Categories
شاعری

ہوا موت سے ماورا ہے

نصیر احمد ناصر: اگر میرے سینے میں خنجر اتارو
تو یہ سوچ لینا
ہوا کا کوئی جسم ہوتا نہیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ہوا موت سے ماورا ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

(اپنے قاتل کے لیے ایک نظم)

 

اگر میرے سینے میں خنجر اتارو
تو یہ سوچ لینا
ہوا کا کوئی جسم ہوتا نہیں ۔۔۔۔۔۔

 

ہوا تو روانی ہے
عمروں کے کہنہ سمندر کی
لمبی کہانی ہے
آغاز جس کا نہ انجام جس کا

 

اگر میرے سینے میں خنجر اتارو
تو یہ سوچ لینا
ہوا موت سے ماورا ہے
ہوا ماں کے ہاتھوں کی تھپکی
ہوا لوریوں کی صدا ہے
ہوا ننھے بچوں کے ہونٹوں سے نکلی دعا ہے

 

اگر میرے سینے میں خنجر اتارو
تو یہ سوچ لینا
ہوا کا کوئی جسم ہوتا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔!

Image: Daehyun Kim
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By نصیر احمد ناصر

نصیر احمد ناصر پاکستانی اردو شاعری کا نمایاں اور رحجان ساز نام ہے۔ آپ کی شاعری دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ وہ چکی ہے۔ آپ 'تسطیر' کے نام سے ایک ادبی جریدہ بھی نکالتے رہے ہیں۔

One reply on “ہوا موت سے ماورا ہے”

The Zephyr is Beyond Death — Poem by Naseer Ahmed Nasir

If you put the dagger
into my chest,
remember wind has
no form.

The wind is always sleek
Age is the ocean’s long story
That neither starts
nor ends

If you put the dagger
into my chest,
Remember that
wind is beyond death
The wind pats like a mother
and sings a lullaby
The wind is the prayer
sung by the children

If you put the dagger
into my chest
Remember that
wind has no form!

English translation by Bina Biswas

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *