرائی ملی وہ ابھی اپنی جگہ اہم ہے۔ لیکن کیا پاکستان اور ہندوستان میں اردو کے زوال کی ذمہ داری سرسید پر ڈالی جا سکتی ہے؟

 

یقیناً نہیں۔ اُردو کے زوال کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔ اس میں انگریزی کا کوئی قصور ہے اور نہ ہی “انگریز کے ایجنٹ کا”۔ ہم معاملہ فہم نہ تھے اور نہ اب ہیں۔ یہ ہماری سیاسی ترجیحات تھیں جن کی بناء پر ہم نے اردو اور مقامی زبانوں کو اپنانے سے گریز کیا۔ اگر انگریزی کو اُردو پر ترجیح دینا غلط طرز عمل ہے تو ہم یوں کر لیں کہ اب سے ان دونوں زبانوں کو برابر خیال کر کے صحیح طور سے سیکھنا شروع کریں۔ ہم انگریزی بھی بولیں مگر آپس میں اپنی زبان بولنے میں بھی فخر محسوس کریں۔ میرے ایک بہت ہی قریبی دوست چند ماہ قبل ترکی کے دورے پر گئے جہاں انہیں انگریزی نے بڑی مدد دی مگر ایک دن جب وہ استنبول کے ایک ریستوران میں اپنے گھروالوں کے ساتھ کھانا کھانے گئے تو وہاں ایک ویٹر مسلسل ان کی جانب متوجہ تھا ان کی باتیں غور سے سُن بھی رہا تھا۔ جب وہ بیرا بِل لے کر آیا تو اس نے میرے دوست سے پوچھا کہ آپ کہاں سے ہیں؟ اس نے کہاں پاکستان سے۔ وہ بیرا حیران ہوا اور پھر پوچھا تو کیا پھر آپ یو کے یا امریکہ میں پلے بڑھے ہیں؟ میرے دوست نے نفی میں جواب دیا اور کہا کہ ہم پاکستان میں ہی پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے ہیں۔ ویٹر اور حیرت میں مبتلا ہوا آخر کار بولا۔ تو آپ پاکستانی زبان کیوں نہیں بولتے؟ یہاں دنیا کے ہر کونے سے لوگ آتے ہیں ہم سے انگریزی میں بات کرتے ہیں مگر آپس میں وہ ہمیشہ اپنی زبان میں بات کرتے ہیں۔

 

اپنی زبان (زبانوں) سے متعلق احساس کمتری ہماری زبانوں سے متعلق سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ہمیں اُردو اور انگریزی دونوں کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے انہیں دو زبانوں کی طرح ہی دیکھنا ہو گا۔ ہمارے لیے دونوں زبانوں کے سیکھنے کی وجوہ موجود ہیں، انگریزی جسے ہم بدیسی زبان کہہ کر مسترد کرتے آئے ہیں اب دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے اور اردو پاکستان میں چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی ابلاغ عام اور رابطے کی زبان بن چکی ہی۔ ان حقائق کے پیش نظر انگریزی سیکھنا بھی کمال ہے مگر اُردو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

 

کسی بھی زبان کو حب الوطنی یا وطن دشمنی کے تحت سیکھنے یا نہ سیکھنے کی بجائے ذاتی دلچسپی، معاشی ضروریات اور عملی فوائد کے لیے سیکھنے کی کوشش کیجیے اس سے زبان کا بھی بھلا ہو گا اور آپ کا بھی۔
یاد رہے زبان کوئی بھی بُری نہیں ہوتی بلکہ یہ انسان کی اپنی سوچ اور ذہنی صلاحیت پر منحصر ہے۔ اگر آپ اُردو کے ساتھ انگریزی بھی سیکھتے ہیں تو یہ عمل بالکل بھی آپ کو مغرب پسند ثابت نہیں کرتا بلکہ عالمی علم و ادب کے دریچے آپ پر وا کرتا ہے۔ کسی ایک زبان سے نفرت کر کے آپ کسی دوسری زبان کو اس طرح سے اہمیت نہیں دلوا سکتے۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو آج ہم دو زبانوں میں لٹکی ہوئی قوم نہ ہوتے۔ زبان سیکھنا ایک مفید عمل ہے، ایک سے زائد زبانیں بولنے والے لوگ عام لوگوں سے زیادہ ذہین اور فعال ہوتے ہیں اور ان کا آئی کیو لیول بھی عام انسان سے بہتر ہوتا ہے۔ اصل مسئلہ ایک یا ایک سے زائد زبان سیکھنے کا نہیں بلکہ زبان کی ناقص، غیر تخلیقی اور غیر ضروری تدریس کا ہے۔

 

لہٰذاآج جہاں بھی ہم کھڑے ہیں ہمارے لیے یہ طے کرنا بہت ضروری ہے کہ ہمیں کیا سیکھنا ہے اور کیوں سیکھنا ہے۔ انگریزی اور اُردو کے دوراہے پر کھڑے حضرات مزید کنفیوژن کا شکار نہ ہوں بلکہ آج سے ہی سیکھنا شروع کریں۔ موجودہ تعلیمی انظام کو طلبہ کو معاشی اور عملی تقاضوں کے مطابق زبانوں کی تدریس کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ نظام تعلیم میں فوری بہتری کی امید تو خام خیالی ہے لیکن خود تدریسی کا راستہ بہر حال موجود ہے۔ کسی بھی زبان کو حب الوطنی یا وطن دشمنی کے تحت سیکھنے یا نہ سیکھنے کی بجائے ذاتی دلچسپی، معاشی ضروریات اور عملی فوائد کے لیے سیکھنے کی کوشش کیجیے اس سے زبان کا بھی بھلا ہو گا اور آپ کا بھی۔