Categories
شاعری

پیچھے مڑ کر مت دیکھو

تنویر انجم: مت یاد کرو
ضرورت سے زیادہ کپڑوں کی پاکیزگی
جو بے حجاب لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے
تم پر تھوپی گئی۔
پیچھے مڑ کر مت دیکھو
کتنی بار کہیں
پیچھے مڑ کر مت دیکھو
بیس برس پیچھے

مت یاد کرو
ضرورت سے زیادہ کپڑوں کی پاکیزگی
جو بے حجاب لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے
تم پر تھوپی گئی۔

مت یاد کرو
گلدستوں کے رنگ
جو بے سلیقہ لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے
تمہارے دروازے پرآکر لوٹ گئے۔

مت یاد کرو
زنجیروں کا بوجھ
جو بے صبر لڑکیوں کہ دیکھتے ہوئے
تم پر ڈالا گیا۔

مت یاد کرو
خوبصورت گیت
جو بے ہنر لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے
بیچ ہی میں روک دیے گئے۔

پیچھے مڑ کر مت دیکھو
ہم جیسی بے حجاب،بے سلیقہ،بے صبر،بے ہنر
لڑکیوں کی طرف

اور کرنا شروع کرو
پاکیزگی سے پرہیز
پھولوں سے آرائش
زنجیروں کا توڑ
اور گیتوں کی مشق

Image: Shadi Ghadirian

By تنویر انجم

تنویر انجم اُردو نثری نظم کا نمایاں نام ہیں۔ اب تک ان کے نثری نظموں کے سات مجموعے شایع ہو چکے ہیں۔ تنویر انجم نے یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن سے لسانیات میں پی ایچ ڈی کیا اور شعبہٗ تدریس سے وابستہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *