نثری نظم کا فن (اویس سجاد)

نوٹ: یہ مضمون راجوری (ہندوستان) سے شایع ہونے والے رسالے "تفہیم" کے تازہ شمارے (جون ۲۰۲١) میں بھی شامل ہے۔

شاعری کا تعلق تخیل، حسیات، جذبات اور کیفیات سے جڑا ہوا ہے۔ یہ ہمارے شعوری اور لاشعوری خیالات کو مہمیز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسے وحدت یا کلیت میں ڈھلنا پڑتا ہے۔ یہ عمل شاعری کی ہئیتی ضرورت کو مکمل کرتا ہے اور اس سے وہ آہنگ بھی جنم لیتا ہے جو سامع یا قاری پر اثر انداز ہو۔ نفیس اور پُراثر شاعری زمانی یا مکانی قیود کی پابند نہیں ہوتی بلکہ بڑا شاعر اسے آفاقیت کا درجہ دیتا ہے۔ رامائن، مہابھارت، اوڈیسی یا ایلیڈ جیسے شاہکار اگر آج بھی ہمیں لطف پہنچاتے ہیں تو ان باریکیوں کو تلاش کرنا چاہیے جس کی وجہ سے یہ فن پارے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

شاعر کو اختصاص حاصل ہے کہ وہ تخیل اور اسلوب سے نئے جذبات اختراع کرتا ہے۔ ایسا نہیں کہ شاعری جذبات و احساسات کے دائرے میں مقید رہتی ہے بلکہ وہ تو انسان کے باطن کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ اچھی شاعری انسان کو مایوسی کی طرف دھکیلنے کی بجائے ؛اس سے چند قدم آگے چلتی ہے۔ شاعری قاری کو ایسے راستے پر چلنے پر مجبور کرتی ہے جو بالکل نیا اور منفرد ہوتا ہے؛ یہ ایسا ساز ہے جس کے پردوں میں جذبات کے نغمے خوابیدہ ہوتے ہیں۔ (1)

شاعری کو مختلف اصناف میں منقسم کیا جا سکتا ہے۔ یہ تمام اصناف اپنے اپنے عہد کی پیدوار ہیں۔ نظم شاعری کا اہم سانچہ ہے۔ اس میں مختلف موضوعات کو ہیئتی اور تکنیکی تجربات کے ساتھ پرویا جا سکتا ہے۔ ہیئت اور مواد کی سطح پر نظم میں بے شمار تجربات ہوئے۔ مواد کا تعلق چونکہ ہیئت اور تکنیک سے ہے ، اس لیے نظم کے فنی معیارات طے کرنا مشکل عمل ہے۔ پابند نظم سے نثری نظم تک کا سفر اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نظم میں لامختتم امکانات پوشیدہ ہیں۔ نظم میں انسان کی نفسیاتی الجھنوں اور تمام معاملات زندگی کی بہترین عکاسی ہوتی ہے۔ نظم کسی بھی فرد کے انفرادی جذبات کو آشکار کرتی ہے اور انسان خود کو نئے سرے سے تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ عمل شاعری کی دیگر اصناف کے مقابلے میں زیادہ ٹھوس، جامع اور وسعت یافتہ ہے(2)

بعض اوقات نئے عمل کو منکشف کرنے کے لیے نظم میں ایسے اساطیری یا تاریخی حوالے آ جاتے ہیں جو قاری سے گہرے شعور کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ راشد اور میرا جی کی نظموں کو سمجھنے کے لیے قدیم اساطیر کی جانب مراجعت کرنا پڑتی ہے۔ سپاٹ اور کیفیت سے خالی بیانیہ نظم کا لطف زائل کر سکتا ہے۔ نظم میں استعاروں اور علامتوں کے ذریعے جو تخلیقی فضا قائم ہوتی ہے وہ قاری کو سوچنے پر مجبور کر تی ہے۔ ہر نظم اپنے ساتھ خارجی تکنیک ضرور لے کر آتی ہے جو مواد (داخلی تکنیک) سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ اس متعلق ناصر عباس نیئر نے اپنی کتاب ’’نظم کیسے پڑھیں؟‘‘ میں سیر حاصل بحث کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ شاعر کے لیے ہیئت کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ وہ اس بات سے آگاہ ہوتا ہے کہ کون سی ہیئت اس کے مواد کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں شاعر ’کیا‘ کے بارے میں لاعلم ہو سکتا ہے مگر ’کیسے‘ کے سلسلے میں نہیں۔ (3)

نثری نظم میں یہ معاملہ مختلف ہے۔ یہاں تو تخلیق کار اسی وجہ سے نثری نظم کا انتخاب کرتا ہے، کیونکہ اس کے لیے نظم کی باقی ہیئتیں رکاوٹ بنتی محسوس ہوتی ہیں۔ نثری نظم خلق کرنے والے کے سامنے ہیئت کی بجائے مواد (اظہار) اہم ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ اس ہیئت کا انتخاب کرتا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ مواد اور ہیئت کی اہمیت اپنی اپنی جگہ پر قائم ہے۔

نظم کی روایت پر ایک مختصر سی نگاہ دوڑائیں تو پابند نظم قصیدہ، مثنوی یا رباعی کا ارتقاء معلوم ہوتی ہے۔ نظیر اکبر آبادی نے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جو عام آدمی کی محرومیوں اور خواہشوں کو سامنے لاتے ہیں۔ نظم نے ہر عہد میں انسان کی نئی قدروں کو منکشف کرنے پر زور دیا ہے۔ اسی لیے ان کی نظموں میں وہ تمام اقدار دکھائی دیتی ہیں جن کو بعد میں ترقی پسند ادیبوں نے موضوع بنایا۔ نظیر کی نظمیں زندگی کے مختلف رنگوں سے ہم آہنگ ہیں۔ ’’الٰہی نامہ، بنجارہ نامہ‘‘ اور ’’برسات کی بہاریں‘‘ چند ایسی نظمیں ہیں، جو عام آدمی کے خدشات کو ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے سماجی روّیوں، مذہبی اعتقادات کو نظموں میں خوبصورتی سے پرویا۔ ان کی نظموں میں ایک خاص رنگ دکھائی دیتا ہے جو لوک گیتوں کے قریب تر ہے۔

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد جب سماج کے روایتی بیانیے ٹوٹے تو اس کے ساتھ منطقی روّیوں نے جنم لیا۔ لوگوں نے استدلالی انداز میں سوچنا شروع کیا۔ یہ وہی دور تھا جب ہندوستانی سماج نئے حالات اور مغربی اثرات سے متاثر ہو رہا تھا۔ جدید نظم کا آغاز ہوا تو اس میں ہیئت اور تکنیک کے تجربات بھی ہوئے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد جدید نظم نگاری نے اپنی جڑوں کو مضبوط کیا ۔ سماجی، سیاسی اور تہذیبی تغیرات کی وجہ سے سر سید، آزاد اور حالی نے اصلاحی کوششیں کیں۔ جدید نظم کو پروان چڑھانے میں ان تینوں کا حصہ شامل تھا۔ ۱۸۸۷ء کے پاس حالی کے ایک شاگرد پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی نے تجربہ کیا جو انگریزی شاعری کی مخصوص ہیئت ’’اسٹنزا‘‘ فارم کے قریب تر تھا۔ آزاد اور حالی نے جدید نظم کا جو تصور پیش کیا تھا، اس نے نہ صرف انیسویں صدی کے شعراء کو متاثر کیا بلکہ اس کے اثرات بیسویں صدی کے شعراء بھی پر بھی مرتب ہوئے۔ یہاں سے نظم نگاروں کی ایک نئی پود نے جنم لیا جن کے موضوعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نظم وہ صنف ہے جس نے خود کوبدلتے سماج کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پابند، معریٰ اور آزاد نظم کے بعد نثری نظم کیوں وجود میں آئی؟ ایسا کیا ہوا کہ پابند اور معریٰ نظم طاقِ نسیاں کی نذر ہو گئیں، حالانکہ ہیئتی اعتبار سے پابند اور معریٰ نظم یہ صلاحیت رکھتی تھی کہ اسے شعری روایت میں بلند درجے پر فائز کیا جائے۔ لیکن ہمارے سامنے جدید زندگی نے جو صورتحال پیدا کی اس کا بوجھ تو پابند نظم بھی نہیں سہار سکتی تھی۔ نظیر اکبر آبادی کی روایت کو حبیب جالب، ساقی فاروقی اور فیض احمد فیض وغیرہ نے زندہ رکھنے کی سعی کی مگر یہ ہیئت پنپ نہ سکی۔ انہوں نے لسانی تجربات بھی کیے مگر زیادہ سفر نہ کر سکے۔ جدید نظم کی جو بنیاد آزاد اور حالی نے رکھی تھی وہ شرر، طباطبائی اور اقبال سے ہوتی ہوئی مجید امجد تک ٹھہری۔ جدید نظم میں شعراء کی بڑی تعداد تجربات کر رہی تھی۔ ۱۹۶۰ء کے قریب ’’لسانی تشکیلات‘‘ کی تحریک نے اردو ادب کے دروازے پر دستک دی جو جدیدیت کی پیداوار تھی۔ اس تحریک میں افتخار جالب اور شمس الرحمن فاروقی نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ ’شعریت‘ کو موضوع یا تجربہ کی بنیاد پر نہیں ماپا جا سکتا بلکہ ’فارم‘ کے ذریعے جو لفظوں کی عمارت وجود میں آتی ہے وہی شاعری ہے۔ یہ عمل لاشعوری نہیں ہوتا بلکہ شاعر ارادی طور پر تمام فیصلے کرتا ہے۔

اسی دوران ’’نثری نظم‘‘ کا وجود بھی عمل میں آیا۔ اس نے ہیئت وزن اور بحر کے تمام معاملات کو ازکارِ رفتہ قرار دیا۔ نثری نظم لکھنے والوں کا ماننا تھا کہ آہنگ ہی وہ بنیادی شرط ہے جس سے ’’شعریت‘‘ کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ اردو ادب کے لیے نیا مگر مغرب کے لیے پرانا تجربہ تھا۔ اردو میں آزاد نظم کی طرح نثری نظم لکھنے والوں نے کوئی تحریک نہیں چلائی۔ بلکہ کئی تخلیق کاروں نے اس تجربے کو کشادہ دل کے ساتھ تسلیم کیا۔ فرانسیسی شاعر ’’بودلیئر‘‘ نے سب سے پہلے نثری نظم کی اصطلاح استعمال کی۔ بودلیئر سے کئی ہم عصر شاعر بھی متاثر ہوئے جن میں راں بو، ملارمے وغیرہ شامل ہیں۔

جب اردو میں نثری نظم لکھنے کا چلن عام ہوا تو جہاں اس ہیئت کا خیر مقدم کیا گیا وہیں مخالف روّیے بھی سامنے آئے۔ ان کے بقول یہ صنف چونکہ مروجہ اصنافِ شاعری کی طرح موزوں نہیں ہے، اس لیے یہ تجربہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ حالانکہ ناقدین اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ مغرب میں بڑے پیمانے پر اس صنف میں طبع آزمائی کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے ’’اوراق‘‘ میں اسے صنفِ شعر تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے اس صنف /ہیئت کو ’’اوراق‘‘ میں جگہ دی بھی تو اپنے پسندیدہ ناموں کے ساتھ، اسے نثم، نثرِ لطیف جیسے نام دینے کی کوشش کی مگر یہ جدو جہد کار آمد نہ ہو سکی۔ ان کا موقف تھا کہ شاعری تو خارجی اور عروضی آہنگ سے مملو ہے۔ چونکہ نثری نظم عروضی پیرائے پر پورا نہیں اترتی لہٰذا اسے شاعری کے دائرے سے خارج کرنے پر کوئی افسوس نہیں ہونا چاہیے۔

ذوالفقار تابش نے بھی نثری نظم کو رد کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ نثر اور نظم دو مختلف اصناف ہیں۔ ان کا یکجا کرنا کسی نئے بیانیے کو جنم دینے کے مترادف ہے۔ نثری نظم کے نام پر جو کچھ تخلیق کیا جا رہا ہے وہ نظم سے زیادہ نثر کے قریب ہے۔ انہوں نے نثری نظم کو سہل نگاری کی گھٹیا مثال قرار دیا۔

فیض احمد فیض کا بھی یہی خیال تھا کہ نثری شاعری بحور اور اوزان کے پیمانے پر پورا نہیں اترتی، اسے شاعری قرار دینا کسی گناہ سے کم نہیں ۔ ان ناقدین کے مقابلے میں وہ لوگ بھی سامنے آئے جنہوں نے نثری نظم کو عصرِ حاضر کے لیے ضروری صنف قرار دیا۔ احمد اعجاز نے تو یہاں تک کہا کہ نئی اور جدید شاعری کے امکانات اسی ہیئت یا صنف میں پوشیدہ ہیں۔ اس کے علاوہ شہر یار، قمر جمیل، انیس ناگی، مبارک احمد، مخدوم منور، فہیم جوزی اور سعادت سعید وغیرہ وہ نام ہیں جنہوں نے نثری نظم کی بھرپور حمایت کی۔ اس تمام پس منظر کے بعد اب ان فنی پیمانوں کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں جو نثری نظم میں موجود ہو سکتے ہیں یا اس کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ صنف آج بھی رد و قبول کے مرحلے سے گزر رہی ہے، اس لیے فنی معیارات طے کرنا یا کچھ لکھنا قبل از وقت ہو گا۔ اس سب کے باوجود نثری نظم کے نام پر جو کچھ لکھا جا رہا ہے وہ اسے مضبوط بنانے کی بجائے شک و شبہات میں مبتلا کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں چند پیمانے وضع ہونے چاہییں جو اس صنف کے ارتقاء میں معاون ثابت ہو سکیں۔ اس ضمن میں نثری نظم کے ان شاعروں کا بھی ذکر کیا جائے گا جن کی نظمیں فنی معیارات طے کرتی ہوئی ماڈل (نمونہ) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن اس سے پہلے ان عناصر کا جائزہ لیتے ہیں جو نثری نظم میں شعریت پیدا کر سکتے ہیں۔

تخلیق میں شعریت اسی وقت پیدا ہو سکتی ہے جب فکر و احساس میں لطافت اور بیان کرنے کے انداز میں کوئی انوکھا پن ہو۔ اس حوالے سے ہیئت یا مواد کی جمالیاتی فضا بھی موثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اسے تخلیقی فکر یا جذبے کی ہم آہنگی کے بغیر پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں عناصر مل کر پُراثر فضا کو تشکیل دیتے ہیں جس کا تعلق ہماری حسیات یاتجربے سے ہے۔ جدید نظم کی لفظیات، استعارے اور تشبیہات شعریت کو جنم دیتے ہیں۔ جبکہ نثری نظم میں تمثیلی، تجریدی اور امیجری مناظر شعریت پیدا کرنے کے لیے موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ موضوع اور ہیئت میں ہم آمیزی مخصوص شعریت کو ابھارتی ہے۔ جب کوئی لفظ کسی مخصوص استعارے کا لباس پہنتا ہے تو اس میں موسیقی کی فضا پیدا ہوتی ہے جو دراصل شعریت ہی ہے۔ استعاروں کے ذریعے نئی دنیا خلق کی جا سکتی ہے۔ اساطیری کرداروں کی بازیافت ہوسکتی ہے۔ بہرحال شعریت پیدا کرنے کے لیے بنیادی اہمیت استعارے کو دی جا سکتی ہے اور اسی کے ذریعے نئے خیالات وجود میں آتے ہیں۔ نثری نظم میں چونکہ ’’لفظ‘‘ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، اس لیے لفظ کو نظر انداز کر کے ہم معنی کی جانب جست نہیں بھر سکتے۔ نثری نظم میں لفظ کے ذریعے جو شعریت جنم لیتی ہے وہ قاری کو اپنے حصار میں لے سکتی ہے۔

نثری نظم مروجہ نظام سے انحراف کرتی ہے۔ اس کی سطروں میں داخلی آہنگ پایا جاتا ہے جو پڑھنے والے یعنی خارجی آہنگ سے متشکل ہوتا ہے۔ نثری نظم امیجز (Images) پر اپنی بنیاد استوار کرتی ہے۔ اس میں واقعیت کی بجائے تجریدیت کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ لیکن آج کی نثری نظم بیانیہ اسلوب بھی اختیار کرتی نظر آتی ہے اور اس کی مختلف شکلیں ظہور پذیر ہو چکی ہیں۔ نثری نظم کا تعلق چونکہ ہمارے لاشعور سے ہے اس لیے مختلف شہروں میں جو نظمیں لکھی گئیں وہ مختلف فنی معیارات طے کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ جب کراچی کے حالات کشیدہ ہوئے، ٹارگٹ کلنگ ہونے لگی، تشدد کی فضا چھانے لگی اور بوری بند لاشوں کا ملنا معمول بن گیا تو اس صورت میں نثری نظم بیانیہ اسلوب، براہ راست یا واقعیت کے قریب نظر آئی۔ افضال احمد سید، ثروت حسین، ذی شان ساحل، سعید الدین، تنویر انجم اور کاشف رضا کی نظموں میں ایسی فضا محسوس کی جا سکتی ہے۔

افضال احمد کی نظم سے چند سطریں دیکھئے جو ’’مٹی کی کان‘‘ میں شامل ہے:
’’میرا پسندیدہ کھلونا
چوہے دان رہا ہو گا
میری دوپہریں وباؤں کی بستیوں میں آہ و بکا سننے میں گزری ہوں گی
شام کو جب منحوس پرندے شور مچانے لگتے
میں گھر آ جاتا
اور اپنے پاؤں سے زمین کریدنے لگتا
کوئی خزانہ ہمارے گھر کے نیچے دفن ہے
مگر میرا باپ مجھے لہو لہان کر دیتا ہے‘‘ (4)

ان سطروں میں کوئی تجریدیت یا بھاری بھر کم لفظ نہیں ملتا بلکہ یہ کسی واقعے کی جانب اشارہ ہے۔ لاشوں کی بات ہے، قید کا ذکر ہے اور آہ و بکا سننے کے عمل کو بیان کیا گیا ہے۔ جب انسان سماج کے مکروہ چہرے سے خوفناک ہو جاتا ہے تو وہ نیا جہان بسانا چاہتا ہے۔ یہ موت کی خواہش بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی قبر تیار کر رہا ہے۔

کاشف رضا کی شاعری کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی نظموں میں لاپتہ افراد کا دکھ اور قتل کیے جانے والے معصوم لوگوں کی ہُوک سنائی دیتی ہے۔ اگر ان کی نظموں کے عنوان بھی دیکھے جائیں تو وہ بھی کسی مجموعی واقعے کو ہی جنم دے رہے ہیں۔ ’’ممنوعہ موسموں کی کتاب‘‘ سے ایک نظم ’’کراچی ڈیتھ سروس‘‘ کی چند سطریں دیکھئے:
’’ زندگی سے موت تک
اک کڑی مسافت ہے
ہم اسے سہولت سے طے کراتے ہیں
اور آپ سے تیس روپے فی گولی
قیمت بھی نہیں لیتے

آپ کے لیے ہم
پٹ سن کی گانٹھوں سے
کفن تیار کرتے ہیں
جس کی خوشبو نیند آور ہوتی ہے

ہمارے رضا کار
آپ کی لاش اٹھاتے ہیں
اور ہماری ایمبولینس
آپ کے لیے ٹریفک کو چیرتی ہوئی نکلتی ہے‘‘ (5)

ان سطروں میں وہ دکھ واضح ہے جو پچھلی کئی دہائیوں سے کراچی کے عام لوگوں میں سرایت کر چکا ہے۔ ان کے کان صبح و شام کا فاصلہ اذانوں کی بجائے گولیوں کی آواز سے ماپتے ہیں۔ ’’کراچی ڈیتھ سروس‘‘ دراصل کسی ایک فرد یا سماج کے لیے کہی جانے والی نظم نہیں ہے، بلکہ اس میں مجموعی فضا کا ذکر ہے۔

اسلام آباد کے منفرد اور نفیس شاعر نصیر احمد ناصر کی نظمیں فطرت (نیچر) کے زیادہ قریب ہیں۔ وہاں کے موسموں کا ذکر ملتا ہے اور خوبصورتی کی عکاسی ہوتی ہے۔ ان کی نظم ’’میں پرندوں کی طرح طلوع ہونا چاہتا ہوں‘‘ ملاحظہ ہو:
’’ میں جانتا ہوں
میرا سفر ختم ہونے والاہے
نیند آنکھوں میں پڑاؤڈال چکی ہے
اور اندھیرے کی ساکن آواز
کہیں بہت قریب سے سنائی دے رہی ہے
لیکن میں سونا نہیں چاہتا
نظم، کچھ دیر اور میرے ساتھ رہو
مجھ سے باتیں کرو
مجھے تنہا مت چھوڑو
میں اس رات کی صبح دیکھنا،
اور پرندوں کی طرح
تمہارے ساتھ طلوع ہونا چاہتا ہوں‘‘ (6)

اس نظم میں استعاراتی زبان اختیار کی گئی ہے۔ یہ نظم فطرت سے مکالمہ کرنا چاہتی ہے۔ اس میں جمالیاتی فضا بھی واضح ہے۔ ۲۰۰۰ء کے بعد جو نثری نظم کے شعراء سامنے آتے ہیں، ان کے ہاں نئی بوطیقا ملتی ہے۔ جس میں زندگی کی لایعنیت، فرد کی تنہائی اور کم مائیگی کا اظہار ملتا ہے۔ ایسے شعراء میں ساحر شفیق، زاہد امروز اور قاسم یعقوب کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ ساحر شفیق کا تعلق ملتان سے ہے۔ ان کی نظموں کا مجموعہ ’’خودکشی کا دعوت نامہ‘‘ ۲۰۱۰ء میں طبع ہوا۔ ساحر کی نظموں میں ایک ایسا فرد نظر آتا ہے جو ہر چیز سے بیزار ہو چکا ہے۔ وہ کسی نئے جہان کی طرف نکل جانا چاہتا ہے۔ ان کی نظم سے یہ سطریں دیکھئے:
’’ میرے پاس ایک گیت تھا/ جسے میرے ملازم نے چُرا کر کباڑی کو بیچ دیا
میرے پاس ایک بات تھی/جو مجھ سے کہیں گِر گئی
میرے پاس ایک دن تھا/ جسے میں ایک سفر میں گنوا آیا
میرے پاس ایک دعا تھی /جو چڑیا کی طرح اُڑ گئی
میرے پاس ایک تعویز تھا / جسے میں نے بہت سالوں بعد کھولا تو اس میں گالیاں لکھی ہوئی تھیں
میرے پاس ایک حیرت تھی/جو ہمسائے کے کُتے کے کاٹنے سے مر گئی
میرے پاس ایک پری تھی/جو خود دیو کے ساتھ بھاگ گئی
میرے پاس وقت تھا/ جو ناراض ہو کر چلا گیا
میرے پاس ایک شام تھی/ جو چائے کے ساتھ پی گئی
___ اور ___
میرے پاس میں خود تھا/ جسے میں نے قتل کر دیا‘‘ (7)

اس نظم میں نثری نظم کی نئی جہت دریافت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایسا بیانیہ نظم میں بہت کم ملتا ہے۔ ان لائنوں کی ترتیب نثری نظم کی نئی تکنیک بھی متعارف کروا رہی ہے۔ ساحر کی نظمیں، جون ایلیاء کی شاعری کی طرح کسی نوجوان کو کھانے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ نظموں میں یہ اسلوب اب دقیق ہو چکا ہے۔ جو نوآموز خود کو اس رنگ میں رنگنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں وہ صرف نقالی کر رہے ہیں۔

زاہد امروز کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ ان کی نظموں کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ زاہد امروز کی نظمیں تہہ دار ہیں مگر مشکل نہیں۔ بظاہر تو ان میں زندگی کا عامیانہ رنگ دکھائی دیتا ہے مگر بین السطور میں انسان کو زندگی کی گھمبیرتا سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ ان کی نظم ’’ میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں‘‘ بھی ایسی کیفیت کو آشکار کرتی ہے۔
’’میں تیرے ساتھ لپٹ کر
تیرے جُوڑے میں مہکے مہکے پھول سجانا چاہتا ہوں
لیکن تُو چہرے پر غلاظت مَل لیتی ہے
تُو اپنی عیار ہنسی سے
شفاف دلوں کی ننھی خوشیاں ڈس لیتی ہے
چم چم کرتی بھربھرائی دنیا!
تیری سنگت بڑی ہی ظالم دشمن ہے
میں تجھ کو گلے لگا لوں لیکن
تیری قبا میں پوشیدہ ہے
سب چوری کا مال
تیری جھلمل سطح کے نیچے
پھیلا ہے مایا کا جال

اگر ترے سینے پر گولائیاں
گوتم کے سَر جیسی ہوں
میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں ‘‘ (8)

زاہد امروز کی نظموں میں فنی حوالے سے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ انہوں نے شعریت پیدا کرنے کے لیے ایک مختلف استعاراتی نظام وضع کیا ہے۔ عصرِ حاضر میں نثری کے متعلق یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ اسے نثر کے زیادہ قریب ہونا چاہیے تا کہ اس صنف کے تخلیقی جواز کو وسعت مل سکے۔ اس مختصر جائزے سے سمجھانے کی سعی کی گئی ہے کہ نثری نظم کسی ایک موضوع تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ عمرانی شعور سے مکمل ہم آہنگ ہے اور مستقبل کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے۔ دراصل یہ موضوعات ہی نثری نظم کے فنی پیمانے بھی طے کرتے ہیں۔

نثری نظم کا موضوع اپنا اسلوب خود وضع کرتا ہے۔ ساحر کی نظمیں نیا اسلوب اختراع کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ جب کوئی اسلوب چرانے کی کوشش کی جاتی ہے تو موضوع کی پیشکش میں فاصلہ حائل رہتا ہے جو کمزوری بھی ہے نثری نظم زیادہ تر صیغہ واحد متکلم میں لکھی جاتی ہے۔ ایسی نظموں میں خود کلامیہ تکنیک سے معاملہ کیا جاتا ہے۔ انجم سلیمی کی بیشتر نظموں میں یہ کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ ان کی نظم ’’اذیت کا شجر ہوں‘‘ دیکھئے:
’’ مجھ پر بے موسم کا بُور آتا ہے
بہت بے صبرے ہو
ہنسی کو پکنے تو دو
میری خوشیاں ابھی بالغ نہیں ہوئیں
اور دکھ کن اکھیوں سے مجھے دیکھتے ہیں
یہ کوئی بددعا نہیں کہ تم پر میرا صبر پڑے
یہ تو ایک ذائقہ ہے جسے تم نے کبھی چکھ کر نہیں دیکھا
چھوٹے چھوٹے دکھوں نے مجھے چھوٹا کر دیا ہے
عجیب دکھ ہے
خود کو جی بھر کے برباد نہیں کر سکا
ایک بڑے سانحے کے انتظار میں
رائیگاں جا رہا رہوں !‘‘ (9)

نثری نظم میں ایک نیا رویہ یہ بھی سامنے آیا کہ خود کوکسی کردار کا روپ دے کر ایک علامتی وجود خلق کیا جائے۔ ایسی نظمیں تنویر انجم کے ہاں ملتی ہیں۔ مثلاً ان کی نظم ’’میں اور نیلوفر‘‘ اس کی بہترین مثال ہے۔
’’ دنیا میں کوئی نیلوفر کا مقابل ہے اور نہ متبادل
ایسا ہو سکتا ہے
میں اس کا پیچھا کرتے دور نکل جاؤں
میں اس کا پیچھا کرتے مٹی میں دھنس جائوں
میں اس کا پیچھا کرتے عالمِ انبساط میں مر جاؤں‘‘(10)

ناقدین کا یہ اعتراض بھی سامنے آتا ہے کہ نثری نظم کے نام پر جو کچھ تخلیق کیا جا رہا ہے وہ اس سے پہلے آزاد، نیاز فتح پوری یا یلدرم اپنی شاعرانہ نثر میں پیش کر چکے تھے۔ یہ اعتراض بہت سطحی سا ہے۔ نثری نظم اور ایسے شاعرانہ ٹکڑوں میں بہت تفاوت ہے۔ شاعرانہ نثر قطعیت اور جامعیت پر مبنی ہوتی ہے۔ ایسا اظہار خود میں نامکمل ہوتا ہے۔ شاعرانہ نثر شروع سے لے کر آخر تک مبہم اور معنویت سے خالی ہوتی ہے۔ جبکہ نثری نظم کا معاملہ مختلف ہے۔ اس میں تو شاعر کے ذہن میں پوری کہانی چل رہی ہوتی ہے۔ وہ اس کے کردار بھی ڈھونڈ لیتا ہے۔ یوں وہ اول تا آخر ایک کلی تجربے کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ پھر اس میں برتے جانے والے استعارے، علامتیں اور امیجز(Images) اسے آرٹ کے قریب تر کر دیتے ہیں جو اپنا تخلیقی جواز فراہم کرتے ہیں۔ نثری نظم پیرگراف میں بھی لکھی جاتی رہی ہے۔ یہ بھی اس کا فن اور تکنیک ہے۔ بودلیئر نے جب نثری نظم لکھنے کا آغاز کیا تو اسے پیراگراف میں لکھا۔ ہمارے ہاں بھی چند نظم نگاروں نے اس میں تجربہ کیا۔ ثروت حسین کی یہ نظم دیکھئے:
’’ پرندوں اور بادلوں سے خالی آسمان کے نیچے کسی دور دراز اسٹیشن کے برآمدے میں ریت بھری بالٹیاں اور ایک بھاری زنجیر ۔۔۔ جنگلے کو تھام کر پھیلتی ہوئی بیلیں، رُکی ہوئی مال گاڑی کے پہیے اور پتھروں کی ابدی خاموشی میں قریب آتی ہوئی یاد، کبھی کبھی چمکنے والی بجلی کی چکا چوند میں آبائی مکان کی جھلک، جہاں کیاریوں کے پاس ایک بیلچہ بارشوں میں بھیگ رہا ہے۔۔۔۔
کوئی ہمارا نام لے کر پکارتا ہے، کیا وہ لڑکی اب بھی کسی کھڑکی پر کہنیاں ٹکائے ہمیں اداسیوں کے سرسراتے جھنڈ سے گزرتے دیکھ سکتی ہے ۔۔۔ یہاں تک کہ شام ہو جاتی ہے۔‘‘ (11)

یہ نظم پیراگراف میں ہونے کے باوجود کسی قطیعت یا جامعیت کا اعلان نہیں کر رہی، نہ ہی اس نظم کی سطروں کے مفاہیم کو کسی دائرے میں مقید کیا جا سکتا ہے۔ نثری نظم کا یہ فن اسے باقی اصناف سے ممیز کرتا ہے۔

فنی اعتبار سے نثری نظم کو یہ اختصاص بھی حاصل ہے کہ اس ہیئت /صنف کے موضوعات خود کو عالمی شخصیت، کسی بحران یا جنگ سے بھی جوڑتے ہیں۔ نثری نظم اپنا رشتہ بین الاقوامیت کے ساتھ مضبوط کرتی ہے۔ وہ علاقائی سرحدوں کو توڑتے ہوئے ہر موضوع کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نازی حکمران نے جب پولینڈ کو تباہ کر دیا تو بعد میں ہمارے ہاں کئی باشعور شاعروں نے اس درد کو محسوس کیا اور کافی عرصہ گزر جانے کے بعد بھی انہیں نظموں کا موضوع بنایا۔ کاشف رضا نے چارلی چپلن کے لیے نظم لکھی جو پڑھنے کے قابل ہے:
’’ چارلی چپلن نے کہا
اُسے بارش میں چلنا پسند ہے
کیونکہ تب کوئی اس کے
آنسو نہیں دیکھ پاتا

اس نے چار شادیاں کیں
اور بارہ معاشقے
عورتیں اس پر فدا تھیں
وہ انہیں کسی بھی وقت
جوائے رائڈ دے سکتا تھا‘‘ (12)

نثری نظم میں تکنیکی اور فنی لحاظ سے بے شمار امکانات پوشیدہ ہیں جنہیں تلاش کیا جانا چاہیے۔ نثری نظم میں مکالماتی انداز بھی اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ مکالمہ کسی فرد یا سماج سے ہو سکتا ہے۔ نثری نظم کی یہ تکنیک نئے فنی پیمانے وجود میں لاتی ہے۔ ثروت حسین کی نظم ’’ایک پل بنایا جا رہا ہے‘‘ سے چند سطریں ملاحظہ ہوں:
’’ میں ان سے پوچھتا ہوں:
پُل کیسے بنایا جاتا ہے؟
پُل بنانے والے کہتے ہیں:
تم نے کبھی محبت کی
میں کہتا ہوں:محبت کیا چیز ہے؟
وہ اپنے اوزار رکھتے ہوئے کہتے ہیں:
محبت کا مطلب جاننا چاہتے ہو
تو پہلے دریا سے ملو ___ ‘‘ (13)

نثری نظم کا فن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس ہیئت /صنف کے لیے مروجہ اوزان یا بحور کی جو قربانی دی جاتی ہے وہ کسی صورت رائیگاں نہیں جا سکتی۔ یہاں تو شاعر کا کڑا امتحان ہوتا ہے کہ اس نے کسی خارجی مدد کے بغیر داخلی آہنگ کو تشکیل دینا ہوتا ہے جو دراصل شعریت کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے۔ نثری نظم لکھنے کا عمل سرکس کے اس جوکر جیسا ہے جو باریک رسی پر چل کر اپنا فاصلہ طے کرتا ہے ۔ اس میں جہاں کہیں جھول آ گیا نظم اپنے فن کو مشکوک کرے گی اور شاعر منہ کے بل گرے گا۔

مندرجہ بالا بحث سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ صنف فنی جہات میں متنوع پہلو رکھتی ہے۔ اسے لکھنے کے اتنے ہی طریقے ہیں جتنے اس دنیا میں موجود نثری نظم نگار ۔ نثری نظم اپنے ساتھ تخریب اور تعمیر کا سامان خود لے کر وارد ہوتی ہے۔ اس کو چند پیمانوں پر ماپنا ناانصافی ہو گی۔ اس حوالے سے نئے لکھنے والوں کی تربیت ضروری ہے تا کہ وہ اس غلط فہمی سے پاک رہیں کہ جو کچھ انہوں نے تخلیق کیا ہے وہ نثری نظم کے زمرے میں شمار ہو گا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر آزاد نظم سے بحر حذف کر دی جائے تو وہ نثری نظم کہلائے گی۔ ایسا ہرگز نہیں نثری نظم تو لکھنے والے سے گہرے شعور اور مکمل کمٹمنٹ کا مطالبہ کرتی ہے۔ نثری نظم لکھنے والے کے ذہن میں چند فنی پیمانے ضرور ہونے چاہییں تا کہ وہ ان کی پابندی کرتے ہوئے کوئی لایعنی یا بے معنوی نظم خلق کرنے سے گریز کرے۔

حوالہ جات

۱۔ محمد ہادی حسین، شاعری اور تخیل، مجلس ترقیء ادب، لاہور ، ۲۰۱۵ء، ص ۲۱
۲۔ سعادت سعید، اردو نظم میں جدیدیت کی تحریک، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۷ء، ص ۶۲
۳۔ ناصر عباس نیئر، ڈاکٹر، نظم کیسے پڑھیں، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۸ء، ص ۱۵۶
۴۔ افضال احمد سید، مٹی کی کان، آج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۰۹ء، ص ۲۰
۵۔ کاشف رضا، سید، ممنوعہ موسموں کی کتاب، شہر زاد، کراچی، ۲۰۱۲ء، ص ۳۰
۶۔ نصیر احمد ناصر، سرمئی نیند کی بازگشت، بک کارنر، جہلم، ۲۰۱۷ء، ص ۱۳
۷۔ ساحر شفیق، خود کشی کا دعوت نامہ، دستک پبلی کیشنز، ملتان، ۲۰۱۰ء، ص ۷۸
۸۔ زاہد امروز، کائناتی گردش میں عریاں شام، سانجھ، لاہور، ۲۰۱۳ء، ص ۳۱
۹۔ انجم سلیمی، ایک قدیم خیال کی نگرانی میں، دست خط مطبوعات، فیصل آباد، ۲۰۱۷ء، ص ۸۳
۱۰۔ تنویر انجم، نئی زبان کے حروف، آ ج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۲۰ء، ص ۱۱۳
۱۱۔ ثروت حسین، کلیات، آج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۱۵ء، ص ۳۵
۱۲۔ کاشف رضا سید، ممنوع موسموں کی کتاب، شہرزاد، کراچی، ۲۰۱۲ء، ص ۷۳
۱۳۔ ثروت حسین، کلیات، آج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۱۵ء، ص ۷۲




خوشی ایک رنگ ہے ( از آرزو خوشنام)

آرزو خوشنام شاعرہ ہیں اور ایران کے مشہور موسیقی کے نقاد محمود خوشنام کی بیٹی ہیں۔ جرمن میں لکھتی ہیں۔ حال ہی میں ان کے والد کی وفات پر انھوں نے چند نہایت دل سوز نظمیں لکھیں۔ ان کی نظموں کے تراجم مع اصل متن کے شامل کیے جا رہے ہیں۔

Wenn du jung bist, bist du leer. In dir lebt nur eine Farbe, die Farbe der Sehnsucht. Die
Wirklichkeit ist ein Traum. Wenn du älter bist, lebt alles schon Gelebte in dir weiter, du hast
schon alle Farben gesehen, und wunderst dich dennoch, dass Glück und Trauer einander in
kurzen Abständen abwechseln, weil sie um die Hoheit in deinem Farbenreich ringen

جب تم چھوٹے ہوتے ہو، خالی ہوتے ہو،
تم میں فقط ایک رنگ زندہ ہوتا ہے،
آشا کا رنگ،
حقیقت ایک خواب ہوتا ہے.
جب تم بڑے ہو جاتے ہو ،
تمہارا ہر جیا ہوا لمحہ تم میں جیے جاتا ہے،
تم سب رنگ دیکھ چکے ہوتے ہو
اور پھر بھی تمھیں تعجب ہوتا ہے
کہ غم اور خوشی ایک مہین سے وقفے کے بعد
اپک دوسرے کو پچھاڑتے رہتے ہیں
تمھارے رنگوں کے اس راج میں
دونوں اپنی برتری کی کے لئے لڑ رہے ہیں 

 



لفظی ترجمہ اور صابن کا جھاگ (سید کاشف رضا)

(یہ مضمون بہاء الدین ذکریا یونی ورسٹی ملتان کی تراجم سے متعلق کانفرنس میں پڑھا گیا جو چھبیس اور ستائیس مئی دو ہزار اکیس کو آن لائن منعقد ہوئی)

تراجم کے سلسلے میں دو تین فقرے ہمارے ہاں بہت استعمال کیے جاتے ہیں:
ترجمہ رواں دواں ہے
ترجمہ، ترجمہ محسوس ہی نہیں ہوتا
ترجمہ اصل سے بڑھ گیا ہے

ادب تسلیم شدہ تصورات کو باربار پھرول کر دیکھنے کا بھی تو نام ہے۔ تو کیوں نہ مذکورہ بالا تین تصورات کو بھی ذرا چھان پھٹک کر دیکھ لیا جائے۔

یہ تین فقرے عام طور پر اس ترجمے کے حق میں استعمال کیے جاتے ہیں جسے تخلیقی ترجمہ کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک اور ترجمہ ہوتا ہے جسے لفظی ترجمہ کہا جاتا ہے۔ ان دونوں قسم کے تراجم کے موازنے کے لیے بہ طور نمونہ کسی ایسی تخلیق کا جائزہ لینا ہو گا جس کے ایک سے زائد تراجم ہو چکے ہوں جن میں ہم لفظی اور تخلیقی دونوں قسم کے تراجم کے لیے مثالیں تلاش کر سکیں۔

سن نوے کی دہائی میں دو برسوں، سن چھیانوے اور سن ستانوے میں، غیر ملکی افسانوں کے تراجم پر مشتمل دو مجموعے ایسے سامنے آئے جنھیں ہمارے فکشن نگاروں کی نئی پود اور عام قارئین نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ کراچی میں سندھی زبان سے وابستہ ادیبوں سے بھی میری بات ہوتی رہتی ہے اور وہ بھی ان دو مجموعوں کے اثرات کے قائل ہیں۔ ان میں سے ایک صغیر ملال کے تراجم پر مشتمل مجموعہ "بیسویں صدی کے شاہ کار افسانے" ہے جو مترجم کی وفات کے بعد انیس سو چھیانوے میں شائع ہوا اور دوسرا مجموعہ آصف فرخی کے لاطینی امریکا کے افسانوں کے تراجم پر مشتمل ہے جو "موت اور قطب نُما" کے نام سے انیس سو ستانوے میں شائع ہوا۔

ایک افسانہ ایسا ہے جس کا ترجمہ صغیر ملال اور آصف فرخی دونوں نے کیا ہے اور ہم بہ طور نمونہ اسی افسانے کو لیتے ہیں۔ یہ افسانہ کولومبیا کے فکشن نگار ایرناندو تیژیس نے انیس سو پچاس میں لکھا جس کا انگریزی میں ترجمہ "لیدر اینڈ نتھنگ ایلس" اور "جسٹ لیدر، دیٹس آل" کے نام سے ہوا۔ یہ افسانہ اتنا مشہور و معروف ہے کہ افسانوں کے کئی عالمی انتخابات میں شامل ہو چکا ہے اور اس کے ایک سے زائد انگریزی تراجم ہو چکے ہیں۔ یہ ایک حجام کی کہانی ہے جس کی دکان پر اس کا ایک ایسا حریف اپنی شیو بنوانے چلا آتا ہے جس سے حجام نفرت کرتا ہے کیوں کہ وہ ان باغیوں کے قتل میں ملوث ہے جن کے لیے حجام ہم دردی رکھتا ہے۔ کیا حجام اس کی شیو کے دوران اُسترا چلاتے ہوئے اس کی شہ رگ کاٹ دے گا؟ افسانے میں تناو اسی سوال سے جنم لیتا ہے۔

صغیر ملال اور آصف فرخی دونوں نے یہ تراجم انگریزی سے کیے۔ موازنے کے دوران پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ صغیر ملال اور آصف فرخی کے تراجم کی درُستی کا جائزہ لینے کے لیے انگریزی کا کون سا ترجمہ استعمال کیا جائے؟

آصف فرخی کے ترجمے میں ایک جگہ لکھا ہے کہ "اس کا نام ٹورس تھا۔ کپتان ٹورس۔ کہتے ہیں خاصا ذہین آدمی تھا، ورنہ کس کے دماغ میں یہ بات آ سکتی تھی کہ باغیوں کو ننگا کر کے پھانسی دے اور ان کے جسموں پر نشانہ بازی کی مشق کروائے۔" صغیر ملال کے ترجمے میں یہ سب باتیں آگے پیچھے ہیں مگر کپتان کی ذہانت والی بات موجود ہی نہیں۔ کیا آصف فرخی صاحب نے یہ حصہ اپنی طرف سے ایزاد کر دیا یا یہ اصل افسانے میں موجود تھا اور صغیر ملال ترجمہ کرتے ہوئے اسے چھوڑ گئے۔ اب میں نے ایرناندو تیژیس کا اصل افسانہ تلاش کیا جو ہسپانوی زبان میں ہے۔ اصل ہسپانوی افسانے میں یہ حصہ مل گیا جہاں ایرناندو تیژیس نے "باغیوں کو ننگا کر کے پھانسی دینے" کا ذکر کیا ہے۔ اس حصے کی شناخت "کپتان ٹورس" کے الفاظ کے بعد والے فقرے میں لفظ "ڈیسنوڈوز" سے ہوئی جو اردو لفظ "ننگا" کی جمع ہے اور جو ہسپانوی میں صیغہ ء تذکیر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

"لیدر اینڈ نتھنگ ایلس" کے نام سے ایک ترجمہ انٹرنیٹ پر موجود ہے جو لاطینی امریکی ریاستوں کی تنظیم کے دو ماہی جریدے "امیریکاس" میں شائع ہوا تھا۔ اس ترجمے میں مذکورہ بالا حصہ موجود نہیں۔ تاہم ڈونلڈ ژیٹس کے انگریزی ترجمے میں یہ حصہ موجود ہے۔ زیر نظر مقالے میں صغیر ملال اور آصف فرخی کے تراجم کی درُستی جانچنے کے لیے یہی یعنی ڈونلڈ ژیٹس کا ترجمہ استعمال کیا گیا ہے تاہم مخصوص الفاظ کی اصل دیکھنے کے لیے اصل ہسپانوی متن سے بھی رجوع کیا گیا ہے۔

میں پہلے ہی ذکر کر چکا ہوں کہ پاکستانی قارئین میں صغیر ملال اور آصف فرخی کے یہ دونوں مجموعے بہت مقبول رہے ہیں۔ آصف فرخی نے اور بھی بہت سے تراجم کیے جن میں ان کا یہ مجموعہ کچھ اوجھل سا ہو گیا مگر صغیر ملال کے تراجم کی یہی ایک کتاب تھی سو نمایاں تر رہی۔ اردو میں صغیر ملال کی اس کتاب کا مطالعہ بہت خوش گوار ہے۔ اس میں شامل متعدد افسانے مجھے بہت پسند رہے ہیں جن میں ٹالسٹائی کا "پیالہ"، خورخے لوئیس بورخِس اور فرانز کافکا کے افسانے اور ریمنڈ کارور کا افسانہ"زندگی" اور ایرناندو تیژیس کا یہ افسانہ بھی شامل ہے جس کا ترجمہ انھوں نے "جھاگ" کے عنوان سے کیا۔ افسانے کا آغاز تیژیس نے چار چھوٹے چھوٹے جملوں سے کیا ہے۔ میرے پیش نظر دونوں انگریزی تراجم میں یہ چار جملے چار ہی جملوں میں ترجمہ کیے گئے ہیں۔ آصف فرخی نے بھی ان چار جملوں کا ترجمہ چار ہی جملوں میں کیا۔ صغیر ملال افسانے کے ابتدائی حصے کا ترجمہ صغیر ملال یوں کرتے ہیں:
"میں چمڑے کی پٹی پر اُسترا تیز کرنے میں مصروف تھا کہ وہ خاموشی سے دکان میں داخل ہوا اور آئینے کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اپنے گاہک کا چہرہ پہچانتے ہی مجھ پر لرزہ طاری ہو گیا۔ مگر وہ میری حالت سے بے خبر رہا۔" صغیر ملال خود افسانہ نگار تھے اور شاید ان کا خیال ہو کہ ایک طاقت ور جملہ افسانے کی اُٹھان میں مدد دیتا ہے۔ ان کا پہلا جملہ تو خوب صورت ہے اور شاید کوئی اور موازنہ نگار یہ بھی کہے کہ یہ ترجمہ "اصل سے بڑھ گیا ہے"، مگر اس جملے کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ اصل تخلیق میں موجود نہیں۔ دوسری جانب آصف فرخی نے افسانے کے اسی آغاز کا ترجمہ یوں کیا ہے:
"وہ اندر آتے ہوئے کچھ نہیں بولا۔ میں اپنا تیز ترین اُسترا چمڑے کی پیٹی پر رگڑ رہا تھا۔ اسے پہچان کر میں کانپ گیا۔ مگر اس کی نظر میں یہ بات نہیں آئی۔"

اصل افسانے میں بات یوں شروع ہوتی ہے کہ کپتان ٹورس حجام کی دکان میں داخل ہوتا ہے، حجام اسے پہچان کر خوف زدہ ہو جاتا ہے، کپتان اپنی کمر سے بندھی اسلحے کی پیٹی اتار کر ایک کھونٹی پر لٹکاتا ہے اور اس کے بعد کرسی پر بیٹھتا ہے۔ صغیر ملال نے چوں کہ کپتان ٹورس کو آتے ہی کرسی پر بٹھا دیا ہے اس لیے جب کپتان ٹورس کی جانب سے اپنی پیٹی کھونٹی پر لٹکانے کا ذکر آتا ہے تو صغیر ملال کو اسے ایک مرتبہ پھر کرسی سے اٹھا کر کھونٹی کے پاس لے جانا پڑتا ہے۔ یوں افسانے کا خوب صورت آغاز کرنے کے چکر میں انھوں نے ان جانے میں کپتان ٹورس کو کچھ مخبوط الحواس دکھا دیا ہے جو حجام کی کرسی پر پہلے بیٹھتا ہے، پھر اٹھتا ہے، اپنی اسلحے کی پیٹی کھونٹی پر لٹکاتا ہے اور پھرکرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ جب کہ افسانے میں درحقیقت کپتان ٹورس مکمل طور پر پُرسکون ہے اور اگر کوئی پریشان ہے تو وہ حجام ہے۔

گفتگو کی ابتداء کپتان ٹورس خود کرتا ہے اور حجام سے کہتا ہے کہ اس کی شیو بنا دے۔ اس کے بعد ایک اور جملہ اقتباسی کاما کے درمیان ہے۔ یہ جملہ کس نے بولا، دونوں انگریزی تراجم میں درج نہیں۔ اس جملے کا ترجمہ صغیر ملال نے یوں کیا:
"مرکزی قیادت کے دوسرے افسروں کے چہروں پر بھی یوں ہی داڑھیاں اُگ آئی ہوں گی"، میں نے کچھ کہنے کی خاطر کہا۔ جب کہ آصف فرخی نے یہ جملہ کپتان ٹورس کے منھ سے بلواتے ہوئے یوں ترجمہ کیا ہے:
"ٹولی کے دوسرے لڑکوں کی بھی اتنی ہی داڑھیاں ہوں گی"، وہ بولا

تیژیس نے یہاں لفظ "موچاچوس" استعمال کیا ہے جو ہسپانوی میں "لڑکے" یعنی موچاچو کی جمع ہے۔ انگریزی تراجم میں بھی اس کا ترجمہ "بوائز"ہی کیا گیا ہے۔ صغیر ملال نے ان لڑکوں کو "مرکزی قیادت کے افسر" بنا دیا۔ دوسرے یہ کہ اس افسانے کا قرینہ یہ بتاتا ہے کہ حجام خود بات کرنے سے حتی الامکان گریز کر رہا ہے اور بعد میں بھی بہت کم بولتا ہے۔ وہ ایسا جملہ کیوں کہے گا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ وہ کپتان ٹورس کی مہمات کی خبریں رکھتا ہے۔ یہ جملہ کپتان ٹورس ہی بول سکتا تھا، وہی اپنے دستے کے سپاہیوں کو "لڑکے" کہنے کی بے تکلفی کر سکتا تھا اور اگلا جملہ اسی جملے کی توسیع میں اسی کے منھ سے ادا ہوتا ہے۔

اسی طرح ایک موقع پر حجام سڑک کے پار "گروسری" کی دکان کا ذکر کرتا ہے جس کا ترجمہ کرتے ہوئے صغیر ملال نے صرف "ایک دکان" کے الفاظ استعمال کیے ہیں جب کہ آصف فرخی نے ترجمے میں "سبزی کی دکان" کا ذکر کیا ہے۔

صغیر ملال نے مختصر سے اس افسانے کا ترجمہ سوا آٹھ صفحات میں کیا جس کے پہلے تین صفحات میں تئیس مقامات ایسے ہیں جہاں صغیر ملال نے ترجمے میں اپنی طرف سے کم یا زیادہ اضافہ کر دیا۔ اگلے صفحات سے ایسے اضافے تلاش کرنے کی مجھ میں تاب نہیں رہی۔ انگریزی لفظ "کیپیٹل" کا ترجمہ "دارالخلافہ" کرنے جیسے غلطیاں اس پر مستزاد ہیں۔ آصف فرخی کو اس افسانے کا ترجمہ کرنے پر صرف سوا چھ صفحات صرف کرنا پڑے جس میں کوئی ایک فقرہ بھی اضافی نہیں۔ بعض مقامات پر انھوں نے ایسا خوب صورت ترجمہ کیا ہے کہ ان کا ترجمہ لفظی ہونے کے باوجود تخلیقی بھی قرار دیا جا سکتا ہے، مثلاً یہ فقرہ دیکھیے:
There, for sure, the razor had to be handled masterfully, since the hair, although softer, grew into little swirls.
اس کا ترجمہ آصف فرخی نے یوں کیا ہے:
"وہاں یقینی طور پر مہارت سے اُسترا چلانے کی ضرورت تھی کیوں کہ وہاں کے بال نرم تو تھے مگر اُن میں گھونگھر پڑ گیا تھا۔"

ایک مقام پر البتہ آصف فرخی صاحب سے ایک فقرہ چھوٹ گیا جہاں حجام کپتان ٹورس کی شہ رگ پر پہنچتا ہے۔ ترجمہ کرتے ہوئے کسی فقرے کا چھوٹ جاتا عام بات ہے اور اگر کوئی مدیر ترجمے پر نظرثانی کر رہا ہو تو وہ اس کی نشان دہی کر دیتا ہے۔ تاہم پاکستان میں مترجم کا ڈرافٹ ہی فائنل ڈرافٹ سمجھا جاتا ہے۔

بہ ہر حال دو تین نمونے ہی اس بات کے ثبوت میں کافی رہنے چاہئیں کہ صغیر ملال افسانے کا ترجمہ کرتے ہوئے اصل متن سے بار بار ہٹ گئے۔ شاید انھوں نے ایسا اس لیے کیا کیوں کہ وہ عام طور پر ڈائجسٹ کے لیے ترجمہ کرتے تھے۔ ان کا ترجمہ شدہ افسانہ چاہے قرات میں کتنا ہی پرلطف ہو مگر اصل متن کی کماحقہ نمایندگی نہیں کرتا۔ اب اس ترجمے کے بارے میں کوئی قاری وہ تینوں فقرے استعمال کر سکتا ہے جن کی نشان دہی میں نے شروع میں کی کہ "یہ ترجمہ رواں دواں ہے"، "یہ ترجمہ، ترجمہ محسوس ہی نہیں ہوتا" اور "یہ ترجمہ اصل سے بڑھ گیا"۔

لیکن کیا مترجم کو اس مداخلت کا حق ہونا بھی چاہیے؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ کوئی تخلیق جیسی ہے اسے ویسا ہی پیش کر دیا جائے اور تخلیق کار کی تصحیح کرنے اور اس کی تخلیق کو "اصل سے بڑھا دینے" کی کوشش نہ کی جائے؟ کیوں کہ ایسی صورت میں ہم اصل تخلیق کار کو نہیں بل کہ اس کی ترجمانی کا مطالعہ کر رہے ہوتے ہیں۔

ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ اصل متن سے موازنہ کیے بغیر کیا ایسے مدحیہ فقرے استعمال کیے بھی جا سکتے ہیں، جن کا میں نے مضمون کے شروع میں ذکر کیا؟

میرے لیے تو ادبی ترجمے کا اولین امتحان ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اردو میں کچھ اوپرا اوپرا محسوس ہو۔ اس کے الفاظ، جملوں اور اسلوب میں کوئی نیا پن محسوس ہو۔ اگر برطانیہ کا پیٹر اور کولومبیا کا کارلوس بھی ارے صاحب، ارے حضرت جیسے الفاظ استعمال کر رہا ہے تو میں ترجمے کی صحت پر شک ضرور کرتا ہوں۔

کیا اردو کے دیگر تراجم میں بھی اصل متن کو سامنے رکھ کر ترجمے کے بجائے اپنے طور پر ترجمانی کی کوشش موجود ہے؟ اگر ایسا ہے تو وہ ترجمہ بہ طور تخلیق کتنا ہی اچھا ہو، اسے اصل تخلیق کا ترجمہ قرار نہیں دیا جائے گا۔ اس کے بجائے لفظی ترجمے میں کم از کم ہمیں اتنا تو اعتبار ہوتا ہے کہ ہم اصل متن ہی کا ترجمہ پڑھ رہے ہیں جس میں مترجم صرف ترجمہ کر رہا ہے اور اس نے ازخود ہی شریک مصنف کا کردار نہیں سنبھال لیا۔

بہتر ہوگا کہ ہم صابن خریدنے جائیں تو ہمیں صابن ہی ملے، صابن کا جھاگ نہیں۔




دائرہ اور دیگر نظمیں (سعیدالدین)

[divider]کتنے بااختیار ہو تم[/divider]کتنے بااختیار ہو تم

یہ کہتا ہے تمہارا چہرہ
تمہارا ڈھب
تمہارا فیصلہ

کتنے باحیثیت ہو تم
یہ کہتا ہے تمہارا جوتا
تمہارے کپڑے
تمہاری فور وھیل

پر میلی ہیں تمہاری آنکھیں
جو گھورتی ہیں
میرے ننگے پیروں کو
میرے ننگے کپڑوں کو
میرے ننگے دن اور مٹی کو

میں اپنی آنکھیں جمائے ہوئے ہوں
صاف اور نیلے آسمان پر
جہاں دھول نہیں پہنچتی

[divider]دائرہ[/divider]

کسی خواب میں اتر جاؤ
اسے مزید گہرا کرو
اور گہرے اترتے چلے جاؤ
زمین سے بیج کی طرح پھوٹو
کونپل کی طرح آن کی آن میں
کسی اجنبی ریت پر آنکھیں کھولو
اور دوسرے خواب کے انتظار میں
مر جاؤ۔۔۔۔۔۔۔

[divider]عکس سے خالی آئینہ[/divider]

ایک ایسا آدمی
جس کے ہاتھ کی کسی انگلی میں
معتبر انگوٹھی نہیں
جس کی چائے کی پیالی
اس الجھن میں ٹھنڈی پڑ گئی
کہ وہ چائے میں کتنی شکر پیتا ہے
جو نہیں جانتا
مانوس دستک کیا ہوتی ہے
اس کی عقبی دیوار کا کلاک
اس کی توجہ سے محروم ہے
وہ اپنے آپ سے ہم کلام بھی نہیں
کمرے میں در آنے والی ہوا کے لیے
اس کے پاس کوئی سوال نہیں
نہ پرندوں کے شور کو
کاغذ پر چپکانے کی امنگ
نہ کسی خامشی سے سخن
اور نہ ہی وہ سامنے رکھی ہوئی خالی کرسی پر
کسی وجود کے احساس سے تقویت پا رہا ہے
ایک ایسا آدمی
ایک بے رنگ آدمی

[divider]دستانے[/divider]

میں چیختا ہوں
میں نے آج تک کسی چیز کو نہیں چھوا
نہ کسی آواز کو
نہ دیوار کو
نہ تمہارے بدن کو

میں تو زندگی بھر
اپنے دستانے نہیں اتار سکا

[divider]تابوت[/divider]

تنہائی کے اس تابوت سے
مجھے کون نکالے گا؟
کیا وہ
جس کے شور سے
میں تابوت میں بند ہو گیا ہوں




نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 6 (“وقت کی مختصر تاریخ” کی مختصر تاریخ)

گذشتہ اقساط کے مطالعہ کے لئے درج ذیل لنکس استعمال کیجئے (لنک نئے ٹیب میں کھلیں گے)

قسط نمبر 1قسط نمبر 2، قسط نمبر 3، قسط نمبر 4قسط نمبر 5

"وقت کی مختصر تاریخ" کی مختصر تاریخ

مجھے اب بھی اپنی کتاب A BRIEF HISTORY OF TIME کو ملنے والی پذیرائی پر حیرت ہوتی ہے۔ مسلسل 37 ہفتوں تک یہ نیو یارک ٹائمز کی بیسٹ سیلرز لسٹ میں رہی اور سنڈے ٹائمز آف لنڈن کی لسٹ میں 28 ہفتے رہ چکی ہے (یہ کتاب پہلے امریکہ اور بعد ازاں برطانیہ میں شائع ہوئی)۔ اس کا بیس زبانوں میں ترجمہ کیا جا رہا ہے (اگر آپ امریکی زبان کو انگریزی سے مختلف گردانتے ہیں تو 21 زبانوں میں)۔ یہ سب اس توقع سے کہیں زیادہ تھا جو 1982 میں مجھے کائنات کے بارے میں ایک پاپولر کتاب لکھنےکے حوالے سے تھی۔ ضمناً میری نیت یہ تھی کہ اس کتاب کی مد سے ہونے والی آمدنی سے میں اپنی بیٹی کی سکول فیس ادا کر سکوں گا(در حقیقت جب کتاب شائع ہو کر مارکیٹ میں آئی تو میری بیٹی اپنے سکول کے آخری سال میں تھی)۔ لیکن (یہ کتاب لکھنے کی) بنیادی ضرورت جو میں نے محسوس کی وہ یہ تھی کہ میں یہ واضح کرنا چاہتا تھا کہ ہمارے ا کائنات کے بارے میں فہم کس حد تک بڑھ چکا ہے ، اور کیسے ہم اس مکمل نظریے کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو کائنات اور اس میں موجود ہر شے کی وضاحت کر دے گا۔

میری خواہش تھی کہ اگر میں کتاب لکھنے کے لئے وقت صرف اور کوشش کر رہا ہوں تو اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنا چاہئے۔ میری سابقہ تکنیکی کتب کیمبرج یونی ورسٹی پریس نے شائع کی تھیں۔ پبلشر نے کتابوں کو بہترین طریق پر شائع کیا لیکن مجھے نہیں لگتا تھا کہ میں جتنی تعداد میں لوگوں تک یہ کتاب پہنچانا چاہتا ہوں اس کے لئے کیمبرج یونی ورسٹی پریس موزوں رہے گا۔ اسی لئے میں نے ایک لٹریری ایجنٹ Al Zucherman سے رابطہ کیا، جو میرے ایک لولیگ کا برادرِ نسبتی تھا۔ میں نے انھیں پہلے باب کا ڈرافٹ دیا اور کہا کہ میں یہ کتاب اس شکل میں شائع کرانا چاہتا ہوں کہ یہ ایئر پورٹ کے بل سٹال میں بھی بکنے والی ہو۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ایسا ہونے کا کوئی امکان نہ تھا۔ یہ علمی شخصیات اور طالب علموں میں شاید اچھے طریق پر فروخت ہو سکے لیکن یہ کتاب Jeffrey Archer کے گھر داخل نہیں ہو سکتی۔

میں نے 1984 میں Zuckerman کو کتاب کا پہلا مسودہ دیا۔ اس نے اسے بہت سے پبلشرز کو بھیجا اور مجھے تجویز دی کہ میں Norton والوں کی پیش کش قبول کر لوں، جو امریکہ میں کتابوں کا ایک اعلیٰ درجے کا ادارہ تھا۔ لیکن میں نے اس کے برعکس Bantam Books کی پیش کش قبول کی جس کا پاپولر کتابوں کی جانب زیادہ رجحان تھا۔ اگرچہ Bantam کا سائنس کی کتب شائع کرنے میں کوئی تخصص نہ تھا، لیکن ان کی کتب ایئر پورٹ کے سٹالز پر وسیع پیمانے پر دستیاب ہوتی تھیں۔ ان کی کتاب کی اشاعت کے لئے رضامندی ظاہر کرنے کی وجہ یہ تھی کہ Bantam کے ایک ایڈیٹر کو یہ کتاب دلچسپ لگی تھی، ان کا نام Peter Guzzardi تھا۔ انھوں نے اس کتاب کی اشاعت کو نہایت سنجیدگی سے لیا اور مجھے کتاب دوبارہ لکھنے کو کہا تاکہ وہ اُن جیسے نان ٹیکنیکل افراد کو سمجھ آ سکے۔ جب بھی میں ایک باب لکھ کر انھیں بھیجتا، وہ سوالات اور اعتراضات کی ایک طویل فہرست کے ساتھ اسے واپس بھیج دیتے تاکہ اسی باب کو مکرر لکھنے سے وہ سوالات اور اعتراضات پیدا نہ ہوں۔ ایک وقت ایسا آیا جب مجھے لگا کہ یہ سلسلہ تو کبھی تھمنے والا نہیں۔ لیکن وہ ٹھیک تھے کیونکہ اس ساری کوشش کے نتیجے میں ہی کتاب کی اس قدر بہترین اشاعت ہوئی۔

Bantam کی پیش کش قبول کرنے کے کچھ ہی عرصہ بعد میں نمونیا میں مبتلا ہو گیا ۔ مجھے tracheostomy آپریشن کرانا پڑا جس سے میری بولنے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو گئی۔  کچھ وقت تک میں صرف اپنے ابرو کے اشاروں کی مدد سے لوگوں سے ربط رکھ پاتا تھا ، (وہ بھی تب ) جب میرے سامنے حروف کا کارڈ لایا جاتا۔ اگر مجھے کمپیوٹر پروگرام نہ دیا گیا ہوتا تو کتاب کو مکمل کرنا نا ممکن ہو جاتا۔ کمپیوٹر ذرا سست تھا لیکن تب میری سوچنے کی صلاحیت بھی سست ہو چکی تھی لہذاٰ یہ میرے لئے موزوں ثابت ہوا۔ اور اسی کی مدد سے میں نے اپنا پہلا ڈرافٹ تقریباً سارے کا سارا دوبارہ لکھا، تاکہ Guzzardi کے اشکالات دور کئے جا سکیں۔ مسودوں کی دہرائی میں میرے ایک طالب علم Brian Whitt نے میری مدد کی۔

میں Jacob Bronowski کی ٹیلی وژن سیریز The Ascent of Man سے بہت متاثر تھا۔ (ایسا جنسی تعصب رکھنے والے نام کی شاید آج اجازت نہ دی جائے۔) یہ پروگرام ایک ایسا احساس پیدا کرتا تھا کہ نسلِ انسانی وحشی اور جنگلی حالت سے صرف پندرہ ہزار سال کے اندر ترقی کر کے اپنی موجودہ حالت کو پہنچی ہے۔ میں بھی اسی طرز کا احساس لوگوں میں پیدا کرنے کاخواہش مند تھا کہ ہمارا کائنات کا فہم بھی ترقی کرتے کرتے اب اسے چلانے والے قوانین کے مکمل فہم کو پہنچنے والا ہے۔ مجھے یقین تھا کہ کم و بیش ہر ایک شخص اس امر میں دلچسپی رکھتا ہو گا کہ کائنات کیسے چل رہی ہے، لیکن بہت سے لوگ ریاضیاتی مساوات کا فہم نہیں رکھتے، میں خود بھی مساوات کی بہت زیادہ پروا نہیں کرتا۔ اس کی ضمنی وجہ یہ ہے کہ میرے لئے مساوات لکھنا مشکل ہے لیکن بنیادی وجہ یہ ہے کہ میں مساوا ت کا وجدانی احساس نہیں رکھتا۔ اس کی بجائے میں تصاویر کی صورت میں سوچتا ہوں، میرا ارادہ اس کتاب میں اپنی ذہنی تصاویر کو الفاظ میں ڈھالنا تھا، اور ساتھ میں کچھ تصاویر اور مثالوں کی مدد لینا تھا۔اس طرح سے، مجھے امید تھی کہ بہت سے لوگ کامیابی کے اس جذبے میں میرے ساتھ شریک ہوں گے کہ انسانیت گزشتہ 25 برسوں میں طبیعیات میں اس قدر ترقی کر چکی ہے۔

تاہم، اگر ہم ریاضیاتی مساوات سے مکمل احتراز بھی برتیں، اس کے باوصف کچھ تصورات   سے ہم نہ صرف نا آشنا ہیں بلکہ ان کی وضاحت کرنا بھی مشکل ہے۔ اس سے ایک مسئلہ کھڑا ہوتا ہے: کیا مجھے ان تصورات کی وضاحت کرنے کی کوشش میں لوگوں کو الجھا دینا چاہئے، یا مشکل تصورات کو کتاب میں شامل ہی نہیں کرنا چاہئے؟ کچھ نا آشنا تصورات جیسے دو افراد اگر مختلف رفتار سے حرکت میں ہیں تو وہ کسی بھی عمل کا دورانیہ مختلف ریکارڈ کریں گے (یعنی فرض کیجئے اگر یہ دونوں افراد سٹاپ واچ کی مدد سے ایک مخصوص اونچائی سے گرتی ہوئی گیند کے زمین تک پہنچنے کا وقت ماپیں، تو دونوں کی سٹاپ واچ مختلف وقت ریکارڈ کرے گی)، یہ تصور اس تصویر کے لئے ضروری نہیں تھا جو میں الفاظ کی مدد سے کھینچنا چاہ رہا تھا۔ اس لئے میں نے یہ محسوس کیا کہ میں یہ تصورات اجمالاً بیان کر دوں گا پر ان کی گہرائی میں نہیں جاؤں گا۔ لیکن دوسرے مشکل تصورات ان امور کے ساتھ خاص تھے جو میں واضح کرنا چاہتا تھا۔ دو تصورات بالخصوص ایسے تھے جو میں سمجھتا تھا کہ مجھے شامل کرنے چاہییں۔ ان میں سے ایک تو نام نہاد sum over histories تھا۔ اس تصور کا مطلب یہ تھا کہ کائنات کی کوئی ایک مخصوص تاریخ نہیں ہے بلکہ کائنات کی ہر ممکن تاریخ کا ایک مجموعہ ہے، اور یہ تمام تاریخیں (histories) ایک جتنی ہی حقیقی ہیں (چاہے اس کا جو بھی مطلب ہو)۔ دوسرا تصور ، جو sum over histories کا ریاضیاتی فہم تشکیل دینے کے لئے ضروری ہے، وہ "تصوراتی وقت" (imaginary time) کا ہے۔ لیکن اب جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ مجھے ان دو نہایت مشکل تصورات کی صراحت میں مزید محنت کر نی چاہئے تھی، بالخصوص "تصوراتی وقت" کے تصور کو سمجھانے میں، جو کتاب کا وہ موضوع ہے جسے سمجھنے میں لوگوں کو سب سے زیادہ مشکل پیش آتی ہے۔ تاہم، بالکل درست طور پر یہ سمجھنا کہ "تصوراتی وقت" کیا ہے، ضروری نہیں – صرف اتنا ہے کہ یہ اس وقت سے مختلف ہے جسے ہم حقیقی وقت (real time) کہتے ہیں۔

جب کتاب کی اشاعت کا وقت قریب تھا تب اسے ایک سائنس دان کو بھیجا گیا تاکہ وہ  Nature میگزین کے لئے اس پر اپنے تاثرات قلمبند کر سکے۔ انہیں یہ دیکھ کر بہت ناگواری ہوئی کہ کتاب غلطیوں سے بھری پڑی ہے، تصاویر اور خاکوں پر غلط لیبل لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے Bantamپریس کو کال کی، جنہوں نے اتنی ہی ناگواری محسوس کی اور اسی دن یہ فیصلہ کیا کہ کتب خانوں کو تقسیم شدہ تمام کاپیاں واپس منگوائی جائیں گی اور یوں شائع شدہ تمام کاپیوں کو ضائع کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد انھوں نے تین ہفتے پوری شد و مد کے ساتھ کتاب کی غلطیاں درست اور ری چیکنگ کرنے میں لگائے، اور درست شدہ کتاب اپریل کے مہینے میں کتب خانوں میں دستیابی کے لئے تیار تھی۔ اس وقت تک ٹائم میگزین نے میرا پروفائل شائع کر دیا تھا۔ اور کتاب کی اشاعت کے بعد اس کی مانگ نے ایڈیٹرز کو حیران کر دیا۔ کتاب اس وقت امریکہ میں سترہویں بار اور برطانیہ میں دسویں مرتبہ چھاپی جا رہی ہے

اتنی تعداد میں لوگوں نے اسے کیوں خریدا؟ میرے لئے مشکل ہے کہ میں معروضی تبصرہ کرپاؤں گا، اسی لئے میں لوگوں کی رائے کو زیادہ وقعت دوں گا۔ میں نے زیادہ تر آراء کو ، اگرچہ وہ میرے حق میں تھیں، بے رنگ پایا۔ اُن سب کا ایک ہی فارمولا تھا: سٹیفن ہاکنگ کو Lou Gehrig  یا موٹر نیوران نامی بیماری ہے (امریکی تبصروں میں بیماری کا نام Lou Gehrig جبکہ برطانوی تبصروں میں بیماری کا نام motor neuron disease لکھا گیا)۔ وہ ایک وہیل چیئر تک محدود ہے، بول نہیں سکتا، اور صرف چند انگلیاں ہلا سکتا ہے۔ ان سب کے باوجود اس نے سب سے بڑے  سوال ، یعنی ہم کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں، پر ایک کتاب لکھ ڈالی ہے۔ ایک اور مبصر کہتا ہے ، "(اس سوال کا ) جو جواب ہاکنگ تجویز کرتا ہے وہ ہ یہ ہے کہ کائنات نہ تخلیق کی گئی ہے نہ تباہ شدہ ہے: یہ بس ہے"۔ دوسرا مبصر کہتا ہے،"اس تصور کو واضح کرنے کے لئے ہاکنگ "تصوراتی وقت" (imaginary time) کومتعارف کراتا ہے، جو میرے لئے (یعنی مبصر کے لئے) سمجھنا ذرا مشکل ہے۔ اس کے باوجود اگر ہاکنگ درست کہہ رہا ہے اور ہم آخرِ کار ایک مکمل نظریہ وضع کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، ہم یقیناً خدا کا دماغ سمجھ جائیں گے"۔ (کتاب میں اس مدعے کو ثابت کرنے والے باب کے آخر میں میں نے آخری فقرہ حذف کر ڈالا، جو کہ یہ تھا کہ ہم خدا کا دماغ جان سکتے ہیں۔ اگر میں ایسا کر چکا ہوتا، تو کتاب کی فروخت شاید پچاس فیصد کم ہو جاتی)

برطانوی اخبار The Independent، میں ایک نسبتاً بہتر تبصرہ شائع ہوا۔ تبصرے کے مطابق A brief History of Time جیسی سنجیدہ سائنسی کتاب بھی ایک cult book بن سکتی ہے، جیسے کہ My wife was horrified ہے۔ لیکن میں تب زیادہ خوش ہوا جب میری کتاب کا موازنہ Zen and the Art of Motorcycle Maintenance سے کیا گیا، کہ یہ لوگوں کو احساس دلاتی ہے کہ انہیں عظیم علمی اور فلسفیانہ سوالات سے خود کو دور نہیں کرنا چاہئے۔

بلا شک و شبہ،لوگوں کی اس امر میں دلچسپی بھی کتاب کی فروخت کا باعث بنی ،کہ میں اپنی جسمانی طور پر اپاہج ہونے کے باوجود ایک نظری طبیعات کا سائنس دان کیونکر بن پایا۔ لیکن جنہوں نے یہ کتاب(اس) انسانی دلچسپی کے زاویے سے خریدی، وہ یقیناً مایوس ہوئے ہوں گے کیونکہ میری جسمانی حالت سے متعلق کتاب میں ایک دو سے زائد حوالہ جات نہیں ہیں۔ کتاب کائنات کی تاریخ سے متعلق تھی، نہ کی میری ذاتی تاریخ۔ لیکن اس کے باوصف ان الزامات سے خلاصی نہ ہو سکی جو Bantam پر لگائے گئے تھے کہ انہوں نے بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میری بیماری کو 'استعمال' کیا اور یہ کہ میں نے انہیں اپنی تصویر کتاب کا کور پیج (cover page) پر لگانے کی اجازت دے کر ان کے ساتھ تعاون کیا۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ ہمارے مابین طے پانے والے معاہدے کے مطابق کتاب کے کَور پر میرا کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ تاہم میں Bantam پریس کو اتنا قائل کرنے میں ضرور کامیاب ہو گیا کہ وہ برطانوی ایڈیشن کے سرورق پر امریکی ایڈیشن کی پرانی تصویر کی نسبت کوئی بہتر تصویر لگائیں۔ تاہم Bantam نے امریکی ایڈیشن کے سرورق کو بھی تبدیل نہ کیا کیونکہ اُن کے مطابق امریکیوں کے نزدیک یہ تصویر کتاب کی پہچان بن چکی تھی۔

یہ بھی کہا گیا کہ لوگوں نے اس قدر تعداد میں کتاب اس وجہ سے خریدی کیونکہ انھوں نے اس پر مثبت تبصرے پڑھے یا یہ کہ کتاب ایک عرصہ تک بیسٹ سیلر کی فہرست میں رہی؛ بالفاظ دیگر، لوگوں نے کتاب کثیر تعداد میں خریدی ضرور تھی لیکن پڑھی نہیں تھی۔ کتاب یا اُن کے شیلف پر یا کافی ٹیبل پر پڑی ہے، اور یوں وہ کتاب اپنی دسترس میں ہونے پر فخر تو کر سکتے ہیں لیکن اسے سمجھنے کی کوشش لوگوں نے بہرحال نہیں کی۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا ہی ہوتا ہے، لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ میری کتاب کے ساتھ یہ سلوک ، بائبل اور شیکسپیئر کی کتابوں سمیت ،دوسری سنجیدہ کتابوں سے بھی زیادہ ہوا ہو گا، ۔ دوسری جانب میں یہ جانتا ہوں کہ کم از کم کچھ لوگوں نے تو کتاب ضرور پڑھی ہو گی کیونکہ ہر روز میرے پاس ڈھیروں خطوط آتے ہیں، جن میں بہت سے لوگوں نے سوالات پوچھے ہوتے ہیں اور بہت سے لوگوں نے تفصیلی تبصرے کئے ہوتے ہیں جن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اگرچہ وہ کتاب پوری طرح نہیں بھی سمجھتے،تب بھی انھوں نے کتاب کو پڑھا ضرور ہے۔ مجھے گلی میں اکثر اجنبی لوگ روک لیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ کتاب سے کس قدر لطف اندوز ہوئے۔ یقیناً مجھے پہچاننا بہت آسان اور واضح ہے، اگرچہ میں دوسرے مصنفین جیسا ممتاز اور مشہور نہیں ہوں۔ لیکن جس تعداد میں مجھے عوامی مبارکبادیں وصول ہوتی ہیں (جس سے میرا نو سالہ بیٹا بہت گھبراتا ہے) اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جنہوں نے کتاب خریدی، ان کی کم از کم ایک معقول تعداد نےاسے پڑھا بھی ہے۔

لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میرے مستقبل کے کیا ارادے ہیں؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ شاذ ہی میں وقت کی مختصر تاریخ کا دوسرا حصہ لکھ پاؤں۔ میں اس کا کیا نام رکھوں گا؟ وقت کی نسبتاً طویل تاریخ؟ وقت کے اختتام سے آگے؟ وقت کا بیٹا؟ میرے ایجنٹ نے تجویز کیا ہے کہ مجھے اپنی زندگی کے بارے میں ایک فلم بنائے جانے کی اجازت دے دینی چاہئے۔ لیکن نہ ہی میں اور نہ ہی میرے گھر بار والوں کی کوئی عزت نفس باقی رہ جائے گی اگر ہم خود کو بطور اداکار کے دور پر لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ نسبتاً کم باعثِ شرمندگی یہ امر ہو گا اگر میں کسی کو اپنی زندگی کے بارے میں لکھنے میں مدد کروں۔ ظاہر ہے میں کسی کو اپنی زندگی کے بارے میں لکھنے سے نہیں روک سکتا اگر کوئی اپنے طور پر ایسا کرنا چاہے، سوائے اس کے کہ وہ توہین آمیز ہو، لیکن میں لوگوں کو یہ کہہ کر اپنے بارے میں لکھنے سے روکے ہوئے ہوں کہ میں خود نوشت لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ ہو سکتا ہے میں لکھوں بھی۔ لیکن مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔ کیونکہ سائنس کے موضوعات میں میرا پاس کرنے کو ابھی بہت کچھ باقی ہے۔




محمود درویش کی نظمیں (تخلیقی ترجمہ: ادریس بابر)

ادارتی نوٹ: ادریس بابر نے عشرے کی صنف کے امکانات کو مزید وسعت دیتے ہوئے محمود درویش کی نظموں کا تخلیقی ترجمہ انہیں عشرے کے قالب میں ڈھال کر کیا ہے۔ اس تجربے کے مستقبل کا فیصلہ اب آپ قارئین کے ہاتھ میں ہے۔

آخر کب ملیں گے ہم
تم کہتی ہو
میں کہتا ہوں
جب ختم ہو گی
جنگ!
جنگ!
کب ختم ہو گی
تم کہتی ہو
میں کہتا ہوں
جب ہم ملیں گے

صبر کرو
کہا جاتا ہے
کتنا صبر کریں
ہم پوچھتے ہیں
صبر کرو
کہا جاتا ہے
کب تک صبر کریں
ہم پوچھتے ہیں
قیامت تک
کہا جاتا ہے

کیوں خواب دکھاتے ہو
ایک ایسے کل کے
جس میں تم شامل نہ ہو گے

میں نہ سہی تم تو ہو گے نا
یہی تو خواب کا بہترین حصہ ہے

تم اس سرنگ میں
ٹھیک میرے پیچھے چل رہے ہو گے نا

میں اس سرنگ میں
تمہارے ساتھ چل رہا ہوں گا
اور تمہارے بغیر بھی!

رات
یہ رات
ہر رات
ایک گرگ-گرسنہ ہے کہ نہیں، ماں!
ہمیشہ تعاقب کیا جاتا ہے ہمارا
ہم جو پہلے ہی وطن سے دور ہیں
ایسا کیا انیائے کیا ہے ہم نے، ماں؟
کہ ہمیں کم سے کم دو بار مرنا پڑے
ایک بار جیتے جی
ایک بار مرتے دم

جامعات کی اسناد
مجموعہ ہائے کلام
درجنوں مقالے
سینکڑوں حوالے
سب! تمام ایک طرف
دوسری طرف میں
عام قرات میں سہو کا مرتکب
کوئی نہ کوئی لکھ بھیجتا ہے
سویرے مییسج میں : گڈ مارننگ
اور میں ادبدا کے پڑھتا ہوں:
آئی لو یو!




آنکھیں اندر، کہیں رہ جاتی ہیں (کے بی فراق)

عرفان!
آپ کی آنکھیں
ناقابلِ برداشت ہیں
اُس معاشرے کے لیے
جو اندر سے فتور کا حامل ہو
اُس شخص کے لیے
جو زندگی کی امرت کو
مرتیو کے رنگ میں بِلونا چاہتا ہے
اور اِس تاک میں ہے کہ
آنکھیں
کہیں اندر سے
کُھب نہ جائیں
اور وہ کچھ نہ دیکھ لیں
جو زندگی کو
مرتیو
اور نفرت سے بدل کر
محض ایک چھتنار
پیڑ کی صورت
سایہ فگن کر دے
اور پھل کے بجائے
دو آنکھیں جنمے
جیون کی ارتھ کو تلاشتی
روشن ہوتے
اور رنگ منچ کی اِس جل کھپٹ میں
سادھارن آدمی کی
موجودگی کو
باور کرائے
کیونکہ اِن دنوں یہ کردار
راندہء درگاہ
ہونے کو ہے۔




مد و جزر (از آرزو خوشنام)

آرزو خوشنام شاعرہ ہیں اور ایران کے مشہور موسیقی کے نقاد محمود خوشنام کی بیٹی ہیں۔ جرمن میں لکھتی ہیں۔ حال ہی میں ان کے والد کی وفات پر انھوں نے چند نہایت دل سوز نظمیں لکھیں۔ ان کی نظموں کے تراجم معا اصل متن کے شامل کیے جا رہے ہیں۔

In Schüben

Das Herz begreift langsamer als der Kopf. Ich erwarte es schon länger, und dennoch trifft es mich wie ein Schock. Du bist schon länger weg, doch erst jetzt wird aus dem Wissen ein Gefühl. Ein Gefühl, das sofort da war, aber schnell zurückgedrängt wurde. Es ist wie mit den Gezeiten. Es überflutet dich und lässt erst von dir ab, wenn es seinen Stempel auf dir hinterlassen hat. Du kommst zur Ruhe, bis zur nächsten Welle.

دل دماغ سے بہت دیر بعد سمجھتا ہے
میں بہت پہلے ہی سے اس کی منتظر ہوتی ہوں
پر وہ پھر بھی مجھے جھنجھوڑ دیتا ہے
تم کب کے جا چکے ہو
مگر ابھی،
میری دانست احساس میں تبدیل ہو رہی ہے،
وہ احساس جو وہیں ہی تھا،
جسے فورا پیچھے دھکیل دیا گیا تھا
وہ احساس ایسے ہے جیسے اونچی لہریں۔
جو تمھیں پہلے ڈبوتی ہیں اور پھر
تب چھوڑتی ہیں جب وہ اپنا نقش تم پر چھاپ چکی ہوتی ہیں۔
 تم کچھ لمحوں کو سانس لے سکتے ہو
پس مگر ---
اگلی لہر کے اٹھنے تک




شانتا راما — باب 25: انسان (ترجمہ: فروا شفقت)

"آپ مجھے بہت ہی بھا گئے ہیں۔"

ایک دن شرما کر جےشری نے مجھے بتا دیا اور تب مجھے ہوش آیا کہ انجانےمیں ہی میں کہاں الجھتا چلا جا رہا ہوں! اپنے عہد پر قائم شانتارام نے اسے جواب دیا، "لیکن میں شادی شدہ ہوں، بال بچوں والا ہوں۔ اور دوسری شادی میں کبھی نہیں کروں گا!"

"کوئی بات نہیں، میں بنا بیاہ کیے ہی آپ کے ساتھ رہ لوں گی!"

میں حیران ہو گیا۔ اسے سمجھانے کے لیے بولا، "بات سنو۔ میں کوئی بھی بات چوری چھپے نہیں کرتا۔ جو بھی کرنا ہو کھلم کھلا کرتا ہوں!"

اس پر جوش سے اس نے کہا، "تب تو اور بھی اچھا۔ ہم دونوں کھلم کھلا ساتھ رہیں گے۔"

میں کشمکش میں پڑا۔ کیا جواب دوں، سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ اس لیے کہہ دیا، "تم چلی جاؤ بھلا یہاں سے!"

وہ اٹھی، کچھ روٹھ کر ہی ٹھٹھکی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔

رات کو بستر پر لیٹا تو دوپہر کا وہ سین پھر یاد آ گیا۔ باتوں کا منظر ہی آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگا: 'پڑوسی' اور 'شیجاری' بمبئی میں ریلیز کر میرے پُونا لوٹ آتے ہی جےشری مجھ سے ملنے کمپنی آئی تھی اور اس نے مجھے دلی مبارکباد دی تھی۔ اس دن چونکہ مجھے خاص کام وام نہیں تھا، میں اس کے ساتھ کافی دیر تک باتیں کرتا رہا تھا۔ اس کے ساتھ باتیں کرنے سے میری ساری تھکان دور ہو گئی تھی۔

دھیرے دھیرے ہماری میل ملاقاتیں بڑھنے لگیں۔ کبھی کبھی شام کو کمپنی سے میں اس کے گھر جانے لگا، اگرچہ میں لُک چھپ کر نہیں جاتا تھا۔ میری سفید سٹوڈی بیکر کار اس کے گھر کے سامنے کھڑی رہتی تھی۔ اس طرح میرا جےشری کے گھر جانا کمپنی میں کافی چرچا کا موضوع بن گیا۔ ایک بار تو داملے جی، فتے لال جی بھی اس راستے کی سیر کر آئے تاکہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ واقعی میری گاڑی اس کے گھر کے سامنے کھڑی ہے۔

جےشری کی صحبت میں میری شامیں اچھی طرح کٹنے لگیں۔ باتیں کرنے کے لیے نئے نئے موضوعات آرام سے ہی سوجھنے لگے۔ اپنی موٹی موٹی کجراری آنکھوں اور ابھری ہوئی جوانی سے وہ مجھے موہنے کی پوری کوشش کرنے لگی۔ جےشری کی آواز بہت ہی مدھر اور ادا من بھاون تھی۔ گائیکی بہت ہی میٹھی تھی۔ یہ باتیں میرے تھکے من کو رِجھانے لگیں۔ 'سواڈمیین گیتین، یوتیناں چ لیلیا۔ یسیہ نہ مودتے چتم س وے مکتوتھوا پش۔۔۔'] اگر کوئی شخص شعر و ادب، سنگیت اور جوان عورت کی اداؤں سے خوش نہیں ہوتا تو وہ مکتی پا چکا ہے یا جانور ہے۔[ پتنی، بال بچے، گھر گرہستی کے ہوتے ہوے بھی میں بھلا آزاد کیسے؟ اور جانور؟ وہ تو میں کبھی تھا ہی نہیں۔ میرا من جےشری کی جوانی کے کارن خوش ہونے لگا۔

لیکن اس کی سزا؟ آج تک تو میں ایسے موہ سے بچتا رہا ہوں۔ اسی لیے میرے رابطے میں آئے لوگ مجھے دیوتا آدمی سمجھتے رہے ہیں۔ اپنی اس مورتی کو مجھے قائم رکھنا ہے۔ مورتی قائم کرنا ہے؟ کیا جیون بھر؟ تب تو کیا یہ خود کو دھوکہ دینا نہیں ہے؟ تمھارا من جےشری کی صحبت میں رم جاتا ہے۔ اس کی تمھیں کشش ہے، ایک طرح کا لگاؤ ہو گیا ہے۔

— تو اب اس کا کیا حل ہے؟
—نہیں، یہ ناممکن ہے! آج تک ایسے سبھی منظروں سے میں بےداغ، بےلاگ نکل آیا ہوں۔ اس بار بھی ویسا ہی نکل جاؤں گا، مجھے پورا یقین ہے!
—پورا یقین؟ جس سمے آدمی 'یقین ہے' کے پہلے 'پورا' لفظ زور دے کر استعمال کرتا ہے، تب یقین جانیے اس کا یقین کچھ ڈگمگا گیا ہوتا ہے۔
نہیں!— میں جےشری کو بُھلا دینے والا ہوں اور اس کی پہلی علامت کے طور پر اب گہری نیند سونے والا ہوں۔

میں نے کروٹ بدلی۔ پاس ہی میں وِمل شانت نیند میں کھوئی تھی، میرے من میں اٹھے طوفان سے بےخبر۔ میں نے اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ وہ نیند میں ہی بڑبڑائی، "اجی، یہ کیا نا وقت ہی؟" میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سویرے سویرے میری آنکھ لگی۔ اس کے بعد میں گہری نیند سو گیا۔

دوسرے دن جےشری میرے آفس میں آئی۔ میں نے اسے کچھ رکھائی سے ڈانٹ کر کہا، "سنو جےشری، میرے بلائے بِنا تم میرے کمرے میں مت آیا کرو۔"

'ٹھیک ہے، نہیں آؤں گی! لیکن دوپہر میں تو آپ مجھے بُلوا لیں گے نا؟" ٹھٹھولی بھری مسکان بکھیر کر اس نے پوچھا۔

میں نے اس پر ایک ٹک نظر گڑائی۔ وہ چلی گئی۔

'شیجاری' اور 'پڑوسی' بھارت بھر میں ریلیز ہو گئیں اور دونوں فلموں نے 'پربھات' کے حسن میں چار چاند لگا دیے، اس میں کوئی شک نہیں! لیکن دس بارہ ہفتے بعد تماشائیوں کی بھیڑ دھیرے دھیرے کم ہونے لگی۔ اصل میں یہ میرے لیے غیرمتوقع نہیں تھا۔ اس فلم میں وِلن ٹھیکیدار کا کردار برٹش راج کے نمائندے کے روپ میں فلمایا کیا گیا تھا اس لیے سنسر کی قینچی کے ڈر کے کارن اسے حقیقی کرنا ممکن نہ ہو پایا تھا۔ اس کے علاوہ ان دنوں ہندو مسلمانوں میں اتنا زیادہ تناؤ تھا کہ میں ان دونوں سماجوں کا اصل دکھاتا تو کیا ہندو، کیا مسلمان، دونوں مجھ پر چیل سے جھپٹ پڑتے۔ کرداروں کے فلماتے سمے اس الجھن سے نپٹنے کی جھنجھٹ کا دھیان زیادہ رکھنا ضروری تھا۔ اسی لیے ان شخصی خاکوں میں جیون کی حقیقت کا درشن کرانے والا انتہائی ڈرامہ نہیں آ پایا تھا۔ جیوبا پاٹل کا شخصی خاکہ دیکھ کر کچھ ہندو تو آگ بگولا ہو گئے تھے۔ ممبئی کی ایک ہندو دھرم عقیدے کے کچھ افراد نے تو ایک اعلان بھی جاری کیا تھا کہ 'ہر سچا ہندو بھائی بند اس فلم کا بائیکاٹ کر کرے۔' اس طرح کی دوستانہ، غیردوستانہ تنقید کے کارن 'شیجاری' اور 'پڑوسی' نے سارے دیسں بہت ہی کھلبلی مچا دی۔ لیکن آدرشوں پر مبنی فلم کو معاشی یا کاروباری نظر سے ہمیشہ کم ہی کامیابی ملتی تھی۔ اس کارن میرے ساتھی ایسی فلموں کے حق میں زیادہ جوش نہیں دکھاتے تھے۔ وہ آپس میں بیٹھ کر اس پر کافی ہنسی مذاق کیا کرتے کہ: "اجی چھوڑیے ان آدرشی اور وقار دلانے والی فلموں کی بات! ان سے تو ہماری 'تکارام'، 'گوپال کرشن'، 'گیانیشور' نے ہی زیادہ آمدنی دی ہے۔" اس سوچ کی حمایت کرنے والے داملے جی، فتے لال جی کے گروپ میں راجہ نےنے، کیشوراؤ بھولے وغیرہ لوگ بھی شامل ہو گئے تھے۔ ان لوگوں کا یہ ہنسی مذاق، میرے کسی کام سے اچانک جا پہنچتے ہی یکایک بند ہو جاتا۔ ایسا اکثر ہونے لگا۔ 'پربھات' اب فلم میکنگ کی جگہ نہ رہ کر جگت بازی کا اکھاڑا بن گیا۔ من کو لگاتار یہی وچار پریشان کرنے لگا کہ کیسے اس آلودہ ماحول کو ٹھیک کیا جائے؟ میں خود تو ہمیشہ کام میں مصروف رہتا تھا۔ سوچا کہ ان لوگوں کو بھی اسی طرح کسی نہ کسی کام میں جٹائے رکھا جائے، تو شاید ماحول آہستہ آہستہ اپنے آپ صاف ہو جائے گا۔

حال ہی میں سُکھٹنکر نامی ایک لیکھک نے ایک اچھی پرجوش کہانی لا کر دی تھی۔ کہانی پیشوا دور کے جج 'رام شاستری' کے جیون پرمبنی تھی۔ اس کے ہر سین کے بارے میں سُکھٹنکر جی کے ساتھ میں نے چرچا کی اور ان کی کہانی پر آخری نظر ڈالنے لگا۔ فتے لال جی کے ساتھ بیٹھ کر سیٹس اور پوشاکوں وغیرہ کے ideas انھیں دیے۔ اس کے مطابق وہ سکیچز بنا کر بڑھئی کو دینے لگے اور رنگ ساز ڈیپارٹمنٹ میں بھی سین کھڑے ہونے لگے۔ پیشواکالین (پیشوا زمانے کی) پوشاکیں بھی بننے لگیں۔ ایک دن اچانک 'گیانیشور' اور 'تکارام' فلم کے سکرین پلے لیکھک شِورام واشیکر مجھے کمپنی میں مل گئے۔ میں نے سہجتا سے پوچھا، "کہیے واشیکر، پُونا کب آئے آپ؟"

"ہو گئے ہوں گے دس ایک دن، داملےجی نے بلوایا تھا 'سنت سکھو' پر سکرین پلے لکھنے کے لیے۔"

"ارے! اور مجھے اس کی کوئی جانکاری تک نہیں!"

اس پر واشیکر جی بولے، "دیکھیے، میں نے داملے ماما سے اس بارے میں کہا بھی تھا۔ لیکن انھوں نے کہا کہ اس بار کہانی کے انتخاب سے لے کر بالکل آخر تک ہم کو ہی فلم بنانا ہے۔ شانتارام بابو کو اس معاملے میں تھوڑی بھی زحمت نہیں دینی ہے۔‘‘

داملے کی بات کا ارادہ میری سمجھ میں برابر آ گیا۔ داملے، فتے لال کی نظر سے سوچ کر دیکھا۔ ان کی کوئی غلطی تو اس میں مجھے دکھائی نہیں دی۔ لیکن کلیجے میں ایک ٹیس ضرور اٹھی۔ آج تک ان دونوں کی فلموں کے موضوع، مکالمے اور کئی بار تو کئی منظروں کا سنیریو بھی میں ہی لکھ کر دیتا رہا۔ کسی مشکل سین کو فلمانے کی ذمہ داری بھی یہ لوگ بِنا جھجھک مجھے سونپتے رہے۔ لیکن آج۔۔۔ وچاروں کی ادھیڑبن کو من کے کسی کونے میں رکھ کر میں نے واشیکر سے کہا، "چلو، ٹھیک ہی ہوا ایک لحاظ سے۔ آپ اچھا سکرین پلے لکھیے گا۔" اتنا کہہ کر میں کمپنی کے کسی اور ڈیپارٹمنٹ میں جانے کو بڑھا۔ جاتے جاتے وچاروں نے پھر مجھے گھیر لیا : سچ پوچھا جائے تو داملے، فتے لال جی نے آج تک ایک دم خودمختاری سے کوئی فلم بنائی نہیں تھی۔ آج تک وہ میری مدد لیتے رہے۔ کیا اب اس مدد کے بِنا وہ ایک اچھی فلم واقعی بنا سکیں گے؟ کاش ایسا ہو پائے! تب تو میں اپنی فلم بنانے پر زیادہ دھیان دے سکوں گا۔

اس نتیجے پر پہنچتے ہی من کا سارا غبار اتر گیا۔ کافی ہلکا ہلکا سا لگنے لگا۔ چلتے چلتے میں ایسے ہی کمپنی کے کارپینٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں پہنچ گیا۔ جوش سے میں 'رام شاستری' کی سیٹنگ دیکھنے کو مڑا۔ وہاں فتے لال جی اکیلے ہی تھے۔ سیٹنگ کے بارے میں باتیں ہو جانے کے بعد فتے لال مجھ سے داملے کے بارے میں شکایتیں کرنے لگے، "اس 'سنت سکھو' کے بارے میں انھیں میں نے چند بہت اچھے سجھاؤ دیے، پر داملے جی نے ان کی طرف دیکھا تک نہیں، پھر قبول کرنا تو دور کی بات ہو گئی۔ ایسے پیش آتے ہیں، جیسے میں نِرا بُدھو ہوں، بےوقوف ہوں۔ لیکن کیا کروں، اُن واشیکر اور داملے کے بھانجے راجہ نےنے کے سامنے مجھے چپ ہی بیٹھنا پڑتا ہے!"

حقیقت میں داملے کے مقابلے فتے لال کہیں زیادہ امیجنیٹیو (پُرتخیل) تھے۔ ایسے ہی مجھے 'گیانیشور" کی میکنگ کے سمے ان دونوں میں ہوے اختلاف کا سین یاد آ گیا۔ فلم کا آخری سین تھا: گیانیشور سمادھی لینے کے لیے آہستہ آہستہ سمادھستھان کی طرف جا رہے ہیں۔ دونوں طرف گانے والوں کی بھیڑ جمع ہو گئی ہے۔ سب ہاتھ جوڑے ہوے ہیں۔ اس سین کو فلماتے سمے فتے لال نے داملے کو سجھاؤ دیا کہ اس سین میں ایسا منظر لیا جائے کہ بال بچوں والی ایک ماتا بھیڑ میں سے آگے آتی ہے اور اپنے بچے کو گیانیشور کے چرنوں پر رکھتی ہے۔ واقعی میں اس چھوٹے سے منظر کے کارن سارا سین بہت ہی جاندار اور دل چُھو جانے والا ہو جاتا۔ لیکن داملے اور راجہ نےنے دونوں نے اس سجھاؤ کو ایک دم ٹھکرا دیا۔ شام کو فتے لال جی نے اپنے دل کی چوٹ بہت ہی ٹھیس لگے لفظوں میں مجھے سنائی۔ مجھے بھی بُرا لگا۔ دوسرے دن اس واقعے کے بارے میں میں نے داملے سے خود بات چیت کی۔ انھیں بتا دیا کہ فتےلال جی کا سجھاؤ واقعی اچھا ہے۔ آخر داملے اس منظر کو لینے کے لیے تیار ہو گئے۔

اب بھی فتے لال کی گئی شکایتوں کے کارن میرے من میں اس سین کے ساتھ ہی دیگر بیتی باتیں ابھر آئیں۔ میں نے فتے لال سے دل سے کہا، "داملے ماما کو 'سنت سکھو' کو جیسی مرضی ہو فلمانے دیں۔ آپ خودمختار روپ سے دوسری فلم کی ڈائرکشن کیجیے۔ 'رام شاستری' کے سکرین پلے کو میں نے بہت ہی پُراثر بنوا لیا ہے، اس کے مکالمے بھی تیار ہیں۔ آپ ہی لیجیے 'رام شاستری' کو۔"

"کیا میں لوں؟ اکیلے؟" فتے لال جی کچھ جھجک سے کہنے لگے۔

"جی ہاں۔ اس میں کیا حرج ہے؟ آپ گھبراتے کیوں ہیں؟ میں جو ہوں آپ کی مدد کے لیے! آپ کا معاون بن کر کام کروں گا!"

"معاون؟" کہہ کر فتے لال زور سے قہقہہ مار کر ہنسنے لگے۔

'رام شاستری' کی میکنگ کا کام فتے لال لیں، تو مجھے اپنے لیے کسی نئی کہانی کی کھوج کرنی ہو گی۔ مشہور لیکھک اور ڈائیلاگ رائٹر خواجہ احمد عباس اور فلم 'انڈیا' ماہانہ میگزین کے ایڈیٹر بابوراؤ پٹیل دونوں نے مل کر عمر خیام کے شاعرانہ جیون پر ایک بہت ہی شاندار کہانی لکھی تھی۔ میں نے ان دونوں کو فوراً پونا بُلوا لیا، ان کی نئی کہانی پر ہم لوگوں کی چرچائیں کافی رنگ پر آ گئیں۔ بابوراؤ پٹیل اور خواجہ احمد عباس دونوں مشہور لیکھک تھے، قلم کے دھنی تھے۔ عمر خیام کے جیون کے کچھ منظروں کا ذکر وہ اتنے پُربہار ڈھنگ سے کرتے کہ سنتے سنتے میں جذباتی ہو جاتا اور میری آنکھیں بھر آتیں۔ کبھی کبھی تو آنسو پھوٹ پھوٹ کر بہہ نکلتے۔ شروع میں تو میرے آنسو دیکھ کر ان دونوں کو کچھ حیرانی ہوتی۔ 'شانتارام روتا ہے' کے عنوان سے اس سمے انھوں نے ایک مضمون میں ان چرچاؤں کا ذکر بھی کیا تھا۔ عمر خیام کی کہانی کا موٹا خاکہ تیار ہو جانے پر میں نے فتے لال جی کو کہانی اس کے بیک گراونڈ، اس کے لیے ضروری کپڑے اور سیٹس وغیرہ کا آئیڈیا سمجھا کر بتایا۔ یہ شاعرانہ موضوع انھیں بہت ہی پسند آیا اور وہ ہمیشہ کی طرح جوش سے کام میں جٹ گئے۔

"سکھی تم ہو، تمھارا پاس ہو شباب
اور ساتھ دینے کو ہو صراحی میں شراب"

عمر خیام کی اس مشہور رباعی میں بیان کردہ سکھی کے کردار کے لیے جےشری ہی سب سے مناسب اداکارہ ہو گی، فتے لال جی نے بِلاجھجک کہہ دیا۔ یہی نہیں انھوں نے کاسٹیوم ڈیپارٹمنٹ میں مسلم کاسٹیوم کے جو بھی کپڑے تھے، اسے پہنا کر اس کی طرح طرح کے پوز میں تصویریں بھی اتاریں۔ ان تصویروں کے لیے انھوں نے اُسے اپنے سکیچز میں دکھائے گئے ڈھنگ سے کھڑا کیا تھا۔ مختلف جذباتی تاثرات میں انھوں نے جےشری کے فوٹوز لیں۔

فتے لال جی کو یہ شاندار کہانی اتنی راس آ گئی کہ اس موضوع پر بننے والی فلم کی ڈائرکشن خود کرنے کا وچار ان کے من میں اٹھنے لگا۔ عمر خیام ایک ایسا موضوع تھا، جس کی ڈائرکشن بہت ہی ٹیڑھی کھیر تھی۔ لیکن میں اگر صاف صاف ویسا کہہ دیتا، تو شاید ان کے دل کو پھر ٹھیس پہنچتی۔ لہٰذا میں نے ان سے کہا، "ہم لوگوں نے 'پڑوسی' میں جیسا کیا تھا، ویسا ہی کرتے ہیں۔ اس میں جس طرح ہندو پڑوسی کا کام مسلمان اداکار کو اور مسلمان پڑوسی کا ہندو اداکار کو سونپا تھا، اسی طرح ہماری آئندہ فلموں کی ڈائرکشن کا بھی انتظام کرتے ہیں۔ آپ مسلمان ہیں، لہذا پیشوا دور کی کٹر براہمن ماحول والی 'رام شاستری' کی ڈائرکشن آپ کیجیے، اور اس فارسی بھاشا مسلمان شاعر پر مبنی فلم میں ڈائرکٹ کرتا ہوں۔ اس میں ہم دونوں کے ڈائرکشن سٹائل کا امتحان ہو جائے گا۔ کیوں، کیسا لگا یہ چیلنج؟"

"یہ چیلنج مجھے قبول ہے،" فتے لال نے ایک دم زور سے کہا۔

کچھ دنوں بعد واشیکر 'سنت سکھو' کی کہانی اور مکالموں کی کاپی لے کر میرے پاس آئے۔ کہنے لگے، پڑھ کر بتائیے کیسا لگا۔ میں نے انھیں دو دن بعد ملنے کے لیے کہا۔

میں یہی نہیں جان پایا کہ 'سنت سکھو' کی کہانی واشیکر جی خود مجھے دکھانے کے لیے لے آئے تھے یا داملے کے کہنے پر۔ میں نے کہانی پورے دھیان سے پڑھی مجھے وہ قطعی پسند نہیں آئی۔ کہانی کی رچنا میں کسی بھی طرح کا نیاپن نہیں تھا۔ میں نے کہانی کو دوبارہ پڑھا اور کہاں پر کیا کیا سدھار کرنے کی ضرورت ہے، نوٹ کیا۔ دوسرے دن جب واشیکر رائے پوچھنے کے لیے آئیں گے، تو انھیں اپنی رائے ایک دم صاف صاف اور دوٹوک لفظوں میں کہہ دینے کا بھی میں نے من ہی من طے کر لیا۔ آخر پربھات' کے نام پر وہ فلم ریلیز ہونے والی تھی۔

دوسرے دن واشیکر آئے۔ بات کس طرح شروع کی جائے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ تھوڑی دیر ادھرادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ بعد میں واشیکر نے ہی معاملہ سیدھے اٹھایا، "کیسی لگی کہانی آپ کو؟" کہانی کی کاپی سامنے ہی پڑی تھی۔

میں کچھ پل من ہی من کچھ سوچتا رہا۔۔۔۔ کہانی ٹھیک سے جمی نہیں کہہ دوں، اور داملے جی نے کہیں یہ سوچ لیا کہ ایسا میں اپنی اہمیت بڑھانے کے لیے ہی جان بوجھ کر کہہ رہا ہوں تو؟

میں نے کاپی وشیکرن جی کے سامنے کھسکاتے ہوے کہا، "ٹھیک ہے۔"

میرا خیال تھا کہ میرے اس بےرخی بھرے جواب کا مطلب ان کے دھیان میں آ جائے گا، لیکن وہ کچھ نہ بولے۔ تھوڑی دیر اور اِدھراُدھر کی باتیں کرنے کے بعد اپنی کاپی اٹھا کر چلتے بنے۔

میرا من غصے سے بھر گیا۔

کیوں نہ میں نے صاف گوئی سے کام لیا؟ کیا اس لیے کہ داملے کو غلط فہمی ہوتی؟ یہ تو سچ ہے کہ وہ میری بات نہ مانتے تو مجھے بُرا لگتا، لیکن پھربھی مجھے ایمانداری سے اپنی رائے دے دینی چاہیئے تھی۔ کاش! میں ایسا کر پاتا۔ 'پربھات' کے لیے اپنے فرض کی ادائیگی کرنے سے میں چوک گیا ہوں!

'سنت سکھو' کا پہلا شاٹ شروع ہونے کی اطلاع دینے والا بھونپو بج اٹھا۔ اپنے آفس میں بیٹھے جب اس کی آواز مجھے سنائی دی، تو ایسا لگا جیسے بجلی کا کرنٹ لگ گیا ہو۔ یہ تو مان لیا کہ انھیں خود مختار روپ سے فلم بنانی تھی، لیکن معمولی مہورت کی بات بھی مجھ سے چھپائے رکھنا کہاں تک مناسب تھا؟ آج تک ہر فلم کے مہورت کے سمے ہم سبھی حصہ دار سٹوڈیو میں برابر حاضر رہتے آئے تھے۔ ہر مہورت ایک تقریب بن جاتا تھا ہمارے لیے۔ ایک تہوار سا مناتے تھے ہم سب۔۔۔ فلم ان کی تھی تو، میں دور کونے میں کھڑا رہتا اور فلم کا مہورت دیکھ لیتا۔۔۔ کیا میں اِن لوگوں سے اتنا اکیلا پڑ گیا ہوں؟ الگ تھلگ رہ گیا ہوں؟ ان کے کندھے سے کندھا لگا کر پچھلے بارہ سالوں سے لگاتار 'پربھات' کی ایک ایک اینٹ جوڑنے کی خواہش سے دن رات ایک کرتا رہا۔۔۔ میں کیا ان لوگوں کے لیے آج اچانک بیگانہ ہو گیا ہوں؟

ماتھا ایسا ٹھنکا کہ مانو کوئی اندر گھن چلا رہا ہو۔ اپنے آفس کے کمرے میں اکیلا ادھر سے ادھر بےچینی سے چکر کاٹتا رہا۔ بیچ بیچ میں شوٹنگ کے بھونپو کی آواز سنائی دیتی رہی۔ لگتا کہ سب چھوڑچھاڑ کر کہیں دور بھاگ جاؤں۔ غضب کی گھٹن محسوس ہوتی رہی۔ پھر بھی میں کمپنی میں ہی سارا دن بیٹھا رہا۔

سٹوڈیو کی گھڑی نے چھ بجنے کا گھنٹہ بجایا اور میں بھاری قدموں سے کمپنی سے باہر آیا۔

گھر پر کوئی نہیں تھا۔ وِمل بچوں کو لے کر مہابلیشور ہواخوری کے لیے گئی تھی۔ کھانا تیار تھا، لیکن میں نے نوکر سے کہہ دیا کہ بھوجن نہیں کروں گا۔ آخر میں نے نوکر کے ہاتھوں اپنا ٹھنکتا ماتھا زور زور سے دبوا لیا۔ تبھی جےشری نے چٹھی بھجوائی: ''آج رات بھوجن کے لیے دعوت دے رہی ہوں۔ آپ پدھاریں، تو مجھے بےحد خوشی ہو گی۔ میرا ممیرا بھائی بمبئی گیا ہے۔ گھر میں اکیلی ہوں۔"

چٹھی لانے والے کو میں نے اسی قدم لوٹا دیا۔ لیکن گھر میں بیٹھنے کو من نہیں مان رہا تھا۔ یہ سوچ کر کہ شاید ذرا ٹھنڈی ہوا میں گھوم آؤں تو اُکھڑا ہوا من اور بھبھکا ہوا ماتھا شانت ہو جائے گا، میں باہر نکلا۔

اپنی ہی غنودگی میں کھویا ہوا، پتا نہیں کہاں چلا جا رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اچانک رُکا تو پایا کہ جےشری کے گھر کے سامنے کھڑا ہوں۔ دروازے پر دستک دی۔ وہ میرا انتظار ہی کر رہی تھی۔ اس نے پوچھا، "بھوجن کریں گے نا؟" میں ایک دم مکمل گونگا بنا بیٹھا رہا۔ وہ دو تھالیاں لگوا کر لے آئی۔ بھوجن ختم ہوا۔ پھر اس نے اپنی سریلی آواز میں گوا میں گائے جانے والے دو ایک کونکنی گیت گا کر سنائے۔

آہستہ آہستہ من کا بوجھ اترتا گیا۔ تکلیف دینے والے وچار چھٹ گئے۔ ہم دونوں کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔۔۔ اور۔۔۔ وہ ساری رات ہم نے باہمی صحبت میں بِتا دی۔

تڑکے پانچ بجے کے لگ بھگ میری آنکھ کھلی۔ میں اٹھ بیٹھا۔ من بھی ہوش میں آ گیا۔ کل رات میں یہ کیا کر بیٹھا ! کیا من کا بوجھ اتارنے کے لیے؟ یا جےشری سے مسحور ہو گیا اس لیے؟ منھ اندھیرے ہی جےشری کے گھر سے میں واپس اپنے گھر آنے کے لیے تیزی سے قدم بڑھاتا ہوا پربھات نگر کی طرف چل پڑا۔ من میں وچاروں کا طوفان اٹھا تھا۔۔۔

ــــ آخر آج میں نے ایسا طرزِعمل کیوں اختیار کیا؟ سینما جیسے کاروبار میں رہ کر بھی آج تک بےداغ سنبھالا ہوا اپنا کردار اپنے ہی ہاتھوں میں نے اس طرح کیوں لٹا دیا؟ کیوں؟ آخر کس لیے؟ جےشری کے پاس مجھے نرالا کیا ملا؟
— نرالا؟ کیا تھا نرالا؟ صرف چہرہ، ایک آزاد سائنس دان کی طرح گذشتہ رات کے تجربے کا خشک تجزیہ میں کیے جا رہا تھا۔ ـــ تو پھر تم نے ایسا کیوں کیا؟
ـــ ہو سکتا ہے، کل سٹوڈیو میں ہوے واقعات کے کارن من کچھ اُکھڑا اُکھڑا سا تھا اور اسی حالت میں اپنی تلخی کو مٹانے کے لیے ہوش نہ رہا ہو۔۔۔۔ لیکن اپنے اس طرز عمل کے کارن تم نے ایک اور شخص کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہے — یہ تم نے کیا کیا؟

من میں اٹھے اس طوفان کے کارن کلیجہ دھک دھک کرنے لگا۔ اب اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔ایک ہی۔۔۔ دوسری شادی!

دوچار دنوں بعد وِمل مہابلیشور سے لوٹی۔ معاملے کی بھنک شاید اس کےکانوں میں بھی پڑ گئی۔ لیکن اس بچاری نے کبھی اس بارے میں مجھ سے پوچھنے کی ہمت نہیں کی۔ شاید ایک کڑوی سچائی وہ میرے منھ سے سننا نہیں چاہتی تھی۔ اسے ڈر لگتا ہو گا کہ کہیں اس نے پوچھ لیا اور میں نے 'ہاں' کہہ دیا تو؟ کمپنی کا کام ختم ہونے پر شام کو میں جےشری کے گھر جاتا۔ وِمل ہمارے گھر کی چھت پر کھڑی ہو کر دور سے دکھائی پڑنے والے جےشری کے گھر کا کھلا زینہ چڑھتے ہوے مجھے دیکھا کرتی۔ یہ بات اسی نے کچھ سالوں بعد مجھے بتائی۔ ظاہر تھا کہ وہ من ہی من بہت ہی پریشان رہتی ہو گی۔ لیکن اس بات کا احساس اس نے مجھے کبھی ہونے نہیں دیا۔
ایک اتوار کی صبح جےشری نے ہمارے گھر فون کیا۔ فون وِمل نے لیا۔ اس نے مجھے بتایا، "فون آیا تھا—"
"کس کا؟"
"تمھاری مہارانی کا!''
"مہارانی؟ کون مہارانی؟"
"جےشری! میں نے اسے صاف صاف کہہ دیا، پھر تمھیں یہاں فون نہ کرے۔ پتہ ہے اس نے اس پر کیا کہا؟"
''کیا کہا؟"
"کہہ رہی تھی، میرا بھی حق ہے ان پر!"

اتنا کہہ کر وِمل وہاں سے سسکتی ہوئی چلی گئی۔ آج تک بڑے صبر سے روک رکھے اس کے احساسات ایک دم امڈ آئے تھے۔

اس طرح یہ معاملہ اجاگر ہو جانے کے بعد تو ہم دونوں میں اس کو لے کر باربار جھڑپیں ہونے لگیں۔

بیچ بیچ میں خبریں سنائی پڑتیں کہ کمپنی میں 'سنت سکھو' کا کام جاری ہے۔ شوٹنگ کے سمے کبھی کبھار ناخوشگوار واقعات ہو جانے کی بھی خبریں ملتیں تو من کو بڑی تکلیف ہوتی۔ شوٹنگ کرتے سمے ان لوگوں میں کافی کنفیوژن پیدا ہو جاتا۔ تب تو ایسا لگتا، جاؤں اور سب کچھ ٹھیک سے سنوار دوں۔ لیکن یہ انھیں بالکل نہ بھاتا۔ یہی سوچ کر میں بڑی کوشش سے اپنے آپ پر قابو پا لیتا۔ کمپنی میں کام ختم ہونے کے بعد میں حسب معمول ہر شام جےشری کے یہاں ہو آتا۔ اس کے لیے میں نے ایک بڑا مکان کرائے پر لے لیا۔ وہاں میرا سمے مزے سے کٹتا۔ ہم دونوں کے رشتے کے بارے میں اخباروں میں بھی کافی چٹپٹی خبریں چھپتیں۔۔۔ ''شانتارام کا پاؤں پھسلا''۔۔۔ "وشوامتر کی تپسیا مینکا کے ہاتھوں بھنگ"۔۔۔۔ "جےشری نے شانتارام کی تپسیا توڑ دی"۔۔۔ "جےشری دوارہ شانتارام کلین بولڈ''، ''مٹی کے چرنوں والا دیوتا!''۔۔۔

کئی بار تو یہ خبریں اتنی نوکیلی ہوتیں کہ جےشری کے آنسو نکل آتے۔ ایسے سمے میں اسے سمجھاتا، "اچھا ہو کہ تم ایسے اخباروں کو پڑھنا ہی بند کر دو، پھر تمھیں کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔"

طنزبھری ایسی مخالفت کا منھ توڑ جواب ایک ہی تھا: جےشری کے ساتھ قاعدے سے شادی!

لیکن ایسی باقاعدہ شادیوں کے سمے موت دینے والے منتروں پر میرا یقین نہ تھا۔ دُلہا یا دلہن دونوں میں سے کسی کو، یہاں تک کہ ان کے سگے رشتوں اور پنڈت پروہتوں کو بھی جن منتروں کے معانی معلوم نہیں ہوتے، ایسے ایسے منتروں کے پڑھنے سے عورت اور مرد میں جنم جنم کا ناتا بندھ جاتا ہے، میں یہ ماننے کو تیار نہیں تھا۔ میں اتنا پران پنتھی کبھی نہ تھا۔ اس طرح کی لمبی مذھبی رسموں کی ادائیگی کے بعد شادی کے دھاگے میں بندھے اور بڑی دھوم دھام سے بارات لے آئے دُلہوں کی بربادی میں نے خود دیکھی تھی۔ یہ ضروری بھی نہیں تھا کہ اتنا سب کچھ کر لینے کے بعد پتی پتنی میں پیار کا ناتا پیدا ہو ہی جائے، پیار کی پہلی بہار کی پت جھڑ ہوتے ہی زیادہ تر جوڑے اپنے جیون ساتھی کو اپنا غلام ماننے لگ جاتے ہیں۔ ایسی رسمیں ایک بار پوری ہو جائیں، تو جیون بھر کے لیے دونوں کو باندھ دیتی ہیں۔ اس بندھن سے پھر رہائی کہاں؟ ان دنوں علیحدگی کا قانون نہیں بنا تھا۔ آج وہ بنا ہے۔ لیکن اکثر دیکھا یہ گیا ہے کہ وہ بیاہتوں کے سامنے ایک ہوّا بن کر موقع کی تلاش میں کھڑا رہتا ہے۔

میری تو پکی رائے تھی کہ پرانے سات پھیروں کی رسم کے بجاے ہم دونوں باہمی محبت سے جڑے ہیں، وعدے سے جڑے ہیں۔ ان سات لفظوں میں ظاہر ہونے والی گندھرو طریقے کی شادی ہی کہیں معتبر ہے۔ اس کے کارن عورت اور مرد دونوں کے بیچ نرم بندھن رہ سکیں گے۔ دونوں ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں ہاتھ بنٹا سکیں گے۔ پرانے زمانے میں دُشینت اور شکنتلا نے گندھرو بیاہ ہی تو کیا تھا اور سماج اور کنو جیسے مہان تپسوی نے بھی انہیں آشیرواد عطا کیا تھا۔ یہی سب سوچ کر میں نے فیصلہ کیا: روایتی طریقہ سے بیاہ کرنے کے بجاے جےشری کےساتھ سپت (سات) شبدوں میں بندھ کر رہوں گا۔

میں نے اپنا ارادہ جےشری کو بتایا۔ اس کو تو اسی بات کی خوشی تھی کہ میں اس کے محبت کے بندھن میں بندھ گیا ہوں۔ میں جو بھی کہتا، وہ بِنا سوچے سمجھے قبول کر لیتی۔ میرے اس سجھاؤ پر بھی اس نے اسی طرح 'ہاں' بھر دی۔

لیکن کیا آج کا یہ سماج اس بات کو قبول کرے گا؟

کچھ ماہ بیت گئے، ایک دن شام بابوراؤ پینڈھارکر سٹوڈیو میں ملے، انھیں اس طرح اچانک پُونا آیا دیکھ کر کچھ حیرانی سے میں نے پوچھا، "کہیے؟ آج یہاں کیسے پدھارے آپ؟ کوئی خاص بات؟"
"خاص بات نہیں تو اور کیا ہے؟ اجی، آج 'سنت سکھو' کی ٹرائل ریلیز جو ہے۔"
"چھوڑو بھی، آپ کو بھی اچھا مذاق سوجھا ہے یہ!"
"مذاق نہیں، مجھے بمبئی فون آیا تھا۔"
میں سن کر دیکھتا ہی رہ گیا۔
"آپ کو بمبئی فون کر کے بلوا لیا گیا اور یہاں مجھے خبر تک نہیں لگنے دی!" ایسے ہی میرے منھ سے بات نکل گئی، "کی ماں کو، کتنے نالائق لوگ ہیں یہ!"

اسی جھلاہٹ میں تنک کر اپنے آفس میں جا بیٹھا۔ من میں کہیں ایک دھندھلی سی امید تھی کہ ہو سکتا ہے، وہ ٹھیک سمے پر مجھے بلاوا بھیجیں گے۔ اسی لیے کافی دیر تک آفس کی بتیاں جلائے رکھ کر مَیں انتظار میں بیٹھا رہا۔

لیکن میری امید، ناامیدی میں بدل گئی۔ آفس بوائے نے آ کر اطلاع دی کہ تھئیٹر میں ٹرائل شروع ہوچکا ہے۔

دوسرے دن سٹوڈیو آنے پر معلوم ہوا کہ 'سنت سکھ' کے بمبئی میں ریلیز کی تاریخ بھی پکی ہو گئی ہے۔ اس خواہش سے کہ ہمارے بیچ بڑھتے جا رہے اس اختلاف کی بات اجاگر نہ ہو، میں نے ساری باتیں پی کر جان بوجھ کر ہی 'سنت سکھو' کی ریلیز کے سمے بمبئی جانا طے کیا۔

شام کو میں نے جےشری کو بتایا کہ بمبئی جا رہا ہوں۔ وہ کافی دیر چپ ہی بیٹھی رہی۔ میں نے پوچھا، "بات کیا ہے؟ اس طرح چپ سادھے کیوں ہو؟"
وہ کچھ رک رک کر بولی، "آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں۔۔۔۔"
"تو کہو بھی۔۔۔"
"شاید میں ماں بننے جا رہی ہوں۔۔۔"

میں نے ہنس کر پوچھا، "بیٹی کی یا بیٹے کی؟" لیکن فوراً ہی میں سنجیدہ ہو گیا۔ یکایک دماغ میں بجلی سی کوندھ گئی: —اب اس کی کوکھ سے دنیا میں آنے والا یہ بچہ سماج میں کیا جگہ پائے گا؟ یہ بچہ کس کا ہے؟ جےشری آخر تمھاری کون ہے؟

جےشری میری محبوبہ ہے۔ میں نے من سے اس کے ساتھ بیاہ کیا ہے۔ گندھرو بیاہ سے بندھی وہ میری اپنی پتنی ہے۔۔۔

—پتنی؟ کبھی نہیں! سماج تو اسے تمھاری 'رکھیل' (داشتہ) ہی مانےگا اور اب پیدا ہونے والے بچہ کو 'رکھیل کا بچہ' کہے گا!
—رکھیل؟ گندھرو بیاہ سے دشینت سے بیاہی شکنتلا کو کسی نے دشینت کی رکھیل نہیں کہا تھا۔۔۔ سیدھے ان دونوں کے ملن کے کارن جنمے بھرت کے نام پر آریہ ورت کا نام بھی بھارت ہو گیا۔
—لیکن آج وہ زمانہ کہاں رہا؟ نہ ہی آج رہے اُس طرح کے ترقی پسند وچاروں کے لوگ۔ آج کا سماج ترقی پسندانہ وچاروں والا سماج نہیں ہے، تمھارے ارادوں کے کارن اس نوزائیدہ بچے کے ساتھ ناانصافی ہونے جا رہی ہے۔ ان سبھی کٹھنائیوں سے پار ہونے کا راستہ ایک ہی ہے: جےشری کے ساتھ پرانی روایت کے مطابق شادی!
ـــ لیکن آدرشی بیاہ کے بارے میں میری اپنے یقین کا، میرے اپنے وچاروں اور اصولوں کا کیا ہو گا؟
ـــ تمھارے ان نظریات کو، ان وچاروں اور اصولوں کو اپنے ہی من کے دائرے میں رکھو! سماج میں آج کے رائج اصولوں کی پناہ لینے کے علاوہ تمھارے لیے کوئی چارہ نہیں ہے۔
ـــ میں سماجی بندھنوں سے ہار گیا۔ من ہی من طے کیا کہ جےشری سے قانونی بیاہ کروں گا۔ میں نے اس سے کہا، "دیکھو، میرے ساتھ تم بھی ممبئی چلنے کی تیاری کرو۔"

بمبئی میں 'سنت سکھو' ایک دم فیل ہو گئی۔ 'پربھات' کی آج تک یہ خاصیت رہی تھی کہ کسی بھی موضوع پر مبنی فلم ایک دم نئے خیالات کا استعمال کر کے فنکارانہ بنائی جاتی ہے۔ اس فلم میں کہیں پر بھی اس خاصیت کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ 'سنت سکھو' کو ملی ناکامی کے کارن مجھے دلی دکھ ہوا اور اسی کے ساتھ یہ بھی خیال آ گیا کہ ممکنہ طور پر اس ناکامی کے کارن داملے، فتے لال کی جھوٹی خوداعتمادی کا غبارہ پھٹ جائے گا اور اس کے ساتھ ہی ہم حصہ داروں کے من میں جو بے وجہ ہی غبار سا بھر آیا ہے، وہ بھی ہٹ کر 'پربھات' کا ماحول پھر پہلے جیسا صاف اور ملنساری کا ہو جائے گا۔

دو چار دنوں کے بعد میں نے بابوراؤ پینڈھارکر سے کہا، "کسی تنہا جگہ پر شادی کا بندوبست کیجیے۔ پروہت پنڈت کو بلوا لیجیے۔ میں جےشری کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں!"

سن کر بابوراؤ کو جیسے کرنٹ لگ گیا۔ وہ بیٹھے تھے، ایک دم اچھل کر کھڑے ہو گئے۔ جےشری کی خوشیوں کا تو ٹھکانہ نہ رہا۔ بابوراؤ مجھے ایک طرف الگ لے جا کر پوچھنے لگے، "آخر اس کے ساتھ شادی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ تو آپ کے ساتھ ویسے بھی رہ لے گی۔"

"لیکن میں جیسے ویسے رکھنا نہیں چاہتا!"

"تب تو آپ ہم پر بات چھوڑ دیجیے ہم جےشری بائی کو پُونا چھوڑ کر جانے کے لیے مجبور کر دیں گے اور بمبئی میں ہی کسی دوسری فلم کمپنی میں انھیں کام بھی دلوا دیں گے۔ اس طرح آپ سبھی جھنجھٹوں سے آزاد ہو جائیں گے اپنے آپ!"

"اس کا مطلب تو یہی ہوا نا کہ اسے دھوکا دیا جائے اور پھر ایسا ہو جائے جیسے اسے جانتے بھی نہیں؟ یہ مجھے قطعی منظور نہیں!"

مجھے اپنے ارادے سے منھ پھیر لینے کے لیے مجبور کرنے کے ارادے سے بابوراؤ ایک کے بعد ایک ترپ کی چالیں چلنے لگے۔ "اجی، داملے، فتےلال جی کیا کہیں گے؟"

"وہ دونوں کون سے دودھ کے دھوئے ہیں، جو مجھ سے آنکھیں اٹھا کر بات کر سکیں۔ اور میں تو کھلم کھلا سب کے سامنے بیاہ کرنے جا رہا ہوں!"

"لیکن آپ نے کیا یہ بھی کبھی سوچا ہے کہ وِمل بائی کیا سوچیں گی؟"

اس بات پر میں لاجواب ہو گیا۔ آہستہ آہستہ تتلاتے ہوے بولا، "بچاری وِمل پر تو آسمان ٹوٹ پڑے گا۔۔ وہ بہت ہی رونا دھونا کرے گی، لیکن وہ مجھ سے محبت کرتی ہے اور اسی محبت کے سہارے اس اگنی پریکشا (آگ کے امتحان) کو بھی پار کر جائے گی۔۔۔ مجھ سے یہ غلطی ہو رہی ہے، مجھے قبول ہے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میری اس بھول کے نتیجے ان سبھی کو بھگتنے پڑیں گے جو مجھ سے محبت کرتے ہیں۔۔۔" کتنا خودغرضانہ وچار تھا یہ!

پُونا لوٹنے کے بعد آہستہ آہستہ میں نے وِمل کو بتا دیا کہ میں جےشری سے بیاہ کر چکا ہوں، وِمل کے لیے یہ ٹوٹنا ناقابل برداشت تھا۔ اس نے خوب رونا رو لیا۔ جےشری کے ساتھ انصاف کرنے کی دھن میں وِمل کے ساتھ میں نے بڑی بھاری ناانصافی کی تھی۔ میں نے اسے بار بار سمجھانے کی کوشش کی، "دیکھو، جےشری کے ساتھ بیاہ کرنے کا مطلب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ میں تمھیں دور کر رہا ہوں۔ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ میں تمھیں اور اپنے بچوں کو کسی بات کی کمی محسوس نہیں ہونے دوں گا!"

اس پر تلملا کر ومل گڑگڑائی، "ہمیں کسی بات کی کمی ہو جائے تو بھی چلے گا، لیکن آپ اس دوسری شادی سے فوراً آزاد ہو جائیے۔"

"یعنی تمھاری نظروں میں تو میں مجرم ہو ہی گیا ہوں اور اب اس دوسری شادی سے آزاد ہو کر جےشری کی نظروں میں بھی گناہ گار ہو جاؤں؟ سب لوگ تھوکیں گے مجھ پر، وہ کیا تمھیں اچھا لگے گا؟"

اس پر وِمل بےچاری کیا کرتی!

اُن دنوں میرا من ہمیشہ اکھڑا اکھڑا سا رہتا تھا۔ من کی ایسی ہی ایک کمزور حالت میں کسی جوتش کا بتایا گیا ایک مستقبل یاد آیا: 'تمہاری قسمت میں دوسری پتنی کا یوگ ہے۔' یاد آتے ہی من حمایت کرنے لگا کہ بھاگ میں لکھا کون ٹال سکتا ہے۔ میرے بھاگ میں یہی بات لکھی تھی۔ تبھی تو یہ دوسری شادی ہو گئی۔ اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے۔

—اپنی اس سوچ کی کمینگی پر مجھے بھاری غصہ آیا اور اپنے آپ پر غصہ ہو کر اپنے ہاتھوں اپنے ہی منھ پر میں نے ایک زور سے طمانچہ دے مارا۔
— آدمی کے جیون میں سبھی واقعات اس کے اپنی کرنی کے کارن ہی ہوتی ہے، ایسا سب کو بار بار جتانے والا تو اب اپنی غلطی کی حمایت کرنے کے لیے 'جوتش' اور 'قسمت' کی باتوں کا سہارا کب سے لینے لگا ہے؟

سٹوڈیو میں تو ہم پر تنقید کی بوچھار ہونے لگی تھی۔ تنقید کی آندھی سی آ گئی تھی۔ پُونا لوٹتے ہی ہم نے ایک کام کیا۔ جےشری نے فوراً ہی کمپنی سے استعفٰیٰ دے دیا۔ کلاکاروں کا ڈیپارٹمنٹ چونکہ میں خود ہی سنبھالتا تھا، میں نے اس کا استعفٰیٰ لگے ہاتھ قبول بھی کر لیا۔

اس کے سات آٹھ دنوں بعد داملے جی نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا، یہاں فتے لال اور سیتارام پنت کلکرنی پہلے سے ہی موجود تھے۔ داملےجی، فتے لال جی 'سنت سکھو' کی ناکامی کے کارن ان دنوں مایوسی سے گِھرے تھے اور عادتاً کچھ چڑچڑے بھی ہو گئے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی داملے جی نے کہا، "ہم لوگوں نے جےشری بائی کے گلے میں منگل سوتر دیکھا۔"
"پھر؟"
"اب ان کا کمپنی میں رہنا مناسب نہیں!" ان کی آواز تیز ہو چلی تھی۔

ان کی باتوں کو ہنسی میں لے کر میں نے سوال کیا، "بھلا وہ کیوں؟" میرے سوال کا کیا جواب دیں، ان کی سمجھ میں نہیں آیا۔ ہنستے ہوے میں نے ہی بات آگے بڑھائی، "پہلے پربھات کے قیام کے سمے سے ہی کافی سال تک صاحب ماما کی گلاب بائی ہماری کمپنی میں اداکارہ کے روپ میں کام پر تھیں۔ شروع شروع کی چند فلموں میں انھوں نے اہم کردار بھی کیے تھے۔ پھر جےشری نے ہی کسی کا کیا بگاڑا ہے؟"
"یہی کہ اس نے آپ کے ساتھ بیاہ کیا ہے!"

"اچھا؟ تو اس کا مطلب یہ کہ گلاب بائی کی طرح وہ میرے ساتھ بِنا شادی کیے رہ لیتی، تو آپ اسے کمپنی میں کام پر رہنے دیتے!"
"جی ہاں۔ آپ صحیح فرما رہے ہیں۔"

''تو کیا کمپنی کی زنانہ فنکاروں کے لیے شادی کرنا جرم ہے؟ اگر ہاں، تو ہم لوگوں نے درگا کھوٹے جیسی شادی شدہ اداکارہ کو لے کر ایک دو نہیں، تین فلمیں بنائیں، تب کیوں نہیں آپ نے اس بات کی مناہی کی؟" میرے دوٹوک سوال کے کارن سبھی لاجواب ہو گئے۔

میں نے ہی آگے کہا، "میں آپ لوگوں کو ایک بات صاف صاف بتا دینا چاہتا ہوں۔ سن کر آپ کی جان میں جان آ جائے گی۔ میں جانتا تھا کہ آپ اس طرح کا مدعا اٹھائیں گے، اسی لیے میرے کہنے پر جےشری نے پچھلے ہفتے ہی کمپنی سے استفعیٰ دے دیا ہے۔ اب وہ پربھات کی نوکر نہیں ہے۔ پچھلے ہفتے آپ لوگوں نے جےشری کے گلے میں منگل سوتر دیکھا، تب وہ آپ لوگوں سے یہی کہنے آئی تھی کہ اس نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ لیکن اس سمے ہچکچاہٹ کے مارے وہ کچھ کہہ نہ سکی۔ اب وہ پھر کبھی سٹوڈیو کے احاطے میں پاؤں نہیں رکھے گی، آپ لوگ بےفکر رہیں!"




نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 5 (سائنس کی جانب عمومی رویہ)

گذشتہ اقساط کے مطالعہ کے لئے درج ذیل لنکس استعمال کیجئے (لنک نئے ٹیب میں کھلیں گے)

قسط نمبر 1قسط نمبر 2، قسط نمبر 3، قسط نمبر 4

سائنس کی جانب عوامی رویہ

 

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ جس دنیا میں ہم جی رہے ہیں وہ گذشتہ ایک صدی میں بہت حد تک بدل چکی ہے، اور اگلے سو برسوں میں مزید بدل جائے گی۔ کچھ لوگ یہ چاہیں گے کہ دنیا نہ بدلے اور وہ واپس اس سادہ لوحی کے دور میں چلے جائیں جو ماضی کی یادگار ہے۔ لیکن جیسا کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے، ماضی اتنا شاندار تھا نہ ہی اس قدر یادگارھا (جتنا تصور کیا جاتا ہے)۔ مقتدر اقلیت کے لئے تو یہ یقناً برا نہیں تھا اگرچہ انہیں بھی جدید دور کی ادویات و سہولیات میسر نہ تھی، اور (ان امراء کے ہاں بھی ) بچے کی پیدائش ایک عورت کی زندگی کیلئے شدید خطرہات سے دوچار رہتی تھی ۔ جبکہ جمہور عوام کے لئے زندگی تکلیف دہ، مظالم سے بھرپور، اور مختصر ہوتی تھی۔

بہرحال، چاہ کر بھی ہم ماضی میں دوبارہ داخل نہیں لوٹ سکتے۔ علم اور سائنسی طریقہ ہائے کار (scientific methods) اچانک ترک بھی نہیں جا سکتے، نہ ہی ہم مستقبل میں ہونے والی ترقی کو روک سکتے ہیں۔ اگر تمام حکومتیں تحقیقی کام کے لئے رقم مختص کرنا بند بھی کر دیں (جس میں موجودہ حکومت اپنی بھرپور کوشش رہی ہے) تب بھی مسابقت کی عمومی فضاء سے ٹیکنالوجی روز بروز ترقی کرے گی۔ مزید برآں، ہم متجسس اذہان کو بنیادی سائنسی تصورات و نظریات کے بارے میں سوچنے سے بھی نہیں روک سکتے، چاہے انہیں ہم انھیں اس کا معاوضہ بھی نہ دیں۔ ترقی کی راہ روکنے کا واحد راستہ ایک عالمی آمرانہ ریاست ہے جو کسی بھی نئے تصور، نئی نظریے کو بالجبر روک سکے، لیکن انسان کی آگے بڑھنے کی خواہش اور اختراعی قدرت کو شاید یہ آمرانہ ریاست بھی نہ روک پائے۔ یہ محض اتنا کر پائے گی کہ ترقی کی رفتار کو سست کر دے۔

اگر ہم اس بدیہی حقیقت کو قبول کر لیں کہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کو دنیا میں انقلاب برپا کرنے سے نہیں روک سکتے، توکم از کم ہم اس امر کو ضرور یقینی بنائیں گے کہ سائنس درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں اس سے مراد یہ ہو گی کہ عوام سائنس کی مبادیات سے بھرپور واقفیت رکھتی ہو، تاکہ وہ معلوماتی بنیاد پر رائے سازی کر سکےاور سب کچھ ماہرین کے رحم و کرم پر ہی نہ چھوڑ دیا جاوے۔ سرِ دست عوام کا سائنس کی جانب رویہ متضاد جذبات کا شکارہے۔ اسے یہ توقع بھی ہے کہ ہمارا معیارِ زندگی سائنسی ترقی کی بدولت بتدریج بہتر ہوتا جائے گا مگر ساتھ ساتھ سائنس کے حوالے سے عدم اعتماد بھی پایا جاتا ہے کیونکہ عوام سائنس کا مطلوب فہم نہیں رکھتی۔ اور یہ عدم اعتماد اس کارٹون کے کردار میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو ایک پاگل سائنس دان کا ہے جو اپنی تجربہ گاہ میں فرینکن سٹائن (Frankenstein) تخلیق کرنے میں مصروف ہے۔ اور یہی عدم اعتماد گرین پارٹیز (Green Parties) کی عوامی سپورٹ کا محرک بھی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی عوام سائنس میں بہت دلچسپی بھی رکھتی ہے، بالخصوص فلکیات (astronomy) میں۔، جیسا کہ ٹیلی وژن سیزیز Cosmos اور دوسرے سائنس فکشن پروگراموں کی پذیرائی سے واضح ہے۔

اس دلچسپی کوبڑھانے کرنے کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے؟ اور ہم عوام کو ایسا سائنسی پس منظر فراہم کرنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں کہ وہ ایسے عوامل جیسے acid rain، گرین ہاوس ایفیکٹ، نیوکلیائی ہتھیار، اور جینیٹک انجینئرنگ وغیرہ پر مبنی بر معلومات فیصلے لے سکیں؟ یقیناً اس کی بنیاد سکول میں دی جانے والی تعلیم پر ہے۔ لیکن سکولوں میں سائنس کو ایک غیر دلچسپ اور خشک مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ بچے رٹا لگا کر امتحان پاس کرنے کیلئے سبق یاد کر لیتے ہیں، اور اپنے اطراف میں انھیں (پڑھائی جانے والی) سائنس کی متعلقیت دکھائی نہیں دیتی۔ مزید برآں، سائنس بالعموم مساوات (equations)کی اصطلاح میں پڑھائی جاتی ہے۔ اگرچہ مساوات ریاضی کے تصورات کی منظر کشی کیلئے جامع اور بالکل درست طریقہ ہے، لیکن زیادہ تر لوگ اس طریق سے گھبرا جاتے ہیں۔ جب میں نے حال ہی میں ایک مقبول کتاب لکھی، مجھے یہ نصیحت کی گئی تھی کہ کتاب میں مساوات کم سے کم رکھوں کیونکہ ناشر کے مطابق ایک مساوات (equation) کا اضافہ کتاب کی فروخت میں پچاس فیصد تک کمی لے آتا ہے ۔( نصیحت کے بر خلاف) میں نے آئن سٹائن کی مساوات  کو شامل کیا۔ اگر میں اسے شامل نہ کرتا تو شاید دو گنا کتابیں فروخت کر پاتا۔

سائنس دان اور انجینئر حضرات اپنے تصورات کو مساواتی شکل ہی میں متعارف کراتے ہیں کیونکہ انھیں قابلِ پیمائش اشیاء کی درست مقدار جاننا ہوتی ہے۔ لیکن ہم عامیوں کے لئے (جو سائنس دان اور انجینئر نہیں ہیں) کسی بھی سائنسی تصور کا صفاتی فہم (qualitative grasp) کافی ہے، اور یہ فہم، مساوات استعمال کئے بغیر، صرف تصاویر اور الفاظ کی مدد سے قاری میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔

جو سائنس بچے سکول میں سیکھتے ہیں، وہ اس مطلوبہ فہم کے لئے بنیادی ڈھانچہ فراہم کر سکتی ہے۔ لیکن دورِ حاضر میں سائنسی ترقی کی رفتار اس قدر تیز ہے کہ کسی کے سکول یا یونی ورسٹی پہنچنے تک بہت سے امور میں پیش رفت ہو چکی ہوتی ہے ۔ میں نے سکول میں مالیکیولر بائیالوجی اور ٹرانزسٹر کے بارے میں کچھ بھی نہیں سیکھا تھا، لیکن جینیاتی انجینئرنگ (genetic engineering) اور کمپیوٹر ، یہ دونوں اس نوعیت کی سائنسی پیش رفت ہیں کہ وہ مستقبل میں ہمارے طرزِ زندگی کو یکسر بدل ڈالیں گی۔ پاپولر کتابوں اور رسالوں میں سائنسی مضامین ترقی کی نئی شاہرائیں کھول سکتے ہیں ، لیکن معروف ترین سائنسی کتاب کا بھی آبادی کا نہایت قلیل حصہ مطالعہ کرتا ہے۔ صرف ٹی وی ایک ایسا ذریعہ ہے جو عوام کی کثیر تعداد تک پیغام پہنچا سکتا ہے۔ ٹی وی پر بہت سے عمدہ سائنسی پروگرام دکھائے جاتے ہیں لیکن کئی ایسے پروگرام ہیں جو سائنسی ایجادات کو اس طرز پر دکھاتے ہیں جیسے کہ وہ جادو ہو، نہ ہی ان آلات کی وضاحت کی جاتی ہے نہ ہی یہ دکھایا جاتا ہے کہ وہ سائنسی ڈھانچے میں کس طرح سے فٹ بیٹھتے ہیں۔ سائنسی پروگرامز کے ٹی وی پروڈیوسرز کو اس امر کا احساس کرنا چاہئے کہ ان کی ذمہ داری صرف عوام کو لطف اندوز کرانا ہی نہیں، انہیں تعلیم دینا بھی ہے۔

ایسے کون سے سائنسی معاملات ہیں جن پر عوام کو مستقبل قریب میں رائے زنی کرنا ہو گی؟ سب سے اہم اور جلد فیصلہ تو نیوکلیائی ہتھیاروں کی بابت کرنا ہو گا۔ دوسرے عالمی مسائل جیسا کہ خوراک کی ترسیل یا گرین ہاوس اثرات، نسبتاً کم اہمیت رکھتے ہیں لیکن نیوکلئیائی جنگ کا واضح مطلب انسانیت کے چند دنوں کے اندر اندر خاتمے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ مشرق اور مغرب کی باہمی تلخی سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی ٹھنڈی پڑ گئی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے شعور سے نیوکلئیائی جنگ کا خوف اب محو ہو گیا ہے۔ لیکن خطرہ ابھی تک قائم و دائم ہے جب تک تمام انسانیت کو ختم کر ڈالنے کے لئے زائد از ضرورت نیوکلئیائی ہتھیار موجود ہیں۔ سابقہ سوویت یونین اور امریکہ میں ، اب بھی نیوکلئیائی ہتھیار اس صلاحیت کے حامل ہیں کہ وہ شمالی ممالک میں موجود تمام بڑے شہروں کو تباہ کر سکتے ہیں۔ کمپیوٹر کی ایک چھوٹی سی غلطی یا نیوکلئیائی ہتھیاروں کے محافظین میں سے کسی ایک کی بھی بغاوت عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔ اور مزید پریشانی کا باعث یہ امر ہے کہ نسبتاً چھوٹی طاقتیں بھی اب نیوکلئیائی ہتھیار حاصل کر رہی ہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتوں نے مناسب حد تک ذمہ دارانہ رویہ دکھایا ہے لیکن ہم ایسا اعتماد لیبیا، عراق، پاکستان، یا آذربائیجان پر نہیں کر سکتے۔ وہ ہتھیار اصل خطرہ نہیں ہیں جو عنقریب ان ممالک کے قبضے میں ہوں گے، کیونکہ وہ بنیادی نوعیت کے ہتھیار ہوں گے، اگرچہ یہ بھی لاکھوں لوگوں کو مار ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ اصل خطرہ ان چھوٹی طاقتوں کا آمنا سامنا ہے، کیونکہ یہ بڑی طاقتوں کو بھی اپنی جنگ میں دھکیل لیں گے، اور بڑی طاقتیں جدید ترین اور بے بہا ہتھیاروں سے لیس ہیں۔

یہ امر بہت ضروری ہے کہ عوام کو اس خطرے کا احساس ہو اور وہ تمام حکومتوں پر بڑے ہتھیاروں کو ضائع کرنے کے لئے دباؤ ڈالیں ۔ اگرچہ نیوکلئیائی ہتھیاروں کو مکمل طور پر ضائع کرنا ممکن نہیں ہے، لیکن ہم ہتھیاروں کی تعداد کم کر کے خطرات کو کم کر سکتے ہیں۔

اگر ہم ایک نیوکلئیائی جنگ سے بچنے میں کامیاب ہو گئے ، تب بھی ایسے خطرات موجود ہیں جو ہم سب کو تباہ کر سکتے ہیں۔ ایک نہایت بیمار ذہن کا وضع کردہ مذاق ہے کہ کسی خلائی مخلوق نے ہم سے اب تک رابطہ اس لئے نہیں کیا کیونکہ جب تک وہ ہماری (ذہنی) سطح تک پہنچتی ہے وہ تباہ ہو جاتی ہے۔ لیکن مجھے عوام کی اچھائی پر پورا بھروسہ ہے کہ ہم اس (مذاق میں پنہاں طنز)کو غلط ثابت کر سکتے ہیں۔

 

یہ تقریر Oviedo اسپین میں 1989 میں کی گئی جب ہاکنگ کو آسٹریا ہارمنی اور Concord پرائز دیا گیا۔ (یہ تقریر اپ ڈیٹ کی گئی ہے)

 




چاچا ایلس کدوری (کرم خان مرحوم کی ہسٹری)

[dropcap size=big]کرم خان[/dropcap] مرحوم کا عرفی نام ''ایلس کدوری'' بھی ہمارے ہی ذہن کی اختراع تھی جس کی وجہ اتنی ہی بچگانہ سی تھی۔ بات یہ ہے کہ بڑے بھائی صاحب قبلہ دُنیائے دیگر کی عجیب و غریب باتیں بتایا کرتے تھے۔ اپنے قومی مشاہیر میں سے کسی کا ذکر تھا، آپ نے بتایا کہ اُنہوں نے میٹرک ہانگ کانگ کے ایلس کدوری ہائی اسکول سے کیا، ہم نے پوچھا بھیا یہ اسکول کا نام کیسا عجیب سا ہے؟ بتلایا کہ ایلس کدوری اسکول کے ان پڑھ مالک کا نام تھا، ہم دیر تک اسی بات پر ہنستے رہے اور پھر کرم خاں صاحب کا نام چاچا ایلس کدوری رکھ دیا جو کہ اس وقت الکرم گرامر اسکول کے مالک اور پرنسپل تھے اور یہ کوٹ سُکھے خان بلوچ کا پہلا نجی اسکول تھا۔

کرم خان بلوچ ہمیشہ سے چاچا ایلس کدوری نہ تھے۔ ہم ایسے بدتمیز دیہاتی لونڈوں کی ہنسی کا نشانہ بننے سے کئی برس قبل وہ سردار کرم حسین خان بلوچ آف کوٹ سُکھے خان، سابق چئیرمین یونین کونسل کہلاتے تھے۔ اُن کا یہ نام ثقافتی میلوں پر نیزے بازی کے کھیل کے دوران لاؤڈ اسپیکر پر گونجتا تھا۔ نقابت کے فرائض پر ہمیشہ سے مامور مظہر عباس دُکھی اور فاروق پروانہ تھل اور بار کے ملے جُلے لہجے کی جھنگوچی زبان میں شہسواروں کی حوصلہ افزائی اور شائقین کی ضیافتِ طبع کے لئے جن جملہ شعراء کرام کے ماہیئے اور 'دوہڑے' سناتے تھے، ان میں کرم خان صاحب کا کلام بھی شامل ہوتا تھا۔ گھڑسواروں، نیزے بازوں کی بازی میں خاں صاحب کے کلب کے گھوڑے دوڑتے تو کرم خاں صاحب کا نام اور بھی آن بان سے لیا جاتا۔ پکھوُ، پُنوں، مکھنا اور بُلبل اُن کے لاڈلے گھوڑے تھے جو کسی الہڑ اور خوبرو دُلھے کی سی نخوت اور شان کے ساتھ، سجے سجائے میدان کے ایک سرے پر نمودار ہوتے تو شائقین مرعوب ہوئے بغیر رہ پاتے نہ ہی داد میں کمی کرتے۔

یہ علاقہ لسانی اعتبار سے سرائیکی اور پنجابی کی سرحد پر واقع ہے اور غریب اور پسماندہ ہونے کی وجہ سے اسے کسی زبان اور کسی سیاسی گروہ نے نہیں اپنایا، سو یہ ایک ثقافتی بھول بھلیاں ہے جس کے باسیوں کو خود پتہ نہیں کہ وہ کون ہیں؟ اس گمشدگی کا اپنا ایک کلچر ہے۔ یہاں زرعی اور سیاسی طور پر سیالوں کا رُسوخ سکھوں کے دورِ حکومت سے بھی پہلے سے تھا بلکہ سرداری تھی جبکہ موضع جات اور دیہاتوں کے بانی سبھی بلوچ تھے جو سر ڈینزل ابٹسن کے مطابق جو روہی اور بار میں پھیلی پنجاب کی سب سے بڑی ذات تھے۔ کوٹ سکھے خان واحد گاؤں تھا جس کے بانی بھی بلوچ تھے اور سردار بھی وہی۔ جب کوٹ نیازی خان بلوچ، ڈیرہ شاکر خان تتاری، ڈیرہ دریا خان بلوچ، ڈیرہ جلال خان لشاری، کوٹ نصرت خان سیال اور بستی علی خان سیال کے بلوچ زمینداروں اور سرداروں کو دو سے ذیادہ گھوڑے پالنے اور تین تو کیا، ایک دو موٹر کاریں رکھنے کی استطاعت بھی کم ہی ہوتی تھی، اُس زمانے میں بھی کرم خان کے گھوڑے، گھوڑوں کو میلے تک لانے والی لاری، موٹر کار اور پجارو موٹر کا کاروان نیزہ بازی کے میدان میں نوابی دبدبے کے ساتھ آدھمکتا تھا۔

قدمیانہ، رنگت سانولی، بال لمبے اور گھنگھریالے جن کی خوشنما کاکلیں بن جاتی تھیں، آنکھیں خوبصورت اورروشن، اور مونچھیں باریک اور سلیقے سے ترشی ہوئی ہوتیں۔۔۔۔ عام دنوں میں ایک زمیندار اور شاعر کی سی سادگی کے ساتھ ملبوس رہتے۔۔۔ لیکن نیزہ بازی کے کھیل کے دوران کئی میٹر کی طُرے دار اکڑی ہوئی پگڑی، چنٹوں والی آستینوں کی قمیص، لٹھے کی لُنگی اور پاؤں میں پیر محل کے کُھسے انہیں دیگر معزز مہمانوں کی صف میں، جہاں بلاشبہ سیاسی طور پر اُن سے بڑی سیاسی حیثیت کے سردار، اور زیادہ رسوخ کے نواب لوگ بھی ہوتے تھے، نمایاں رکھتے تھے۔ پنچایتوں میں منصفی کرتے اور ہر ایک کے خوشی غم میں دامے درمے شریک ہوتے مگر غرباء کے ساتھ برابری کی سطح پہ آ کر برتتے تھے۔

سردار موصوف کی وضعداری پھر بھی کمال تھی۔ نیزے بازی میں سرپٹ دوڑ کر میدان کے ایک سرے سے نمودار ہوتے ہوئے جھنگ، سرگودھے، خوشاب، میانوالی اور بھکر کے شہسواروں کی آن بان، اُن کا باری باری ہدف پر جھپٹ کر اس میں نیزہ گاڑنے کے لمحے کا رعب اور پھر اسے اکھاڑ کر نیزے کو گھڑیال کی بڑی سوئی کی طرح دوبار گھما کر، پھر بازو آگے پھیلا کر 'دکھاوا' کرنے کا منظر نہایت دلکش اور خون کو گرما دینے والا ہوتا تھا، لیکن جب ''سیکشن'' کی دوڑ میں بیک وقت ایک صف میں کرم خان کے چار گھوڑوں کا چھوٹا سا 'رسالہ' ایک ہی ہلے میں یہ مظاہرہ دکھاتا تو آنکھوں کے آگے قرونِ وسطیٰ کے شہسواروں کی شجاعت اور پامردی کا نقشہ کھنچ جاتا اور میلہ لُوٹ لیتا۔ اس پر نجانے کتنی دیر تک ڈھول بجتا رہتا اور داد کی واہ واہ ہوتی رہتی۔ کرم خان کا نیزہ گرفت کی جگہ چھوڑ کر، جس پر کَسی ہوئی رنگین ڈوریوں سے دستہ بنایا گیا تھا، اپنی نوک تک اور پیچھے کی ''ڈوڈی'' تک منڈھے ہوئے سنہری پیتل کی وجہ سے دور تک لشکارے مارتا تھا۔ خاں صاحب ہمیشہ چار کے سیکشن میں ہدف اکھاڑتے تھے اور ہمیشہ چار مصرعے کی مقامی صنف میں شاعری کرتے جسے ''دوہڑا'' کہا جاتا ہے۔ اُنہوں نے کئی اشعار نیزے بازی کے شہسواروں کی شان میں کہے اور ہر کھیل میلے کے اختتام پر شہسواروں کو نقد انعام دے کر رخصت کرتے تھے۔ سوار کے لئے الگ انعام اور گھوڑے کے نام کا الگ انعام۔

دلچسپ منظر ان کی اپنی رُخصت (اور آمد) کا بھی ہوتا تھا۔ جب اکثر سردار اور نواب اپنی ستر ماڈل کی ٹویوٹا کاروں، فوجی نیلام سے لی گئی موٹے ترپال کی چھتوں والی بدرنگ جیپوں اور شاہی ہاتھیوں کے جیسے پرتکلف انداز میں آراستہ ہودوں والے ٹریکٹروں پر سوار ہو کر روانہ ہوتے، کرم خان ان سواریوں سے اونچی اور لمبی 'پجارو' میں سوار ہو رہے ہوتے تھے اور ایک عالم انہیں رُخصت کرنے والا (یا استقبال کرنے والا) ہوتا۔ یہ ''پجارو'' لگ بھگ لاری کے جتنی بڑی گاڑی تو ہوگی جو فقط الیکشن کے دنوں میں شاہ جیونے کے مخدوموں کے کاروان میں نظر آیا کرتی تھی یا پھر ہمارے علاقے میں کرم خان کے پاس تھی۔ الوداع کہنے والوں کے ساتھ ساتھ ایک ہجوم بڑھ کر گاڑی کو قریب سے دیکھنے کے خواہشمندوں کا بھی دیکھنے کو ملتا۔ دوسرے علاقوں سے آنے والے شہسواروں کی مہمان نوازی اکثر کرم خان کے ڈیرے پر ہوتی تھی اور اس اہتمام سے ہوتی کہ مہمان سوار یاد رکھتے تھے اور دیکھنے والے مثالیں دیتے۔

خان صاحب کی 'پجارو' کی طرح ان کی مسکرانے کی ادا بھی ان کے مداحوں کے لئے ایک نظارہ تھی۔ یہ مسکراہٹ کبھی ان کے نیم وا ہونٹوں سے رُخصت ہوتی تھی نہ کبھی ان کے مداح اس سے سیر ہوئے تھے۔ بات کرنے کا لہجہ نہایت دھیما تھا اور بلا کی حسِ مزاح پائی تھی۔ پھر خاں صاحب شرمیلے بھی ایسے ہی تھے جیسے کمال کے شاعر تھے۔ مشاعروں میں وہ کبھی نہ گئے البتہ نجی محفلوں میں شعر کہہ کر محفلیں لوُٹ لیتے۔ ہمارے اُردو کے ایک اُستاد جناب ثاقب عثمانی صاحب انہیں جھنگوچی زبان کا اختر شیرانی کہا کرتے تھے۔ کرم خان کی شاعری کا کاتب ان کا دوست ریاض نائی تھا کیونکہ خان موصوف خود لکھنا نہ جانتے تھے۔ ریاض دس جماعتیں پاس تھا اور بہت خوبصورت جوان تھا۔ کوٹ سُکھے خان کا نائی تھا اور میں نے اسے ایک عرصے تک پٹھان سمجھا۔ خوش شکل ہی نہیں، خوش اطوار اور خوش کردار جوان تھا۔ یہی اوصاف کرم خان نے ہمیشہ اپنے دوستوں میں تلاش کئے لہٰذا کم ہی دوست بنائے، اگرچہ اس کی وجہ کچھ کرم خان کی سادہ مزاجی اور کم آمیزی بھی تھی۔ ان اوصاف کے ساتھ ان کا دولت مند ہونا فقط اس وجہ سے ممکن تھا کہ انہیں یہ سارا ٹھاٹ باٹھ اپنے والد، محمد خان بلوچ مرحوم اور نانا سردار سرخرو خان نواب آف کوٹ مبارک سیال سے ملا تھا۔ کرم خان کی سادہ مزاجی، مروت، دوست پروری اور دریا دلی ان کی دولت کے لئے ایک خطرہ تھی کیونکہ نئی صدی اب وقت کی دہلیز پہ دستک دے رہی تھی اور معزز ہونے کے میعارات بدل رہے تھے۔ آس پاس سے سادہ مزاجی، قناعت، بے لوث محبت، مروت اور بندہ پروری رخصت ہورہی تھی اور سب سے بڑی بات حُسن، جو کرم خان کے نزدیک کائنات کا محور و مرکز تھا اور حسن کی پرستش مقصدِ حیات، یہ دونوں چیزیں اپنے مفہوم بدل رہی تھیں اور بڑے قاتل بہروپ بھر رہی تھیں۔

[dropcap size=big]خان صاحب[/dropcap] حُسن کے شیدائی تھے اور حُسن و عشق کی حد تک تو ذات پات کے قائل بھی نہ تھے۔ ایک دفعہ گلی میں سر پر چھابہ اٹھائے ایک بنجارن کو چوڑیاں بیچتے دیکھا۔ سانولے رنگ کی بنجارن کے دنداسے سے چمکتے دانتوں سے منور ایک ہی مسکراہٹ نے خان صاحب کو چونکا دیا۔ قریب آکر دیکھا تو بلا کی حسیِن نکلی۔ ہم تھل باسیوں میں ابھی سانولے رنگ کی قدردانی کا زمانہ باقی تھا۔ کرم خان نے پوچھا،

''یہ سب چوڑیاں کتنے میں بیچو گی؟''
بنجارن بھی شاید مردم شناس تھی، بولی؛
''جب ساری کی ساری چاہیئیں تو دام کیسے؟''

خاں صاحب اس جواب سے بڑے خوش ہوئے مگر جب پاس سے گزرتی عورتوں نے مکالمہ سُنا تو رُک گئیں، خان صاحب بدحواس سے ہو گئے۔ جس زمانے میں وہ ساری کی ساری چوڑیاں ڈیڑھ سو روپئے سے زیادہ کی نہ ہوں گی، خان صاحب نے پانچ سو روپئے کا نوٹ اس کے ہاتھ میں تھمایا اور ساری چوڑیاں اپنی ڈیوڑھی میں رکھوا لیں۔ ان کے اپنے گھر میں تو کوئی پہننے والا نہ تھا، سو اسی شام یہ چوڑیاں ہمسائے اور آس پاس کی بچیوں، کمسن لڑکیوں میں بانٹ دیں۔ عورتیں بھی چھیڑنے کو پوچھتی رہیں، ''بھائی کرم خان کتنے کی لیں؟ کہاں سے لیں اتنی پیاری چوڑیاں؟''

ہم، کہ کرم خان صاحب کے زوال ہی کو دیکھنے والی نسل ہیں، یہی سوچتے تھے کہ اپنی دولت اور رسوخ کے عروج کے زمانے میں خان صاحب خاصی شکل و صورت کے جوان ہوں گے اور یقیناً حُسن کی دیوی بھی ان پر مہربان ہوئی ہو گی۔ چاچا ریاض نائی کے بقول ''کیوں نہیں!!!''۔ اپنے عروج اور جوانی کے زمانے میں خان صاحب کو دریا پار کے ایک سردار قبیلے کی ڈاکٹرنی سے عشق ہو گیا۔ خان صاحب نے فقط اس کے دیدار کی خاطر خالق پور کے دیہی مرکزِ صحت کے اتنے چکر لگائے کہ وہاں کے لوگ ان کی ولیز جیپ کا وہاں اس تواتر سے آنا نظرانداز نہ کر سکے اور چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ وہاں کا نمبردار خان صاحب کا دوست تھا۔ اور بعد از خواریء بسیار ڈاکٹر صاحبہ سے ملاقات کی سبیل نکلی۔ خاتون بڑی باوقار اور بااعتماد تھی۔ جب دوسری ملاقات میں کچھ بے تکلفی کی فضا بنی تو کہنے لگیں؛

''خان صاحب میں امیر گھرانے سے تو ہوں مگر امیروں کے سے ٹھاٹ باٹھ مجھے متاثر نہیں کرتے، بلکہ''
ڈاکٹر صاحبہ ہنسیں،
''آپ کی جیپ سے تو مجھے ڈر لگتا ہے''

ڈاکٹر صاحبہ نے تو مذاقاً کہا مگر اگلی ملاقات میں بھولے بھالے کرم خان نے دریا تک گھوڑے پر سفر کیا، پھر اسے ملاحوں کے حوالے کرکے کشتی سے دریا پار کیا اور خالق پور تک چار پانچ میل پیدل چل کر گئے تو ڈاکٹر صاحبہ کا دل پسیجا۔ ڈاکٹر صاحبہ کا دل چند ایسے ہی واقعات میں خان صاحب پر لہرایا کہ شکل و صورت کا یہ بھولا بھالا سا امیرزادہ اندرون سے بھی کھرا اور مخلص آدمی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کے دل میں کرم خان کے لئے جو جگہ بن چکی تھی، اب وہ پختہ ہونے لگی۔ جب ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھا اور خان صاحب کے جذبہء دل کو قبولیت ملی تو اس خاتون نے بھی خوب نباہی۔ ڈاکٹر صاحبہ کا تبادلہ کرم خان کے اصرار اور اثر و رسوخ کی بدولت بآسانی کوٹ سُکھے خان بلوچ کے دیہی مرکزِ صحت میں ہو گیا جو کہ ''سرکاری ہسپتال'' کہلاتا ہے۔

ان دنوں کا ایک قصہ مشہور ہے۔ ایک روز جاڑے کی شدت عروج پہ تھی اور بارش بھی شدید تھی، ڈاکٹر صاحبہ گھر واپس نہ جا سکیں تو رات ہسپتال ہی ٹھہرنا پڑا۔ ہسپتال کی دایہ جو اُن کی ہم راز بھی تھی، رات ڈاکٹر صاحبہ کے پاس شب بسری پر مامور تھی، کرم خان کے پاس خبر لے کر آئی تو خان صاحب نے اُسی کے ہاتھ ڈاکٹر صاحبہ کو اپنے ہاں رات کے کھانے کی دعوت دے دی۔ خان صاحب کی اہلیہ وفات پا چکی تھیں اور ایک ننھی سی بیٹی تھی جو اکثر ننھیال میں رہتی تھی سو گھر پہ سوائے نوکروں کے کوئی نہ تھا۔ اُنہوں نے شام ہوتے ہی نوکروں کو چھٹی کروا دی اور باورچن سے کہا کہ وہ بھی کھانا پکا کر چلی جائے۔ رات پھیلے سے جب باورچن چلی گئی تو ساتھ ہی ڈاکٹر صاحبہ آ گئیں۔ خان صاحب نے خُود کھانا لگایا اور خود ہی آفتابے بھر بھر معزز مہمان کے ہاتھ پاؤں دھلوائے اور خُوب مدارات کیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کو بھی دلبری کے سارے انداز خؤب آتے تھے، اُنہوں نے بھی خان صاحب کے والہانہ پن کا دل رکھا۔ اب پریشانی یہ لاحق ہوئی کہ ڈاکٹر صاحبہ شہر کی تھیں اور کھانے کے بعد اُنہوں نے چائے کی فرمائش کر دی جبکہ خان صاحب نے باورچن کو چائے کے لئے روکا ہی نہ تھا، اس طرف اُن کا دھیان ہی نہ گیا تھا۔ اب بارش بھی اتنی شدید تھی کہ کوئی اور چارہ نہ تھا، خان صاحب خُود توشہ خانے میں گئے، دودھ، چائے کی پتی اور گُڑ نکالا، چائے بنانے لگے تو دیکھا کہ چولھے میں راکھ بُجھ چُکی تھی اور نوکر جانے کی جلدی میں جلانے کا ایندھن اور اُپلے باہر کُھلے میں چھوڑ گئے تھے جو مکمل طور پر بھیگ چُکے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بڑے بڑے زمینداروں کے گھر سادہ اور اکثر کچے ہوا کرتے تھے۔ وہ اپنی امارت کی نمود و ونمائش زیادہ تر ڈیرے، بیٹھک پر ہی کرتے تھے جس کا میعار عموماً مویشیوں کی تعداد ہی ہوتی اور یہ ڈیرے، تھان اکثر گھروں سے دور، کھیتوں زمینوں میں اور گاؤں سے ذرا ہٹ کر ہوتے تھے۔ ان کچے گھروں پر گارے کا لیپ اور نقش و نگار کا سلیقہ بھی ہر گھر کا اپنا ہی ہوتا تھا جس میں عموماً خاتونِ خانہ کی حسِ جمال کا اظہار ہوتا تھا۔ منڈیروں پر پھول بوٹے، طاقچوں کی کناریوں پر بنائے گئے نقش یا کبوتر، مور، تتلیاں وغیرہ عموماً مقامی طور پر تیار کئے گئے رنگوں سے رنگین کئے گئے ہوتے تھے۔ چونے کا استعمال ابھی یہاں عام نہ ہوا تھا۔ اب خان صاحب پکانے کے کمرے میں جلانے کے لئے کچھ تلاش کررہے تھے، کوئی خُشک اور جلانے کے قابل چیز نہ ملی، دو چار خشک پارچے تو ضرور ملے لیکن ان کے جلانے سے ان کی بدبو چائے میں مل جانے کا خدشہ تھا۔ بارش کی شدت نے باہر جا کر کچھ ڈھونڈنے کا امکان بھی خبط کر دیا۔ گھر میں کلامِ مجید کے سوا کوئی کتاب نہ تھی کہ خان صاحب موصوف ان پڑھ تھے۔ کاغذ کی مد میں فقط جائیداد کی دستاویزات ہوا کرتی تھیں مگر کچھ دنوں سے چوری وغیرہ کے ڈر سے امانتاً وہ بھی اُنہوں نے اپنے چچا برخوردار خان کے گھر رکھ چھوڑی تھیں۔ اب سوچا کہ کسی مونڈھے یا کرسی کو کاٹ کر جلا ڈالاجائے مگر بہت تلاش کے باوجود کلہاڑی نہ ملی۔ مسئلے کا کوئی اور حل بھی نکل سکتا ہوگا مگر اب جو کرم خان کے جذبہءِ محبت نے جوش مارا تو سامان کے کمرے میں آئے، اپنے ذاتی ٹرنک کا تالا کھولا۔ اس میں سو سو، پچاس پچاس، اور دس دس، پانچ پانچ روپے کے نوٹوں کی گڈیاں رکھی تھیں۔ یہ کل ہی بیچی گئی بھینس اور گیہوں غلے کی مد میں وصول ہونے والی بھاری رقم تھی اور ہنوز شہر جا کر بینک میں جمع نہیں کروائی گئی تھی۔ اُس زمانے میں سو پچاس بھی خاصی رقم کی رقم تھی۔ خان صاحب نے نسبتاً نئے نوٹوں کو جو دیا سلائی دکھائی تو وہ الگ الگ جلنے لگے۔ باورچی خانے کے کمرے میں آئے اور پھر خان صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، نوٹ جلنے لگے، چائے پکنے لگی۔ ادھر ڈاکٹر صاحبہ کو جو فکر لاحق ہوئی کہ خاں صاحب نے چائے منگوانے میں کیوں تاخیر کر دی؟ دیکھتی بھالتی توشہ خانے کے کمرے میں آئیں اور یہ منظر دیکھ کر دنگ رہ گئیں۔

''کرم خان، رُک جائیے، یہ کیا کر رہے ہیں؟''
ڈاکٹڑ صاحبہ نے انہیں منع کیا تو خان صاحب لمحے بھر کو رُکے پھر ہنس کر جواب دیا؛

''یہ غریب شاعر اپنے محبوب کی مہمان نوازی کے کہاں قابل ہو سکتا تھا، دیکھیئے، جلانے کی لکڑی تک نہ تھی آج گھر میں۔۔۔"

یہ کہہ کر دوبارہ چولہے میں نوٹ جھونکنے لگے۔ سو پچاس کی گڈیاں کم تھیں جلدی پھنک گئیں، اب دس اور پانچ والی گڈیاں تھیں۔ تب پانچ روپئے کا نوٹ آج کے ہزار والے سے چوڑا ہوتا تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ خاموش کھڑی دیکھنے لگیں۔ چائے غالباً دوسری یا تیسری دفعہ 'اُبھری' تو خان صاحب نے اُتار کر چینک میں ڈالی۔ ڈاکٹر صاحبہ مہمان داری کے کمرے میں آبیٹھیں اور خموشی سے رنگین مونڈھے پر بیٹھی چائے پینے لگیں جو ساتھ ہی خان صاحب لے کر آن پہنچے تھے۔

''معاف کیجئے گا اگر اچھی نہ بنی ہو، مجھے چائے بنانے کا سلیقہ نہیں''

کرم خان نے محبت بھرے لہجے میں کہا تو ڈاکٹر صاحبہ کے ہونٹوں پر ایک دلبرانہ سی مسکراہٹ نمودار ہوئی مگر چُپ رہیں۔ اسی اثناء میں بارش تھمی اور ڈاکٹر صاحبہ کے جانے کا قصد ہوا تو کرم خان متفکر تھے اور ڈاکٹر صاحبہ بھی بدستور خاموش تھیں۔
''آپ چُپ کیوں ہیں میرے سردار؟''
کرم خان نے پوچھا۔ اس قصے کے راوی چاچا ریاض نائی بتاتے ہیں کہ خان صاحب کو جس کسی سے بہت محبت ہوتی اُسے 'میرا سردار؛کہہ کر پکارتے تھے حتیٰ کہ گھوڑوں میں بھی 'دلبر' جو انہیں بیحد پیارا تھا اور کافی پہلے مر گیا تھا، اُسے بھی اکثر پچکارتے ہوئے کہتے تھے، ''مزاج کیسے ہیں میرے سردار؟''

''خان صاحب! دس ہزار تو جلا دئیے ہوں گے آپ نے۔۔۔ میں فقط پانچ ہزار کی تنخواہ دار سرکاری ملازم ہوں، مجھ پہ اس مظاہرے کا رعب طاری رہے گا!'' ڈاکٹر صاحبہ نے اپنی شال سمیٹ کر روانگی کا خاموش اعلان کرتے ہوئے مسکرا کر کہا تو کرم خان کی آنکھ میں آنسو بھر آئے۔

''اسے دولت کی نمائش سمجھیں یا عقیدت کا اظہار، آپ کو اختیار ہے میرے سردار۔۔۔''

یہ کہہ کر انہوں نے ڈاکٹر صاحبہ کے جوتے اٹھا کر ان کے پاؤں کے سامنے سیدھے کر دئیے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے جوتے پہنے اور اُٹھ کھڑی ہوئیں۔ خان صاحب انہیں واپس ہسپتال چھوڑ آئے۔ اب اس سوال کا جواب چاچا ریاض کے پاس ہے نہ کسی اور شناسا کے پاس کہ اس واقعے کے بعد ڈاکٹر صاحبہ کا کرم خان سے نہ تو کوئی ربط کوئی تعلق رہا نہ کوٹ سُکھے خان آنا جانا ہوا تواس کی کیا وجہ تھی؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بے رُخی کا شکوہ کرم خان نے کبھی کسی دوست سے کیا نہ اپنی شاعری میں۔ البتہ اس کے بعد کی شاعری میں جو درد اور سوز ظاہر ہوا، کمال تھا۔ ہماری بولی کے ایک لوک گائیک جو ریڈیو اور ٹیلی وژن پر بڑے مشہور ہوئے اور لاکھوں میں ان کے کیسٹ ریکارڈ فروخت ہوئے، اکثر کرم خان کے اشعار گایا کرتے تھے جو فقط محبت، دوستی، جانثاری، وفاشعاری، تسلیم و رضا اور حُسن کی حکمرانی کے موضوع لئے ہوتے۔

[dropcap size=big]ڈاکٹر صاحبہ[/dropcap] کے چلے جانے کو کرم خان کے زوال کی وجہ تو نہیں کہا جا سکتا لیکن ان کے زوال کی کرونالوجی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔ اُنہوں نے وہ ولیز جیپ اور پجارو آئندہ دو ایک سالوں میں ہی بیچ ڈالیں اور سفر کے لئے کبھی کبھار وہی کار استعمال کرنے لگے جو ان کے چچا جان اور کم سن بیٹی کے لئے مختص تھی۔ دو تین موسم ایسے ہی گزر گئے تو جاڑوں کی کسی رات میں کوٹ سُکھے خان کے ایک دُکاندار حاجی یار محمد کمہار کی دُکان سے کچھ سامان چوری ہو گیا جس میں ریاض نائی کا چھوٹا بھائی حیات نائی ملوث تھا یا اس پر شبہ تھا۔

جب تھانے میں کارروائی ہونے لگی تو یار محمد کمہار نے کرم خان کا نام بھی درخواست میں ڈلوا دیا۔ برسوں پہلے کرم خان نے کسی پنچایت میں یار محمد کمہار کے خلاف فیصلہ سنایا تھا جس کا کینہ نکالنے کا موقع اب اسے حیات نائی کے ذریعے مل گیا تھا کہ حیات نائی اپنے بڑے بھائی ریاض کو بیحد عزیز تھا اور اسی وساطت سے کرم خان کا بھی خوب نیازمند تھا۔ پہلے تو تھانیدار نے پس و پیش سے کام لیا کہ اُس نے کرم خان کو ایم این اے اور ایم پی اے سطح کے لوگوں کے ہاں مہمان ہوتے ہوئے بھی دیکھ رکھا تھا لیکن پھر حاجی یار محمد نے میاں غفار شاہ کے توسط سے تھانیدار کو قائل کر لیا۔ حالیہ الیکشن کے بعد ایک کرم خان پر ہی کیا موقوف، سبھی بلوچوں کا اثر و رسوخ پہلے سا نہ رہا تھا۔ کرم خان اب مھض ایک ڈھلتے ہوئے زمیندار اور ایک ''عاشق مزاج'' شاعر کے سوا تھا ہی کیا، وہ مہمانداریاں اور وہ رسوخ اب قصہ ہائے پارینہ پن چکی تھیں۔ تھانیدار کو بات سمجھ آ گئی۔ حیات نائی نے تھانے میں ایک رات کی ''مہمان نوازی'' میں ہی چوری تسلیم کر لی اور اقبالی بیان کے لئے خالی کاغذ پر انگوٹھا بھی لگا دیا۔ اب ریاض نائی کی شامت آئی۔ غرض تھانیدار، محرر، تفتیشی اور ہر اس شخص جس کا تعلق تھانے کی کسی کارروائی سے تھا نے کرم خان کو اس تمام کھیل میں ناصرف خُوب رگیدا بلکہ پیسے بھی خُوب اینٹھے۔ خان صاحب کو ایک تو اپنی عزت ناموس کا خیال تھا کہ ایک کمہار کی مدعیت کی وجہ سے اگر ایک بار بھی کچہری جانا پڑ گیا تو بھلے بعد میں بری بھی ہو گئے تو بھی ساری ساکھ اور عزت کی فوج پلٹن ہو کر رہ جائے گی۔ دوسرا وہ نہیں چاہتے تھے کہ ریاض یہ سمجھے کہ اُس کے معاملے میں خان صاحب نے پیسے کو عزیز تر رکھا۔ تھانوں کی اکنامکس میں ایسے سفید پوشوں کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ خیر، تھانیدار صاحب کو بالآخر اندازہ ہو گیا کہ حاجی یار محمد کمہار کی دی گئی رشوت بہرحال ایک بے قصور اور معزز زمیندار کو تادیر رگیدنے کے لئے کوئی معقول معاوضہ نہیں ہے۔اس نے فریقین کو پابند کیا کہ مسئلہ پنچایت میں حل کریں اور اور پرچہ کاٹنے کے بجائے خارج کر دیا۔

مسئلہ پنچایت میں فیصل ہوا، حیات نے چوری کا سامان لوٹا دیا، جرمانہ ہرجانہ بھی دینے پر رضامند ہو گیا۔ ریاض نے کلامِ مجید پر قسم دے دی جبکہ خان صاحب کو اور تو کچھ نہ کہا گیا مگر جب یار محمد کمہار کے مدعا علیہہ کے طورپر پنچایت میں بیٹھے تو پھر وہ وقار اور دبدبہ علاقے میں نہ رہا، جگ ہنسائی اور کاناپھوسیاں تو فطری امر تھیں۔ چھوٹی چھوٹی حیثیت کے ٹھگ، لُچے، مقدمے باز اور ٹاؤٹ بے تکلف ہونے لگے اور اُن پر سے خان صاحب کا رعب جاتا رہا۔ ڈاکٹرنی کا قصہ تو برسوں سے زبان ذدِ خاص و عام تھا اب نائیوں اور کمہاروں کے تنازعے میں پارٹی بن کر اور بھی سبک ہوئے۔ نائی تو اپنا یار تھا ان کا، رہی بات کمہار کی، تو وہ بھی ایسی تشویش کی بات نہ تھی مگر کمہاروں نے خود اس معاملے کی تشہیر کی۔

اصل خرابی یہ ہوئی تھی کہ دریا پار کے میدانی علاقے کا کوئی متوسط سا زمیندار کچھ سال قبل یہاں آکر صحرا نشین ہوا تھا۔ وہاں کے میراثیوں میں سے تھا مگر یہاں آ کر پہلے میاں کہلانے لگا اور سفید پوشی اور وضعداری اور معززینِ علاقہ کی خوشامد میں کمال حاصل کیا، پھر ہاشمی بن گیا۔ پہلے تو سال بھر خوب لعن طعن کا مورد ٹھہرا پھر لوگ طنزاً اسے شاہ صاحب کہنے لگے۔ اب جبکہ اس کا کاروبار بڑھا اور کسی سیاستدان کا چمچہ بنا تو پانچ سات سال کے اندر ہی پوری جلالت مآبی سے سید کہلانے لگا۔ یہاں کے جو نسبی سید اُردو بان مہاجر تھے، وہ تھے تو پڑھے لکھے مگر سیلانی سی طبیعتوں کے نیم پاگل سے لوگ ہونے کی وجہ سے اتنے غریب اور کنگال تھے کہ ڈٹ کر اس سے لڑ بھی نہ سکے، آخر لے دے کے ان کے پاس بھی تو وہی ناموس ہی بچی تھی۔ ان کے بڑے بزرگ باوا گُل حسین شاہ نے تھانے میں میاں غفار شاہ کے خلاف درخواست بھی دی لیکن بے سود۔ کرم خان نے ان کا ساتھ دیا کہ چار پشتوں سے انہی کے مرید تھے مگر اب ان کا سورج بھی ڈھل چُکا تھا؛ غفار شاہ کو اس بات کا غم و غُصہ تب سے تھا۔ مرحوم محمد خان بلوچ اور برخوردار خان بلوچ نے ایک معقول قطعہ ء اراضی باوا گُل حسین شاہ کو مدتوں پہلے نذرانہ کیا تھا جسے وہ تب سے کاشت کررہے تھے اور ان کی گزران اسی آمدن سے تھی۔

بلدیاتی الیکشن ہوئے تو کرم خان صاحب نے ان الیکشنوں میں چئیرمین کی نشست کے لئے دوبارہ کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دئیے کہ شاید اسی سے کچھ ساکھ بحال ہو۔ ان کے مقابلے میں کوئی ٹکر کے نواب زمیندار بھی ہوں گے مگر امید افزا بات یہ تھی کہ کوٹ سُکھے خان بلوچ کے آس پاس میں بلوچ آبادی کم نہ تھی اور سیاسی طور پر اب بھی بطور قبیلہ ان کا ووٹ بینک بھاری تھا۔ یہاں تک تو سب ٹھیک تھا مگر پھر خرابی یہ ہوئی کہ میاں غفار شاہ نے عدالت میں یہ درخواست دے دی کہ کرم خان اکہتر کی جنگ میں فوج سے بھگوڑا ہو گیا تھا، اس کی اہلیت مشکوک ہے۔ کرم خان نے جج کے سامنے پیش ہو کر یہ بتایا وہ ایک امیر گھرانے کے اکلوتے بیٹے تھےاور ساری آسائشیں چھوڑ کر اور ماں کی مرضی کے خلاف سترہ سال کی کچی سی عمر میں بھرتی ہوئے تھے۔ بنگالے کی قید سے لوٹے تو ماں انتظار میں مرچکی تھی۔ بس اسی بات پہ دلبرداشتہ ہو کر دوبارہ نوکری پر نہ گئے اور یہ ان کی زندگی کا ایسا تلخ تجربہ تھا کہ اس کا ذکر کبھی کسی سے نہ کیا۔ رانچی میں ہلالِ احمر کے توسط سے ملنے والا ماں کا آخری خط جج کے سامنے رکھا تو اُن کی بھی آنکھ بھر آئی۔جج صاحب نے کہا؛ بلوچ صاحب مجھے آپ کی نیک نیتی پہ کوئی شک نہیں، مادرِ وطن ہو یا مادرِ مہربان ہو، دونوں کی محبت میں انسان کچھ بھی کربیٹھتا ہے لیکن بہتر ہے کہ آپ کاغذاتِ نامزدگی واپس لے لیں ورنہ مجھے ویریفیکیشن کا کیس رجمنٹل سنٹر بھیجنا پڑے گا۔

خان صاحب نے میاں صاحب کو پیغام بھجوایا کہ وہ اس بے ہودگی کا بدلہ ضرور لیں گے۔ مشورہ دینے والوں نے کہا کہ میاں صاحب دھیان رہے، کرم خان کا غُصہ کئی برسوں میں ایک ہی دفعہ دیکھنے کو ملاتھا مگر کوٹ سُکھے خان کی ہر دیکھنے والی آنکھ کو آج بھی یاد تھا۔ خیر، گذشتہ را صلوات، الیکشن کے بعد میاں غفار شاہ ہاشمی جونہی یونین کونسل کے چیئرمین منتخب ہوئے، اُنہیں خیال آیا کہ اب ایک تیر سے دو شکار کیے جائیں۔ میاں صاحب نے اب باوا گُل حُسین شاہ کے قطعہ ء اراضی میں واقع کیکر کا ایک بڑا سا جھنڈ کٹوا کر راتوں رات اس پر ہل چلوا دئیے۔ صبحدم جب اس بر 'بِجائی' ہو رہی تھی تو فساد برپا ہو گیا۔ سید تو تعداد میں اتنے نہ تھے، مگر بلوچوں کے نوجوانوں نے ڈنڈے بلم کھینچ لئے اور خُوب سر پھٹول ہو گئی۔ سرفراز خان بلوچ علاقے کے آخری بلم بازوں میں سے تھا اور اس وقت بہتر سال کا بوڑھا تھا، اُن نے جو بلم کھینچا میاں غفار شاہ کے چھوٹے سالے کو اچار کی ڈلی کے مانند پرو کر رکھ دیا۔ اُدھر میاں غفار شاہ کو کچھ اور نہ سوجھی تو دفعہ سات اکیاون کی درخواست تھانے میں دے دی اور ساتھ ہی گرفتاری پیش کر دی۔ پولیس کو چارہ نہ تھا سو کرم خان اور باوا گُل حسین شاہ کو بھی گرفتار کر کے تھانے لے گئی اور دن بھر تھانے میں رکھ کر شام کو چھوڑ دیا کہ میاں صاحب خود ہی پنچایت کرنے پر راضی ہوگئے۔ پھر بھی زمین پر دعوے کی دیوانی کی کارروائی کئی سال عدالت میں چلتی رہی۔ پھر فوجداری بھی اس طرح شامل ہو گئی کہ میاں صاحب کا سالا زخموں سے وہ چُور ہوا کہ مہینہ بھر صاحبِ فراش رہ کر مر گیا۔ میاں غفار شاہ نے کسی مصلحت کی بنا پر اس کا پرچہ ریاض نائی پر کروا دیا اور کرم خان کو مشاورتِ قتل کے زمرے میں شامل کیا جس کی پیروی ریاض کی طرف سے بھی کرم خان کے وکیل نے کی۔ آئے روز کئی چھوٹے بڑے جھوٹے مقدمات میاں صاحب ان کے علاوہ کرواتے رہتے تاکہ خان صاحب دم نہ لینے پائیں۔ پنجابی زمیندار کی سب سے بڑی دشمن کچہری ہے۔ ان سالوں میں کرم خان کے گھوڑوں والی لاری بِکی، پھر گھوڑے بکے اور گائے بھینسوں کا باڑہ بھی گھٹتا گیا۔ پہلے کبھی جو لوگ کرم خان کی املاک خریدنے کی استطاعت رکھتے تھے مگر انہیں خریدنے کا حوصلہ نہ پڑتا تھا، اُنہی نے اب یہ تمام املاک بھی خرید لیں۔ پُنوں، پکھُو، مکھنا اور بُلبُل اب یا تو چھوٹے شوقینوں کی سواریاں تھے یا تانگوں کی مشقت میں ذلیل ہو رہے تھے۔

[dropcap size=small]زمانے[/dropcap] کا چلن بھی تیزی سے بدل رہا تھا۔ ہماری دیسی رہتل میں ذات پات کا نظام ختم تو ہرگز نہیں ہوا تھا لیکن غریب اور چھوٹی ذاتوں کے لوگوں میں اس بدبودار نظام کے طوق کو اپنے گلے سے نکال کر کسی اور ڈوبتے ہوئے کے گلے ڈال دینے کا حوصلہ آرہا تھا۔ وہ تعلیم بھی حاصل کررہے تھے اور دن رات پیسہ جمع کرنے میں بھی جُتے ہوئے تھے۔ جہاں تعلیم انہیں چھوٹی ذاتوں والے فرسودہ خیال کی قید اور احساسِ کمتری سے نکال رہی تھی، وہاں کئی ایک کو دولت یہ اعتماد بخش رہی تھی کہ ماضی کے اشراف اور نجیبوں کی توہین و تضحیک کر کے یک گونہ سرور اور لُطف حاصل کریں اور اپنے آباء و اجداد کی توہین و تضحیک کے انتقام کا فریضہ بھی ادا کریں۔ شاید قدرت کا انصاف اسی میں مضمر تھا لیکن یہ جو کرم خان کی توقیر اور دبدبہ گھٹتا چلا گیا، وقت کی اس نا انصافی کا شکوہ اب اُن کے شعروں میں بھی ملتا تھا۔ اُن کے ایک چہار مصرع شعر کا مفہوم:
''اعلیٰ نسلوں کے گھوڑے گھائل ہوئے اور بِجُو اُن کے سروں پر سوار ہوگئے، نجیب ہار گئے اور بداصل لوگ حکمران بن گئے۔ لیکن کرم خاں! اُن سے کہہ دو کہ گیدڑ اگر شیر کا خُون پی بھی لے تو شیر کا خُون اس کی رگوں میں نہیں دوڑے گا!''

لیکن کرم خان کے ایک قدر دان، ہمارے اُردو کے اُستاد جناب عثمانی صاحب کے بقول کرم خان ٹھہرے بھولے آدمی، وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ اشراف اور کمین ہونا کوئی بائیولوجی کا سوال نہیں بلکہ سوشیالوجی کا سوال ہے۔ پروفیسر صاحب کے خیال میں انہی ٹُچوں، ٹاؤٹوں، مقدمے باز ٹھگوں، لُچوں اور بدمعاشوں کے پاس دولت آئے گی تو ان کی اگلی نسل کے پاس تعلیم بھی آئے گی تو تعلیم کی برکت سے اُن میں شرفاء والے اوصاف بھی آجائیں گے پھر کسے خبر کہ کرم خان کی اولاد اور قبیلے میں سے غریبی اور تنگدستی کے باعث آئیندہ ایک دونسلوں میں لُچے اور کمینہ سوچ کے لوگ سر اُٹھالیں۔

خیر کرم خان کی دولت، جاگیر جائیداد گھٹی تو میاں غفار شاہ ہاشمی صاحب کا ستارہء اقبال بلند تر ہونے لگا اور انہوں نے اپنے ٹُچے چمچے نوازنے شروع کر دئیے اور وہ بھی اب لٹھے اور دو گھوڑا بوسکی کے کپڑے پہن، طرے دار پگڑیاں باندھ پنچایتوں میں جھوٹی گواہیاں دینے لگے اور سَتھی سر پنچ بن کر جھوٹ کا ساتھ دینے لگے۔

قدرت نے ایک کرم بہرحال کرم خان پر ضرور کئے رکھا کہ اُن کی حسِ مزاح اور اعلیٰ ظرفی میں ان ابتلاء اور آزمائش کے برسوں میں بھی کوئی لغزش نہ آئی۔ ان دنوں ڈیرہ شاکر خان تتاری کے لونڈوں نے ایک بڑی سنجیدہ شرارت کی۔ ڈیرہ ایک بڑا قصبہ تھا جو کہ تقسیم سے پہلے تو شہر کا شہر رہ چکا تھا اور کوٹ سُکھے خان سے دس ایک میل کی مسافت پر تھا، وہاں کی ٹیم چند دن پہلے کبڈی کے ایک کھیل میں ہاری تھی اور ان کا خیال تھا کہ اس میں کوٹ سکھے خان والوں نے امپائر منصف کے ساتھ ساز باز کی تھی اور اس پر سخت نالاں تھے۔ڈیرے میں انہی دنوں میں اچانک آوارہ کُتوں کی بہتات ہو گئی اور لوگ عاجز آگئے کہ آئے روز کسی بھیڑ بکری کو کاٹ لیتے یا راہگیروں کو ستاتے تھے۔ ایک رات وہاں کے لڑکے بالوں نے کیا حرکت کی کہ سارے آوارہ کُتوں کو پکڑ کر ایک لاری میں ڈالا اور کوٹ سکھے خان بلوچ چھوڑ کر واپس بھاگ گئے۔ اگلے ہی روز کوٹ سکھے خان کے لوگوں کو اس حرکت کا اندازہ ہوا اور یہ خبر بھی کہیں سے مل گئی کہ یہ حرکت کس کی ہے۔ کرم خان کے ڈیرے پر بات چھڑی تو لوگوں نے کہہ دیا کہ خان صاحب اس مسئلے کا حل نکالیں کہ ڈیرے کے عوام کو کیونکر سبق سکھایا جائے۔ خان صاحب نے کوٹ سکھے خان کے چند شریر لڑکوں کو بُلا کر حُکم دیا کہ ڈیرے سے آنے والے تمام آوارہ کُتوں کو بلکہ اپنے گاؤں کے بھی جو پکڑے جاسکیں، پکڑا جائے۔ خان صاحب نے ریاض نائی اور ایک دور کے بھانجے بھتیجے کی مدد سے گتے کے کئی بورڈ بالشت بالشت کے، بنوائے اور ان پر ایک خوشنما تحریر لکھ کر تمام کُتوں کے گلے میں لٹکانے کا حُکم دیا۔ رات ہوتے ہی ان سب کو ایک ویگن میں لاد واپس ڈیرہ شاکر خان تتاری بھجوا دیا گیا۔ اگلی صبح وہاں ہر گلی کوچے میں آوارہ کُتوں کے گلے میں یہ تحریر لٹکی نظر آئی،
''مژدہ ہو اہلِ ڈیرہ، ہم واپس آگئے!''
اور جہاں ڈیرے کے لوگوں کو ہنسی اور شرم مل کر آئی، وہاں وہ کوٹ سُکھے خان والوں کی حسِ مزاح کے قائل بھی ہو گئے۔

اس سے ضمناً ایک اور قصہ بیچ میں آ پڑتا ہے جو کرم خان کے بھلے وقتوں کی یاد گارہے۔ باوا گل حسین شاہ کے ایک چچا زاد بھائی سید ببر علی شاہ صاحب کوٹ نیازی خان بلوچ میں رہتے تھے۔ سابق فوجی تھے اور نہایت ہٹ دھرم، ضدی اور فتنہ پرداز تھے۔ انہوں نے ایک دفعہ کرم خان صاحب سے گائے خریدنی چاہی جو انہیں بقرعید کے لئے بہت پسند آئی تھی۔ سید صاحب لین دین کے بھی بڑے بد دیانت تھے، سو خان صاحب حیلے بہانے سے ٹرخا گئے۔ سید موصوف کو سخت غصہ آیا، رات کے اندھیرے میں کوٹ سکھے خان آئے اور گائے کی دُم کاٹ کر فرار ہو گئے۔ گائے کو شرعی عیب لگ گیا۔ خان صاحب کو اگلے ہی روز مخبری ہو گئی۔ آپ سادات کی عزت بھی خوب کرتے تھے، ناراض بھی بہت تھے۔ ریاض نائی کو بلایا، اس ظلم پر اردو میں ایک مرثیہ لکھا اور امام باڑے کے نوحہ خواں کو بلوایا، جلوس اکٹھا کیا اور لے کر کوٹ نیازی خاں پہنچے جہاں پورے گاؤں کی گلیوں میں گائے کو آگے آگے چلا کر سبھی نے ماتم کرتے ہوئے بآواز بلند یہ مرثیہ پڑھا؛
زمانے والو یہ اُمت پہ کیا ستم ٹُوٹا
کہ کاٹ لائے ہیں سادات ان کی گائے کی دُم
ہائے یہ دُم، گائے کی دُم، ہائے یہ دُم، گائے کی دُم!
کہتے ہیں کہ سید ببر علی کی اپنے سادات نے وہ گت بنائی کہ آج تک نہیں بھولے"

[dropcap size=big]اعلیٰ ظرفی[/dropcap] کی بات کریں تو انہی دنوں میں کرم خان کو ایک اور پنچایت کا بھی سامنا ہوا۔ یارمحمد کمہار اب حاجی یار محمد کہلاتا تھا، اس کی دُکان اب اتنی پھل پھول چکی تھی کہ وہ گاؤں کا سیٹھ بن چکا تھا اور تھوک پرچون کے سودے سلف کا بڑا کاروباری تھا۔ اس کی بیٹی چند سال قبل دریا پار کے غیرب کمہاروں میں بیاہی گئی تھی۔ اب وہ کسی گھریلو ناچاقی کی وجہ سے روٹھ کر مائیکے آن بیٹھی۔ ایک ہی ماہ گزرا تھا کہ دریا پار کے کمہاروں کا ایک وفد کوٹ سُکھے خان آ پہنچا اور کرم خان سے پنچایت کی ثالثی کرنے کا کہا۔ وہ لوگ آج بھی کرم خان کو میاں غفار شاہ صاحب سے بڑھ کر معزز گردانتے تھے۔ حاجی یار محمد نے اعتراض کیا کہ میاں صاحب اُس کے محسن ہیں، ثالثی وہ کریں گے تو پنچایت ہو گی۔ کرم خان نے میاں صاحب کی ثالثی تسلیم کر لی اور کہا کہ وہ پار والے کمہاروں کی طرف سے پنچایت میں بیٹھیں گے۔ ایسی پنچایتوں کا انعقاد ڈیرے پر نہیں بلکہ گھر کے آنگن میں ہوتا ہے۔ پنچایت ہوئی تو معاملہ کھلا۔ جیسا کہ ہم دیہاتیوں کا کلچر ہے کہ آغازِ رنج نہایت معمولی سی بات سے ہوا تھا۔ یار محمد کی لڑکی کے ہاں یکے بعد دیگرے تین بیٹیاں پیدا ہوئی تھیں، کسی دن بچوں کے لئے دودھ لیتے ہوئے ساس نے اُسے سُنا دی کہ ''جنتے ہوئے تو لڑکیوں کی قطار لگا دی، دودھ کے لئے یوں مٹکے بھر رہی ہے جیسے باپ کی بھینس کھڑی ہے اس کی!'' بحث جرح ہوئی تو پار کے کمہاروں نے اتنی بات تو تسلیم کر لی کہ ساس نے یہ کہا تھا مگر اُن کے خیال میں یار محمد کی لڑکی نے جو جواباً سب کے بخیے ادھیڑے تھے، وہ ناروا بات تھی اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ وہ معافی مانگ کر لڑکی کو واپس لینے آئے ہیں۔ یار محمد اس پر بھی راضی نہ تھا کہ لڑکی کو واپس بھیج دے۔ کرم خان کو معلوم تھا کہ یار محمد میں نودولتیوں کی سی انا ہے، لڑکی بے قصور اس کی بھینٹ چڑھے گی۔ وہ گھر بسانا چاہتی تھی اور یار محمد کے لہجے میں پیسے کا غرور بول رہا تھا۔ کرم خان نے بھری پنچایت میں کہہ دیا؛ ''حاجی یار محمد! میں تیری دریا پار والی برادری کی طرف سے تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور تیری سماجت کرتا ہوں کہ بیٹی کا گھر بسنے دے، آئیندہ انہوں نے اسے کچھ کہا تو پھر یہ ناانصافی میں سمجھوں گا کہ میری بیٹی سے ہوئی ہے'' یار محمد لاجواب ہوگیا۔ اس کی بیٹی کو واپس بھیجے جانے کےلئے تیار کیا جانے لگا۔ پنچایت کے شرکاء کو ابھی چائے پانی پلایا جا رہا تھا کہ کرم خان نے ریاض نائی کو بھیج کر اپنے ڈیرے سے ایک بھوری گائے کھلوائی اور جب یار محمد کی بیٹی اپنی بچیوں کے ہمراہ تیار ہو کر رُخصت ہونے لگی تو کرم خان نے گائے کی راسیں اُسے تھماتے ہوئے کہا؛
کسی کی جرات ہے کہ کوٹ سُکھے خان کی بیٹیوں کو طعنہ دے! یہ گائے تیری ہے بیٹا، بیٹیاں بھی تیری ہیں۔۔۔ گائے بھی رب سوہنے نے دی ہے، بیٹیاں بھی رب سوہنے نے دی ہیں۔۔۔ بندہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔۔۔ ہم مٹی سے بھی کمتر ہیں۔۔۔ بڑے بول رب سوہنے کو پسند نہیں۔۔۔"
وہ لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے جارہے تھے اور سوائے میاں غفار اور حاجی یار کے، سب کی آنکھیں بھیگتی جا رہی تھیں۔ زوال کی اترائی پر بھی کرم خان کی اعلیٰ ظرفی اپنے کمال پر تھی۔

[dropcap size=big]کچہری[/dropcap] کے چکروں نے جب خان صاحب کو شہر کا مستقل مسافر بنا دیا تو ایک دفعہ خان صاحب بیمار پڑ گئے۔ اگرچہ گُردے کی تکلیف کی وجہ سے ایک مدت سے مے نوشی کا شغل بھی ترک کر چکے تھے لیکن اب پھر اس روگ نے سر اُٹھا لیا۔ کچھ پتھری سی تھی جو اُن دنوں ایک کڑا روگ سمجھی جاتی تھی۔ ایک روز کچہری سے نکلتے ہی شدید درد نے آلیا۔ چاچا ریاض نائی انہیں شہر کے بڑے ہسپتال لے گئے۔ وہ انہیں سہارا دے کر تانگے سے اتار رہے تھے (کار ان دنوں چچا کی خدمت پر مامور تھی کہ وہ بہت ہی بیمار تھے) کہ بالکل پہلو میں ایک سرخ کرولا کار رکی اورسفید لیب کوٹ میں ملبوس ایک خاتون کار کا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔ اس شہر کی گہماگہمی میں ہزاروں اجنبی چہروں میں یہ ایک چہرہ کرم خان کا خُوب دیکھا ہوا تھا۔ اسی لمحے خاتون ڈاکٹر نے انہیں دیکھا تو قطعی غیر ارادی طور پر آگے بڑھ کر خان صاحب کو مخاطب کر کے بولیں؛ ''خان صاحب؟ آپ؟ کیا ہوا آپ کو؟'' خان صاحب تکلیف کی شدت یا کسی اور وجہ سے کچھ جواب نہ دے سکے۔ ڈاکٹر رابعہ نے کار پارک کی اور انہیں ہمراہ لے گئیں۔ ایمرجنسی سے انہیں طبی امداد دلوائی اور جب وہ اُٹھ بیٹھے تو انہیں اپنے دفتر لے گئیں جس کے باہر '' ڈاکٹر رابعہ عمر حیات'' کا بورڈ لگا تھا اور ریاض نائی نے آہستہ سے یہ تحریر اُن کے کان میں سُنا دی۔ اُن کا یہ نام پہلے نہ تھا۔ دفتر میں بیٹھے، احوال پرسی کا آغاز ہوا۔ خان صاحب کی ہلکی پھلکی سی نمی لئے حیران آنکھیں ڈاکٹر صاحبہ کو دیکھے جا رہی تھیں۔ فطرت حُسن اور نزاکت اگر انسان کو ودیعت کردے تو وہ ہر عمر میں کسی نہ کسی صورت میں باقی رہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ اب بھی حسین تھیں، سر میں سفید بالوں کی ایک باریک سی لٹ کے باوجود پتلے نقش نین، ہونٹوں کی لالی اور مخروطی انگلیوں کی نزاکت ویسی ہی تھی۔ دُبلی ہو جانے میں پہلے سے بھی نازک لگ رہی تھیں اور آنکھوں میں کامیاب لوگوں کی سی پروقار تھکن کے ڈورے تھے۔آنکھوں کا وہ حُسن باقی تھا جس پہ کرم خان کی شاعری میں تشبیہوں اور استعاروں کے لشکر قربان ہو چکے تھے۔ دوا دارو کی بات ہو چکی تو ڈاکٹر صاحبہ خالی خالی سی نگاہوں سے کچھ دیر کرم خان کو دیکھتی رہیں۔ چہرے کی جھریوں اور سر میں سفید اور سیاہ بالوں کی کھچڑی نے خان صاحب کی شخصیت کی متانت اور وقار کو بڑھا تو دیا تھا مگر رئیس زادوں والے رعب، دبدبے، صحت اور جوانی کی آخری رمق بھی اس چہرے سے رُخصت ہو چکی تھی۔ جو بھولپن کبھی اس چہرے پر تھا، وہ ایک بے چارگی سے بدل رہا تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے ان سے بیٹی کی خیرئیت کا پوچھا۔ خان صاحب نے مسکراتے ہوئے خداجانے کیا جواب دیا۔ چاچا ریاض نائی کے بقول ان کی آواز بہت دھیمی تھی۔ ''اب بھی شعر کہتے ہیں؟'' ڈاکٹر صاحبہ نے نرمی سے پوچھا۔
''اب اور بچا ہی کیا ہے کرنے کو؟'' خان صاحب نے مسکرا کر کہا تو ریاض نے انہیں کہنی ماری کہ ایسے مسکینی کا اظہار نہ کریں مگر وہ سیدھے آدمی تھے۔ ادھر اُدھر کی باتیں ہوئیں۔ خان صاحب نے اُن سے یہ ہرگز نہ پوچھا کہ وہ کہاں چلی گئی تھیں اچانک اور اتنے سال کہاں غائب رہیں۔ دوا کی پرچی لے کر اُٹھنے لگے تو ڈاکٹر صاحبہ چونکیں،
''خان صاحب! آپ چائے پیے بغیر نہیں جاسکتے۔۔۔ میں جانتی ہوں کہ ہم بلوچوں کی مہمان نوازی کو تو نہیں پہنچ سکتے لیکن آپ نے مجھ سے چائے نہ پی تو یہ میری نالائقی ہوگی''

خان صاحب سادگی سے مسکرا کر بیٹھ رہے۔ چائے کے دوران کچھ خاص بات نہ ہوئی، ڈاکٹر صاحبہ اپنے بچوں کے بارے میں بتاتی رہیں اور چاچا ریاض سے ان کے گھر بار کی خیرئیت پوچھتی رہیں۔ آخر پہ اُنہوں نے اپنے دفتر اور گھر کا ٹیلی فون نمبر ایک چٹ پر لکھ کر دیا اور تاکید کی کہ خان صاحب ان کے پاس چائے پینے ضرور آیا کریں، یہاں ہسپتال چاہیں یا ایس ایس پی عمر حیات دولتانہ کی رہائش پہ، وہ ہمیشہ ان کے معزز مہمان ہوں گے۔

چاچا ریاض نائی کا قول ہے کہ ڈھلتی عمر میں جوانی کی کسی محبت کا جاگ اُٹھنا کسی سمجھدار آدمی کو احمق اور معزز آدمی کو بے وقعت کرنے میں آخری کسر ہوتی ہے جس کے بعد نہ عقل رہتی ہے نہ وقار۔ کرم خان صاحب کو ڈاکٹر صاحبہ سے پہلے کون سا شکوہ تھا جو اب روا رکھتے، اُسی والہانہ پن سے اُن کی محبت کا دم بھرنے لگے۔ ہر دوسرے روز ڈیرہ شاکر خان تتاری والے پبلک کال آفس پہنچے ہوتے اور آپریٹر کے وارے نیارے ہو جاتے۔ ہفتہ بھی نہ ہونے پاتا تھا کہ ان کی پچاسی ماڈل کار کوٹ سُکھے خان کی صبح کے سکوت میں تیرتی ہوئی شہر روانہ ہو جاتی۔ چاچا ریاض نائی ڈرائیور ہوتا اور کرم خان صاحب ہسپتال کے لئے عازم ہوتے۔ گُردے کا عارضہ تو تھا ہی مگر کہتے تھے کہ ڈاکٹر رابعہ دولتانہ کی چائے سے بڑا میرے مرض کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔ یہاں سے اکثر شدید تکلیف میں روانہ ہوتے مگر ڈاکٹر صاحبہ کے دفتر میں وارد ہوتے ہی بھلے چنگے ہو جایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحبہ بڑی مروت سے پیش آتیں، اُن کی سرائیکی شاعری پہ خوب داد دیتیں اور اُن کے لطائف پر خُوب کھلکھلا کر ہنستیں۔ شہر میں بڑا ریستوراں بن چکا تھا، کبھی وہاں دوپہر کے کھانے کا اہتمام ہوتا کبھی لائل پور نکل جاتے جس کا نام تو بدل چکا تھا مگر ہم دیہاتیوں کو ابھی بھی فیصل آباد کہنے میں دقت ہوتی تھی۔ شہر کے سنیما گھروں میں نیا فلم آتا تو اکثر کرم خان صاحب منت سماجت کرکے ڈاکٹر صاحبہ کو فلم بھی دکھا لاتے۔ ایس ایس پی عمر حیات دولتانہ سے بھی شناسائی بن گئی جو کہ شاعری کا کمال ذوق رکھتے تھے اور کرم خان صاحب کے مداح ہوگئے۔ انہیں کسی قسم کا شک شائبہ یا اعتراض نہ تھا کہ وہ ڈاکٹر صاحبہ کے مہمان کیوں ہوتے تھے۔ دراصل انہیں اس طرح کے سوالات کی فرصت تھی نہ ضرورت۔ ڈاکٹر صاحبہ سے ان کی شادی باہمی محبت کی تھی اور آج تک ان کے درمیان کوئی بدگمانی نہ ہوئی تھی۔ پھر بھی کچھ عرصے بعد دفتر یا گھر کے بجائے صرف لائل پور میں ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں جن میں ڈاکٹر صاحبہ تو فقط دوستانہ مروت سے پیش آتیں مگر خان صاحب تو گویا ان کے قدموں میں بچھ جایا کرتے تھے۔

اب احوال یہ تھا کہ خان صاحب، ڈاکٹر صاحبہ کےلئے تحائف خریدنے کبھی لاہور پہنچے ہوتے تو کبھی راولپنڈی اور کوئی عید، تہوار قضا نہ کرتے۔ پھر جب ڈاکٹر صاحبہ نے شہر میں اپنی کوٹھی کی تعمیر کا کام شروع کروایا تو دفتر میں اس کا ذکر ہوا۔ خان صاحب جھٹ سے بولے، ''آپ کو جس طرح کا بلڈنگ میٹیریل درکار ہو، بتائیے گا، سرگودھے میں میں نے اپنا کاروبار آغاز کیا ہوا ہے، میری کمپنی کے ہوتے ہوئے آپ کا مکان کوئی اور بنائے گا تو آپ میرا دل توڑیں گی'' ڈاکٹر صاحبہ کو پیشکش پسند آئی۔ باہر نکل کر ریاض نائی سے کہنے لگے چلو سرگودھے، ملک شبیر، پُل گیارہ والے کے پاس!! ملک موصوف ان کے پرانے شناسا اور ایک کرشنگ پلانٹ اور ایک معمولی سی تعمیراتی کمپنی کے مالک تھے۔الغرض ڈاکٹر صاحبہ کی کوٹھی کی تعمیر پر جو لاگت ہوئی اس کا نصف سے زیادہ انہیں اس لئے بچت میں رہا کہ خان صاحب کی ''کمپنی'' نے ان سے کمال رعایت کی تھی۔ ملک شبیر کو پورے پیسے مل گئے، اسے اس سے کیا فرق پڑتا تھا کہ ہمارے ضلعے میں اس کی مشینری کسی کے نام سے چلے۔عمر حیات صاحب ایک دیانت دار افسر تھے، سو انہوں نے اس رعایت پر خان صاحب کا بہت شکریہ ادا کیا ورنہ اس لاگت کا مکان اُن کی بچت اور تنخواہ کے بس سے ذرا باہر ہی تھا۔

خان صاحب نے جو لاکھوں روپیہ اپنی گرہ سے ادا کیا تھا، اس میں ان کے مویشی لگ بھگ سبھی بک گئے، پھر دریا کنارے والی زرعی اراضی بک گئی، پھر صحرا کی چنے کی کاشت والی بارانی زمین فروخت ہوئی۔ چاچا ریاض اکثر اُن سے الجھتے کہ یہ پاگل پن نہ کیجئے مگر خان صاحب کہاں سنتے تھے۔ ڈاکٹر صاحبہ بھانپ تو گئیں کہ سیدھا سادہ دیہاتی چالاکی و پرکاری دکھانے کی ناکام کوشش کررہا ہے مگر چُپ رہیں۔ خان صاحب کی نیت بھی تو صاف تھی۔ فقط بے لوث محبت کے سوا ان کا کوئی مدعا نہ تھا۔ جلد ہی ڈاکٹر صاحبہ بھی گھبرانے سی لگیں اور اگر نرمی سے منع بھی کرتیں یا تعمیراتی کام کی بقایا کی رقم ادا کرنے کا تذکرہ کرتیں تو خان صاحب کی آزردگی کا عالم دیدنی ہوتا۔

سال ہی گزرا ہوگا کہ ڈاکٹر صاحبہ کا تبادلہ لائل پور ہو گیا تو خان صاحب نے بھی لائل پور ٹھکانہ کر لیا۔ ایک سادہ سا مکان شہر کے مضافات میں خریدا اور اکثر وہیں قیام کرنے لگے۔ڈاکٹر صاحبہ کو اب اپنے نئے گھر سے لائل پور آنے میں دو گھنٹے کی مسافت طے کرنی پڑتی جو کہ پولیس کی جیپ میں تو اور بھی تھکا دینے والی ہوتی تھی۔ اپنی کار وہ گھر بنانے کے عمل میں فروخت کرچکی تھیں۔ سو ایک دفعہ پھر کرم خان کے جوشِ محبت نے کھولاؤ دکھایا اور کوٹ مبارک سیال والی زرعی زمین کا ایک قطعہ بیچ کر لاہور سےنئی کار خرید لائے اور ڈاکٹر صاحبہ کی سالگرہ کے تحفے کے طور پر اُن کی خدمت میں پیش کر دی جو اس اونٹ کی پیٹھ کا آخری تنکا ثابت ہوئی۔ اب ڈاکٹر رابعہ نے ناصرف سختی سے منع کردیا بلکہ ریاض سے کہا ''ریاض بھائی کار واپس لے جائیے اور کرم خان کو سمجھائیں کہ یہ حقِ دوستی ادا کرنے سے کہیں آگے کی حرکت ہے، مجھے مزید شرمسار نہ کریں'' چند روز بحث ہوتی رہی پھر ڈاکٹر صاحبہ نے حتمی طور پر کہہ دیا کہ وہ یہ تحفہ قبول نہیں کر سکتیں اور یہ کہ وہ خان صاحب کی سابقہ محبت اور والہانہ جذبات کی قدر کے طور پر یہ سب کچھ مروتاً کررہی تھیں اور ان سے مل جل رہی تھیں مگر اب خان صاحب معقول نہیں رہے۔ ''کرم خان، اس ڈھلتی عمر میں مجھے بھی رُسوا نہ کیجئے اور خُود بھی نہ ہوں۔ بہتر ہے واپس گاؤں چلے جائیں، میں آپ کی ایک چائے کا قرض نہیں اُتار سکی تھی، اس پاگل پن کو کہاں سہار سکوں گی۔ آئیندہ آپ میرے دفتر نہ آئیے گا، یہاں آپ کو چائے پلانے والا کوئی نہ ہوگا!!" یہ کہہ کر ڈاکٹر رابعہ نے ٹیلی فون کریڈل پر گرا دیا۔ کرم خان نے بہت دل برداشتگی کے عالم میں کار اونے پونے فروخت کی، جو رقم ملی، اس سے چند مویشی خریدے اور گاؤں لوٹ آئے۔

[dropcap size=big]کرم خان[/dropcap] ایک مدت تک مضمحل اور بیمار سے رہے۔ اب مے نوشی بھی اس قدر بڑھا دی کہ جس بُری عادت کی آج تک گاؤں میں کم ہی کسی کو خبر تھی، کسی کے لئے ڈھکی چھپی بات نہ رہی۔ اب احوال یہ تھے کہ ہمہ وقت دو ایک ہم مشرب دوست یار ان کے ڈیرے پر آئے رہتے تھے، محفلِ میگساری چلتی، ساقی گری ریاض نائی کا فریضہ تھا۔ ریاض نے آغاز میں منع کیا کہ اس طرح مرض بڑھ جائے گا مگر وہ کہاں مانتے تھے۔ اپنی مشہورِ زمانہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنا ایک شعر سناتے جس کا مفہوم کچھ یہ تھا کہ ''اے نادان خیر خواہو، جس مریض سے چارہ گر روٹھ جائے، اسے دوا سے غرض؟ اب چارہ گر آئے تب بھی موت اور نہ آئے تب بھی موت ہے!'' اور اسی طرح ایک شعر میں کہا؛ '' خُدا نے تو بیماری کے عالم میں شراب بھی اپنے بندوں پر حرام نہ رکھی، میرے چارہ گر کی بے نیازی دیکھو جس نے مجھ پر دوا یعنی اپنا التفات بھی حرام کر رکھا ہے''

اس عشق کی بازگشت کے دو سالوں میں خان صاحب کی بے خُودی اور گم خیالی کا مادی فائدہ ان کے زمین کے تنازعے سے وابستہ لوگوں نے خُوب اُٹھایا۔ جو تنازعہ کیکر کے جھنڈ والی زمین سے آغاز ہواتھا، اب اس سے کئی جھگڑوں کی کونپلیں اور بھی پھوٹ چکی تھیں۔ میاں غفار شاہ دیوانی معاملات میں بہت چالاک اور گرگِ باراں دیدہ تھا البتہ فوجداریوں میں ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھا۔ ان کے سالے کے قتل کے مقدمے میں صلح صفائی کی وجہ فقط یہی تھی کہ وہ فوجداریوں میں آگے بڑھنے سے ڈرتے تھے۔ اس خوف کی جڑیں شایداس تنازعے کے آغاز کی ایک پنچایت میں پیوست تھیں۔ کوٹ سکھے خان کے بلوچ اگرچہ باقی ہر معاملے میں زبانی کلامی ہی کرم خان کے ہمدرد رہے مگر لڑائی جھگڑے کے معاملے میں آغاز کی کسی پنچایت میں ہی سرفراز خان بلوچ نے کہہ دیا تھا: ''میاں شاہ صاحب، آپ قانونی جنگ کسی سے بھی لڑ لیں، ایم پی اے آپ کا، وزیر آپ کا، تھانہ آپ کا۔۔۔مگر کرم خان کی جان اور عزت کا خطرہ اگر پیدا کیا تو یاد رکھئے سادات میں آپ کی پیڑھی ابھی نئی اور بڑی مختصر سی ہے، اگر ایک کے بدلے دس بلوچ بھی پھانسی چڑھ گئے تو خسارہ آپ ہی کاہے!" اس پر ساری پنچایت ہنس پڑی تھی اور میاں صاحب کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا۔

ایک دن کرم خان کو نجانے کیا سوجھی کہ ریاض نائی اور چچا برخوردار خان کو ہمراہ لیا اور شہر جا کر کر اے سی دفتر کچہری میں سوائے اپنے گھر کے باقی ماندہ تمام جائیداد، جاگیر، اپنی بیٹی کے نام لکھوا آئے۔کوٹ سُکھے خان، کوٹ نیازی خان اور ڈیرہ علی خان سیال میں کچھ زرعی زمین، کوٹ مبارک سیال کی بڑی جاگیر، تھل کی بارانی زمین کا ایک قطعہ، کوٹ سُکھے خان میں کچھ دُکانیں، خوشاب روڈ پہ ایک پٹرول پمپ اور مویشی۔۔۔ سبھی کچھ بیٹی کے نام کر دیا۔ مویشیوں میں اکثر گائیں بھینسیں سانجھے کی تھیں، پھر بھی بیس کے قریب گائیں بھینسیں، بچھڑے بدھیا خالصتاً ان کے اپنے تھے جو بیٹی کے نام کرنے کے بعد قانوناً اب کرم خان کے پاس ماسوائے اپنے گھر اور پرانی کھٹارا کار کے کوئی جائیداد نہ تھی۔ سال ہی گزرا ہوگا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کا نکاح برخوردار خان کے بڑے پوتے سے کروا دیا اور رخصتی کے لئے اس کی بیس سال کی عمر ہونے کی مہلت مانگی۔ ثمینہ خانم اب دسویں میں پڑھتی تھی اور خان صاحب اسے اعلیٰ تعلیم کے لئے شہر بھیجنا چاہتے تھے۔ اگرچہ رشتے داروں نے بہت کہا کہ اس کی ضرورت نہیں کہ اس زمانے میں دس جماعتیں لڑکی کےلئے کافی تعلیم سمجھی جاتی تھی لیکن خان صاحب نے ایک نہ سنی۔ رُخصتی کے وقت تک ثمینہ خانم چودہ جماعتیں سر میلکم ہیلی کالج سے پڑھ چکی تھی۔ کرم خان نے بیٹی کی شادی بڑی دھوم دھام سے کی اور حریفوں نے خوشی کے شادیانے بجائے کہ اُن کی تمام تر جائیداد برخوردار خان کی پیڑھی کو منتقل ہو چکی تھی۔ چند لوگ کرم خان کے گُن گا رہے تھے، زیادہ لوگ حیران تھے کہ اسی شے سے بچنے کےلئے تو لوگ بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہ دیتے تھے۔ خیر اب کرم خان اپنے آبائی گھر میں اکیلے رہتے، شعر کہتے اور ریاض نائی جیسے معدودے چند دوستوں کی صحبت میں وقت گزارتے۔

ایک مدت سے اُن کا معمول تھا کہ اڑوس پڑوس اور گاوں کے غریبوں کو اناج اور اجناس تحفہ کیا کرتے تھے، اب یہ بھی نہ رہا۔ مے نوشی کی محفلیں بھی برخواست ہو گئیں۔ تنگدستی نے نیکی اور بُرائی، دونوں کی بساط لپیٹ دی۔

ادھر میاں غفار شاہ اور اُن کے چیلے چمچے علاقے میں اتنے بارسوخ ہو چکے تھے کہ اب انہیں کسی کا لحاظ رہا، نہ ڈر نہ۔ جب ریاض نائی کی بڑی بیٹی کی شادی ہوئی تو وہ پرانی کار بھی بک گئی۔ ریاض کی بیٹی اور ثمینہ بچپن کی سہیلیاں اور ہم جماعت تھیں،وہ کرم خان کو اپنی بیٹی کی طرح عزیز رہین سو اس کی شادی کے اخراجات بھی اپنا فرض گردانے۔ اسے دس جماعت تک تعلیم بھی خان صاحب نے اپنی بیٹی کے ساتھ ساتھ دلوائی۔ وہ شاید اسے اور بھی پڑھاتے مگر چاچا ریاض کو اس کا فرض ادا کرنے کی جلدی تھی۔ ایک ریاض کی بیٹی پہ ہی کیا موقوف، کوٹ سُکھے خان کے آٹھ دس لڑکے لڑکیوں کے پہلی جماعت سے تعلیمی اخراجات خان صاحب نےا ہی ٹھائے تھے۔ ان میں سے چند لڑکیاں کالج اور دو ایک یونیورسٹی تک بھی پہنچ چُکی تھیں۔ خیر، خان صاحب کی وہ سُرخ کرولا ایک مدت تک ہم نے عالم قصائی سب انسپکٹر کے پاس دیکھی، پھر نجانے کہاں گئی۔

[dropcap size=big]یہ[/dropcap] وہ زمانہ تھا جب خوشاب، مظفر گڑھ روڈ پر لاری سے اُتر کر نیچے ڈیرہ شاکر خان تتاری تک دو اڑھائی میل کا سفر پیدل طے کرتے ہوئے کرم خان صاحب کو ہم بھی دیکھا کرتے تھے۔ہم اسکول کی خاکی وردی پہنے، گہرے سبز رنگ کے موٹے کپڑے والے بستے باندھے ننھے ننھے سپاہیوں کی طرح اسکول جا رہے ہوتے تھے تو ہمارا ٹکراؤ بابا بُدھو شاہ سرکار کے دربار والے جھُنڈ، قبرستان والے جنگل یا اس کے پاس جو سیلابی جھیل ہے، اس کے کنارے ہوتا تھا۔ اب اُن کے گنجے سر پر چند ہی بال باقی رہ گئے تھے جنہیں خضاب لگا کر سیاہ کرنے کی کوشش میں وہ اپنی چندیا پر بھی سیاہ داغ لگا بیٹھے جو ان کی سانولی رنگت پر بہت بھدے لگتے۔ چہرے پہ جھریاں نمودار ہو چکی تھیں جن سے لگتا تھا کہ وہ ہر وقت ہنستے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب کبھی اپنا کوئی شعر سناتے ہوئے روہانسے ہو جاتے، تب بھی لگتا کہ ہنس رہے ہیں۔ وہ مشہورِ زمانہ مسکراہٹ اب اس مضحکہ خیز سی ہنسی کے نیچے قابل رحم حد تک دب چکی تھی۔ بکثرت سگریٹ نوشی اور کبھی کبھار کی مے نوشی نے آنکھوں میں سُرخی اور پیلاہٹ کا ملا جلا سا مستقل رنگ بکھیر دیا تھاجن میں ہمہ وقت ایک نمی سی تیرتی رہتی تھی۔ قامت میں خم آگیا تھا۔ل کبھی کبھار کھانسی کی کھنک بھی شعروں اور گفتگو میں رموز واوقاف کے طور پرشامل ہوجاتی۔ لیکن آواز کی تندرستی باقی تھی۔لہجے کی اُداسی نے وہ سوز و گداز پیدا کر دیا تھا کہ بولتے تو سننے والوں کو پرے سے یوں لگتا تھا کہ سندھی یا سرائیکی شاعری سُنا رہے ہیں۔
ہمیں تو خیر اس کا دماغ نہ تھا لیکن دیکھنے والے تاڑ گئے کہ خان صاحب کا اس تواتر سے ڈیرہ شاکر خان تتاری آنا جان کس کےلئے تھا؟

جب ڈیرے میں کئی سال قبل پہلا نجی اسکول بنا تھا تو مادام سائرہ جنہیں ڈیرے کے سبھی چھوٹے بڑے باجی سائرہ کہتے تھے دس سال اس کی ہیڈ ٹیچر رہی تھیں۔ مالک اسلام آباد منتقل ہوا تو ادارہ اونے پونے میں فروخت کر کے چلا گیا۔ نیا مالک کوئی احمق سا امیرزادہ تھا، مادام سائرہ، اُس کے ساتھ نہ چل سکیں اور نوکری چھوڑ دی۔ اُن کے حُسن کا شیدائی تو ایک عالم تھا لیکن شادی ایک وکیل صاحب سے ہوئی جو انہیں بڑی چاہ سے دلھن بنا کر لے گئے۔ وکیل صاحب موصوف جتنے خوش قسمت سمجھے جارہے تھے، اس قدر خوش قسمت نہ نکلے۔ دو ہی سال گزرے ہوں گے کہ وکیل صاحب کسی بیماری میں گزر گئے اور ساس صاحبہ نے انہیں منحوس ٹھہرا کر گھر سے نکال دیا۔وہ اپنی شیر خوار بیٹی کے ہمراہ واپس اپنےمیکے آ گئیں۔ والدین کا سایہ بھی کچھ عرصے بعد سر پر نہ رہا۔ پھر ایک عرصہ انہوں نے مقامی سطح کا دستکاری کا سکول چلایا جس میں بچیوں کو ہنر سکھاتی تھیں۔ اب ان کی عمر پینتالیس کے لگ بھگ تھی لیکن حُسن میں آج بھی تیس تیس کی سہاگنوں کی ٹکر کی تھیں۔ خُدا جانے کرم خان صاحب کا اُن سے کیسے ٹکراؤ ہوا کہ اُن پر مر مٹے۔۔۔ اور وہ بھی اس ڈھلتی عمر میں۔ ہمیشہ کی طرح ریاض نائی ان کے زخمِ عشق پر پھاہے رکھنے کے لئے حاضر تھا۔ چڑھتی جوانی اور ڈھلتی عُمر کا عشق جان لیوا ہو سکتا ہے اور خان صاحب کی حالت بھی کچھ بہتر نہ تھی۔ سُنا ہے کہ خان صاحب نے ایک منظوم خط مادام سائرہ کو بھیجا۔ استانی جی کی عزت تو ہر شخص کرتا تھا کہ گزشتہ بیس سال میں نجانے کتنی بیٹیاں اس بستی کی ان سے پڑھ چکی تھیں مگر پھر بھی کچھ لُچے لقندرے ان پہ ڈورے ڈال چُکے تھے اور وہ مردوں میں چُھپے حرامزادوںکو بہت جلد بھانپ لیتی تھیں۔ کرم خان کے بارے میں انہوں نے سُن تو رکھا تھا مگر ان کی دولت، شاعری اور حُسن پرستی کے قصوں نے اُن کا تاثر بہت خراب کر رکھا تھا، اُستانی جی نے کچھ دن تامل کیا اور پھر انگریزی میں ایک مختصر سی تحریر میں ایک چٹھی لکھی جس میں خان صاحب کو سخت ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اپنی عمر اور عزت و وقار کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ یقیناًیہ چٹھی انگریزی میں مشقی کاپی کے صفحے پر اس لئے لکھی گئی تھی کہ اگر غلطی سے راستے میں کھو جائے، کسی اور کے ہاتھ لگ جائے تو دیکھنے والا اس کاغذ کے ٹکڑے کو کسی بچے کی جماعت کی کاپی کا ایک ورق سمجھے۔ انگریزی سمجھنے والے تو شاید جھنگ سے خوشاب تک کے درمیان بھی کوئی ڈھونڈنے سے ہی ملتے۔ خان صاحب کے بارے میں ان کو یقین ہو گا کہ کسی سے پڑھوا لیں گے۔ سردار کرم خان بلوچ کے خط کا جواب نہ دینا بہرحال آج بھی کسی کے لئے آسان کام نہ تھا۔ چٹھی ریاض نائی کے پاس پہنچی تو سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ انگریزی میں کیا لکھ ڈالا۔ اتنا تو وہ بھی پڑھنے کے قابل نہ تھے۔ کرم خان نے اپنے ایک اور پرانے دوست کو بلوایا جو کہ ریٹائرڈ ایجوکیشن کلرک تھا اور خط پڑھنے کا کہا۔ کلرک موصوف نے خط پڑھ کر حرف بحرف سمجھایا تو چاچا ریاض کے ساتھ مل کر خان صاحب کو خوب چھیڑا البتہ وہ یہ نہ جان سکا کہ خط کس نے لکھا ہے۔ بعد میں بھی کئی دفعہ آمنا سامنا ہونے پر کلرک صاحب انہیں آنکھ مار کر گُڈ مارننگ کہتے تو خان صاحب کھسیانے سے ہو کر ''چخا چخا'' (دفع دفع) کہتے ہوئے کھسک جاتے۔ اس کے بعد کرم خان نے مادام سائرہ کو کوئی خط نہ لکھوا بھیجا البتہ ڈیرے آنے جانے کا سلسلہ قائم رہا۔ یہاں کی ایک درزن ان کی مرحومہ بیوی کی پرانی سہیلی تھی، اس کی خدمات حاصل کی گئیں تو کرم خان کو فقط یہ کامیابی حاصل ہوئی کہ مادام اس درزن کے گھر آکر خان صاحب کی بات ایک دفعہ سننے پر آمادہ ہو گئیں۔

یہ ملاقات ایک رومانوی تجربہ ہرگز نہ تھا۔ سائرہ نے سیدھے سبھاؤ کہہ دیا کہ ان کی بیٹی اب کالج جانے کی عمر کو ہے۔ اور وہی اب ان کی زندگی کا سارا مرکز ہے تو وہ کیسے کسی ایسے قصے میں پڑ سکتی ہیں جس کی عمر ہی گزر چکی ہے۔ انہوں نے تو وکیل صاحب سے بھی تھوڑی ہی دیر آنکھ لڑائی تھی کہ وکیل صاحب نے رشتہ بھیج دیاتھا۔ کرم خان صاحب کو اندازہ ہوا کہ انہوں نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک ایسا قدم اُٹھایا ہے جس سے ہٹنا بھی بے توقیری ہے اور آگے بڑھنا بھی اچھا نہیں۔ سو جو کچھ انہوں نے بہت آگے کےلئے سوچ رکھا تھا، ابھی کہہ دیا یعنی شادی کی پیشکش کردی اور وعدہ کیا کہ کسی بھی جواب کی صورت میں مادام سائرہ کی بیٹی کو وہ اپنی بیٹی سمجھیں گے اور اس کی تعلیم کےلئے ہر طرح کی کاوش کریں گے۔ انہوں نے مادام کو سوچنے کی مہلت بھی دی۔

ابھی سوچنے کی مہلت کے دن چل رہے تھے اور درزن بھی مادام سائرہ کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ اس دنیا میں اکیلی ہیں اور بیوگی کی بیچارگی میں جو اتنے کٹھن سال گزرے ہیں، بیٹی کی شادی کے بعد مزید کٹھن ہو جائیں گے، بہتر ہے کہ ایک خاندانی آدمی کی اہلیہ بن جائیں تو بیٹی کو بھی کوئی شناخت مل جائے گی۔ انہی دنوں میں ایک چھوٹا سا لطیفہ بھی ہو گیا اور وہ یہ کہ خان صاحب کے کپڑے جو ثمینہ کے گھر دھلنے گئے تو مادام سائرہ کی انگریزی چٹھی ان کے قمیض کی جیب میں رہ گئی۔ نوکرانی نے کپڑے دھونے سے پہلے جیبیں دیکھیں جیسا کہ بی بیوں کا معمول ہے، چٹھی نکلی۔ ''چھوٹی بی بی، یہ خان صاحب کی دواؤں والی پرچی ہے شاید، سنبھال لیں''۔ ثمینہ کو نوکرانی نے پرچی دی تو پہلے تو وہ بوکھلا گئی کہ گردے کی تلکیف کی صورت میں تو وہ ایک ہی دوا لیتے ہیں جس سے افاقہ ہوتا ہے، اب یہ کون سا نیا مرض لاحق ہوا جو چھپا رہے تھے۔ پھر چٹ پڑھی تو حیران بھی ہوئی اور ہنسی بھی۔ نوکرانی سے باپ کو بلوا بھیجا۔

''ابا جی! مجھے نہیں پتہ تھا آپ اتنے پڑھے لکھے ہیں!''

ثمینہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو کرم خان صاحب شرمندہ اور کھسیانے ہو کر ہنسنے لگے۔ پہلے تو چاچا ریاض پہ ڈالنے کی کوشش کی مگر ثمینہ نے تو خوب تنگ کیا، آخر پہ ضد کرکے باپ کے گلے میں بانہیں ڈال کر جھول گئی۔

''ابا مجھے ایک دفعہ دکھائیں تو!! ورنہ بابا بکھے (برخوردار) کو بتا دوں گی، پھر خیر نہیں ہونی آپ کی!''

ثمینہ نے خوب چہلیں کیں لیکن خان صاحب شرماتے لجاتے ہوئے وہاں سے اُٹھ آئے اور پھر ریاض کو بھجوا کر ثمینہ کو بتلایا کہ ''بھائی کرم خان باجی سائرہ کو تمہاری امی بنانے کے چکر میں ہیں۔۔۔'' ثمینہ یہ سُن کر پہلے تو مسکرا دی، پھر سنجیدہ ہو گئی۔
چونکہ پہلی مُلاقات میں کرم خان انہیں بھلے آدمی لگے تھے، اُستانی صاحبہ نے انہیں پھر درزن کے گھر بلوا بھیجا کہ جواب دینے سے پہلے کچھ معاملات معلوم کرنے تھے۔ خان صاحب خضاب لگا کر بلیوں اچھلتے ہوئے جاپہنچے۔ استانی صاحبہ نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا اُن کیلئے اس قدر آسان نہیں۔

''کون جانے کل بلوچ قبیلے، برادری میں ہی مجھے قبول نہ کیا جائے! آپ پر رشتہ داروں کا دباؤ یا ٹھٹھہ مخول اتنا ہو کہ آپ ہار ہی جائیں اور میں اپنی عزت کا جنازہ لے کر پھر یہاں آبیٹھوں'' گویا انہیں بھی خبر تھی کہ کرم خان کا رعب دبدبہ جاتا رہا ہے۔ ساتھ ہی مادام سائرہ نے عمرِ گذشتہ کی کٹھنائیوں کا جو ذکر چھیڑا تو رو رو کر چہرہ دھو ڈالا۔ وہ بڑی پختہ اعصاب کی خاتون تھیں مگر شاید کرم خان کی محبت کا جادو اس عمر میں بھی اپنی تاثیر دکھا رہا تھا۔ خان صاحب بھانپ گئے کہ اُن کا خوف کس نوعیت کے عدم تحفظ کی وجہ سے ہے، تاہم یہ ملاقات بھی نتیجہ خیز ہونے کی بجائے بڑے جذباتی انداز میں ختم ہوئی۔ خان صاحب نے انہیں دلاسہ دیا تو باہمی اپنایت کا ایک اٹل سا جذبہ سر اُٹھانے لگا۔ خان صاحب نے اس دن واپس آتے ہی ریاض نائی اور اپنے دوست ایجوکیشن کلرک سے صلاح مشورہ کیا۔ پروفیسر ثاقب عثمانی صاحب کو بھی چٹھی بھیج کر بلوایا اور انہیں ساتھ لے کر شہر میں جا درخواست جمع کروادی کہ پرائیویٹ اسکول قائم کرنے کی اجازت دی جائے۔ یہاں سرکاری دفتروں میں بھی کئی پرانے شناسا نکل آئے تو مہینوں کا کام دنوں میں ہوا۔ خان صاحب نے اپنے داماد اسلم کے ذمے لگایا کہ لائل پور میں ایک مکان کا پلاٹ جو ایک مدت سے اُن کے نام کا پڑا تھا اور کسی وجہ سے ثمینہ کے نام نہ ہو سکا تھا، اس کو فروخت کیا جائے۔ داماد صاحب لائل پور پہنچے تو پتہ چلا کہ پلاٹ پر قبضہ گروپ کے کوئی رانا صاحب قابض ہیں۔ کرم خان کی خوش قسمتی کہ جب ایم این اے کی چٹھی لے کر ڈی آئی جی صاحب کے پاس پہنچے تو وہ چھٹی پر تھے اور قائم مقام ڈی آئی جی صاحب پرانے شناسا نکلے؛ عمر حیات دولتانہ صاحب۔ خیر، اس پلاٹ کی قیمت رانا صاحب نے کرم خان کی توقع سے بھی ذیادہ ادا کر دی۔ مادام سائرہ کو پتہ چلا کہ کرم خان اپنے گاؤں میں اسکول کے قیام کےیلئے بھاگ دوڑ کررہے ہیں تو اُنہیں بُلوا بھیجا کہ ماجرا کیا ہے؟ ادھر سرکاری رجسٹریشن نمبر ملنے سے پہلے اسکول کا فرنیچر پہنچ چکا تھا، خان صاحب کی آبائی حویلی جو ثمینہ کی شادی کے بعد عملاً سنسان پڑی تھی اس کے وسیع آنگن میں جماعت کے کمروں کی قطار کھڑی کر دی گئی تھی اور اب مستری پلستر چونے والے کام میں مشغول تھے اور باغیچے کے مالی کا کام چاچا ریاض نائی نے دھڑادھڑ جاری رکھا ہوا تھا کہ کرم خان صاحب اُستانی جی سے ملنے کےلئے پہنچ گئے۔یوں لگتا تھا جیسے ان کی ساری توانائیاں کہیں سے لوٹ آئی ہیں۔ اُنہوں نے ملتے ہی مادام سائرہ سے کہا کہ انہیں الکرم گرلز اسکول کی پرنسپل کے عہدے کی پیشکش کی جاتی ہے۔ مادام سائرہ کو شک تو پڑ چکا تھا کہ کرم خان یہ سب اہتمام انہی کےلئے کر رہے ہیں مگر اب جو کرم خان کی زبانی سُنا تو یقین آگیا۔

''سائرہ اب اگر آپ میری درخواست ٹھکرائیں گی تو خُدا کرے میرے مرنے کی خبر سُنیں!''
کرم خان کی التجا میں خلوص اور محبت واضح تھی اور اتنی تھی کہ سائرہ صاحبہ مان گئیں۔

[dropcap size=big]اسکول[/dropcap] کا شاندار افتتاح ہوا، مادام بھی مدعو تھیں۔ ان کے نام سے سبھی واقف تھے، سو اکثر لوگوں نے کرم خان کے اس فیصلے کی تعریف کی کہ اُنہوں نے ایک نہایت قابل اور شریف خاتون کا پرنسپل کے عہدے کےلئے انتخاب کیا ہے، بلکہ انہی خاتون کی وجہ سے پہلے روز ہی کئی نام داخلے کےلئے لکھوائے گئے۔ معلوم نہیں کرم خان جانے کہاں کہاں کی تقاریب میں عمر بھر مہمان اور مہمانِ خصوصی کے طور پر جاتے رہےتھے لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ لوگوں نے کرم خان کو باقاعدہ اسٹیج پہ بولتے دیکھا۔ تقریر مختصر تھی۔انہوں نے ایک ہی بات کی؛
''لوگ کہتے ہیں کرم خان کے پاس دولت تھی مگر اس نے اس کی قدر نہ کی، میرے عزیزو! میرے پاس دولت تھی ہی کب؟؟ مجھے عمر بھر میں ایک ہی تو حسرت رہی کہ میرے پاس دولت ہوتی۔ علم کی دولت!''
اس پر لوگوں نے خوب تالیاں بجائیں اور خان صاحب نے شرما کر دذدیدہ نظر سے مادام سائرہ کی طرف دیکھا۔ ثمینہ خانم بہر حال سب بھانپ گئی تھی۔

اسکول چلا تو کرم خان کےلئے موسمِ بہار کا آغاز ہو گیا۔ صبح دم جاگتے اور اسکول جاتے۔رہائش اب مستقلاً ڈیرے پر تھی، مالی سے چھڑکاؤ کرواتے، تالے کھلواتے اور فرنیچر کی صفائی اپنی نگرانی میں کرواتے البتہ پرنسپل کی میز کرسی اور ان کے چھوٹے سے دفتر کی جھاڑ پونچھ خُود کرتے اور پھر پرنسپل صاحبہ کے آنے تک مختلف بہانوں سے وہیں منڈلاتے پھرتے۔ مادام سائرہ آ جاتیں تو خان صاحب ان کے پاس بیٹھ کر چائے منگوا لیتے۔ اُن کا سفر تھوڑا طویل تھا، سو وہ دیر سے آتی تھیں اور قدرے تھکی بھی ہوتیں سو یہ خُوب بہانہ تھا چائے پینے کا۔ اسی اثناء میں دیگر اُستانیاں جن میں ثمینہ خانم زبردستی، ضد کر کے شامل ہوئی تھی، آ جاتیں تو خان صاحب رُخصت ہو جاتے۔ مادام سائرہ نے نہ صرف محنت سے اسکول کو ایک میعاری ادارہ بنایا بلکہ اپنی خوش اخلاقی سے کوٹ سُکھے خان کی خواتین کے دل بھی جیت لئے۔ کرم خان کو قریب سے دیکھا تو بہت بھلا آدمی پایا اور اُن کی والہانہ محبت کا جواب عزت، مروت اور نہایت توجہ سے دیا۔ وہ کئی دفعہ خان صاحب سے اُن کی اپنی صحت اور حُلیے سے لاپروائی کی وجہ سے اُلجھ بھی پڑتیں جس میں کرم خان کو التفات کا وہ شائبہ نظر آتا کہ خُوش ہو جاتے مگر وہ شادی کا سوال انہیں دوبارہ اُٹھانے کی ہمت ہوئی نہ ہی مادام سائرہ نے اس موضوع پر بات کی۔ ثمینہ خانم بھی مادام سائرہ کو بہت پسند کرنے لگی لیکن ساتھ ہی ساتھ مستعد بھی رہتی کہ والد صاحب کوئی گُل نہ کھلا دیں لہٰذا وہ خان صاحب کو احساس دلاتی رہتی کہ وہ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ کرم خان اکثر ایسے سوال جواب کے دوران اسے پیار سے چپت رسید کرتے یا اس کی پیشانی چوم کر کہتے،
''تو گویا میں نے غلطی کی تمہیں تعلیم دلوا کر۔۔۔۔ باپ سے بھی ذیادہ سیانی ہو گئی ہو ثمینہ خانم۔۔۔'' اور بات ٹال جاتے۔

وہ ضرب المثل ہے کہ عشق اور مشک نہیں چھپتے۔ خان صاحب کا راز بھی کسی اناڑی کے ہاتھوں باندھے گئے غبارے کی ہوا کی طرح آہستہ آہستہ سے نکلنا شروع ہو گیا اور رفتہ رفتہ گاؤں میں طبل زیرِ گلیم بن گیا۔کرم خان اس سب سے لاپروا مادام سائرہ کے حُسن و خُوبی میں یوں مگن تھے گویا انہیں دُنیائے دیگر کی پروا بھی نہ تھی۔ اس بے نیازی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اب لوگوں نے بھی ان کی سرپرستی، کورٹ کچہری کے مسائل میں ہر کس و ناکس کی مدد، پنچایتوں کے منصفانہ فیصلوں اور معمولی کاشتکاروں پر ٹھیکوں، لین دین اور دیگر معاملات میں خاص رعایتوں کے وہ معاملات بُھلا دیئے تھے جنہوں نے انہیں علاقے والوں کا پسندیدہ زمیندار اور سردار بنایا تھا۔اب ان باتوں کو پس پُشت ڈال کر ان کی خامی پر توجہ رکھنا شروع کر دیا تھا اور سرداری کی دستار اُن لوگوں کے سروں پر آ چکی تھی جن میں سب اخلاقی بُرائیاں تھیں۔ سو خان صاحب نہ صرف لاپروا ہو گئے بلکہ کسی بھی عام دیہاتی کی سی غیر ذمہ داری ان کے مزاج میں آ گئی تھی۔ اسکول کے معاملات میں بھی ان کی دلچسپی مادام سائرہ کی حد تک ہی تھی کہ تعلیم و تعلم کا یوں بھی اس بھلے مانس کو کیا پتہ تھا؟ کرم خان صاحب نے تمام اسکول، عمارت اور مالکانہ حقوق سمیت مادام سائرہ کے نام منتقل کرنے کا عندیہ دے دیا تھا لیکن مادام سائرہ نے ابھی تک اس بات کو بالائے طاق ہی رکھا کیونکہ اس طرح اُن پر ایک اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ کرم خان کو شریکِ حیات کے طور پر اپنا لیں۔

اب تک مادام سائرہ کے حُسن کے مدار سے باہر کی تمام کائنات کرم خان کےلئے خاموش تھی کہ اچانک اس میں ایک غلغلہ بلند ہوا۔ بلدیاتی انتخابات کی آمد آمد تھی اور علاقے میں ایک ہنگامہ اور چہل پہل تھی۔ میاں غفار شاہ کے ڈیرے پر انتخابی سرگرمیوں کے سلسلے میں اکثر لوگوں کا ہجوم رہنے لگا جس میں ذیادہ تر سیاسی چہ مگوئیوں کے شوقین لوگ آ موجود ہوتے۔ اب کی بار مقابل میں کوئی تگڑا اُمیدوار بھی نہ تھا، میاں صاحب کا مزاج عرشِ معلیٰ پر پہنچا ہوا تھا۔ اگلے ہی روز اس نے دھوم دھام اور طبل و علم کے ساتھ شہر جا کر کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے تھے۔ کسی نے بات چھیڑی کہ کیا اس دفعہ پھر کرم خان اُن کے مقابل انتخابات میں اُٹھے گا؟؟ میاں غفار شاہ اس وقت غرور کے نشے میں تھے، بولے؛
''ارے وہ اُس اُستانی کی رانوں کے بیچ پڑا ہو گا اس وقت۔۔۔ اُسے کیا لینا دینا سیاست سے!!'' لوگوں کو اندازہ تو خُوب تھا کہ میاں صاحب کس قدر بے ہودہ بات کہہ گئے تھے مگر خوشامدیوں، ٹاؤٹوں کا جو ٹولہ حاضر تھا، اُنہوں نے جو تالی پِیٹ کر قہقہہ بلند کیا، یوں لگا کہ صدی کا سب سے بڑا لطیفہ چھُوٹا تھا۔ خیر شام تک بات پورے گاؤں میں پھیل گئی۔ کسی کو ہمت نہ پڑی کہ کرم خان سے کہتا، چاچا ریاض نائی اُس روز گاؤں میں تھا نہیں، لیکن ثمینہ جو ان دنوں اُمید سے تھی اور اسکول نہ جاتی تھی، اُس تک یہ بات پہنچ ہی گئی۔

رات کی روٹی کے وقت اسلم سے جو اس بات کا ذکر کیا تو ثمینہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ کرم خان کے بارے میں ایسی بیہودہ گفتاری کا کسی یہاں کے مخالف کو بھی کبھی نہ حوصلہ نہ پڑا تھا، ثمینہ کی بے چینی سمجھ آنے والی تھی، بولی؛
''میرا جو کوئی بھائی ہوتا، اُس میراثن کے بیٹے سے بدلہ تو لیتا میرے باپ کی توہین کا!''
ثمینہ کا یہ جملہ اسلم کے حلق میں تیر کی طرح اٹک گیا۔ اُس نے روٹی کا توڑا ہوا لقمہ رکھ دیا۔
''سمی! میں تیرا بھائی تو نہیں ہو سکتا، لیکن چچا کرم خان کا بیٹا تو ہوں، اور رہوں گا! کسی ماں کے یار کو شک ہے تو آج دیکھ لے گا!''

اسلم خان کسی بے چین پرندے کی طرح تڑپتا ہوا گھر سے نکل گیا۔ وہ سرفراز خان بلوچ کے گھر پہنچا۔ خان صاحب ایک مدت ہوئی فوت ہو چکے تھے، ان کا ایک بیٹا ریٹائرڈ فوجی تھا۔ نیم پاگل اور دنگے فساد کا شائق بلکہ کافی حد تک جرائم پیشہ آدمی تھا۔ نام تو نجانے کیا تھا لیکن سب اسے چاچا فوجی کہتے تھے۔ اسلم چاچا فوجی کے گھر گیا اور اُس کے ابا جان کا بلم مانگا۔ فوجی نے کافی عرصہ پہلے سرکاری مال خانے اور تھانے کے لوگوں میں جان پہچان بنا کر وہاں سے اپنے باپ کا بلم واپس لے لیا تھا اور بڑا سینت سینت کر رکھا ہوا تھا کہ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ ااٹھارہ سو ستاون کے غازی، مردانہ بلوچ کا بلم ہے اور لیفٹنینٹ لین صاحب بہادر کے سینے میں بھی پیوست ہو چکا ہے، خُدا جانے اس میں کس حد تک سچائی تھی۔ اُس نے بلم اٹُھا کر اسلم کو دے دیا اور جب اسلم گھر سے نکل چکا تو چاچے فوجی کو عقل آئی کہ قرائن تو خطرناک تھے۔ خیر میاں غفار شاہ صاحب ابھی ڈیرے پر تھے اور کسی مہمان کی خاطر ہو رہی تھی، نوکر اور خوشامدی اب بھی کافی سارے حاضر تھے۔ اسلم خان جو بلم لہرا کر وہاں پہنچا تو سبھی تاڑ گئے لیکن شاہ صاحب نے انہیں چُپ رہنے کا اشارہ کیا کہ مہمان مذکور بھی سیاسی طور پر ان سے کم معزز نہ تھے۔
''میاں صاحب!!!'' اسلم نے نہایت درشتی سے آتے ہی کہا۔
''ہاں اسلم بیٹا، خیر تو ہے، آج بڑے غُصے میں لگ رہے ہو'' میاں صاحب نے بڑے تحمل سے جواب دیا۔
''شاہ صاحب! اپنی گندی سیاست کھُل کھیلو مگر خبردار، چچا کرم خان کے بارے میں دوبارہ غلیظ زبان استعمال کی تو یہ بلم پہچانتے ہو؟؟ نواز میراثی کے تو پہلو میں گھسیڑا تھا، تمہارے پچھواڑے۔۔۔۔''
ابھی اسلم یہی کہہ پایا تھا کہ میاں صاحب گرجے،
''بکواس بند کرو!'' اسلم بھی چونک سا گیا۔
''کرم خان اور میں ہم عمر ہیں! مجھ سے ایسے بات کرے تو وہ، تُم کب سے اتنے بڑے ہو گئے؟؟ دفع ہو جاؤ یہاں سے ورنہ!!'' میاں غفار شاہ بھی ابھی یہی کہہ پائے تھے کہ چاچا فوجی بھی وہاں آ دھمکا۔

ہوا یہ تھا کہ جونہی فوجی کو شک پڑا کہ ہو نہ ہو اسلم خان اپنے سسر کی توہین کے انتقام کے درپے ہے، اُسے فکر لاحق ہو گئی کہ کہیں لڑکے کو نقصان نہ پہنچا دیں۔ اس کا فوجی لائسنس کا پستول اور رائفل خوش قسمتی سے اس کی بیوی نے بڑے صندوقوں میں کہیں بستروں کے نیچے دبا رکھے تھے کہ وہ بات بات پر اسلحہ تان لینے کا عادی تھا۔ آج چاچی فوجن گھر پہ نہ تھی، اسلحہ ڈھونڈنے کا وقت نہ تھا، سو فوجی نے لوہے کی ایک وزنی سلاخ پکڑی اور بھاگم بھاگ اسلم کے پیچھے۔ فوجی نے ڈیرے کا صحن چڑھتے ہی جو دیکھا کہ میاں صاحب اسلم خان کو دفع ہو جانے کا حُکم دے رہے ہیں، اُس کا پارہ کھول اُٹھا۔ اسلم تو شاید دو چار باتیں اور کڑوی کسیلی کر کے لوٹ آتا مگر فوجی نے تو چڑھتے ہی نعرہ لگایا،
''بکواس بند کر اوئے میراثن کے بچے!'' ایک دفعہ تو سبھی بوکھلا کر رہ گئے۔

''خبردار اگر تُو نے کرم خان کے خلاف نامزدگی جمع کروائی! تیرے پورے خاندان کے ہر بندے کے حصے میں میرے سو سو راؤنڈ بھی آئے تو میرا اسلحہ ختم نہیں ہوگا!!!'' فوجی نے میاں صاحب کو بولنے کا موقع ہی نہ دیا ''اور میں نسل ختم کر دوں گا اس کی جس نے ووٹ دیا اس میراثی کے نُطفے کو!!'' فوجی نے میراثی والا حوالہ دہرایا ہی تھا کہ میاں صاحب کے ہاتھ میں جو چائے کا کپ تھا، سیدھا کھینچ کے مارا جو فوجی کی بتیسی پہ کھٹاک سے آن لگا، پھر کیا تھا، فوجی نے جو باؤلا ہو کے لوہے کی بھاری سلاخ ماری تو وہ میاں صاحب کا سر بچا کر لگی مہمانِ گرامی کے بائیں کان پہ اور وہ کسی کٹے ہوئے درخت کی طرح چارپائی پہ لم لیٹ ہو گیا۔ پھر تو میاں صاحب کیا اور ان کے دیگر چیلے چانٹے کیا، وہ مارو مارو، جانے نہ پائے کا شور تھا اور وہ دونوں گویا معرکہ تو مار چکے تھے، بھاگ نکلے، اور سبھی ان کے تعاقب میں تھے۔

جونہی وہ دونوں بھاگتے ہوئے باوا گُل حُسین شاہ کی حویلی کے پاس اچانک مُڑ کر جنگل میں روپوش ہو ئے، مگر اس طرح کہ سبھی نے سمجھا کہ باوا جی کے گھر میں پناہ لینے کو جا گھُسے ہیں۔ ''گھُس جاؤ اندار!!'' میاں غفار شاہ دھاڑے تو سبھی باوا گُل حسین شاہ کی حویلی میں جا گھسے۔ وہاں کی مستورات نے آسمان سر پہ اُٹھا لیا، ادھر تعاقب کرنے والوں میں سے کسی کی آوازیں بھی آئیں، ''اوئے سیدوں کا گھر ہے، اندر مت جاؤ اوئے!'' مگر بے سود۔ ادھر سیدوں کے ہاتھ میں جو بھی آیا، پل پڑے میاں صاحب کے حواریوں میں ایک کا سر کھول دیا اور ایک کی پیٹھ میں سبزی کاٹنے کی چھُری اُتار دی۔ جب تک میاں صاحب کو اپنی حماقت کا اندازہ ہوا، اسلم اور فوجی کہیں دور نکل چکے تھے۔

کرم خان کو جو پتہ چلا تو اُن کے لئے پہلا سردرد یہ تھا کہ باوا گُل حسین شاہ کی حویلی کا جو تقدس پامال ہوا ہے، وہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ اُنہوں نے صبح منہ اندھیرے باوا گُل مرحوم کے بیٹے سید بُلبُل حُسین شاہ کو ہمراہ لیا اور تھانے میں جا کر میاں غفار شاہ اور دیگر کے خلاف چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنے کا پرچہ جڑ دیا۔ اسی اثنا میں میاں غفار شاہ صاحب بھی اپنے حواریوں کو لے کر تھانے آپہنچے۔ نیا ایس ایچ او میانوالی کا کوئی پٹھان تھا اور اس تک ساری خبر رات ہی کو پہنچ چکی تھی، غُصے میں سُرخ ہوا بیٹھا تھا، چھوٹتے ہی بولا؛ ''پہلے تو مجھے یہ سارے بندے دیں جنہوں سیدوں کے گھر کی بے ادبی کی ہے ورنہ میں ابھی جا کر سارے کوٹ سکھے خان والوں کو ننگا کرکے سڑک پر کھڑا کردوں گا۔۔۔'' میاں صاحب نے کئی برسوں میں کسی تھانے دار سے ایسی بات نہ سُنی تھی، سہم سے گئے۔ بُلبُل حسین شاہ نے بتایا کہ شاہ صاحب کے ہمراہیوں میں بھی کچھ لوگ درخواست میں شامل ہیں، تھانے دار نے فورا ان سب کو پکڑ لیا، بلکہ ایک میاں صاحب کو ہی باہر رہنے دیا وورنہ سبھی حوالات میں۔ عملے کو حُکم دیا گیا کہ ان سب کی یادگار چھترول کی جائے۔ میاں صاحب کا تو رنگ ہی اُڑ گیا۔ اب جو میاں صاحب سے ان کے آنے کا مقصد سُنا تو نرمی سے سیدھے سبھاؤ کہہ دیا، ''میاں صاحب، مجھے ڈی پی او صاحب کہہ دیں، میں سیدوں کے خلاف چھرا گھونپنے کا اور بلوچوں کے خلاف بھی پرچہ کاٹ دوں گا۔۔۔ اقدام قتل کا پرچہ کوئی مذاق نہیں ہے!'' میاں صاحب نے خونخوار نظروں سے دیکھا تو وہ انہیں ایک کونے میں لے گیا اور کچھ کھسر پھسر کرنے لگا۔

جب تک ڈی پی او صاحب کا حُکم آیا کہ دونوں پارٹیوں کو پابند کریں کہ پنچایت کر لی جائے کیونکہ چھرا گھونپنے کا کیس بالخصوص کمزور ہے، اس میں سیدوں کا کچھ نہیں بگڑنے کا البتہ بلوچوں کے ساتھ پنچایت کی جائے اور میاں صاحب کے بندے فوری رہا کئے جائیں۔ مہر جیون خان گوندل جنہیں اسلم خان کی ضرب لگی تھی، ان کا کوٹ مبارک خان کے بلوچوں سے خُوب تعلق تھا، اُن سے بلوچوں نے اُن کے ڈیرے پر جا کر معافی مانگ لی اور فوجی کو ان کے سامنے پیش کر دیا کہ جو سزا چاہے دیں، اُنہوں نے کہا وہ میاں غفار شاہ سے مشورہ کریں گے۔

پٹھان تھانے دار نے میاں صاحب کے حواریوں کو جب چھوڑا تو بیچاروں کی کافی چھترول ہو چکی تھی۔ گاؤں میں پنچایت کا اہتمام ہوا تو ایس ایچ او صاحب بھی آدھمکے۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچوں اور میاں صاحب کے جھگڑے کا جو فیصلہ ہو سر آنکھوں پر مگر اس پنچایت میں گاؤں والے سید بلبل حسین شاہ سے معافی مانگیں گے ورنہ جب تک وہ یہاں تھانے میں تعینات ہیں، کوٹ سکھے خان والوں کا جینا دوبھر کردیں گے۔ چند بوڑھوں نے پورے گاؤں کی نمائیندگی کی اور باوا جی سے معافی مانگی۔ پنچایت بھی باہمی معافی تلافی پر ختم ہو گئی اور فریقین نے درخواستیں تھانے سے واپس لے لیں۔ جو لوگ ملوث تھے، وہی کیا، سبھی شرمسار نظر آرہے تھے۔ گاؤں میں پر زبان پر یہی تبصرہ تھا اور ہر شخص میاں غفار شاہ کو مورد الزام ٹھہرا رہا تھا، ضعیف العقیدہ عورتیں تو یوں سہمی ہوئی تھیں گویا پوری بستی پر کوئی عذاب آنے والا ہو۔ فوجی کے بارے میں افواہ پھیلی کہ اس نے بنوں سے پٹھان اور اسلحہ منگوا لئے ہیں کہ جو میاں صاحب کو ووٹ دے گا، اسے نشانِ عبرت بنا دے گا۔ یہ فقط افواہ تھی مگر خدشہء نقصِ امن کے تحت پولیس نے اسے چند ہی روز بعد گرفتار کر لیا اور الیکشن کے بعد چھوڑا۔ بلوچوں میں کسی نے ضمانت کی کوشش نہ کی کہ فوجی پر بھروسہ انہیں بھی نہ تھا۔

اب یہ تبصرے بھی ہونے لگے کہ اُستانی جی کی وجہ سے جھگڑے کا آغاز ہوا اور آخر پہ اتنا بڑا گناہ سرزد ہوا۔ ابھی اس بات نے پر نہ پکڑے تھے کہ مادام سائرہ نے کرم خان صاحب سے کہہ دیا کہ نکاح خواں بلوائیے۔ باوا سید بُلبل حسین شاہ صاحب نے کرم خان صاحب کا نکاح پڑھایا اور سادہ سی تقریب جو برخوردار خان مرحوم کی حویلی میں ہوئی، اس کے بعد کرم خان صاحب انہیں اپنے ڈیرے پہ لے گئے جس کی چار دیواری بلند کرکے اسے حال ہی میں گھر بنایا گیا تھا۔ یہ اب مادام سائرہ اور ان کی بیٹی کا گھر تھا۔ ابھی اس خبر کی گہماگہمی گاؤں میں چل رہی تھی کہ میاں غفار شاہ کے کاغذاتِ نامزدگی قبول ہونے کی خبر ملی لیکن خبر تب بنی جب اُن کے مقابلے میں اسلم خان کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دئیے گئے۔

[dropcap size=big]انتخابات[/dropcap] تک کا عرصہ خُوب چہل پہل کا تھا جو کہ کرم خان نے تو عجیب سر خوشی میں گزارا۔ سوتیلی بیٹی انہیں بے حد عزیز تھی۔ وہ ماں کے ساتھ آئی تھی اور آتے ہی کرم خان اور ثمینہ کی آنکھوں کا تارا بن گئی۔ کرم خان اب بے حد خوش رہا کرتے تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ کرم خان کو دوسری شادی نے پھر سے جوان کر دیا ہے مگر کون جانے کہ شمع بجھنے سے پہلے بھڑکتی ہے۔

الیکشن کا دن کافی مصروف گزرا۔ کرم خان شام کو اسلم خان کا جشنِ فتح منا کر گھر آئے تو وہاں بھی مبارک باد دینے والوں کا ہجوم تھا۔ میاں غفار شاہ کو شکست ہو گئی تھی اور وہ بھی بدترین قسم کی۔ خان صاحب نے مدثر مصلی عرف اکشے کے ہاتھ میاں صاحب کو ایک چٹھی لکھوا بھیجی کہ لڑائی جھگڑوں کا انہیں افسوس ہے مگر یہ انتقام تھا جو وہ اُن سے گذشتہ الیکشن کے بعد لینا چاہتے تھے۔ خان صاحب نے جشن منانے والے دیگر لوگوں سے معذرت چاہی اور گھر آکر چارپائی پر لم لیٹ ہو گئے۔

''ذرا میرا سر دبا دو گے میرے سردار؟''
کرم خان نے نہایت محبت بھرے لہجے میں بیگم صاحب سے کہا۔ وہ اُٹھیں اور ان کے سرہانے آ کر بیٹھیں۔

''میرے سردار۔ اگر میرا سر اپنی گود میں رکھ لیں تو غُلام احسان مند رہے گا'' کرم خان صاحب نے ایک بیمار سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو پہلے تو مادام سائرہ نے چاچا ریاض کی طرف دیکھا جو قریب ہی کھڑے چارپائیوں کی ادوائین کھینچ رہا تھا مگر اس نے تاثر دیا کہ اس کی توجہ اس جانب نہیں ہے۔ اُستانی جی نے کرم خان کا سر اپنی گود میں رکھا اور دبانے لگیں۔ کرم خان نے آنکھیں بند کرلیں اور سونے کی اداکاری کرنے لگے۔ چاچا ریاض کام سے فارغ ہو چکا تو چپ کر کے کھسکنے لگا۔

''ریاضُو! حرامی! کدھر چُپ کرکے نکل رہا ہے؟'' کرم خان صاحب نے آنکھیں بند کرکے ہی کہا۔ چاچا ریاض مُڑا تو کرم خان نے اپنا ہاتھ ایسے بلند کیا جیسے کوئی ڈوبنے والا التجا میں اپنا ہاتھ اُٹھاتا ہے۔ چاچا ریاض نے گھبرا کران کا ہاتھ پکڑا۔ خان صاحب نے نرمی سے اس کا ہاتھ دبایا، آنکھیں کھول کر سائرہ کے گھبرائے ہوئے چہرے پہ نگاہیں گاڑیں اور ایک ہی جملہ زبان سے ادا کیا؛
''میری چھوٹی بیٹی کا خیال رکھنا!''

چاچا ریاض نے چند بزرگوں کو جانِ عزیز، جان دینے والے کے سپرد کرتے دیکھاہوا تھا، سمجھ گئے۔ اُنہوں نے اپنی پگڑی سر سے اتاری اور زمین پر ڈھلکا دی اور سسکیاں لے کر رونے لگے۔ کرم خان بلوچ جس وقار سے اپنی دُھن میں مگن جیئے تھے، اسی سکون اور سکوت سے مر گئے۔

کرم خان کے بعد الکرم گرامر اسکول کبھی پہلے کی سی روانی کے ساتھ نہ چل سکا۔ بیگم کرم خان کو اب اس گاؤں میں تنہائی کا آسیب بہت ڈرانے لگا تھا ان کی بیٹی کا داخلہ بھی ایک میڈیکل کالج میں ہو چکا تھا، اُنہوں نے اسکول کے معاملات ثمینہ کے حوالے کئے اور سرگودھے چلی گئیں جہاں بیٹی ڈاکٹر بن رہی تھی۔ اسلم خان نے ہمیشہ دامے درمے ان کی مدد بھی کی کیونکہ اسکول کے مالکانہ حقوق مادام کے نام ہی تھے اور گھر کی جگہ بھی چھوٹی بیٹی کے نام ہو چکی تھی۔ کچھ بلوچوں نے کوشش تو کی اس پر جھگڑا پیدا کریں مگر اسلم خان وہی کرتا تھا جو اسے ثمینہ خانم کہتی تھی جو کہ ایک وسیع القلب خاتون تھیں۔

میاں غفار شاہ اس کے بعد پندرہ سال تک زندہ رہے۔اس دوران انہوں نے چاچے فوجی کے قتل سے لے کر ثمینہ خانم کی کردار کشی کی مہم تک، علاقے میں ہر طریقے سے کرم خان کے خاندان کو زچ کرکے اپنی سیاسی و معاشی ساکھ کافی مضبوط کر لی جو اُن کے بعد ان کے بیٹوں نے سنبھالی۔ اسلم خان سیاست سے ہمیشہ کےلئے کنارہ کش ہو گیا۔حاجی یار محمد بھی میاں صاحب کی صحبت کے فیض سے بڑا سیٹھ بن گیا اور اس نے شہر جا کر اپنا تھوک کا کاروبار بڑھایا اور چند ہی سال میں سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایک شاندار کوٹھی تعمیر کی۔ اس کے تینوں پوتے شہر کے اعلیٰ پبلک اداروں میں پڑھنے لگے۔ یہ لونڈے بہت پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے تھے، محنتی اور پبلک اسکول ڈسپلن کے کاربند۔ اُمید تھی کہ وہ ذات پات والے ذلیل نظام سے چھوٹ چکے ہیں تو اس پہ یقین نہ رکھیں گے مگر اُنہوں نے اپنے ناموں کے ساتھ ایک اور ذات کا لاحقہ لگا لیا جس کے تحفظ کے لئے وہ سر دھڑ کی بازی لگا دینے پہ مستعد رہتے تھے۔ یوں بڑے درست چال چلن کے تھے۔ سید بُلبل حسین شاہ صاحب کے پانچ بیٹے تھے، ایک کو چھوڑ سارے نااہل اور نکمے نکلے۔ ان کی آخری عمر میں ان لڑکوں نے بھی میاں صاحب کے ٹاؤٹوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا تھا۔

[dropcap size=big]کرم خان کا ورثہ[/dropcap] مختلف راستوں سے آگے منتقل ہو گیا تھا مگر پھر بھی یہیں کا یہیں پڑا رہ گیا جس کا وجود اگر کوئی تھا تو الکرم گرامر اسکول کی خستہ حال عمارت تھی جس کے سامنے گلی میں سارا سال گندا پانی اکٹھا ہوا رہتا تھا اور جس میں اینٹیں رکھ کر پیدل چلنے والوں کےلئے آسانی پیدا کی گئی تھی۔ میاں غفار شاہ ہاشمی کا بیٹا مخدوم فیضان علی شاہ ہاشمی ایم پی اے بنا تو اسی گلی سے گزر کر ووٹ مانگنے آیا تھا۔ اس کی مدت کو پانچ سال ہونے کو آئے ہیں، آج کل میں دوبارہ آئے گا۔ یہ گلی اپنے کیچڑ اور تعفن کے ساتھ یہیں رہے گی؛ کہاں جائے گی؟ یا پھر اسی گلی کے اگلے موڑ پر وسیع و عریض میدان ہے جس کے دائیں طرف ٹیلے پر پیر کبیر شاہ بخاری کا میلا لگتا ہے، بائیں جانب پیر صاحب کا مزار اور قبرستان ہے۔ سڑک کے کنارے پر، میدان والی جانب ایک گھنا پیڑ ہے جو اس علاقے میں شیشم کے معدوم ہو جانے کے بعد علاقے کا واحد شیشم کا پیڑ ہے، اس کے نیچے چاچا ریاض نائی نے حجام والا پھٹا لگا رکھا ہے۔ وہ کرم خان کی وفات کے بعد سے ان کے اسکول کا چپڑاسی ہے مگر اس کی تنخواہ نہیں لیتا ماسوائے اس کے کہ ثمینہ یا اسلم اپنے پلے سے کچھ دے دیں، ورنہ وہ اپنے آبائی پیشے سے ہی روٹی کماتا ہے۔ اس پھٹے سے مخالف سمت قبرستان کی حدود میں پہلی نمایاں قبر کرم خان مرحوم کی ہے جس پر ہر شام چاچا ریاض نائی چراغ جلاتا ہے۔اس نے اپنے دوست کو کوٹ سُکھے خان کا 'دانتے' بنا دیا ہے۔۔۔ دانتے، جس کی قبر پر اس کی موت سے آج تک اطالویوں نے چراغ کو بجھنے نہیں دیا۔

''چاچا ریاض! یہ چراغ کب تک جلاؤ گے؟'' کرم خان کا قصہ سُن چکنے کے بعد میں نے جو ریاض نائی سے پوچھا تو وہ ہنس دیا۔ ایک شکستہ سی ہنسی۔
''جب تک زندگی نے وفا کی۔۔۔ اتنا ہی ہوتا ہے یار۔۔۔ میرے دوست کو بھی تو اس چراغ کے سوا آخر بچتا ہی کیا ہے؟'' اس کی آنکھ تر ہو گئی۔ چاچا ریاض نے اپنے کام کےلئے اس جگہ کا انتخاب بلاوجہ نہیں کیا تھا۔

میری نظریں قبرستان کی جانب اُٹھیں جہاں سامنے ہی کرم خان صاحب کی قبر تھوڑے ہی فاصلے پر تھی۔ وہ مٹی کا دیا جسے ابھی کچھ دیر میں پھر روشن ہو جانا تھا، سنگِ مر مر کی سفید قبر کے پس منظر کے ساتھ ایسے نمایاں لگ رہا تھا گویا واقعی کسی بڑے شاعر، نوابی پیشہ زمیندار، عاشقِ باصفا اور دریا دل رئیس کی کُل زندگی کا اثاثہ ایک سیاہ نُکتے میں سما گیا ہو۔۔۔
دسمبر 2020
چک نمبر سات تھل شمالی




شمیم حنفی : اس بزم میں پھر لوٹ کے آنے کے نہیں ہم (تصنیف حیدر)

اس (ادیب) کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو عمومیت زدہ مسئلوں اور عامیانہ باتوں میں ضائع نہ کرے اور اپنی پوری توجہ ادب یا آرٹ پر مرکوز رکھے۔ اپنی تخلیقی سرگرمی کا سودا نہ کرے اور ہر قیمت پر فن کی حرمت اور فن کی تشکیل کے عمل کی حفاظت کرے۔ عام مقبولیت کے پھیر میں نہ پڑے۔ ایسی باتیں نہ کہے جن کا مقصد سب کوخوش کرناہو۔ اسے اپنی ترجیحات کاپتہ ہونا چاہیے۔ روزمرہ کی سیاست اور سمجھوتوں سے بچنا چاہیے اور اس وقت جب سچ کو خطرہ لاحق ہو، اس کی حفاظت کے لیے کھل کر سامنے آجانا چاہیے یا پھر اپنے اخلاقی ملال اور احتجاج کوسامنے لانے کا ایک طریقہ جو بظاہر تجریدی ہے، ایک لمبی گہری خاموشی کے طور پر رونما ہوتاہے۔

(، شمیم حنفیادب میں انسان دوستی کا تصور

سیاسی قدروں کے زوال نے ادب اور آرٹ کی دنیامیں بھی ایک ہولناک درباری کلچر کو فروغ دیا ہے اور ’’ادب اور آرٹ کی تخلیق کا جوکھم اٹھانے والوں‘‘ کے ضمیر کو داغدار کیا ہے۔ انعامات، اعزازات، مناصب، مراعات، ادب اور آرٹ کی ترقی اور نمائندگی کے لیے اوپر سے بچھائے ہوئے راستوں پر اور معینہ مقاصد کے ساتھ دور دراز ملکوں کے دورے، یہ تمام باتیں ادیب اور آرٹسٹ کی بصیرت کے گرد لکیریں کھینچنے والی ہیں، اس کے شعور کو محدود کرنے والی اور ادب یا آرٹ کے مقدس اور پاکیزہ مقاصد سے توجہ ہٹانے والی ہیں۔ اس قسم کی مراعات اور سہولتیں قبول کرنے میں ہمیشہ کسی جانے انجانے راستے سے ذہنی غلامی کے درآنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اور ذہنی غلامی چاہے کسی فرد کی ہو یا ادارے یا نظریے کی، انسانی ضمیر اور تخلیقی اظہار کو ہمیشہ راس نہیں آتی۔ آرٹ اور ادب کی دنیا میں اس طرح کے موسم اورمعاملات انسان دوستی کے اس عظیم تصور کو بھی راس نہیں آتے جس کی تعمیر اور ترویج کا قصہ، تہذیب و تاریخ کی کئی صدیوں سے پھیلا ہوا ہے۔ اپنے شعور اور حافظے کو جھٹلا کر ادب اور آرٹ کی بامعنی تخلیق ممکن نہیں اور یہ معنی بہرحال انسان شناسی اور انسان دوستی کے دائرے میں ہی گردش کرتے آئے ہیں۔

(ادب میں انسان دوستی کا تصور، شمیم حنفی)

اوپر دیے ہوئے ان دو ٹکڑوں سے میں شمیم حنفی کے نظریہ ادب اور نظریہ زندگی کی وضاحت کرنا چاہتا تھا۔ اب اپنے آس پاس نظر دوڑائیے اور کہیے کہ اردو میں اس طرح کی باتیں کرنے والے لوگ بھی کتنے رہ گئے ہیں۔ یہ تو ہم سب کہیں گے کہ ایک عہد ختم ہوا، ایک ایسا زریں دور جس نے جدیدیت کو ہندوستان میں پروان چڑھتے دیکھا۔ جو ریڈیو کی گھڑگھڑاتی سوئی سے 4G تک کا زمانہ اپنی آنکھوں میں بسائے تھا۔ مگر ادب کی جو تعریف شمیم حنفی نے گڑھی تھی، وہ اس پر قائم رہے۔

نہایت گورا چٹا رنگ، درمیانہ قد، ماتھے پر گمبھیرتا کی کچھ گہری لکیریں اور گفتگو میں ایک خاص قسم کی نفاست۔ یہ ان کی پہچان تھی۔ آپ ان سے پہلی بار ملیں یا کئی ملاقاتیں کرچکے ہوں، وہ تپاک سے ملتے تھے۔آپ کی لکھی پڑھی چیزوں پر ایماندارانہ رائے دیتے تھے۔ جو نہ پڑھا ہو، اس کے لیے صاف انکار کردیتے تھے۔ ایسے لوگوں سے گھبراتے تھے، جواپنی صلاحیتوں کو بڑھ چڑھ کر بیان کرتے ہوں اور سب سے اہم بات اپنے چھوٹوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے تھے۔ میں نے ان میں ایک خاص بات یہ نوٹ کی کہ وہ آپ کی شخصیت کو صرف علمی معیار پر جانچتے تھے یا تخلیقی بنیاد پر۔ ذاتی حوالے سے آپ زندگی میں کیا کررہے ہیں کیا نہیں، اس پر رائے زنی کرنا، کوئی مشفقانہ یا بزرگانہ مشورہ دینا ان کا وطیرہ نہیں تھا۔

شمیم حنفی اب اس دنیا میں نہیں ہیں، مگر ان کی شخصیت سے جو باتیں میں نے سیکھی ہیں، وہ میرے اور ان بہت سے دوسرے ہم عصروں کے ساتھ رہیں گی، جو ان سے ایک بار یا کئی بار مل چکے ہیں۔ ان سے میرا تعارف دہلی آنے سے پہلے ہو چکا تھا۔ میں جدیدیت پر لکھی ہوئی ان کی کتاب (جو کہ غالباً ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی تھا) جدیدیت کی فلسفیانہ اساس کو پڑھ چکا تھا، مگر اس سے بھی پہلے میں نے کہانی کے پانچ رنگ پڑھی تھی، جو میرے لیے ان کی دوسری تحریروں یا کتابوں کو پڑھنے کی ترغیب بھی بنی تھی۔ مگر کچھ آگے چل کر فاروقی اور عسکری جیسے ادیبوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ میں نے شمیم حنفی کو پڑھنا بہت کم کردیا تھا۔ بہت بعد میں منٹو پر لکھی ہوئی ان کی ایک کتاب اور میرا جی کا نگار خانہ میں نے پڑھی، جس کو انہوں نے ترتیب دیا تھا۔

پی ایچ ڈی کے مقالے کا ذکر ہوا تو یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ شمیم حنفی اس نسل کے ادیب تھے، جہاں پی ایچ ڈی کے کچھ کام اردو کے ادب کا اہم سرمایہ بن کر لوگوں کے سامنے آئے۔ مثال کے طور پر خلیل الرحمٰن اعظمی کی کتاب اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک، محمد حسن کی کتاب دہلی میں اردو شاعری کا تہذیبی اور فکری پس منظر، گوپی چند نارنگ کی کتاب اردو غزل اور ہندوستانی ذہن و تہذیب۔اب تو ہم دیکھتے ہیں کہ یونیورسٹیاں پڑھائی کے نام پر نوکری کی لجلجی خوشامدوں اور چاپلوسیوں کا گڑھ بنی ہوئی ہیں۔ ایسے لوگ جن کے اندر تنقیدی، تخلیقی صلاحیت نام کو نہیں اور جنہیں کسی ڈھنگ کے ادبی و علمی سماج میں ایک اچھے طالب علم کی حیثیت حاصل نہ ہو، وہ پروفیسر بنے بیٹھے ہیں۔ شمیم حنفی اس بات سے خود بھی زیادہ خوش نہیں تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ چیزیں جس تیزی سے بدلی ہیں اور خاص طور پر ہندوستانی یونیورسٹیوں کے شعبہ اردو کے طلبا، ذہنی بلندی سے دور مذہبی شناخت پر مصر ایک ایسے خول میں ڈھل گئے ہیں، جہاں علم کا گزر ہرگز نہیں ہے، تبدیلی کی خواہش نہیں ہے اور ارتقا کی گنجائش نہیں ہے، وہ لائق تشویش بات ہے۔

اس وقت مجھے ان کی کہی ہوئی کئی باتیں یاد آرہی ہیں۔ وہ باتیں اس انداز سے کرتے تھے کہ آپ بیٹھ کر انہیں گھنٹوں سن سکتے تھے۔ شمیم حنفی کے یہاں یہ جو فن تھا، وہ دوسرے نقادوں میں ویسا نہیں تھا۔ گفتگو بھی ایک قسم کا سلیقہ مانگتی ہے، میں نے دوسرے ادیبوں کو بھی بات کرتے سنا ہے مگر شرط ادب کے لحاظ سے یہاں نام لینا مناسب نہیں سمجھتا، مگر شمیم حنفی جیسی صاف و شفاف اور دل کو چھوتی ہوئی گفتگو میں نے کسی ادیب کے یہاں نہیں پائی۔ وہ اگر آپ کو کسی شہر کے بارے میں بتاتے تو کوئی ایسا نکتہ ضرور ہوتا جو اس شہر کی خاصیت کو بالکل نئے سرے سے آپ پر روشن کرتا۔مثال کے طور پر انہوں نے اپنے آبائی وطن سلطانپور کے حوالے سے ایک دفعہ بتایا تھا کہ ’سلطانپور وہ واحد جگہ ہے، جہاں تقسیم ہند کے وقت ایک بھی فساد نہیں ہوا۔‘

میں جب بھی ان کے پاس جاتا، کسی نہ کسی ادبی موقف پر اختلاف کا کوئی پہلو بھی نکل آتا۔ میں ججھکتے ہوئے اپنی بات ان کے سامنے رکھتا تو کبھی جھلاتے نہیں تھے، وہ پوری طرح بات سنتے اور پھر اپنی رائے کو دوبارہ واضح کرتے۔ آپ یوں سمجھ لیجیے کہ دہلی شہر اردو کے ہی نہیں، ہندوستانی ادب کے ایک ایسے ادیب سے محروم ہوا ہے، جس کی رگوں میں اختلاف رائے کا احترام، رواں دواں تھا۔ ادب میں ان کا اصرار بھی یہی تھا کہ زندگی کو کسی بھی چیز پر فوقیت نہ دی جائے، چاہے وہ پڑھنا لکھنا ہی کیوں نہ ہو۔ ان کا ماننا تھا کہ آدمی کا تعلق براہ راست زندگی سے ہے، اس لیے زندگی کی اہمیت کو سمجھنا زیادہ ضروری ہے۔ اسی مضمون میں انہوں نے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے، جو زبانی بھی مجھے ایک دو مرتبہ سنایا تھا۔ بھاگلپور کے فسادات کے وقت ایک صاحب نے جو نظمیں لکھی تھیں، انہیں کتابی شکل دے کر شمیم حنفی کو بھیج دیا اور اس بات کو بڑے فخر سے بیان کیا کہ جس وقت میرے پڑوس میں آگ لگی تھی اور ایک گھر بھائیں بھائیں جل رہا تھا۔ میں نے تب یہ نظمیں لکھی ہیں۔ شمیم حنفی نے کتاب تو ایک طرف اٹھا کر رکھ دی، ساتھ میں ان صاحب کو یہ جواب لکھا کہ انسانی ہمدردی کا تقاضہ یہ تھا کہ آپ اس وقت ان نظموں کو لکھنے کے بجائے ایک بالٹی پانی لے کر جاتے اور پڑوس میں لگی آگ بجھانے کی کوشش کرتے۔

میں جب بھی ان سے ملا، انہیں مطالعے کی اہمیت پر ہمیشہ زور دیتے ہوئے پایا۔ ہمیشہ پوچھتے کہ آج کل کیا پڑھ رہے ہو۔ میں کسی کتاب کا نام لیتا تو اس کے بارے میں بات کرتے۔ ان کی نظر وسیع تھی، مطالعہ جس سنجیدگی کا تقاضہ کرتا ہے، وہ شمیم حنفی سے سیکھنا چاہیے۔ اردو کے کسی ادیب نے مجھ سے یہ کہا تھا کہ شمیم صاحب کی یادداشت پر رشک آتا ہے۔ وہ جو کچھ پڑھتے ہیں، انہیں یاد بھی رہ جاتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ یادداشت کے کونوں میں وہی پڑھائی رہ جاتی ہے، جسے بہت سنجیدگی سے پڑھا گیا ہو۔ شمیم حنفی سے ملنے پر ایسے لوگوں کو جو ادب میں آپ کے invisible ہیروز رہے ہیں، دیکھنے کا موقع ملتا تھا۔ اگر میں کہوں کہ میں نے شمیم حنفی کے قالب میں کبھی محمد سلیم الرحمٰن، کبھی احمد مشتاق، کبھی زاہد ڈار اور کبھی اکرام اللہ جیسے عظیم ادیبوں سے ملاقاتیں کی ہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ وہ پاکستان دوروں کی اپنی روداد اور ان ادیبوں سے اپنی دوستیوں یا ملاقاتوں کے جو قصے سناتے، جی چاہتا کہ بس انہیں سنے جاؤ۔کیا اب اس شہر میں کوئی ایسا ادیب ہے، جو ہمیں سرحد پار کے ان ادیبوں کی پسند ناپسند، لکھائی، پڑھائی، ہنسنے بولنے کے قصے یوں سنا سکے، گویا ہم نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہم ایک ادیب سے ہی نہیں، شمیم حنفی کے جانے سے بیک وقت بہت سے اساتذہ ادب کی صحبت سے محروم ہوگئے ہیں۔

اسی طرح ہم بلراج مین را، سریندر پرکاش، عمیق حنفی اور ان گنت ہندوستانی ادیبوں کو بھی ان کی گفتگو میں دریافت کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ فراق گورکھپوری کی تنقیدی کتاب پر میں نے کچھ اعتراض کیا تو انہوں نے ایک یاد رکھنے والی بات کہی تھی۔ انہوں نے کہا تھا" ہر ادیب و شاعر کتاب کے ذریعے نہیں سمجھا جاسکتا، کئی ایسے ادیب ہیں جن کے ادبی وتخلیقی قد کو جاننے کے لیے ان کی گفتگو سننی ضروری ہے، کاش کسی نے فراق صاحب کی باتوں کو سن کر محفوظ کرلیا ہوتا تو وہ ان کے لکھے ہوئے تنقیدی سرمایے سے بڑی چیز ہوتی۔" آج یہی بات میں شمیم حنفی کے لیے بھی کہہ سکتا ہوں۔ انہیں اب پڑھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے چاہے بہت غیر معمولی قسم کی تنقید نہ لکھی ہو، چاہے وہ غزل کے اعلیٰ نمونے پیش نہ کرسکے ہوں، چاہے ان کے یہاں وہ تخلیقی صفت موجود نہ ہو، مگر ان کی باتیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کیے جانے کے لائق تھیں۔ اور بہت ممکن تھا کہ ان باتوں میں ادب اور زندگی، دونوں کی راہیں اگلے مسافروں کے لیے زیادہ روشن ہوجاتیں۔

میں ان سے پہلی دفعہ کب ملا، مجھے یاد نہیں۔آخری ملاقات بھی ذہن میں تازہ نہیں کہ اسے بھی شاید کافی لمبا عرصہ گزر گیا۔ فون پر بھی اتنی باتیں نہیں ہوتی تھیں۔ مگر دل کو ایک احساس رہتا تھا، ایک اطمینان سا تھا کہ دلی میں شمیم حنفی ہیں۔ زندگی کی بھاگ دوڑ، چیخ پکار اور پاگل کردینے والی الجھنوں سے کچھ وقت چرا کر ان کے پاس بیٹھا جاسکتا ہے، ان سے بہت کچھ جانا اور سیکھا جاسکتا ہے۔ مگر اب یہ شہر، شہر افسوس میں بدل چکا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ وہ شاعری پر فکشن کو بہت ترجیح دیتے تھے۔ شاعری بھی انہیں پسند تھی، مگر کہتے تھے کہ یہ دور ناولوں کا دور ہے۔ میرے مضامین پڑھتے تھے، اس پر رائے دیتے تھے اور زور دے کر کہتے تھے کہ آپ ناول ضرور لکھیے۔اب جب میرا پہلا ناول شائع ہونے والا تھا، تو میں نے سوچا تھا کہ خود جاکر انہیں دوں گا اور پوچھوں گا کہ اسے پڑھ کر بتائیے کہ کیا آپ کی مجھ سے جو توقعات تھیں، وہ مناسب تھیں؟ مگر افسوس۔۔۔۔۔یہ حسرت بھی آج صبح نذر خاک ہوگئی۔




فنکار اور دوسری نظمیں (ورشا گورچھیا)

[divider]محبت کی قبولیت[/divider]

محبت میں ہونا
محبت میں جینا
اور محبت میں مر جانے کی
بےچین کر دینے والی
لامحدود خواہش ہی
حادثاتی خالی پن کا کارن ہے

جِسے تمھارے کہے ہوئے
کچھ شبد بھر بھی سکتے ہیں
جیون کو جاری رکھنے والی
تمھاری محبوبہ کے ماتھے پر
سمے پہلے سے ہی
جو روکھےپن کا جال اُگ آیا ہے
وہ محض تمھارے ہاتھ کے لمس سے مٹ بھی سکتا ہے

اس پل کو یاد کر کہہ دو
اپنی محبوبہ سے
جس پل میں تمھیں
اپنے سینے سے لگا کر
وو پہلی دفعہ جی بھر کے روئی تھی
جب تمھیں اس کی محبت میں محبوبہ سے زیادہ ماں ملی تھی
اس کے بدن سے سٹ کر سنو
کتنی اداسیاں چٹختی ہوئی سنتے ہو؟

اس کا تھکا ہوا چہرہ
اپنی ہتھیلیوں میں لو اور
بچے کی سی معصوم پتلیوں میں
اپنا عکس دیکھ کر اسے بتاؤ
کہ اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کا پانی
بحرالکاہل کے پھیلاؤ سے کہیں زیادہ ہے
اس کے لاش بننے سے پہلے
اس سے باتیں کر لو
اُن پلوں کی
ہر واقعے کی
وقت کے ایک ایک اشارے کی بات
جو تمھیں اس کے نزدیک لے گیا
محبت کے آجانے پر
من کی ہلچل
اور محبت کی رخصتی کے سمے کی
بربادی کو کہہ دو
محبت اگر ہے تو اس کے ہونے کا پتہ دینا بھی ضروری ہے!
محبت کے جواب میں سنّاٹا
محبت کے قتل کی سازش ہے

[divider]ملاقات[/divider]

تم سے مل کر محسوس ہوا
کہ ضروری نہیں ہے
دو بھوری آنکھوں میں ڈبکی لگانے کے لیے
ایک دوسرے کی محبت میں
مبتلا ہونا

محبت محض ایک الاؤ نہیں ہے
من میں جمے ہوئے گلیشیر
کو پگھلانے کے لیے
کسی کے نرم لہجے کی تپش بہت ہے اس کے لیے

یہ خاموش زرد برف تو
کسی کی معصوم نظم کی گرمی سے بھی پگھل کر
آنسوؤں کے کھارے ساگر میں مل سکتی ہے
یہ قطعی ضروری نہیں کہ
ٹی ہاؤس کے تنہا ٹیبل پر دو گرم پیالے لرزتے ہوئے چار ہاتھوں سے
اجنبی احساس کے سرد کوہسار
پر انڈیلے جائیں

یہ انجان راستہ بھیڑ میں
ایک آئس ٹی کے پِیچ فلیور سے ہوتا ہوا بھی جا سکتا ہے

[divider]اکیلا پن[/divider]

تم اکیلےپن کو کھوجنے نکل جاؤ
اور اس کو پانے کی راہ کی کھوج نہیں کرنا
کیا نفع کیا نقصان

اس کا لیکھا جوکھا
وقت کے محتسب خود ہی کر
آخری لمحے میں تمھاری جسم پر
نقش کر دیں گے
تمھاری یہ کھوج تمہیں لاجواب بنا سکتی ہے
اس پر لوک کتھاؤں کے موتی اگ سکتے ہیں
تمھارے نیم پلیٹ پر پھیل سکتا ہے اکیلاپن
امر بیل کی طرح
اور گلِ شب بُو سا سویرے کے گلدان میں مہک سکتا ہے

اسے کھوجنے میں تمھیں قلمی مسودے چھاننے ہوں گے
محبت کی شاعری کی اصل میں پنپتا ہے اکیلا پن
بیتی یادیں اکیلے پن کو جنم دیتی ہیں
من کی سیلن بھری دیواروں کی دراڑوں میں
کائی کا لبادہ اوڑھے سستا رہا ہے اکیلاپن
تم اسے ویرانے میں نہیں کھوج سکتے
اس لیے بہتر ہے کہ
دشت و سمندر کے کناروں سے دور
بھرے بازاروں میں کھوجو
میٹرو سٹیشنوں کے انٹری گیٹ میں چیکنگ کرتا ملے گا
بسوں کی کھڑکیوں والی سیٹ بھی اس کی فیورٹ ہے
ملٹی نیشنل کمپنیوں کے
دفتروں میں کھوجو
جہاں وہ لیپ ٹاپ کی ہائیڈ فائلز میں چھپا ہو گا
یا کیفیٹیریا کی آخری سنگل ٹیبل پر
ٹماٹو سوس کی بوتل کے پیچھے چھپا ہو سکتا ہے
اکلاپا تمھیں ملے گا
حویلیوں کی ہلچل میں اور
بھرے پُرے گھرانوں میں
بِلکتا ہوا ملے گا
اکیلاپن سجنے سنورنے کا شوقین ہے
وہ کسی دلہن کے ڈریسنگ ٹیبل میں پرانے جھمکوں کی
اٹالین ڈبیا میں بھی رہ سکتا ہے

تمھیں اسے دیکھ کر نہ پہچاننے کا
مکر بھی کرنا پڑ سکتا ہے
کیونکہ اکیلے پن کو اپنا ہونا بھی پسند نہیں آتا
اور جب تم اسے کھوج لو گے
تمھیں اس سے محبت بھی ہو سکتی ہے
پھر تمھاری لکھی کتھاؤں پر
کھوجنے والے اپنا تھیسس لکھیں گے
محقق اپنی نئی تھیوری سیٹ کریں گے
اور ایک نتیجے کو تعریف کہا جائے گا
مگر اکیلاپن جیوں کا توں کھڑا رہے گا
کسی نئے شاعر کو لاجواب بنانے کے لیے

[divider]اَن چاہا حمل[/divider]

کسی عورت کو
اپنا پیٹ کھودنے کا دل ہو سکتا ہے
وو چاہ سکتی ہے کہ
اپنے بستر میں سوئے آدمی کا قتل کر دے
وہ کئی راتیں چپ چاپ روئی ہو سکتی ہے
ہر ناکام محبّت کے بعد بھی
وہ بے انتہا نفرت کو
اپنی چھاتی کا دودھ پلا سکتی ہے
اور نااُمیدی بھرے ڈنگ کی غیریقینی میں
وو رسوئی کے سارے کیڑے کھا سکتی ہے
اپنے پیٹ میں موجود ان چاہے حمل کو گرانے کے لیے

[divider]فنکار[/divider]

اگر تم کسی فنکار کے ساتھ
بستر سانجھا کرتے ہو
تو تمھیں اپنے بستر کے چاروں پایوں پر
چار الگ الگ شخصیتیں رقص کرتی ملیں گی
جو الگ الگ وقت پر تمھیں
پیار کریں گی اور
الگ الگ تم پر وار کریں گی
کسی بھی فن کا نمائندہ
کسی جانور سے کم نہیں ہوتا
وہ رنگ، روپ اور شکل بدلنے میں ماہر ہوتا ہے
دلفریبی عادت ہے اس کی
جو وہ خود کے ساتھ بھی کرتا ہے
محبّت اس سے بیماری کی طرح ہوتی ہے
وو لباس کی طرح کہانیاں پہنتا ہے
اور جب تک لباس میلا نہ ہو پہنے رکھتا ہے
اسے نئے لباس نہیں چاہیے، کہتے ہوئے
فریب کرتا ہے تم سے، خود سے
فنکار ہی ہے جو خود کو بہلانے کے لیے
نئے رنگوں، نئے ساز اور
نئے نئے لفظوں کی کھیتی کرتا ہے
وہ خودکشی کی وجہ تراشتا ہوا
اپنی موت کا مجسمہ تیار کر
تم پر قتل کا الزام لگاتا ہے
پھر بھی محبوب کی (تمھاری) خدمت کے قصیدے پڑھتا ہے
مگر تمھیں یہ یاد رکھنا ہے کہ
ایک فنکار صرف اپنے فن کو چاہتا ہے
تم اس کے فن کو تراشنے کا اوزار ہو
جس کے بنا وہ بھی ادھورا ہے

[divider]ایبسٹریکٹ نظم[/divider]

میں اس وقت کہاں ہوں
کون بتا سکتا ہے
اور کون سمجھ سکتا ہے
عرب کے ریگستان سے بہت دور
اس سے بھی زیادہ
گرم ریت کے مرے ہوئے بدن پر لُٹ کر
کیسا محسوس کر رہی ہوں
بےجان آسماں سے لٹکتا چاند
ایک برف کے ٹکڑے کے مانند
میری دونوں بھنوؤں کے بیچ سوراخ کر رہا ہے
پر میں تین گھنٹے سے یہ سوچ رہی ہوں کہ
کسی عورت کی لکھی ہوئی
سب سے بہترین نظم کون سی ہے
اس وقت ہوانا کے جنگلوں میں
کسی عورت کا شب انتظار کتنا باقی ہے
یا کہ تِبّتی عورتیں
کسی ملک کے لڑکے اپنی بیٹیوں کے لیے چنتی ہوں گی
سیریا میں بچوں کو کون سا کارٹون پسند آتا ہو گا
رشین بلّیاں زیادہ خوش قسمت ہیں
یا یورپین کتیا
بوچڑ خانوں کے قصائی زیادہ حیوان ہیں
یا سونا گاچھی کے دلال
تین دن میں میں کتنی دور بھاگ سکتی ہوں؟
کیا جنگلی زیتون کے تانے سے لپٹ کر
اپنی تنہائی کو مات دے سکوں گی
کن آنکھوں کی تکلیف زیادہ بھیانک ہے
چتا میں جلتی، قبر میں دبی ہوئی؟
یا نیل ندی میں ڈوبتی ہوئی آنکھوں کی
اور یہ سب پڑھ کر تم کیا سوچ رہے ہو
یہ بات بھی کون بتا سکتا ہے
تم اس وقت کہاں ہو!

[divider]عورت[/divider]

میں جس لمحے میں
خاموشی کے بیاباں بدن کو پہنتی ہوں
اس لمحے میں ہی تم مجھ میں دو عورتیں پاؤ گے
اک قدیم زمانے سے بنا پلکیں جھپکے
ناگن کی طرح،
تمھیں بس تک رہی ہے
وو کسی بھی لمحے تمہیں نگل جانا چاہتی ہے
اور دوسری تمھیں اپنے نوزائیدہ کی طرح
سہلا رہی ہے

[divider]تمھاری آنکھیں[/divider]

تمھاری آنکھیں مشرقی تہذیب کے
کسی دیوتا کی خفیہ بھاشا میں بات کرتی ہیں
اور میرے من کے تختہ سیاہ پر
وہ اجنبیوں کی نامعلوم تحریریں
پہیلیاں گودتی جاتی ہیں

[divider]صابر حقہ تمھارے لیے[/divider]

اس وقت کو میں نے بھرپور جیا ہے
جس وقت میں نے ایک خانہ بدوش مزدور کی نظموں کو
اپنے موجودہ محبوب کی نظمیں سمجھ کر پڑھا
میں نے اس کی نظموں میں سانس لیتی عورتوں کو
اپنے اندر اُترتے دیکھا
ایک اس کی ماں جس پر اسے شک ہے
کہ اس عورت کی نیلی آنکھوں میں
اس کے باپ کے علاوہ بھی کوئی رہتا ہو گا کبھی
ایک اس کی مالکن جو اسے تازہ کھانا دے رہی تھی
ایک اس کی بہن جو شام کو ساحلی سے ملنے گئی
اور تین اس کی محبوبائیں
جن کے لمبے بالوں گورے بدن اور کالی آنکھوں کا دیوانہ تھا
اس طرح سے میں نے ایک مرد کے چھہ عورتوں سے تعلق کو بدل کر
صرف دو روحوں کے تعلق کو بھرپور جیا




أبو العلاء المعري کی رباعیوں کے تراجم (رٖضی حیدر)

 

أبو العلاء المعري سے ملاقات تب ہوئی جب ایک روز بی بی سی پر خبر پڑھی کہ داعش ایک نابینا عربی شاعر کے مجسمے توڑ رہے ہیں، سوچا دیکھوں تو سہی کون ہے یہ شخص۔ پتا چلا کہ أبو العلاء المعري وہ شخص ہیں جن کا رنگ خیام نے بھی اپنایا اور کیا کیا کمال کی رباعی لکھی۔ سو میں عربی سے نابلد انگریزی میں ان کا کام ڈھونڈھنے لگا۔ اس تلاش کے دوران پتا چلا کی علامہ اقبال بھی أبو العلاء المعري کے معتقد تھے اور ان کے نام ایک نظم کر چکے تھے۔ یہ مصرع تو آپ نے لازما سن رکھا ہو گا ، ’ ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات’، یہ مصرع ان کی نظم أبو العلاء المعري سے ماخوذ ہے۔ مجھے آخرکار لزومیات کا ترجمہ جو امین فارس ریحانی نے کیا تھا مل ہی گیا۔ جب انکی کواٹرینز پڑھیں تو دل میں آیا کہ انھیں کیوں نہ اردو میں ترجمہ کیا جائے۔ سو چند کواٹرینز کے ترجمے جو میں نے کیے وہ پیشِ خدمت ہیں۔اس کاوش کو translation کےبجائے trans-creation ہی سمجھا جائے۔ ممکن ہے فٹز جیرالڈ کی عمر خیام کی رباعیات کی trans-creation کی طرح، ابو العلا معری کی لزومیات کا انگریزی ترجمہ بھی دراصل trans-creation ہی ہو۔ سو اسی trans-creation کی زنجیر میں انگریزی سے اردو میں ایک اور کڑی کا اضافہ کر رہا ہوں۔

 

The sable wings of Night pursuing day
Across the opalescent hills display
The wondrous star gems which the fiery suns
Are scattering upon their fiery way

شب سیاہ پنکھ پسارے رگِ جاں نوچتی ہے
دودھیا کوہ پہ خاموش پڑے ہیں سائے
دل شکستہ ہے گگن جس کے اگن رستے پر
مہرِ آزردہ نے تاروں کو بکھیرا ہے ابھی

,O my Companion, Night is passing fair
;Fairer than aught the dawn and sundown wear
And fairer, too, than all the gilded days
.Of blond Illusion and its golden snare

اے میری جان شبِ نور کے چندر گیسو
شفقِ صبح سے مغرب سے کہیں زریں ہیں
جن کے پھندوں میں ہیں کندن سے درخشندہ سراب
ان کے جھانسوں سے منور ہیں یہ خاموشی کہ پل

Everywhere that there has been a rose or tulip bed
There has been spilled the crimson blood of king
Every violet shoot that grows from the earth
Is a mole that was once upon the cheek of beauty

نکلے ہیں کسی رانی کے تِل سے یہ سیاہ پھول
کانٹے کسی سالار کے ناوک سے اُگے ہیں
اس دشت میں تیری ہی فقط خاک نہیں جو
بے انت زمانوں کے بگولوں میں اڑے ہے

;The Earth then spake: "My children silent be
:Same are to God the camel and the flea
, He makes a mess of me to nourish you
"Then makes a mess of you to nourish me


اس گردشِ مدام میں ہر دل زدہ ہے سیر
 تو نے نمو کو بھوک کا عقدہ بنا دیا
 دل پھاڑ کر زمین کا لقمہ دیا مجھے
 پھر میرا دل نکال کہ اس کو کھلا دیا

I heard it whispered in the cryptic streets 
 : Where every sage the same dumb shadow meets
We are but words fallen from the lips of Time" 
."Which God, that we might understand, repeats

ہم ہیں گِلِ نابود میں کھلتے ہوئے لالے
 ہم چاک میں ایام کی پراگندہ پیالے
 ہم وقت کے ہونٹوں سے چھلکے ہوئے الفاظ
 ہم خالقِ تنہا کی تنہائی کے نالے





کابوس اور دوسری نظمیں (محمد رامش)

[divider]کابوس[/divider]

آؤ
ڈھونڈتے ہیں
ہمارا آدھا سایہ
جو چوری ہوگیا
اور
اس ماہر چور کو
جو سائے کترنے کا ہنر جانتا ہے
کیا اسے دھوپ نے چرایا ہے؟
یا پھر
کسی بڑے سائے نے اپنے سائے میں لے لیا ہے
یا اس نے جو ہمیں
زبردستی
دیوار سے لگنے کا مشورہ دیتا ہے
بدن کو سائے سے چپکائے رکھنے
کے لیے
دھرتی پر لیٹ جانے کا مشورہ۔۔۔۔۔
دھرتی ماں کی طرح آغوش میں
لے لیتی ہے
اورمیں گہری نیند سو جاتا ہوں
جب اک نئی روشنی مجھے اذن سفر دیتی ہے
تو میں اٹھ کر اپنے سائے کی طرف دیکھتا ہوں
جو اب بھی آدھا ہے
شاید
میرے سائے کے طرح
وہ مجھے بھی آدھا کاٹ چکا ہے

[divider]جمود کی دلدل[/divider]

اگر
ساری زندگی
انسان کے جسم پر وہ کپکپی طاری رہے
جو ہر محبت کرنے والا
محبوبہ سے اولین اظہار کے وقت
محسوس کرتا ہے
تو خدشہ لاحق رہتا ہے
کہیں یکسوئی جکڑ نہ لے
محبت کے ارتقا کے تسلسل کو
جمود کے مضبوط جبڑوں میں
اور چبا کر پھینک دے
بے دلی کی کچرا کنڈی پر۔۔۔

فرار کے لیے
انسان کی آخری پناہ گاہ ہوتی ہے
پسندیدہ عورت کا پہلو
قبر میری محبوبہ ہے
جو اب تک مجھے الاٹ نہیں ہوئی۔۔۔
میں کانپ اٹھتا ہوں
ہمیشگی کے خوف سے
جب میں تمہارے اندر
ہمیشہ کے لیے دفن ہونے کے بعد
تم سے بھی اکتا چکا ہوں گا۔۔۔۔۔۔

[divider]ناکامی کا تاوان[/divider]

پریشانی
ابھرتی ہے
وقت کے ماتھے پر
لکیر بن کر
کاٹ کر چھوٹا کردیتی ہے
وقت کو
ہماری نظروں میں

بے بسی
پنجے گاڑتی ہے
جسموں پر
جب وہ حسرت کے جالوں میں
باندھ دیے جاتے ہیں
ہوا کی دیوار کے ساتھ

اکتاہٹ
جگہ گھیر لیتی ہے
دل سے اتری چیزوں کی

کرب
گندھ جاتا ہے
اس کے خمیر میں
جسے وراثت میں ملا ہو
اظہار نہ کر سکنا
اس کے سب ناموں کے ساتھ 'ناکام' کا سابقہ لازم ٹھہرتا ہے

ممکن ہے
کسی روز اسے پکارا جائے
ناکام محبت کرنے والے کے نام سے۔۔۔
وہ زبان کاٹ کر رکھ دے
مخاطب کی ہتھیلی پر
خون کی قے میں بہا دے سارا غصہ
جو وہ اپنے آپ پر کر سکتا تھا۔۔۔۔

[divider]The Serpent[/divider]

میں محسوس کر سکتا ہوں
ہر سال کی طرح
تم انتخاب کروگی
آخری مہینے کی اک سرد شام کا
میری گردن سے لپٹ کر کینچلی اتارنے کے لیے
اور ہم منائیں گے تمہاری سالگرہ
میں بطور تحفہ کہوں گا
"تم ہر سال پہلے سے زیادہ خاموش اور زہریلی ہوتی جارہی ہو"
جواب میں تمہاری مسکراہٹ
بھینچے گی میری جکڑی ہوئی گردن
پسلیوں کے قریب
تم کھود لو گی
میرے اندر جانے کا راستہ
ڈھونڈ لو گی اپنا مستقل ٹھکانہ
آنسو بہانے کے لیے
جب تک کینچلی اتارنے کا موسم دوبارہ نہیں آجاتا