Categories
شاعری

عشرہ/ وہ اور ہم

ادریس بابر:ہم جو خون پسینے میں نہاتے، سونا چاندی اگاتے رہے
ہم، یہی کوئی ستر فیصد، اداس لوگ، جیتے مرتے مسکراتے رہے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

وہ اور ہم

[/vc_column_text][vc_column_text]

وکیلوں نے وکیلوں کا مقدمہ خوب جم کے لڑا
ڈاکٹر آٹھ کھڑے ہوئے ڈاکٹروں کے حق میں
افسر افسروں سے مل گئے، کلرک کلرکوں سے
ٹیچروں نے ٹیچروں کی حمایت کی، صحافیوں نے صحافیوں کی
لیڈروں نے تو لیڈروں کا ساتھ دینا ہی تھا

 

باقی بچے ہم جو یہ سب کچھ نہیں، ہم جو کچھ بھی نہیں
ہم جو پھیری لگاتے کھانا پکاتے برتن دھوتے چائے لاتے رہے
ہم جو کپڑے سیتے رفو کرتے سڑکیں گلیاں فرش جوتے چمکاتے رہے
ہم جو خون پسینے میں نہاتے، سونا چاندی اگاتے رہے
ہم، یہی کوئی ستر فیصد، اداس لوگ، جیتے مرتے مسکراتے رہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By ادریس بابر

ادریس بابر شاعر، مترجم اور معلم ہیں۔ اپنے شعری کاموں کے اعتراف میں وہ فیض‌ گھر فاؤنڈیشن کی جانب سے فیض ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *