Categories
نقطۂ نظر

کوئٹہ حملہ، داعش اور پاکستانی طالبان

[blockquote style=”3″]

کنور خلدون شاہد کا یہ مضمون اس سے قبل دی ڈپلومیٹ پر بھی شائع ہو چکا ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے ترجمہ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

پیر کے روز کوئٹہ سول ہسپتال پر ہونے والے حملے میں ستر کے لگ بھگ ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ کوئٹہ پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کا دارالخلافہ ہے۔ بلوچستان ایک علیحدگی پسند تحریک، ایک فوجی آپریشن اور ایک فعال جہادی نیٹ ورک کی آماجگاہ ہے۔ مئی میں طالبان کا سابق امیر ملا اختر منصور بھی بلوچستان میں ہی ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوا تھا۔

 

جماعت الاحرار کی کارروائیوں کا جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیم پاکستان کے چاروں صوبوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا چکی ہے۔
دولت اسلامیہ (آئی ایس آئی ایس) اور جماعت الاحرار دونوں کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ اس حملے میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کے قتل پر احتجاج کے لیے مقامی ہسپتال میں جمع ہونے ولے مظاہرین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ آئی ایس آئی ایس اور کسی طالبان دھڑے نے کسی حملے کی بیک وقت ذمہ داری قبول کی ہو، گزشتہ برس مئی میں سانحہ صفورا کراچی میں اسماعیلی برادری پر حملے کی ذمہ داری بھی جنداللہ اور آئی ایس آئی ایس دونوں نے قبول کی تھی۔ اس حملے میں 43 اسماعیلی افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 

جماعت الاحرار اور آئی ایس آئی ایس کا تعلق نیا نہیں ہے۔ درحقیقت یہ مشرق وسطیٰ میں ابھرنے والی دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کا عروج ہی تھا جس نے طالبان کمانڈر عبدالولی المعروف عمر خالد خراسانی کو القاعدہ سے بیعت یافتہ پاکستانی طالبان سے علیحدگی اور اپنے نئے دھڑے کے قیام کی تحریک دی۔ تب سے اب تک دو برس میں جماعت الاحرار واہگہ بارڈر، یوحنا آباد، چارسدہ اور گلشن اقبال پارک پر حملوں سمیت پاکستان میں متعدد بڑے حملے کر چکی ہے۔

 

جماعت الاحرار کی کارروائیوں کا جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیم پاکستان کے چاروں صوبوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا چکی ہے۔ طالبان سے علیحدہ ہونے والے اس دھڑے نے پنجاب کے دارالخلافہ اور حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے گڑھ لاہور کو خاص طور پر نشانہ بنایا ہے۔ جنداللہ دیگر طالبان دھڑوں کی طرح آسان اہداف جیسے پارکوں، ہسپتالوں، پولیو مراکز اور سکولوں کو نشانہ بناتی ہے۔ دیگر طالبان دھڑوں کی طرح جماعت الاحرار کی کارروائیوں کا ہدف بھی عموماً مذہبی اقلیتوں یا پیشہ ور افراد جیسےچارسدہ اور کوئٹہ کے وکلاء سمیت ایسے طبقات ہیں جو دہشت گردی کی اس جنگ میں پہلے ہی عسکریت پسندوں کے نشانے پر ہیں۔

 

پاکستانی طالبان خصوصاً جماعت الاحرار عوامی مقامات جیسے آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں ، کیوں کہ ایسے حملے اس جنگ کے نفسیاتی محاذ پر زیادہ گہرے چرکے لگاتے ہیں۔
گزشتہ ماہ عمر خراسانی افغانستان کے علاقے ننگر ہار میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ عمر خراسانی 2014 میں آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی تھا، اس حملے نے عسکری اور سیاسی قیادت کو جہادی تنظیموں کے خلاف جنگ میں متحد کر دیا تھا۔ حملے کے بعد سیاسی اور عسکری قیادت نے انسدادِ دہشت گردی کا لائحہ عمل (نیشنل ایکشن پلان) مرتب کیا۔ عمر خراسانی کی ہلاکت کے بعد بھی جماعت الاحرار کااپنی کارروائیاں جاری رکھنا ان کی نیت اور اپنے بانی کی موثر حکمت عملی کا اظہار ہے۔

 

پاکستانی طالبان خصوصاً جماعت الاحرار عوامی مقامات جیسے آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں، کیوں کہ ایسے حملے اس جنگ کے نفسیاتی محاذ پر زیادہ گہرے چرکے لگاتے ہیں۔ ایک جانب جہاں ایسے حملوں کو کمزور پڑتے جہادی گروہوں کے مایوسی کے عالم میں کیے گئے حملے قرار دے کر ان کی شدت کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہیں اس حکمت عملی کی کامیابی ان حملوں کو ایک موثر جنگی حکمت عملی ثابت کرتی ہے۔ اور اس حکمت عملی کا تاحال پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے پاس کوئی توڑ نہیں۔

 

طالبان حملوں میں پچھلے سال کی نسبت اس برس اچانک تیزی آئی ہے۔ سال 2015 پچھلی ایک دہائی کا پرامن ترین سال تھا جس کے دوران شمال مغربی قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کی کامیابیوں کا ڈھنڈورا بڑے زوروشور سے پیٹا گیا۔ سکولوں، بچوں کے پارکوں، ہسپتالوں اور مختلف پیشوں سے وابستہ افراد پر حالیہ حملوں کے ذریعے طالبان قوم کے جذبے کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔

 

کوئٹہ، کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والے حملوں پر آئی ایس آئی ایس کا ٹھپہ مقامی طالبان دھڑوں کے لیے خود کو عالمی جہادی خطرے کا حصہ ثابت کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ خاص کر جب حکومت اور فوج دونوں طالبان کی کمر توڑنے کا دعوی کر رہے ہوں، مقامی جہادی تنظیموں کے لیے ان دعووں کو جھٹلانے کا اس سے بہتر طریقہ کیا ہو گا کہ دنیا کی بدنام ترین جہادی تنظیم پاکستان کی پیٹھ پر وار کرے؟

 

“اچھے اور برے طالبان” کی حکمت عملی ترک کرنے کے دعوے کے باوجود پاکستان کی جانب سے اپنا دوغلا طرزِعمل جاری رکھنا طالبان کے ہاتھ مزید مضبوط کر رہا ہے۔
اگرچہ جنوبی ایشیا میں آئی ایس آئی ایس اس بڑے پیمانے پر موجود نہیں کہ ایسی کارروائیاں کر سکے۔ (جماعت الاحرار جیسی تنظیموں سے) یہ جہادی گٹھ جوڑ جہاں ایک جانب داعش کو اپنی دسترس اور رسائی سے متعلق مبالغہ آمیز دعووں کا جواز فراہم کرتا ہے، وہیں یہ اشتراک طالبان دھڑوں کو (جو طالبان اور القاعدہ سے علیحدہ ہو چکے ہیں) دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کے حوصلے پست کرنے اور مزید بھرتیوں کے لیے تشہیر کے مواقع مہیا کرتا ہے۔ اس نفسیاتی جنگ میں جہادیوں نے اپنا لائحہ عمل اپنے دشمنوں کی نسبت کہیں بہتر انداز میں ترتیب دیا ہے۔

 

“اچھے اور برے طالبان” کی حکمت عملی ترک کرنے کے دعوے کے باوجود پاکستان کی جانب سے اپنا دوغلا طرزِعمل جاری رکھنا طالبان کے ہاتھ مزید مضبوط کر رہا ہے۔ مشرقی سرحد کے لیے تیار کردہ جہادیوں کو نہ صرف لائن آف کنٹروں کے دونوں جانب حریت پسندوں کے روپ میں کھل کر جلسے جلوسوں کی اجازت دے دی گئی ہے بلکہ ہماری قیادت دو مختلف جہادی تنظیموں کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کیے جانے کے باوجود ہندوستان پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

ایسے حملوں کے بعد پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں اور اداروں کی جانب سے “را کی کارستانیوں” کے مقابلے میں اپنی نااہلی کے اعتراف کو ترجیح دینا، ‘بھارت ازلی دشمن ہے، اسے منہ توڑ جواب دیں گے’ کی ریاستی گردان کی نفی معلوم ہوتا ہے۔ اس گمراہ کن حکمت عملی کا واحد مقصد جہادپسندی کی دوغلی پالیسی کے لیے جواز تراشنا ہے۔ طالبان کی جانب سے کھلم کھلا اجتماعی قومی مورال کو متزلزل کرنے کے باعث ریاست عوام کی توجہ بٹانے کے لیے ہندوستان پر الزام دھرتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے آ بیل مجھے مار کے نتائج کی حامل انسداد دہشت گردی کی یہ حکمت عملی طالبان کو تقویت پہنچانے کا باعث بن رہی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

کُتے اور ٹامی

گئے دنوں کاذکر ہے جب لوگ انسان اور کُتے کا فرق سمجھا کرتے تھےاُس وقت نہ تو انسان کُتے کی موت مرا کرتے تھے نہ ہی کُتے انسان کی۔ اُس زمانےکی ایک اچھی بات یہ بھی تھی کہ انسان کو انسان سمجھنا بُرا نہیں سمجھا جاتا تھا ہاں مگر کُتوں کُتوں میں فرق سمجھنے والے حضرات بالکل اُسی طرح تعداد میں بہت زیادہ تھے جیسے آج ہیں۔خیرچھوڑئیے پرانی باتیں،ویسےبھی تاریخ میں ہمارے لئےسبق کےسوا اوررکھابھی کیا ہے اورسبق سےہمارا کیالینادیناہمیں تو بس صرف قصے کہانیاں ہی اچھی لگتےہیں۔
ایک دفعہ کاذکر ہے ایک محلے میں دو کُتے رہا کرتے تھے، آپ تو جانتے ہیں کُتا تو کُتا ہی ہوتا ہے چاہے گلی کے نُکڑ پر رہے یا عالیشان بنگلے میں، اُس کی اپنی کچھ خصلتیں ہوتی ہیں۔ نسل چاہے جو بھی ہو سبھی کتوں میں کم و بیش ایک سی عادتیں پائی جاتی ہیں؛ جیسے کہ کاٹنے والے بھونکتے نہیں اور جو بھونکتے ہیں وہ کسی کی سنتے نہیں ہاں بس ہوتے دونوں ہی لاتوں کے بھوت ہیں۔ بہرحال کتوں اور انسانوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے، کُتے بیشک ہم انسانوں کی بری عادتوں کا اثر نہیں لیتے ہوں گےمگر ہم انسانوں نے اُن کی صحبت کا پورا پورا فائدە اُٹھایاہے۔ خیر آج ہم کُتوں، اُن کے فوائد، ضوابط اور قواعد کا کابُلی یا تقابُلی کوئی سا بھی جائزہ نہیں لیں گے۔
تو ذکر تھا ایک مُحلے کا جس میں دو کُتے رہا کرتے تھے جن میں سے ایک کا نام کُتا تھا اور دوسرے کا ٹامی۔ کُتا ہونے کے ناطے دونوں کا ایک دوسرے سے اینٹ کُتے کا بیر تو تھا ہی مگر مزے کی بات یہ تھی کہ دونوں ہی ایک دوسرے کو کُتا اور خود کو اینٹ سمجھتے تھے۔ جب کبھی بھی ٹامی اپنے مالک کے ہاتھ میں اپنی زنجیر تھما کہ محلے کے دورہ پر نکلا کرتا تھا تو کُتا گلی کے کونے والی میاں صاحب کی کی دکان کے تھڑے پر چڑھ کر یہ بات جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ ناصرف ٹامی کا مالک میاں صاحب سے زیادہ امیر، طاقتور ہر دلعزیز اور محلے کا ایک بااثر شخص ہے زور زور سے بھونکا کرتا تھا۔ بلکہ ٹامی خودبھی ایک بہتر، تربیت یافتہ، صاف ستھرا اورذہنی طور پرپختہ اور قدرے سمجھدار کُتا ہے ،جس کی صرف ایک بھونک سے ہی پورا محلہ تھر تھر کانپ اُٹھتا ہے۔ اور تو اور خود میاں صاحب کے آس پڑوس والے اور دوسرے محلوں کے ہم خیال بھی ٹامی کے بارے میں زبان پر کچھ بھی الٹاسیدھا لانے سے پہلے کئی کئی ملاقاتوں کا بندوبست فرمایا کرتے تھے۔
اِسرایئلی بربریت سے لیکرعراق اور شام میں آئی ایس آئی ایس کی بڑھتی ہوئی شدت پسند عسکری خلافت تک، طالبانی دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شہری ہوں یا معصوم ہزارہ شیعہ، بلوچستان سے لاپتہ افراد ہوں یا کراچی کے گُمنام سیاسی مقتول، متاثرین ضربِ عضب یا کشمیر سے ملنے والی مسخ شُدہ لاشیں، سب کا بس ایک ہی سوال ہے کہ ہمیں اِس حال کو پہنچانے والے کُتے ہیں یا ٹامی؟
خیر صاحب قصہ مختصر یہ کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں کُتے اور ٹامی کی رنجش میں اضافہ ہوتا گیا وہیں میاں صاحب کے لاڈلے آوارہ پالتو کتےکی عادتیں بھی بگڑتی گئیں۔ ٹامی کی دیکھا دیکھی کُتے نےبھی ناصرف میاں صاحب کی دکان کے تھڑے کے آس پاس سے گزرنے والے نوجوانوں،معصوم بچوں اور عورتوں پر بلاوجہ بھونکنا شروع کر دیا بلکہ محلے میں رہنے والے تقریباً ہر خاص و عام کو اپنی اس عادت سے عاجزکر دیا۔ کُتے کے اس وقت بے وقت بھونکنے سے سہمےمعصوم چہروں کی اُڑی ہوئی ہوائیوں پر اگر کبھی میاں جی کی نظر پڑ جایا کرتی تھی تو وہ دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کرتے تھے اور اپنے کُتے کی اِن حرکات پر اُنہیں جیسے پیار سا آجایا کرتا تھا کہ چلو کُتے کی بھونک ہی سہی اسی بہانے محلے میں اُن کی بڑ تو قائم ہے۔
دوسری طرف ٹامی بھی ترقی کی منزلیں طے کرنے میں پُرعزم محلے پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کا خواب اپنی منحوس آنکھوں میں سجائے خالی خولی بھونکنے اور دھمکانے سے بھی آگے کُچھ اور کر گزرنے کےلئے ہمہ وقت تیار رہتا تھا۔ قدرت کا کرنا دیکھئے ایک روز محلے کےچند بچے گلی کے نکڑ پر کرکٹ کھیل رہے تھے کہ اچانک اُن کی گیند سیدھی کھڑکی کے شیشے کو توڑتی میاں صاحب کے گھر میں جا پڑی، جس سے بقول میاں صاحب اُن کے آرام میں خلل پڑا جب بچے گیند مانگنے کے لئے میاں جی کے دروازے پر پہنچے تو کُتے کی بھَوں بھنکار شروع ہوگئی، اسی دوران جب میاں جی گیند ہاتھ میں لئے آگ بگولا دروازے پر پہنچے اور اپنے پیارے آوارہ کومعصوم نہتے بچوں پر بھونکتا دیکھا تو بجائے کُتے کو روکنے کے خود بھی بچوں پر چڑھ دوڑے۔
معصوم بچوں نے جب میاں جی کو چنگھاڑتےاور کُتے کو آپے سے باہر ہوتے پایا تو بھاگنے میں ہی عافیت جانی۔ بچوں کو بھاگتا دیکھ کر کُتے نے آو دیکھا نہ تاو اور چڑھ دوڑا اپنا ہی حق مانگنے والے معصوموں پر۔شکر ہے بچے اُس آوارہ کُتے کے جبڑوں کی پہنچ سے دُور نکل گئے،لیکن کچھ بچے بھاگتے بھاگتے لڑکھڑا کرگرے اورمعمولی زخمی ہوگئےخیرصاحب جان بچی سو لاکھوںپائے۔ اِس سارے واقعے پر سارا محلہ میاں جی اور اُن کے انوکھے لاڈلے، نیم آوارہ نیم پالتو کُتے کی شکایت لئے احتجاج کرنے ٹامی کے مالک کے دروازے پر جمع ہوگیا۔ ٹامی کا مالک چونکہ ایک بااثر اور قدرے امیر و طاقتور صاحب حیثیت آدمی تھا اُس نے فوری طور پر پنچایت لگا کے میاں جی کو پیش ہونے کا حُکم دیا۔ میاں جی ٹہلتے ہوئے ٹامی کےمالک کے گھر پر لگی پنچایت کے سامنے نمودار ہوے تو اُن کا دُم ہلاتا وفادار کتا بھی ٹہلتا ہوا آیا اور ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ ابھی گفتگو شروع ہی ہوئی تھی اور آوارہ کُتے پر بس فردِجُرم عائد ہی ہونے والی تھی کہ ٹامی بِنا زنجیر کے لان میں آگیا اورکُتے نے اپنے ازلی حریف ٹامی پربھونکنا شروع کر دیا۔ ماحول میں اچانک گرما گرمی دیکھ کر میاں جی نے کُتے اور ٹامی میں بیچ بچاو کی کوشش کی جس پر کُتا تو کُچھ خاموش سا ہو گیا مگر ٹامی تو ٹامی تھا ایک قدم آگے بڑھ کر میاں جی کی پنڈلی پر چک مار گیا ۔ اس کے دانت میاں جی کی شلوار کے پائینچے کو چھیدتے ہوئے اُن کی ٹانگ کی بوٹیاں تک چبا گئے۔ ہر طرف میاں جی کی آہ و بکا خوب سُنائی دے رہی تھی،اورتواور ٹامی کے مالک کے کُچھ حامی بھی لگے میاں جی کی حمایت کرنے۔ایک صاحب توجذبات میں یہاں تک کہہ گئے”حضور اپنےکتے کو لگام ڈالئے”جس پر ٹامی کا مالک چراغ پا ہو کے بولا “زبان سنبھال کے بات کرو یہ کُتا نہیں ٹامی ہے” اور یہی وە وقت تھا جہاں سے یہ مثل مشہور ہوئی کہ “تیرا کُتا، کُتا اور میرا کُتا، ٹامی”
تو صاحب آج کی دنیا بھی اُسی محلے کے موافق ہے جہاں مختلف آوارہ کُتے اپنے مالکوں کے اِشاروں پر انسانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جِن کی مثالیں ہمیں امریکہ سے لیکر عرب ممالک اور پاکستانی شہروں سے لے کر فلسطین اور غزہ تک ملتی ہیں۔ اِسرایئلی بربریت سے لیکرعراق اور شام میں آئی ایس آئی ایس کی بڑھتی ہوئی شدت پسند عسکری خلافت تک، طالبانی دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شہری ہوں یا معصوم ہزارہ شیعہ، بلوچستان سے لاپتہ افراد ہوں یا کراچی کے گُمنام سیاسی مقتول، متاثرین ضربِ عضب یا کشمیر سے ملنے والی مسخ شُدہ لاشیں، سب کا بس ایک ہی سوال ہے کہ”ہمیں اِس حال کو پہنچانے والے کُتے ہیں یا ٹامی؟”
مُجھے تو اِس سوال کا جواب معلوم نہیں آپ جانتے ہوں توناچیز کو ضرور آگاہ کیجئے گا۔