Categories
شاعری

کچھ لوگ کبھی واپس نہیں آتے

بدن بستروں کو طلاق دے دیتے ہیں
انگلیاں تصویروں کے فریم تھامے لکڑی ہو جاتی ہیں
کلینڈر تاریخوں سے بهرے رہتے ہیں
لیکن دن خالی ہو جاتے ہیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کچھ لوگ کبھی واپس نہیں آتے

[/vc_column_text][vc_column_text]

بدن بستروں کو طلاق دے دیتے ہیں
انگلیاں تصویروں کے فریم تھامے لکڑی ہو جاتی ہیں
کلینڈر تاریخوں سے بهرے رہتے ہیں
لیکن دن خالی ہو جاتے ہیں
پیروں کو عدالت کا رستہ یاد ہو جاتا ہے
ہونٹوں کو دعائیں بڑبڑانے کی عادت پڑ جاتی ہے
مائیں ہر آنے والے کو یوں تکتی ہیں جیسے وہ ڈاکیا ہو
راتوں کو رونے والے باپ سورج نکلتے ہی بہادر بن جاتے ہیں
انتظار ہیروں جیسی آنکھوں سے نمک کا پانی تاوان لیتا ہے
کچھ لوگ کبھی واپس نہیں آتے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By سلمان حیدر

لکھاری تنقید میں ایک اردو ایڈیٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف ٹیکساس اور آسٹن میں وزٹنگ اسکالر اور ڈان اردو میں بلاگ نویس ہیں۔ انہیں تھئیٹر، ڈراما اور ثقافت سے گہرا شغف ہے۔

One reply on “کچھ لوگ کبھی واپس نہیں آتے”

کچھ لوگ کبھی واپس نہیں آتے۔ لفظوں کی عمدہ منظر کشی۔ داد قبول کیجیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *