Categories
شاعری

راز

وجیہہ وارثی: عشق کے بعد میرا بھی یہی حال ہے
تالا لگاتا ہوں تو لوگ مڑ مڑ کے دیکھتے ہیں
تالا کھلا رکھتا ہوں تو لوگ دل میں جھانکتے ہیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

راز

[/vc_column_text][vc_column_text]

صندوق میں تالا لگانا راز بتانے کے مترادف ہے
اور تالا نہ لگانا راز کی چوری کاسبب بن سکتا ہے
عشق کے بعد میرا بھی یہی حال ہے
تالا لگاتا ہوں تو لوگ مڑ مڑ کے دیکھتے ہیں
تالا کھلا رکھتا ہوں تو لوگ دل میں جھانکتے ہیں
راز کی تشہیر خود بخود ہو جاتی ہے
شہر کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک
راز کا اک تار بچھ جاتا ہے
راز کی ایک لمبی الگنی بن جاتی ہے
لوگ الگنی پر اپنے رازداں زیرجامے لٹکاتے ہیں
خشک کرنے کے لیے
پھر بھی داغ چھوڑ جاتے ہیں
عاشق کو ایک شہر سے دوسرے شہر تک
تاروں پر چلنا پڑتا ہے
سرکس کا مداری ہونا عشق ہونا ایک ہی بات ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By وجیہ وارثی

وجیہ وارثی ایک تھئیٹر ایکٹیوسٹ ہیں۔ وہ 1988ء سے مختلف تھئیٹر گروپس کے ساتھ اسٹیج پر فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ بانگ، سیوک اور ناؤ تھئیٹر ورکشاپ کا انعقاد کر چکے ہیں۔ وہ ٹی‌وی ڈرامہ نگار اور شاعر بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *