Categories
شاعری

غصے کی بے مہر چنگاری (سلمیٰ جیلانی)

غصے کی اک
بے مہر چنگاری
کتنا کچھ جھلسا دیتی ہے
بچوں سے پیار اور دلار
چھین کر
ان کی آنکھوں میں خوف و دہشت بھر دیتی ہے
ماں اپنا سوہنا روپ بھلا کے
بھتنی سی بن جاتی ہے
کبھی کبھی
قبر میں جا کر بھی سو جاتی ہے
اور دنیا سائے کے بنا
اجاڑ جنگل میں بدل جاتی ہے
جہاں الو بسیرا کرتے ہیں
سارے کبوتر اور فاختہ
راستہ بھول کے
ویرانوں کو نکل جاتے ہیں
شکاری کے تیروں سے چھلنی ہو کر
پیٹ کا ایندھن بن جاتے ہیں
کیا تھا اگر
باپ تیز نمک کا سالن کھا لیتا
امن کی فاختہ کے گیت
اور بچوں کی ہنسی
جھلسنے سے بچ جاتی

By سلمیٰ جیلانی

سلمیٰ جیلانی کا تعلق کراچی سے ہے، انہوں نے گورنمنٹ کامرس کالج کراچی میں بطور لکچرار آٹھ سال تک خدمات سرانجام دیں۔ 2001ء میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ نیوزی‌لینڈ مقیم ہو گئیں اور وہاں آک‌لینڈ یونیورسٹی سے ایم۔بزنس مکمل کیا۔ وہ وقتا فوقتا مختلف بین‌الاقوامی ثلاثی سطح کے تعلیمی اداروں میں پڑھاتی رہتی ہیں۔ افسانہ نگاری ان کا خاص شوق ہے اور ان کے افسانے معروف ادبی جرائد جیسا کہ فنون، شاعر، ادب لطیف، ثالث، سنگت اور پین‌سلپس میگزین اور بچوں کے میگزینز میں شائع ہوتے رہے ہیں، کیونکہ وہ بچوں کے لیے بھی کہانیاں لکھتی ہیں۔ وہ دنیا بھر سے شعراء کے کلام کو اردو میں ترجمہ کر چکی ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ترجمہ مختلف ثقافتوں کے درمیان پل ہوتا ہے اور انہیں قریب لے آتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *