Categories
نقطۂ نظر

بھولی بھالی گائے، فسادات اور ہندوانتہا پسند

بھارت میں بعض انتہا پسند ہندو جنہیں مسلمانوں سے اور خاص کر پاکستانی مسلمانوں سے خدا نام کا بیر ہے کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔خاص کر جب سے نریندرمودی صاحب کی حکومت آئی ہے ان کی انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں شدت آگئی ہے اور اب یہ حال ہے کہ یہ انتہا پسند ہندو کسی اور مذہب کے پیروکاروں کو خواہ وہ مسلمان ہوں ، عیسائی ہو ں یا سکھ ہو ں برداشت نہیں کر پا رہے۔ ہندوستان میں رفتہ رفتہ مذہبی اقلیتوں پر تشدد اور ان کی مقدس کتابوں اور عبادت گاہوں کی بے حرمتی معمول بنتی جارہی ہے۔ ان انتہا پسند ہندوتنظیموں کے لیے صرف غیر مذہب کے لوگ ہیں نہیں بلکہ ہم مذہب سیکولر اور روشن خیال افراد بھی ناقابل قبول ہیں۔ ان انتہاپسند تنظیموں میں سب سے زیادہ فعال بال ٹھاکرے کی تنظیم شیو سینا کا ہے جو کسی نہ کسی بہانے مذہبی اقلیتوں کو تشدد کا نشانہ بناتی رہتی ہے، کبھی رام مندر کی تعمیر کا شوشا چھوڑا جاتا ہے ،کبھی دانشوروں کے منہ پر کالک مل دی جاتی ہے اور کبھی پاکستانی فنکاروں کے پروگراموں اور فلموں کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے۔ شیوسینا کی سرگرمیوں پر بات کرنے سے پہلے شیوسینا کے بارے میں جاننا بھی بہت ضروری ہے ۔
بہت سے ہندووں نے بھی شیو سینا کی ان سرگرمیوں کو کھلم کھلا تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ہندوستانی دانشوروں اور ادیبوں کی جانب سے اس مذہب عدم برداشت کے خلاف احتجاجاً سرکاری اعزازات لوٹانے کی مہم بھی چل رہی ہے۔ شیوسینا کی ان کارروائیوں سے ہندوستان بدنام ہورہاہےاور ہندوستان کی اپنی تہذیب خطرے میں پڑ گئی ہے۔

 

شیو سینا کا تاریخی پس منظر کچھ یوں ہے کہ اس کی بنیاد بال ٹھاکرے نامی ایک کارٹونسٹ نے رکھی۔ اس نے لسانی اور مذہبی بنیاد پرایسے ہندو نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کیا جو بے روزگار تھے اور 1966 میں شیوسینا قائم کی جسے مراٹھی ہندو راجہ شیوا جی کے نام سے منسوب کیا گیا۔ شیواجی کو بعض مورخ مغل بادشاہوں کے خلاف جدوجہد کے علم بردار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ بال ٹھاکرے کے مطابق یہ تنظیم صرف مراٹھی ہندو نوجوانوں کو حقوق دلانے کے لیے قائم کی گئی یہی وجہ تھی کہ غیر مراٹھیوں کے خلاف اس تحریک نے کئی دفعہ تشدد کا رنگ اختیار کیا۔ شیوسینا میں بال ٹھاکرے کے علاوہ کوئی دوسرا رہنما نہیں تھا اور نہ ہی کبھی کسی نے جماعت کے اندر انتخاب کرانے کی بات کی کیونکہ اگر کبھی کسی نے ایسی بات کی بھی تواسے تنظیم سے نکال دیا گیا۔ شیو سینا کے مطابق ہندوستان کی تہذیب ہندو ہے اور ہندوستان میں رہنے والے ہر شخص کو اسے ماننا پڑے گا۔ 1992 میں جب تاریخی بابری مسجد کو انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے منہدم کیا گیا تو بال ٹھاکرے نے کہا کہ یہ عظیم کام شیو سینکوں نے انجام دیا جس پر مجھے فخر ہے وہ کئی دفعہ ہٹلر کو اپنا سیاسی پیشوا تسلیم کرچکا ہے۔

 

جیسے ہی نریندر مودی نے حلف اٹھایا فرقہ پرستی کی بنیادوں پر قائم ان تنظیموں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کردیا جن میں میں سب سے آگے شیوسینا ہے جسے مودی سرکار کی پشت پناہی حاصل ہے۔ بعض مقامات پر خنزیر مار کر مسجدوں میں پھینکنےکے علاوہ شیو سینا کے جنونیوں نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے گائے کے تقدس کو استعمال کیا ہے۔ ہندوستان میں ایک زمانے سے لوگ گائے کا گوشت استعمال کرتے آئے ہیں اور صرف مسلمان ہی نہیں ہندوستان میں بسنے والے دیگر مذاہب کے پیروکار بھی گائے کا گوشت استعمال کرتے ہیں مگر گائے کے گوشت پر زیادہ تر فسادات مسلمانوں کے خلاف ہوئے ہیں۔ یہ تو وہ بات ہوگئی کہ ” ہے ٹھاکر جی کا عجب فلسفہ جو سب کھائیں تو حلال ہے مسلمان کھائے تو حرام ہے۔” یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ شیوسینا نہ تو پورے ہندوستان اورنہ ہی تمام ہندووں کی نمائندہ تنظیم ہے۔ بہت سے ہندووں نے بھی شیو سینا کی ان سرگرمیوں کو کھلم کھلا تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ہندوستانی دانشوروں اور ادیبوں کی جانب سے اس مذہب عدم برداشت کے خلاف احتجاجاً سرکاری اعزازات لوٹانے کی مہم بھی چل رہی ہے۔ شیوسینا کی ان کارروائیوں سے ہندوستان بدنام ہورہاہےاور ہندوستان کی اپنی تہذیب خطرے میں پڑ گئی ہے۔
شیوسینا کی سرگرمیاں گو ابھی صرف غیرہندو بھارتیوں کے خلاف ہیں مگر بہت جلد ان کا دائرہ کار ہندوستان میں بسنے والے تمام افراد تک پھیل سکتا ہے۔ شیوسینا کی یہ سرگرمیاں مذہب کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی ایک کوشش ہیں۔

 

میں نے گائے کے گوشت کھانے یا گائے ذبح کرنے کے مسئلے پر بھارت میں تشدد کے واقعات جب پڑھے تو ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا کہ اگر اسی طرح بھارت میں تشدد جاری رہا تو عین ممکن ہے لوگ خوف سے گائے ذبح کرنا ہی چھوڑ دیں اگر ایسا ہوا تو پھر بھارتی گائیں کہاں جائیں گی؟ جب اس غرض سے انٹرنیٹ پر اپنے سوال کو ڈھونڈا تو جواب میں کئی حیران کن چیزیں سامنے آئیں اور ذہن میں کئی سوالات مزید پیدا ہوئے کہ کیا واقعی یہ جنونی شیوسینا کے پیروکار گائے کو مقدس جانور مان کر تشدد کو فروغ دے رہے ہیں یا اس کے پیچھے کچھ اور سیاسی یا تجارتی مقاصد ہیں۔ اب ذرا دیکھیں کہ بھارت میں اگر یہ مطالبہ شیوسینا کی طرف سے آرہا ہے کہ گائے ذبح کرنے پر سرکاری طور پر پابندی لگائی جائے اور اس کے گوشت کے فروخت پر تو غیر اعلانیہ پابندی ہے ہی لیکن افسوس یہ کہ اس پابندی کا شکار زیادہ ترمسلمان ہی ہیں باقی خود ہندوؤں کو گائے کا گوشت برآمد کرنے کی کھلی اجازت ہے۔ بھارت میں6 بڑی کمپنیاں ہیں جو گائے کا گوشت فراہم کرتی ہیں جن میں سے 4 ہندوؤں کی ملکیت ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان ہندوؤں نے گوشت فراہم کرنے کے لیے اپنی کمپنی کا نام مسلمانوں جیسا رکھا ہے ۔ آخر انہیں ایسا کیوں کرنا پڑا جبکہ ہندو تو گائے کو مقدس خیال کرتے ہیں؟ ان اداروں کی تفصیل درج ذیل ہے:
الکبیر ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ ، مالکان کا نام ہے مسٹر شتیش اور مسٹر آتل سبھروال ، ایڈریس ہے جولی میکر چیمبر ممبئی 40021
عربین ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ ، مالک کا نام ہے مسٹر سنیل کپور ، ایڈریس ہے رشین مینشن اورسیز ممبئی 400001
ایم.کے. آر .فروزن فوڈ ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ ، مالک کا نام ہے مسٹر مدن ابووٹ ، ایڈریس ہے ایم جی روڈ جن پتھ نیو دہلی 110001
پی .ایم .ایل انڈسٹری پرائیویٹ لمیٹڈ، مالک کا نام مسٹر اے ایس بندرا، ایڈریس ہے ایس سی او62۔63 سیکٹر 34۔اے چندریگڑ160022

 

اب جناب کوئی پوچھے شیوسینا سے کہ کیا تم میں سے کسی نے ان کمپنیوں کے مالکان کے منہ پر کالک ملی ان کے اوپر سیاہی پھینکی یا ان کو مارا پیٹا اگر نہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ شیوسینا کی سرگرمیاں گو ابھی صرف غیرہندو بھارتیوں کے خلاف ہیں مگر بہت جلد ان کا دائرہ کار ہندوستان میں بسنے والے تمام افراد تک پھیل سکتا ہے۔ شیوسینا کی یہ سرگرمیاں مذہب کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی ایک کوشش ہیں۔ یہاں غورطلب امر یہ ہے کہ اس پر مودی سرکار کیوں چپ سادھے ہوئے تماشہ دیکھ رہی ہے؟ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی شیوسینا اور انتہا پسند ہندو ووٹ بنک کھونے سے ڈرتی ہے؟ ہندوستان میں اتنی شدت سے عدم برداشت کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اگر بھارتی حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو بھارت کو بھی پاکستان ہی کی طرح مذہبی انتہا پسندی اور شدت پسندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی سطح پر ہندوستان کو بدنامی اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بہتر یہ ہے کہ ایسی تنظیموں کی پشت پناہی کرنے کی بجائے اس کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اور تمام مذاہب کو ماننے والوں کو آزادی کے ساتھ رہنے دیا جائے۔ کسی کے منہ پر کالک ملنا، پاکستانی کھلاڑیوں، فنکاروں اور ادیبوں کے خلاف مظاہرے کرنا، نامور ہستیوں کو محض مسلمان ہونے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنانا خود بھارت کے منہ پر کالک ملنے کے مترادف ہے ۔ ہمارے ملک میں بھی بہت سے ہندوستانی اداکار ، شعراء ، تاجر اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے بھارتی آتے ہیں لیکن ہمارے عوام کبھی ان سے اس قدرنفرت کا اظہار نہیں کرتے بلکہ ان کی مہمان نوازی کرتے ہیں ہندوستان کو بھی اپنی سابقہ روایات کو سامنے رکھتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان اور اپنے ملک کے عوام کے درمیان امن، رواداری اور برداشت کو فروغ دینا چاہیئے۔
Categories
نقطۂ نظر

لاشعور سے شعور تک

ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی جاہل کے زہر آلود نظریات ہی سے متاثر ہے۔ اس ملک کے تعیم یافتہ دماغ، ریاستی ادارے اور خود ریاست اپنے مفادات کے لیے مرضی کے انسان پیدا کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں شعور بھی درندگی کی کیفیت میں ہے
ہر طرف خاموشی تھی ۔چاروں طرف موم بتیوں کا بسیرا تھا ۔میزیں انواع و اقسام کے کھانوں سے سجی تھیں ۔کنیرڈ کالج کے بالکل سامنے نیرنگ آرٹ گیلری کے کیفےمیں خوبصورت دماغوں اور پریوں نے دلکش جھمگٹا لگایا ہوا تھا۔آرٹ گیلری دلکش تصاویر سے مزین تھی۔آرٹ گیلری کے چاروں کونوں میں دلکش رنگ برنگے برقی قمقمے مسکرا رہے تھے ۔یہ برقی قمقمےفنکاروں کے فن کو مزید دلکش اور خوبصورت بنا رہے تھے۔حسن اور خوبصورتی تھی کہ ہر طرح سے مجھے اور اسے ورغلا رہی تھی ۔حسین لڑکے اور لڑکیوں کا مدھم روشنی میں روح پرور رومانس اور ان کے بیچ و بیچ ادیبوں کا میلہ ۔۔۔۔واہ کیا رونق تھی ۔رومانوی جوڑوں کے بیچ دھری میزیں مغربی مشروبات سے آراستہ تھیں جبکہ ادیبوں کی میزوں پر چائےکافی چل رہی تھی۔ہلکی آواز میں موسیقی دلوں کو چھو رہی تھی ۔ایسے محسوس ہورہا تھا جیسے ہم واقعی کسی خیالی تخلیقی جنت کے خوبصورت حصے میں آچکے ہیں،کافرادائیں ،باغی خیالات اورقاتل چہرے ۔۔۔۔ پراسرار خاموشی میں دھیمے لہجے میں بولتے نوجوان لڑکے لڑکیاں اور ادیب ۔۔۔۔واہ کیا منظر تھا نیرنگ آرٹ گیلری کا ۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اور اسے کسی ایسی ہی جگہ کی ضرورت تھی ۔پتہ نہیں کیوں اور کیسے وہ مجھے اپنے ساتھ اس آرٹ گیلری میں لے گئی تھی۔تازگی اور دلکشی چیختی چلاتی نظر آرہی تھی ۔ہم دونوں موم بتیوں سے مزین ایک میز کے آمنے سامنے پڑی دو کرسیوں پر براجمان ہوگئے ۔وہ میرے سامنے بیٹھی خاموشی سے مسکراتی نظر آرہی تھی ۔موم بتیوں سے نکلتی روشنیوں میں اس کا چہرہ چمکتا نظر آرہا تھا اور میں اس کے قرب کے خمار میں ڈوبا ہوا تھا۔وہ جب بولتی تو میں اس کے سحر میں ڈوب جاتا وہ جب مسکراتی اور اس کے ہونٹوں کی سرخی اور دانتوں کی سفیدی میری آنکھوں سے ٹکڑاتی تو میری روح وجدان کی بلندی کو چھونے لگتی ۔اس کا مسکرا کر کھلکھلا اٹھنا مجھے بیقرار کر رہا تھالیکن یہ ایسی بیقراری تھی جو مجھے روحانی سکون دیتی نظر آرہی تھی ۔
ہمارے ادیب اور دانش ورصرف یہ بتارہے ہیں کہ کس طرح یہود و ہنود پاکستان، اسلام اور مسلم امہ کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ کس طرح امت کو کم زور کیا جارہا ہے۔اب اردو ادب میں ان نام نہاد ادیبوںکالم نویسوں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے جو یہ لکھ رہے کہ پاکستان اور اسلام کو دنیا سے کتنا بڑا خطرہ ہے
رومان زدہ اس ماحول میں محبت، امن، پیار اور عشق کا بسیرا تھا ۔میں ملامتی صوفی کے روپ میں شیطانی سرور کا مزہ لے رہا تھا ۔ہم دونوں کے سامنے لگی میزپر چار ادیب گفتگو میں مصروف تھے ۔میں اور وہ اس رومانوی ماحول کو فراموش کرکے ان دانشوروں کی دنیا کا حصہ بن گئے ۔ایسا کب،کیوں اور کس طرح ہوا ہم دونوں کو معلوم نہ ہوسکا؟ کہیں روشنی اور کہیں سوچتا اندھیرا ۔۔۔۔۔ہم دونوں خاموشی سے سوچنے والے انسانوں کی سوچ کے عشق میں مکمل طور پر مبتلا تھے۔ ان چار ادیبوں میں ایک خاتون ،ایک نوجوان اور دو بوڑھے تھے ۔نوجوان لمبے بالوں، پرانی طرز کی عینک اور سفید شلوار قمیض کے ساتھ منٹو دکھائی دینے پر تلا تھا ۔نوجوان کے رنگ ڈھنگ ہی نرالے تھے ۔وہ ان سب میں بلاوجہ نمایاں تھا۔
بوڑھا ادیب کہہ رہا تھا ،”حضور والا اس وطن میں پچاس فیصد روحیں تعلیم سے محروم ہیں جبکہ جو نام نہاد تعلیم یافتہ بھی ہیں وہ جہلاسے بڑھ کر ہیں۔انتہا پسندی اوردہشت گردی ان نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں کی وجہ سے پھل پھول رہی ہے ۔تعلیم یافتہ جاہل ان پڑھ جاہلوں سے زیادہ خطرناک ہو چکے ہیں ۔ان جاہلوں کے قلم سے نکلے الفاظ انسانوں کو بندوق اور نفرت کی طرف مائل کررہے ہیں ۔یہ ڈیجیٹل زمانہ بھی ہمارے معاشرتی ماحول اور اس کی فطرت کو تبدیل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ پاکستان اور دنیا میں کوئی ایسا دہشت گرد نہیں جو چٹاان پڑھ ہو ۔ہر دہشت گرد پر تعلیم کا اثر ہوتا ہے۔ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی جاہل کے زہر آلود نظریات ہی سے متاثر ہے۔اس ملک کے تعیم یافتہ دماغ ،ریاستی ادارے اور خود ریاست اپنے مفادات کے لیے مرضی کے انسان پیدا کررہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں شعور بھی درندگی کی کیفیت میں ہے ۔علمی بددیانتی کی وجہ سے دہشت گردوں اور انتہا پسند عناصر کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے”۔بوڑھا ادیب غصے میں تھا ۔اونچی آواز میں اس نے کہا ،”قرآن سے لے کر اقبال اور قائداعظم تک کے خیالات ونظریات کو ہر ایرا غیرا اپنی مرضی کے مطابق ڈھال رہا ہے ۔افراد، ادارے سب کے سب علمی بددیانتی میں ملوث ہیں “۔
ستر کی دہائی کے کتاب میلوں میں دس فیصد مذہبی لٹریچر ہوتا تھا اور نوے فیصد کتابیں علمی یا سیکولر نوعیت کی ہوتی تھیں اور اب نوے فیصد کتب مذہبی مواد پر مشتمل ہوتی ہیں
بوڑھے ادیب کے خاموش ہونے کی دیر تھی کہ سامنے والے دوسرے بوڑھے نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ۔” اس ملک میں اب روشن خیال اور ترقی پسند ادب کہاں چھپتا اور بکتا ہے؟؟ لیکن انتہا پسندانہ لٹریچر لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو رہا ہے ۔اردو زبان اب انتہاپسندوں کی زبان بن چکی ہے ۔انتہا پسندانہ اور فرقہ وارانہ مذہبی لٹریچر اردو زبان کی بدصورتی کا سبب ہے ۔صرف ایک چھوٹا سا منافق روشن خیال طبقہ ہے جو انگریزی میں سوچتا ،لکھتا اور پڑھتا ہے ۔
بہت دیر سے خاموش بیٹھی خاتون بھی بحث میں الجھ پڑی۔تین مردوں میں گھری خاتون ڈرتے ڈرتے بولی۔” ہمارے ادیب اور دانش ورصرف یہ بتارہے ہیں کہ کس طرح یہودوہنود پاکستان، اسلام اور مسلم امہ کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ کس طرح امت کو کم زور کیا جارہا ہے۔اب اردو ادب میں ان نام نہاد ادیبوںکالم نویسوں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے جو یہ لکھ رہے کہ پاکستان اور اسلام کو دنیا سے کتنا بڑا خطرہ ہے ۔پوری عمارت ہی اسی بنیاد پر تعمیر کی جارہی ہے۔انتظار حسین، فیض احمد فیض، مجید امجد ، ن- م- راشد، سبط حسن اور علی عباس جلالپوری توقصہ پارینہ بن چکے ۔نسیم حجازی سے متاثر نام نہاد تعلیم یافتہ ادیب ایسا ادب تخلیق کررہے ہیں جو عوام کی نرگسیت میں اضافہ کررہا ہے۔ ایسا ادب صرف اور صرف جہالت پھیلارہا ہے۔ادبی محفلوں کا رواج تقریبا ًناپید ہوتا جارہا ہے ۔ساحر لدھیانوی اور مخدوم کو اب کون کمبخت جانتا ہے ۔ترقی پسند ادب کی روایت دم توڑ گئی ہے ۔انیس اور دبیر کے مرثیوں سے ہماری نوجوان نسل کہاں واقف ہے ۔تجریدیت، اشتراکیت، لبرل ازم کی بجائےاب ادیب کا قبلہ ماضی ہے۔ایک زمانہ تھا جب اردو تحاریران موضوعات سے اٹی پڑی تھیں ۔انیس سو اناسی میں جب روس نے افغانستان پر قبضہ کیا اور اس کے بعد انکل سام کی افغانستان میں آمد ہوئی ۔پھر تو پاکستان میں تمام خیالات و نظریات اور بیانیے ہی امریکہ کی مرضی سے تخلیق کیے گئے۔اسی کی دہائی میں ہی تو ہمارے نصاب میں خ سے خنجر آیا، ب سے بندوق اور الف سے اللہ آیا۔ پاکستان کا نصاب بھی پھر امریکہ کی مرضی سے بنا۔امریکہ نے ایسے منافق لوگ بنائے جو کمیونزم کی ایسی تیسی پھیر سکیں ۔روس کو افغانستان سے بھگا سکیں۔ستر کی دہائی کے کتاب میلوں میں دس فیصد مذہبی لٹریچر ہوتا تھا اور نوے فیصد کتابیں علمی یا سیکولر نوعیت کی ہوتی تھیں اور اب نوے فیصد کتب مذہبی مواد پر مشتمل ہوتی ہیں۔اس دور کے میلوں میں فیض، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی اور ساحر لدھیانوی کے خیالات خوب بکتے تھے ۔لیکن اب تو سب خلط ملط ہوگیا”۔
منٹواور فیض کی زبان اب حافظ سعید، مولانا طارق جمیل اور اور یا مقبول جان کی زبان بن چکی ہے۔ بڑی چالاکی سےاس زبان کو یرغمال بنایا گیا ہے ۔۔۔روشن خیال تواب اس قدر منافق بن چکے ہیں کہ اردو کتاب پڑھنے کواپنی توہین سمجھتے ہیں
گفتگو کا سلسلہ جاری تھا ۔ وہ اور میں دانش وروں کے سحر میں گرفتار تھے ۔ ہم دونوں رومانس اور محبت کی چاشنی لینے آئے تھے لیکن یہاں تو اب معاملہ ہی مختلف تھا۔ رومانس کو بھول کر ہم اب سیاست، ادب اور تاریخ کے سحر میں قید ہو چکے تھے ۔
نوجوان ادیب جو بہت دیر سے بولنے کے لیے بیقرار تھا ۔اب اس کی باری تھی ۔”صاحب اردو زبان میں بہت جان ہے ۔ ترقی پسند ادب کا ایک نمائندہ حصہ اسی زبان میں ہے ۔مسئلہ یہ ہوا ہے کہ ترقی پسند ادیبوں اور روشن خیال دانشوروں نے اردو زبان میں لکھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ریاست اور ریاستی اداروں نے جہادی اور ان اردو اخبارات کی سرپرستی کی ہے جو مذہبی شدت پسندی پھیلا رہے ہیں ۔آج کے اردو اخبارت میں بھی نوے فیصد نسیم حجازی کے خیالات ملتے ہیں ۔۔۔۔اردو اخبارات میں آج بھی جناح کی گیارہ اگست کی تقریر کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جاتا ہے یا پھر اس تقریر کو سازش لکھا جاتا ہے ۔نیوز چینلز پر نفرت سےبھرپور تعصبانہ ذہن کا قبضہ ہے ۔ہر سکرین پر ڈاکٹر شاہد مسعود ، اوریا مقبول جان اور زید احمد جیسے نقلی دانشورنظر آتے ہیں جن کا مقصد ہمیں ہمارے خول میں بند رکھنا ہے۔جوخیالات اور نظریات پھیلادیئے گئے ہیں ان کی وجہ سے تشدد،دہشت گردی اور انتہا پسند میں اضافہ ہورہا ہے ۔منٹو اور فیض کی زبان اب حافظ سعید، مولانا طارق جمیل اور اوریا مقبول جان کی زبان بن چکی ہے۔بڑی چالاکی سے اس زبان کو یرغمال بنایا گیا ہے ۔۔۔روشن خیال تو اب اس قدر منافق بن چکے ہیں کہ اردو کتاب پڑھنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں ۔صاحب یہ روشن خیال تو اب یہ تک کہتے ہیں کہ ان کے بچوں کی اردو بڑی کمزور ہے ۔پاکستان میں نوجوان نسل کو پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی اور سرائیکی زبانوں میں ادب دینے کی ضروت ہے ۔ایک زمانہ تھا جب بائیں بازو کے دانشور ،ادیب اور کالم نویس ہماری ذہن سازی کررہے تھے۔دائیں بازو کے لکھاری خال خال ہی تھے ۔اب صورتحال مختلف ہے ۔اب بائیں بازو کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ سوچ رکھنے والے اور الگ سوچنے والے ادیب ،کالم نویس اوردانش ور نایاب ہو چکے ہیں۔”
گفتگو کا سلسلہ جاری تھا۔وہ گفتگو سنتے سنتے تھک چکی تھی۔رات کے دس بج چکے تھے ۔ہم دونوں نیرنگ آرٹ گیلری کی خوبصورت دنیا سے باہر نکلے ۔وہ رکشے پر بیٹھ کر گھر کو چلی گئی اور میں پیدل سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے چل نکلا۔