وہ رات تھی
بہت سیاہ رات تھی
جو ہاتھ بھر کے فاصلے سے کیسے مُجھ کو ڈس گئی
بہت سیاہ رات ہی تھی کیا
یا زندگی کا رنگ تھا
جو چہرے سے اُتر گیا
وہ خواہشوں کی بیل تھی
جو آسماں کی اَور کو بڑھی چلی
مگر زمیں سے جا لگی
جو خاک سے لپٹ گئی
وہ رات تھی
مرے بدن میں چار سُو
میری نظر کے باغ میں
مری پھٹی قبا پر
جو نقش تھیں کہانیاں
جو خواب تھے بُنے ہوئے
کہ کاڑھ کر جنہیں نگاہ
خاک سے لپٹ گئی۔
Categories
روشنی کا لہو
عمران ازفر: وہ رات تھی
بہت سیاہ رات تھی
جو ہاتھ بھر کے فاصلے سے کیسے مُجھ کو ڈس گئی
