Categories
شاعری

اپاہج خواب اور آنکھوں کی بیساکھیاں

تم ہمارے حصے کی اینٹیں
اپنی آنکھو ں میں ڈال کر
کوئی ایسا مکان بنا سکتے ہو؟
جس میں ہمارے خواب قیا مکر سکیں
اس رات تک

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اپاہج خواب اور آنکھوں کی بیساکھیاں

[/vc_column_text][vc_column_text]

لوگ دیواروں سے سیاہی اتار کر
دن کی مخالفت کر سکتے ہیں
باندھ سکتے ہیں ہجر کے گھنگھرو شام کے پیروں میں
مگر۔۔۔۔۔
ان درختوں کے ہاتھ نہیں کاٹ سکتے
جن پہ جنگل کی کہانی لکھ کر
مٹا دی گئی ہے

 

جب مٹی رقص پہ مائل ہوتی ہے
چیزیں اپنی جگہ چھوڑ دیتی ہیں
اور ۔۔۔ہم آسمان کی باتوں میں آ کر
زمین کو بد دعائیں دینے لگتے ہیں
تم ہمارے حصے کی اینٹیں
اپنی آنکھو ں میں ڈال کر
کوئی ایسا مکان بنا سکتے ہو؟
جس میں ہمارے خواب قیا م کر سکیں
اس رات تک ۔۔۔
جو تمہاری آنکھوں سے زیادہ گہری نہیں ہو سکتی

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By سدرہ سحر عمران

سدرہ سحر عمران اردو میں ماسٹرز ڈگری یافتہ ہیں۔ وہ معاصر اردو نثری نظم کے حلقوں میں ایک نمایاں نام ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *